#2076
Sahih
it was narrated from Ibn 'Umar that the Prophet stood at the well of Badr and said:"Have you found what your Lord promised to be true?" he said: "They can hear what I am saying to them now". Mention of that was made to 'Aishah and she said: "Ibn 'Umar is mistaken. Rather the Messenger of Allah said: "Ibn 'Umar is mistaken. Rather the Messenger of Allah said: 'Now they know that what I used to say to them is the truth.' Then she recited: So verily, you (O Muhammad) cannot make the dead to hear., until she recited the verse
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے کنویں پہ کھڑے ہوئے ( اور ) فرمایا: ”کیا تم نے اپنے رب کے وعدہ کو صحیح پایا؟“ ( پھر ) آپ نے فرمایا: ”اس وقت جو کچھ میں ان سے کہہ رہا ہوں اسے یہ لوگ سن رہے ہیں“، تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ذکر کیا گیا، تو انہوں نے کہا: ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھول ہوئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یوں ) کہا تھا: ”یہ لوگ اب خوب جان رہے ہیں کہ جو میں ان سے کہتا تھا وہ سچ تھا“، پھر انہوں نے اللہ کا قول پڑھا: «إنك لا تسمع الموتى» ( النمل: ۸۰ ) یہاں تک کہ پوری آیت پڑھی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَقَفَ عَلَى قَلِيبِ بَدْرٍ فَقَالَ " هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا - قَالَ - إِنَّهُمْ لَيَسْمَعُونَ الآنَ مَا أَقُولُ لَهُمْ " . فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ فَقَالَتْ وَهَلَ ابْنُ عُمَرَ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّهُمُ الآنَ يَعْلَمُونَ أَنَّ الَّذِي كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ هُوَ الْحَقُّ " . ثُمَّ قَرَأَتْ قَوْلَهُ { إِنَّكَ لاَ تُسْمِعُ الْمَوْتَى } حَتَّى قَرَأَتِ الآيَةَ .
#2077
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'The Messenger of Allah said: 'The whole of the son of Adam will be consumed by the earth, except for the tailbone, from which he was created and from which he will be created anwe
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی آدم ( کے جسم کا ہر حصہ ) ، ( مغیرہ والی حدیث میں ہے ) ابن آدم ( کے جسم کے ہر حصہ کو ) مٹی کھا جاتی ہے، سوائے اس کی ریڑھ کی ہڈی کے، اسی سے وہ پیدا کیا گیا ہے، اور اسی سے ( دوبارہ ) جوڑا جائے گا“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، وَمُغِيرَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُلُّ بَنِي آدَمَ - وَفِي حَدِيثِ مُغِيرَةَ كُلُّ ابْنِ آدَمَ - يَأْكُلُهُ التُّرَابُ إِلاَّ عَجْبَ الذَّنَبِ مِنْهُ خُلِقَ وَفِيهِ يُرَكَّبُ " .
#2078
Hasan Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"Allah, the Mighty and Sublinm, says: 'The son of Adam denied Me and he had no right to do so. and the son of Adam reviled Me and he had no right to do so. As for his denying Me, It is his saying that I will not resurrect him as I created him in the beginning, but resurrecting him is not more difficult for Me than creating him in the first place. And as for his reviling Me, it is his saying that Allah has taken a son, but I am Allah, the One, the Self-Sufficient Master, I beget not nor was I begotten, and there is none co-equal or comparable unto Me
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ابن آدم نے مجھے جھٹلایا حالانکہ مجھے جھٹلانا اس کے لیے مناسب نہ تھا، ابن آدم نے مجھے گالی دی حالانکہ مجھے گالی دینا اس کے لیے مناسب نہ تھا، رہا اس کا مجھے جھٹلانا تو وہ اس کا ( یہ ) کہنا ہے کہ میں اسے دوبارہ پیدا نہیں کر سکوں گا جیسے پہلی بار کیا تھا، حالانکہ آخری بار پیدا کرنا پہلی بار پیدا کرنے سے زیادہ دشوار مشکل نہیں، اور رہا اس کا مجھے گالی دینا تو وہ اس کا ( یہ ) کہنا ہے کہ اللہ کے بیٹا ہے، حالانکہ میں اللہ اکیلا اور بے نیاز ہوں، نہ میں نے کسی کو جنا، نہ مجھے کسی نے جنا، اور نہ کوئی میرا ہم سر ہے“
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ كَذَّبَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يُكَذِّبَنِي وَشَتَمَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَشْتِمَنِي أَمَّا تَكْذِيبُهُ إِيَّاىَ فَقَوْلُهُ إِنِّي لاَ أُعِيدُهُ كَمَا بَدَأْتُهُ وَلَيْسَ آخِرُ الْخَلْقِ بِأَعَزَّ عَلَىَّ مِنْ أَوَّلِهِ وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّاىَ فَقَوْلُهُ اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا وَأَنَا اللَّهُ الأَحَدُ الصَّمَدُ لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لِي كُفُوًا أَحَدٌ " .
#2079
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:"I heard the Messenger of Allah say: 'There was a man who wronged himself greatly, and when he was dying he said to his family: When I am dead, burn my body then grind my bones and scatter me in the wind and at sea, for by Allah , if Allah gets hold of me, he will punish me in a way that He will not punish anyone else. So his family did that, but Allah, the Mighty and Sublime, said to everything that had taken any part of him to give up what it had taken. Then there he was, standing Allah, the Mighty and Sublime, said: What made you do what you did? He said: Fear of You. So Allah forgave him
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا: ”ایک بندے نے اپنے اوپر ( بڑا ) ظلم کیا، یہاں تک کہ موت ( کا وقت ) آپ پہنچا، تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا: جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر مجھے پیس ڈالنا، کچھ ہوا میں اڑا دینا اور کچھ سمندر میں ڈال دینا، اس لیے کہ اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالیٰ مجھ پر قادر ہوا تو ایسا ( سخت ) عذاب دے گا کہ ویسا عذاب اپنی کسی مخلوق کو نہیں دے گا“، تو اس کے گھر والوں نے ایسا ہی کیا، اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو جس نے اس کا کچھ حصہ لیا تھا حکم دیا کہ حاضر کرو جو کچھ تم نے لیا ہے، تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ سامنے کھڑا ہے، ( تو ) اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا: تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے اکسایا؟ اس نے کہا: تیرے خوف نے، تو اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا“۔
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " أَسْرَفَ عَبْدٌ عَلَى نَفْسِهِ حَتَّى حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ لأَهْلِهِ إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي ثُمَّ اسْحَقُونِي ثُمَّ اذْرُونِي فِي الرِّيحِ فِي الْبَحْرِ فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ اللَّهُ عَلَىَّ لَيُعَذِّبَنِّي عَذَابًا لاَ يُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِهِ قَالَ فَفَعَلَ أَهْلُهُ ذَلِكَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِكُلِّ شَىْءٍ أَخَذَ مِنْهُ شَيْئًا أَدِّ مَا أَخَذْتَ فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ قَالَ خَشْيَتُكَ . فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ " .
#2080
Sahih
It was narrated from Hudhaifah that the Messenger of Allah said:"There was a man among those who came before you who thought badly of his deeds, so when death was approaching he said to his family: 'When I am dead, burn my body and grind up my bones, then scatter me in the sea, for if Allah gets hold of me, He will never forgive me.' But Allah commanded the angles to seize his soul. He said to him: 'What made you do what you did?' He said:: 'O Lord, I only did it because I feared You.' So Allah forgave him
حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلے لوگوں میں کا ایک آدمی اپنے اعمال کے سلسلہ میں بدگمان تھا، چنانچہ جب موت ( کا وقت ) آپ پہنچا، تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا: جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر پیس ڈالنا، پھر مجھے دریا میں اڑا دینا، کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ مجھ پر قادر ہو گا تو وہ مجھے بخشے گا نہیں، آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا تو وہ اس کی روح کو پکڑ کر لائے، اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا: تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے ابھارا؟ اس نے کہا: اے میرے رب! میں نے صرف تیرے خوف کی وجہ سے ایسا کیا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا“۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يُسِيءُ الظَّنَّ بِعَمَلِهِ فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ لأَهْلِهِ إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي ثُمَّ اطْحَنُونِي ثُمَّ اذْرُونِي فِي الْبَحْرِ فَإِنَّ اللَّهَ إِنْ يَقْدِرْ عَلَىَّ لَمْ يَغْفِرْ لِي . قَالَ فَأَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَلاَئِكَةَ فَتَلَقَّتْ رُوحَهُ قَالَ لَهُ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ قَالَ يَا رَبِّ مَا فَعَلْتُ إِلاَّ مِنْ مَخَافَتِكَ . فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ " .
#2081
Sahih
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"I heard the Messenger of Allah delivering a Khutbah from the Minbar and he said: 'You will meet Allah barefoot, naked and uncircumcised
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر خطبہ دیتے سنا آپ فرما رہے تھے: ”تم اللہ تعالیٰ سے ننگے پاؤں، ننگے بدن ( اور ) غیر مختون ملو گے“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ " إِنَّكُمْ مُلاَقُو اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلاً " .
#2082
Sahih
It was narrated from Ibn 'Abbas that the Prophet said:"The people will be gathered on the Day of Resurrection naked and uncircumcised. The first one to be clothed will be Ibrahim." Then he recited: As We began the first creation, We shall repeat it
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ قیامت کے دن ننگ دھڑنگ، غیر مختون اکٹھا کیے جائیں گے، اور مخلوقات میں سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو کپڑا پہنایا جائے گا، پھر آپ نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی: «كما بدأنا أول خلق نعيده» ”جیسے ہم نے پہلی دفعہ پیدا کیا تھا ویسے ہی دوبارہ پیدا کریں گے“ ( الانبیاء: ۱۰۴ ) ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ النُّعْمَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عُرَاةً غُرْلاً وَأَوَّلُ الْخَلاَئِقِ يُكْسَى إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ثُمَّ قَرَأَ { كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ } " .
#2083
Sahih
It was narrated from 'Aishah that the Messenger of Allah said:"The people will be raised up on the Day of Resurrection barefoot, naked and uncircumcised." 'Aishah said: "What about their 'Awrahs?" he said: "Every man that day will have enough to make him careless of others
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ قیامت کے دن ننگے پاؤں، ننگے بدن ( اور ) غیر مختون اٹھائے جائیں گے“، تو اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: لوگوں کی شرمگاہوں کا کیا حال ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس دن ہر ایک کی ایسی حالت ہو گی جو اسے ( ان چیزوں سے ) بے نیاز کر دے گی“۔
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي الزُّبَيْدِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يُبْعَثُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلاً " . فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَكَيْفَ بِالْعَوْرَاتِ قَالَ " لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ " .
#2084
Sahih
It was narrated from 'Aishah that the Prophet said:"You will be gathered (one the Day of Resurrection) barefoot and naked." I said: "Men and women looking at one another?" he said: "The matter will be too difficult for people to pay attention to that
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ ( قیامت کے دن ) ننگے پاؤں ( اور ) ننگے بدن اکٹھا کیے جاؤ گے“، میں نے پوچھا: مرد عورت سب ایک دوسرے کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاملہ اتنا سنگین ہو گا کہ انہیں اس کی فکر نہیں ہو گی“۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ الْقُشَيْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّكُمْ تُحْشَرُونَ حُفَاةً عُرَاةً " . قُلْتُ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ قَالَ " إِنَّ الأَمْرَ أَشَدُّ مِنْ أَنْ يُهِمَّهُمْ ذَلِكَ " .
#2085
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'The people will be gathered on the Day of Resurrection in three ways. (the first will be) those who have the hope (of Paradise) and the fear (of punishment). (the second will be) those who come riding two on a camel, or three on a camel, or four on a camel, or the on a camel, or four on a camel, or ten on a camel or ten o a camel. And the rest of them will be gathered by the Fire which will accompany them, stopping with them where they rest in the afternoon, and staying with them where they stop overnight, and staying with them wherever they are in the morning, and in the evening
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ قیامت کے دن تین گروہ میں جمع کیے جائیں گے، کچھ جنت کی رغبت رکھنے والے اور جہنم سے ڈرنے والے ہوں گے ۱؎، اور کچھ لوگ ایک اونٹ پر دو سوار ہوں گے، ایک اونٹ پر تین سوار ہوں گے، ایک اونٹ پر چار سوار ہوں گے، ایک اونٹ پر دس سوار ہوں گے، اور بقیہ لوگوں کو آگ ۱؎ اکٹھا کرے گی، ان کے ساتھ وہ بھی قیلولہ کرے گی جہاں وہ قیلولہ کریں گے، رات گزارے گی جہاں وہ رات گزاریں گے، صبح کرے گی جہاں وہ صبح کریں گے، اور شام کرے گی جہاں وہ شام کریں گے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ أَبُو بَكْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى ثَلاَثِ طَرَائِقَ رَاغِبِينَ رَاهِبِينَ اثْنَانِ عَلَى بَعِيرٍ وَثَلاَثَةٌ عَلَى بَعِيرٍ وَأَرْبَعَةٌ عَلَى بَعِيرٍ وَعَشْرَةٌ عَلَى بَعِيرٍ وَتَحْشُرُ بَقِيَّتَهُمُ النَّارُ تَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا وَتَبِيتُ مَعَهُمْ حَيْثُ بَاتُوا وَتُصْبِحُ مَعَهُمْ حَيْثُ أَصْبَحُوا وَتُمْسِي مَعَهُمْ حَيْثُ أَمْسَوْا " .
#2086
Daif
It was narrated that Abu Dharr said; "The truthful one whom people believe told me:'The people will be gathered in three groups: A group who will be riding, well fed and well clothed; a group whom the angels will drag on their faces and whom the fire will drive; and a group who will be walking with difficulty. Allah will send a disease to kill all the riding beasts and none will remain, until a man would give a garden for a she-camel but he will not be able to have it
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بیان کیا کہ لوگ ( قیامت کے دن ) تین گروہ میں جمع کیے جائیں گے: ایک گروپ سوار ہو گا، کھاتے ( اور ) پہنتے اٹھے گا، اور ایک گروہ کو فرشتے اوندھے منہ گھسیٹیں گے، اور انہیں آگ گھیر لے گی، اور ایک گروہ پیدل چلے گا ( بلکہ ) دوڑے گا۔ اللہ تعالیٰ سواریوں پر آفت نازل کر دے گا، چنانچہ کوئی سواری باقی نہ رہے گی، یہاں تک کہ ایک شخص کے پاس باغ ہو گا جسے وہ ایک پالان والے اونٹ کے بدلے میں دیدے گا جس پر وہ قادر نہ ہو سکے گا۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ إِنَّ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ صلى الله عليه وسلم حَدَّثَنِي " أَنَّ النَّاسَ يُحْشَرُونَ ثَلاَثَةَ أَفْوَاجٍ فَوْجٌ رَاكِبِينَ طَاعِمِينَ كَاسِينَ وَفَوْجٌ تَسْحَبُهُمُ الْمَلاَئِكَةُ عَلَى وُجُوهِهِمْ وَتَحْشُرُهُمُ النَّارُ وَفَوْجٌ يَمْشُونَ وَيَسْعَوْنَ يُلْقِي اللَّهُ الآفَةَ عَلَى الظَّهْرِ فَلاَ يَبْقَى حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَتَكُونُ لَهُ الْحَدِيقَةُ يُعْطِيهَا بِذَاتِ الْقَتَبِ لاَ يَقْدِرُ عَلَيْهَا " .
#2087
Sahih
It was narrated that Ibn Abbas said:"The Messenger of Allah stood up to give an admonition and he said: 'O people, you will be gathered to Allah naked."' (One of the narrators) Abu Dawud said: "Barefoot and uncircumcised." (The narrators) Waki and Wahb said: "Naked and uncircumcised: As We began the first creation, We shall repeat it. The first one to be clothed on the Day of Resurrection will be Ibrahim, peace be upon him. Then some men from among my Ummah will be brought and will be taken toward the left. I will say: 'O Lord, my companions.' It will be said: 'You do not know what they innovated after you were gone,' and I shall say what the righteous slave said: 'And I was witness over them while I dwelt amongst them, but when You took me up, You were the Watcher over them, but when You took me up, You were the Watcher over them; and You are a Witness to all things. If You punish them, they are Your slaves, and if You forgive them, verily, You, only You, are the All-Mighty, the All-Wise.' And it will be said: 'These people kept turning away since you left them
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نصیحت کرنے کھڑے ہوئے تو فرمایا: ”لوگو! تم اللہ تعالیٰ کے پاس ننگے جسم جمع کئے جاؤ گے، ( ابوداؤد کی روایت میں ہے ننگے پاؤں اور غیر مختون جمع کئے جاؤ گے، اور وکیع اور وہب کی روایت میں ہے: ننگے جسم اور بلا ختنہ ) جیسے ہم نے پہلی دفعہ پیدا کیا تھا ویسے ہی دوبارہ پیدا کریں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے پہلے جسے قیامت کے دن کپڑا پہنایا جائے گا ابراہیم علیہ السلام ہوں گے، اور عنقریب میری امت کے کچھ لوگ لائے جائیں گے ( ابوداؤد کی روایت میں «یجائ» ہے اور وہب اور وکیع کی روایت میں «سیؤتی» ہے ) اور وہ پکڑ کر بائیں جانب لے جائے جائیں گے، میں عرض کروں گا: اے میرے رب! یہ میرے اصحاب ( امتی ) ہیں، کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے جو آپ کے بعد انہوں نے شریعت میں نئی چیزیں ایجاد کر ڈالی ہیں، تو میں وہی کہوں گا جو نیکوکار بندے ( عیسیٰ علیہ السلام ) نے کہا تھا کہ جب تک میں ان کے درمیان موجود تھا ان پر گواہ تھا جب تو نے مجھے وفات دے دی ( تو تو ہی ان کا نگہبان تھا ) اب اگر تو انہیں سزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں، اور اگر انہیں بخش دے تو تو زبردست حکمت والا ہے، تو کہا جائے گا: یہ لوگ برابر پیٹھ پھیرنے والے رہے، ( اور ابوداؤد کی روایت میں ہے: جب سے تم ان سے جدا ہوئے یہ اپنے ایڑیوں کے بل پلٹنے والے رہے ) ۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، وَأَبُو دَاوُدَ عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْمَوْعِظَةِ فَقَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عُرَاةً " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ " حُفَاةً غُرْلاً " . وَقَالَ وَكِيعٌ وَوَهْبٌ " عُرَاةً غُرْلاً { كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ } قَالَ أَوَّلُ مَنْ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَإِنَّهُ سَيُؤْتَى " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ " يُجَاءُ " . وَقَالَ وَهْبٌ وَوَكِيعٌ " سَيُؤْتَى بِرِجَالٍ مِنْ أُمَّتِي فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ رَبِّ أَصْحَابِي . فَيُقَالُ إِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ فَأَقُولُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ { وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي } إِلَى قَوْلِهِ { وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ } الآيَةَ فَيُقَالُ إِنَّ هَؤُلاَءِ لَمْ يَزَالُوا مُدْبِرِينَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ " مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ " .
#2088
Sahih
Mu 'awiyah bin Qurrah narrated that his father said:"When the Prophet of Allah sat, some of his Companions would sit with him. Among them was a man who had a little son who used to come to him from behind, and he would make him sit in front of him. He (the child) died, and the man stopped attending the circle because it reminded him of his son, and made him feel sad. The Prophet missed him and said: 'Why do I not see so-and-so?' They said: O Messenger of Allah, his son whom you saw has died.' The Prophet met him and asked him about his son, and he told him that he had died. He offered his condolences and said: 'O son-and-so, which would you like better, to enjoy his company all you life, or to come to any of the gates of Paradise on the Day of Resurrection, and find that he arrived there before you, and he is opening the gate for you?' he said: 'O Prophet of Allah! For him to get to the gate of Paradise before me and open it for me is dearer to me.' He said: 'You will have that
قرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیٹھتے تو آپ کے صحابہ کی ایک جماعت بھی آپ کے پاس بیٹھتی، ان میں ایک ایسے آدمی بھی ہوتے جن کا ایک چھوٹا بچہ ان کی پیٹھ کے پیچھے سے آتا، تو وہ اسے اپنے سامنے ( گود میں ) بٹھا لیتے ( چنانچہ کچھ دنوں بعد ) وہ بچہ مر گیا، تو اس آدمی نے اپنے بچے کی یاد میں محفل میں آنا بند کر دیا، اور رنجیدہ رہنے لگا، تو ( جب ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں پایا تو پوچھا: ”کیا بات ہے؟ میں فلاں کو نہیں دیکھ رہا ہوں؟“ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس کا ننھا بچہ جسے آپ نے دیکھا تھا مر گیا، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ملاقات کی، ( اور ) اس کے بچے کے بارے میں پوچھا، تو اس نے بتایا کہ وہ مر گیا، تو آپ نے اس کی ( موت کی خبر ) پر اس کی تعزیت کی، پھر فرمایا: ”اے فلاں! تجھ کو کون سی بات زیادہ پسند ہے؟ یہ کہ تم اس سے عمر بھر فائدہ اٹھاتے یا یہ کہ ( جب ) تم قیامت کے دن جنت کے کسی دروازے پر جاؤ تو اسے اپنے سے پہلے پہنچا ہوا پائے، وہ تمہارے لیے اسے کھول رہا ہو؟“ تو اس نے کہا: اللہ کے نبی! مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ وہ جنت کے دروازے پر مجھ سے پہلے پہنچے، اور میرے لیے دروازہ کھول رہا ہو، آپ نے فرمایا: ”تمہارے لیے ایسا ( ہی ) ہو گا“۔
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدٍ، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي الزَّرْقَاءِ - قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَيْسَرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا جَلَسَ يَجْلِسُ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَفِيهِمْ رَجُلٌ لَهُ ابْنٌ صَغِيرٌ يَأْتِيهِ مِنْ خَلْفِ ظَهْرِهِ فَيُقْعِدُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَهَلَكَ فَامْتَنَعَ الرَّجُلُ أَنْ يَحْضُرَ الْحَلْقَةَ لِذِكْرِ ابْنِهِ فَحَزِنَ عَلَيْهِ فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَا لِي لاَ أَرَى فُلاَنًا " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ بُنَيَّهُ الَّذِي رَأَيْتَهُ هَلَكَ . فَلَقِيَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ عَنْ بُنَيِّهِ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ هَلَكَ فَعَزَّاهُ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ " يَا فُلاَنُ أَيُّمَا كَانَ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ تَمَتَّعَ بِهِ عُمْرَكَ أَوْ لاَ تَأْتِي غَدًا إِلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِلاَّ وَجَدْتَهُ قَدْ سَبَقَكَ إِلَيْهِ يَفْتَحُهُ لَكَ " . قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ بَلْ يَسْبِقُنِي إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ فَيَفْتَحُهَا لِي لَهُوَ أَحَبُّ إِلَىَّ . قَالَ " فَذَاكَ لَكَ " .
#2089
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:"The angel of death was sent to Musa. Peace be upon him, and when he came to him, he slapped him and put his eye out he went back to his Lord and said: 'Go back to him and tell him to put his hand on the back of a bull, and of every hair that his hand covers he will have one year.' He said: 'O Lord, then what?' He said; 'Death.' He said: 'Let me go now.' And he (Musa) asked his Lord to bring him within a stone's throw of the Holy Land, the distance of a stone's throw. The Messenger of Allah said: 'If I where there, I would show you his grave, beside the road beneath a red dune
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں موت کا فرشتہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجا گیا، جب وہ ان کے پاس آیا تو انہوں نے اسے ایک طمانچہ رسید کیا، تو اس کی ایک آنکھ پھوٹ کر بہہ گئی، چنانچہ اس نے اپنے رب کے پاس واپس جا کر شکایت کی کہ تو نے مجھے ایسے بندے کے پاس بھیج دیا جو مرنا نہیں چاہتا، اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ اچھی کر دی، اور کہا: اس کے پاس دوبارہ جاؤ، اور اس سے کہہ: تم اپنا ہاتھ بیل کی پیٹھ پر رکھو اس کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آئیں گے ہر بال کے عوض انہیں ایک سال کی مزید عمر مل جائے گی، تو انہوں نے عرض کیا: اے میرے رب! پھر کیا ہو گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: پھر مرنا ہو گا، ( موسیٰ علیہ السلام ) نے کہا: تب تو ابھی ( مرنا بہتر ہے ) ، تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ وہ انہیں ارض مقدس سے پتھر پھینکنے کی مسافت کے برابر قریب کر دے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں اس جگہ ہوتا تو تمہیں راستے کی طرف سرخ ٹیلے کے نیچے ان کی قبر دکھلاتا“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أُرْسِلَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَلَمَّا جَاءَهُ صَكَّهُ فَفَقَأَ عَيْنَهُ فَرَجَعَ إِلَى رَبِّهِ فَقَالَ أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لاَ يُرِيدُ الْمَوْتَ . فَرَدَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ عَيْنَهُ وَقَالَ ارْجِعْ إِلَيْهِ فَقُلْ لَهُ يَضَعُ يَدَهُ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ فَلَهُ بِكُلِّ مَا غَطَّتْ يَدُهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ سَنَةٌ . قَالَ أَىْ رَبِّ ثُمَّ مَهْ قَالَ الْمَوْتُ . قَالَ فَالآنَ . فَسَأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْنِيَهُ مِنَ الأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَلَوْ كُنْتُ ثَمَّ لأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِلَى جَانِبِ الطَّرِيقِ تَحْتَ الْكَثِيبِ الأَحْمَرِ " .
#2090
Sahih
It was narrated from Talhah bin 'Ubaidullah that:a Bedouin came to the Messenger of Allah with unkempt hair and said: "O Allah has enjoined upon me of Salah." He said: "The five daily prayers, unless you do any more voluntarily." He said: "Tell me what Allah has enjoined upon me voluntarily." He said: "Tell me what Allah has enjoined upon me of fasting." He said: "Fasting the month of Ramadan, unless you do any more voluntarily." He said: "Tell me what Allah has enjoined upon me of Zakah." The Messenger of Allah told him of the laws of Islam, He said: "By the One Who has honored you, I will not do anything voluntarily, and I will not do anything voluntarily, and I will not do less than that which Allah has enjoined upon, me: The Messenger of Allah said: "He will succeed if he is sincere," or "He will enter Paradise if he is sincere
طلحہ بن عبیداللہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پراگندہ بال آیا، ( اور ) اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے بتائیے اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”پانچ ( وقت کی ) نمازیں، اِلاَّ یہ کہ تم کچھ نفل پڑھنا چاہو“، پھر اس نے کہا: مجھے بتلائیے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنے روزے فرض کیے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”ماہ رمضان کے روزے، اِلاَّ یہ کہ تم کچھ نفلی ( روزے ) رکھنا چاہو“، ( پھر ) اس نے پوچھا: مجھے بتلائیے اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنی زکاۃ فرض کی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسلام کے احکام بتائے، تو اس نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کی تکریم کی ہے، میں کوئی نفل نہیں کروں اور نہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر جو فرض کیا ہے اس میں کوئی کمی کروں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے سچ کہا تو یہ کامیاب ہو گیا“، یا کہا: ”اگر اس نے سچ کہا تو جنت میں داخل ہو گیا“۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَائِرَ الرَّأْسِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي مَاذَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَىَّ مِنَ الصَّلاَةِ قَالَ " الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ إِلاَّ أَنْ تَطَوَّعَ شَيْئًا " . قَالَ أَخْبِرْنِي بِمَا افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَىَّ مِنَ الصِّيَامِ قَالَ " صِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ إِلاَّ أَنْ تَطَوَّعَ شَيْئًا " . قَالَ أَخْبِرْنِي بِمَا افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَىَّ مِنَ الزَّكَاةِ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشَرَائِعِ الإِسْلاَمِ . فَقَالَ وَالَّذِي أَكْرَمَكَ لاَ أَتَطَوَّعُ شَيْئًا وَلاَ أَنْقُصُ مِمَّا فَرَضَ اللَّهُ عَلَىَّ شَيْئًا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ " . أَوْ " دَخَلَ الْجَنَّةَ إِنْ صَدَقَ " .
#2091
Sahih
It was narrated that Anas said:"We were forbidden in the Quran to ask the Prophet about anything not imperative, so we liked it when a wise man from among the people of the desert came and asked him. A man from among the desert people came and said: 'O Muhammad, your messenger came to us and told us that you say that Allah, the Mighty and Sublime, has sent you.' He said: 'He spoke the truth.' He said: 'Who created the heavens?' He said: 'Allah.' He said: 'Who created the Earth?' He said: 'Allah.' He said: 'Who set up the mountains in it?' He said: 'Allah.' He said: 'Who created beneficial things in them?' He said: 'Allah.' He said: 'By the One Who created the heavens and the Earth, and set up the mountains therein, and created beneficial things in them, has Allah sent you?' He said: 'Yes.' He said: 'Your messenger said that we have to offer five prayers each day and night.' He said: 'He spoke the truth.' He said: 'By the One Who sent you, has Allah commanded you to do this?' He said: 'Yes.' He said: 'Your messenger said that we have to pay Zakah on our wealth.' He said: 'He spoke the truth.' He said: 'By the One Who sent you, has Allah commanded you to do this?' He said: 'Yes.' He said: 'Your messenger said that we have to fast the month of Ramadan each year.' He said: 'He spoke the truth.' He said: 'By the One Who sent You, has Allah commanded you to do this?' He said: 'Yes.' He said: 'Your messenger said that we have to perform Hajj, those who can afford it.' He said: 'He spoke the truth.' He said: 'By the One Who sent you, has Allah commanded you to do this?' He said: 'Yes.' He said: 'By the One Who sent you with the truth, I will not do more than this or less.' When he left, the Prophet said: 'If he is sincere, he will certainly enter paradise
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں: ہمیں قرآن کریم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لایعنی بات پوچھنے سے منع کیا گیا تھا، تو ہمیں یہ بات اچھی لگتی کہ دیہاتیوں میں سے کوئی عقلمند شخص آئے، اور آپ سے نئی نئی باتیں پوچھے، چنانچہ ایک دیہاتی آیا، اور کہنے لگا: اے محمد! ہمارے پاس آپ کا قاصد آیا، اور اس نے ہمیں بتایا کہ آپ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھیجا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا“، اس نے پوچھا: آسمان کو کس نے پیدا کیا؟ آپ نے کہا: ”اللہ تعالیٰ نے“ ( پھر ) اس نے پوچھا: زمین کو کس نے پیدا کیا؟ آپ نے کہا: ”اللہ نے“ ( پھر ) اس نے پوچھا: اس میں پہاڑ کو کس نے نصب کیے ہیں؟ آپ نے کہا: ”اللہ تعالیٰ نے“ ( پھر ) اس نے پوچھا: اس میں نفع بخش ( چیزیں ) کس نے بنائیں؟ آپ نے کہا: ”اللہ تعالیٰ نے“ ( پھر ) اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا، اور اس میں پہاڑ نصب کیے، اور اس میں نفع بخش ( چیزیں ) بنائیں کیا آپ کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے؟ آپ نے کہا: ”ہاں“، پھر اس نے کہا: اور آپ کے قاصد نے کہا ہے کہ ہمارے اوپر ہر روز دن اور رات میں پانچ وقت کی نماز فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا“، تو اس نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو بھیجا! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ( نمازوں ) کا حکم دیا ہے؟ آپ نے کہا: ہاں، ( پھر ) اس نے کہا: آپ کے قاصد نے کہا ہے کہ ہم پر اپنے مالوں کی زکاۃ فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: اس نے سچ کہا، ( پھر ) اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو بھیجا! کیا آپ کو اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے؟ آپ نے کہا: ”ہاں“، ( پھر ) اس نے کہا: آپ کے قاصد نے کہا ہے: ہم پر ہر سال ماہ رمضان کے روزے فرض ہیں، آپ نے کہا: ”اس نے سچ کہا“ ( پھر ) اس نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ( دنوں کے روزوں ) کا حکم دیا ہے؟ آپ نے کہا: ”ہاں“، ( پھر ) اس نے کہا: آپ کے قاصد نے کہا ہے: ہم میں سے جو کعبہ تک جانے کی طاقت رکھتے ہوں، ان پر حج فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا“، اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو بھیجا! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، تو اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا فرمایا: میں ہرگز نہ اس میں کچھ بڑھاؤں گا اور نہ گھٹاؤں گا، جب وہ لوٹا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ ضرور جنت میں داخل ہو گا“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ نُهِينَا فِي الْقُرْآنِ أَنْ نَسْأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ شَىْءٍ فَكَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ يَجِيءَ الرَّجُلُ الْعَاقِلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَيَسْأَلَهُ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَتَانَا رَسُولُكَ فَأَخْبَرَنَا أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَرْسَلَكَ قَالَ " صَدَقَ " . قَالَ فَمَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ قَالَ " اللَّهُ " . قَالَ فَمَنْ خَلَقَ الأَرْضَ قَالَ " اللَّهُ " . قَالَ فَمَنْ نَصَبَ فِيهَا الْجِبَالَ قَالَ " اللَّهُ " . قَالَ فَمَنْ جَعَلَ فِيهَا الْمَنَافِعَ قَالَ " اللَّهُ " . قَالَ فَبِالَّذِي خَلَقَ السَّمَاءَ وَالأَرْضَ وَنَصَبَ فِيهَا الْجِبَالَ وَجَعَلَ فِيهَا الْمَنَافِعَ آللَّهُ أَرْسَلَكَ قَالَ " نَعَمْ " . قَالَ وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ قَالَ " صَدَقَ " . قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا قَالَ " نَعَمْ " . قَالَ وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا زَكَاةَ أَمْوَالِنَا قَالَ " صَدَقَ " . قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا قَالَ " نَعَمْ " . قَالَ وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا صَوْمَ شَهْرِ رَمَضَانَ فِي كُلِّ سَنَةٍ . قَالَ " صَدَقَ " . قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا قَالَ " نَعَمْ " . قَالَ وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا الْحَجَّ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلاً . قَالَ " صَدَقَ " . قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا قَالَ " نَعَمْ " . قَالَ فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لاَ أَزِيدَنَّ عَلَيْهِنَّ شَيْئًا وَلاَ أَنْقُصُ . فَلَمَّا وَلَّى قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَئِنْ صَدَقَ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ " .
#2092
Sahih
It was narrated that Anas bin Malik said:"While we were sitting in the Masjid, a man came on a camel and made it keneel in the Masjid, then he hobbled it and said to them: 'Which of you is Muhammad?' The Messenger of Allah was reclining amid his Companions, and we said to him: This white man who is reclining.' The man said to him: 'O son of 'Abdul-Muttalib.' The Messenger of Allah said: ' I have answered you.' The man said; 'O Muhammad, I am going to ask you questions, and I will be harsh in asking; do not get upset.; The man said: 'I adjure you by your Lord and the Lord of those who cam before you, has Allah sent you to all the people?' The Messenger of Allah said: 'By Allah, yes.' He said; 'I adjure you by Allah, has Allah commanded you to offer five prayers each day and night?' The Messenger of Allah said: 'By Allah, yes.; He said: 'I adjure you by Allah, has Allah commanded you to fast this month each year? The Messenger of Allah said: 'By Allah, Yes.' He said: 'I adjure you by Allah, has Allah commanded you to take this charity from our rich and distribute it among our poor?' The Messenger of Allah said. 'By Allah, yes.' The man said: 'I believe in that which you have brought, and I am the envoy of my people who are coming after me. I am Dimam bin Thalabah, the brother of Banu sad bin Bakr."' Yaqub bin Ibrahim contradicted him
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں: ہم مسجد میں بیٹھے تھے کہ اسی دوران ایک شخص اونٹ پر آیا، اسے مسجد میں بٹھایا پھر اسے باندھا، ( اور ) لوگوں سے پوچھا: تم میں محمد کون ہیں؟ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ تو ہم نے اس سے کہا: یہ گورے چٹے آدمی ہیں، جو ٹیک لگائے بیٹھے ہیں، آپ کو پکار کر اس شخص نے کہا: اے عبدالمطلب کے بیٹے! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”میں نے تمہاری بات سن لی“ ( کہو کیا کہنا چاہتے ہو ) اس نے کہا: محمد! میں آپ سے کچھ پوچھنے والا ہوں، ( اور ذرا ) سختی سے پوچھوں گا تو آپ دل میں کچھ محسوس نہ کریں، آپ نے فرمایا: ”پوچھو جو چاہتے ہو“، تو اس نے کہا: میں آپ کو آپ کے، اور آپ سے پہلے ( جو گزر چکے ہیں ) ان کے رب کی قسم دلاتا ہوں! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام لوگوں کی طرف ( رسول بنا کر ) بھیجا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”اے اللہ! ( میری بات پر گواہ رہنا ) ہاں“، ( پھر ) اس نے کہا: میں اللہ کی قسم دلاتا ہوں! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو دن اور رات میں پانچ ( وقت کی ) نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ( گواہ رہنا ) ہاں“، ( پھر ) اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو سال کے اس ماہ میں روزے رکھنے کا حکم دیا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ( گواہ رہنا ) ہاں،“ ( پھر ) اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں! اللہ تعالیٰ نے آپ کو مالداروں سے زکاۃ لے کر غریبوں میں تقسیم کرنے کا حکم دیا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”اے اللہ! ( گواہ رہنا ) ہاں“، تب ( اس ) شخص نے کہا: میں آپ کی لائی ہوئی ( شریعت ) پر ایمان لایا، میں اپنی قوم کا جو میرے پیچھے ہیں قاصد ہوں، اور میں قبیلہ بنی سعد بن بکر کا فرد ضمام بن ثعلبہ ہوں۔ یعقوب بن ابراہیم نے حماد بن عیسیٰ کی مخالفت کی ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ فِي الْمَسْجِدِ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ عَقَلَهُ فَقَالَ لَهُمْ أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ - وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ - قُلْنَا لَهُ هَذَا الرَّجُلُ الأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَدْ أَجَبْتُكَ " . فَقَالَ الرَّجُلُ إِنِّي سَائِلُكَ يَا مُحَمَّدُ فَمُشَدِّدٌ عَلَيْكَ فِي الْمَسْأَلَةِ فَلاَ تَجِدَنَّ فِي نَفْسِكَ . قَالَ " سَلْ مَا بَدَا لَكَ " . فَقَالَ الرَّجُلُ نَشَدْتُكَ بِرَبِّكَ وَرَبِّ مَنْ قَبْلَكَ آللَّهُ أَرْسَلَكَ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ نَعَمْ " . قَالَ فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تُصَلِّيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ نَعَمْ " . قَالَ فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَصُومَ هَذَا الشَّهْرَ مِنَ السَّنَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ نَعَمْ " . قَالَ فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا فَتَقْسِمَهَا عَلَى فُقَرَائِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ نَعَمْ " . فَقَالَ الرَّجُلُ آمَنْتُ بِمَا جِئْتَ بِهِ وَأَنَا رَسُولُ مَنْ وَرَائِي مِنْ قَوْمِي وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ أَخُو بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ . خَالَفَهُ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ .
#2093
Sahih
Anas bin Malik said:"while we were with the Messenger of Allah, sitting in the Masjid, a man entered on a camel. He made it kneel in the Masjid, then he hobbled it. Then he said; 'Which of you is Muhammad?' He was reclining among them, and we said to him: 'This white man who is reclining.' The man said to him: 'O son of 'Abdul-Muttalib.' The Messenger of Allah said to him: 'I have answered you.' The man said: 'O Muhammad, I am going to ask you questions and I will be harsh in asking.' He said; 'Ask whatever you like.' The man said; 'I adjure you by your Lord, and the Lord of those who came begfore you, has Allah sent you to all the people?' The messenger of Allah said: 'by Allah, yes,' He said: 'Iadjure you by Allah, has Allah commanded you to fast this month each year?' The Messenger of Allah said: 'I adjure you by Allah, has Allah commanded you to take this charity from our rich and divide it among our poor?' The Messenger of Allah said: 'By Allah, Yes.' The ma said; 'I believe in that which you have brought, and I am the envoy of my people who are coming after me. I am Dimam bin Thalabah, the brother of Banu sad bin Bakr."' (Sahih) 'Ubaidullah bin 'Umar contradicted him
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد میں بیٹھے تھے کہ اسی دوران ایک شخص اونٹ پر سوار آیا، اس نے اسے مسجد میں بٹھا کر باندھا ( اور ) لوگوں سے پوچھا: تم میں محمد کون ہیں؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ ہم نے اس سے کہا: یہ گورے چٹے آدمی ہیں جو ٹیک لگائے ہوئے ہیں، تو ( اس ) شخص نے ( پکار کر ) آپ سے کہا: اے عبدالمطلب کے بیٹے! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”میں نے تمہاری بات سن لی“، ( کہو کیا کہنا چاہتے ہو ) تو اس شخص نے کہا: اے محمد! میں آپ سے کچھ پوچھنے والا ہوں ( اور ذرا ) سختی سے پوچھوں گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پوچھو جو تم پوچھنا چاہتے ہو“، تو اس آدمی نے کہا: میں آپ کو آپ کے، اور آپ سے پہلے ( جو گزر چکے ہیں ) کے رب کی قسم دلاتا ہوں! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام لوگوں کی طرف ( رسول بنا کر ) بھیجا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”اے اللہ! ( گواہ رہنا ) ہاں“، پھر اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو سال کے اس ماہ کے روزے رکھنے کا حکم دیا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ( گواہ رہنا! ) ہاں“، ( پھر ) اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ ہمارے مالداروں سے یہ صدقہ لو اور اسے ہمارے غریبوں میں تقسیم کرو، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ( گواہ رہنا ) ہاں“، تب ( اس ) شخص نے کہا: میں آپ کی لائی ہوئی ( شریعت ) پہ ایمان لایا، میں اپنی قوم کا جو میرے پیچھے ہے قاصد ہوں، اور میں بنی سعد بن بکر کا فرد ضمام بن ثعلبہ ہوں۔ عبیداللہ بن عمر نے ابن عجلان کی مخالفت کی ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مِنْ كِتَابِهِ قَالَ حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلاَنَ، وَغَيْرُهُ، مِنْ إِخْوَانِنَا عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جُلُوسٌ فِي الْمَسْجِدِ دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ عَقَلَهُ ثُمَّ قَالَ أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ - وَهُوَ مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ - فَقُلْنَا لَهُ هَذَا الرَّجُلُ الأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَدْ أَجَبْتُكَ " . قَالَ الرَّجُلُ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي سَائِلُكَ فَمُشَدِّدٌ عَلَيْكَ فِي الْمَسْأَلَةِ . قَالَ " سَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ " . قَالَ أَنْشُدُكَ بِرَبِّكَ وَرَبِّ مَنْ قَبْلَكَ آللَّهُ أَرْسَلَكَ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ نَعَمْ " . قَالَ فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَصُومَ هَذَا الشَّهْرَ مِنَ السَّنَةِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ نَعَمْ " . قَالَ فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا فَتَقْسِمَهَا عَلَى فُقَرَائِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ نَعَمْ " . فَقَالَ الرَّجُلُ إِنِّي آمَنْتُ بِمَا جِئْتَ بِهِ وَأَنَا رَسُولُ مَنْ وَرَائِي مِنْ قَوْمِي وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ أَخُو بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ . خَالَفَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ .
#2094
Sahih Isnaad
It was narrated that Abu Hurairah said:"While the Prophet was with his Companions a man from among the desert people came and said: 'Which of you is the son of 'Abdul-Muttalib?' They said: 'This Anghar man who is reclining on a pillow.' (One of the narrators) Hamzah said: "Amghar means white with a reddish complexion.'- The man said: 'I am going to ask you questions and I will be harsh in asking.' He said: 'ask whatever you like.' He said: 'I ask you by your Lord and the Lord of those who came before you, and the Lord of those who will come after you; has Allah sent you?' He said: 'By Allah, yes.' He said: 'I adjure you by Him, has Allah commanded you to offer five prayers each day and night?' He said: 'By Allah, yes.; He said: 'I adjure you by Him, has Allah commanded you to take from the wealth of our rich and give it to our poor?' he said: 'By Allah, yes He said: 'I adjure you by Allah, has Allah commanded you to fast this month out of the twelve months?' He said: 'By Allah, yes.' He said: 'I adjure you by Him, has Allah commanded you to go on pilgrimage to this House, where can afford it?' He said: 'By Allah yes.' He said: 'I belive, and I am Dimam bin Thalabah
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ تھے کہ اسی دوران دیہاتیوں میں ایک شخص آیا، اور اس نے پوچھا: تم میں عبدالمطلب کے بیٹے کون ہیں؟ لوگوں نے کہا: یہ گورے رنگ والے جو تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے ہیں ( حمزہ کہتے ہیں: «الأمغر» سرخی مائل کو کہتے ہیں ) تو اس شخص نے کہا: میں آپ سے کچھ پوچھنے ولا ہوں، اور پوچھنے میں آپ سے سختی کروں گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”پوچھو جو چاہو“، اس نے کہا: میں آپ سے آپ کے رب کا اور آپ سے پہلے لوگوں کے رب کا اور آپ کے بعد کے لوگوں کے رب کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں: کیا اللہ نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ تو گواہ رہ، ہاں“، اس نے کہا: تو میں اسی کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ روزانہ پانچ وقت کی نماز پڑھیں؟ آپ نے کہا: ”اے اللہ تو گواہ رہ، ہاں“، اس نے کہا: کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ ہمارے مالداروں کے مالوں میں سے ( زکاۃ ) لیں، پھر اسے ہمارے فقیروں کو لوٹا دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ تو گواہ رہنا، ہاں“، اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو سال کے بارہ مہینوں میں سے اس مہینہ میں روزے رکھنے کا حکم دیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”اے اللہ تو گواہ رہنا، ہاں“، اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں کیا اللہ تعالیٰ نے آپ حکم دیا ہے کہ جو اس خانہ کعبہ تک پہنچنے کی طاقت رکھے وہ اس کا حج کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”اے اللہ گواہ رہنا ہاں“، تب اس شخص نے کہا: میں ایمان لایا اور میں نے تصدیق کی، میں ضمام بن ثعلبہ ہوں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَارَةَ، حَمْزَةُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ بَيْنَمَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَعَ أَصْحَابِهِ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ قَالَ أَيُّكُمُ ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالُوا هَذَا الأَمْغَرُ الْمُرْتَفِقُ - قَالَ حَمْزَةُ الأَمْغَرُ الأَبْيَضُ مُشْرَبٌ حُمْرَةً - فَقَالَ إِنِّي سَائِلُكَ فَمُشْتَدٌّ عَلَيْكَ فِي الْمَسْأَلَةِ قَالَ " سَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ " . قَالَ أَسْأَلُكَ بِرَبِّكَ وَرَبِّ مَنْ قَبْلَكَ وَرَبِّ مَنْ بَعْدَكَ آللَّهُ أَرْسَلَكَ قَالَ " اللَّهُمَّ نَعَمْ " . قَالَ فَأَنْشُدُكَ بِهِ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تُصَلِّيَ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ قَالَ " اللَّهُمَّ نَعَمْ " . قَالَ فَأَنْشُدُكَ بِهِ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْ أَمْوَالِ أَغْنِيَائِنَا فَتَرُدَّهُ عَلَى فُقَرَائِنَا قَالَ " اللَّهُمَّ نَعَمْ " . قَالَ فَأَنْشُدُكَ بِهِ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَصُومَ هَذَا الشَّهْرَ مِنَ اثْنَىْ عَشَرَ شَهْرًا قَالَ " اللَّهُمَّ نَعَمْ " . قَالَ فَأَنْشُدُكَ بِهِ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ يَحُجَّ هَذَا الْبَيْتَ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلاً قَالَ " اللَّهُمَّ نَعَمْ " . قَالَ فَإِنِّي آمَنْتُ وَصَدَّقْتُ وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ .
#2095
Sahih
It was narrated from 'Ubaidullah bin 'Abdullah bin 'Utabah that 'Abdullah bin 'Abbas used to say:"The Messenger of Allah was the most generous of people, and he was most generous in Ramadan when Jibril met him. Jibril use to meet him every night during the month of Ramadan and study Quran with him." And he said: "When Jibril met him, the Messenger of Allah was more generous in doing good than the blowing wind
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ سخی آدمی تھے، اور رمضان میں جس وقت جبرائیل علیہ السلام آپ سے ملتے تھے آپ اور زیادہ سخی ہو جاتے تھے، جبرائیل علیہ السلام آپ سے ماہ رمضان میں ہر رات ملاقات کرتے ( اور ) قرآن کا دور کراتے تھے۔ ( راوی ) کہتے ہیں: جس وقت جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرتے تو آپ تیز چلتی ہوئی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے تھے۔
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، كَانَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَجْوَدَ النَّاسِ وَكَانَ أَجْوَدَ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ وَكَانَ جِبْرِيلُ يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ فَيُدَارِسُهُ الْقُرْآنَ . قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ .
#2096
Sahih Isnaad
It was narrated that 'Aishah said:"Hardly anyone every remembered the Messenger of Allah cursing anyone, and if he had recently met with Jibril and studied the Quran with him, he was more generous in doing good than the blowing with. "(Sahih) Abu 'Abdur-Rehman (An-Nasai) said; This is a mistake, and what is correct is the (previous) narration of Yunus bin Yazid, he put this narration in the Hadith
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی لعنت ایسی نہیں کی جسے ذکر کیا جائے، ( اور ) جب جبرائیل علیہ السلام کے آپ کو قرآن دور کرانے کا زمانہ آتا تو آپ تیز چلتی ہوئی ہوا سے بھی زیادہ فیاض ہوتے۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: یہ ( روایت ) غلط ہے، اور صحیح یونس بن یزید والی حدیث ہے ( جو اوپر گزری ) راوی نے اس حدیث میں ایک ( دوسری ) حدیث داخل کر دی ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، وَالنُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ لَعْنَةٍ تُذْكَرُ وَكَانَ إِذَا كَانَ قَرِيبَ عَهْدٍ بِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ يُدَارِسُهُ كَانَ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا خَطَأٌ وَالصَّوَابُ حَدِيثُ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ وَأَدْخَلَ هَذَا حَدِيثًا فِي حَدِيثٍ .
#2097
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"When the month of Ramadan begins, the gates of Paradise are opened and the gates of Hell are shut, and the devils are fettered
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں“۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ وَصُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ " .
#2098
Sahih
It Was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:'When Ramadan begins, the gates of Paradise are opened, the gates of Hell are closed, and the devils are fettered
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں“۔
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجُوزَجَانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ وَصُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ " .
#2099
Sahih
Abu Hurairah said; 'The Messenger of Allah said:'When Ramadan begins, the gates of Paradise are opened, the gates of Hell are closed, and the devils are chained up
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اور شیاطین زنجیر میں جکڑ دئیے جاتے ہیں“۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ أَنَسٍ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ " .
#2100
Sahih
Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'When Ramadan comes, the gates of mercy are opened, the gates of Hell are closed, and the devils are chained up
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رمضان آتا ہے تو رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي أَنَسٍ، مَوْلَى التَّيْمِيِّينَ أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ " .