#2051
Sahih
It was narrated from Anas that the Prophet said:"When a person is put in his grave and his companions leave him, he hears the sound of their sandals. Two angels come to him, making him sit up, and say to him: 'What did you say about this man (Muhammad)?' As for the believer, he says: 'I bear witness that he says: 'I bear witness that he is the slave of Allah and His Messenger.' It is said to him: 'Look at your place in hell; Allah has replaced it for you with a place better than it.''' The Messenger of Allah said: "Then he sees them both." As for the disbeliever or the hypocrite, it is said to him: 'What did you say about this man?' He says: 'I do not know; I used to say what the people said.' It is said to him: 'You did not understand and you did not follow those who had understanding.' Then he is dealt a blow between his ears and the man utters a scream which everything near him hears, except for the two races
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جب اپنی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے، اور اس کے ساتھی لوٹتے ہیں تو وہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے، ( پھر ) دو فرشتے آتے ہیں، ( اور ) اسے بٹھاتے ہیں ( پھر ) اس سے پوچھتے ہیں: تم اس شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ رہا مومن تو وہ کہتا ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، ( پھر ) اس سے کہا جاتا ہے تم جہنم میں اپنے ٹھکانے کو دیکھ لو اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس کے بدلے ایک اچھا ٹھکانا دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: وہ ان دونوں ( جنت و جہنم ) کو ایک ساتھ دیکھتا ہے، اور رہا کافر یا منافق تو اس سے پوچھا جاتا ہے: اس شخص ( محمد ) کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟، تو وہ کہتا ہے: میں نہیں جانتا، میں وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے، تو اس سے کہا جائے گا: نہ تم نے خود جاننے کی کوشش کی، اور نہ جانکار لوگوں کی پیروی کی، پھر اس کے دونوں کانوں کے بیچ ایک ایسی مار ماری جاتی ہے کہ وہ ایسے زور کی چیخ مارتا ہے جسے انسان اور جنات کے علاوہ جو بھی اس کے قریب ہوتے ہیں سبھی سنتے ہیں“۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ أَتَاهُ مَلَكَانِ فَيُقْعِدَانِهِ فَيَقُولاَنِ لَهُ مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ مُحَمَّدٍ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَقُولُ أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ فَيُقَالُ لَهُ انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ مَقْعَدًا خَيْرًا مِنْهُ " . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا وَأَمَّا الْكَافِرُ أَوِ الْمُنَافِقُ فَيُقَالُ لَهُ مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ فَيَقُولُ لاَ أَدْرِي كُنْتُ أَقُولُ كَمَا يَقُولُ النَّاسُ . فَيُقَالُ لَهُ لاَ دَرَيْتَ وَلاَ تَلَيْتَ . ثُمَّ يُضْرَبُ ضَرْبَةً بَيْنَ أُذُنَيْهِ فَيَصِيحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا مَنْ يَلِيهِ غَيْرُ الثَّقَلَيْنِ " .
#2052
Sahih
Abdullah bin Yasar said:"I was sitting with sulaiman bin Sard and Khalid bin 'Urfutah, and they said that a man had died as a result of abdominal illness. They wanted to attend his funeral, and one of them said to the other: 'Didn't the Messenger of Allah say: Whoever is killed by an abdominal illness, he will not be punished in his grave? The other said: 'Yes
عبداللہ بن یسار کہتے ہیں کہ میں بیٹھا ہوا تھا اور ( وہیں ) سلیمان بن صرد اور خالد بن عرفطہٰ رضی اللہ عنہما ( بھی ) موجود تھے تو لوگوں نے ذکر کیا کہ ایک آدمی اپنے پیٹ کے عارضہ میں وفات پا گیا ہے، تو ان دونوں نے تمنا کی کہ وہ اس کے جنازے میں شریک ہوں، تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کہا ہے کہ ”جو پیٹ کے عارضہ میں مرے اسے قبر میں عذاب نہیں دیا جائے گا“، تو دوسرے نے کہا: کیوں نہیں، آپ نے ایسا فرمایا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَسَارٍ، قَالَ كُنْتُ جَالِسًا وَسُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ وَخَالِدُ بْنُ عُرْفُطَةَ فَذَكَرُوا أَنَّ رَجُلاً، تُوُفِّيَ مَاتَ بِبَطْنِهِ فَإِذَا هُمَا يَشْتَهِيَانِ أَنْ يَكُونَا شُهَدَاءَ جَنَازَتِهِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلآخَرِ أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ يَقْتُلْهُ بَطْنُهُ فَلَنْ يُعَذَّبَ فِي قَبْرِهِ " . فَقَالَ الآخَرُ بَلَى .
#2053
Sahih
It was narrated from Rashid bin Sa'd, that a man among the Companions of the Prophet said:"O Messenger of Allah, why will the believers be tested in their graves except the martyr?" He said: "The flashing of the swords above his head is trial enough
ایک صحابی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا بات ہے؟ سبھی اہل ایمان اپنی قبروں میں آزمائے جاتے ہیں، سوائے شہید کے؟ آپ نے فرمایا: ”اس کے سروں پر چمکتی تلوار کی آزمائش کافی ہے“۔
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ عَمْرٍو، حَدَّثَهُ عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَجُلاً قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا بَالُ الْمُؤْمِنِينَ يُفْتَنُونَ فِي قُبُورِهِمْ إِلاَّ الشَّهِيدَ قَالَ " كَفَى بِبَارِقَةِ السُّيُوفِ عَلَى رَأْسِهِ فِتْنَةً " .
#2054
Sahih
It was narrated that Safwan bin Umayyah said:"The plague, abdominal illness, drowning and dying in childbirth are martyrdom." (One of the narrators) said: Abu 'Uthman narrated this to us several times, and on one occasion he attributed it to the Prophet
صفوان بن امیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں طاعون سے مرنے والا، پیٹ کے مرض میں مرنے والا، ڈوب کر مرنے والا، اور زچگی کی وجہ سے مرنے والی عورت شہید ہے۔ وہ ( تیمی ) کہتے ہیں: ہم سے ابوعثمان نے بارہا بیان کیا، ایک مرتبہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے مرفوع بیان کیا۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ الطَّاعُونُ وَالْمَبْطُونُ وَالْغَرِيقُ وَالنُّفَسَاءُ شَهَادَةٌ . قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ مِرَارًا وَرَفَعَهُ مَرَّةً إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
#2055
Sahih
It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah said:Thos is the one at whose death the Throne shook, the gates of heaven were opened of him and seventy thousand angles attended his funeral. It squeezed him once then released him
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہی وہ شخص ہے جس کے لیے عرش الٰہی ہل گیا، آسمان کے دروازے کھول دئیے گئے، اور ستر ہزار فرشتے اس کے جنازے میں شریک ہوئے، ( پھر بھی قبر میں ) اسے ایک بار بھینچا گیا، پھر ( یہ عذاب ) اس سے جاتا رہا“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " هَذَا الَّذِي تَحَرَّكَ لَهُ الْعَرْشُ وَفُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَشَهِدَهُ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنَ الْمَلاَئِكَةِ لَقَدْ ضُمَّ ضَمَّةً ثُمَّ فُرِّجَ عَنْهُ " .
#2056
Sahih
It was narrated that:Al-Bara said about Allah will keep firm those who believe, with the word that stands firm in this world and in the Hereafter "It was revealed concerning the torment of the grave
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں آیت کریمہ «يثبت اللہ الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة» ”اللہ ایمان والوں کو دنیا اور آخرت میں ٹھیک بات پر قائم رکھے گا“ ( ابراہیم: ۲۷ ) ۔ عذاب قبر کے سلسلے میں نازل ہوئی تھی۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ { يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ } قَالَ نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ .
#2057
Sahih
It was narrated form Al Bara bin Azib that the Prophet said:"Allah will keep firm those who believe, with the world that stands firm in this world, and in the Hereafter. This was revelated concerning the torment in the grave. It will be said to him (the deceased: 'Who is your Lord?' and he will say: 'My Lord is Allah and my Prophet is Muhammad. That is what is (the meaning of) His saying: Allah will keep firm those who believe, with the word that stands firm in this world, and in the Hereafter
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آیت کریمہ «يثبت اللہ الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة» ”اللہ ایمان والوں کو دنیا اور آخرت ( دونوں میں ) ٹھیک بات پر قائم رکھے گا“۔ عذاب قبر کے سلسلے میں اتری ہے۔ میت سے پوچھا جائے گا: تیرا رب کون ہے؟ تو وہ کہے گا: میرا رب اللہ ہے، میرا دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ہے۔ اللہ کے قول: «يثبت اللہ الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة» سے یہی مراد ہے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ { يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ } قَالَ نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ يُقَالُ لَهُ مَنْ رَبُّكَ فَيَقُولُ رَبِّيَ اللَّهُ وَدِينِي دِينُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم فَذَلِكَ قَوْلُهُ { يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ } .
#2058
Sahih
It was narrated from Anas that the Prophet heard a sound from a grave and said:"When died this man die?" They said: "he died during the Jahiliyyah." So he was delighted and said: "Were it not that you would not bury one another, I would have prayed to Allah to make you hear the torment of the grave
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی قبر سے ایک آواز سنی تو پوچھا: ”یہ کب مرا ہے؟“ لوگوں نے کہا: زمانہ جاہلیت میں مرا ہے، آپ اس بات سے خوش ہوئے، اور فرمایا: ”اگر یہ ڈر نہ ہوتا کہ تم ایک دوسرے کو دفن کرنا چھوڑ دو گے، تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں عذاب قبر سنا دے“۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سَمِعَ صَوْتًا مِنْ قَبْرٍ فَقَالَ " مَتَى مَاتَ هَذَا " . قَالُوا مَاتَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ . فَسُرَّ بِذَلِكَ وَقَالَ " لَوْلاَ أَنْ لاَ تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ " .
#2059
Sahih
It was narrated that Abu Ayyub said:"The Messenger of Allah went out after the sun had set, and heard a sound. He said '(It is ) Jews being tormented in their graves
ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈوبنے کے بعد نکلے، تو ایک آواز سنی، آپ نے فرمایا: ”یہود اپنی قبروں میں عذاب دیئے جا رہے ہیں“۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَسَمِعَ صَوْتًا فَقَالَ " يَهُودُ تُعَذَّبُ فِي قُبُورِهَا " .
#2060
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah used to say:"Allahumma inni a udhu bika min adhabil-qabri wa a 'udhu bika min 'adhabin-nar, wa a 'udhu bika min fitnatil-mahya wal-mamat, wa audhu bika min fitnatil-masihid-dajjal (O Allah, I seek refuge with you from the torment of the grave, and I seek refuge with You from the torment of the Fire, and I seek refuge with You from the trial of the Dajjal)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من عذاب النار وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال» ”اے اللہ! میں عذاب قبر سے تیری پناہ مانگتا ہوں، جہنم کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں، زندگی اور موت کی آزمائش سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور مسیح دجال کی آزمائش سے ( بھی ) تیری پناہ مانگتا ہوں“۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ " .
#2061
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:"I heard the Messenger of Allah after that seeking refuge with Allah from the torment of the grave
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے بعد عذاب قبر سے پناہ مانگتے سنا۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ ذَلِكَ يَسْتَعِيذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ .
#2062
Sahih
Urwah bin Az-Zubair (narrated) that he heard Asma' bint Abi Bakr say:"The Messenger of Allah stood up and mentioned the trail with which a person will be tested in his grave. When he mentioned that the people became restless, which prevented me from understanding what the Messenger of Allah had said. When they settled down, I said to a man who was near me: 'May Allah bless you, what did the end?' he said: 'It has been revealed to me that you will be tested in your graves with a trial close to that of the Dajjal
اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ( اور ) اس آزمائش کا ذکر کیا جس سے آدمی اپنی قبر میں دوچار ہوتا ہے، تو جب آپ نے اس کا ذکر کیا تو مسلمانوں نے ایک چیخ ماری جو میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سمجھنے کے درمیان حائل ہو گئی، جب ان کی چیخ و پکار بند ہوئیں تو میں نے ایک شخص سے جو مجھ سے قریب تھا کہا: اللہ تجھے برکت دے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطاب کے آخر میں کیا کہا تھا؟ اس نے کہا: ( آپ نے فرمایا تھا: ) ”مجھ پر وحی کی گئی ہے کہ قبروں میں تمہاری آزمائش ہو گی جو دجال کی آزمائش کے قریب قریب ہو گی“۔
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ، تَقُولُ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ الْفِتْنَةَ الَّتِي يُفْتَنُ بِهَا الْمَرْءُ فِي قَبْرِهِ فَلَمَّا ذَكَرَ ذَلِكَ ضَجَّ الْمُسْلِمُونَ ضَجَّةً حَالَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ أَنْ أَفْهَمَ كَلاَمَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا سَكَنَتْ ضَجَّتُهُمْ قُلْتُ لِرَجُلٍ قَرِيبٍ مِنِّي أَىْ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ مَاذَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي آخِرِ قَوْلِهِ قَالَ " قَدْ أُوحِيَ إِلَىَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ قَرِيبًا مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ " .
#2063
Sahih
It was narrated from 'Abdullah bin 'Abbas that:The Messenger of Allah used to teach them this supplication as he taught them surahs of the Quran: Allahumma inna na'udhu bika min 'adhabil-qabri wa a'udhu bika min fitnatil-masihid-dajjal, wa a'udhu bika min fitnatil-mahya wal-mamat (O Allah, We seek refuge with You from the torment of Hell, and I seek refuge with You from the torment of the grave, and I seek refuge with You from the trail of Al-Masihid-Dajjal, and I seek refuge with You from the trails of life and death)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا انہیں اسی طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کی سورت سکھاتے تھے، آپ فرماتے کہو: «اللہم إنا نعوذ بك من عذاب جهنم وأعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات» ”اے اللہ! ہم تیری پناہ مانگتے ہیں جہنم کے عذاب سے، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں عذاب قبر سے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں مسیح دجال کے فتنے سے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں موت اور زندگی کی آزمائش سے“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَاءَ كَمَا يُعَلِّمُهُمُ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ " قُولُوا اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ " .
#2064
Sahih
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah came to me and there was a Jewish woman with me who was saying: 'You will be tested in your graves.' The Messenger of Allah got upset and said: 'Rather the Jews will be tested."' 'Aishah said: "A few nights later, the Messenger of Allah said: 'It has been revealed to me that you will be tested in your graves."' 'Aishah said; "Afterward I heard the Messenger of Allah seeking refuge with Allah from the torment of the grave
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میرے پاس ایک یہودی عورت تھی، وہ کہہ رہی تھی کہ تم لوگ قبروں میں آزمائے جاؤ گے، ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا گئے، اور فرمایا: ”صرف یہودیوں ہی کی آزمائش ہو گی“۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پھر ہم کئی رات ٹھہرے رہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر وحی آئی ہے کہ تمہیں ( بھی ) قبروں میں آزمایا جائے گا“، اس کے بعد سے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عذاب قبر سے پناہ مانگتے سنتی رہی۔
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدِي امْرَأَةٌ مِنَ الْيَهُودِ وَهِيَ تَقُولُ إِنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ . فَارْتَاعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ " إِنَّمَا تُفْتَنُ يَهُودُ " . وَقَالَتْ عَائِشَةُ فَلَبِثْنَا لَيَالِيَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّهُ أُوحِيَ إِلَىَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ " . قَالَتْ عَائِشَةُ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدُ يَسْتَعِيذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ .
#2065
Sahih Isnaad
It was narrated from Aishah that:the Prophet used to seek refuge with Allah from the torment of the grave and the trial of the Dajjal, and he said: "You will be tested in your graves
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے عذاب، اور دجال کے فتنے سے پناہ طلب کرتے، اور فرماتے: ”تم اپنی قبروں میں آزمائے جاؤ گے“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَسْتَعِيذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ وَقَالَ " إِنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي قُبُورِكُمْ " .
#2066
Sahih Isnaad
It was narrated from 'Aishah that:a Jewish woman came to her and asked her to give her something, so 'Aishah gave her something, and she said: "May Allah protect you from the torment of the grave." 'Aishah said:" She made me worried, until the Messenger of Allah came and I mentioned that to him. He said: 'They are tormented in their graves with a torment that the animals hear
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت ان کے پاس آئی ( اور ) اس نے ان سے کوئی چیز مانگی تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے دیا تو اس نے کہا: اللہ تجھے قبر کے عذاب سے بچائے! عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو اس کی یہ بات میرے دل میں بیٹھ گئی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے جسے چوپائے سنتے ہیں“۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادٌ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، دَخَلَتْ يَهُودِيَّةٌ عَلَيْهَا فَاسْتَوْهَبَتْهَا شَيْئًا فَوَهَبَتْ لَهَا عَائِشَةُ فَقَالَتْ أَجَارَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ . قَالَتْ عَائِشَةُ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " إِنَّهُمْ لَيُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ عَذَابًا تَسْمَعُهُ الْبَهَائِمُ " .
#2067
Sahih
It was narrated that 'Aishah said:"Two of the old Jewish women of Al-Madinah came to me and said: 'The people of the graves are tormented in their graves.' But I did not believe them, and I did not believe them, and I did not want to believe them. They left and the Messenger of Allah entered upon me, and I said: 'O Messenger of Allah, two of the old Jewish women of Al-Madinah said that the people of the graves are tormented in their graves.' He said: 'They spoke the truth. They are tormented in a manner that all the animals can hear.' And I never saw him offer any Salah but he sought refuge with Allah from the torment of the grave
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں یہود مدینہ کی بوڑھی عورتوں میں سے دو عورتیں میرے پاس آئیں، ( اور ) کہنے لگیں کہ قبر والوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے، تو میں نے ان کو جھٹلا دیا اور مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں ان کی تصدیق کروں، وہ دونوں نکل گئیں ( تبھی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہود مدینہ کی بوڑھیوں میں سے دو بوڑھیاں کہہ رہی تھیں کہ مردوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں نے سچ کہا، انہیں عذاب دیا جاتا ہے جسے سارے چوپائے سنتے ہیں“، ( پھر ) میں نے دیکھا آپ ہر صلاۃ کے بعد عذاب قبر سے پناہ مانگتے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ دَخَلَتْ عَلَىَّ عَجُوزَتَانِ مِنْ عُجُزِ يَهُودِ الْمَدِينَةِ فَقَالَتَا إِنَّ أَهْلَ الْقُبُورِ يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ . فَكَذَّبْتُهُمَا وَلَمْ أَنْعَمْ أَنْ أُصَدِّقَهُمَا فَخَرَجَتَا وَدَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَجُوزَتَيْنِ مِنْ عُجُزِ يَهُودِ الْمَدِينَةِ قَالَتَا إِنَّ أَهْلَ الْقُبُورِ يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ . قَالَ " صَدَقَتَا إِنَّهُمْ يُعَذَّبُونَ عَذَابًا تَسْمَعُهُ الْبَهَائِمُ كُلُّهَا " . فَمَا رَأَيْتُهُ صَلَّى صَلاَةً إِلاَّ تَعَوَّذَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ .
#2068
Sahih
It was narrated that:The Messenger of Allah passed by one of the gardens of Makkah or Al-Madinah and heard the sound of two men being tormented in their graves. The Messenger of Allah said: "They are being punished but they are not being punished for anything that was difficult to avoid." Then he said: "Indeed, one of them used not to take care to avoid getting urine on his body or clothes, and the other used to walk around spreading gossip." They he called for a palm stalk which he broke in two and placed a piece of it on each grave. It was said to him: "O Messenger of Allah, why did you do that?" He said: "May it be reduced for them so long as this does not dry out" or: "until this dries out
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ یا مدینہ کے باغات میں سے ایک باغ کے پاس سے گزرے، تو آپ نے دو انسانوں کی آوازیں سنیں جنہیں ان کی قبروں میں عذاب دیا جا رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے، اور انہیں کسی بڑے جرم میں عذاب نہیں دیا جا رہا ہے ۱؎، بلکہ ان میں سے ایک اچھی طرح اپنے پیشاب سے پاکی نہیں حاصل کرتا تھا، اور دوسرا چغل خوری ۲؎ کرتا تھا“، پھر آپ نے ایک ٹہنی منگوائی ( اور ) اس کے دو ٹکڑے کئے پھر ان میں سے ہر ایک کی قبر پر ایک ایک ٹکڑا رکھ دیا، تو آپ سے سوال کیا گیا: اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو آپ نے فرمایا: ”شاید ان کے عذاب میں نرمی کر دی جائے جب تک یہ دونوں ( ٹہنیاں ) خشک نہ ہوں“۔ راوی کو شک ہے کہ آپ نے «ما لم ييبسا أو أن ييبسا» فرمایا، یا «إلى أن ييبسا» فرمایا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِحَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ مَكَّةَ أَوِ الْمَدِينَةِ سَمِعَ صَوْتَ إِنْسَانَيْنِ يُعَذَّبَانِ فِي قُبُورِهِمَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ " . ثُمَّ قَالَ " بَلَى كَانَ أَحَدُهُمَا لاَ يَسْتَبْرِئُ مِنْ بَوْلِهِ وَكَانَ الآخَرُ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ " . ثُمَّ دَعَا بِجَرِيدَةٍ فَكَسَرَهَا كِسْرَتَيْنِ فَوَضَعَ عَلَى كُلِّ قَبْرٍ مِنْهُمَا كِسْرَةً فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ فَعَلْتَ هَذَا قَالَ " لَعَلَّهُ أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا أَوْ أَنْ يَيْبَسَا " .
#2069
Sahih
It was narrated that Ibn ' Abbas said:"The Messenger of Allah passed by two graves and said: "They are being punished but they are not being punished for anything that was difficult to avoid. One of them used not to take care to avoid getting urine on his body or clothes, and the other used to walk about spreading gossip.' Then he took a fresh palm stalk and broke it in half, and planted one half on each grave. They said: 'O Messenger of Allah, why did not do that?' He said: 'May it be reduced for them so long as this does not dry out
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو قبر کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا: ”ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے، اور یہ کسی بڑے جرم میں عذاب نہیں دئیے جا رہے ہیں، رہا ان میں سے ایک تو وہ اپنے پیشاب سے اچھی طرح پاکی حاصل نہیں کرتا تھا، اور رہا دوسرا تو وہ چغل خوری کرتا تھا، پھر آپ نے کھجور کی ایک ہری ٹہنی لی ( اور ) اسے آدھا آدھا چیر دیا، پھر ہر ایک کی قبر پہ گاڑ دیا“، تو لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید ان دونوں کا عذاب ہلکا کر دیا جائے جب تک یہ دونوں ( ٹہنیاں ) خشک نہ ہوں“۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِقَبْرَيْنِ فَقَالَ " إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لاَ يَسْتَبْرِئُ مِنْ بَوْلِهِ وَأَمَّا الآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ " . ثُمَّ أَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً فَشَقَّهَا نِصْفَيْنِ ثُمَّ غَرَزَ فِي كُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا فَقَالَ " لَعَلَّهُمَا أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا ���" .
#2070
Sahih
It was narrated from Ibn 'Umar that the Prophet said:"When one of you dies he is shown his place morning and evening. If he is one of the people of paradise them he is one of the people of Paradise, and if he is one of the people of Hell, then he is one of the people of Hell, until Allah, the Mighty and Sublime, raises him up on the Day of Resurrection
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! جب تم میں سے کوئی مر جاتا ہے تو اس پر صبح و شام اس کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے، اگر جنتی ہے تو جنت میں کا، اور اگر جہنمی ہے تو جہنم میں کا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے روز اٹھائے“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَلاَ إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا مَاتَ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
#2071
Sahih
It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah said:"When one of you dies, he is shown his place morning and evening. If he is one of the people of hell it is said: 'This is your place, until Allah, the Mighty and Sublime, raises you up on the Day of Resurrection
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مرتا ہے تو اس پر صبح و شام اس کا ٹھکانا پیش کیا جاتا ہے، چنانچہ اگر وہ جہنمی ہے تو جہنمیوں ( کے ٹھکانوں ) میں سے ( پیش کیا جائے گا ) ، اور کہا جاتا ہے: یہ ہے تمہارا ٹھکانا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمہیں قیامت کے روز اٹھائے“۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ، يُحَدِّثُ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يُعْرَضُ عَلَى أَحَدِكُمْ إِذَا مَاتَ مَقْعَدُهُ مِنَ الْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ فَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ قِيلَ هَذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى يَبْعَثَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
#2072
Sahih
It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah said:"When one of you dies, he is shown his place morning and evening. If he is one of the people of Paradise then he is one of the people of Paradise, and if he is one of the people of Hell. It is said: 'This is your place, until Allah, the Mighty and Sublime, raises you up on the Day of Resurrection
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مرتا ہے تو اس کا ٹھکانا اس پر صبح و شام پیش کیا جاتا ہے، اگر وہ جنتی ہے تو جنتیوں ( کے ٹھکانوں ) میں سے، اور اگر جہنمی ہے تو جہنمیوں ( کے ٹھکانوں ) میں سے، ( اور اس سے ) کہا جاتا ہے: یہ تمہارا ٹھکانا ہے یہاں تک کہ اللہ عزوجل تمہیں قیامت کے روز اٹھائے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا مَاتَ أَحَدُكُمْ عُرِضَ عَلَى مَقْعَدِهِ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ فَيُقَالُ هَذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى يَبْعَثَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
#2073
Sahih
Ka 'b bin Malik used to narrate that the Messenger of Allah said:"The soul of the belevier is (like a bird) flying among the trees of Paradise, until Allah, the Mighty and sublime, sends it back to his body on the Day of Resurrection." (Da 'if)
کعب بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی جان جنت کے درختوں پہ اڑتی رہے گی یہاں تک کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے اس کے جسم کی طرف بھیج دے“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ كَانَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّمَا نَسَمَةُ الْمُؤْمِنِ طَائِرٌ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى جَسَدِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
#2074
Sahih
It was narrated that Anas said:"We were with 'Umar between Makkah and Al-Madinah, when he strted to tell us about the people of Badr. He said: The Messenger of Allah showed us the day before where they (the disbelivers) would fall. He said: This is the place where so-and-so will fall tomorrow, if Allah wills.' 'Umar said: 'By the One Who sent him with the truth! They did not miss those places, They were placed in a well and the Prophet came to them and called out: O so-and-so, son of so-and-so! O so-and-so, son of so-andso! Have you found what your Lord promised to be true? Of I have found what allah promised me to be true. 'Umar said: 'Are you speaking to bodies in which there are no souls?' He said: 'You do not hear what I say any better than they do
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے کہ وہ ہم سے اہل بدر کے سلسلہ میں بیان کرنے لگے، اور کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ( کافروں کے ) مارے جانے کی جگہیں ایک دن پہلے دکھلا دیں، اور فرمایا: ”اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو کل فلاں کے پچھاڑ کھا کر گرنے کی جگہ یہاں ہو گی، اور فلاں کی یہاں“، عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا! ان جگہوں میں کوئی فرق نہیں آیا، چنانچہ انہیں ایک کنویں میں ڈال دیا گیا، ( پھر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، ( اور ) پکارا: ”اے فلاں، فلاں کے بیٹے! اے فلاں، فلاں کے بیٹے! کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا اسے صحیح پایا؟ میں نے تو اللہ نے جو وعدہ مجھ سے کیا تھا اسے صحیح پایا“، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ ایسے جسموں سے بات کر رہے ہیں جن میں روح نہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو میں کہہ رہا ہوں اسے تم ان سے زیادہ نہیں سنتے“۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - وَهُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ - قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ عُمَرَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ أَخَذَ يُحَدِّثُنَا عَنْ أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيُرِينَا مَصَارِعَهُمْ بِالأَمْسِ قَالَ " هَذَا مَصْرَعُ فُلاَنٍ إِنْ شَاءَ اللَّهُ غَدًا " . قَالَ عُمَرُ وَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ مَا أَخْطَئُوا تِيكَ فَجُعِلُوا فِي بِئْرٍ فَأَتَاهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَنَادَى " يَا فُلاَنُ بْنَ فُلاَنٍ يَا فُلاَنُ بْنَ فُلاَنٍ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي اللَّهُ حَقًّا " . فَقَالَ عُمَرُ تُكَلِّمُ أَجْسَادًا لاَ أَرْوَاحَ فِيهَا فَقَالَ " مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ " .
#2075
Sahih
It was narrated that Anas said:"During the night, the Muslims heard the Messenger of Allah standing and calling out at the well of badr; 'O Abu Jahl bin Hisham! O Shaaibh bin Rabiah! O 'Utbah bin Rabiah! O Umayyah bin Khalaf! Have you found what your Lord promised to be true? For I have found what my Lord promised me to be true.' They said: 'O Messenger of Allah, are you calling out to people who have turned into rotten corpses?' He said: 'You do not hear what I say any better than they do, but they cannot answer
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے رات کو بدر کے کنویں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے آواز لگاتے سنا: ”اے ابوجہل بن ہشام! اے شیبہ بن ربیعہ! اے عتبہ بن ربیعہ! اور اے امیہ بن خلف! کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا اسے تم نے صحیح پایا؟، میں نے تو اپنے رب کے وعدہ کو صحیح پایا“، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ان لوگوں کو پکارتے ہیں جو محض بدبودار لاش ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو میں کہہ رہا ہوں اسے تم ان سے زیادہ نہیں سن سکتے، لیکن ( فرق صرف اتنا ہے کہ ) وہ جواب نہیں دے سکتے“۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ سَمِعَ الْمُسْلِمُونَ، مِنَ اللَّيْلِ بِبِئْرِ بَدْرٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَائِمٌ يُنَادِي " يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ وَيَا شَيْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ وَيَا عُتْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ وَيَا أُمَيَّةُ بْنَ خَلَفٍ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَتُنَادِي قَوْمًا قَدْ جَيَّفُوا فَقَالَ " مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ وَلَكِنَّهُمْ لاَ يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يُجِيبُوا " .