#1851
Sahih Isnaad
It was narrated from Hakim bin Qais, that Qais bin 'Asim said:"Do not wail over me, for no one wailed over the Messenger of Allah." This is an abridgment
قیس بن عاصم رضی الله عنہ نے کہا تم میرے اوپر نوحہ مت کرنا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نوحہ نہیں کیا گیا۔ یہ لمبی حدیث سے مختصر ہے
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّ قَيْسَ بْنَ عَاصِمٍ، قَالَ لاَ تَنُوحُوا عَلَىَّ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يُنَحْ عَلَيْهِ . مُخْتَصَرٌ .
#1852
Sahih
It was narrated from Anas that:when the Messenger of Allah accepted the women's oath of allegiance, he accepted their pledge that they would not wail (over the death). They said: "O Messenger of Allah, there are women who helped us to mourn during the Jahiliyyah should we help them to mourn?" The Messenger of Allah said: "There is no helping to mourn in Islam
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت عورتوں سے بیعت لی تو ان سے یہ بھی عہد لیا کہ وہ نوحہ نہیں کریں گی، تو عورتوں نے کہا: اللہ کے رسول! کچھ عورتوں نے زمانہ جاہلیت میں ( نوحہ کرنے میں ) ہماری مدد کی ہے، تو کیا ہم ان کی مدد کریں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں ( نوحہ پر ) کوئی مدد نہیں ۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَخَذَ عَلَى النِّسَاءِ حِينَ بَايَعَهُنَّ أَنْ لاَ يَنُحْنَ فَقُلْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ نِسَاءً أَسْعَدْنَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَفَنُسْعِدُهُنَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ إِسْعَادَ فِي الإِسْلاَمِ " .
#1853
Sahih
It was narrated that 'Umar said:"I heard the Messenger of Allah say: 'The deceased is punished in his grave due to the wailing over him
عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: میت کو اس کی قبر میں اس پر نوحہ کرنے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِالنِّيَاحَةِ عَلَيْهِ " .
#1854
Daif Isnaad
It was narrated that 'Imran bin Husain said:"The deceased is punished due to his family's wailing for him." A man said to him: "A man died in Khurasan and his family wailed for him here; will he be punished due to his family's wailing?" He said: "The Messenger of Allah spoke the truth and you are a liar
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میت کو اس کے گھر والوں کے نوحہ کرنے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، اس پر ایک شخص نے ان سے کہا: مجھے بتائیے کہ ایک شخص خراسان میں مرے، اور اس کے گھر والے یہاں اس پر نوحہ کریں تو اس پر اس کے گھر والوں کے نوحہ کرنے کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا، ( یہ بات عقل میں آنے والی نہیں ) ؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا، اور تو جھوٹا ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ، - هُوَ ابْنُ زَاذَانَ - عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِنِيَاحَةِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ . فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ أَرَأَيْتَ رَجُلاً مَاتَ بِخُرَاسَانَ وَنَاحَ أَهْلُهُ عَلَيْهِ هَا هُنَا أَكَانَ يُعَذَّبُ بِنِيَاحَةِ أَهْلِهِ قَالَ صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَذَبْتَ أَنْتَ .
#1855
Sahih
It was narrated that Ibn 'Umar said; "The Messenger of Allah said:'The deceased is punished due to his family's weeping over him; Mention of that was made to 'Aishah and she said: 'He is wrong; rather the Prophet passed by a grave and said: The occupant of this grave is being punished and his family are weeping for him." Then she recited: And no bearer of burdens shall bear another's burden
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کے سبب عذاب دیا جاتا ہے ، اسے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا: انہیں ( ابن عمر کو ) غلط فہمی ہوئی ہے ( اصل واقعہ یوں ہے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے تو کہا: اس قبر والے کو عذاب دیا جا رہا ہے، اور اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں، پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: «ولا تزر وازرة وزر أخرى» کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ( فاطر: ۱۸ ) ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " . فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ فَقَالَتْ وَهِلَ إِنَّمَا مَرَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى قَبْرٍ فَقَالَ " إِنَّ صَاحِبَ الْقَبْرِ لَيُعَذَّبُ وَإِنَّ أَهْلَهُ يَبْكُونَ عَلَيْهِ " . ثُمَّ قَرَأَتْ { وَلاَ تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى } .
#1856
Sahih
It was narrated from 'Amrah that she heard 'Aishah say:, when she was told that Ibn 'Umar said that the deceased is punished due to the weeping of the living for him, 'Aishah said: "May Allah forgive Abu 'Abdur-Rahman; he is not lying, but he has forgotten or made a mistake. The Messenger of Allah passed by a (deceased) Jewish woman for whom people were weeping and he said: 'They are weeping for her and she is being punished
عمرہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا جب ان کے سامنے اس بات کا ذکر کیا گیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میت کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمٰن کی مغفرت کرے، سنو! انہوں نے جھوٹ اور غلط نہیں کہا ہے، بلکہ وہ بھول گئے انہیں غلط فہمی ہوئی ہے ( اصل بات یہ ہے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودیہ عورت ( کی قبر ) کے پاس سے گزرے جس پر ( اس کے گھر والے ) رو رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اسے عذاب دیا جا رہا ہے ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا، سَمِعَتْ عَائِشَةَ، وَذُكِرَ، لَهَا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَىِّ عَلَيْهِ . قَالَتْ عَائِشَةُ يَغْفِرُ اللَّهُ لأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَكْذِبْ وَلَكِنْ نَسِيَ أَوْ أَخْطَأَ إِنَّمَا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى يَهُودِيَّةٍ يُبْكَى عَلَيْهَا فَقَالَ " إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ " .
#1857
Sahih
Ibn 'Abbas said:"Aishah said: Rather the Messenger of Allah said: 'Allah, the Mighty and Sublime increases the punishment of the disbeliever due to some of his family's weeping for him
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کافر کے عذاب کو اس پر اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے بڑھا دیتا ہے ۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ قَصَّهُ لَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، يَقُولُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَتْ عَائِشَةُ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَزِيدُ الْكَافِرَ عَذَابًا بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " .
#1858
Sahih
Abbul-Jabbar bin Al-Ward narrated:"I heard Ibn Abi Mulaikah say: 'When Umm Aban died, I attended with the people. I sat in front of 'Abdullah bin 'Umar and Ibn 'Abbas, and the women wept. Ibn 'Umar said: 'Why don't you tell them not to weep? For I heard the Messenger of Allah say: The deceased is punished due to some of his family's weeping for him."' Ibn 'Abbas said: "Umar used to narrate something like that. I went out with 'Umar and when we got to on uninhabited area, he saw a caravan beneath a tree. He said: 'See whose caravan this is.' I went and I found Suhaib and his family. I came back to him and said: 'O Commander of the Believers! This is Suhaib and his family.' He said: 'Bring Suhaib to me.' When we entered Al-Madinah, 'Umar was attacked and Suhaib sat by him, weeping and saying, 'O my brother, O my brother.' 'Umar said: 'O Suhaib, do not weep, for I heard the Messenger of Allah say: The deceased is punished due to some of the weeping of his family for him. He said: I mentioned that to 'Aishah and she said: 'By Allah you are not narrating this Hadith from two liars who have disbelieved, but sometimes you mishear. And no bearer of burdens shall bear another's burden. And the Messenger of Allah said: 'Allah increases the punishment of the disbeliever because of his family's weeping for him
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ جب ام ابان مر گئیں تو میں ( بھی ) لوگوں کے ساتھ ( تعزیت میں ) آیا، اور عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کے بیچ میں بیٹھ گیا، عورتیں رونے لگیں تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا تم انہیں رونے سے روکو گے نہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کے سبب عذاب دیا جاتا ہے ، اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: عمر رضی اللہ عنہ بھی ایسا ہی کہتے تھے، ( ایک بار ) میں عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ ہم بیداء پہنچے، تو انہوں نے ایک درخت کے نیچے کچھ سواروں کو دیکھا تو ( مجھ سے ) کہا: دیکھو ( یہ ) سوار کون ہیں؟ چنانچہ میں گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ صہیب رضی اللہ عنہ اور ان کے گھر والے ہیں، لوٹ کر ان کے پاس آیا، اور ان سے کہا: امیر المؤمنین! وہ صہیب رضی اللہ عنہ اور ان کے گھر والے ہیں، تو انہوں نے کہا: صہیب رضی اللہ عنہ کو میرے پاس لاؤ، پھر جب ہم مدینہ آئے تو عمر رضی اللہ عنہ زخمی کر دئیے گئے، صہیب رضی اللہ عنہ ان کے پاس روتے ہوئے بیٹھے ( اور ) وہ کہہ رہے تھے: ہائے میرے بھائی! ہائے میرے بھائی! تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: صہیب! روؤ مت، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے ( ابن عباس ) کہتے ہیں: میں نے اس بات کا ذکر عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا تو انہوں نے کہا: سنو! اللہ کی قسم! تم یہ حدیث نہ جھوٹوں سے روایت کر رہے ہو، اور نہ ایسوں سے جنہیں جھٹلایا گیا ہو، البتہ سننے ( میں ) غلط فہمی ہوئی ہے، اور قرآن میں ( ایسی بات موجود ہے ) جس سے تمہیں تسکین ہو: «ألا تزر وازرة وزر أخرى» کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یوں ) فرمایا تھا: اللہ کافر کا عذاب اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے بڑھا دیتا ہے ۔
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مَنْصُورٍ الْبَلْخِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْوَرْدِ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، يَقُولُ لَمَّا هَلَكَتْ أُمُّ أَبَانَ حَضَرْتُ مَعَ النَّاسِ فَجَلَسْتُ بَيْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ فَبَكَيْنَ النِّسَاءُ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ أَلاَ تَنْهَى هَؤُلاَءِ عَنِ الْبُكَاءِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " . فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَدْ كَانَ عُمَرُ يَقُولُ بَعْضَ ذَلِكَ خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ رَأَى رَكْبًا تَحْتَ شَجَرَةٍ فَقَالَ انْظُرْ مَنِ الرَّكْبُ فَذَهَبْتُ فَإِذَا صُهَيْبٌ وَأَهْلُهُ فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَذَا صُهَيْبٌ وَأَهْلُهُ . فَقَالَ عَلَىَّ بِصُهَيْبٍ . فَلَمَّا دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ أُصِيبَ عُمَرُ فَجَلَسَ صُهَيْبٌ يَبْكِي عِنْدَهُ يَقُولُ وَاأُخَيَّاهُ وَاأُخَيَّاهُ . فَقَالَ عُمَرُ يَا صُهَيْبُ لاَ تَبْكِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " . قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ فَقَالَتْ أَمَا وَاللَّهِ مَا تُحَدِّثُونَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ كَاذِبَيْنِ مُكَذَّبَيْنِ وَلَكِنَّ السَّمْعَ يُخْطِئُ وَإِنَّ لَكُمْ فِي الْقُرْآنِ لَمَا يَشْفِيكُمْ { أَلاَّ تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى } وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ اللَّهَ لَيَزِيدُ الْكَافِرَ عَذَابًا بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " .
#1859
Daif
It was narrated from Muhammad bin 'Amr bin 'Ata that Salamah bin Al-Azraq said:"I heard Abu Hurairah say: 'Someone from the family of the Messenger of Allah died, and the women gathered, weeping for him. 'Umar stood up and told them not to do that, and threw them out, but the Messenger of Allah said: Let them be there, O 'Umar, for the eye weeps and the heart grieves, but soon we will join them
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان میں کسی کا انتقال ہو گیا تو عورتیں اکٹھا ہوئیں ( اور ) میت پر رونے لگیں، تو عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر انہیں روکنے اور بھگانے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! انہیں چھوڑ دو کیونکہ آنکھوں میں آنسو ہے، دل غم میں ڈوبا ہوا ہے، اور موت کا وقت قریب ہے ۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - هُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ الأَزْرَقِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ مَاتَ مَيِّتٌ مِنْ آلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاجْتَمَعَ النِّسَاءُ يَبْكِينَ عَلَيْهِ فَقَامَ عُمَرُ يَنْهَاهُنَّ وَيَطْرُدُهُنَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " دَعْهُنَّ يَا عُمَرُ فَإِنَّ الْعَيْنَ دَامِعَةٌ وَالْقَلْبَ مُصَابٌ وَالْعَهْدَ قَرِيبٌ " .
#1860
Sahih
It was narrated that 'Abdullah said:"The Messenger of Allah said: 'He is not one of us who strikes his cheeks, rends his garment, calls out the calls of the Jahiliyyah
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں ۱؎ جو منہ پیٹے، گریباں پھاڑے، اور جاہلیت کی پکار پکارے ( یعنی نوحہ کرے ) ۔ یہ الفاظ علی بن خشرم کے ہیں، اور حسن کی روایت «بدعا الجاہلیۃ» کی جگہ «بدعویٰ الجاہلیۃ» ہے۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنِ الأَعْمَشِ، ح أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ وَشَقَّ الْجُيُوبَ وَدَعَا بِدُعَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ " . وَاللَّفْظُ لِعَلِيٍّ وَقَالَ الْحَسَنُ " بِدَعْوَى " .
#1861
Sahih
It was narrated that Safwan bin Muhriz said:"Abu Musa fell unconscious and they wept for him. He said: 'I say to you the words of disavowal that the messenger of Allah said: He is not one of us who shaves his head (as a sign of mourning), rends his garments, or raises his voice in Lamentation
صفوان بن محرز کہتے ہیں کہ ابوموسیٰ اشعری پر بے ہوشی طاری ہو گئی، لوگ ان پر رونے لگے، تو انہوں نے کہا: میں تم سے اپنی برات کا اظہار کرتا ہوں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ کہہ کر برات کا اظہار کیا تھا کہ جو سر منڈائے کپڑے پھاڑے، واویلا کرے ہم میں سے نہیں۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ خَالِدٍ الأَحْدَبِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، قَالَ أُغْمِيَ عَلَى أَبِي مُوسَى فَبَكَوْا عَلَيْهِ فَقَالَ أَبْرَأُ إِلَيْكُمْ كَمَا بَرِئَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْسَ مِنَّا مَنْ حَلَقَ وَلاَ خَرَقَ وَلاَ سَلَقَ .
#1862
Sahih
It was narrated from 'Abdullah that the Prophet said:"He is not one of us who strikes his cheeks, rends his garment, and calls the calls of the Jahiliyyah
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو گال پیٹے، گریباں پھاڑے، اور جاہلیت کی پکار پکارے ہم میں سے نہیں ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي زُبَيْدٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ وَشَقَّ الْجُيُوبَ وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ " .
#1863
Sahih
It was narrated from Abu Sakhrah, that 'Abdur-Rahman bin Yazid and Abu Burdah said:"When Abu Musa was close to death, his wife started to scream." They said: "He woke up and said: 'Did I not tell you that I am free from what the Messenger of Allah is free?" They said: "He used to narrate that the Messenger of Allah said: 'I am free from the one who shaves his head, rends his garments or raises his voice in lamentation
عبدالرحمٰن بن یزید اور ابوبردہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب ابوموسیٰ اشعری ( کی بیماری ) سخت ہوئی، تو ان کی عورت چلاتی ہوئی آئی۔ ( ان کی بیماری میں کچھ ) افاقہ ہوا، تو انہوں نے کہا: کیا میں تجھے نہ بتاؤں کہ میں ان چیزوں سے بری ہوں جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بری تھے، ان دونوں نے ان کی بیوی سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: میں اس شخص سے بری ہوں جو سر منڈائے، کپڑے پھاڑے اور واویلا کرے ۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْفٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ أَبِي صَخْرَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، وَأَبِي، بُرْدَةَ قَالاَ لَمَّا ثَقُلَ أَبُو مُوسَى أَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ تَصِيحُ - قَالاَ - فَأَفَاقَ فَقَالَ أَلَمْ أُخْبِرْكِ أَنِّي بَرِيءٌ مِمَّنْ بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالاَ وَكَانَ يُحَدِّثُهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَنَا بَرِيءٌ مِمَّنْ حَلَقَ وَخَرَقَ وَسَلَقَ " .
#1864
Sahih
It was narrated from 'Abdullah that the Prophet said:"He is not one of us who strikes his cheeks, rends his garment, and calls the calls of the Jahiliyyah
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں جو گال پیٹے، گریبان پھاڑے، اور جاہلیت کی پکار پکارے ۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ وَشَقَّ الْجُيُوبَ وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ " .
#1865
Sahih
It was narrated from Yazid bin Aws, that:Abu Musa said he fell unconscious and an Umm Walad of his wept. When he woke up, he asked her: "Have you not heard what the Messenger of Allah said?" She said: "He said: 'He is not one of us who raises his voice in lamentation, shaves his head, or rends his garments
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان پر غشی طاری ہوئی، تو ان کی ام ولد رو پڑی، جب ( کچھ ) افاقہ ہوا تو انہوں نے اس سے کہا: کیا تجھے وہ بات نہیں پہنچی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے؟ تو ہم نے اس سے پوچھا ( آپ نے کیا فرمایا تھا؟ ) تو اس نے کہا: آپ نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں جو گال پیٹے، سر منڈائے، اور کپڑے پھاڑے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّهُ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فَبَكَتْ أُمُّ وَلَدٍ لَهُ فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ لَهَا أَمَا بَلَغَكِ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلْنَاهَا فَقَالَتْ قَالَ " لَيْسَ مِنَّا مَنْ سَلَقَ وَحَلَقَ وَخَرَقَ " .
#1866
Sahih
It was narrated from Umm 'Abdullah, the wife of Abu Musa, that Abu Musa said:"The Messenger of Allah said: 'He is not one of us who shaves his head, raises his voice in lamentation or rends his garments
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں جو سر منڈائے، واویلا کرے اور کپڑے پھاڑے ۔
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ أُمِّ عَبْدِ اللَّهِ، امْرَأَةِ أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَيْسَ مِنَّا مَنْ حَلَقَ وَسَلَقَ وَخَرَقَ " .
#1867
Sahih Isnaad
It was narrated that Al-Qartha' said:"When Abu Musa was close to death, his wife screamed and he said: 'Do you not know what the Messenger of Allah said?" She said: 'Yes, Then she fell silent and it was said to her after that: 'What did the Messenger of Allah say?' She said: 'The Messenger of Allah cursed the one who shaves his head, raises his voice in lamentation or rends his garment
قرثع کہتے ہیں کہ جب ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی بیماری بڑھ گئی تو ان کی بیوی چیخ مار کر رونے لگی، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا ہے کیا تجھے معلوم نہیں؟ اس نے کہا: کیوں، نہیں ضرور معلوم ہے، پھر وہ خاموش ہو گئی، تو اس سے اس کے بعد پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ہر اس شخص پر ) لعنت فرمائی ہے جو سر منڈوائے، یا واویلا کرے، یا گریبان پھاڑے۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادٌ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ، عَنِ الْقَرْثَعِ، قَالَ لَمَّا ثَقُلَ أَبُو مُوسَى صَاحَتِ امْرَأَتُهُ فَقَالَ أَمَا عَلِمْتِ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ بَلَى . ثُمَّ سَكَتَتْ فَقِيلَ لَهَا بَعْدَ ذَلِكَ أَىُّ شَىْءٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَعَنَ مَنْ حَلَقَ أَوْ سَلَقَ أَوْ خَرَقَ .
#1868
Sahih
It was narrated that Abu 'Uthman said:"Usamah bin Zaid told me: 'The daughter of the Prophet sent word to him telling him: A son of mine is dying, come to us. He sent word to her, conveying his greeting of salam and saying: "To Allah belongs that which He takes and that which He gives, and everything has an appointed time with Allah. Let her be patient and seek reward." She sent word to him adjuring him to go to her. So he got up and went, accompanied by Sa'd bin 'Ubadah, Muadh bin Jabal, Ubayy bin Kab Zaid bin Thabit and some other men. The boy was lifted up to the Messenger of Allah, with the death rattle sounding in him, and his eyes filled with tears. Sa'd said: "O Messenger of Allah, what is this?" he said: "This is compassion which Allah has created in the hearts of His slaves. Allah has mercy on His compassionate slaves
اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی نے آپ کو صلی اللہ علیہ وسلم کہلا بھیجا کہ میرا بیٹا ۱؎ مرنے کو ہے آپ آ جائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہلا بھیجا کہ آپ سلام کہتے ہیں، اور کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے جو ( کچھ ) لے، اور اسی کے لیے ہے جو ( کچھ ) دے، اور اللہ کے نزدیک ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے، تو چاہیئے کہ تم صبر کرو، اور اللہ سے اجر طلب کرو، بیٹی نے ( دوبارہ ) قسم دے کے کہلا بھیجا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور آ جائیں، چنانچہ آپ اٹھے، آپ کے ساتھ سعد بن عبادہ، معاذ بن جبل، ابی بن کعب، زید بن ثابت رضی اللہ عنہم اور کچھ اور لوگ تھے، ( بچہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اٹھا کر اس حال میں لایا گیا کہ اس کی سانس ٹوٹ رہی تھی، تو آپ کی آنکھوں ( سے ) آنسو بہ پڑے، اس پر سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ رحمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھ رکھا ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے انہیں بندوں پر رحم کرتا ہے جو رحم دل ہوتے ہیں ۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ أَرْسَلَتْ بِنْتُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَيْهِ أَنَّ ابْنًا لِي قُبِضَ فَأْتِنَا . فَأَرْسَلَ يَقْرَأُ السَّلاَمَ وَيَقُولُ " إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى وَكُلُّ شَىْءٍ عِنْدَ اللَّهِ بِأَجَلٍ مُسَمًّى فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ " . فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ تُقْسِمُ عَلَيْهِ لَيَأْتِيَنَّهَا فَقَامَ وَمَعَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَرِجَالٌ فَرُفِعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الصَّبِيُّ وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ فَقَالَ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذَا قَالَ " هَذَا رَحْمَةٌ يَجْعَلُهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ " .
#1869
Sahih
It was narrated that Thabit said:"I heard Anas say: 'The Messenger of Allah said: True patience is that which comes at the first blow
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبر وہی ہے جو صدمہ ( غم ) پہنچتے ہی ہو ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الأُولَى " .
#1870
Sahih
Abu lyas Mu'awiyah bin 'Qurrah narrated from his father that:a man came to the Prophet accompanied by a son of his. He said to him: "Do you love him?" He said: "May Allah love you as I love him." Then he (the son) died and he noticed his absence and asked about him. He said: "Will it not make you happy to know that you will not come to any of the gates of Paradise but you will find him there, trying to open it for you?
قرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس کے ساتھ اس کا بیٹا ( بھی ) تھا، آپ نے اس سے پوچھا: کیا تم اس سے محبت کرتے ہو؟ تو اس نے جواب دیا: اللہ آپ سے ایسے ہی محبت کرے جیسے میں اس سے کرتا ہوں، پھر وہ ( لڑکا ) مر گیا، تو آپ نے ( کچھ دنوں سے ) اسے نہیں دیکھا تو اس کے بارے میں ( اس کے باپ سے ) پوچھا ( تو انہوں نے بتایا کہ وہ مر گیا ہے ) آپ نے فرمایا: کیا تمہیں اس بات سے خوشی نہیں ہو گی کہ تم جنت کے جس دروازے پر جاؤ گے ( اپنے بچے ) کو اس کے پاس پاؤ گے، وہ تمہارے لیے دوڑ کر دروازہ کھولنے کی کوشش کرے گا ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِيَاسٍ، - وَهُوَ مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ - عَنْ أَبِيهِ، رضى الله عنه أَنَّ رَجُلاً، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَمَعَهُ ابْنٌ لَهُ فَقَالَ لَهُ " أَتُحِبُّهُ " . فَقَالَ أَحَبَّكَ اللَّهُ كَمَا أُحِبُّهُ . فَمَاتَ فَفَقَدَهُ فَسَأَلَ عَنْهُ فَقَالَ " مَا يَسُرُّكَ أَنْ لاَ تَأْتِيَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِلاَّ وَجَدْتَهُ عِنْدَهُ يَسْعَى يَفْتَحُ لَكَ " .
#1871
Hasan
Amr bin sa'eed bin Abi Husain told us that:'Amr bin Shu'aib wrote to 'Abdullah bin 'Abdur-Rahman bin Abi Husain to offer condolences for a son of his who had died. In his letter he mentioned that he had heard his father narrate, that his grandfather, 'Abdullah bin 'Amr bin Al-As said: "The Messenger of Allah said: 'Allah does not approve for His believing slave, if He takes away his loved one from among the people of the Earth, and he bears that with patience and seeks reward, and says that which he is commanded any reward less than Paradise
عمرو بن شعیب نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی حسین کو ان کے بیٹے کی وفات پر تعزیت کا خط لکھا، اور اپنے خط میں ذکر کیا کہ انہوں نے اپنے والد کو بیان کرتے سنا وہ اپنے دادا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کے لیے جب وہ زمین والوں میں سے اس کی سب سے محبوب چیز یعنی بیٹا کو لے لے، اور وہ اس پر صبر کرے، اور اجر چاہے، اور وہی کہے جس کا حکم دیا گیا ہے، جنت سے کم ثواب پر راضی نہیں ہوتا ۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ أَنْبَأَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ، كَتَبَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ يُعَزِّيهِ بِابْنٍ لَهُ هَلَكَ وَذَكَرَ فِي كِتَابِهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ لاَ يَرْضَى لِعَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ إِذَا ذَهَبَ بِصَفِيِّهِ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ فَصَبَرَ وَاحْتَسَبَ وَقَالَ مَا أُمِرَ بِهِ بِثَوَابٍ دُونَ الْجَنَّةِ " .
#1872
Sahih
It was narrated from Anas that the Messenger of Allah said:"Whoever seeks reward for (the loss of) three of his own children, he will enter Paradise." A woman stood up and said: "Or two?" He said: "Or two." The woman said: "I wish that I had said, 'or one
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی تین صلبی اولاد مر جائیں ( اور ) وہ اللہ تعالیٰ سے اس کا اجر و ثواب چاہے، تو وہ جنت میں داخل ہو گا ( اتنے میں ) ایک عورت کھڑی ہوئی اور بولی: اور دو اولاد مرنے پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو اولاد کے مرنے پر بھی ، اس عورت نے کہا: کاش! میں ایک ہی کہتی ۱؎۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَمْرٌو، قَالَ حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنِ احْتَسَبَ ثَلاَثَةً مِنْ صُلْبِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ " . فَقَامَتِ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ أَوِ اثْنَانِ قَالَ " أَوِ اثْنَانِ " . قَالَتِ الْمَرْأَةُ يَا لَيْتَنِي قُلْتُ وَاحِدًا .
#1873
Sahih
It was narrated that Anas said:"The Messenger of Allah said: 'There is no Muslim, three of whose children die before reaching puberty, but Allah will admit him to Paradise by virtue of His mercy towards them
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان کے بھی تین نابالغ بچے مر جائیں، تو اللہ تعالیٰ اسے ان پر اپنی رحمت کے فضل سے جنت میں داخل کرے گا ۔
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُتَوَفَّى لَهُ ثَلاَثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلاَّ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ " .
#1874
Sahih
It was narrated that Sa'sa'ah bin Mu'awiyah said:"I met Abu Dharr and said: 'Tell me a Hadith.' He said: the Messenger of Allah said: There are no two Muslims, three of whose children die before reaching puberty, but Allah will forgive them by virtue of His mercy towards them
صعصعہ بن معاویہ کہتے ہیں کہ میں ابوذر رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے کہا: مجھ سے حدیث بیان کیجئے تو انہوں کہا: اچھا سنو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جس مسلمان ماں باپ کی بھی تین نابالغ اولاد مر جائیں تو اللہ تعالیٰ ان کو ان پر اپنی رحمت کے فضل سے بخش دیتا ہے ۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، قَالَ لَقِيتُ أَبَا ذَرٍّ قُلْتُ حَدِّثْنِي . قَالَ نَعَمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ بَيْنَهُمَا ثَلاَثَةُ أَوْلاَدٍ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلاَّ غَفَرَ اللَّهُ لَهُمَا بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ " .
#1875
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"No Muslim, three of whose children die, will be touched by the Fire, except in fulfillment of the (Divine) oath
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں میں سے جس شخص کے بھی تین بچے مر جائیں، تو اسے جہنم کی آگ صرف قسم ۱؎ پوری کرنے ہی کے لیے چھوئے گی ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَمُوتُ لأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثَلاَثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَتَمَسَّهُ النَّارُ إِلاَّ تَحِلَّةَ الْقَسَمِ " .