#3501
Sahih
It was narrated from Zainab bint Umm Salamah -I (the narrator) said:"From her mother?" He said: "Yes" - "that the Prophet was asked about a woman whose husband had died but they were worried about her eyes - could she use kohl?" He said: "One of you used to stay in her house wearing her shabbiest clothes for a year, then she would come out. No, (the mourning period is) four months and ten (days)
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کے متعلق پوچھا گیا جس کا شوہر مر گیا ہو اور سرمہ ( و کاجل ) نہ لگانے سے اس کی آنکھوں کے خراب ہو جانے کا خوف و خطرہ ہو تو کیا وہ سرمہ لگا سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: ” ( زمانہ جاہلیت میں ) تمہاری ہر عورت ( اپنے شوہر کے سوگ میں ) اپنے گھر میں انتہائی خراب، گھٹیا و گندا کپڑا ( اونٹ کی کاٹھ کے نیچے کے کپڑے کی طرح ) پہن کر سال بھر گھر میں بیٹھی رہتی تھی، پھر کہیں ( سال پورا ہونے پر ) نکلتی تھی۔ اور اب چار مہینے دس دن بھی تم پر بھاری پڑ رہے ہیں؟“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، قُلْتُ عَنْ أُمِّهَا، قَالَ نَعَمْ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنِ امْرَأَةٍ تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا فَخَافُوا عَلَى عَيْنِهَا أَتَكْتَحِلُ فَقَالَ " قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَمْكُثُ فِي بَيْتِهَا فِي شَرِّ أَحْلاَسِهَا حَوْلاً ثُمَّ خَرَجَتْ فَلاَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا " .
#3502
Sahih
It was narrated from Zainab bint Umm Salamah, that Umm Salamah and Umm Habibah said:"A woman came to the Prophet and said: 'My daughter's husband has died, and I am worried about her eyes. Can I apply kohl to her?' The Messenger of Allah said: 'One of you used to stay (in mourning) for a year. Rather (the mourning period is) four months and ten (days). And when that year had passed she would go out and fling a piece of dung behind her
ام المؤمنین ام سلمہ اور ام المؤمنین ام حبیبہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: میری بیٹی کے شوہر ( یعنی میرے داماد ) کا انتقال ہو گیا ہے اور مجھے ( عدت میں بیٹھی ) بیٹی کی آنکھ کے خراب ہو جانے کا خوف ہے تو میں اس کی آنکھ میں سرمہ لگا سکتی ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں ( سوگ منانے والی ) عورت زمانہ جاہلیت میں سال بھر بیٹھی رہتی تھی، اور یہ تو چار مہینہ دس دن کی بات ہے، جب سال پورا ہو جاتا تو وہ باہر نکلتی اور اپنے پیچھے مینگنی پھینکتی“۔
أَخْبَرَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ قَيْسِ بْنِ قَهْدٍ الأَنْصَارِيِّ، - وَجَدُّهُ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم - عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَأُمِّ حَبِيبَةَ قَالَتَا جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَإِنِّي أَخَافُ عَلَى عَيْنِهَا أَفَأَكْحُلُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَجْلِسُ حَوْلاً وَإِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا فَإِذَا كَانَ الْحَوْلُ خَرَجَتْ وَرَمَتْ وَرَاءَهَا بِبَعْرَةٍ " .
#3503
Sahih
It was narrated from Safiyyah bint Abi 'Ubaid that she heard Hafsah bint 'Umar, the wife of the Prophet, (narrate) that the Prophet said:"It is not permissible for a woman who believes in Allah and the Last Day to mourn for anyone who dies for more than three days except for a husband; she should mourn for him for four months and ten (days)
ام المؤمنین حفصہ بنت عمر رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانے کی اجازت نہیں ہے سوائے شوہر کے، شوہر کے انتقال پر وہ چار ماہ دس دن سوگ منائے گی“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا، يَقُولُ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، أَنَّهَا سَمِعَتْ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ تَحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ فَإِنَّهَا تَحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا " .
#3504
Sahih
It was narrated from Safiyyah bint Abi 'Ubaid from one of the wives of the Prophet, and from Umm Salamah, that the Prophet said:"It is not permissible for a woman who believes in Allah and the Last Day to mourn for anyone who dies for more than three days except for a husband; she should mourn for him for four months and ten (days)
بعض امہات المؤمنین اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو حلال نہیں ہے کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے سوائے شوہر کے، شوہر کے مرنے پر وہ چار ماہ دس دن سوگ منائے گی“۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا سَعِيدٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ بَعْضِ، أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ تَحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ أَكْثَرَ مِنْ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ فَإِنَّهَا تَحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا " .
#3505
Daif
A similar report was narrated from Safiyyah bint Abi 'Ubaid from one of the wives of the Prophet -and she is Umm Salamah- from the Prophet
صفیہ بنت ابو عبید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیوی سے اور بیوی سے مراد ام سلمہ رضی اللہ عنہا ہیں اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اوپر گزری ہوئی حدیث جیسی حدیث بیان کرتی ہیں۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا السَّهْمِيُّ، - يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بَكْرٍ - قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ بَعْضِ، أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهِيَ أُمُّ سَلَمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ .
#3506
Sahih
It was narrated from Al-Miswar bin Makhramah that Subai'ah Al-Aslamiyyah gave birth one day after her husband died. She came to the Messenger of Allah and asked his permission to marry, and he gave her permission to marry and she married
مسور بن مخرمہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ سبیعہ اسلمی رضی اللہ عنہا کو اپنے شوہر کے انتقال کے بعد بچہ جن کر حالت نفاس میں ہوئے کچھ ہی راتیں گزریں تھیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے دوسری شادی کرنے کی اجازت چاہی تو آپ نے انہیں اجازت دے دی اور انہوں نے شادی کر لی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، - وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ - قَالاَ أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّ سُبَيْعَةَ الأَسْلَمِيَّةَ، نُفِسَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَأْذَنَتْ أَنْ تَنْكِحَ فَأَذِنَ لَهَا فَنَكَحَتْ .
#3507
Sahih
It was narrated from Al-Miswar bin Makhramah that the Prophet commanded Sabai'ah to get married when her Nifas ended
مسور بن مخرمہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبیعہ رضی اللہ عنہا کو اپنے نفاس سے فراغت کے بعد شادی کرنے کا حکم دیا۔
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دَاوُدَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ سُبَيْعَةَ أَنْ تَنْكِحَ إِذَا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا .
#3508
Sahih
It was narrated that Abu As-Sanabil said:"Subai'ah gave birth twenty-three or twenty-five days after her husband died, and when her Nifas ended she expressed her wish to remarry and was criticized for that. Mention of that was made to the Messenger of Allah and he said: 'There is nothing to stop her; her term has ended
ابوسنابل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے شوہر کو مرے ہوئے ۲۳ یا ۲۵ راتیں گزریں تھیں کہ اس نے بچہ جنا پھر جب وہ نفاس سے فارغ ہو گئی تو اس نے ( نئی ) شادی کی تیاری کی اور اس کے لیے زیب و زینت سے مزین ہوئی تو اس کے لیے ایسا کرنا غیر مناسب سمجھا ( اور ناپسند کیا ) گیا اور اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کی گئی تو آپ نے فرمایا: ”جب اس کی عدت پوری ہو چکی ہے تو اب اس کے لیے کیا رکاوٹ ہے؟“ ۱؎۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ أَبِي السَّنَابِلِ، قَالَ وَضَعَتْ سُبَيْعَةُ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِثَلاَثَةٍ وَعِشْرِينَ أَوْ خَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً فَلَمَّا تَعَلَّتْ تَشَوَّفَتْ لِلأَزْوَاجِ فَعِيبَ ذَلِكَ عَلَيْهَا فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَا يَمْنَعُهَا قَدِ انْقَضَى أَجَلُهَا " .
#3509
Sahih
Abu Salamah said:"Abu Hurairah and Ibn 'Abbas differed concerning the widow who gives birth after her husband's death. Abu Hurairah said: 'She may be married.' Ibn 'Abbas said: '(She has to wait) for the longer of the two periods.' They sent word to Umm Salamah and she said: 'The husband of Subai'ah died and she gave birth fifteen days -half a month- after her husband died.' She said: 'Two men proposed marriage to her, and she was inclined toward one of them. When they feared that she was becoming single-minded (on this issue, and not consulting her family), they said: It is not permissible for you to marry. She went to the Messenger of Allah and he said: 'It is permissible for you to marry, so marry whomever you want
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم میں اس عورت کی عدت کے بارے میں اختلاف ہو گیا جس کا شوہر انتقال کر گیا ہو اور اس نے بچہ جن دیا ہو۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ( وضع حمل کے بعد نفاس سے فارغ ہو کر ) وہ شادی کر سکتی ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: دونوں عدتوں ( یعنی وضع حمل اور عدت طلاق ) میں سے جس عدت کی مدت لمبی ہو گی اسے وہ عدت پوری کرنی ہو گی ( یعنی چار ماہ دس دن، اس کے بعد ہی وہ شادی کر سکے گی ) آخر کار ان لوگوں نے کسی کو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیج کر اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا سبیعہ رضی اللہ عنہا کے شوہر انتقال کر گئے اور ان کے انتقال کے پندرہ دن بعد اس نے بچہ جنا۔ پھر اسے دو آدمیوں نے شادی کا پیغام دیا، جن میں سے ایک کی طرف وہ مائل ہو گئی ( اور اس کا بھی خیال اس سے شادی کر ڈالنے کا ہو گیا ) تو جب ( دوسرا شادی کا خواہشمند اور اس کے ساتھی ) لوگ ڈرے کہ یہ تو ہاتھ سے نکلی جا رہی ہے تو انہوں نے ( شادی روکنے اور رکاوٹ ڈالنے کی خاطر ) کہا: ابھی تو تم حلال ہی نہیں ہوئی ہو ( تمہاری عدت پوری نہیں ہوئی ہے تم شادی رچانے کیسے جا رہی ہو ) وہ کہتی ہیں ( جب ان لوگوں نے یہ بات کہی ) تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی، آپ نے فرمایا: ”بلاشبہ تم حلال ہو گئی ہو تو جس سے بھی چاہو اس سے نکاح کر سکتی ہو“۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، يَقُولُ اخْتَلَفَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَابْنُ عَبَّاسٍ فِي الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا إِذَا وَضَعَتْ حَمْلَهَا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ تُزَوَّجُ . وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَبْعَدَ الأَجَلَيْنِ . فَبَعَثُوا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ تُوُفِّيَ زَوْجُ سُبَيْعَةَ فَوَلَدَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِخَمْسَةَ عَشَرَ نِصْفِ شَهْرٍ - قَالَتْ - فَخَطَبَهَا رَجُلاَنِ فَحَطَّتْ بِنَفْسِهَا إِلَى أَحَدِهِمَا فَلَمَّا خَشُوا أَنْ تَفْتَاتَ بِنَفْسِهَا قَالُوا إِنَّكِ لاَ تَحِلِّينَ . قَالَتْ فَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " قَدْ حَلَلْتِ فَانْكِحِي مَنْ شِئْتِ " .
#3510
Sahih
It was narrated that Abu Salamah said:"Ibn 'Abbas and Abu Hurairah were asked about the woman whose husband dies when she is pregnant. Ibn 'Abbas said: '(She should wait) for the longer of the two periods.' Abu Hurairah said: 'When she gives birth it becomes permissible for her to marry.' Abu Salamah went to Umm Salamah and asked her about that, and she said: 'Subai'ah Al-Aslamiyyah gave birth half a month after her husband died, and two men proposed to her. One was young and one was old, and she was inclined toward the young one. So the old one said: It is not permissible for you to marry. Her family was not there, and he hoped that if he went to her family they would marry her to him. She went to the Messenger of Allah and he said: It is permissible for you to marry, so marry whomever you want
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے اس عورت ( کی عدت ) کے بارے میں پوچھا گیا جس کا شوہر انتقال کر گیا ہو اور وہ ( انتقال کے وقت ) حاملہ رہی ہو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: دونوں عدتوں میں سے جو آخر میں ہو یعنی لمبی ہو اور دوسری کے مقابل میں بعد میں پوری ہوتی ہو ۱؎، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جس وقت عورت بچہ جنے اسی وقت اس کی عدت پوری ہو جائے گی۔ ( یہ اختلاف سن کر ) ابوسلمہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان سے اس مسئلہ کے بارے میں پوچھا۔ تو انہوں نے کہا: سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کے انتقال کے پندرہ دن بعد بچہ جنا پھر دو آدمیوں نے اسے شادی کرنے کا پیغام دیا، ان دونوں میں سے ایک جوان تھا اور دوسرا ادھیڑ عمر کا، وہ جوان کی طرف مائل ہوئی اور اسے شادی کے لیے پسند کر لیا۔ ادھیڑ عمر والے نے اس سے کہا: تو تم ابھی حلال نہیں ہوئی ہو ( شادی کرنے کیسے جا رہی ہو ) ، اس کے گھر والے غیر موجود تھے ادھیڑ عمر والے نے امید لگائی ( کہ میرے ایسا کہنے سے شادی ابھی نہ ہو گی اور ) جب لڑکی کے گھر والے آ جائیں گے تو ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ اس عورت کا اس کے ساتھ رشتہ کر دینے کو ترجیح دیں ( اور سبیعہ کو اس کے ساتھ شادی کر لینے پر راضی کر لیں ) ۔ لیکن وہ تو ( سیدھے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تم ( بچہ جن کر ) حلال ہو چکی ہو، تمہارا دل جس سے چاہے اس سے شادی کر لو“ ۲؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، - وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ - قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ الْمُتَوَفَّى، عَنْهَا زَوْجُهَا وَهِيَ حَامِلٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ آخِرُ الأَجَلَيْنِ . وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِذَا وَلَدَتْ فَقَدْ حَلَّتْ . فَدَخَلَ أَبُو سَلَمَةَ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَتْ وَلَدَتْ سُبَيْعَةُ الأَسْلَمِيَّةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِنِصْفِ شَهْرٍ فَخَطَبَهَا رَجُلاَنِ أَحَدُهُمَا شَابٌّ وَالآخَرُ كَهْلٌ فَحَطَّتْ إِلَى الشَّابِّ فَقَالَ الْكَهْلُ لَمْ تَحْلِلْ . وَكَانَ أَهْلُهَا غُيَّبًا فَرَجَا إِذَا جَاءَ أَهْلُهَا أَنْ يُؤْثِرُوهُ بِهَا فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " قَدْ حَلَلْتِ فَانْكِحِي مَنْ شِئْتِ " .
#3511
Sahih
Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman said:"It was said to Ibn 'Abbas concerning a woman who gives birth one day after her husband died: 'Can she get married?' He said: 'No, not until the longer of the two periods has ended.' He said: 'Allah says: And for those who are pregnant (whether they are divorced or their husbands are dead), their 'Iddah (prescribed period) is until they lay down their burden.' He said: 'That only applies in the case of divorce.' Abu Hurairah said: 'I agree with my brother's son' --meaning, Abu Salamah. He sent his slave Kuraib and told him: 'Go to Umm Salamah and ask her: Was this the Sunnah of the Messenger of Allah?' He came back and said: 'Yes, Subai'ah Al-Aslamiyyah gave birth twenty days after her husband died, and the Messenger of Allah told her to get married, and Abu As-Sanabil was one of those who proposed marriage to her
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسی عورت کے متعلق پوچھا گیا جس نے اپنے شوہر کے انتقال کے بیس رات بعد بچہ جنا، کیا اس کے لیے نکاح کر لینا جائز و درست ہو گا؟ انہوں نے کہا: اس وقت تک نہیں جب تک کہ دونوں عدتوں میں سے بعد میں مکمل ہونے والی عدت کو پوری نہ کر لے۔ ابوسلمہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے: «وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن» یعنی ”جن کے پیٹ میں بچہ ہے ان کی عدت یہ ہے کہ بچہ جن دیں“۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ حکم مطلقہ ( حاملہ ) کا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اپنے بھتیجے ابوسلمہ کے ساتھ ہوں ( یعنی ابوسلمہ جو کہتے ہیں وہی میرے نزدیک بھی صحیح اور بہتر ہے ) اس گفتگو کے بعد ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام کریب کو بھیجا کہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ کیا اس سلسلے میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی سنت موجود ہے؟ کریب ان کے پاس آئے اور انہیں ( ساری بات ) بتائی، تو انہوں نے کہا: ہاں، سبیعہ اسلمی رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کے انتقال کے بعد کی بیس راتیں گزرنے کے بعد بچہ جنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے شادی کرنے کی اجازت دی، اور ابوسنابل رضی اللہ عنہ انہیں لوگوں میں سے تھے جن ہوں نے اسے شادی کا پیغام دیا تھا۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ - قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ قِيلَ لاِبْنِ عَبَّاسٍ فِي امْرَأَةٍ وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِعِشْرِينَ لَيْلَةً أَيَصْلُحُ لَهَا أَنْ تَزَوَّجَ قَالَ لاَ إِلاَّ آخِرَ الأَجَلَيْنِ . قَالَ قُلْتُ قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى { وَأُولاَتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ } فَقَالَ إِنَّمَا ذَلِكَ فِي الطَّلاَقِ . فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي . يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ . فَأَرْسَلَ غُلاَمَهُ كُرَيْبًا فَقَالَ ائْتِ أُمَّ سَلَمَةَ فَسَلْهَا هَلْ كَانَ هَذَا سُنَّةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَاءَ فَقَالَ قَالَتْ نَعَمْ سُبَيْعَةُ الأَسْلَمِيَّةُ وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِعِشْرِينَ لَيْلَةً فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ تَزَوَّجَ فَكَانَ أَبُو السَّنَابِلِ فِيمَنْ يَخْطُبُهَا .
#3512
Sahih
It was narrated from Sulaiman bin Yasir that Abu Hurairah, Ibn 'Abbas, and Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman were talking about the 'Iddah of a woman whose husband dies, and she gives birth after her husband dies. Ibn 'Abbas said:"She should observe 'Iddah for the longer of the two periods." Abu Salamah said: "No, it becomes permissible for her to marry when she has given birth." Abu Hurairah said: "I agree with my brother's son." So they sent word to Umm Salamah, the wife of the Prophet, and she said: "Subai'ah Al-Aslamiyyah gave birth shortly after her husband died; she consulted the Messenger of Allah and he told her to get married
سلیمان بن یسار سے روایت ہے، ابوہریرہ، ابن عباس (رضی الله عنہم) اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اس عورت کے بارے میں جس کا شوہر مر گیا ہو اور شوہر کے انتقال کے بعد بچہ جنا ہو آپس میں بات چیت کی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: جو عدت بعد میں پوری ہو اس کا وہ لحاظ و شمار کرے گی، ابوسلمہ نے کہا: نہیں وہ وضع حمل کے ساتھ ہی ( دوسرے کے لیے ) حلال ہو جائے گی، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں بھی اپنے بھتیجے ابوسلمہ کے ساتھ ہوں ( یعنی ان کا ہم خیال ہوں ) ، پھر ان لوگوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس کسی کو بھیج کر معلوم کیا تو انہوں نے کہا: سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کے انتقال کے تھوڑے ہی دنوں بعد بچہ جنا پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے شادی کرنے کا حکم دیا۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَابْنَ، عَبَّاسٍ وَأَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ تَذَاكَرُوا عِدَّةَ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا تَضَعُ عِنْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ تَعْتَدُّ آخِرَ الأَجَلَيْنِ . وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ بَلْ تَحِلُّ حِينَ تَضَعُ . فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي . فَأَرْسَلُوا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ وَضَعَتْ سُبَيْعَةُ الأَسْلَمِيَّةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِيَسِيرٍ فَاسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَهَا أَنْ تَتَزَوَّجَ .
#3513
Sahih
It was narrated that Umm Salamah said:"Subai'ah gave birth a few days after her husband died, and the Messenger of Allah told her to get married
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ سبیعہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کے انتقال کے کچھ دنوں بعد بچہ جنا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ( اپنی پسند کے شخص سے ) شادی کر لینے کا حکم دیا۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ وَضَعَتْ سُبَيْعَةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِأَيَّامٍ فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ تَزَوَّجَ .
#3514
Sahih
It was narrated from Sulaiman bin Yasar that 'Abdullah bin 'Abbas and Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman disagreed concerning a woman who gave birth one day after her husband died. 'Abdullah bin 'Abbas said:"(She should wait) for the longer of the two periods." Abu Salamah said: "When she has given birth, it becomes permissible for her to remarry." Abu Hurairah came and said: "I agree with my brother's son" -meaning Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman. They sent Kuraib, the freed slave of Ibn 'Abbas, to Umm Salamah to ask her about that. He came back to them and told them that she said: "Subai'ah gave birth one day after her husband died;" she mentioned that to the Messenger of Allah and he said: "It has become permissible for you to marry
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کے درمیان اس عورت ( کی عدت ) کے بارے میں اختلاف ہو گیا جو اپنے شوہر کے انتقال کے چند ہی راتوں بعد بچہ جنے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: دونوں عدتوں میں سے جس عدت کی مدت زیادہ ہو گی اس پر عمل کرے گی اور ابوسلمہ نے کہا: جب بچہ پیدا ہو جائے گا تو وہ حلال ہو جائے گی، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی ( وہاں ) پہنچ گئے ( اور باتوں میں شریک ہو گئے ) انہوں نے کہا: میں اپنے بھتیجے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کے ساتھ ہوں ( یعنی میری بھی وہی رائے ہے جو ابوسلمہ کی ہے ) پھر ان سبھوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب کو ( ام المؤمنین ) ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا وہ پوچھ کر ان لوگوں کے پاس پہنچا اور انہیں بتایا کہ وہ کہتی ہیں کہ سبیعہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کے انتقال کے چند راتوں بعد بچہ جنا پھر اس نے اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، آپ نے فرمایا: ”تو حلال ہو چکی ہے ( جس سے بھی تو شادی کرنا چاہے کر سکتی ہے ) “۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، وَأَبَا، سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ اخْتَلَفَا فِي الْمَرْأَةِ تُنْفَسُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ آخِرُ الأَجَلَيْنِ . وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ إِذَا نُفِسَتْ فَقَدْ حَلَّتْ . فَجَاءَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَالَ أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي . يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ . فَبَعَثُوا كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ يَسْأَلُهَا عَنْ ذَلِكَ فَجَاءَهُمْ فَأَخْبَرَهُمْ أَنَّهَا قَالَتْ وَلَدَتْ سُبَيْعَةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " قَدْ حَلَلْتِ " .
#3515
Sahih
Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman said:"Ibn 'Abbas, Abu Hurairah and I were together, and Ibn 'Abbas said: 'If a woman gives birth after her husband dies, her 'Iddah is the longer of the two periods.'" Abu Salamah said: "We sent Kuraib to Umm Salamah to ask her about that. He came to us and told us from her that the husband of Subai'ah died and she gave birth a few days after her husband died, and the Messenger of Allah told her to get married
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں، ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم ( سب ) ساتھ میں تھے، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: جب عورت اپنے شوہر کے انتقال کے بعد بچہ جنے گی تو وہ عورت دونوں عدتوں میں سے وہ عدت گزارے گی جس کی مدت بعد میں ختم ہوتی ہو۔ ابوسلمہ کہتے ہیں: ہم نے ام سلمہ ( ام المؤمنین ) رضی اللہ عنہا سے یہی مسئلہ پوچھنے کے لیے ان کے پاس کریب کو بھیجا، وہ ہمارے پاس ان کے پاس سے یہ خبر لے کر آئے کہ سبیعہ کے شوہر کا انتقال ہو گیا تھا، ان کے انتقال چند دنوں بعد سبیعہ کے یہاں بچہ پیدا ہوا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں شادی کرنے کا حکم دیا۔
أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ كُنْتُ أَنَا وَابْنُ، عَبَّاسٍ وَأَبُو هُرَيْرَةَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِذَا وَضَعَتِ الْمَرْأَةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا فَإِنَّ عِدَّتَهَا آخِرُ الأَجَلَيْنِ . فَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ فَبَعَثْنَا كُرَيْبًا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ يَسْأَلُهَا عَنْ ذَلِكَ فَجَاءَنَا مِنْ عِنْدِهَا أَنَّ سُبَيْعَةَ تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا فَوَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِأَيَّامٍ فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ تَتَزَوَّجَ .
#3516
Sahih
It was narrated from Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman that Zainab bint Abi Salamah told him, from her mother, Umm Salamah, the wife of the Prophet:"That a woman from Aslam who was called Subai'ah was married to her husband, and he died while she was pregnant. Abu As-Sanabil bin Ba'kak proposed to her but she refused to marry him. He said: 'You cannot get married until you have observed 'Iddah for the longer of the two periods.' Approximately twenty days later she gave birth. She went to the Messenger of Allah and he said: 'Get married
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ زینب بنت ابی سلمہ نے اپنی ماں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سن کر مجھے خبر دی کہ قبیلہ اسلم کی سبیعہ نامی ایک عورت اپنے شوہر کے ساتھ رہ رہی تھی اور حاملہ تھی ( اسی دوران ) شوہر کا انتقال ہو گیا تو ابوسنابل بن بعکک رضی اللہ عنہ نے اسے شادی کا پیغام دیا جسے اس نے ٹھکرا دیا، اس نے اس سے کہا: تیرے لیے درست نہیں ہے کہ دونوں عدتوں میں سے آخری مدت کی عدت پوری کئے بغیر شادی کرے۔ پھر وہ تقریباً بیس راتیں ٹھہری رہی کہ اس کے یہاں بچہ پیدا ہوا۔ ( اس کے بعد ) وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ( اور آپ سے اسی بارے میں مسئلہ پوچھا اور صورت حال بتائی ) آپ نے فرمایا: ”تو ( جس سے چاہے ) نکاح کر لے“۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، أَخْبَرَتْهُ عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ امْرَأَةً مِنْ أَسْلَمَ يُقَالُ لَهَا سُبَيْعَةُ كَانَتْ تَحْتَ زَوْجِهَا فَتُوُفِّيَ عَنْهَا وَهِيَ حُبْلَى فَخَطَبَهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ فَأَبَتْ أَنْ تَنْكِحَهُ فَقَالَ مَا يَصْلُحُ لَكِ أَنْ تَنْكِحِي حَتَّى تَعْتَدِّي آخِرَ الأَجَلَيْنِ . فَمَكَثَتْ قَرِيبًا مِنْ عِشْرِينَ لَيْلَةً ثُمَّ نُفِسَتْ فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " انْكِحِي " .
#3517
Sahih
Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman said:"While Abu Hurairah and I were with Ibn 'Abbas, a woman came and said that her husband had died while she was pregnant, then she had given birth less than four months after the day he died. Ibn 'Abbas said: '(You have to wait) for the longer of the two periods.'" Abu Salamah said: "A man from among the Companions of the Prophet told me that Subai'ah Al-Aslamiyyah came to the Messenger of Allah and said that her husband died while she was pregnant, and she gave birth less than four months after he died. The Messenger of Allah told her to get married. Abu Hurairah said: 'And I bear witness to that
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ۔ ( ایک روز ) میں اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ دونوں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھے، اتنے میں ایک عورت ان کے پاس آئی اور کہنے لگی: وہ حمل سے تھی کہ اسی دوران اس کے شوہر کا انتقال ہو گیا اور اسے مرے ہوئے قریب چار مہینے ہوئے تھے کہ اس کے یہاں بچہ پیدا ہوا ( اس کی عدت کیا ہو گی؟ ) ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: دونوں عدتوں میں سے جس کی مدت لمبی ہو گی وہی تمہاری عدت ہو گی، ( یہ سن کر ) ابوسلمہ نے کہا: مجھے ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ سبیعہ اسلمیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے کہا: اس کا شوہر انتقال کر گیا، اس وقت وہ حاملہ تھی پھر اس نے قریب چار مہینے پر بچہ جنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے شادی کر لینے کا حکم دیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے میں اس مسئلہ میں گواہ ہوں ۱؎۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ أَبِي عَاصِمٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَهُ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا وَأَبُو هُرَيْرَةَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذْ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَهِي حَامِلٌ فَوَلَدَتْ لأَدْنَى مِنْ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ مِنْ يَوْمِ مَاتَ . فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ آخِرُ الأَجَلَيْنِ . فَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ سُبَيْعَةَ الأَسْلَمِيَّةَ جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَهِيَ حَامِلٌ فَوَلَدَتْ لأَدْنَى مِنْ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ تَتَزَوَّجَ . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى ذَلِكَ .
#3518
Sahih
Ubaidullah bin 'Abdullah narrated that his father wrote to 'Umar bin 'Abdullah bin Arqam Az-Zuhri, telling him to go to Subai'ah bint Al-Harith Al-Aslamiyyah and ask her about her Hadith and what the Messenger of Allah had said to her when she consulted him. 'Umar bin 'Abdullah wrote back to 'Abdullah bin 'Utbah telling him that Subai'ah told him, that she was married to Sahl bin Khawlah -who was from Banu 'Amir bin Lu-ayy and was one of those who had been present at Badr- and her husband died during the Farewell Pilgrimage while she was pregnant. She gave birth soon after he died, and when her Nifas ended she adorned herself to receive proposals of marriage. Abu As-Sanabil bin Ba'kak -a man from Banu 'Abd Ad-Dar- went to her and said to her:'Why do I see you adorned? Perhaps you want to get married, but by Allah you will not get married until four months and ten days have passed.' Subai'ah said: 'When he said that to me, I put on my clothes in the evening and went to the Messenger of Allah and asked him about that. He ruled that it had become permissible for me to marry when I gave birth, and he told me to get married if I wanted to
عبیداللہ بن عبداللہ کا بیان ہے کہ ان کے باپ عبداللہ ( عبداللہ بن عتبہ ) نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کو خط لکھ کر حکم دیا کہ تم سبیعہ اسلمی بنت حارث رضی اللہ عنہما کے پاس جاؤ اور ان کا قصہ معلوم کرو اور یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کیا فرمایا تھا جس وقت انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا، عمر بن عبداللہ نے ( سبیعہ اسلمی سے ملاقات کر کے ) عبیداللہ بن عتبہ کو باخبر کرتے ہوئے لکھا: سبیعہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا ہے کہ وہ سعد بن خولہ کی بیوی تھیں اور وہ ( سعد ) بنو عامر بن لوئی کے قبیلے سے تھے اور بدری بھی تھے، ان کا انتقال حجۃ الوداع میں ہوا اور اس وقت وہ حاملہ تھیں اور ان کی وفات کے بعد ہی ان کے یہاں بچہ پیدا ہوا، پھر جب وہ نفاس سے فارغ ہو گئیں تو انہوں نے شادی کے پیغامات آنے کے خیال سے بناؤ سنگھار کیا ( اور زیب و زینت کے ساتھ رہنے لگیں ) ، ان کے پاس قبیلہ بنو عبدالدار کے ابوسنابل بن بعکک رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے کہا: کیا بات ہے میں تمہیں بنی سنوری دیکھتا ہوں، لگتا ہے تم شادی کرنا چاہ رہی ہو؟ قسم اللہ کی! تم اس وقت تک نکاح نہیں کر سکتیں جب تک تم چار مہینے دس دن عدت کے پوری نہ کر لو۔ سبیعہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب انہوں نے مجھے ایسی بات کہی تو شام کے وقت میں نے اپنے کپڑے لپیٹے و سمیٹے ( اور اوڑھ پہن کر اور سلیقے سے ہو کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی اور آپ سے اس بارے میں مسئلہ پوچھا تو آپ نے مجھے فتویٰ دیا کہ ”جس وقت میں نے بچہ جنا ہے اسی وقت سے میں حلال ہو چکی ہوں اور مجھے حکم دیا کہ میں شادی کر لوں اگر میرا جی چاہے“۔
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَاهُ كَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَرْقَمَ الزُّهْرِيِّ يَأْمُرُهُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَى سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الأَسْلَمِيَّةِ فَيَسْأَلَهَا حَدِيثَهَا وَعَمَّا قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ اسْتَفْتَتْهُ فَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ يُخْبِرُهُ أَنَّ سُبَيْعَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ سَعْدِ ابْنِ خَوْلَةَ - وَهُوَ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَىٍّ وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا فَتُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهِيَ حَامِلٌ - فَلَمْ تَنْشَبْ أَنْ وَضَعَتْ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاتِهِ فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا تَجَمَّلَتْ لِلْخُطَّابِ فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ - رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ - فَقَالَ لَهَا مَا لِي أَرَاكِ مُتَجَمِّلَةً لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ النِّكَاحَ إِنَّكِ وَاللَّهِ مَا أَنْتِ بِنَاكِحٍ حَتَّى تَمُرَّ عَلَيْكِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا . قَالَتْ سُبَيْعَةُ فَلَمَّا قَالَ لِي ذَلِكَ جَمَعْتُ عَلَىَّ ثِيَابِي حِينَ أَمْسَيْتُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ فَأَفْتَانِي بِأَنِّي قَدْ حَلَلْتُ حِينَ وَضَعْتُ حَمْلِي وَأَمَرَنِي بِالتَّزْوِيجِ إِنْ بَدَا لِي .
#3519
Sahih Lighairihi
It was narrated from Yazid bin Abi Habib that Muhammad bin Muslim Az-Zuhri wrote to him mentioning that 'Ubaidullah bin 'Abdullah told him, that Zufar bin Aws bin Al-Hadathan An-Nasri told him that Abu As-Sanabil bin Ba'kak bin As-Sabbaq said to Subai'ah Al-Aslamiyyah:"It is not permissible for you to get married until four months and ten days, the longer of the two periods, have passed." She went to the Messenger of Allah and asked him about that. She said that the Messenger of Allah ruled that she could get married when she had given birth. She was nine months pregnant when her husband died, and she was married to Sa'd bin Khawlah, who died during the Farewell Pilgrimage with the Messenger of Allah. She married a young man from her people when she had given birth to (the child)
زفر بن اوس بن حدثان نصری بیان کرتے ہیں کہ ابوسنابل بن بعکک بن سباق رضی اللہ عنہ نے سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ تم ( نکاح کے لیے ) حلال نہ ہو گی جب تک کہ دونوں عدتوں میں سے لمبی مدت والی عدت کے چار ماہ دس دن تم پر گزر نہ جائیں، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے اس کے بارے میں پوچھا، پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فتویٰ دیا کہ جب وہ بچہ جن چکی ہے تو نکاح کر لے، وہ سعد بن خولہ کی بیوی تھیں جب ان کے شوہر سعد کا انتقال ہوا تو ان کے حمل کا نوواں مہینہ چل رہا تھا، وہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور وہیں ان کا انتقال ہوا تھا، چنانچہ بچہ جننے کے بعد انہوں نے اپنی قوم کے ایک نوجوان سے شادی کر لی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيِّ، قَالَ كَتَبَ إِلَيْهِ يَذْكُرُ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَهُ أَنَّ زُفَرَ بْنَ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا السَّنَابِلِ بْنَ بَعْكَكِ بْنِ السَّبَّاقِ قَالَ لِسُبَيْعَةَ الأَسْلَمِيَّةِ لاَ تَحِلِّينَ حَتَّى يَمُرَّ عَلَيْكِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا أَقْصَى الأَجَلَيْنِ . فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَتْهُ عَنْ ذَلِكَ فَزَعَمَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَفْتَاهَا أَنْ تَنْكِحَ إِذَا وَضَعَتْ حَمْلَهَا وَكَانَتْ حُبْلَى فِي تِسْعَةِ أَشْهُرٍ حِينَ تُوُفِّيَ زَوْجُهَا وَكَانَتْ تَحْتَ سَعْدِ ابْنِ خَوْلَةَ فَتُوُفِّيَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَنَكَحَتْ فَتًى مِنْ قَوْمِهَا حِينَ وَضَعَتْ مَا فِي بَطْنِهَا .
#3520
Sahih
It was narrated from 'Ubaidullah bin 'Abdullah that 'Abdullah bin 'Utbah wrote to 'Umar bin 'Abdullah bin Al-Arqam Az-Zuhri, telling him:"Go to Subai'ah bint Al-Harith Al-Aslamiyyah, and ask her about the ruling of the Messenger of Allah concerning her pregnancy." He said: "So 'Umar bin 'Abdullah went to her and asked her. She told him that she was married to Sa'd bin Khawlah, who was one of the Companions of the Messenger of Allah who had been present at Badr. He died during the Farewell Pilgrimage, and she gave birth before four months and ten days had passed since her husband's death. When her Nifas ended, Abu As-Sanabil -a man from Banu 'Abd Ad-Dar- went to her and saw that she had adorned herself. He said: 'Perhaps you want to get married before four months and ten days has passed?' She said: 'When I heard that from Abu As-Sanabil, I went to the Messenger of Allah and told him my story. The Messenger of Allah said: 'It is permissible for you to marry when you gave birth
عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عتبہ نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کو لکھا کہ تم سبیعہ بنت الحارث اسلمی رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حمل کے سلسلے میں انہیں کیا فتویٰ دیا تھا؟ عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں ( اس خط کے بعد ) عمر بن عبداللہ نے سبیعہ رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر ان سے پوچھا تو انہوں نے انہیں بتایا کہ وہ سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان صحابہ میں سے تھے جو غزوہ بدر میں شریک تھے، وہ حجۃ الوداع میں وفات پا گئے اور شوہر کی وفات سے لے کر چار مہینہ دس دن پورا ہونے سے پہلے ہی ان کے یہاں بچہ پیدا ہو گیا، پھر جب وہ نفاس سے فارغ ہو گئیں تو بنو عبدالدار کے ایک شخص ابوالسنابل رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور انہیں زیب و زینت میں دیکھا تو کہا ( عدت کے ) چار ماہ دس دن پورا ہونے سے پہلے ہی غالباً تم شادی کرنے کا ارادہ کر رہی ہو؟ وہ ( سبیعہ ) کہتی ہیں: جب میں نے ابوالسنابل سے یہ بات سنی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، میں نے آپ کو اپنی ( اور ان کی ) بات چیت بتائی۔ آپ نے فرمایا: ”تم تو اسی وقت سے حلال ہو گئی ہو جب تم نے بچہ جنا“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُتْبَةَ، كَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَرْقَمِ الزُّهْرِيِّ أَنِ ادْخُلْ، عَلَى سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الأَسْلَمِيَّةِ فَاسْأَلْهَا عَمَّا أَفْتَاهَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَمْلِهَا . قَالَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلَهَا فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ سَعْدِ ابْنِ خَوْلَةَ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا - فَتُوُفِّيَ عَنْهَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَوَلَدَتْ قَبْلَ أَنْ تَمْضِيَ لَهَا أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا مِنْ وَفَاةِ زَوْجِهَا فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا دَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو السَّنَابِلِ - رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ - فَرَآهَا مُتَجَمِّلَةً فَقَالَ لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ النِّكَاحَ قَبْلَ أَنْ تَمُرَّ عَلَيْكِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا . قَالَتْ فَلَمَّا سَمِعْتُ ذَلِكَ مِنْ أَبِي السَّنَابِلِ جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَدْ حَلَلْتِ حِينَ وَضَعْتِ حَمْلَكِ " .
#3521
Sahih
It was narrated that Muhammad said:"I was sitting with some people in Al-Kufah in a large gathering of the Ansar, among whom was 'Abdur-Rahman bin Abi Laila. They spoke about the story of Subai'ah and I mentioned what 'Abdullah bin 'Utbah bin Mas'ud had said in meaning." (One of the narrators) Ibn 'Awn's saying was: "when she gives birth." Ibn Abi Layla said: 'But his (paternal) uncle did not say that.' I raised my voice and said: 'Would I dare to tell lies about 'Abdullah bin 'Utbah when he is in the vicinity of Al-Kufah?'" He said: "Then I met Malik and said: 'What did Ibn Mas'ud say about the story of Subai'ah?' He said: 'He said: "Are you going to be too strict with her and not allow her the concession (with regard to the 'Iddah)? The shorter Surah about women (At-Talaq) was revealed after the longer one (Al-Baqarah)
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ میں کوفہ میں انصار کی ایک بڑی مجلس میں لوگوں کے درمیان بیٹھا ہوا تھا، اس مجلس میں عبدالرحمٰن بن ابی لیلی بھی موجود تھے، ان لوگوں نے سبیعہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ چھیڑا تو میں نے عبداللہ بن عتبہ بن مسعود کی روایت کا ذکر کیا جو ( روایت ) ابن عون کے قول «حتیٰ تضع» کے معنی اور حق میں تھی ( یعنی حمل والی عورت کی عدت وضع حمل ہے ) ، ( اس بات پر ) ابن ابی لیلیٰ نے کہا: لیکن ان کے ( یعنی عبداللہ بن عتبہ کے ) چچا ( ابن مسعود رضی اللہ عنہ ) اس کے قائل نہ تھے ( کہ حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے بلکہ وہ زیادہ مدت والی عدت کے قائل تھے ) تب میں نے اپنی آواز بلند کی اور ( زور سے ) کہا: کیا میں جرات کر سکتا ہوں کہ عبداللہ بن عتبہ پر جھوٹا الزام لگاؤں ( یہ نہیں ہو سکتا ) وہ ( عبداللہ بن عتبہ ) کوفہ کے علاقے میں موجود ہیں ( جس کو ذرا بھی شک و شبہ ہو وہ ان سے پوچھ سکتا ہے ) پھر میں مالک ( بن عامر ابن عود ) سے ملا اور ان سے پوچھا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سبیعہ رضی اللہ عنہا کے معاملے میں کیا کہتے تھے؟ مالک نے کہا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم لوگ اس پر سختی اور تنگی ڈالتے ہو ( اس سے زیادہ مدت والی عدت پر عمل کرانا چاہتے ہو ) اور اسے رخصت سے فائدہ نہیں اٹھانے دینا چاہتے۔ جب کہ چھوٹی سورۃ النساء ( یعنی سورۃ الطلاق، جس میں حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل بتائی گئی ہے ) بڑی سورۃ ( بقرہ ) کے بعد اتری ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ كُنْتُ جَالِسًا فِي نَاسٍ بِالْكُوفَةِ فِي مَجْلِسٍ - لِلأَنْصَارِ - عَظِيمٍ فِيهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى فَذَكَرُوا شَأْنَ سُبَيْعَةَ فَذَكَرْتُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ فِي مَعْنَى قَوْلِ ابْنِ عَوْنٍ حَتَّى تَضَعَ . قَالَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى لَكِنَّ عَمَّهُ لاَ يَقُولُ ذَلِكَ فَرَفَعْتُ صَوْتِي وَقُلْتُ إِنِّي لَجَرِيءٌ أَنْ أَكْذِبَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ وَهُوَ فِي نَاحِيَةِ الْكُوفَةِ . قَالَ فَلَقِيتُ مَالِكًا قُلْتُ كَيْفَ كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَقُولُ فِي شَأْنِ سُبَيْعَةَ قَالَ قَالَ أَتَجْعَلُونَ عَلَيْهَا التَّغْلِيظَ وَلاَ تَجْعَلُونَ لَهَا الرُّخْصَةَ لأُنْزِلَتْ سُورَةُ النِّسَاءِ الْقُصْرَى بَعْدَ الطُّولَى .
#3522
Sahih Isnaad
It was narrated from 'Alqamah bin Qais that Ibn Mas'ud said:"Whoever wants, I will meet and debate with him and invoke the curse of Allah upon those who lie. The Verse: 'And for those who are pregnant (whether they are divorced or their husbands are dead), their 'Iddah (prescribed period) is until they lay down their burden.' was only revealed after the Verse about women whose husbands die. 'When a woman whose husband has died gives birth, it becomes permissible for her to marry.'" This is the wording of Maimun (one of the narrators)
علقمہ بن قیس سے روایت ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہا: جو کوئی مجھ سے مباہلہ کرنا چاہے میں اس سے اس بات پر مباہلہ کرنے کے لیے تیار ہوں ( کہ حمل والیوں کی عدت وضع حمل ہے ) کیونکہ وضع حمل کی مدت سے متعلق آیت «متوفی عنہا زوجہا» والی آیت کے بعد نازل ہوئی ہے، اس لیے جس کا شوہر مر گیا ہو جب وہ بچہ جن دے گی حلال ہو جائے گی۔ اس روایت کے الفاظ میمون کے ہیں۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينِ بْنِ نُمَيْلَةَ، - يَمَامِيٌّ - قَالَ أَنْبَأَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَأَخْبَرَنِي مَيْمُونُ بْنُ الْعَبَّاسِ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شُبْرُمَةَ الْكُوفِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ مَنْ شَاءَ لاَعَنْتُهُ مَا أُنْزِلَتْ { وَأُولاَتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ } إِلاَّ بَعْدَ آيَةِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا إِذَا وَضَعَتِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا فَقَدْ حَلَّتْ وَاللَّفْظُ لِمَيْمُونٍ .
#3523
Sahih Lighairihi
It was narrated from 'Abdullah that the shorter Surah, that speaks of women (At-Talaq), was revealed after Al-Baqarah
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نسائی ( یعنی طلاق ) کی چھوٹی سورۃ البقرہ کی ( بڑی ) سورۃ کے بعد نازل ہوئی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، وَهُوَ ابْنُ أَعْيَنَ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، ح وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، وَمَسْرُوقٍ، وَعَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ سُورَةَ النِّسَاءِ الْقُصْرَى، نَزَلَتْ بَعْدَ الْبَقَرَةِ .
#3524
Sahih
It was narrated from Ibn Mas'ud, that he was asked about a man who married a woman, but did not name a Mahr or consummate the marriage before he died. Ibn Mas'ud said:"She should have a Mahr like that of women like her, no less and no more; she has to observe the 'Iddah, and she is entitled to inherit." Ma'qil bin Sinan Al-Ashja'i stood up and said: "The Messenger of Allah passed a similar judgment among us concerning Birwa' bint Washiq." And Ibn Masud rejoiced at that
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان سے ایک ایسے آدمی کے متعلق پوچھا گیا جس نے کسی عورت سے شادی کی اور اس کی مہر متعین نہ کی اور دخول سے پہلے مر گیا تو انہوں نے کہا: اسے اس کے خاندان کی عورتوں کے مہر کے مثل مہر دلائی جائے گی نہ کم نہ زیادہ، اسے عدت گزارنی ہو گی اور اس عورت کو شوہر کے مال سے میراث ملے گی، یہ سن کر معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ اٹھے اور کہا: ہمارے خاندان کی ایک عورت بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی فیصلہ دیا تھا جیسا آپ نے دیا ہے، یہ سن کر ابن مسعود رضی اللہ عنہ خوش ہوئے۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ، تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا حَتَّى مَاتَ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ لَهَا مِثْلُ صَدَاقِ نِسَائِهَا لاَ وَكْسَ وَلاَ شَطَطَ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ وَلَهَا الْمِيرَاثُ . فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الأَشْجَعِيُّ فَقَالَ قَضَى فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ - امْرَأَةٍ مِنَّا - مِثْلَ مَا قَضَيْتَ . فَفَرِحَ ابْنُ مَسْعُودٍ رضى الله عنه .
#3525
Sahih
It was narrated from 'Aishah that the Messenger of Allah said:"It is not permissible for a woman to mourn for anyone who dies for more than three days, except for her husband
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا حلال نہیں ہے سوائے اپنے شوہر کے“۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تَحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ أَكْثَرَ مِنْ ثَلاَثٍ إِلاَّ عَلَى زَوْجِهَا " .