#3051
Sahih
It was narrated form Hisham bin Urwah that his father said:"Usamah bin Zaid was asked - while I was sitting with him: 'How did the Messenger of Allah travel during the Farewell Pilgrimage when he moved on?' He said: 'He rode at a moderate pace, and if he found some open space, he would gallop
عروہ کہتے ہیں کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا، اور میں ان کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ سے لوٹتے وقت کیسے چل رہے تھے؟ تو انہوں نے کہا: اپنی اونٹنی کو عام رفتار سے چلا رہے تھے، اور جب خالی جگہ پاتے تو تیز بھگاتے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سُئِلَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَأَنَا جَالِسٌ، مَعَهُ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسِيرُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حِينَ دَفَعَ قَالَ كَانَ يُسَيِّرُ نَاقَتَهُ فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ .
#3052
Sahih
It was narrated that Al-Fadl bin Abbas said:"The Messenger of Allah said to the people when they moved on the evening of Arafat and the morning of Jam' (assembly at Al-Muzdalifah): 'You must have tranquility.' He was reining in his camel, and when he entered Mina, he came down to Muhassir and said: 'You have to pick up pebbles the size of date stones of fingertips with which to stone the Jamrat.' And he (Al-Fadl) said: 'And the Prophet gestured with his hand like a man throwing a pebble
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلنَّاسِ حِينَ دَفَعُوا عَشِيَّةَ عَرَفَةَ وَغَدَاةَ جَمْعٍ " عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ " . وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ حَتَّى إِذَا دَخَلَ مِنًى فَهَبَطَ حِينَ هَبَطَ مُحَسِّرًا قَالَ " عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي يُرْمَى بِهِ الْجَمْرَةُ " . وَقَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُشِيرُ بِيَدِهِ كَمَا يَخْذِفُ الإِنْسَانُ .
#3053
Sahih Lighairihi
It was narrated from Jabir that:the Prophet hurried in the valley of Muhassir
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی محسر میں اونٹ کو تیز دوڑایا۔
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ .
#3054
Sahih
Jafar bin Muhamad narrated that hi father said:"We enterd upon Jabir bin Abdullah and I said: "Tell me about the Hajj of the Prophet.' He said: 'The Messenger of Allah moved on from Al-Muzadalifah before the sun rose, and Al-Fadl bin Abbas rode behind him. When he came to Muhassir he sped up a little, then he follwed the middle road that brings you out at the largest Jamrat. When he came to the Jamrat whichis by the tree, he threw seven pebbles, saying the Takbir with each one, (using) pebbles the size of the date stones of fingertips, and he threw from the bottom of the valley
ابو جعفر محمد باقر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس گئے تو میں نے کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں ہمیں بتائیں۔ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ سے سورج نکلنے سے پہلے چلے آپ نے فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا، یہاں تک کہ وادی محسر پہنچے، تو اونٹ کی رفتار آپ نے قدرے بڑھا دی، پھر آپ نے وہ درمیانی راستہ پکڑا جو تمہیں جمرہ کبریٰ کے پاس لے جا کر نکالے گا یہاں تک کہ آپ اس جمرہ کے پاس آئے جو درخت کے پاس ہے۔ آپ نے ( وہاں پہنچ کر ) سات ایسی چھوٹی کنکریاں ماریں جو انگوٹھے اور شہادت کی دونوں انگلیوں کے درمیان آ جائیں، ہر کنکری کے ساتھ آپ تکبیر کہہ رہے تھے، آپ نے وادی کی نشیب سے رمی کی۔
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَقُلْتُ أَخْبِرْنِي عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَفَعَ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ الْعَبَّاسِ حَتَّى أَتَى مُحَسِّرًا حَرَّكَ قَلِيلاً ثُمَّ سَلَكَ الطَّرِيقَ الْوُسْطَى الَّتِي تُخْرِجُكَ عَلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى حَتَّى أَتَى الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الشَّجَرَةِ فَرَمَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ مِنْهَا حَصَى الْخَذْفِ رَمَى مِنْ بَطْنِ الْوَادِي .
#3055
Sahih
It was narrated from Al-Fadl bin abbas that:he was riding behind the Prophet and he continued to recite the Talbiyah until he stoned the Jamrat
فضل بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹ پر سوار تھے، تو برابر تلبیہ پکارتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ کی رمی کی۔
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، - وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ - عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جُرَيْجٍ، وَعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ .
#3056
Sahih
It was narrated from Ibn Abbas that:the Messenger of Allah recited the Talbiyah unitl he stoned the Jamrat
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لبیک پکارتے رہے یہاں تک کہ آپ نے جمرہ کی رمی کی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَبَّى حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ .
#3057
Sahih
It was narrated that Abu Al-Aliyah said:"Ibn Abbas said: "On the morning of Al-Aqabah, while he was on his mount, the Messenger of Allah said to me: "Pick up (some pebbles) for me." So I picked up some pebbles for him that were the size of date stones or fingertips, and when I placed them in his hand he said: "Like these. And beware of going to extremes in religious matters, for those who came before you were destroyed because of going to extremes in religious matters
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ کی صبح مجھ سے فرمایا: اور آپ اپنی سواری پر تھے کہ ”میرے لیے کنکریاں چن دو“۔ تو میں نے آپ کے لیے کنکریاں چنیں جو چھوٹی چھوٹی تھیں کہ چٹکی میں آ سکتی تھیں جب میں نے آپ کے ہاتھ میں انہیں رکھا تو آپ نے فرمایا: ”ایسی ہی ہونی چاہیئے، اور تم اپنے آپ کو دین میں غلو سے بچاؤ۔ کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو ان کے دین میں غلو ہی نے ہلاک کر دیا ہے۔“
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَوْفٌ، قَالَ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَدَاةَ الْعَقَبَةِ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ " هَاتِ الْقُطْ لِي " . فَلَقَطْتُ لَهُ حَصَيَاتٍ هُنَّ حَصَى الْخَذْفِ فَلَمَّا وَضَعْتُهُنَّ فِي يَدِهِ قَالَ بِأَمْثَالِ هَؤُلاَءِ " وَإِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّينِ فَإِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ الْغُلُوُّ فِي الدِّينِ " .
#3058
Sahih
It was narrated that Al-Fadl bin Abbas said:"The Messenger of Allah said to the people when they moved on the evening of Arafat and the morning of Jam' (assembly at Al-Muzdalifah): 'You must have tranquility.' He was reining in his camel, and when he entered Mina, he came down to Muhassir and said: 'You have to pick up pebbles the size of date stones of fingertips with which to stone the Jamrat.' And he (Al-Fadl) said: 'And the Prophet gestured with his hand like a man throwing a pebble
فضل بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے جس وقت وہ عرفہ کی شام اور مزدلفہ کی صبح کو چلے تو اپنی اونٹنی کو روک کر فرمایا: ”تم لوگ سکون و وقار کو لازم پکڑو“ یہاں تک کہ جب آپ منیٰ میں داخل ہوئے تو جس وقت اترے وادی محسر میں اترے، اور آپ نے فرمایا: ”چھوٹی کنکریوں کو جسے چٹکی میں رکھ کر تم مار سکو لازم پکڑو“، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے اشارہ کر رہے تھے، جیسے آدمی کنکری کو چٹکی میں رکھ کر مارتا ہے۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلنَّاسِ حِينَ دَفَعُوا عَشِيَّةَ عَرَفَةَ وَغَدَاةَ جَمْعٍ " عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ " . وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ حَتَّى إِذَا دَخَلَ مِنًى فَهَبَطَ حِينَ هَبَطَ مُحَسِّرًا قَالَ " عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي تُرْمَى بِهِ الْجَمْرَةُ " . قَالَ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُشِيرُ بِيَدِهِ كَمَا يَخْذِفُ الإِنْسَانُ .
#3059
Sahih
It was narrated that Ibn Abbas said:"On the morning of Al-Aqabah, while he was on his mount, the Messenger of Allh said: 'Pick up (some pebbles) for me.' So P picked up some pebbles for him that were the size of date stones of fingertips, and placed them in his hand. He started to do this with his hand." Yahya described him shaking them in his hand like this
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ کی صبح کو فرمایا اور آپ اپنی سواری کو روکے ہوئے تھے: ”آؤ میرے لیے کچھ کنکریاں چن دو“، تو میں نے آپ کے لیے کنکریاں چنیں۔ یہ اتنی چھوٹی تھیں کہ چٹکی میں آ جائیں، تو میں نے انہیں آپ کے ہاتھ میں لا کر رکھا، تو آپ انہیں اپنے ہاتھ میں حرکت دینے لگے۔ اور یحییٰ نے انہیں اپنے ہاتھ میں ہلا کر بتایا کہ اسی طرح کی کنکریاں یہ اتنی چھوٹی تھیں کہ چٹکی میں آ جائیں ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَوْفٌ، قَالَ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَدَاةَ الْعَقَبَةِ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى رَاحِلَتِهِ " هَاتِ الْقُطْ لِي " . فَلَقَطْتُ لَهُ حَصَيَاتٍ هُنَّ حَصَى الْخَذْفِ فَوَضَعْتُهُنَّ فِي يَدِهِ وَجَعَلَ يَقُولُ بِهِنَّ فِي يَدِهِ وَوَصَفَ يَحْيَى تَحْرِيكَهُنَّ فِي يَدِهِ بِأَمْثَالِ هَؤُلاَءِ .
#3060
Sahih
It was narrated from Yajya bin Al-Husain that his grandmother, Umm Husain said:"I perfomed Hajj during the Hajj of the Prophet. I saw Bilal hodling on the reins of his she-camel, and Usmah bin Zaid hodling his garment ouver him to shade him from the heat, while he was in Ihram, until he had stoned Jamratual Aqabah. Then he addressed the people and praised Allahy, and mentioned many things
ام حصین رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا تو بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ آپ کی اونٹنی کی مہار تھامے ہوئے چل رہے تھے، اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما آپ کو گرمی سے بچانے کے لیے آپ کے اوپر اپنے کپڑے کا سایہ کیے ہوئے تھے۔ اور آپ حالت احرام میں تھے یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی پھر لوگوں کو خطبہ دیا، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، اور بہت سی باتیں ذکر کیں۔
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ حُصَيْنٍ، قَالَتْ حَجَجْتُ فِي حَجَّةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَرَأَيْتُ بِلاَلاً يَقُودُ بِخِطَامِ رَاحِلَتِهِ وَأُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ رَافِعٌ عَلَيْهِ ثَوْبَهُ يُظِلُّهُ مِنَ الْحَرِّ وَهُوَ مُحْرِمٌ حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَذَكَرَ قَوْلاً كَثِيرًا .
#3061
Sahih
It was narrated that Qudamah bin Abdullah said:"I saw the Messenger of Allah stoning JamratualAqabah on the Day of Sacrifice on the reddish-brown camel of his, without beating anyone or driving them off
قدامہ بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے قربانی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سرخ و سفید اونٹنی پر سوار جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا، نہ کوئی مار رہا تھا، نہ بھگا رہا، نہ ہٹو ہٹو کہہ رہا تھا۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرْمِي جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ صَهْبَاءَ لاَ ضَرْبَ وَلاَ طَرْدَ وَلاَ إِلَيْكَ إِلَيْكَ .
#3062
Sahih
Abu Az-Zubair narrated that he heard Jabir bin Abdullah say:"I saw the Messneger of Allah stone the Jamrat while on his camel saying: "O people, learn your rituals (of Hajj) for I do not know whether I will perform Hajj again after this year
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اونٹ پر سوار ہو کر جمرہ کو کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا، اور آپ فرما رہے تھے: ”لوگو! مجھ سے اپنے حج کے طریقے سیکھ لو کیونکہ میں نہیں جانتا شاید میں اس سال کے بعد آئندہ حج نہ کر سکوں“۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرْمِي الْجَمْرَةَ وَهُوَ عَلَى بَعِيرِهِ وَهُوَ يَقُولُ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ خُذُوا مَنَاسِكَكُمْ فَإِنِّي لاَ أَدْرِي لَعَلِّي لاَ أَحُجُّ بَعْدَ عَامِي هَذَا " .
#3063
Sahih
It was narrated that Jabir said:"The Messenger of Allah stoned the Jamrat on the Day of Sacrifice in the forenoon, and after the Day of Sacrifice he stoned (the Jamarat) When the sun had passed its zenith
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ کو دسویں ذی الحجہ کو چاشت کے وقت کنکریاں ماریں، اور دسویں تاریخ کے بعد ( یعنی گیارہویں، بارہویں اور تیرہویں تاریخ کو ) سورج ڈھل جانے کے بعد۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الثَّقَفِيُّ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى وَرَمَى بَعْدَ يَوْمِ النَّحْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ .
#3064
Sahih
It was narrated that Ibn Abbas said:"The Messenger ofAllah sent us young boys of Banu Abdul-Muttalib on donkeys, stalping our things and saying "O my sons, do not stone Jamratulal Aqabah until the sun has risen. (Daif)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم بنی عبدالمطلب کے گھرانے کے بچوں کو گدھوں پر سوار کر کے بھیجا، آپ ہماری رانوں کو تھپتھپا رہے تھے، اور فرما رہے تھے: ”میرے ننھے بیٹو! جب تک سورج نکل نہ آئے جمرہ عقبہ کو کنکریاں نہ مارنا“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُغَيْلِمَةَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَى حُمُرَاتٍ يَلْطَحُ أَفْخَاذَنَا وَيَقُولُ " أُبَيْنِيَّ لاَ تَرْمُوا جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ " .
#3065
Sahih
It was narrated from Ibn Abbas that:the Prophet sent his family ahead, and told them not to stone the Jamrah until the sun had risen. (Daif)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں کو ( رات میں ) پہلے ہی بھیج دیا اور انہیں حکم دیا کہ جب تک سورج نہ نکل آئے جمرہ کی رمی نہ کریں۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَدَّمَ أَهْلَهُ وَأَمَرَهُمْ أَنْ لاَ يَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ .
#3066
Daif Isnaad
Aishah bint Tallah narrated from her maternal aunt Aishah the Mother of the Believers that:the Messenger of Allah told one of his wives to depart from Jam (Al-Muzadalifah) on the night of Jam, to go to Jamratual Aqabah and stone it, then come back to her camp before morning. And Ata used to do that until he died
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک بیوی کو حکم دیا کہ وہ مزدلفہ کی رات ہی میں مزدلفہ سے کوچ کر جائیں، اور جمرہ عقبہ کے پاس آ کر اس کی رمی کر لیں، اور اپنے ٹھکانے پر پہنچ کر صبح کریں۔ اور عطا اپنی وفات تک ایسے ہی کرتے رہے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ، عَنْ خَالَتِهَا، عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ إِحْدَى نِسَائِهِ أَنْ تَنْفِرَ مِنْ جَمْعٍ لَيْلَةَ جَمْعٍ فَتَأْتِيَ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَتَرْمِيَهَا وَتُصْبِحَ فِي مَنْزِلِهَا . وَكَانَ عَطَاءٌ يَفْعَلُهُ حَتَّى مَاتَ .
#3067
Sahih
It was narrated that Ibn abbas said:"The Mesenger of Allah was asked questions during the days of Mina and he said: 'There is no harm.' A man said: 'I shaved my head before offering the sacrifice.' He said: 'There is no harm.' Another man said: 'I stoned (the Majarat) after evening came.' He said: "There is no harm
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ منیٰ کے ایام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( حج کے مسائل ) پوچھے جاتے تو آپ فرماتے ”کوئی حرج نہیں“، ایک شخص نے آپ سے پوچھا: میں نے قربانی کرنے سے پہلے ہی سر منڈا لیا؟ آپ نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں“، اور ایک دوسرے شخص نے کہا: شام ہو جانے کے بعد میں نے کنکریاں ماریں؟ آپ نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ - قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُسْأَلُ أَيَّامَ مِنًى فَيَقُولُ " لاَ حَرَجَ " . فَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ . قَالَ " لاَ حَرَجَ " . فَقَالَ رَجُلٌ رَمَيْتُ بَعْدَ مَا أَمْسَيْتُ . قَالَ " لاَ حَرَجَ " .
#3068
Sahih
It was narrated from Abu al-Baddah bin'Adiyy, from father, that:the Prophet granted the camel herders a concession allowing them to stone the Jamrat on one day an not another
ابوالبداح بن عاصم کے والد عاصم بن عدی بن جدا القضاعی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چرواہوں کو ایک دن چھوڑ کر ایک دن رمی کرنے کی رخصت دی ہے، ( اس لیے کہ وہ اونٹوں کو ادھر ادھر چرانے لے جانے کی وجہ سے ہر روز منیٰ نہیں پہنچ سکتے تھے ) ۔
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ لِلرُّعَاةِ أَنْ يَرْمُوا يَوْمًا وَيَدَعُوا يَوْمًا .
#3069
Sahih
It was narrated from al-Baddah bin Asim bin Adiyy from his father, that:the Messenger of Allah granted a concession to some camel herders, allowing them to not stay overnight in Mina, and allowing them to stone the Jimar on the Day of Sacrifice, then to combine the stoning of two days after sacrifice, so that they could do it on one of the two days
ابوالبداح بن عاصم کے والد عاصم بن عدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چرواہوں کو منیٰ میں رات میں نہ رہنے کی رخصت دی ہے۔ وہ یوم النحر ( یعنی دسویں تاریخ ) کو رمی کریں، اور پھر اس کے بعد دونوں دنوں کو کسی ایک دن میں جمع کر لیں ) ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ لِلرُّعَاةِ فِي الْبَيْتُوتَةِ يَرْمُونَ يَوْمَ النَّحْرِ وَالْيَوْمَيْنِ اللَّذَيْنِ بَعْدَهُ يَجْمَعُونَهُمَا فِي أَحَدِهِمَا .
#3070
Sahih
It was narrated that Abdur-Rahman - meaning bin Yazid - said:"It was said to Abdullah bin Masud that some people were stoning the Jamart from above al-Aqabah." He said: "So Abdullah stoned it from the bottom of the valley, then he said: 'From here - by the One beside Whom there is no other God - did the one to whom surat Al-Baqarah was revealed, stone it
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے کہا گیا کہ کچھ لوگ جمرہ کو گھاٹی کے اوپر سے کنکریاں مارتے ہیں، تو عبداللہ بن مسعود نے وادی کے نیچے سے کنکریاں ماریں، پھر کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، اسی جگہ سے اس شخص نے کنکریاں ماریں جس پر سورۃ البقرہ نازل ہوئی ( یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ) ۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي مُحَيَّاةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، - يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ - قَالَ قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ إِنَّ نَاسًا يَرْمُونَ الْجَمْرَةَ مِنْ فَوْقِ الْعَقَبَةِ . قَالَ فَرَمَى عَبْدُ اللَّهِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي ثُمَّ قَالَ مِنْ هَا هُنَا وَالَّذِي لاَ إِلَهَ غَيْرُهُ رَمَى الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ .
#3071
Sahih
It was narrated that Abdullah bin Yazid said:"Abdullah stoned the Jamrat with seven pebbles, with the House on his left and Arafat on his right. And he said: 'This is the place where the one to whom Surat al-Baqrah was revealed stood.'" (Sahih) Abu Abdur-Rahman (An-Nisai) said: I do not know of anyone who said: Mansur in this narration except Ibn Abi adi, and Allah most High knows best
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے خانہ کعبہ کو اپنے بائیں جانب کیا اور عرفہ کو اپنے دائیں جانب اور جمرہ کو سات کنکریاں ماریں، اور کہا: یہی اس ذات کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے جس پر سورۃ البقرہ نازل کی گئی۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ابن ابی عدی کے سوا میں کسی کو نہیں جانتا جس نے اس حدیث میں منصور کے ہونے کی بات کہی ہو، واللہ اعلم۔
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، وَمَالِكُ بْنُ الْخَلِيلِ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، وَمَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ رَمَى عَبْدُ اللَّهِ الْجَمْرَةَ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ جَعَلَ الْبَيْتَ عَنْ يَسَارِهِ وَعَرَفَةَ عَنْ يَمِينِهِ وَقَالَ هَا هُنَا مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا أَعْلَمُ أَحَدًا قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ مَنْصُورٌ غَيْرَ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ .
#3072
Sahih
Abdur-Rahman bin Yazid said:"I sqa Ibn Masud stone Jamratul 'Aqabah from the bottom of the valley, then he said: ;This - by the One beside Whom there is no other God-is the place where the one to whom Surat Al-Baqarah was revealed stood
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے جمرہ عقبہ کو وادی کے اندر سے کنکریاں ماریں، پھر کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، یہی ہے اس ہستی کے کھڑے ہونے کی جگہ جس پر سورۃ البقرہ اتاری گئی۔
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ رَأَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي ثُمَّ قَالَ هَا هُنَا وَالَّذِي لاَ إِلَهَ غَيْرُهُ مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ .
#3073
Sahih
Al-A 'mash said :"I head Al-Hajjaj say: 'Do not say Surat Al-Baqarah, say: 'The Surah in which the cow (Al-Baqarah) is mentioned."' I mentioned that to Ibrahim, and he said: "Abdur-Rahman bi Yazdi told me, that he was with 'Abdullah when he stoned Jamratul 'Aqabah. He went down the middle of the valley, stood opposite it - meaning the Jamrah - and throew seven pebbiles at it, saying the Takbir with each pebble. I said; "Some people climbed the mountain." He said: "Here - by the One beside Whom there is no other God - is the place where the one to whom Surat Al-Baqarah was revelated stoned
اعمش کہتے ہیں کہ میں نے حجاج کو کہتے سنا کہ ”سورۃ البقرہ“ نہ کہو، بلکہ کہو ”وہ سورۃ جس میں بقرہ کا ذکر کیا گیا ہے“ میں نے اس بات کا ذکر ابراہیم سے کیا، تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن یزید نے بیان کیا ہے کہ وہ عبداللہ ( عبداللہ بن مسعود ) کے ساتھ تھے جس وقت انہوں نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں، وہ وادی کے اندر آئے، اور جمرہ کو اپنے نشانہ پر لیا، اور سات کنکریاں ماریں، اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہی، تو میں نے کہا: بعض لوگ ( کنکریاں مارنے کے لیے ) پہاڑ پر چڑھتے ہیں۔ تو انہوں نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، یہی جگہ ہے جہاں سے میں نے اس شخص کو جس پر سورۃ البقرہ نازل ہوئی کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ، يَقُولُ لاَ تَقُولُوا سُورَةُ الْبَقَرَةِ قُولُوا السُّورَةُ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا الْبَقَرَةُ . فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ أَنَّهُ كَانَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ حِينَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَاسْتَبْطَنَ الْوَادِيَ وَاسْتَعْرَضَهَا يَعْنِي الْجَمْرَةَ فَرَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ وَكَبَّرَ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ فَقُلْتُ إِنَّ أُنَاسًا يَصْعَدُونَ الْجَبَلَ . فَقَالَ هَا هُنَا وَالَّذِي لاَ إِلَهَ غَيْرُهُ رَأَيْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ رَمَى .
#3074
Sahih
It was narrated from Jabir:That the Messenger of Allah stoned the Jamarat with pebbles like date sones or fingertips
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ کی رمی چٹکی میں آنے والی جیسی کنکریوں سے کی۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَذَكَرَ، آخَرَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَمَى الْجَمْرَةَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ .
#3075
Sahih
It was narrated that Jabir said:"The Messenger of Allah stoned the Jamarat with pebbles like date sones or fingertips
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ چٹکی میں آنے والی جیسی کنکریوں سے جمرہ عقبہ کی رمی کر رہے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرْمِي الْجِمَارَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ .