#3476
Sahih
It was narrated that 'Amr said:"I heard Sa'eed bin Jubair say: 'I asked Ibn 'Umar about the two who engage in Li'an. He said: 'The Messenger of Allah said to the two who engaged in Li'an: Your reckoning will be with Allah. One of you is lying, and you cannot stay with her. He said: O Messenger of Allah, my wealth! He said: You are not entitled to any wealth. If you are telling the truth about her, then it is in return for having been allowed intimacy with her, and if you are lying then you are even less entitled to it
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے لعان کرنے والوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والوں سے کہا: تمہارا حساب تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ تم میں سے کوئی ایک ضرور جھوٹا ہے، ( مرد سے کہا: ) تمہارا اب اس ( عورت ) پر کچھ حق و اختیار نہیں ہے ۱؎، مرد نے کہا: اللہ کے رسول! میرے مال کا کیا ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”تمہارا کوئی مال نہیں ہے۔ اگر تم نے اس پر صحیح تہمت لگائی ہے تو تم نے اب تک اس کی شرمگاہ سے حلت کا جو فائدہ حاصل کیا ہے وہ مال اس کا بدل ہو گیا اور اگر تم نے اس عورت پر جھوٹا الزام لگایا ہے تو یہ تو تمہارے لیے اور بھی غیر مناسب ہے“ ۲؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْمُتَلاَعِنَيْنِ، فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلْمُتَلاَعِنَيْنِ " حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ وَلاَ سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا " . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَالِي قَالَ " لاَ مَالَ لَكَ إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَذَاكَ أَبْعَدُ لَكَ " .
#3477
Sahih
It was narrated that Ibn 'Umar said:"The Messenger of Allah conducted the procedure of Li'an between a man and his wife, and he separated them and attributed the child to his mother
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کا حکم دیا اور ان دونوں کے درمیان تفریق کر دی اور بچے کو ماں کی سپردگی میں دے دیا۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ لاَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ رَجُلٍ وَامْرَأَتِهِ وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالأُمِّ .
#3478
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that a man from Banu Fazarah came to the Messenger of Allah and said:"My wife has given birth to a black boy." The Messenger of Allah said: "Do you have camels?" He said: "Yes." He said: "What color are they?" He said: "Red." He said: "Are there any gray ones among them?" He said: "There are some gray ones among them." He said: "Where do you think they come from?" He said: "Perhaps it is hereditary." He said: "Likewise, perhaps this is hereditary
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ بنی فرازہ کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میری بیوی نے ایک کالے رنگ کا بچہ جنا ہے ۱؎، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟“ اس نے کہا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: ”کس رنگ کے ہیں؟“، اس نے کہا لال رنگ ( کے ہیں ) ، آپ نے فرمایا: ”کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ کا بھی ہے؟“ اس نے کہا: ( جی ہاں ) ان میں خاکستری رنگ کے بھی ہیں، آپ نے فرمایا: ”تم کیا سمجھتے ہو یہ رنگ کہاں سے آیا؟“ اس نے کہا ہو سکتا ہے کسی رگ نے یہ رنگ کشید کیا ہو۔ آپ نے فرمایا: ” ( یہی بات یہاں بھی سمجھو ) ہو سکتا ہے کسی رگ نے اس رنگ کو کھینچا ہو“ ۲؎۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ بَنِي فَزَارَةَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلاَمًا أَسْوَدَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " فَمَا أَلْوَانُهَا " . قَالَ حُمْرٌ . قَالَ " فَهَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ " . قَالَ إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا . قَالَ " فَأَنَّى تَرَى أَتَى ذَلِكَ " . قَالَ عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَهَذَا عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ " .
#3479
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:"A man from Banu Fazarah came to the Prophet and said: 'My wife has given birth to a black boy' -and he wanted to disown him. He said: 'Do you have camels?' He said: 'Yes.' He said: 'What color are they?' He said: 'Red.' He said: 'Are there any gray ones among them?' He said: 'There are some gray camels among them.' He said: 'Why is that do you think?' He said: 'Perhaps it is hereditary.' He said: 'Perhaps this is hereditary.' And he did not permit him to disown him
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی فرازہ کا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میری بیوی نے ایک کالے رنگ کا بچہ جنا ہے اور وہ اسے اپنا بیٹا ہونے کے انکار کا سوچ رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟“، اس نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”ان کے رنگ کیسے ہیں؟“ اس نے کہا: سرخ، آپ نے فرمایا: ”کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ بھی ہے؟“ اس نے کہا ( جی ہاں ) خاکستری رنگ کے اونٹ بھی ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے یہ رنگ کہاں سے آیا؟“ اس نے کہا: کسی رگ نے اسے کھینچا ہو گا۔ آپ نے فرمایا: ” ( یہ بھی ایسا ہی سمجھ ) کسی رگ نے اسے بھی کھینچا ہو گا“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بچے کے اپنی اولاد ہونے سے انکار کی رخصت و اجازت نہ دی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلاَمًا أَسْوَدَ . وَهُوَ يُرِيدُ الاِنْتِفَاءَ مِنْهُ . فَقَالَ " هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " مَا أَلْوَانُهَا " . قَالَ حُمْرٌ . قَالَ " هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ " . قَالَ فِيهَا ذَوْدٌ وُرْقٌ . قَالَ " فَمَا ذَاكَ تُرَى " . قَالَ لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ نَزَعَهَا عِرْقٌ . قَالَ " فَلَعَلَّ هَذَا أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ " . قَالَ فَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ فِي الاِنْتِفَاءِ مِنْهُ .
#3480
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:"While we were with the Prophet, a man stood up and said: 'O Messenger of Allah, a black boy has been born to me.' The Messenger of Allah said: 'How did that happen?' He said: 'I do not know.' He said: 'Do you have camels?' He said: 'Yes.' He said: 'What color are they?' He said: 'Red.' He said: 'Are there any gray camels among them?' He said: 'There are some gray camels among them.' He said: 'Where do they come from?' He said: 'I do not know, O Allah's Messenger! Perhaps it is hereditary.' He said: 'Perhaps this is also hereditary.' Because of this, the Messenger of Allah decreed the following: 'It is not allowed for a man, to disown a child who was born on his bed, unless he claimed that he had seen an immoral act (Fahishah)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک روز ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے کھڑا ہو کر کہا: اللہ کے رسول! میرے یہاں ایک کالا بچہ پیدا ہوا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہاں سے آیا یہ اس کا کالا رنگ؟“، اس نے کہا: مجھے نہیں معلوم، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟“، اس نے کہا: جی ہاں ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”ان کے رنگ کیا ہیں؟“، اس نے کہا: سرخ ہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا کوئی ان میں خاکی رنگ کا بھی ہے؟“، اس نے کہا: ان میں خاکی رنگ کے بھی اونٹ ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”یہ خاکی رنگ کہاں سے آیا؟“، اس نے کہا: میں نہیں جانتا، اللہ کے رسول! ہو سکتا ہے کسی رگ نے اسے کشید کیا ہو ( یعنی یہ نسلی کشش کا نتیجہ ہو اور نسل میں کوئی کالے رنگ کا ہو ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور یہ بھی ہو سکتا ہے کسی رگ کی کشش کے نتیجہ میں کالے رنگ کا پیدا ہوا ہو“۔ اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرما دیا ہے کہ کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی بیوی سے پیدا ہونے والے بچے کا انکار کر دے جب تک کہ وہ اس کا دعویٰ نہ کرے کہ اس نے اسے بدکاری کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَيْوَةَ، - حِمْصِيٌّ - قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي وُلِدَ لِي غُلاَمٌ أَسْوَدُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَأَنَّى كَانَ ذَلِكَ " . قَالَ مَا أَدْرِي قَالَ " فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " فَمَا أَلْوَانُهَا " . قَالَ حُمْرٌ . قَالَ " فَهَلْ فِيهَا جَمَلٌ أَوْرَقُ " . قَالَ فِيهَا إِبِلٌ وُرْقٌ . قَالَ " فَأَنَّى كَانَ ذَلِكَ " . قَالَ مَا أَدْرِي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ . قَالَ " وَهَذَا لَعَلَّهُ نَزَعَهُ عِرْقٌ " . فَمِنْ أَجْلِهِ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَذَا لاَ يَجُوزُ لِرَجُلٍ أَنْ يَنْتَفِيَ مِنْ وَلَدٍ وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ إِلاَّ أَنْ يَزْعُمَ أَنَّهُ رَأَى فَاحِشَةً .
#3481
Daif
It was narrated from Abu Hurairah that he heard the Messenger of Allah say when the Verse of Mula'anah (Li'an) was revealed:"Any woman who falsely attributes a man to people to whom he does not belong, has no share from Allah, and Allah will not admit her to His Paradise. Any man who denies his son while looking at him (knowing that he is indeed his son), Allah, the Mighty and Sublime, will cast him away, and disgrace him before the first and the last on the Day of Resurrection
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب لعان کی آیت نازل ہوئی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو عورت کسی قوم ( خاندان و قبیلے ) میں ایسے شخص کو داخل و شامل کر دے جو اس قوم ( خاندان و قبیلے ) کا نہ ہو ( یعنی زنا و بدکاری کرے ) تو کسی چیز میں بھی اسے اللہ تعالیٰ کا تحفظ و تعاون حاصل نہ ہو گا اور اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل نہ کرے گا اور ( ایسے ہی ) جو شخص اپنے بیٹے کا ( کسی بھی سبب سے ) انکار کر دے اور دیکھ رہا ( اور سمجھ بوجھ رہا ) ہو ( کہ وہ بیٹا اسی کا ہے ) تو اللہ تعالیٰ اس سے پردہ کر لے گا ۱؎ اور اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اگلے و پچھلے سبھی لوگوں کے سامنے ذلیل و رسوا کرے گا“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَ شُعَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ حِينَ نَزَلَتْ آيَةُ الْمُلاَعَنَةِ " أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَدْخَلَتْ عَلَى قَوْمٍ رَجُلاً لَيْسَ مِنْهُمْ فَلَيْسَتْ مِنَ اللَّهِ فِي شَىْءٍ وَلاَ يُدْخِلُهَا اللَّهُ جَنَّتَهُ وَأَيُّمَا رَجُلٍ جَحَدَ وَلَدَهُ وَهُوَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ احْتَجَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ وَفَضَحَهُ عَلَى رُءُوسِ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
#3482
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet said:"The child is the bed's and for the fornicator is the stone
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچہ فراش والے کا ہے ( یعنی جس کی بیوی ہو اس کا مانا جائے گا ) اور زنا کار کے لیے پتھر ہے“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، وَأَبِي، سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ " .
#3483
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"The child is the bed's and for the fornicator is the stone
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لڑکا فراش والے ( یعنی شوہر ) کا ہے اور زنا کار کے لیے پتھر ہے ( یعنی اسے مار لگے گی یا پتھروں سے رجم کر دیا جائے گا ) “۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، وَأَبِي، سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ " .
#3484
Sahih
It was narrated that 'Aishah said:"Sa'd bin Abi Waqqas and 'Abd bin Zam'ah disputed over a boy. Sa'd said: 'O Messenger of Allah! This is the son of my brother 'Utbah bin Abi Waqqas, who made me promise to look after him because he is his son. Look at whom he resembles.' 'Abd bin Zam'ah said: 'He is my brother who was born on my father's bed to his slave woman.' The Messenger of Allah looked to determine at whom he resembled, and saw that he resembled 'Utbah. He said: 'He is for you, O 'Abd! The child is the bed's and for the fornicator is the stone. Veil yourself from him, O Sawdah bint Zam'ah.' And he never saw Sawdah again
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہما کا ایک بچے کے سلسلہ میں ٹکراؤ اور جھگڑا ہو گیا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! یہ بچہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا ہے، انہوں نے مجھے وصیت کی تھی کہ وہ ان کا بیٹا ہے ( میں اسے حاصل کر لوں ) ، آپ اس کی ان سے مشابہت دیکھئیے ( کتنی زیادہ ہے ) ، عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ میرا بھائی ہے، میرے باپ کی لونڈی سے پیدا ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مشابہت پر نظر ڈالی تو اسے صاف اور واضح طور پر عتبہ کے مشابہ پایا ( لیکن ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبد ( عبد بن زمعہ ) وہ بچہ تمہارے لیے ہے ( قانونی طور پر تم اس کے بھائی و سر پرست ہو ) ، بچہ اس کا ہوتا ہے جس کے تحت بچے کی ماں ہوتی ہے، اور زنا کار کی قسمت و حصے میں پتھر ہے۔ اے سودہ بنت زمعہ! تم اس سے پردہ کرو ۱؎، تو اس نے ام المؤمنین سودہ رضی اللہ عنہا کو کبھی نہیں دیکھا ( وہ خود ان کے سامنے کبھی نہیں آیا ) ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِي غُلاَمٍ فَقَالَ سَعْدٌ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنُ أَخِي عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَىَّ أَنَّهُ ابْنُهُ انْظُرْ إِلَى شَبَهِهِ . وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ أَخِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي مِنْ وَلِيدَتِهِ . فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى شَبَهِهِ فَرَأَى شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ فَقَالَ " هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ بِنْتَ زَمْعَةَ " . فَلَمْ يَرَ سَوْدَةَ قَطُّ .
#3485
Sahih Lighairihi
It was narrated that 'Abdullah bin Az-Zubair said:"Zam'ah had a slave woman with whom he used to have intercourse, but he suspected that someone else was also having intercourse with her. She gave birth to a child who resembled the one whom he suspected. Zam'ah died when she was pregnant, and Sawdah mentioned that to the Messenger of Allah. The Messenger of Allah said: 'The child is the bed's, but veil yourself from him, O Sawdah, for he is not a brother of yours
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ زمعہ کی ایک لونڈی تھی جس سے وہ صحبت کرتا تھا اور اس کا یہ بھی خیال تھا کہ کوئی اور بھی ہے جو اس سے بدکاری کیا کرتا ہے۔ چنانچہ اس لونڈی سے ایک بچہ پیدا ہوا اور وہ بچہ اس شخص کی صورت کے مشابہ تھا جس کے بارے میں زمعہ کا گمان تھا کہ وہ اس کی لونڈی سے بدکاری کرتا ہے، وہ لونڈی حاملہ تھی جب ہی زمعہ کا انتقال ہو گیا، اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ام المؤمنین سودہ ( سودہ بنت زمعہ ) رضی اللہ عنہا نے کیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچہ فراش والے کا ہے ۱؎ اور سودہ! تم اس سے پردہ کرو کیونکہ ( فی الواقع ) وہ تمہارا بھائی نہیں ہے“۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ الزُّبَيْرِ، - مَوْلًى لَهُمْ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ كَانَتْ لِزَمْعَةَ جَارِيَةٌ يَطَؤُهَا هُوَ وَكَانَ يَظُنُّ بِآخَرَ يَقَعُ عَلَيْهَا فَجَاءَتْ بِوَلَدٍ شِبْهِ الَّذِي كَانَ يَظُنُّ بِهِ فَمَاتَ زَمْعَةُ وَهِيَ حُبْلَى فَذَكَرَتْ ذَلِكَ سَوْدَةُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ فَلَيْسَ لَكِ بِأَخٍ "
#3486
Sahih Lighairihi
It was narrated from 'Abdullah that the Messenger of Allah said:"The child is the bed's, and for the fornicator is the stone
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لڑکا فراش والے کا ہے ۱؎ اور زنا کرنے والے کو پتھر ملیں گے“ ۲؎۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ " . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَلاَ أَحْسُبُ هَذَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ .
#3487
Sahih
It was narrated that 'Aishah said:"Sa'd bin Abi Waqqas and 'Abd bin Zam'ah disputed concerning a son of Zam'ah. Sa'd said: 'My brother 'Utbah urged me, if I came to Makkah: Look for the son of the slave woman of Zam'ah, for he is my son.' 'Abd bin Zam'ah said: 'He is the son of my father's slave woman who was born on my father's bed.' The Messenger of Allah saw that he resembled 'Utbah, but he said: 'The child is the bed's. Veil yourself from him, O Sawdah
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہما کا زمعہ کے بیٹے کے بارے میں جھگڑا ہو گیا ( کہ وہ کس کا ہے اور کون اس کا حقدار ہے ) سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے بھائی عتبہ نے مجھے وصیت کی تھی کہ جب تم مکہ جاؤ تو زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کو دیکھو ( اور اسے حاصل کر لو ) وہ میرا بیٹا ہے۔ چنانچہ عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے جو میرے باپ کے بستر پر ( یعنی اس کی ملکیت میں ) پیدا ہوا ہے ( اس لیے وہ میرا بھائی ہے ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا کہ صورت میں بالکل عتبہ کے مشابہ تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( اگرچہ وہ عتبہ کے مشابہ ہے لیکن شریعت کا اصول و ضابطہ یہ ہے کہ ) بچہ اس کا مانا اور سمجھا جاتا ہے جس کا بستر ہو ( اس لیے اس کا حقدار عبد بن زمعہ ہے ) اور اے سودہ ( اس اعتبار سے گرچہ وہ تمہارا بھی بھائی لگے لیکن ) تم اس سے پردہ کرو ( کیونکہ فی الواقع وہ تیرا بھائی نہیں ہے ) “۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِي ابْنِ زَمْعَةَ قَالَ سَعْدٌ أَوْصَانِي أَخِي عُتْبَةُ إِذَا قَدِمْتَ مَكَّةَ فَانْظُرِ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ فَهُوَ ابْنِي . فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ هُوَ ابْنُ أَمَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي . فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ " .
#3488
Sahih
It was narrated that Zaid bin Arqam said:"Three men were brought to 'Ali while he was in Yemen; they all had intercourse with a woman during a single menstrual cycle. He asked two of them: 'Do you affirm that this child belongs to (the third man)?' And they said: 'No.' He asked another two of them: 'Do you affirm that this child belongs to (the third man)?' And they said: 'No.' So he cast lots between them, and attributed the child to the one whom the lot fell, and obliged him to pay two-thirds of the Diyah. The Prophet was told of this, and he laughed so much that his back teeth became visible
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ جب یمن میں تھے ان کے پاس تین آدمی لائے گئے، ایک ہی طہر ( پاکی ) میں ان تینوں نے ایک عورت کے ساتھ جماع کیا تھا ( جھگڑا لڑکے کے تعلق سے تھا کہ ان تینوں میں سے کس کا ہے ) انہوں نے دو کو الگ کر کے پوچھا: کیا تم دونوں یہ لڑکا تیسرے کا تسلیم و قبول کرتے ہو، انہوں نے کہا: نہیں، پھر انہوں نے دو کو الگ کر کے تیسرے کے بارے میں پوچھا: کیا تم دونوں لڑکا اس کا مانتے ہو، انہوں نے کہا: نہیں، پھر انہوں نے ان تینوں کے نام کا قرعہ ڈالا اور جس کے نام پر قرعہ نکلا بچہ اسی کو دے دیا، اور دیت کا دو تہائی اس کے ذمہ کر دیا ( اور اس سے لے کر ایک ایک تہائی ان دونوں کو دے دیا ) ۱؎ یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کی گئی تو آپ ہنس پڑے اور ایسے ہنسے کہ آپ کی داڑھ دکھائی دینے لگی ۲؎۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ صَالِحٍ الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ أُتِيَ عَلِيٌّ رضى الله عنه بِثَلاَثَةٍ وَهُوَ بِالْيَمَنِ وَقَعُوا عَلَى امْرَأَةٍ فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ فَسَأَلَ اثْنَيْنِ أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ قَالاَ لاَ . ثُمَّ سَأَلَ اثْنَيْنِ أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ قَالاَ لاَ . فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالَّذِي صَارَتْ عَلَيْهِ الْقُرْعَةُ وَجَعَلَ عَلَيْهِ ثُلُثَىِ الدِّيَةِ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ .
#3489
Sahih
It was narrated that Zaid bin Arqam said:"While we were with the Messenger of Allah, a man came to him from Yemen and started telling him (about an incident) while 'Ali was still in Yemen. He said: 'O Messenger of Allah, three men were brought to 'Ali who were disputing about a child, and they all had intercourse with a woman during a single menstrual cycle.'" And he quoted the same Hadith
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اسی اثناء میں یمن سے ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو وہاں کی باتیں بتانے اور آپ سے باتیں کرنے لگا، ان دنوں علی رضی اللہ عنہ یمن ہی میں تھے، اس نے کہا: اللہ کے رسول! تین اشخاص ایک لڑکے کے لیے جھگڑتے ہوئے علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ ان تینوں نے ایک عورت سے ایک ہی طہر میں جماع کیا تھا اور آگے وہی حدیث بیان کی جو گزر چکی ہے۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الأَجْلَحِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْخَلِيلِ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنَ الْيَمَنِ فَجَعَلَ يُخْبِرُهُ وَيُحَدِّثُهُ وَعَلِيٌّ بِهَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَى عَلِيًّا ثَلاَثَةُ نَفَرٍ يَخْتَصِمُونَ فِي وَلَدٍ وَقَعُوا عَلَى امْرَأَةٍ فِي طُهْرٍ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
#3490
Sahih
It was narrated that Zaid bin Arqam said:"I was with the Messenger of Allah, and 'Ali, may Allah be pleased with him, was in Yemen at that time. A man came to him and said: 'I saw 'Ali when three men were brought to him who all claimed (to be the father) of a child. 'Ali said to one of them: Will you give the child up to him? And he refused. He said to (the next one): Will you give the child up to him? And he refused. He said to (the next one): Will you give the child up to him? And he refused. 'Ali said: You are disputing partners. I will cast lots among you, and whoever wins the draw, the child is for him, and he has to pay two-thirds of the Diyah.' The Messenger of Allah laughed so much that his back teeth became visible
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا اور علی رضی اللہ عنہ ان دنوں یمن میں تھے، ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں ایک دن علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، ان کے پاس تین آدمی آئے وہ تینوں ایک عورت کے بیٹے کے دعویدار تھے ( کہ یہ بیٹا ہمارا ہے ) علی رضی اللہ عنہ نے ان میں سے ایک سے کہا: کیا تم ان دونوں کے حق میں اس بیٹے سے دستبردار ہوتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، علی رضی اللہ عنہ نے ( دوسرے سے ) کہا: کیا تم ان دونوں کے حق میں اس بیٹے سے دستبردار ہوتے ہو؟ کہا: نہیں، اور تیسرے سے کہا: کیا تم ان دونوں کے حق میں اس بیٹے سے دستبردار ہوتے ہو؟ کہا نہیں، علی رضی اللہ عنہ نے کہا: تم سب آپس میں جھگڑتے اور ایک دوسرے کی مخالفت کرتے ہو، میں تم لوگوں کے درمیان قرعہ اندازی کر دیتا ہوں تو جس کے نام قرعہ نکل آئے لڑکا اسی کا مانا جائے گا اور اسے دیت کا دو تہائی دینا ہو گا ( جو لڑکے سے محروم دونوں کو ایک ایک ثلث تہائی کر کے دے دیا جائے گا ) یہ قصہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے ( اور ایسے زور سے ہنسے ) کہ آپ کی داڑھ دکھائی پڑنے لگی۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الأَجْلَحِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَعَلِيٌّ رضى الله عنه يَوْمَئِذٍ بِالْيَمَنِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ شَهِدْتُ عَلِيًّا أُتِيَ فِي ثَلاَثَةِ نَفَرٍ ادَّعَوْا وَلَدَ امْرَأَةٍ فَقَالَ عَلِيٌّ لأَحَدِهِمْ تَدَعُهُ لِهَذَا . فَأَبَى وَقَالَ لِهَذَا تَدَعُهُ لِهَذَا . فَأَبَى وَقَالَ لِهَذَا تَدَعُهُ لِهَذَا . فَأَبَى قَالَ عَلِيٌّ رضى الله عنه أَنْتُمْ شُرَكَاءُ مُتَشَاكِسُونَ وَسَأُقْرِعُ بَيْنَكُمْ فَأَيُّكُمْ أَصَابَتْهُ الْقُرْعَةُ فَهُوَ لَهُ وَعَلَيْهِ ثُلُثَا الدِّيَةِ . فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ .
#3491
Sahih Lighairihi
It was narrated from a man from Hadramawt, that Zaid bin Arqam said:"The Messenger of Allah sent 'Ali to (be the governor of) Yemen, and a child was brought to him concerning whom three men were disputing." Then he quoted the same Hadith. Salamah bin Kuhail contradicted them
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا گورنر بنا کر بھیجا۔ ان کے پاس ایک بچہ لایا گیا، جس کا باپ ہونے کے تین دعویدار تھے اور آگے وہی حدیث پوری بیان کر دی ( جو پہلے گزر چکی ہے ) نسائی کہتے ہیں: «خالفہم سلمۃ بن کہیل» سلمہ بن کہیل نے ان لوگوں کے خلاف روایت کی ہے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينَ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ حَضْرَمَوْتَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلِيًّا عَلَى الْيَمَنِ فَأُتِيَ بِغُلاَمٍ تَنَازَعَ فِيهِ ثَلاَثَةٌ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ . خَالَفَهُمْ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ .
#3492
Daif
Salamah bin Kuhail said:"I heard Ash-Sha'bi narrating from Abu Al-Khalil or Ibn Abi Al-Khalil that three men had intercourse (with the same woman) during a single menstrual cycle;" and he mentioned something similar, but he did not mention Zaid bin Arqam or attribute anything to the Prophet
سلمہ بن کہیل کہتے ہیں کہ میں نے شعبی کو ابوالخیل سے یا ابن ابی الخیل سے بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ تین آدمی ( ایک عورت سے ) ایک ہی طہر میں ( جماع کرنے میں ) شریک ہوئے۔ انہوں نے حدیث کو اسی طرح بیان کیا ( جیسا کہ اوپر بیان ہوئی ) لیکن زید بن ارقم کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی حدیث کو مرفوع روایت کیا ہے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہی صحیح ہے، واللہ أعلم۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، أَوِ ابْنِ أَبِي الْخَلِيلِ أَنَّ ثَلاَثَةَ، نَفَرٍ اشْتَرَكُوا فِي طُهْرٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا صَوَابٌ وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ .
#3493
Sahih
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah came to me looking happy and cheerful, and he said: 'Did you not see that Mujazziz looked at Zaid bin Harithah and Usamah and said: These feet belong to one another
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس خوش خوش آئے، آپ کے چہرے کے خطوط خوشی سے چمک دمک رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”ارے تمہیں نہیں معلوم؟ مجزز ( قیافہ شناس ہے ) نے زید بن حارثہ اور اسامہ کو دیکھا تو کہنے لگا: ان کے پیروں کے بعض حصے ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَىَّ مَسْرُورًا تَبْرُقُ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ فَقَالَ " أَلَمْ تَرَىْ أَنَّ مُجَزِّزًا نَظَرَ إِلَى زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَأُسَامَةَ فَقَالَ إِنَّ بَعْضَ هَذِهِ الأَقْدَامِ لَمِنْ بَعْضٍ " .
#3494
Sahih
It was narrated that 'Aishah, may Allah be pleased with her, said:"The Messenger of Allah came to me one day looking happy and said: 'O 'Aishah! Did you not see that Mujazziz Al-Mudliji came to me when Usamah bin Zaid was with me. He saw Usamah bin Zaid and Zaid with a blanket over them; their heads were covered but their feet were exposed, and he said: These feet belong to one another
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس خوش خوش آئے اور کہا: عائشہ! ارے تم نے نہیں دیکھا مجزز مدلجی ( قیافہ شناس ) میرے پاس آیا اور ( اس وقت ) میرے پاس اسامہ بن زید تھے، اس نے اسامہ بن زید اور ( ان کے والد ) زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما دونوں کو دیکھا، ان کے اوپر ایک چھوردار چادر پڑی ہوئی تھی جس سے وہ دونوں اپنا سر ڈھانپے ہوئے تھے اور ان کے پیر دکھائی پڑ رہے تھے، اس نے ان کے پیر دیکھ کر کہا: یہ وہ پیر ہیں جن کا بعض بعض سے ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ مَسْرُورًا فَقَالَ " يَا عَائِشَةُ أَلَمْ تَرَىْ أَنَّ مُجَزِّزًا الْمُدْلِجِيَّ دَخَلَ عَلَىَّ وَعِنْدِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَرَأَى أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَزَيْدًا وَعَلَيْهِمَا قَطِيفَةٌ وَقَدْ غَطَّيَا رُءُوسَهُمَا وَبَدَتْ أَقْدَامُهُمَا فَقَالَ هَذِهِ أَقْدَامٌ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ " .
#3495
Sahih
It was narrated from 'Abdul-Hamid bin Salamah Al-Ansari, from his father, from his grandfather, that he became Muslim but his wife refused to become Muslim. A young son of theirs, who had not yet reached puberty, came, and the Prophet seated the father on one side and the mother on the other side, and he gave him the choice. He said:"O Allah, guide him," and (the child) went to his father
سلمہ انصاری اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اسلام لے آئے اور ان کی بیوی نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا، ان دونوں کا ایک چھوٹا بیٹا جو ابھی بالغ نہیں ہوا تھا آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بٹھا لیا، باپ بھی وہیں تھا اور ماں بھی وہیں تھی۔ آپ نے اسے اختیار دیا ( ماں باپ میں سے جس کے ساتھ بھی تو ہونا چاہے اس کے ساتھ ہو جا ) اور ساتھ ہی کہا ( یعنی دعا کی ) اے اللہ اسے ہدایت دے تو وہ باپ کی طرف ہو لیا۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سَلَمَةَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ أَسْلَمَ وَأَبَتِ امْرَأَتُهُ أَنْ تُسْلِمَ فَجَاءَ ابْنٌ لَهُمَا صَغِيرٌ لَمْ يَبْلُغِ الْحُلُمَ فَأَجْلَسَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الأَبَ هَا هُنَا وَالأُمَّ هَا هُنَا ثُمَّ خَيَّرَهُ فَقَالَ " اللَّهُمَّ اهْدِهِ " . فَذَهَبَ إِلَى أَبِيهِ .
#3496
Sahih
It was narrated that Abu Maimunah said:"While I was with Abu Hurairah he said: 'A woman came to the Messenger of Allah and said: May my father and mother be ransomed for you! My husband wants to take my son away, but he helps me, and brings me water from the well of Abu 'Inabah. Her husband came and said: Who is going to take my son from me? The Messenger of Allah said: "O boy, this is your father and this is your mother; take the hand of whichever of them you want." He took his mother's hand and she left with him
ابومیمونہ کہتے ہیں کہ ہم ایک دن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو انہوں نے بتایا کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان! میرا شوہر میرا بیٹا مجھ سے چھین لینا چاہتا ہے جب کہ مجھے اس سے فائدہ ( و آرام ) ہے، وہ مجھے عنبہ کے کنویں کا پانی ( لا کر ) پلاتا ہے، ( اتنے میں ) اس کا شوہر بھی آ گیا اور اس نے کہا: کون میرے بیٹے کے معاملے میں مجھ سے جھگڑا ( اور اختلاف ) کرتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس کے بیٹے سے کہا: ) اے لڑکے! یہ تمہارا باپ ہے اور یہ تمہاری ماں ہے، تو تم جس کے ساتھ رہنا چاہو اس کا ہاتھ پکڑ لو چنانچہ اس نے اپنی ماں کا ہاتھ تھام لیا اور وہ اسے اپنے ساتھ لے گئی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي زِيَادٌ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ، قَالَ بَيْنَا أَنَا عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ إِنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي إِنَّ زَوْجِي يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِابْنِي وَقَدْ نَفَعَنِي وَسَقَانِي مِنْ بِئْرِ أَبِي عِنَبَةَ . فَجَاءَ زَوْجُهَا وَقَالَ مَنْ يُخَاصِمُنِي فِي ابْنِي فَقَالَ " يَا غُلاَمُ هَذَا أَبُوكَ وَهَذِهِ أُمُّكَ فَخُذْ بِيَدِ أَيِّهِمَا شِئْتَ " . فَأَخَذَ بِيَدِ أُمِّهِ فَانْطَلَقَتْ بِهِ .
#3497
Sahih
Ar-Rubayy' bint Mu'awwidh bin 'Afra' narrated that Thabit bin Qais bin Shammas hit his wife and broke her arm --her name was Jamilah bint 'Abdullah bin Ubayy. Her brother came to the Messenger of Allah to complain about him, and the Messenger of Allah sent for Thabit and said:"Take what she owes you and let her go." He said: "Yes." And the Messenger of Allah ordered her to wait for one menstrual cycle and then go to her family
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو مارا اور ( ایسی مار ماری کہ ) اس کا ہاتھ ( ہی ) توڑ دیا۔ وہ عورت عبداللہ بن ابی کی بیٹی جمیلہ تھی، اس کا بھائی اس کی شکایت لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت بن قیس کو بلا بھیجا ( جب وہ آئے تو ) آپ نے ان سے فرمایا: ”تمہاری دی ہوئی جو چیز اس کے پاس ہے اسے لے لو اور اس کا راستہ چھوڑ دو“ ۱؎ انہوں نے کہا: اچھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ( یعنی عورت جمیلہ کو ) حکم دیا کہ ایک حیض کی عدت گزار کر اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ ۲؎۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ قَالَ أَخْبَرَنِي شَاذَانُ بْنُ عُثْمَانَ، أَخُو عَبْدَانَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ الرُّبَيِّعَ بِنْتَ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ ثَابِتَ بْنَ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ ضَرَبَ امْرَأَتَهُ فَكَسَرَ يَدَهَا وَهِيَ جَمِيلَةُ بِنْتُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَىٍّ فَأَتَى أَخُوهَا يَشْتَكِيهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى ثَابِتٍ فَقَالَ لَهُ " خُذِ الَّذِي لَهَا عَلَيْكَ وَخَلِّ سَبِيلَهَا " . قَالَ نَعَمْ . فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ تَتَرَبَّصَ حَيْضَةً وَاحِدَةً فَتَلْحَقَ بِأَهْلِهَا .
#3498
Hasan Sahih
Ubadah bin Al-Walid bin 'Ubadah bin As-Samit narrated from Rubayy' bint Mu'awwidh. He said:"I said to her: 'Tell me your Hadith.' She said: 'I was separated from husband by Khul', then I came to 'Uthman and asked him: What 'Iddah do I have to observe? He said: You do not have to observe any 'Iddah, unless you had intercourse with him recently, in which case you should stay with him until you have menstruated. He said: In that I am following the ruling of the Messenger of Allah concerning Mariam Al-Maghaliyyah, who was married to Thabit bin Qais and was separated by Khul' from him
عبادہ بن ولید ربیع بنت معوذ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا کہ آپ مجھ سے اپنا واقعہ ( حدیث ) بیان کیجئے انہوں نے کہا: میں نے اپنے شوہر سے خلع کیا اور عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر پوچھا کہ مجھے کتنی عدت گزارنی ہو گی؟ انہوں نے کہا: تمہارے لیے عدت تو کوئی نہیں لیکن اگر انہیں دنوں ( یعنی طہر سے فراغت کے بعد ) اپنے شوہر کے پاس رہی ہو تو ایک حیض آنے تک رکی رہو۔ انہوں نے کہا: میں اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فیصلے کی پیروی کر رہا ہوں جو آپ نے ثابت بن قیس کی بیوی مریم غالیہ کے خلع کرنے کے موقع پر صادر فرمایا تھا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ رُبَيِّعٍ بِنْتِ مُعَوِّذٍ، قَالَ قُلْتُ لَهَا حَدِّثِينِي حَدِيثَكِ، . قَالَتِ اخْتَلَعْتُ مِنْ زَوْجِي ثُمَّ جِئْتُ عُثْمَانَ فَسَأَلْتُهُ مَاذَا عَلَىَّ مِنَ الْعِدَّةِ فَقَالَ لاَ عِدَّةَ عَلَيْكِ إِلاَّ أَنْ تَكُونِي حَدِيثَةَ عَهْدٍ بِهِ فَتَمْكُثِي حَتَّى تَحِيضِي حَيْضَةً - قَالَ - وَأَنَا مُتَّبِعٌ فِي ذَلِكَ قَضَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَرْيَمَ الْمَغَالِيَّةِ كَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ فَاخْتَلَعَتْ مِنْهُ .
#3499
Hasan Sahih
It was narrated from Ibn 'Abbas with regard to Allah's saying:"Whatever a Verse (revelation) do We abrogate or cause to be forgotten, We bring a better one or similar to it." and He said: "And when We change a Verse in place of another --and Allah knows best what He sends down." and He said: "Allah blots out what He wills and confirms (what He wills). And with Him is the Mother of the Book." "The first thing that was abrogated in the Qur'an was the Qiblah." And He said: "And divorced women shall wait (as regards their marriage) for three menstrual periods." and He said: "And those of your women as have passed the age of monthly courses, for them the 'Iddah, if you have doubt (about their periods), is three months." So (some) of that was abrogated, (according to) His, Most High, saying: "And then divorce them before you have sexual intercourse with them, no 'Iddah have you to count in respect of them
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما ۔ ( سورۃ البقرہ کی ) آیت: «ما ننسخ من آية أو ننسها نأت بخير منها أو مثلها» ”جس آیت کو ہم منسوخ کر دیں یا بھلا دیں اس سے بہتر یا اس جیسی اور لاتے ہیں“۔ ( البقرہ: ۱۰۶ ) ( اور سورۃ النمل کی ) آیت: «وإذا بدلنا آية مكان آية واللہ أعلم بما ينزل» ”اور جب ہم کسی آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیتے ہیں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نازل فرماتا ہے“۔ ( النحل: ۱۰۱ ) ( اور سورۃ الرعد کی ) آیت: «يمحو اللہ ما يشاء ويثبت وعنده أم الكتاب» ”اللہ جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے ثابت رکھے لوح محفوظ اسی کے پاس ہے“۔ ( الرعد: ۳۹ ) کے بارے میں فرماتے ہیں: ان آیات کی روشنی میں پہلی چیز جو منسوخ ہوئی وہ قبلہ کی تبدیلی ہے ۱؎، اور ( اس کے بعد ) ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ( اور یہ جو سورۃ البقرہ کی ) آیت: «والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء» ”طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں“۔ ( البقرہ: ۲۲۸ ) اور ( سورۃ الطلاق کی ) آیت: «واللائي يئسن من المحيض من نسائكم إن ارتبتم فعدتهن ثلاثة أشهر» ”تمہاری عورتوں میں سے جو عورتیں حیض سے ناامید ہو گئی ہوں اگر تمہیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے“۔ ( الطلاق: ۴ ) آئی ہے تو ان دونوں آیات سے ( ان کا عموم ) منسوخ ہو گیا ( سورۃ الاحزاب کی اس ) آیت: «وإن طلقتموهن من قبل أن تمسوهن» سے ”اگر تم مومنہ عورتوں کو ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دے دو تو ان پر تمہارا کوئی حق عدت کا نہیں جسے تم شمار کرو“۔ ( الاحزاب: ۴۹ ) ۔
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، أَنْبَأَنَا يَزِيدُ النَّحْوِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ { مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا } وَقَالَ { وَإِذَا بَدَّلْنَا آيَةً مَكَانَ آيَةٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ } الآيَةَ وَقَالَ { يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ } فَأَوَّلُ مَا نُسِخَ مِنَ الْقُرْآنِ الْقِبْلَةُ وَقَالَ { وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلاَثَةَ قُرُوءٍ } وَقَالَ { وَاللاَّئِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلاَثَةُ أَشْهُرٍ } فَنُسِخَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ تَعَالَى { وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ } { فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا } .
#3500
Sahih
It was narrated that Zainab bint Umm Salamah said:"Umm Habibah said: 'I heard the Messenger of Allah say: It is not permissible for a woman who believes in Allah and the Last Day to mourn for anyone who dies for more than three days, except for a husband; (she mourns for him for) four months and ten (days)
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والی کسی بھی عورت کے لیے حلال نہیں ہے کہ شوہر کے سوا کسی بھی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے، وہ شوہر کے انتقال پر چار مہینہ دس دن سوگ منائے گی“۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ تَحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا " .