#3451
Sahih
It was narrated that 'Aishah said:"Barirah made a contract that she would be freed in return for nine Awaq, one Uqiyyah to be paid each year." She came to 'Aishah asking for help and she said: "No, not unless they agree to accept the sum in one payment, and that the Wala' will go to me." Barirah went and spoke to her masters but they insisted that the Wala' should be for them. She came to 'Aishah and the Messenger of Allah came, and she told her what her masters had said. She said: "No, by Allah, not unless Wala' is to me." The Messenger of Allah said: "What is this?" She said: "O Messenger of Allah, Barirah came to me and asked me to help her with her contract of manumission, and I said no, not unless they agree to accept the sum in one payment, and that the Wala' will be for me. She mentioned that to her masters and they insisted that the Wala' should be for them." The Messenger of Allah said: "Buy her, and stipulate that the Wala' is for the one who sets the slave free." Then he stood up and addressed the people and said: "What is the matter with people who stipulate conditions that are not in the Book of Allah, the Mighty and Sublime? They say: 'I set so-and-so free but the Wala' will be to me.' Every condition that is not in the Book of Allah, the Mighty and Sublime, is a false condition, even if there are a hundred conditions." And the Messenger of Allah gave her the choice with regard to her husband who was still a slave, and she chose herself. 'Urwah said: "If he had been free the Messenger of Allah would not have given her the choice
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنی آزادی کے لیے نو اوقیہ ۱؎ پر مکاتبت کی اور ہر سال ایک اوقیہ ادا کرنے کی شرط ٹھہرائی اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے مدد حاصل کرنے کے لیے ان کے پاس آئی۔ انہوں نے کہا: میں اس طرح مدد تو نہیں کرتی لیکن اگر وہ اس پر راضی ہوں کہ میں انہیں ایک ہی دفعہ میں پوری رقم گن دوں اور ولاء ( وراثت ) میرا حق ہو ( تو میں ایسا کر سکتی ہوں ) ، بریرہ اپنے لوگوں کے پاس گئی اور ان لوگوں سے اس معاملے میں بات کی، تو انہوں نے بغیر ولاء ( وراثت ) کے ان کی بات ماننے سے انکار کر دیا ( کہا ولاء ( میراث ) ہم لیں گے ) تو وہ لوٹ کر عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی، اور اسی موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے، بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنے مالک کے جواب سے انہیں ( عائشہ کو ) آگاہ کیا، انہوں نے کہا: نہ قسم اللہ کی جب تک ولاء ( میراث ) مجھے نہ ملے گی ( میں اکٹھی رقم نہ دوں گی ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا قصہ ہے؟ انہوں کہا: اللہ کے رسول! ( بات یہ ہے کہ ) بریرہ اپنی مکاتبت رضی اللہ عنہا پر مجھ سے امداد طلب کرنے آئی تو میں نے اس سے کہا میں یوں تو مدد نہیں کرتی مگر ہاں اگر وہ ولاء ( میراث ) کو میرا حق تسلیم کریں تو میں ساری رقم انہیں یکبارگی گن دیتی ہوں، اس بات کا ذکر اس نے اپنے مالک سے کیا تو انہوں نے کہا: نہیں، ولاء ( میراث ) ہم لیں گے ( تب ہی ہم اس پر راضی ہوں گے ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( عائشہ سے ) کہا: ”تم اسے خرید لو اور ان کے لیے ولاء ( میراث ) کی شرط مان لو، ولاء اس شخص کا حق ہے جو اسے آزاد کرے ( اس طرح جب تم خرید کر آزاد کر دو گی تو حق ولاء ( میراث ) تم کو مل جائے گا ) “ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے لوگوں کو خطاب کیا ( سب سے پہلے ) اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ ( قرآن ) میں نہیں ہیں، کہتے ہیں: ( ہم سے خرید کر ) آزاد تم کرو لیکن ولاء ( وراثت ) ہم لیں گے۔ اللہ عزوجل کی کتاب بر حق و صحیح تر ہے اور اللہ کی شرط مضبوط، ٹھوس اور قابل اعتماد ہے اور ہر وہ شرط جس کا کتاب اللہ میں وجود و ثبوت نہیں ہے باطل و بے اثر ہے، اگرچہ وہ ایک نہیں سو شرطیں ہوں“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے شوہر کے ساتھ رہنے یا علیحدہ ہو جانے کا اختیار دیا، اس کا شوہر غلام تھا تو اس نے اپنے آپ کو علیحدہ کر لیا۔ عروہ کہتے ہیں: اگر اس کا شوہر آزاد شخص ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ( علیحدہ ہو جانے کا ) اختیار نہ دیتے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَاتَبَتْ بَرِيرَةُ عَلَى نَفْسِهَا بِتِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ سَنَةٍ بِأُوقِيَّةٍ فَأَتَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا فَقَالَتْ لاَ إِلاَّ أَنْ يَشَاءُوا أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً وَيَكُونُ الْوَلاَءُ لِي . فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ فَكَلَّمَتْ فِي ذَلِكَ أَهْلَهَا فَأَبَوْا عَلَيْهَا إِلاَّ أَنْ يَكُونَ الْوَلاَءُ لَهُمْ فَجَاءَتْ إِلَى عَائِشَةَ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ ذَلِكَ فَقَالَتْ لَهَا مَا قَالَ أَهْلُهَا فَقَالَتْ لاَهَا اللَّهِ إِذًا إِلاَّ أَنْ يَكُونَ الْوَلاَءُ لِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا هَذَا " . فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بَرِيرَةَ أَتَتْنِي تَسْتَعِينُ بِي عَلَى كِتَابَتِهَا فَقُلْتُ لاَ إِلاَّ أَنْ يَشَاءُوا أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً وَيَكُونُ الْوَلاَءُ لِي فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لأَهْلِهَا فَأَبَوْا عَلَيْهَا إِلاَّ أَنْ يَكُونَ الْوَلاَءُ لَهُمْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ابْتَاعِيهَا وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلاَءَ فَإِنَّ الْوَلاَءَ لِمَنْ أَعْتَقَ " . ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُونَ أَعْتِقْ فُلاَنًا وَالْوَلاَءُ لِي كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ وَكُلُّ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ " . فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ زَوْجِهَا وَكَانَ عَبْدًا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا . قَالَ عُرْوَةُ فَلَوْ كَانَ حُرًّا مَا خَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#3452
Sahih
It was narrated that 'Aishah, may Allah be pleased with her, said:"The husband of Barirah was a slave
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر غلام شخص تھا۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا .
#3453
Hasan Sahih
It was narrated from 'Aishah that she bought Barirah from some of the Ansar who stipulated that her Wala' should go to them. The Messenger of Allah said:"Al-Wala' is to the one who did the favor (of setting the slave free)." The Messenger of Allah gave her the choice, as her husband was a slave. And she gave some meat to 'Aishah as a gift, and the Messenger of Allah said: "Why don't you give me some of this meat?" 'Aishah said: "It was given in charity to Barirah." He said: "It is a charity for her, and a gift for us
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بریرہ کو کچھ انصاری لوگوں سے خریدا جنہوں نے ( اپنے لیے ) ولاء ( میراث ) کی شرط رکھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولاء ( میراث ) کا حقدار ولی نعمت ( آزاد کرانے والا ) ہوتا ہے“ ۱؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ( یعنی بریرہ کو ) اختیار دیا، اس کا شوہر غلام تھا ( اس نے اس حق کا اپنے حق میں استعمال کیا اور شوہر کو چھوڑ دیا ) ، اس نے ( بریرہ نے ) عائشہ رضی اللہ عنہا کو گوشت کا ہدیہ بھیجا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس گوشت میں ہمارے لیے بھی تو حصہ رکھنا تھا“، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: وہ گوشت بریرہ کے پاس صدقہ آیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ بریرہ کے لیے صدقہ تھا لیکن ہمارے لیے ( صدقہ نہیں ) ہدیہ ہے“ ۲؎۔
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ مِنْ أُنَاسٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَاشْتَرَطُوا الْوَلاَءَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْوَلاَءُ لِمَنْ وَلِيَ النِّعْمَةَ " . وَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا وَأَهْدَتْ لِعَائِشَةَ لَحْمًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ وَضَعْتُمْ لَنَا مِنْ هَذَا اللَّحْمِ " . قَالَتْ عَائِشَةُ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ . فَقَالَ " هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ " .
#3454
Sahih
Yahya bin Abi Bukair Al-Karmani said:"Shu'bah narrated to us, from 'Abdur-Rahman bin Al-Qasim, from his father, from 'Aishah. He (Shu'bah) said: "And he ('Abdur-Rahman) was the executor for his father." He (Shu'bah) said: "I was afraid to say to him: 'Did you hear this from your father.'" -- 'Aishah said: "I asked the Messenger of Allah about Barirah, as I wanted to buy her but it was stipulated that the Wala' would go to her (former) masters. He said: 'Buy her, for the Wala' is to the one who sets the slave free.' And she was given the choice, as her husband was a slave." Then he said, after that: "I do not know." --"And some meat was brought to the Messenger of Allah and they said: 'This is some of that which was given in charity to Barirah.' He said: 'It is charity for her and a gift for us
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بریرہ رضی اللہ عنہا کے معاملہ میں آپ کی رائے پوچھی، میرا ارادہ اسے خرید لینے کا ہے، لیکن اس کے مالکان کی طرف سے ( اپنے لیے ) ولاء ( میراث ) کی شرط لگائی گئی ہے ( پھر میں کیا کروں؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( اس شرط کے ساتھ بھی ) تم اسے خرید لو ( یہ شرط لغو و باطل ہے ) ولاء ( میراث ) اس شخص کا حق ہے جو آزاد کرے“۔ راوی کہتے ہیں: ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے خرید کر آزاد کر دیا ) اور اسے اختیار دیا گیا ( شوہر کے ساتھ رہنے یا اسے چھوڑ دینے کا ) اس کا شوہر غلام تھا۔ یہ کہنے کے بعد راوی پھر کہتے ہیں: میں نہیں جانتا ( کہ اس کا شوہر واقعی غلام تھا یا آزاد تھا ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت پیش کیا گیا اور لوگوں نے بتایا کہ بریرہ کے پاس صدقہ میں آئے ہوئے گوشت میں سے یہ ہے۔ آپ نے فرمایا: ”وہ بریرہ کے لیے صدقہ اور ہمارے لیے ہدیہ و تحفہ ہے“ ( اس لیے ہم کھا سکتے ہیں ) ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ الْكَرْمَانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - قَالَ وَكَانَ وَصِيَّ أَبِيهِ قَالَ وَفَرِقْتُ أَنْ أَقُولَ، سَمِعْتُهُ مِنْ، أَبِيكَ - قَالَتْ عَائِشَةُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَرِيرَةَ وَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَهَا وَاشْتُرِطَ الْوَلاَءُ لأَهْلِهَا فَقَالَ " اشْتَرِيهَا فَإِنَّ الْوَلاَءَ لِمَنْ أَعْتَقَ " . قَالَ وَخُيِّرَتْ وَكَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ مَا أَدْرِي وَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِلَحْمٍ . فَقَالُوا هَذَا مِمَّا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ . قَالَ " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ " .
#3455
Sahih
Ibn 'Abbas said:"One morning, we saw the wives of the Prophet weeping, and each one of them had her family with her. I entered the Masjid and found it filled with people. Then 'Umar, may Allah be pleased with him, came, and went to the Prophet who was in his room. He greeted him with the Salam but no one answered. He greeted him again but no one answered. He greeted him (a third time) but no one answered. So he went back and called out: 'Bilal!' He came to the Prophet and said: 'Have you divorced your wives?' He said: 'No, but I have sworn an oath of abstention from them for a month.' So he stayed away from them for twenty-nine days, then he came and went into his wives
ابویعفور کہتے ہیں کہ ہم ابوالضحیٰ کے پاس تھے اور ہماری بحث مہینہ کے بارے میں چھڑ گئی، بعض نے کہا کہ مہینہ تیس دن کا ہوتا ہے اور بعض نے کہا: انتیس ( ۲۹ ) دن کا۔ ابوالضحیٰ نے کہا: ( سنو ) ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہم سے حدیث بیان کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک صبح ہم سب کی ایسی آئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں رو رہی تھیں اور ان سبھی کے پاس ان کے گھر والے موجود تھے، میں مسجد میں پہنچا تو مسجد ( کھچا کھچ ) بھری ہوئی تھی، ( اس وقت ) عمر رضی اللہ عنہ آئے اور اوپر چڑھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، آپ اپنے بالا خانہ میں تھے، آپ کو سلام کیا تو کسی نے انہیں جواب نہیں دیا، عمر رضی اللہ عنہ نے پھر سلام کیا پھر کسی نے انہیں جواب نہیں دیا، پھر سلام کیا پھر انہیں کسی نے سلام کا جواب نہیں دیا۔ پھر لوٹ پڑے اور بلال کو بلایا ۱؎ اور اوپر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ سے پوچھا: کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، لیکن میں نے ان سے ایک مہینہ کا ایلاء کیا ہے، پھر آپ انتیس ( ۲۹ ) دن ( اوپر ) وہاں قیام فرما رہے، پھر نیچے آئے اور اپنی بیویوں کے پاس گئے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ الْبَصْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو يَعْفُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، قَالَ تَذَاكَرْنَا الشَّهْرَ عِنْدَهُ فَقَالَ بَعْضُنَا ثَلاَثِينَ . وَقَالَ بَعْضُنَا تِسْعًا وَعِشْرِينَ . فَقَالَ أَبُو الضُّحَى حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ أَصْبَحْنَا يَوْمًا وَنِسَاءُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَبْكِينَ عِنْدَ كُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ أَهْلُهَا فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا هُوَ مَلآنُ مِنَ النَّاسِ - قَالَ - فَجَاءَ عُمَرُ رضى الله عنه فَصَعِدَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي عُلِّيَّةٍ لَهُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ ثُمَّ سَلَّمَ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ ثُمَّ سَلَّمَ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ فَرَجَعَ فَنَادَى بِلاَلاً فَدَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَطَلَّقْتَ نِسَاءَكَ فَقَالَ " لاَ وَلَكِنِّي آلَيْتُ مِنْهُنَّ شَهْرًا " . فَمَكَثَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ ثُمَّ نَزَلَ فَدَخَلَ عَلَى نِسَائِهِ .
#3456
Sahih Isnaad
It was narrated that Anas said:"The Prophet swore an oath of abstention from his wives for a month and stayed in his room for twenty-nine days. It was said: 'O Messenger of Allah, did you not swear an oath of abstention for a month?' He said: 'This month is twenty-nine days
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کے پاس ایک مہینے تک نہ جانے کا عہد کیا ( یعنی ایلاء کیا ) اور انتیس ( ۲۹ ) راتیں اپنے بالاخانے پر رہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتر آئے، آپ سے کہا گیا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے مہینہ بھر کا ایلاء نہیں کیا تھا؟ آپ نے فرمایا: ”مہینہ انتیس ( ۲۹ ) دن کا ( بھی ) ہوا کرتا ہے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ آلَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنْ نِسَائِهِ شَهْرًا فِي مَشْرَبَةٍ لَهُ فَمَكَثَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً ثُمَّ نَزَلَ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ آلَيْتَ عَلَى شَهْرٍ قَالَ " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ " .
#3457
Hasan
It was narrated from Ibn 'Abbas that a man came to the Prophet who had declared Zihar from his wife, then he had intercourse with her. He said:"O Messenger of Allah, I declared Zihar on my wife, then I had intercourse with her before I offered the expiation." He said: "What made you do that, may Allah have mercy on you?" He said: "I saw her anklets in the light of the moon." He said: "Do not approach her until you have done that which Allah, the Mighty and Sublime, has commanded
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جس نے اپنی بیوی سے ظہار کیا تھا پھر اس سے صحبت کر بیٹھا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ میں نے اپنی بیوی سے ظہار کیا تھا لیکن میں کفارہ ادا کیے بغیر اس سے جماع کر بیٹھا۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے، ایسا کر گزرنے پر تمہیں کس چیز نے مجبور کیا ہے“؟ اس نے کہا: چاند کی چاندنی میں میں نے اس کی پازیب دیکھی ( تو مجھ سے رہا نہ گیا اور میں اس سے جماع کر بیٹھا ) آپ نے فرمایا: ” ( اچھا اب ) اس کے قریب نہ جانا جب تک کہ وہ نہ کر لو جس کا اللہ نے ( ایسے موقع پر کرنے کا ) حکم دیا ہے ( یعنی کفارہ ادا کر دو ) “ ۲؎۔
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَدْ ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ فَوَقَعَ عَلَيْهَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي ظَاهَرْتُ مِنِ امْرَأَتِي فَوَقَعْتُ قَبْلَ أَنْ أُكَفِّرَ . قَالَ " وَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ " . قَالَ رَأَيْتُ خَلْخَالَهَا فِي ضَوْءِ الْقَمَرِ . فَقَالَ " لاَ تَقْرَبْهَا حَتَّى تَفْعَلَ مَا أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
#3458
Hasan
It was narrated that 'Ikrimah said:"A man declared Zihar to his wife, then had intercourse with her before he had offered the expiation. He mentioned that to the Prophet. The Prophet said to him: 'What made you do that?' He said: 'May Allah have mercy on you, O Messenger of Allah. I saw her anklets, or her calves, in the light of the moon.' The Messenger of Allah said: 'Keep away from her until you have done that which Allah, the Mighty and Sublime, has commanded
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کیا ( یعنی اپنی بیوی کو اپنی ماں کی طرح کہہ کر حرام کر لیا ) پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے اس سے صحبت کر لی، پھر جا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا ( کہ ایسا ایسا ہو گیا ہے ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”کس چیز نے تمہیں اس قدر بے قابو کر دیا کہ تم اس کام کے کرنے پر مجبور ہو گئے“، اس نے کہا: اللہ کی رحمتیں نازل ہوں آپ پر اللہ کے رسول! میں نے چاند کی چاندنی میں اس کی پازیب دیکھ لی ( راوی کو شبہ ہو گیا کہ یہ کہا یا یہ کہا ) کہ میں نے چاند کی چاندنی میں اس کی ( چمکتی ہوئی ) پنڈلیاں دیکھ لیں ( تو مجھ سے رہا نہ گیا ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے دور رہو جب تک کہ وہ نہ کر لو جس کا اللہ عزوجل نے تمہیں کرنے کا حکم دیا ہے“ ( یعنی کفارہ ادا کر دو ) ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ تَظَاهَرَ رَجُلٌ مِنِ امْرَأَتِهِ فَأَصَابَهَا قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ " . قَالَ رَحِمَكَ اللَّهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ خَلْخَالَهَا أَوْ سَاقَيْهَا فِي ضَوْءِ الْقَمَرِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَاعْتَزِلْهَا حَتَّى تَفْعَلَ مَا أَمَرَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
#3459
Hasan
Ikrimah said:"A man came to the Prophet of Allah and said: 'O Prophet of Allah,' and that he had declared Zihar to his wife, then he had intercourse with her before he did what he had to do. He said: 'What made you do that?' He said: 'O Prophet of Allah! I saw the whiteness of her calves in the moonlight.' The Prophet said: 'Keep away until you have done what you have to do.' (One of the narrators) Ishaq said in his Hadith: "Keep away from her until you have done what you have to do." The wording is that of Muhammad
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اللہ کے نبی! میں نے اپنی بیوی سے ظہار کیا اور ظہار کا کفارہ ادا کرنے سے پہلے ہی اسے چھاپ لیا۔ آپ نے فرمایا: ”کس چیز نے تمہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا؟“ اس نے کہا: اللہ کے نبی! میں نے چاندنی رات میں اس کی گوری گوری پنڈلیاں دیکھیں ( تو بے قابو ہو گیا ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے الگ رہو جب تک کہ تم ادا نہ کر دو وہ چیز جو تم پر عائد ہوتی ہے ( یعنی کفارہ دے دو ) “۔ اسحاق بن راہویہ نے اپنی حدیث میں «فاعتزل» کے بجائے «فاعتزلہا» بیان کیا ہے اور یہ «فاعتزل» لفظ محمد کی روایت میں ہے۔ امام ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ مرسل حدیث مسند کے مقابل میں زیادہ صحیح اور اولیٰ ہے واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم ۱؎۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْمُعْتَمِرُ، ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ سَمِعْتُ الْحَكَمَ بْنَ أَبَانَ، قَالَ سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ، قَالَ أَتَى رَجُلٌ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّهُ ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ ثُمَّ غَشِيَهَا قَبْلَ أَنْ يَفْعَلَ مَا عَلَيْهِ . قَالَ " مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ " . قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ رَأَيْتُ بَيَاضَ سَاقَيْهَا فِي الْقَمَرِ . قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَاعْتَزِلْ حَتَّى تَقْضِيَ مَا عَلَيْكَ " . وَقَالَ إِسْحَاقُ فِي حَدِيثِهِ " فَاعْتَزِلْهَا حَتَّى تَقْضِيَ مَا عَلَيْكَ " . وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُرْسَلُ أَوْلَى بِالصَّوَابِ مِنَ الْمُسْنَدِ وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ .
#3460
Sahih
It was narrated from 'Aishah that she said:"Praise be to Allah Whose hearing encompasses all voices. Khawlah came to the Messenger of Allah complaining about her husband, but I could not hear what she said. Then Allah, the Mighty and Sublime, revealed: 'Indeed Allah has heard the statement of her that disputes with you concerning her husband, and complains to Allah. And Allah hears the argument between you both
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے سزاوار ہیں جو ہر آواز سنتا ہے، خولہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اپنے شوہر کی شکایت کرنے لگیں ( کہ انہوں نے ان سے ظہار کر لیا ہے ) ان کی باتیں مجھے سنائی نہ پڑ رہی تھیں، تو اللہ عزوجل نے «قد سمع اللہ قول التي تجادلك في زوجها وتشتكي إلى اللہ واللہ يسمع تحاوركما» اتاری ( جس سے ہم سبھی کو معلوم ہو گیا کہ کیا باتیں ہو رہی تھیں ) ۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَسِعَ سَمْعُهُ الأَصْوَاتَ لَقَدْ جَاءَتْ خَوْلَةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَشْكُو زَوْجَهَا فَكَانَ يَخْفَى عَلَىَّ كَلاَمُهَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا } الآيَةَ .
#3461
Sahih
It was narrated from Ayyub, from Al-Hasan, from Abu Hurairah, that the Prophet said:"Women who seek divorce and Khul' are like the female hypocrites." Al-Hasan said: "I did not hear it from anyone other than Abu Hurairah
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے شوہروں سے بلا عذر کے خلع اور طلاق مانگنے والیاں منافق عورتیں ہیں“ ۲؎۔ حسن بصری کہتے ہیں: یہ حدیث میں نے ابوہریرہ کے سوا کسی اور سے نہیں سنی ہے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: حسن بصری نے ( یہ حدیث ہی کیا ) ابوہریرہ سے کچھ بھی نہیں سنا ہے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْمَخْزُومِيُّ، - وَهُوَ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ - قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " الْمُنْتَزِعَاتُ وَالْمُخْتَلِعَاتُ هُنَّ الْمُنَافِقَاتُ " . قَالَ الْحَسَنُ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ غَيْرِ أَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَسَنُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ شَيْئًا .
#3462
Sahih
It was narrated from Yahya bin Sa'eed, from 'Amrah bint 'Abdur-Rahman, that she told him about Habibah bint Sahl:"She was married to Thabit bin Qais bin Shammas. The Messenger of Allah went out to pray As-Subh and he found Habibah bint Sahl at his door at the end of the night. The Messenger of Allah said: 'Who is this?' She said: 'I am Habibah bint Sahl, O Messenger of Allah.' He said: 'What is the matter?' She said: 'I cannot live with Thabit bin Qais' -her husband. When Thabit bin Qais came, the Messenger of Allah said to him: 'Here is Habibah bint Sahl and she has said what Allah willed she should say.' Habibah said: 'O Messenger of Allah, everything that he gave me is with me.' The Messenger of Allah said: 'Take it from her.' So he took it from her and she stayed with her family
حبیبہ بنت سہل رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ وہ ثابت بن قیس بن شماس کی بیوی تھیں، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( نماز کے لیے ) صبح صادق میں نکلے تو ان کو اپنے دروازے پر تاریکی میں کھڑا ہوا پایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کون ہے یہ؟“ تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں حبیبہ بنت سہل ہوں، آپ نے فرمایا: ”کیا بات ہے، کیسے آنا ہوا؟“ انہوں نے کہا: نہ میں اور نہ ثابت بن قیس ( یعنی دونوں بحیثیت میاں بیوی ایک ساتھ نہیں رہ سکتے، آپ ہم میں علیحدگی کرا دیجئیے ) پھر جب ثابت بن قیس بھی آ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”یہ حبیبہ بنت سہل ہیں، اللہ کو ان سے جو کہلانا تھا وہ انہوں نے کہا“ حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! انہوں نے جو کچھ مجھے دیا ہے وہ میرے پاس موجود ہے ( وہ یہ لے سکتے ہیں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت رضی اللہ عنہ سے کہا: ”وہ ان سے لے لو ( اور ان کو چھوڑ دو ) “ تو انہوں نے ان سے لے لیا اور وہ ( وہاں سے آ کر ) اپنے گھر والوں کے ساتھ رہنے لگیں۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ سَهْلٍ، أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ إِلَى الصُّبْحِ فَوَجَدَ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ عِنْدَ بَابِهِ فِي الْغَلَسِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ هَذِهِ " . قَالَتْ أَنَا حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " مَا شَأْنُكِ " . قَالَتْ لاَ أَنَا وَلاَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ . لِزَوْجِهَا فَلَمَّا جَاءَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَذِهِ حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ قَدْ ذَكَرَتْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَذْكُرَ " . فَقَالَتْ حَبِيبَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّ مَا أَعْطَانِي عِنْدِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِثَابِتٍ " خُذْ مِنْهَا " . فَأَخَذَ مِنْهَا وَجَلَسَتْ فِي أَهْلِهَا .
#3463
Sahih
It was narrated from Ibn 'Abbas that the wife of Thabit bin Qais came to the Prophet and said:"O Messenger of Allah, I do not find any fault with Thabit bin Qais regarding his attitude or religious commitment, but I hate Kufr after becoming Muslim." The Messenger of Allah said: "Will you give him back his garden?" She said: "Yes." The Messenger of Allah said: "Take back the garden and divorce her once
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ثابت بن قیس کی بیوی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میں ثابت بن قیس کے اخلاق اور دین میں کسی کمی و کوتاہی کا الزام نہیں لگاتی لیکن میں اسلام میں رہتے ہوئے کفر و ناشکری کو ناپسند کرتی ہوں ۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اسے اس کا باغ واپس کر دو گی؟“ ( وہ باغ انہوں نے انہیں مہر میں دیا تھا ) انہوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت بن قیس سے فرمایا: ”اپنا باغ لے لو اور انہیں ایک طلاق دے دو“۔
أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ امْرَأَةَ، ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ أَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ أَمَا إِنِّي مَا أَعِيبُ عَلَيْهِ فِي خُلُقٍ وَلاَ دِينٍ وَلَكِنِّي أَكْرَهُ الْكُفْرَ فِي الإِسْلاَمِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ " . قَالَتْ نَعَمْ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اقْبَلِ الْحَدِيقَةَ وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً " .
#3464
Sahih Isnaad
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"A man came to the Messenger of Allah and said: 'My wife does not object if anyone touches her.' He said: 'Divorce her if you wish.' He said: 'I am afraid that I will miss her.' He said: 'Then stay with her as much as you need to
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میری بیوی کسی کو ہاتھ لگانے سے نہیں روکتی ۱؎ آپ نے فرمایا: چاہو تو طلاق دے دو، اس نے کہا میں اسے طلاق دے دیتا ہوں تو مجھے ڈر ہے کہ کہیں اس سے میرا دل اٹکا نہ رہے۔ آپ نے فرمایا: ”پھر تو اس سے اپنا کام نکالتے رہو“۔
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ امْرَأَتِي لاَ تَمْنَعُ يَدَ لاَمِسٍ . فَقَالَ " غَرِّبْهَا إِنْ شِئْتَ " . قَالَ إِنِّي أَخَافُ أَنْ تَتَّبِعَهَا نَفْسِي . قَالَ " اسْتَمْتِعْ بِهَا " .
#3465
Sahih Isnaad
It was narrated from Ibn 'Abbas that a man said:"O Messenger of Allah, I have a wife who does not object if anyone touches her." He said: "Divorce her." He said: "I cannot live without her." He said: "Then keep her
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا اللہ کے رسول! میری ایک بیوی ہے جو کسی کو ہاتھ لگانے سے نہیں روکتی، آپ نے فرمایا: ”اسے طلاق دے دو“۔ اس نے کہا: میں اس کے بغیر رہ نہیں پاؤں گا۔ آپ نے فرمایا: ”پھر تو اسے رہنے دو“۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: یہ حدیث مرسل ہے، اس کا متصل ہونا غلط ہے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا هَارُونُ بْنُ رِئَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ تَحْتِي امْرَأَةً لاَ تَرُدُّ يَدَ لاَمِسٍ قَالَ " طَلِّقْهَا " . قَالَ إِنِّي لاَ أَصْبِرُ عَنْهَا . قَالَ " فَأَمْسِكْهَا " . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا خَطَأٌ وَالصَّوَابُ مُرْسَلٌ .
#3466
Sahih
It was narrated from Sahl bin Sa'd, from 'Asim bin 'Adiyy who said:"Uwaimir, a man from Banu 'Ajlan, came and said: 'O 'Asim, what do you think if a man sees another man with his wife, should he kill him and be killed in retaliation, or what should he do? O 'Asim, ask the Messenger of Allah about that for me.'" So 'Asim asked the Messenger of Allah about that, and the Messenger of Allah disapproved of the question and criticized the asking of too many questions. Then 'Uwaimir came to him and said: "What happened, O 'Asim?" 'Asim said to 'Uwaimir: "What happened?! You have not brought me any good. The Messenger of Allah disapproved of the question I asked." 'Uwaimir said: "By Allah, I will go and ask the Messenger of Allah." So he went to the Messenger of Allah and asked him. The Messenger of Allah said: "Allah the Mighty and Sublime has revealed (something) concerning you and your wife, so bring her here." Sahl said: "I was among the people in the presence of the Messenger of Allah and he brought her and they engaged in the procedure of Li'an. He said: 'O Messenger of Allah, by Allah! If I keep her I would have been telling lies about her.' So he parted from her before the Messenger of Allah told him to separate from her, and that became the way of Li'an
سہل بن سعد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی عجلان کا ایک شخص عویمر میرے پاس آیا اور کہنے لگا: عاصم! بھلا بتاؤ تو صحیح؟ ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ ایک غیر شخص کو دیکھتا ہے، اگر وہ اسے قتل کر دیتا ہے تو کیا تم لوگ اسے قتل کر دو گے یا وہ کیا کرے؟ عاصم میرے واسطے یہ مسئلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھو تو عاصم رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کے سوالات کو برا جانا اور ناپسند کیا، عویمر ان کے پاس آئے اور کہا: عاصم! کیا کیا تو نے؟ ( مسئلہ پوچھا یا نہیں؟ ) انہوں نے کہا: میں نے کیا تو ( یعنی پوچھا تو ) لیکن تو اچھا سوال لے کر نہیں آیا تھا ( جواب کیا ملتا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کے سوالات کو ناپسند کیا اور برا مانا۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی! میں تو ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات پوچھ کر رہوں گا ( یہ کوئی فرضی سوال نہیں امر واقع ہے ) پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تمہارے اور تمہاری بیوی کے معاملے میں حکم نازل فرما دیا ہے۔ تو ( جاؤ ) اسے لے کر آؤ“، سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس وقت میں بھی لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، وہ اسے لے کر آئے اور دونوں نے لعان کیا ۱؎۔ پھر اس نے ( یعنی عویمر نے ) کہا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی اگر میں نے اسے اپنے پاس رکھا تو میں اس پر تہمت لگانے والا ٹھہروں گا ( یہ کہہ کر ) انہوں نے اسے طلاق دے کر چھوڑ دیا اس سے پہلے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے چھوڑ دینے کا حکم دیتے۔ ( راوی کہتے ہیں ) پھر لعان کرنے والوں میں یہی طریقہ رائج ہو گیا ( یعنی لعان کے بعد میاں بیوی دونوں جدا ہو جائیں ) ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ، قَالَ جَاءَنِي عُوَيْمِرٌ - رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْعَجْلاَنِ - فَقَالَ أَىْ عَاصِمُ أَرَأَيْتُمْ رَجُلاً رَأَى مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ يَا عَاصِمُ سَلْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَسَأَلَ عَاصِمٌ عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَعَابَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسَائِلَ وَكَرِهَهَا . فَجَاءَهُ عُوَيْمِرٌ فَقَالَ مَا صَنَعْتَ يَا عَاصِمُ فَقَالَ صَنَعْتُ أَنَّكَ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا . قَالَ عُوَيْمِرٌ وَاللَّهِ لأَسْأَلَنَّ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ فَائْتِ بِهَا " . قَالَ سَهْلٌ وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَاءَ بِهَا فَتَلاَعَنَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَئِنْ أَمْسَكْتُهَا لَقَدْ كَذَبْتُ عَلَيْهَا . فَفَارَقَهَا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِفِرَاقِهَا فَصَارَتْ سُنَّةَ الْمُتَلاَعِنَيْنِ .
#3467
Sahih
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah conducted the procedure of Li'an between the 'Ajlani and his wife, who was pregnant
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عجلانی اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کرایا اور اس وقت اس کی بیوی حاملہ تھی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لاَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ الْعَجْلاَنِيِّ وَامْرَأَتِهِ وَكَانَتْ حُبْلَى .
#3468
Sahih
It was narrated that Muhammad said:"I asked Anas bin Malik about that, as I thought that he had knowledge of that. He said: 'Hilal bin Umayyah accused his wife (of committing adultery) with Sharik bin As-Sahma', who was the brother of Al-Bara' bin Malik through his mother. He was the first one who engaged in the procedure of Li'an. The Messenger of Allah conducted the procedure of Li'an between them, then he said: "Look and see, if she produces a child who is white, with straight hair and Qadiy'a eyes, then he belongs to Hilal bin Umayyah, and if she produces a child who has dark lines around his eyes, curly hair and narrow calves, then he belongs to Sharik bin As-Sahma'." I was told that she produced a child who has dark lines around his eyes, curly hair and narrow calves
عبدالاعلیٰ کہتے ہیں کہ ہشام سے ایک ایسے شخص سے متعلق پوچھا گیا جو اپنی بیوی پر زنا و بدکاری کا تہمت لگاتا ہے تو ہشام نے ( اس کے جواب میں ) محمد بن سیرین سے حدیث بیان کی کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا اور یہ سمجھ کر پوچھا کہ ان کے پاس اس کے بارے میں کچھ علم ہو گا تو انہوں نے کہا: ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو شریک بن سحماء کے ساتھ بدکاری میں ملوث ٹھہرایا۔ بلال براء بن مالک کے ماں کے واسطہ سے بھائی تھے اور یہ پہلے شخص تھے جن ہوں نے لعان کیا ۱؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان لعان کا حکم دیا۔ پھر فرمایا: ”بچے پر نظر رکھو اگر وہ بچہ جنے گورا چٹا، لٹکے ہوئے بالوں اور خراب آنکھوں والا تو سمجھو کہ وہ ہلال بن امیہ کا بیٹا ہے اور اگر وہ سرمئی آنکھوں والا، گھونگھریالے بالوں والا اور پتلی ٹانگوں والا بچہ جنے تو ( سمجھو ) وہ شریک بن سحماء کا ہے۔“ وہ ( یعنی انس رضی اللہ عنہ ) کہتے ہیں: مجھے خبر دی گئی کہ اس نے سرمئی آنکھوں والا، گھونگھریالے بالوں والا اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ چنا ۲؎۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، قَالَ سُئِلَ هِشَامٌ عَنِ الرَّجُلِ، يَقْذِفُ امْرَأَتَهُ فَحَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ ذَلِكَ، وَأَنَا أَرَى، أَنَّ عِنْدَهُ، مِنْ ذَلِكَ عِلْمًا فَقَالَ إِنَّ هِلاَلَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ امْرَأَتَهُ بِشَرِيكِ ابْنِ السَّحْمَاءِ - وَكَانَ أَخُو الْبَرَاءِ بْنِ مَالِكٍ لأُمِّهِ وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ لاَعَنَ - فَلاَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُمَا ثُمَّ قَالَ " ابْصُرُوهُ فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَبْيَضَ سَبِطًا قَضِيءَ الْعَيْنَيْنِ فَهُوَ لِهِلاَلِ بْنِ أُمَيَّةَ وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ جَعْدًا أَحْمَشَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ ابْنِ السَّحْمَاءِ " . قَالَ فَأُنْبِئْتُ أَنَّهَا جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ جَعْدًا أَحْمَشَ السَّاقَيْنِ .
#3469
Sahih Isnaad
It was narrated that Anas bin Malik said:"The first Li'an in Islam was when Hilal bin Umayyah accused Sharik bin As-Sahma' (of committing adultery) with his wife. He came to the Prophet and told him about that. The Prophet said: '(Bring) four witnesses, otherwise (you will feel) the Hadd punishment on your back.' And he repeated that several times. Hilal said to him: 'By Allah, O Messenger of Allah! Allah, the Mighty and Sublime, knows that I am telling the truth, and Allah, the Mighty and Sublime, will certainly reveal to you that which will spare my back from the whip.' While they were like that, the Verse of Li'an was revealed to him: 'As to those who accuse their wives.' He called Hilal and he bore witness four times by Allah that he was telling the truth, and the fifth time he invoked the curse of Allah upon him if he were lying. Then he called the woman and she bore witness four times by Allah that he was lying. When it came to the fourth or fifth time, the Messenger of Allah said: 'Stop her, for it will inevitably bring the punishment of Allah upon the liar.' She hesitated until we thought that she was going to confess, then she said: 'I will not dishonor my people today.' Then she went ahead with the oath. The Messenger of Allah said: 'Wait and see. If she produces a child who is white, with straight hair and Qadiy'a eyes, then he belongs to Hilal bin Umayyah, but if she produces a child who is dark with curly hair, of average size and with narrow calves, then he belongs to Sharik bin As-Sahma'.' She produced a child who was dark with curly hair, of average size and with narrow calves. The Messenger of Allah said: 'Had not the matter been settled by the Book of Allah, I would have punished her severely
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اسلام میں سب سے پہلا لعان ہلال بن امیہ کا اس طرح ہوا کہ انہوں نے شریک بن سمحاء پر اپنی بیوی کے ساتھ بدکاری کا الزام لگایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو اس بات کی خبر دی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”چار گواہ لاؤ ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد جاری ہو گی ( کوڑے پڑیں گے ) “ آپ نے یہ بات بارہا کہی، ہلال نے آپ سے کہا: قسم اللہ کی، اللہ کے رسول! اللہ عزوجل بخوبی جانتا ہے کہ میں سچا ہوں اور ( مجھے یقین ہے ) اللہ بزرگ و برتر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی ایسا حکم ضرور نازل فرمائے گا جو میری پیٹھ کو کوڑے کھانے سے بچا دے گا، ہم سب یہی باتیں آپس میں کر ہی رہے تھے کہ آپ پر لعان کی آیت: «والذين يرمون أزواجهم» ۔ آخر تک نازل ہوئی ۱؎ آیت نازل ہونے کے بعد آپ نے ہلال کو بلایا، انہوں نے اللہ کا نام لے کر ( یعنی قسم کھا کر ) چار گواہیاں دیں کہ وہ سچے لوگوں میں سے ہیں اور پانچویں بار انہوں نے کہا کہ ان پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹے لوگوں میں سے ہوں، پھر عورت بلائی گئی اور اس نے بھی چار بار اللہ کا نام لے کر ( قسم کھا کر ) چار گواہیاں دیں کہ وہ ( شوہر ) جھوٹوں میں سے ہے ( راوی کو شک ہو گیا ) چوتھی بار یا پانچویں بار قسم کھانے کا جب موقع آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( ذرا ) اسے روکے رکھو ( آخری قسم کھانے سے پہلے اسے خوب سوچ سمجھ لینے دو ہو سکتا ہے وہ سچائی کا اعتراف کر لے ) کیونکہ یہ گواہی ( اللہ کی لعنت و غضب کو ) واجب و لازم کر دے گی“، وہ رکی اور ہچکائی تو ہم نے شک کیا ( سمجھا ) کہ ( شاید ) وہ اعتراف گناہ کر لے گی، مگر وہ بولی: میں اپنی قوم کو ہمیشہ کے لیے شرمندہ، رسوا و ذلیل نہیں کر سکتی، یہ کہہ کر ( آخری ) قسم بھی کھا گئی۔ ( اس کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے دیکھتے رہو اگر وہ سفید ( گورا ) لٹکے ہوئے بالوں اور خراب آنکھوں والا بچہ جنے تو ( سمجھو کہ ) وہ ہلال بن امیہ کا لڑکا ہے اور اگر وہ بچہ گندم گوں، پیچیدہ الجھے ہوئے بالوں والا، میانہ قد کا اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنے تو ( سمجھو ) وہ شریک بن سحماء کا ہے“۔ تو اس عورت نے گندمی رنگ کا گھونگھریالے بالوں والا، درمیانی سائز کا، پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنا، ( اس کے جننے کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس معاملے میں اللہ کا فیصلہ نہ آ چکا ہوتا تو میرا اور اس کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ ( یعنی میں اس پر حد قائم کر کے رہتا ) “۔ واللہ اعلم
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ حُسَيْنٍ الأَزْدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ إِنَّ أَوَّلَ لِعَانٍ كَانَ فِي الإِسْلاَمِ أَنَّ هِلاَلَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ شَرِيكَ ابْنَ السَّحْمَاءِ بِامْرَأَتِهِ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَرْبَعَةَ شُهَدَاءَ وَإِلاَّ فَحَدٌّ فِي ظَهْرِكَ " . يُرَدِّدُ ذَلِكَ عَلَيْهِ مِرَارًا فَقَالَ لَهُ هِلاَلٌ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَعْلَمُ أَنِّي صَادِقٌ وَلَيُنْزِلَنَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكَ مَا يُبَرِّئُ ظَهْرِي مِنَ الْجَلْدِ . فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ آيَةُ اللِّعَانِ { وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ } إِلَى آخِرِ الآيَةِ فَدَعَا هِلاَلاً فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ ثُمَّ دُعِيَتِ الْمَرْأَةُ فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ فَلَمَّا أَنْ كَانَ فِي الرَّابِعَةِ أَوِ الْخَامِسَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَقِّفُوهَا فَإِنَّهَا مُوجِبَةٌ " . فَتَلَكَّأَتْ حَتَّى مَا شَكَكْنَا أَنَّهَا سَتَعْتَرِفُ ثُمَّ قَالَتْ لاَ أَفْضَحُ قَوْمِي سَائِرَ الْيَوْمِ . فَمَضَتْ عَلَى الْيَمِينِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " انْظُرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَبْيَضَ سَبِطًا قَضِيءَ الْعَيْنَيْنِ فَهُوَ لِهِلاَلِ بْنِ أُمَيَّةَ وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ آدَمَ جَعْدًا رَبْعًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ ابْنِ السَّحْمَاءِ " . فَجَاءَتْ بِهِ آدَمَ جَعْدًا رَبْعًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْلاَ مَا سَبَقَ فِيهَا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْنٌ " . قَالَ الشَّيْخُ وَالْقَضِيءُ طَوِيلُ شَعْرِ الْعَيْنَيْنِ لَيْسَ بِمَفْتُوحِ الْعَيْنِ وَلاَ جَاحِظِهِمَا وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ .
#3470
Sahih
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"Mention of Li'an was made in the presence of the Messenger of Allah and 'Asim bin 'Adiyy said something about that, then he went away. A man from among his people came to him, complaining that he had found a man with his wife. 'Asim said: 'I was only put to this test because of what I said.' He took him to the Messenger of Allah and told him of the situation in which he found his wife. That man was pale and slim with straight hair, and the one whom he claimed to have found with his wife was dark and well-built. The Messenger of Allah said: 'O Allah, make it clear to me.' Then she gave birth to a child who resembled the one whom her husband said he had found with her. So the Messenger of Allah conducted the procedure of Li'an between them." A man in the gathering said to Ibn 'Abbas: "Was she the one of whom the Messenger of Allah said: 'If I were to have stoned anyone without evidence I would have stoned this one?'" Ibn 'Abbas said: "No, that was a woman who used to do mischief even after becoming Muslim
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لعان کا ذکر آیا، عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ نے اس سلسلے میں کوئی بات کہی پھر وہ چلے گئے تو ان کے پاس ان کی قوم کا ایک شخص شکایت لے کر آیا کہ اس نے ایک شخص کو اپنی بیوی کے ساتھ پایا ہے، یہ بات سن کر عاصم رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں اپنی بات کی وجہ سے اس آزمائش میں ڈال دیا گیا ۱؎ تو وہ اس آدمی کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور اس نے آپ کو اس آدمی کے متعلق خبر دی جس کے ساتھ اپنی بیوی کو ملوث پایا تھا۔ یہ آدمی ( یعنی شوہر ) زردی مائل، کم گوشت والا ( چھریرا بدن ) سیدھے بالوں والا تھا اور وہ شخص جس کو اپنی بیوی کے پاس پانے کا مجرم قرار دیا تھا وہ شخص گندمی رنگ، بھری پنڈلیوں والا، زیادہ گوشت والا ( موٹا بدن ) تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اللہم بین» اے اللہ معاملہ کو واضح کر دے“، تو اس عورت نے اس شخص کے مشابہہ بچہ جنا جس کے متعلق شوہر نے کہا تھا کہ اس نے اسے اپنی بیوی کے پاس پایا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان لعان کرنے کا حکم دیا۔ اس مجلس کے ایک آدمی نے جس میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ حدیث بیان کی کہا: ( ابن عباس! ) کیا یہ عورت وہی تھی جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا اگر میں کسی کو بغیر ثبوت کے رجم کرتا تو اس عورت کو رجم کر دیتا، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نہیں، یہ عورت وہ عورت نہیں ہے۔ وہ عورت وہ تھی جو اسلام میں شر پھیلاتی تھی ۲؎۔
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ ذُكِرَ التَّلاَعُنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ فِي ذَلِكَ قَوْلاً ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ يَشْكُو إِلَيْهِ أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً قَالَ عَاصِمٌ مَا ابْتُلِيتُ بِهَذَا إِلاَّ بِقَوْلِي فَذَهَبَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي وَجَدَ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مُصْفَرًّا قَلِيلَ اللَّحْمِ سَبِطَ الشَّعَرِ وَكَانَ الَّذِي ادَّعَى عَلَيْهِ أَنَّهُ وَجَدَهُ عِنْدَ أَهْلِهِ آدَمَ خَدْلاً كَثِيرَ اللَّحْمِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ بَيِّنْ " . فَوَضَعَتْ شَبِيهًا بِالرَّجُلِ الَّذِي ذَكَرَ زَوْجُهَا أَنَّهُ وَجَدَهُ عِنْدَهَا فَلاَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُمَا . فَقَالَ رَجُلٌ لاِبْنِ عَبَّاسٍ فِي الْمَجْلِسِ أَهِيَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ رَجَمْتُ أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ رَجَمْتُ هَذِهِ " . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لاَ تِلْكَ امْرَأَةٌ كَانَتْ تُظْهِرُ فِي الإِسْلاَمِ الشَّرَّ .
#3471
Sahih
It was narrated that 'Abdullah bin 'Abbas said:"Mention of Li'an was made in the presence of the Messenger of Allah and 'Asim bin 'Adiyy said something about that, then he went away. He was met by a man from among his people who told him that he had found a man with his wife. He took him to the Messenger of Allah and told him of the situation in which he found his wife. That man was pale and slim with straight hair, and the one whom he claimed to have found with his wife was dark and well built, with very curly hair. The Messenger of Allah said: 'O Allah, make it clear to me.' Then she gave birth to a child who resembled the one whom her husband said he had found with her. So the Messenger of Allah conducted the procedure of Li'an between them." A man in the gathering said to Ibn 'Abbas: "Was she the one of whom the Messenger of Allah said: 'If I were to have stoned anyone without evidence I would have stoned this one?'" Ibn 'Abbas said: "No, that was a woman who used to do mischief even after becoming Muslim
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لعان کی بات آئی تو عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ نے اس معاملے میں کوئی بات کہی پھر واپس چلے گئے، ان کی قوم کا ایک آدمی ان کے پاس پہنچا اور اس نے انہیں بتایا کہ اس نے ایک شخص کو اپنی بیوی کے ساتھ ( زنا کرتا ہوا ) پایا ہے تو وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر گئے، اس نے آپ کو اس شخص سے باخبر کیا جس کے ساتھ اپنی بیوی کو پایا تھا۔ یہ آدمی ( یعنی شوہر ) زردی مائل، دبلا، سیدھے بالوں والا تھا اور وہ شخص جس کے متعلق اس نے کہا تھا کہ وہ اسے اپنی بیوی کے پاس پایا ہے گندمی رنگ، بھری ہوئی پنڈلیوں والا، فربہ، گھونگھریالے چھوٹے بالوں والا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی ” «اللھم بیّن» اے اللہ تو اسے واضح کر دے“ پھر اس نے بچہ جنا، وہ بچہ بالکل اسی طرح تھا جس کے متعلق شوہر نے کہا تھا کہ اس نے اسے اپنی بیوی کے پاس پایا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان لعان کا حکم دیا، ایک آدمی نے جو ( اس وقت ) مجلس میں موجود تھا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا یہ وہی عورت تھی جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا کہ اگر میں کسی کو بغیر ثبوت کے رجم کرتا تو اس عورت کو کر دیتا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: نہیں، یہ عورت تو اسلام میں رہتے ہوئے شر پھیلاتی تھی ۱؎۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ يَحْيَى، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ ذُكِرَ التَّلاَعُنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ فِي ذَلِكَ قَوْلاً ثُمَّ انْصَرَفَ فَلَقِيَهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ فَذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً فَذَهَبَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي وَجَدَ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مُصْفَرًّا قَلِيلَ اللَّحْمِ سَبِطَ الشَّعْرِ وَكَانَ الَّذِي ادَّعَى عَلَيْهِ أَنَّهُ وَجَدَ عِنْدَ أَهْلِهِ آدَمَ خَدْلاً كَثِيرَ اللَّحْمِ جَعْدًا قَطَطًا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ بَيِّنْ " . فَوَضَعَتْ شَبِيهًا بِالَّذِي ذَكَرَ زَوْجُهَا أَنَّهُ وَجَدَهُ عِنْدَهَا فَلاَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُمَا فَقَالَ رَجُلٌ لاِبْنِ عَبَّاسٍ فِي الْمَجْلِسِ أَهِيَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ رَجَمْتُ أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ رَجَمْتُ هَذِهِ " . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لاَ تِلْكَ امْرَأَةٌ كَانَتْ تُظْهِرُ الشَّرَّ فِي الإِسْلاَمِ .
#3472
Sahih
It was narrated from Ibn 'Abbas:"When the Prophet commanded the two who were engaging in Li'an to utter the fifth oath, he commanded a man to place his hand over his mouth, and he said: "It will inevitably bring the punishment upon the liar
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دو لعان کرنے والوں کو لعان کرنے کا حکم دیا تو ایک شخص کو ( یہ بھی ) حکم دیا کہ جب پانچویں قسم کھانے کا وقت آئے تو لعان کرنے والے کے منہ پر ہاتھ رکھ دے ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ قسم اللہ کی لعنت و غضب کو لازم کر دے گی“ ۲؎۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ رَجُلاً حِينَ أَمَرَ الْمُتَلاَعِنَيْنِ أَنْ يَتَلاَعَنَا أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عِنْدَ الْخَامِسَةِ عَلَى فِيهِ وَقَالَ " إِنَّهَا مُوجِبَةٌ " .
#3473
Sahih
Abdul-Malik bin Abi Sulaiman said:"I heard Sa'eed bin Jubair say: 'I was asked about the two who engage in Li'an during the governorship of Ibn Az-Zubair - should they be separated? I did not know what to say, so I got up and went to the house of Ibn 'Umar and said: "O Abu 'Abdur-Rahman, should the two who engage in Li'an be separated?" He said: "Yes, Subhan Allah! The first one who asked about that was so-and-so the son of so-and-so who said: 'O Messenger of Allah, what do you think if a man among us sees his wife committing immoral actions, and if he speaks of it, he will be speaking of a grave matter, but if he keeps quiet, he will be keeping quiet about a grave matter?' He did not answer him, then after that, he came to him and said: 'I was tried with the matter that I asked you about, so Allah, the Mighty and Sublime, revealed these Verses in Surat An-Nur.: 'And for those who accuse their wives' until he reached: 'And the fifth (testimony) should be that the Wrath of Allah be upon her if he (her husband) speaks the truth.' So he started with the man, exhorting him, reminding him, and telling him that the punishment in this world was less severe than the punishment in the Hereafter. He said: 'By the One Who sent you with the truth, I am not lying.' Then he turned to the woman and exhorted her and reminded her. She said: 'By the One Who sent you with the truth, he is lying.' So he started with the man, and he bore witness four times by Allah that he was telling the truth, and the fifth time (he invoked) the curse of Allah upon himself if he was lying. Then he turned to the woman and she bore witness four times by Allah that he was lying, and the fifth time (she invoked) the wrath of Allah upon herself if he was telling the truth. Then he separated them
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ مجھ سے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی امارت کے زمانہ میں دو لعان کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا ( کہ جب وہ دونوں لعان کر چکیں گے تو ) کیا ان دونوں کے درمیان تفریق ( جدائی ) کر دی جائے گی؟ میری سمجھ میں نہ آیا کہ میں کیا جواب دوں، میں اپنی جگہ سے اٹھا اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کے گھر چلا گیا، میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا دونوں لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کرا دی جائے گی؟ انہوں نے کہا: ہاں، سبحان اللہ، پاک و برتر ہے ذات اللہ کی۔ سب سے پہلے اس بارے میں فلاں ابن فلاں نے مسئلہ پوچھا تھا ( ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کا نام نہیں لیا ) اس آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! ( «ارأیت» عمرو بن علی جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں انہوں نے اپنی روایت میں «ارأیت» کا لفظ نہیں استعمال کیا ہے ) ، آپ بتائیے ہم میں سے کوئی شخص کسی شخص کو اپنی بیوی کے ساتھ بدکاری کرتے ہوئے دیکھے ( تو کیا کرے؟ ) اگر وہ زبان کھولتا ہے تو بڑی بات کہتا ہے ۱؎ اور اگر وہ چپ رہتا ہے تو بھی وہ ایسی بڑی اور بری بات پر چپ رہتا ہے ( جو ناقابل برداشت ہے ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا ( اس روایت میں ـ «فأمر عظیم» کے الفاظ آئے ہیں، یہ اس روایت کے ایک راوی محمد بن مثنیٰ کے الفاظ ہیں، اس روایت کے دوسرے راوی عمرو بن علی نے اس کے بجائے «اتی امراً عظیماً» کے الفاظ استعمال کیے ہیں ) ۔ پھر جب اس کے بعد ایسا واقعہ پیش آ گیا تو وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: جس بارے میں، میں نے آپ سے مسئلہ پوچھا تھا میں خود ہی اس سے دوچار ہو گیا، ( اس وقت ) اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور کی یہ آیت: «والذين يرمون أزواجهم» سے لے کر «والخامسة أن غضب اللہ عليها إن كان من الصادقين» تک نازل فرمائیں، ( اس کارروائی کا ) آغاز آپ نے مرد کو وعظ و نصیحت سے کیا، آپ نے اسے بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب کے مقابل میں ہلکا، آسان اور کم تر ہے۔ اس شخص نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نے جھوٹ نہیں کہا ہے، پھر آپ نے عورت کو بھی خطاب کیا، آپ نے اسے بھی وعظ و نصیحت کی، ڈرایا اور آخرت کے سخت عذاب کا خوف دلایا۔ اس نے بھی کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے یہ شخص جھوٹا ہے۔ ( اس وعظ و نصیحت کے بعد لعان کی کارروائی روبہ عمل آئی ) تو آپ نے ( یہ کارروائی ) مرد سے شروع کی۔ اس نے اللہ کا نام لے کر چار گواہیاں دیں کہ وہ سچے لوگوں میں سے ہے اور پانچویں بار اس نے کہا کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹوں میں سے ہو۔ پھر آپ نے عورت سے گواہی لینی شروع کی، اس نے بھی اللہ کا نام لے کر چار گواہیاں دیں کہ وہ ( شوہر ) جھوٹوں میں سے ہے اور اس نے پانچویں بار کہا: اس پر ( یعنی مجھ پر ) اللہ کا غضب نازل ہو اگر وہ ( شوہر ) سچوں میں سے ہو۔ پھر آپ نے ان دونوں کے درمیان جدائی کرا دی ۲؎۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ سُئِلْتُ عَنِ الْمُتَلاَعِنَيْنِ، فِي إِمَارَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا فَمَا دَرَيْتُ مَا أَقُولُ فَقُمْتُ مِنْ مَقَامِي إِلَى مَنْزِلِ ابْنِ عُمَرَ فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُتَلاَعِنَيْنِ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا قَالَ نَعَمْ . سُبْحَانَ اللَّهِ إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ فُلاَنُ بْنُ فُلاَنٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ - وَلَمْ يَقُلْ عَمْرٌو أَرَأَيْتَ - الرَّجُلَ مِنَّا يَرَى عَلَى امْرَأَتِهِ فَاحِشَةً إِنْ تَكَلَّمَ فَأَمْرٌ عَظِيمٌ - وَقَالَ عَمْرٌو أَتَى أَمْرًا عَظِيمًا - وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ . فَلَمْ يُجِبْهُ فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَتَاهُ فَقَالَ إِنَّ الأَمْرَ الَّذِي سَأَلْتُكَ ابْتُلِيتُ بِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَؤُلاَءِ الآيَاتِ فِي سُورَةِ النُّورِ { وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ } حَتَّى بَلَغَ { وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ } فَبَدَأَ بِالرَّجُلِ فَوَعَظَهُ وَذَكَّرَهُ وَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الآخِرَةِ فَقَالَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا كَذَبْتُ . ثُمَّ ثَنَّى بِالْمَرْأَةِ فَوَعَظَهَا وَذَكَّرَهَا فَقَالَتْ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنَّهُ لَكَاذِبٌ فَبَدَأَ بِالرَّجُلِ فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ ثُمَّ ثَنَّى بِالْمَرْأَةِ فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا .
#3474
Sahih
It was narrated that Sa'eed bin Jubair said:"Al-Mus'ab did not separate the two who engaged in Li'an." Sa'eed said: "I mentioned that to Ibn 'Umar and he said: 'The Messenger of Allah separated the couple from Banu 'Ajlan
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ مصعب نے دو لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق نہیں کی ( لعان کے بعد انہیں ایک ساتھ رہنے دیا ) ۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عجلان کے دونوں لعان کرنے والے مرد اور عورت کے مابین تفریق کر دی تھی۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ لَمْ يُفَرِّقِ الْمُصْعَبُ بَيْنَ الْمُتَلاَعِنَيْنِ . قَالَ سَعِيدٌ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لاِبْنِ عُمَرَ فَقَالَ فَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَخَوَىْ بَنِي الْعَجْلاَنِ .
#3475
Sahih
It was narrated from Ayyub, that Sa'eed bin Jubair said:"I said to Ibn 'Umar: 'A man accused his wife.' He said: 'The Messenger of Allah separated the couple from Banu 'Ajlan and said: Allah knows that one of you is lying, so will either of you repent? He said that to them three times and they did not respond, then he separated them.'" (One of the narrators) Ayyub said: "Amr bin Dinar said: 'In this Hadith there is something that I think you are not narrating.' He said: 'The man said: My wealth. He said: You are not entitled to any wealth. If you are telling the truth, you have consummated the marriage with her, and if you are lying then you are even less entitled to it
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: کسی نے اپنی بیوی پر بدکاری کا الزام لگایا ( تو کیا کرے ) ؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عجلان کے ایک مرد اور عورت کے مابین تفریق کر دی تھی۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کو بخوبی معلوم ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے تو کیا تم دونوں میں سے کوئی توبہ کا ارادہ رکھتا ہے“، آپ نے یہ بات ان دونوں سے تین بار کہی پھر بھی ان دونوں نے ( توبہ کرنے سے ) انکار کیا تو آپ نے ان دونوں کے مابین جدائی کر دی۔ ( ایوب کہتے ہیں: عمرو بن دینار نے کہا: اس حدیث میں ایک ایسی بات ہے، میں نہیں سمجھتا کہ تم اسے بیان کرو گے؟ کہتے ہیں: اس شخص نے کہا: میرے مال کا کیا ہو گا ( ملے گا یا نہیں ) ؟ آپ نے فرمایا: ”اگرچہ تو اپنی بات میں سچا ہو پھر بھی تیرا مال تجھے واپس نہیں ملے گا کیونکہ تو اس کے ساتھ دخول کر چکا ہے اور اگر اپنی بات میں تو جھوٹا ہے تو تیری جانب مال کا واپس ہونا بعید ترشئی ہے“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ رَجُلٌ قَذَفَ امْرَأَتَهُ . قَالَ فَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَخَوَىْ بَنِي الْعَجْلاَنِ وَقَالَ " اللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ " . قَالَ لَهُمَا ثَلاَثًا فَأَبَيَا فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا . قَالَ أَيُّوبُ وَقَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ إِنَّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ شَيْئًا لاَ أَرَاكَ تُحَدِّثُ بِهِ قَالَ قَالَ الرَّجُلُ مَالِي قَالَ " لاَ مَالَ لَكَ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا فَقَدْ دَخَلْتَ بِهَا وَإِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَهِيَ أَبْعَدُ مِنْكَ " .