#1876
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet said:"There are no two Muslims, three of whose children die before reaching puberty, but Allah will admit them to Paradise by virtue of His mercy toward them. It will be said to them: 'Enter Paradise.' They will say: 'Not until our parents enter.' So it will be said: 'Enter Paradise, you and your parents
ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان ماں باپ کے تین نابالغ بچے مر جائیں، تو اللہ تعالیٰ ان کو ان پر اپنی رحمت کے فضل سے جنت میں داخل کرے گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ان سے کہا جائے گا: جنت میں داخل ہو جاؤ، تو وہ کہیں گے ( ہم نہیں داخل ہو سکتے ) جب تک کہ ہمارے والدین داخل نہ ہو جائیں، ( پھر ) کہا جائے گا: ( جاؤ ) اپنے والدین کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ عُلَيَّةَ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، - وَهُوَ الأَزْرَقُ - عَنْ عَوْفٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ بَيْنَهُمَا ثَلاَثَةُ أَوْلاَدٍ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلاَّ أَدْخَلَهُمَا اللَّهُ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمُ الْجَنَّةَ " . قَالَ " يُقَالُ لَهُمُ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ فَيَقُولُونَ حَتَّى يَدْخُلَ آبَاؤُنَا فَيُقَالُ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ " .
#1877
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:"A woman came to the Messenger of Allah with a son of hers who was ill and said: 'O Messenger of Allah, I fear for him, and I have already lost three.' The Messenger of Allah said: "You have a great protection against the Hellfire
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا بیٹا لے کر آئی جو بیمار تھا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ڈر رہی ہوں کہ یہ مر نہ جائے، اور ( اس سے پہلے ) تین بچوں کو بھیج چکی ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے جہنم کی آگ سے بچاؤ کے لیے زبردست ڈھال بنا لیا ہے ۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، قَالَ حَدَّثَنِي طَلْقُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، قَالَ حَدَّثَنِي جَدِّي، طَلْقُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِابْنٍ لَهَا يَشْتَكِي فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَافُ عَلَيْهِ وَقَدْ قَدَّمْتُ ثَلاَثَةً . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَقَدِ احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِيدٍ مِنَ النَّارِ " .
#1878
Sahih
It was narrated from Anas:that the Messenger of Allah announced the news of the death of Zaid and Ja'far before news of them came. He announced their death and his eyes were overflowing with tears
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید اور جعفر کی موت کی اطلاع ( کسی آدمی کے ذریعہ ) ان کی ( موت ) کی خبر آنے سے پہلے دی، اس وقت آپ کی دونوں آنکھیں اشکبار تھیں۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَعَى زَيْدًا وَجَعْفَرًا قَبْلَ أَنْ يَجِيءَ خَبَرُهُمْ فَنَعَاهُمْ وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ .
#1879
Sahih
Abu Salamah and Ibn Al-Musayyab narrated that Abu Hurairah told them, that:the Messenger of Allah had told them of the death of An-Najashi, the ruler of Ethiopia, on the day that he died, and he said: "Pray for forgiveness for your brother
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حبشہ کے بادشاہ نجاشی کی موت کی خبر اسی دن دی جس دن وہ مرے، اور فرمایا: اپنے بھائی کے لیے مغفرت کی دعا کرو ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، وَابْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَعَى لَهُمُ النَّجَاشِيَّ صَاحِبَ الْحَبَشَةِ الْيَوْمَ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَقَالَ " اسْتَغْفِرُوا لأَخِيكُمْ " .
#1880
Daif
Rabiah bin Saif Al-Mu'afiri narrated from Abu 'Abdur-Rahman Al-Hubuli, from 'Abdullah bin 'Amr, who said:"while we were traveling with the Messenger of Allah, he saw a woman, and did not think that he knew her. When she was halfway to him, he stopped until she reached him, and it was Fatimah, the daughter of the Messenger of Allah. He said to her: 'What brought you out of your house, O Fatimah?' She said: 'I came to the people of this deceased one to pray for mercy for them, and to offer my condolences to them.' He said: 'Perhaps you went with them to Al-Kuda?" She said: 'Allah forbid that I should go there. I heard what you said about that.' He said: If you had gone there with them, you would never have seen Paradise until the grandfather of your father saw it
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے جا رہے تھے کہ اچانک آپ کی نگاہ ایک عورت پہ پڑی، ہم یہی گمان کر رہے تھے کہ آپ نے اسے نہیں پہچانا ہے، تو جب بیچ راستے میں پہنچے تو آپ کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ وہ ( عورت ) آپ کے پاس آ گئی، تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں، آپ نے ان سے پوچھا: فاطمہ! تم اپنے گھر سے کیوں نکلی ہو؟ انہوں نے جواب دیا: میں اس میت کے گھر والوں کے پاس آئی، میں نے ان کے لیے رحمت کی دعا کی، اور ان کی میت کی وجہ سے ان کی تعزیت کی، آپ نے فرمایا: شاید تم ان کے ساتھ کدیٰ ۱؎ تک گئی تھیں؟ انہوں نے کہا: اللہ کی پناہ! میں وہاں تک کیوں جاتی اس سلسلے میں آپ کو ان باتوں کا ذکر کرتے سن چکی ہوں جن کا آپ ذکر کرتے ہیں، تو آپ نے ان سے فرمایا: اگر تم ان کے ساتھ وہاں جاتی تو تم جنت نہ دیکھ پاتی یہاں تک کہ تمہارے باپ کے دادا ( عبدالمطلب ) اسے دیکھ لیں ۲؎۔ نسائی کہتے ہیں: ربیعہ ضعیف ہیں۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، هُوَ ابْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، سَعِيدٌ حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ سَيْفٍ الْمَعَافِرِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ بَصُرَ بِامْرَأَةٍ لاَ تَظُنُّ أَنَّهُ عَرَفَهَا فَلَمَّا تَوَسَّطَ الطَّرِيقَ وَقَفَ حَتَّى انْتَهَتْ إِلَيْهِ فَإِذَا فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهَا " مَا أَخْرَجَكِ مِنْ بَيْتِكِ يَا فَاطِمَةُ " . قَالَتْ أَتَيْتُ أَهْلَ هَذَا الْمَيِّتِ فَتَرَحَّمْتُ إِلَيْهِمْ وَعَزَّيْتُهُمْ بِمَيِّتِهِمْ . قَالَ " لَعَلَّكِ بَلَغْتِ مَعَهُمُ الْكُدَى " . قَالَتْ مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ أَكُونَ بَلَغْتُهَا وَقَدْ سَمِعْتُكَ تَذْكُرُ فِي ذَلِكَ مَا تَذْكُرُ . فَقَالَ لَهَا " لَوْ بَلَغْتِهَا مَعَهُمْ مَا رَأَيْتِ الْجَنَّةَ حَتَّى يَرَاهَا جَدُّ أَبِيكِ " . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَبِيعَةُ ضَعِيفٌ .
#1881
Sahih
It was narrated from Muhammad bin Sirin that Umm 'Atiyyah Al-Ansariyyah said:"The Messenger of Allah entered upon us when his daughter died, and said: 'Wash her three times or five, or more if you think (that is needed), with water and lote leaves, and put some camphor in it the last time, and when you have finished call me.' When we finished we called him and he gave us his waist-wrap, and said: 'Shroud her in it
ام عطیہ انصاریہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ۱؎ کی وفات ہوئی، آپ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اسے پانی اور بیر ( کے پتوں ) سے دو تین یا پانچ یا اس سے زیادہ بار اگر مناسب سمجھو غسل دو، اور آخری بار میں کچھ کافور یا کافور کی کچھ مقدار ملا لو ( اور ) جب تم ( غسل سے ) فارغ ہو تو مجھے خبر کرو ۔ تو جب ہم فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو خبر دی تو آپ نے ہمیں اپنا تہبند دیا اور فرمایا: اسے ان کے بدن پر لپیٹ دو ۲؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ أُمَّ عَطِيَّةَ الأَنْصَارِيَّةَ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ تُوُفِّيَتِ ابْنَتُهُ فَقَالَ " اغْسِلْنَهَا ثَلاَثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي " . فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَعْطَانَا حَقْوَهُ وَقَالَ " أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ " .
#1882
Daif Isnaad
It was narrated from Abu Al-Hasan, the freed slave of Umm Qais bint Mihsan, that Umm Qais said:"My son died, and I felt very sad. I said to the one who was washing him: 'Do not wash my son with cold water and kill him." 'Ukashah bin Mihsan went to the Messenger of Allah and told him what she had said, and he smiled then said: "What did she say, may Allah give her long life?" And we do not know of any woman who lived as long as she lived
ام قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرا بیٹا مر گیا، تو میں اس پر رونے لگی اور اس شخص سے جو اسے غسل دے رہا تھا کہا: میرے بیٹے کو ٹھنڈے پانی سے غسل نہ دو کہ اس ( مرے کو مزید ) مارو، عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، اور آپ کو ان کی یہ بات بتائی تو آپ مسکرا پڑے، پھر فرمایا: کیا کہا اس نے؟ اس کی عمردراز ہو ، ( راوی کہتے ہیں ) تو ہم نہیں جانتے کہ کسی عورت کو اتنی عمر ملی ہو جتنی انہیں ملی ۱؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ، مَوْلَى أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ عَنْ أُمِّ قَيْسٍ، قَالَتْ تُوُفِّيَ ابْنِي فَجَزِعْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ لِلَّذِي يَغْسِلُهُ لاَ تَغْسِلِ ابْنِي بِالْمَاءِ الْبَارِدِ فَتَقْتُلَهُ . فَانْطَلَقَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ بِقَوْلِهَا فَتَبَسَّمَ ثُمَّ قَالَ " مَا قَالَتْ طَالَ عُمْرُهَا " . فَلاَ نَعْلَمُ امْرَأَةً عُمِرَتْ مَا عُمِرَتْ .
#1883
Sahih
It was narrated from Ayyub:"I heard Hafsah saying: 'Umm 'Atiyyah said: They tied the hair of the daughter of the Prophet in three braids."' 'I said: Did they undo it, then make three braids? She said: 'Yes
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ان عورتوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کے سر کی تین چوٹیاں بنائیں، میں نے پوچھا: اسے کھول کر انہوں نے تین چوٹیاں کر دیں، تو انہوں نے کہا: جی ہاں۔
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَيُّوبُ سَمِعْتُ حَفْصَةَ، تَقُولُ حَدَّثَتْنَا أُمُّ عَطِيَّةَ، أَنَّهُنَّ جَعَلْنَ رَأْسَ ابْنَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثَةَ قُرُونٍ . قُلْتُ نَقَضْنَهُ وَجَعَلْنَهُ ثَلاَثَةَ قُرُونٍ قَالَتْ نَعَمْ .
#1884
Sahih
It was narrated from Umm 'Atiyyah that:the Messenger of Allah said concerning the washing of his daughter: "Start on the right and the parts that were washed in wudu
ام عطیہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی کے غسل کے سلسلہ میں فرمایا: ان کے داہنے اعضاء، اور وضو کے مقامات سے نہلانا شروع کرو ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فِي غُسْلِ ابْنَتِهِ " ابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهَا " .
#1885
Sahih
It was narrated that Umm 'Atiyyah said:"One of the daughters of the Prophet died, and he sent word to us saying: 'Wash her with water and lotus leaves, and wash her an odd number of times, three, or five, or seven if you think (that is needed), and put some camphor in it the last time. And when you have finished, inform me.' When we finished, we finished, we informed him, and he threw his informed him, and he threw his waist-wrap to us and said: 'Shroud her in it.' And we combed her hair and put it in three braids, and put it behind her
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی انتقال کر گئیں، تو آپ نے ہمیں بلا بھیجا اور فرمایا: اسے پانی اور بیر کے پتوں سے غسل دینا، اور طاق بار یعنی تین بار، یا پانچ بار غسل دینا، اگر ضرورت سمجھو تو سات بار دینا، اور آخری بار تھوڑا کافور ملا لینا ( اور ) جب تم فارغ ہو چکو تو مجھے خبر کرنا ، تو جب ہم ( نہلا کر ) فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو خبر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تہبند ہماری طرف پھینکا، اور فرمایا: اسے ( ان کے جسم پہ ) لپیٹ دو ، ( پھر ) ہم نے ان کی تین چوٹیاں کیں، اور انہیں ان کے پیچھے ڈال دیا۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ حَدَّثَتْنَا حَفْصَةُ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ مَاتَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا فَقَالَ " اغْسِلْنَهَا بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاغْسِلْنَهَا وَتْرًا ثَلاَثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ وَاجْعَلْنَ فِي الآخِرَةِ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي " . فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَلْقَى إِلَيْنَا حَقْوَهُ وَقَالَ " أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ " . وَمَشَطْنَاهَا ثَلاَثَةَ قُرُونٍ وَأَلْقَيْنَاهَا مِنْ خَلْفِهَا .
#1886
Sahih
It was narrated that Umm 'Atiyyah said:"The Messenger of Allah entered upon us when we were washing his daughter and said: 'Wash her three times or five, or more if you think (that is necessary), with water and lotus leaves, and put camphor, or some camphor in it the last time. And when you have finished, inform me.' When we finished, we informed him, and he threw his waist-wrap to us and said: 'Shroud her in it
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم آپ کی بیٹی کو نہلا رہے تھے، آپ نے فرمایا: انہیں پانی اور بیر ( کے پتوں ) سے تین یا پانچ بار غسل دو، یا اگر مناسب سمجھو اس سے بھی زیادہ، اور آخری بار کافور یا کافور کی کچھ ( مقدار ) ملا لینا، اور جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے خبر کرو ۔ چنانچہ جب ہم فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو خبر کی تو آپ نے اپنا تہبند ہماری طرف پھینکا، اور فرمایا: اسے ان کے جسم سے لپیٹ دو ۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، عَنْ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ فَقَالَ " اغْسِلْنَهَا ثَلاَثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي " . فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَلْقَى إِلَيْنَا حَقْوَهُ وَقَالَ " أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ " .
#1887
Sahih
It was narrated that Umm 'Atiyyah said:"The Messenger of Allah entered upon us while we were washing his daughter and said: 'Wash her three times, or five or more if you think (that is necessary), with water and lotus leaves, and put camphor, or some camphor in it the last time. And when you have finished, inform me.' When we finished, we informed him, and he threw his waist-wrap to us, and said: Shroud her in it
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی کی وفات ہو گئی، تو آپ نے ہمیں بلوایا ( اور ) فرمایا: اسے پانی اور بیر ( کے پتوں ) سے تین یا پانچ بار غسل دو، یا اس سے زیادہ اگر مناسب سمجھو، اور آخری بار کچھ کافور یا کافور کی کچھ ( مقدار ) ملا لینا، اور جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے خبر کرو ۔ تو جب ہم فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو خبر کی، آپ نے ہماری طرف اپنا تہبند پھینکا اور فرمایا: اسے ( اس کے جسم سے ) لپیٹ دو ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا فَقَالَ " اغْسِلْنَهَا ثَلاَثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي " . فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَلْقَى إِلَيْنَا حَقْوَهُ وَقَالَ " أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ " .
#1888
Sahih
Something similar was narrated from Umm 'Atiyyah except, that he (the narrator) said:"Three times or five, or seven, or more than that, if you think that (is necessary)
اس سند سے بھی ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے اسی جیسی حدیث مروی ہے، مگر ( اس میں یہ الفاظ ہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں تین بار یا پانچ بار یا سات بار غسل دو، یا اس سے زیادہ اگر اس کی ضرورت سمجھو ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " ثَلاَثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ " .
#1889
Sahih
It was narrated that Umm 'Atiyyah said:"A daughter of the Messenger of Allah died and he told us to wash her. He said: 'Three times, or five or seven, or more than that, if you think that (is necessary).' I said: 'An odd number?' He said: 'Yes, and put camphor, or some camphor, in (the water) the last time. And when you have finished, inform me.' So when you have finished, we informed him, and then gave us his waist-wrap and said: 'Shroud her in it
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی کی وفات ہو گئی، تو آپ نے مجھے انہیں نہلانے کا حکم دیا اور فرمایا: تین بار، یا پانچ بار، یا سات بار غسل دو، یا اس سے زیادہ اگر ضرورت سمجھو ، تو میں نے کہا: طاق بار؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اور آخری مرتبہ کچھ کافور یا کافور کی کچھ مقدار ملا لو، ( اور ) جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے باخبر کرنا ، چنانچہ جب ہم فارغ ہوئے، ہم نے آپ کو خبر کی تو آپ نے ہمیں اپنا تہبند دیا، اور فرمایا: اسے ( اس کے جسم سے ) لپیٹ دو ۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرٌ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ بَعْضِ، إِخْوَتِهِ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ تُوُفِّيَتِ ابْنَةٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَنَا بِغَسْلِهَا فَقَالَ " اغْسِلْنَهَا ثَلاَثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ " . قَالَتْ قُلْتُ وِتْرًا قَالَ " نَعَمْ وَاجْعَلْنَ فِي الآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي " . فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَعْطَانَا حَقْوَهُ وَقَالَ " أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ " .
#1890
Sahih
It was narrated from Ayyub, from Muhammad, that Umm 'Atiyyah said:"The Messenger of Allah came to us when we were washing his daughter. He said: 'Wash her three times, or five, or more than that if you think that (is necessary), with water and lotus leaves, and put camphor, or some camphor in (the water) the last time. And when you have finished, inform me.' When we finished, we informed him and he threw his waist-wrap to us and said: 'Shroud her in it."' He said: "Hafsah said: 'We washed her three, or five, or seven times.' Umm 'Atiyyah said: 'We combed her hair into three braids
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم آپ کی بیٹی کو غسل دے رہے تھے، آپ نے فرمایا: انہیں پانی اور بیر ( کے پتوں ) سے تین بار، یا پانچ بار، غسل دو ، یا اس سے زیادہ، اور آخری بار کچھ کافور یا کافور کی مقدار ملا لو ( اور ) جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے آگاہ کرو ، تو جب ہم فارغ ہوئے تو آپ کو خبر کی، آپ نے ہماری طرف اپنا تہبند پھینکا اور فرمایا: اسے ( اس کے جسم سے ) لپیٹ دو ، راوی کہتے ہیں یا حفصہ بنت سیرین کہتی ہیں: اسے تین، پانچ، یا سات بار غسل دو، راوی کہتے ہیں: ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہم نے ان کی تین چوٹیاں کیں۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ فَقَالَ " اغْسِلْنَهَا ثَلاَثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي " . فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَلْقَى إِلَيْنَا حَقْوَهُ وَقَالَ " أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ " . قَالَ أَوْ قَالَتْ حَفْصَةُ اغْسِلْنَهَا ثَلاَثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا . قَالَ وَقَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ مَشَطْنَاهَا ثَلاَثَةَ قُرُونٍ .
#1891
Sahih
Ayyub narrated from Muhammad, who said:"Hafsah informed me that Umm 'Atiyyah said: 'We put her hair in three braids
اس سند سے بھی ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے ان کے سر کی تین چوٹیاں کیں۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ وَجَعَلْنَا رَأْسَهَا ثَلاَثَةَ قُرُونٍ .
#1892
Sahih
Hammad reported from Ayyub:"And Hafsah said, from Umm 'Atiyyah: 'We put her hair in three braids
اس سند سے بھی ام عطیہ رضی الله عنہا سے مروی ہے کہ ہم نے ان کے سر کی تین چوٹیاں کیں۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَقَالَتْ، حَفْصَةُ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، وَجَعَلْنَا، رَأْسَهَا ثَلاَثَةَ قُرُونٍ .
#1893
Sahih
Muhammad bin Sirin said:"Umm 'Atiyyah was a woman from among the Ansar who told us: 'The Prophet entered upon us while we were washing his daughter and said: "Wash her three times, or five, or more than that if you think that (is necessary), with water and lotus leaves, and put camphor, or some camphor in it the last time. And when you have finished, inform me." So when we finished we informed him, and he threw his waist-wrap to us and said: "Shroud her in it." And he did not add to that. He (the narrator) said: "I do not know which of his daughters that was." I said: "What did he mean by: 'Shroud her in it?' Did he mean to put it on like an Izar?" He said: "No, I think he meant to wrap her completely
محمد بن سیرین کہتے ہیں ام عطیہ رضی اللہ عنہا ایک انصاری عورت تھیں، وہ ( بصرہ ) آئیں، اپنے بیٹے سے جلد ملنا چاہ رہی تھیں لیکن وہ اسے نہیں پا سکیں، انہوں نے ہم سے حدیث بیان کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم آپ کی بیٹی کو غسل دے رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں پانی اور بیر ( کی پتیوں ) سے تین بار، یا پانچ بار غسل دو، یا اس سے زیادہ بار اگر ضرورت سمجھو، اور آخر میں کافور یا کافور کی کچھ مقدار ملا لینا ( اور ) جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے بتاؤ ، تو جب ہم فارغ ہوئے تو آپ نے ہماری طرف اپنا تہبند پھینکا اور فرمایا: اسے ان کے بدن پر لپیٹ دو ، اور اس سے زیادہ نہیں فرمایا۔ ( ایوب نے ) کہا: میں نہیں جانتا کہ یہ آپ کی کون سی بیٹی تھی ں، راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا اشعار سے کیا مراد ہے؟ کیا ازار ( تہبند ) پہنانا مقصود ہے؟ ایوب نے کہا: میں یہی سمجھتا ہوں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اسے ان کے جسم پر لپیٹ دو۔
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ بْنُ أَبِي تَمِيمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ، يَقُولُ كَانَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ قَدِمَتْ تُبَادِرُ ابْنًا لَهَا فَلَمْ تُدْرِكْهُ حَدَّثَتْنَا قَالَتْ دَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَيْنَا وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ فَقَالَ " اغْسِلْنَهَا ثَلاَثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي " . فَلَمَّا فَرَغْنَا أَلْقَى إِلَيْنَا حَقْوَهُ وَقَالَ " أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ " . وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ . قَالَ لاَ أَدْرِي أَىُّ بَنَاتِهِ . قَالَ قُلْتُ مَا قَوْلُهُ " أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ " . أَتُؤَزَّرُ بِهِ قَالَ لاَ أُرَاهُ إِلاَّ أَنْ يَقُولَ الْفُفْنَهَا فِيهِ .
#1894
Sahih
It was narrated that Umm 'Atiyyah said:"One of the daughters of the Prophet died and he said: 'Wash her three times, or five, or more than that if you think that (is necessary). Wash her with water and lotus leaves and put camphor, or some camphor in it the last time. And when you have finished inform me.' We informed him, and he threw his waist-wrapper to us and said: 'Shroud her in it
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیوں میں سے ایک بیٹی کی موت ہو گئی تو آپ نے فرمایا: انہیں تین یا پانچ بار غسل دو، یا اس سے زیادہ اگر ضرورت سمجھو، اور انہیں بیر ( کے پتوں ) اور پانی سے غسل دو، اور کچھ کافور ملا لو، اور جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے خبر کرو ، وہ کہتی ہیں: میں نے آپ کو خبر کیا، تو آپ نے ہماری طرف اپنی لنگی پھینکی اور فرمایا: اسے ( ان کے جسم سے ) لپیٹ دو ۔
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ النَّسَائِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ تُوُفِّيَ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " اغْسِلْنَهَا ثَلاَثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ وَاغْسِلْنَهَا بِالسِّدْرِ وَالْمَاءِ وَاجْعَلْنَ فِي آخِرِ ذَلِكِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي " . قَالَتْ فَآذَنَّاهُ فَأَلْقَى إِلَيْنَا حَقْوَهُ فَقَالَ " أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ " .
#1895
Sahih
It was narrated that Ibn Juraij said:"Abu Az-Zubair told me that he heard Jabir say; 'The Messenger of Allah delivered a speech and mentioned a man among his Companions who had died. He had been buried at night and wrapped in a shroud that was not sufficient. The Messenger of Allah rebuked (them) and said that no one should be buried at night unless constrained to do that. And the Messenger of Allah said: When one of you wants to takes care of his brother, let him shroud him well
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا تو آپ نے اپنے صحابہ میں سے ایک شخص کا ذکر کیا جو مر گیا تھا، اور اسے رات ہی میں دفنا دیا گیا تھا، اور ایک گھٹیا کفن میں اس کی تکفین کی گئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے منع فرما دیا کہ کوئی آدمی رات میں دفنایا جائے سوائے اس کے کہ کوئی مجبوری ہو، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی ( کے کفن دفن کا ) ولی ہو تو اسے چاہیئے کہ اسے اچھا کفن دے ۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ الرَّقِّيُّ الْقَطَّانُ، وَيُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ أَنْبَأَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِهِ مَاتَ فَقُبِرَ لَيْلاً وَكُفِّنَ فِي كَفَنٍ غَيْرِ طَائِلٍ فَزَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُقْبَرَ إِنْسَانٌ لَيْلاً إِلاَّ أَنْ يُضْطَرَّ إِلَى ذَلِكَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا وَلِيَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُحَسِّنْ كَفَنَهُ " .
#1896
Sahih
It was narrated that Ibn Juraij sad:"Abu Az-Zubair told me that he heard Jabir say: "The Messenger of Allah delivered a speech and mentioned a man among his Companions who had died. He had been buried at night and wrapped in a shroud that was not sufficient. The Messenger of Allah reduced (them) and said that no one should be buried at night unless constrained to do that. And the Messenger of Allah said: When one of you wants to takes care of his brother, let him shroud him well
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کپڑوں میں سے سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ وہ پاکیزہ اور عمدہ ہوتا ہے، نیز اپنے مردوں کو ( بھی ) اسی میں کفنایا کرو ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ أَبِي عَرُوبَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضَ فَإِنَّهَا أَطْهَرُ وَأَطْيَبُ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ " .
#1897
Sahih
It was narrated from Samurah that the Prophet said:"Wear white clothes for they are purer and better, and shroud your dead in them
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سفید یمنی کپڑوں میں کفنایا گیا۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُفِّنَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي ثَلاَثَةِ أَثْوَابٍ سُحُولِيَّةٍ بِيضٍ .
#1898
Sahih
It was narrated that Aishah said:"The Prophet was shrouded in three white Suhuli garments
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین سفید یمنی کپڑوں میں کفنائے گئے جن میں نہ تو قمیص تھی اور نہ عمامہ ( پگڑی ) ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كُفِّنَ فِي ثَلاَثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سُحُولِيَّةٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلاَ عِمَامَةٌ .
#1899
Sahih
Hisham narrated from his father, from 'Aishah that:the Messenger of Allah was shrouded in three white Yemeni garments of cotton, among which was no shirt and no turban. It was mentioned to 'Aishah that they said: "He was buried in two garments and a Burd made of Hibrah." She said: "A Burd was brought, but they sent it back and did not shroud him in it
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سفید یمنی سوتی کپڑوں میں کفنایا گیا جس میں نہ تو قمیص تھی، اور نہ عمامہ ( پگڑی ) ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے دو کپڑوں اور ایک یمنی چادر کے متعلق لوگوں کی گفتگو کا ذکر کیا گیا، تو انہوں نے کہا: چادر لائی گئی تھی لیکن لوگوں نے اسے لوٹا دیا، اور آپ کو اس میں نہیں کفنایا تھا۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ثَلاَثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ يَمَانِيَةٍ كُرْسُفٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلاَ عِمَامَةٌ فَذُكِرَ لِعَائِشَةَ قَوْلُهُمْ فِي ثَوْبَيْنِ وَبُرْدٍ مِنْ حِبَرَةٍ فَقَالَتْ قَدْ أُتِيَ بِالْبُرْدِ وَلَكِنَّهُمْ رَدُّوهُ وَلَمْ يُكَفِّنُوهُ فِيهِ .
#1900
Sahih
It was narrated that 'Abdullah bin 'Umar said:"When 'Abdullah bin Ubayy died, his son came to the Prophet and said: 'Give me your shirt so that I may shroud him in it, and (some and) offer the (funeral) prayer for him, and pray for forgiveness for him'. So he gave him his shirt then he said: 'When you have finished, inform me and I will offer the (funeral) prayer for him.' But 'Umar stopped him and said: 'Hasn't Allah forbidden you to offer the (funeral) prayer for the hypocrites?' He said: 'I have two options. Whether you ask forgiveness for them (hypocrites) or ask no forgiveness for them." So he offered the (funeral) prayer for him. Then Allah, Most High, revealed: 'And never pray (funeral prayer) for any of them (hypocrites) who dies, nor stand at his grave.' So he stopped offering the (funeral) prayer for them
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب عبداللہ بن ابی ( منافق ) مر گیا، تو اس کے بیٹے ( عبداللہ رضی اللہ عنہ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ( اور ) عرض کیا: ( اللہ کے رسول! ) آپ مجھے اپنی قمیص دے دیجئیے تاکہ میں اس میں انہیں کفنا دوں، اور آپ ان پر نماز ( جنازہ ) پڑھ دیجئیے، اور ان کے لیے مغفرت کی دعا بھی کر دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص انہیں دے دی، پھر فرمایا: جب تم فارغ ہو لو تو مجھے خبر کرو میں ان کی نماز ( جنازہ ) پڑھوں گا ( اور جب نماز کے لیے کھڑے ہوئے ) تو عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو کھینچا، اور کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کو منافقین پر نماز ( جنازہ ) پڑھنے سے منع فرمایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں دو اختیارات کے درمیان ہوں ( اللہ تعالیٰ نے ) فرمایا: «استغفر لهم أو لا تستغفر لهم» تم ان کے لیے مغفرت چاہو یا نہ چاہو دونوں برابر ہے ( التوبہ: ۸۰ ) چنانچہ آپ نے اس کی نماز ( جنازہ ) پڑھی، تو اللہ تعالیٰ نے ( یہ آیت ) نازل فرمائی: «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره» تم ان ( منافقین ) میں سے کسی پر کبھی بھی نماز جنازہ نہ پڑھو، اور نہ ہی ان کی قبر پر کھڑے ہو ( التوبہ: ۸۴ ) تو آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھنا چھوڑ دیا۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ لَمَّا مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ جَاءَ ابْنُهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَعْطِنِي قَمِيصَكَ حَتَّى أُكَفِّنَهُ فِيهِ وَصَلِّ عَلَيْهِ وَاسْتَغْفِرْ لَهُ . فَأَعْطَاهُ قَمِيصَهُ ثُمَّ قَالَ " إِذَا فَرَغْتُمْ فَآذِنُونِي أُصَلِّي عَلَيْهِ " . فَجَذَبَهُ عُمَرُ وَقَالَ قَدْ نَهَاكَ اللَّهُ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى الْمُنَافِقِينَ . فَقَالَ " أَنَا بَيْنَ خِيرَتَيْنِ " . قَالَ { اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لاَ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ } فَصَلَّى عَلَيْهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى { وَلاَ تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلاَ تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ } فَتَرَكَ الصَّلاَةَ عَلَيْهِمْ .