#2026
Sahih
It was narrated that Jabir bin Samurah said:"The Messenger of Allah went our to the funeral of Ibn Ad-Dahdah, and when he came back an unsaddled horse was brought to him, so he rode and we walked with him
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابودحداح رضی اللہ عنہ کے جنازے میں ( شرکت کے لیے ) نکلے، تو جب آپ لوٹنے لگے تو ( آپ کے لیے ) بغیر زین کے ننگی پیٹھ والا ایک گھوڑا لایا گیا، آپ ( اس پر ) سوار ہو گئے، اور ہم آپ کے ہمراہ پیدل چلنے لگے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى جَنَازَةِ أَبِي الدَّحْدَاحِ، فَلَمَّا رَجَعَ أُتِيَ بِفَرَسٍ مُعْرَوْرًى فَرَكِبَ وَمَشَيْنَا مَعَهُ .
#2027
Sahih
It was narrated that Jabir said:"The Messenger of Allah forbade building over graves, making them larger or plastering over them." (One of two narrators) Sulaiman bin Musa added: "Or writing on them
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ قبر پر قبہ بنایا جائے یا اس کو اونچا کیا جائے، یا اس کو پختہ بنایا جائے، سلیمان بن موسیٰ کی روایت میں ”یا اس پر لکھا جائے“ کا اضافہ ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، وَأَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُبْنَى عَلَى الْقَبْرِ، أَوْ يُزَادَ عَلَيْهِ، أَوْ يُجَصَّصَ . زَادَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى : أَوْ يُكْتَبَ عَلَيْهِ .
#2028
Sahih
Jabir said:"The Messenger of Allah forbade plastering over graves, building over them or sitting on them
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کو پختہ بنانے ۱؎ یا اس پر عمارت بنانے ۲؎ یا اس پر کسی کے بیٹھنے ۳؎ سے منع فرمایا ہے۔
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ تَقْصِيصِ الْقُبُورِ، أَوْ يُبْنَى عَلَيْهَا، أَوْ يَجْلِسَ عَلَيْهَا أَحَدٌ .
#2029
Sahih
It was narrated that Jabir said:"The Messenger of Allah forbade plastering over graves
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کو پختہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ تَجْصِيصِ الْقُبُورِ .
#2030
Sahih
Thumamah bin Shufa narrated:"We were with Fadalah bin 'Ubaid in the land of the Romans, and a companion of ours died. Fadalah ordered that his grave be made level, then he said: 'I heard the Messenger of Allah commanding that it be made level
ثمامہ بن شفی کہتے ہیں کہ ہم فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے ساتھ سر زمین روم میں تھے کہ ہمارا ایک ساتھی وفات پا گیا، تو فضالہ رضی اللہ عنہ نے اس کی قبر ( زمین کے برابر کرنے کا ) حکم دیا، تو وہ برابر کر دی گئی ۱؎ پھر انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے برابر کرنے کا حکم دیتے سنا ہے۔
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ ثُمَامَةَ بْنَ شُفَىٍّ، حَدَّثَهُ قَالَ : كُنَّا مَعَ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ بِأَرْضِ الرُّومِ فَتُوُفِّيَ صَاحِبٌ لَنَا، فَأَمَرَ فَضَالَةُ بِقَبْرِهِ فَسُوِّيَ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُ بِتَسْوِيَتِهَا .
#2031
Sahih
Ali said:"Shall I not send you on the same mission as the Messenger of Allah sent me? Do not leave any raised grave without leveling it, or any image in a house without erasing it
ابوہیاج (حیان بن حصین اسدی) کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تمہیں اس کام پر نہ بھیجوں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا: تم کوئی بھی اونچی قبر نہ چھوڑنا مگر اسے برابر کر دینا، اور نہ کسی گھر میں کوئی مجسمہ ( تصویر ) چھوڑنا مگر اسے مٹا دینا۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي الْهَيَّاجِ، قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رضى الله عنه : أَلاَ أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ تَدَعَنَّ قَبْرًا مُشْرِفًا إِلاَّ سَوَّيْتَهُ، وَلاَ صُورَةً فِي بَيْتٍ إِلاَّ طَمَسْتَهَا .
#2032
Sahih
It is was narrated from 'Abdullah bin Buraidah that his father said:"The Messenger of Allah said: 'I forbade you to visit graves but now visit them; and I forbade you to eat the sacrificial meat after three days, but now keep it as long as you want; and I forbade you to make Nabidh I anything but a water-skin but now drink it from any kind of container, but do not drink intoxicants
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا تو اب تم اس کی زیارت کیا کرو ۱؎، اور میں نے قربانی کے گوشت کو تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع کیا تھا تو اب جب تک جی چاہے رکھو، اور میں نے تمہیں مشک کے علاوہ کسی اور برتن میں نبیذ ( پینے ) سے منع کیا تھا، تو سارے برتنوں میں پیو ( مگر ) کسی نشہ آور چیز کو مت پینا“۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنِ ابْنِ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : " نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الأَضَاحِي فَوْقَ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ فَأَمْسِكُوا مَا بَدَا لَكُمْ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ إِلاَّ فِي سِقَاءٍ فَاشْرَبُوا فِي الأَسْقِيَةِ كُلِّهَا، وَلاَ تَشْرَبُوا مُسْكِرًا " .
#2033
Sahih
Abdullah bin Buraidah narrated from his father:That he was in a gathering where the Messenger of Allah was present and he said: "I used to forbid you to eat the sacrificial mea for more than three days, but now eat it, give it to others and store it for as long as you want. And I told you not to make Nabidh in these containers: Ad-Dubba', Al-Muzaqqat, An-Naqir, and Al-Hantam. But now make Nabidh in whatever you want, but avoid everything that intoxicates. And I forbade you to visit graves, but now whoever want to visit them, let him do so, but do not utter anything which is not suitable
بریدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک مجلس میں تھے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( موجود ) تھے، تو آپ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے سے منع کیا تھا ( تو اب تم ) کھاؤ، کھلاؤ اور جب تک جی چاہے رکھ چھوڑو، اور میں نے تم سے ذکر کیا تھا کہ کدو کی تمبی، تار کول ملے ہوئے، اور لکڑی کے اور سبز اونچے گھڑے کے برتنوں میں نبیذ نہ بناؤ، ( مگر اب ) جس میں مناسب سمجھو بناؤ، اور ہر نشہ آور چیز سے پرہیز کرو، اور میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا ( تو اب ) جو بھی زیارت کرنا چاہے کرے، البتہ تم زبان سے بری بات نہ کہو“۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سُبَيْعٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، : أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ : " إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا لُحُومَ الأَضَاحِي إِلاَّ ثَلاَثًا، فَكُلُوا وَأَطْعِمُوا وَادَّخِرُوا مَا بَدَا لَكُمْ، وَذَكَرْتُ لَكُمْ أَنْ لاَ تَنْتَبِذُوا فِي الظُّرُوفِ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ وَالْحَنْتَمِ، انْتَبِذُوا فِيمَا رَأَيْتُمْ وَاجْتَنِبُوا كُلَّ مُسْكِرٍ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يَزُورَ فَلْيَزُرْ، وَلاَ تَقُولُوا هُجْرًا " .
#2034
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah visited the grave of his mother and wept, and caused those around him to weep. He said: 'I asked my Lord for permission to pray for forgiveness for her and He did not give me permission, and I asked Him for permission to visit her grave and He gave me permission, so visit the graves, for they will remind you of death
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ماں کی قبر کی زیارت کی، تو آپ خود رو پڑے اور جو آپ کے اردگرد تھے انہیں بھی رلا دیا، اور فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے اجازت چاہی کہ میں ان کے لیے مغفرت طلب کروں تو مجھے اجازت نہیں ملی، ( تو پھر ) میں نے ان کی قبر کی زیارت کرنے کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت دے دی گئی، تم لوگ قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ تمہیں موت کی یاد دلاتی ہے“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : زَارَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَبْرَ أُمِّهِ فَبَكَى وَأَبْكَى مَنْ حَوْلَهُ وَقَالَ : " اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي، وَاسْتَأْذَنْتُ فِي أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأَذِنَ لِي، فَزُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمُ الْمَوْتَ " .
#2035
Sahih
It was narrated from Sa'eed bin Al-Musayyab that his father said:"When Abu Talib was dying, the Prophet came to him and found Abu Jahl and 'Abdullah bin Abi Umayyah with him. He said: 'O uncle, say La ilaha illallah(there is none worthy of worship except Allah), a word with which I will defend you before Allah.' Abu Jahl and 'Abdullah bin Abi Umayyah said: 'O Abu Talib, are you turning away from the religion of 'Abdul-Muttalib.' Then the Prophet said: 'I will keep on asking for Allah's forgiveness for you unless I am forbidden to do so.' Then the following was revealed: It is not (proper) for the Prophet and those who believe to ask Allah's forgiveness for the idolaters. And the following was revealed: Verily, you (O Muhammad) guide not whom you like
مسیب بن حزن رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، اور ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ دونوں ان کے پاس ( پہلے سے موجود ) تھے، تو آپ نے فرمایا: ”چچا جان! آپ «لا إله إلا اللہ» کا کلمہ کہہ دیجئیے، میں اس کے ذریعہ آپ کے لیے اللہ عزوجل کے پاس جھگڑوں گا“، تو ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ دونوں نے ان سے کہا: ابوطالب! کیا آپ عبدالمطلب کے دین سے منہ موڑ لو گے؟ پھر وہ دونوں ان سے باتیں کرتے رہے یہاں تک کہ آخری بات جو عبدالمطلب نے ان سے کی وہ یہ تھی کہ ( میں ) عبدالمطلب کے دین پر ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ”میں آپ کے لیے مغفرت طلب کرتا رہوں گا جب تک مجھے روک نہ دیا جائے“، تو یہ آیت اتری ۱؎: «ما كان للنبي والذين آمنوا أن يستغفروا للمشركين» ”نبی اور اہل ایمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ مشرکین کے لیے مغفرت طلب کریں“ ( التوبہ: ۱۱۳ ) نیز یہ آیت اتری: «إنك لا تهدي من أحببت» ”آپ جسے چاہیں ہدایت کے راستہ پر نہیں لا سکتے“ ( القص: ۵۶ ) ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - وَهُوَ ابْنُ ثَوْرٍ - عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ دَخَلَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدَهُ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ فَقَالَ : " أَىْ عَمِّ قُلْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ كَلِمَةً أُحَاجُّ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " . فَقَالَ لَهُ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ : يَا أَبَا طَالِبٍ أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ . فَلَمْ يَزَالاَ يُكَلِّمَانِهِ حَتَّى كَانَ آخِرُ شَىْءٍ كَلَّمَهُمْ بِهِ عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم : " لأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْكَ " . فَنَزَلَتْ { مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ } وَنَزَلَتْ { إِنَّكَ لاَ تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ } .
#2036
Hasan
It was narrated that 'Ali said:"I heard a man praying for forgiveness for his parents who were idolaters, and I said: 'Are you praying for forgiveness for them even though they are idolators?" He said: 'Didn't Ibrahim pray for forgiveness for his father?' I went to the Prophet and told him about that, then the following revealed: And Ibrahim's (Abraham) invoking (of Allah) for his father's forgiveness was only because of a promise he (Ibrahim) had made to him (his father)." (Daif)
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں میں نے ایک شخص کو اپنے ماں باپ کے لیے مغفرت طلب کرتے ہوئے سنا حالانکہ وہ دونوں مشرک تھے، تو میں نے کہا: کیا تو ان دونوں کے لیے مغفرت طلب کرتا ہے؟ حالانکہ وہ دونوں مشرک تھے، تو اس نے کہا: کیا ابراہیم ( علیہ السلام ) نے اپنے باپ کے لیے مغفرت طلب نہیں کی تھی؟ تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے اس بات کا تذکرہ کیا، تو ( یہ آیت ) اتری: «وما كان استغفار إبراهيم لأبيه إلا عن موعدة وعدها إياه» ”ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے مغفرت طلب کرنا ایک وعدہ کی وجہ سے تھا“ ( التوبہ: ۱۱۴ ) ۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلاً، يَسْتَغْفِرُ لأَبَوَيْهِ وَهُمَا مُشْرِكَانِ فَقُلْتُ : أَتَسْتَغْفِرُ لَهُمَا وَهُمَا مُشْرِكَانِ فَقَالَ أَوَلَمْ يَسْتَغْفِرْ إِبْرَاهِيمُ لأَبِيهِ . فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَنَزَلَتْ { وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لأَبِيهِ إِلاَّ عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ } .
#2037
Sahih
Muhammad bin Qais bin Makhramah said:"Aishah said: 'Shall I not tell you about me and about the Prophet?' We said: 'Yes.' She said: 'When it was my night when he was with me' - meaning the Prophet -'He came back (from 'Isha' prayer), put his sandals by his feet and spread the edge of his Izar on his bed. He stayed until he thought that I had gone to sleep. Then he put his sandals on slowly, picked up his cloak slowly, then opened the door slowly and went out slowly. I covered my head, put on my vie and tightened my waist wrapper, then I followed his steps until he came to Al-Baqi'. He raised his hands three times, and stood there for a long time, then he left and I left. He hastened and I also hastened; he ran and I also ran. He came (to the house) and I also came, but I got there first and entered, and as I lay down he came in. He said: "Tell me, or the Subtle, the All-Aware will tell me.' I said: 'O Messenger of Allah, may my father and mother be ransomed for you,' and I told him (the whole story). He said: 'So you were the black shape that I saw in front of me?' I said, 'Yes.' He gave me a nudge on the chest which I felt, then he said: 'Did you think that Allah and His Messenger would deal unjustly with you?' I said: 'Whatever the people conceal, Allah knows it.' He said: Jibril came to me when I saw you, but he did not enter upon me because you where not fully dressed. He called me but he concealed that from you, and I answered him, but I concealed that from you too. I thought that you had gone to sleep and I did not want to wake you up, and I was afraid that you would be frightened. He told me to go to Al-Baqi' and pray for forgiveness for them.' I said: 'What should I say, O Messenger of Allah?' He said: 'Say" Peace be upon the inhabitants of this place among the believers and Muslims. May Allah have mercy upon those who have gone on ahead of us and those who come later on, and we will join you, if Allah wills
محمد بن قیس بن مخرمہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو بیان کرتے ہوئے سنا وہ کہہ رہی تھیں: کیا میں تمہیں اپنے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہم نے کہا کیوں نہیں ضرور بتائیے، تو وہ کہنے لگیں، جب وہ رات آئی جس میں وہ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تھے تو آپ ( عشاء ) سے پلٹے، اپنے جوتے اپنے پائتانے رکھے، اور اپنے تہبند کا کنارہ اپنے بستر پر بچھایا، آپ صرف اتنی ہی مقدار ٹھہرے جس میں آپ نے محسوس کیا کہ میں سو گئی ہوں، پھر آہستہ سے آپ نے جوتا پہنا اور آہستہ ہی سے اپنی چادر لی، پھر دھیرے سے دروازہ کھولا، اور دھیرے سے نکلے، میں نے بھی اپنا کرتا، اپنے سر میں ڈالا اور اپنی اوڑھنی اوڑھی، اور اپنی تہبند پہنی، اور آپ کے پیچھے چل پڑی، یہاں تک کہ آپ مقبرہ بقیع آئے، اور اپنے ہاتھوں کو تین بار اٹھایا، اور بڑی دیر تک اٹھائے رکھا، پھر آپ پلٹے تو میں بھی پلٹ پڑی، آپ تیز چلنے لگے تو میں بھی تیز چلنے لگی، پھر آپ دوڑنے لگے تو میں بھی دوڑنے لگی، پھر آپ اور تیز دوڑے تو میں بھی اور تیز دوڑی، اور میں آپ سے پہلے آ گئی، اور گھر میں داخل ہو گئی، اور ابھی لیٹی ہی تھی کہ آپ بھی اندر داخل ہو گئے، آپ نے پوچھا: ”عائشہ! تجھے کیا ہو گیا، یہ سانس اور پیٹ کیوں پھول رہے ہیں؟“ میں نے کہا: کچھ تو نہیں ہے، آپ نے فرمایا: ”تو مجھے بتا دے ورنہ وہ ذات جو باریک بین اور ہر چیز کی خبر رکھنے والی ہے مجھے ضرور بتا دے گی“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، پھر میں نے اصل بات بتا دی تو آپ نے فرمایا: ”وہ سایہ جو میں اپنے آگے دیکھ رہا تھا تو ہی تھی“، میں نے عرض کیا: جی ہاں، میں ہی تھی، آپ نے میرے سینہ پر ایک مکا مارا جس سے مجھے تکلیف ہوئی، پھر آپ نے فرمایا: ”کیا تو یہ سمجھتی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تجھ پر ظلم کریں گے“، میں نے کہا: جو بھی لوگ چھپائیں اللہ تعالیٰ تو اس سے واقف ہی ہے، ( وہ آپ کو بتا دے گا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرائیل میرے پاس آئے جس وقت تو نے دیکھا، مگر وہ میرے پاس اندر نہیں آئے کیونکہ تو اپنے کپڑے اتار چکی تھی، انہوں نے مجھے آواز دی اور انہوں نے تجھ سے چھپایا، میں نے انہیں جواب دیا، اور میں نے بھی اسے تجھ سے چھپایا، پھر میں نے سمجھا کہ تو سو گئی ہے، اور مجھے اچھا نہ لگا کہ میں تجھے جگاؤں، اور میں ڈرا کہ تو اکیلی پریشان نہ ہو، خیر انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں مقبرہ بقیع آؤں، اور وہاں کے لوگوں کے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کروں“، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میں کیا کہوں ( جب بقیع میں جاؤں ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو «السلام على أهل الديار من المؤمنين والمسلمين يرحم اللہ المستقدمين منا والمستأخرين وإنا إن شاء اللہ بكم لاحقون» ”سلامتی ہو ان گھروں کے مومنوں اور مسلمانوں پر، اللہ تعالیٰ ہم میں سے اگلے اور پچھلے ( دونوں ) پر رحم فرمائے، اور اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو ہم تم سے ملنے ( ہی ) والے ہیں“۔
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تُحَدِّثُ قَالَتْ : أَلاَ أُحَدِّثُكُمْ عَنِّي وَعَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قُلْنَا : بَلَى . قَالَتْ : لَمَّا كَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي هُوَ عِنْدِي تَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم انْقَلَبَ فَوَضَعَ نَعْلَيْهِ عِنْدَ رِجْلَيْهِ، وَبَسَطَ طَرَفَ إِزَارِهِ عَلَى فِرَاشِهِ، فَلَمْ يَلْبَثْ إِلاَّ رَيْثَمَا ظَنَّ أَنِّي قَدْ رَقَدْتُ، ثُمَّ انْتَعَلَ رُوَيْدًا وَأَخَذَ رِدَاءَهُ رُوَيْدًا، ثُمَّ فَتَحَ الْبَابَ رُوَيْدًا وَخَرَجَ رُوَيْدًا وَجَعَلْتُ دِرْعِي فِي رَأْسِي وَاخْتَمَرْتُ وَتَقَنَّعْتُ إِزَارِي، وَانْطَلَقْتُ فِي إِثْرِهِ حَتَّى جَاءَ الْبَقِيعَ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَأَطَالَ، ثُمَّ انْحَرَفَ فَانْحَرَفْتُ، فَأَسْرَعَ فَأَسْرَعْتُ، فَهَرْوَلَ فَهَرْوَلْتُ، فَأَحْضَرَ فَأَحْضَرْتُ وَسَبَقْتُهُ فَدَخَلْتُ، فَلَيْسَ إِلاَّ أَنِ اضْطَجَعْتُ فَدَخَلَ فَقَالَ : " مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ حَشْيَا رَابِيَةً " . قَالَتْ : لاَ . قَالَ : " لَتُخْبِرِنِّي أَوْ لَيُخْبِرَنِّي اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ . قَالَ : " فَأَنْتِ السَّوَادُ الَّذِي رَأَيْتُ أَمَامِي " . قَالَتْ : نَعَمْ، فَلَهَزَنِي فِي صَدْرِي لَهْزَةً أَوْجَعَتْنِي، ثُمَّ قَالَ : " أَظَنَنْتِ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ " . قُلْتُ : مَهْمَا يَكْتُمُ النَّاسُ فَقَدْ عَلِمَهُ اللَّهُ . قَالَ : " فَإِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي حِينَ رَأَيْتِ وَلَمْ يَدْخُلْ عَلَىَّ وَقَدْ وَضَعْتِ ثِيَابَكِ فَنَادَانِي، فَأَخْفَى مِنْكِ فَأَجَبْتُهُ فَأَخْفَيْتُهُ مِنْكِ، فَظَنَنْتُ أَنْ قَدْ رَقَدْتِ وَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَكِ، وَخَشِيتُ أَنْ تَسْتَوْحِشِي، فَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الْبَقِيعَ فَأَسْتَغْفِرَ لَهُمْ " . قُلْتُ : كَيْفَ أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : " قُولِي السَّلاَمُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لاَحِقُونَ " .
#2038
Daif Isnaad
It was narrated that 'Alqamah bin Abi 'Alqamah, from his mother, that she heard 'Aishah say:"The Messenger of Allah got up one night and got dressed, then he went out. I told my slave girl Barirah to follow him, so she followed him until he came to Al-Baqi. Then he stood near if for as long as Allah willed that he should stand, then he left. Barirah came back before he did and told me, but I did not mention anything until morning came, then I mentioned that to him. He said: 'I was sent to the people of Al-Baqi' to pray for them
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اپنا کپڑا پہنا پھر ( باہر ) نکل گئے، تو میں نے اپنی لونڈی بریرہ کو حکم دیا کہ وہ پیچھے پیچھے جائے، چنانچہ وہ آپ کے پیچھے پیچھے گئی یہاں تک کہ آپ مقبرہ بقیع پہنچے، تو اس کے قریب کھڑے رہے جتنی دیر اللہ تعالیٰ نے کھڑا رکھنا چاہا، پھر آپ پلٹے تو بریرہ آپ سے پہلے پلٹ کر آ گئی، اور اس نے مجھے بتایا، لیکن میں نے آپ سے اس کا کوئی ذکر نہیں کیا یہاں تک کہ صبح کیا، تو میں نے آپ کو ساری باتیں بتائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اہل بقیع کی طرف بھیجا گیا تھا تاکہ میں ان کے حق میں دعا کروں“۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ، تَقُولُ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ فَلَبِسَ ثِيَابَهُ ثُمَّ خَرَجَ - قَالَتْ - فَأَمَرْتُ جَارِيَتِي بَرِيرَةَ تَتْبَعُهُ فَتَبِعَتْهُ حَتَّى جَاءَ الْبَقِيعَ، فَوَقَفَ فِي أَدْنَاهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقِفَ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَسَبَقَتْهُ بَرِيرَةُ فَأَخْبَرَتْنِي، فَلَمْ أَذْكُرْ لَهُ شَيْئًا حَتَّى أَصْبَحْتُ، ثُمَّ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ : " إِنِّي بُعِثْتُ إِلَى أَهْلِ الْبَقِيعِ لأُصَلِّيَ عَلَيْهِمْ " .
#2039
Sahih
It was narrated that 'Aishah said that:every time it was her night for the Messenger of Allah to stay with her, he would go out at the end of the night to Al-Baqi' and say: "As-salamu 'alaykum dara qawmin mu'minin, wa inna wa iyyakum mutawa'idun ghadan wa mutawakilun, wa inna in sha' Allahu bikum lahiqun. Allahummaghfir li ahli baqi'il gharaqad. (Peace be upon you, O abode of believing people. You and we used to remind one another about the Day of Resurrection and we are relying on one another (with regard to intercession and bearing witness). Soon we will join you, if Allah willing. O Allah, forgive the people of Baqi' Al-Charqad
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں جب جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باری ان کے یہاں ہوتی تو رات کے آخری ( حصے ) میں مقبرہ بقیع کی طرف نکل جاتے، ( اور ) کہتے: «السلام عليكم دار قوم مؤمنين وإنا وإياكم متواعدون غدا أو مواكلون وإنا إن شاء اللہ بكم لاحقون اللہم اغفر لأهل بقيع الغرقد» ”اے مومن گھر ( قبرستان ) والو! تم پر سلامتی ہو، ہم اور تم آپس میں ایک دوسرے سے کل کی حاضری کا وعدہ کرنے والے ہیں، اور آپس میں ایک دوسرے پر بھروسہ کرنے والے ہیں، اور اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو ہم تم سے ملنے والے ہیں، اے اللہ! بقیع غرقد والوں کی مغفرت فرما“۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي نَمِرٍ - عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كُلَّمَا كَانَتْ لَيْلَتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْرُجُ فِي آخِرِ اللَّيْلِ إِلَى الْبَقِيعِ فَيَقُولُ : " السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا وَإِيَّاكُمْ مُتَوَاعِدُونَ غَدًا أَوْ مُوَاكِلُونَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لاَحِقُونَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لأَهْلِ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ " .
#2040
Sahih
It was narrated from Sulaiman bin Buraidah, from his father, that:when the Messenger of Allah came to the graveyard he would say: "As-salamu 'alaykum ahli ad-diyari min al-mu'minin wal-muslimin wa inna I sha' Allahu bikum lana faratun wa nahnu lakum taba'un, as'alullahal-'afiyata lana wa lakum. (Peace by upon the inhabitants of this place among the believers and Muslims. Soon we will join you, if Allah willing. You have gone on ahead of us and we will follow you. I ask Allah to keep us and you safe and sound)
بریدہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قبرستان آتے تو فرماتے: «السلام عليكم أهل الديار من المؤمنين والمسلمين وإنا إن شاء اللہ بكم لاحقون أنتم لنا فرط ونحن لكم تبع أسأل اللہ العافية لنا ولكم» ”اے مومن اور مسلمان گھر والو! تم پر سلامتی ہو، اور اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو ہم ( عنقریب ) تم سے ملنے والے ہیں، تم ہمارے پیش رو ہو، اور ہم تمہارے بعد آنے والے ہیں۔ میں اللہ سے اپنے اور تمہارے لیے عافیت کی درخواست کرتا ہوں“۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا أَتَى عَلَى الْمَقَابِرِ فَقَالَ : " السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لاَحِقُونَ، أَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ وَنَحْنُ لَكُمْ تَبَعٌ، أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَافِيَةَ لَنَا وَلَكُمْ " .
#2041
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:"When An-Najashi died, the Prophet said: 'Pray for forgiveness for him
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب نجاشی ( شاہ حبشہ ) کا انتقال ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ ان کی بخشش کی دعا کرو“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : لَمَّا مَاتَ النَّجَاشِيُّ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم : " اسْتَغْفِرُوا لَهُ " .
#2042
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah:Said that the Messenger of Allah announced the death of An-Najashi, the ruler of Ethiopia, to them on the day that he died, and said "Pray for forgiveness for your brother
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں شاہ حبشہ نجاشی کی موت کی خبر اسی دن دی جس دن وہ مرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے بھائی کے لیے مغفرت طلب کرو“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، وَابْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُمَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَعَى لَهُمُ النَّجَاشِيَّ صَاحِبَ الْحَبَشَةِ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَقَالَ : " اسْتَغْفِرُوا لأَخِيكُمْ " .
#2043
Daif
It was narrated that Ibn Abbas said:"The Messenger of Allah cursed women who visit graves, and those who take them as Masjid and put lamps on them
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے والیوں پر، اور انہیں سجدہ گاہ بنانے اور ان پر چراغاں کرنے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَائِرَاتِ الْقُبُورِ وَالْمُتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ .
#2044
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'If any one of you were to sit on a live coal until it burns his garment, that would be better for him than sitting on a grave
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کا انگارے پر بیٹھنا یہاں تک کہ اس کے کپڑے جل جائیں اس کے لیے بہتر ہے اس بات سے کہ وہ کسی قبر پر بیٹھے“
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لأَنْ يَجْلِسَ أَحَدُكُمْ عَلَى جَمْرَةٍ حَتَّى تَحْرِقَ ثِيَابَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَجْلِسَ عَلَى قَبْرٍ " .
#2045
Sahih Lighairihi
It was narrated from 'Amr bin Hazm that the Messenger of Allah said:"do not sit on graves
عمرو بن حزم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ قبروں پر نہ بیٹھو“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّلَمِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَقْعُدُوا عَلَى الْقُبُورِ " .
#2046
Sahih
It was narrated from Aishah that the Prophet said:"May Allah curse people who take the graves of their prophets as Masjids
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر لعنت فرمائی ہے جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنا لیا“۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَعَنَ اللَّهُ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ " .
#2047
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"May Allah curse the Jews and Christians who took the graves of their prophets as Masjids." (Sahih) Chpater 107. It Is Disliked to Walk Between Grave Wearing Sibtiyah Sandals
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ پر لعنت فرمائی ہے ( کیونکہ ) ان لوگوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنا لیا“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو يَحْيَى، صَاعِقَةُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ " .
#2048
Hasan
It was narrated that Bashir bin Al-Khasasiyyah said:"I was waliking with the Messenger of Allah and he passed by the graves of the Muslims and aid: 'They died before a great deal of evil came to them.' Then he passed by the grave of the idolators and said: 'They died before a great deal of good came to them.' Then he rurned, and he saw a man walking between the graves in his sandals and he said; 'O you with the Sibtiyah sandals, take them off"'. (Shahih)
بشیر بن خصاصیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا کہ آپ مسلمانوں کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”یہ لوگ بڑے شر و فساد سے ( بچ ) کر آگے نکل گئے“، پھر آپ مشرکوں کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”یہ لوگ بڑے خیر سے ( محروم ) ہو کر آگے نکل گئے“، پھر آپ متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ ایک شخص اپنی دونوں جوتیوں میں قبروں کے درمیان چل رہا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے سبتی جوتوں والو! انہیں اتار دو“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ شَيْبَانَ، - وَكَانَ ثِقَةً - عَنْ خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، أَنَّ بَشِيرَ ابْنَ الْخَصَاصِيَّةِ، قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَرَّ عَلَى قُبُورِ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ " لَقَدْ سَبَقَ هَؤُلاَءِ شَرًّا كَثِيرًا " . ثُمَّ مَرَّ عَلَى قُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ " لَقَدْ سَبَقَ هَؤُلاَءِ خَيْرًا كَثِيرًا " . فَحَانَتْ مِنْهُ الْتِفَاتَةٌ فَرَأَى رَجُلاً يَمْشِي بَيْنَ الْقُبُورِ فِي نَعْلَيْهِ فَقَالَ " يَا صَاحِبَ السِّبْتِيَّتَيْنِ أَلْقِهِمَا " .
#2049
Sahih
It was narrated from Anas that the Prophet said:"when a person is placed in his grave and his companions depart from him, he hears the sound of their sandals
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جب اپنی قبر میں رکھا جاتا ہے، اور اس کے ساتھی لوٹتے ہیں، تو وہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدِ اللَّهِ الْوَرَّاقُ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ " .
#2050
Sahih
Anas bin Malik said:"The Prophet of Allah said: 'When a person is placed in his grave and his companions depart from him, he hears the sound of their sandals. Then two angles came to him and make him sit up, and they say to him: What did you say about this man? As for the believer, he says: "I bear witness that he is the slave of Allah and His Messenger. Then it is said to him: Look at your place in Hell, Which Allah has replaced for you with a place in Paradise. The prophet said: 'And he sees them both
انس بن مالک رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جب اپنی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی لوٹتے ہیں تو وہ ان کے جوتیوں کی آواز سنتا ہے، ( پھر ) اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اور اسے بٹھاتے ہیں، ( اور ) اس سے پوچھتے ہیں: تم اس شخص ( محمد ) کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ رہا مومن تو وہ کہتا ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، تو اس سے کہا جائے گا کہ تم جہنم میں اپنے ٹھکانے کو دیکھ لو، اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے تمہیں جنت میں ٹھکانا دیا ہے“، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تو وہ ان دونوں ( جنت و جہنم ) کو ایک ساتھ دیکھے گا“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالاَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنْبَأَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ " . قَالَ " فَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُقْعِدَانِهِ فَيَقُولاَنِ لَهُ مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَقُولُ أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ فَيُقَالُ لَهُ انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ مَقْعَدًا مِنَ الْجَنَّةِ " . قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا " .