العربية
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ - قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُسْأَلُ أَيَّامَ مِنًى فَيَقُولُ " لاَ حَرَجَ " . فَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ . قَالَ " لاَ حَرَجَ " . فَقَالَ رَجُلٌ رَمَيْتُ بَعْدَ مَا أَمْسَيْتُ . قَالَ " لاَ حَرَجَ " .
English
It was narrated that Ibn abbas said:"The Mesenger of Allah was asked questions during the days of Mina and he said: 'There is no harm.' A man said: 'I shaved my head before offering the sacrifice.' He said: 'There is no harm.' Another man said: 'I stoned (the Majarat) after evening came.' He said: "There is no harm اردو
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ منیٰ کے ایام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( حج کے مسائل ) پوچھے جاتے تو آپ فرماتے ”کوئی حرج نہیں“، ایک شخص نے آپ سے پوچھا: میں نے قربانی کرنے سے پہلے ہی سر منڈا لیا؟ آپ نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں“، اور ایک دوسرے شخص نے کہا: شام ہو جانے کے بعد میں نے کنکریاں ماریں؟ آپ نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں“۔