#3076
Sahih
Jafar bin Muhammad bin 'Ali bin Husain narrated that his father said:"We entered upon Jabir bin 'Abdullah and I said: 'Tell me about the Hajj of the Prophet. He said: 'The Messenger of Allah stoned the Jamart which is by the tree, with seven pebbles, saying the Takbir with eeach pebble - pebbles that were the size of data stones or fingertips. And he threw them for the bottom of the valley, then he went to the place of sacrifice in Mina
ابو جعفر محمد بن علی بن حسین باقر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ کے پاس گئے تو میں نے ان سے کہا: آپ ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کا حال بتائیے، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جمرہ کو جو درخت کے قریب ہے سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری کے ساتھ آپ تکبیر کہہ رہے تھے، کنکریاں اتنی چھوٹی تھیں جو چٹکی میں آ سکیں۔ آپ نے وادی کے اندر سے رمی کی، پھر آپ منحر ( قربان گاہ ) کی طرف پلٹے اور قربانی کی۔
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَقُلْتُ أَخْبِرْنِي عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَمَى الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الشَّجَرَةِ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ مِنْهَا حَصَى الْخَذْفِ رَمَى مِنْ بَطْنِ الْوَادِي ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمَنْحَرِ فَنَحَرَ .
#3077
Sahih Isnaad
Sad said:"We returned during the Hajj with the Prophet and some of us said that they had stoned (the Jamarat) with seven stones, and other said that they had done so with six, and no one denounced anyone else
سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج میں لوٹے۔ تو ہم میں سے کوئی کہتا تھا: ہم نے سات کنکریاں ماریں اور کوئی کہتا تھا: ہم نے چھ ماریں، تو ان میں سے کسی نے ایک دوسرے پر نکیر نہیں کی۔
أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، قَالَ قَالَ مُجَاهِدٌ قَالَ سَعْدٌ رَجَعْنَا فِي الْحَجَّةِ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَبَعْضُنَا يَقُولُ رَمَيْتُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ وَبَعْضُنَا يَقُولُ رَمَيْتُ بِسِتٍّ فَلَمْ يَعِبْ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ .
#3078
Sahih
It was narrated the Qatadah said:"I heard Abu Mijlaz say: 'I asked Ibn 'Abbas something about the Jimar, and he said: I do not know, the Messenger of Allah stoned it with six or seven
ابومجلز کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کنکریوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ کنکریاں ماریں یا سات۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مِجْلَزٍ، يَقُولُ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ شَىْءٍ، مِنْ أَمْرِ الْجِمَارِ فَقَالَ مَا أَدْرِي رَمَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِسِتٍّ أَوْ بِسَبْعٍ .
#3079
Sahih
It was narrated from Ibn 'Abbas that his brother Al-Fadl bin 'Abbas said:"I was riding behind the Prophet and he continued to recite the Talbiyah until he stoned Jamratul'Aqabah. He stoned it with seven pebbles, saying the Takbir with each throw
عبداللہ بن عباس اپنے بھائی فضل بن عباس (رضی الله عنہم) سے روایت کرتے ہیں، فضل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا آپ برابر لبیک کہتے رہے یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی، آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں، اور ہر کنکری کے ساتھ آپ اللہ اکبر کہہ رہے تھے۔
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ الْكُوفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَخِيهِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَرَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ .
#3080
Sahih
Al-Fadl bin 'Abbas said:"I was riding behind the Messenger of Allah and he continued to hear him reciting the Talbiyah until he stoned Jamratul 'Aqabah, then when he soned (the Jamrah) he stopped reciting the Talbiyah
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹ پر سوار تھا تو میں برابر آپ کو لبیک پکارتے ہوئے سن رہا تھا یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی تو جب رمی کر لی تو آپ نے تلبیہ پکارنا بند کر دیا۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ كُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَا زِلْتُ أَسْمَعُهُ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَلَمَّا رَمَى قَطَعَ التَّلْبِيَةَ .
#3081
Sahih
It was narrated from Ibn 'Abbas that:Al-Fadl to him that he roed behind the Messenger of Allah and he continued to recited the Talbiyah until eh stoned the Jamrat
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ فضل ( فضل بن عباس رضی اللہ عنہما ) نے انہیں خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹ پر سوار تھے اور آپ برابر تلبیہ پکار رہے تھے یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی۔
أَخْبَرَنَا هِلاَلُ بْنُ الْعَلاَءِ بْنِ هِلاَلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَعَطَاءٍ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ الْفَضْلَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، كَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَّهُ لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ .
#3082
Sahih
It was narrated from Al-Fadl bin 'Abbas that:he was riding behind the Prophet and he continued recite the Talbiyah until he stoned Jamratul Aqabah
فضل بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، اور آپ برابر لبیک پکار رہے تھے یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مَعْبَدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ، أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ .
#3083
Sahih
It was narrated that Az-Zuhri said:"We heard that when the Messenger of Allah stoned the Jamrah he stoned it with seven pebbles, saying the Takbir every time he threw a pebble. Then he came in front of it ans stood facing the Qiblah, raising his hands and supplicating fro a long time. Then he came to the second Jamrah and stoned it stoned it with seven pebbles, saying the Takbir every time he threw a pebble. Then he moved to the left and stood facing the Qiblah, raising his hands and supplicating for a long time. Then he came to the Jamrat that is at al 'Aqabah and stoned ti with seven pebbles, but he did not stand there." Az-Zuhri said: "I heard Salim narrted this from his father, from the Prophetk and Ibn'Umar used to do that
زہری کہتے ہیں ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس جمرے کو کنکری مارتے جو منیٰ کی قربان گاہ کے قریب ہے، تو اسے سات کنکریاں مارتے، اور جب جب کنکری مارتے اللہ اکبر کہتے، پھر ذرا آگے بڑھتے، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر قبلہ رو کھڑے ہو کر دعا کرتے اور کافی دیر تک کھڑے رہتے، پھر جمرہ ثانیہ کے پاس آتے، اور اسے بھی سات کنکریاں مارتے اور جب جب کنکری مارتے اللہ اکبر کہتے۔ پھر بائیں جانب مڑتے بیت اللہ کی طرف منہ کر کے ہاتھ اٹھا کر کھڑے ہو کر دعا کرتے۔ پھر اس جمرے کے پاس آتے، جو عقبہ کے پاس ہے اور اسے سات کنکریاں مارتے اور اس کے پاس ( دعا کے لیے ) کھڑے نہیں ہوتے۔ زہری کہتے ہیں کہ میں نے سالم بن عبداللہ سے یہ حدیث سنی، وہ اپنے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ أَنْبَأَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ الَّتِي تَلِي الْمَنْحَرَ مَنْحَرَ مِنًى رَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ ثُمَّ تَقَدَّمَ أَمَامَهَا فَوَقَفَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو يُطِيلُ الْوُقُوفَ ثُمَّ يَأْتِي الْجَمْرَةَ الثَّانِيَةَ فَيَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ ثُمَّ يَنْحَدِرُ ذَاتَ الشِّمَالِ فَيَقِفُ مُسْتَقْبِلَ الْبَيْتِ رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو ثُمَّ يَأْتِي الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الْعَقَبَةِ فَيَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ وَلاَ يَقِفُ عِنْدَهَا . قَالَ الزُّهْرِيُّ سَمِعْتُ سَالِمًا يُحَدِّثُ بِهَذَا عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ .
#3084
Sahih
It was narrated that Ib 'Abbas said:"When (the pilgrim) has stoned hthe Jamrat, everything becomes permissible for him except (intimacy with) women," It was said: "And perfume?" he said; "I saw the Messenger of Allah smelling strongly of musk - is it not a perfume?
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب آدمی نے جمرہ عقبہ کی رمی کر لی، تو اس کے لیے سبھی چیزیں حلال ہو گئیں سوائے عورت کے، پوچھا گیا: اور خوشبو؟ تو انہوں نے کہا: ہاں خوشبو بھی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشک ملتے ہوئے دیکھا، کیا وہ خوشبو ہے؟ ( اگر خوشبو ہے تو خوشبو بھی حلال ہے ) ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ فَقَدْ حَلَّ لَهُ كُلُّ شَىْءٍ إِلاَّ النِّسَاءَ . قِيلَ وَالطِّيبُ قَالَ أَمَّا أَنَا فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَضَمَّخُ بِالْمِسْكِ أَفَطِيبٌ هُوَ
#3085
Sahih Isnaad
Narrated It was narrated that Ibn Abbas said:“When the Prophet was expelled from Makkah, Abu Bakr said to him: ‘They have driven out their Prophet, verily to Allah we belong and to Him we return. They are surely doomed.’ Then it was revealed: ‘Permission to fight (against disbelievers) is given to those (believers) who are fought against, because they have been wronged; and surely, Allah is able to give them (believers) victory.’ Then I knew that there would be fighting.” Ibn Abbas said: “This is the first Verse that was revealed concerning fighting.”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے نکالے گئے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: انہوں نے اپنے نبی کو نکال دیا «إنا لله وإنا إليه راجعون» یہ لوگ ضرور ہلاک ہو جائیں گے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی «أذن للذين يقاتلون بأنهم ظلموا وإن اللہ على نصرهم لقدير» ”جن ( مسلمانوں ) سے ( کافر ) جنگ کر رہے ہیں، انہیں بھی مقابلے کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ وہ بھی مظلوم ہیں۔ بیشک ان کی مدد پر اللہ قادر ہے“۔ ( الحج: ۳۹ ) تو میں نے سمجھ لیا کہ اب جنگ ہو گی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”یہ پہلی آیت ہے جو جنگ کے بارے میں اتری ہے“۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلاَّمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمَّا أُخْرِجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنْ مَكَّةَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَخْرَجُوا نَبِيَّهُمْ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ لَيَهْلِكُنَّ . فَنَزَلَتْ { أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ } فَعَرَفْتُ أَنَّهُ سَيَكُونُ قِتَالٌ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَهِيَ أَوَّلُ آيَةٍ نَزَلَتْ فِي الْقِتَالِ .
#3086
Sahih Isnaad
Narrated It was narrated from Ibn Abbas:that Abdur-Rahman bin Awf and some of his companions came to the Prophet in Makkah and said: “O Messenger of Allah! We were respected when we were idolaters and when we believed, we were humiliated.” He said: “I have been commanded to pardon, so do not fight.” Then, when Allah caused us to move to Al-Madinah, He commanded us to fight, but they refrained. Then Allah, the Mighty and Sublime, revealed: Have you not seen those who were told to hold back their hands (from fighting) and perform As-Salah”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ اور ان کے کچھ دوست نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب آپ مکہ میں تشریف فرما تھے آئے، اور انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! جب ہم مشرک تھے عزت سے تھے، اور جب سے ایمان لے آئے ذلیل و حقیر ہو گئے۔ آپ نے فرمایا: ”مجھے عفو و درگزر کا حکم ملا ہوا ہے۔ تو ( جب تک لڑائی کا حکم نہ مل جائے ) لڑائی نہ کرو“، پھر جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں مدینہ بھیج دیا، اور ہمیں جنگ کا حکم دے دیا۔ تو لوگ ( بجائے اس کے کہ خوش ہوتے ) باز رہے ( ہچکچائے، ڈرے ) تب اللہ تعالیٰ نے آیت: «ألم تر إلى الذين قيل لهم كفوا أيديكم وأقيموا الصلاة» ”کیا تم نے انہیں نہیں دیکھا جنہیں حکم کیا گیا تھا کہ اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو، اور نمازیں پڑھتے رہو، اور زکاۃ ادا کرتے رہو۔ پھر جب انہیں جہاد کا حکم دیا گیا تو اسی وقت ان کی ایک جماعت لوگوں سے اس قدر ڈرنے لگی جیسے اللہ تعالیٰ کا ڈر ہو، بلکہ اس سے بھی زیادہ اور کہنے لگے: اے ہمارے رب! تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کر دیا؟ کیوں ہمیں تھوڑی سی زندگی اور نہ جینے دی؟ آپ کہہ دیجئیے کہ دنیا کی سود مندی تو بہت ہی کم ہے اور پرہیزگاروں کے لیے تو آخرت ہی بہتر ہے اور تم پر ایک دھاگے کے برابر بھی ستم روا نہ رکھا جائے گا ( النساء: ۷۷ ) اخیر تک نازل فرمائی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبِي قَالَ، أَنْبَأَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، وَأَصْحَابًا، لَهُ أَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِمَكَّةَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا فِي عِزٍّ وَنَحْنُ مُشْرِكُونَ فَلَمَّا آمَنَّا صِرْنَا أَذِلَّةً . فَقَالَ " إِنِّي أُمِرْتُ بِالْعَفْوِ فَلاَ تُقَاتِلُوا " . فَلَمَّا حَوَّلَنَا اللَّهُ إِلَى الْمَدِينَةِ أَمَرَنَا بِالْقِتَالِ فَكَفُّوا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلاَةَ } .
#3087
Sahih
Narrated It was narrated that Abu Hurairah said:: “The Messenger of Allah said: ‘I have been sent with concise speech and I have been supported with fear. While I was sleeping, the keys to the treasures of the Earth were brought to me and placed in my hands.’” Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah has gone and you are acquiring them.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے جامع کلمات ۱؎ دے کر بھیجا گیا ہے اور میری مدد رعب ۲؎ سے کی گئی ہے۔ اس دوران کہ میں سو رہا تھا کہ زمین کے خزانوں کی کنجیاں مجھے دی گئیں، اور میرے ہاتھوں میں تھما دی گئیں“، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اس دنیا سے ) رخصت ہو گئے لیکن تم ان خزانوں کو نکال کر خرچ کر رہے ہو ۳؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ سَمِعْتُ مَعْمَرًا، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ قُلْتُ عَنْ سَعِيدٍ، قَالَ نَعَمْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح وَأَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، - وَاللَّفْظُ لأَحْمَدَ - قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَبَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الأَرْضِ فَوُضِعَتْ فِي يَدِي " . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنْتُمْ تَنْتَثِلُونَهَا .
#3088
Daif
Narrated It was narrated that Abu Hurairah said:: “I heard the Messenger of Allah say” a similar Hadith
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اسی طرح مروی ہے وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے۔
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ نِزَارٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مَبْرُورٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ نَحْوَهُ .
#3089
Sahih
Narrated It was narrated from Sa’eed bin Al-Musayyab and Salamah bin Abdur-Rahman that Abu Hurairah said:: “I heard the Messenger of Allah said: ‘I have been sent with concise speech, and I have been supported with fear. While I was sleeping, the keys to the treasures of the Earth were brought to me and placed in my hands.’ Abu Hurairah said: The Messenger of Allah has gone and you are acquiring them.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا میں جامع کلمات دے کر بھیجا گیا ہوں ۱؎ اور میری مدد رعب و دبدبہ سے کی گئی ہے، مجھے سوتے میں زمین کے خزانوں کی کنجیاں پیش کی گئیں ( اور پیش کرتے ہوئے ) میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ( اس کی وضاحت کرتے ہوئے ) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اس دنیا سے ) چلے گئے اور تم ان ( خزانوں ) سے فیض اٹھا رہے ہو۔ ( انہیں نکال رہے اور خرچ کر رہے ہو)
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي، سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَبَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الأَرْضِ فَوُضِعَتْ فِي يَدِي " . فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَدْ ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنْتُمْ تَنْتَثِلُونَهَا .
#3090
Sahih Mutawatir
Narrated Sa'eed bin Al-Musayyab narrated that:Abu Hurairah told him that the Messenger of Allah said: “I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah (there is none worthy of worship except Allah). Whoever says La ilaha illallah, his life and his property are safe from me, except by its right (in cases where Islamic laws apply), and his reckoning will be with Allah.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک لوگوں سے لڑتا رہوں جب تک کہ لوگ «لا إله إلا اللہ» کہنے نہ لگ جائیں۔ تو جس نے «لا إله إلا اللہ» کہہ لیا، اس نے اپنے مال اور اپنی جان کو ہم ( مسلمانوں ) سے محفوظ کر لیا ( اب اس کی جان و مال کو مسلمانوں سے کوئی خطرہ نہیں ) سوائے اس کے کہ وہ خود ہی ( اپنی غلط روی سے ) اس کا حق فراہم کر دے ۱؎، اور اس کا ( آخری ) حساب اللہ کے ذمہ ہے ۲؎“۔
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَمَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلاَّ بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ " .
#3091
Sahih
Narrated It was narrated that Abu Hurairah said:: “When the Messenger of Allah died and Abu Bakr was appointed as Khalifah, and some of the Arab’s disbelieved, Umar said: ‘O Abu Bakr! How can you fight the people when the Messenger of Allah said: I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah (there is none worthy of worship except Allah). Whoever says La ilaha illallah, his life and his property are safe from me, except for its right, and his reckoning will be with Allah?’ Abu Bakr, may Allah be pleased with him, said: ‘By Allah, I will surely fight those who separate prayer and Zakah, for Zakah is what is due on wealth. By Allah, if they withhold from me a small she-goat that they used to give to the Messenger of Allah I will fight them for withholding it.’ (Umar said) ‘By Allah, when I realized that Allah, the Mighty and Sublime, had opened the chest of Abu Bakr to fighting, then I knew that it was the truth.’”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنا دیئے گئے، اور عربوں میں سے جن کو کافر ہونا تھا وہ کافر ہو گئے ۱؎، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوبکر! آپ لوگوں سے کیسے جنگ کریں گے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”مجھے تو لوگوں سے لڑنے کا اس وقت تک حکم دیا گیا ہے جب تک کہ لوگ «لا إله إلا اللہ» کے قائل نہ ہو جائیں، تو جس نے «لا إله إلا اللہ» کہہ لیا، اس نے اپنے مال اور اپنی جان کو ہم ( مسلمانوں ) سے محفوظ کر لیا ( اب اس کی جان و مال کو مسلمانوں سے کوئی خطرہ نہیں ) سوائے اس کے کہ وہ خود ہی ( اپنی غلط روی سے ) اس کا حق فراہم کر دے اور اس کا ( آخری ) حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے“، ( اور یہ زکاۃ نہ دینے والے «لا إله إلا اللہ» کے قائل ہیں ) ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی میں ہر اس شخص سے لڑوں گا جو نماز اور زکاۃ میں فرق کرے گا، ( یعنی نماز پڑھے گا اور زکاۃ دینے سے انکار کرے گا ) کیونکہ زکاۃ مال کا حق ہے، ( جس طرح نماز بدن کا حق ہے ) قسم اللہ کی، اگر لوگوں نے مجھے بکری کا سال بھر سے چھوٹا بچہ بھی دینے سے روکا جسے وہ زکاۃ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے۔ تو اس روکنے پر بھی میں ان سے ضرور لڑوں گا۔ ( عمر کہتے ہیں: ) قسم اللہ کی اس معاملے کو تو میں نے ایسا پایا کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو قتال کے لیے شرح صدر بخشا ہے، اور میں نے سمجھ لیا کہ حق یہی ہے۔
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ قَالَ عُمَرُ يَا أَبَا بَكْرٍ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَمَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ عَصَمَ مِنِّي نَفْسَهُ وَمَالَهُ إِلاَّ بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ رضى الله عنه وَاللَّهِ لأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلاَةِ وَالزَّكَاةِ فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلاَّ أَنْ رَأَيْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ وَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ .
#3092
Sahih
It was narrated from 'Ubaidullah bin 'Abdullah bin 'Utbah bin Mas'ud that Abu Hurairah said:"When the Messenger of Allah (ﷺ) died and Abu Bakr (was appointed Khalifah) after him, and some of the 'Arabs disbelieved, 'Umar, may Allah be pleased with him, said: 'O Abu Bakr, how can you fight the people when the Messenger of Allah (ﷺ) said: I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah (there is none worthy of worship except Allah.) Whoever says La ilaha illallah, his life and his property are safe from me, except for its right, and his reckoning will be with Allah?'" Abu Bakr, may Allah be pleased with him, said: "I will surely fight those who separate prayer and Zakah, for Zakah is what is due on wealth. By Allah, if they withhold from me a small she-goat that they used to give to the Messenger of Allah (ﷺ) I will fight them for withholding it.' ('Umar said) 'By Allah, when I realized that Allah, the Mighty and Sublime, had opened the chest of Abu Bakr to fighting, then I knew that it was the truth.'" The wording is that of Ahmad
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انتقال فرما گئے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے بعد آپ کے خلیفہ ہوئے اور عربوں میں جن کو کافر ہونا تھا وہ کافر ہو گئے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوبکر! آپ لوگوں سے کیسے جنگ کریں گے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: مجھے تو لوگوں سے لڑنے کا اس وقت تک حکم دیا گیا ہے جب تک کہ لوگ «لا إله إلا اللہ» کے قائل نہ ہو جائیں تو جس نے «لا إله إلا اللہ» کہہ لیا اس نے اپنے مال اور اپنی جان کو ہم ( مسلمانوں ) سے محفوظ کر لیا ( اب اس کی جان و مال کو مسلمانوں سے کوئی خطرہ نہیں ) سوائے اس کے کہ وہ خود ہی ( اپنی غلط روی سے ) اس کا حق فراہم کر دے اور اس کا ( آخری ) حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ( اور یہ زکاۃ نہ دینے والے «لا إله إلا اللہ» کے قائل ہیں ) تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی، میں ہر اس شخص سے لڑوں گا جو نماز اور زکاۃ میں فرق کرے گا، ( یعنی نماز پڑھے گا اور زکاۃ دینے سے انکار کرے گا ) کیونکہ زکاۃ مال کا حق ہے ( جس طرح نماز بدن کا ) قسم اللہ کی، اگر لوگوں نے مجھے بکری کا سال بھر سے چھوٹا بچہ بھی دینے سے روکا جسے وہ زکاۃ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے۔ تو اس روکنے پر بھی میں ان سے ضرور لڑوں گا۔ ( عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ) قسم اللہ کی، اس معاملے کو تو میں نے ایسا پایا کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو قتال کے لیے شرح صدر بخشا ہے اور میں نے سمجھ لیا کہ حق یہی ہے۔ اس حدیث کے الفاظ احمد کے ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُغِيرَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، ح وَأَنْبَأَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ شُعَيْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ قَالَ عُمَرُ رضى الله عنه يَا أَبَا بَكْرٍ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَمَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلاَّ بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ رضى الله عنه لأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلاَةِ وَالزَّكَاةِ فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا . قَالَ عُمَرُ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلاَّ أَنْ رَأَيْتُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ . وَاللَّفْظُ لأَحْمَدَ .
#3093
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:"When Abu Bakr mobilized to fight them, 'Umar said: 'O Abu Bakr, how can you fight the people when the Messenger of Allah (ﷺ) said: "I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah (there is none worthy or worship except Allah). Whoever says La ilaha illallah, his life and his property are safe from me, except for its right, and his reckoning will be with Allah?'" Abu Bakr, may Allah be pleased with me him, said: 'By Allah, I will surely fight those who separate prayer and Zakah, for Zakah is what is due on wealth. By Allah, if they withhold from me a small she-goat that they used to give to the Messenger of Allah (ﷺ) I will fight them for withholding it.' ('Umar said) 'By Allah, when I realized that Allah, the Most High, had opened the chest of Abu Bakr to fighting them, then I knew that it was the truth
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ( لوگوں کو ) ان ( منکرین زکاۃ و مرتدین دین ) سے جنگ کے لیے اکٹھا کیا۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ لوگوں سے کیسے لڑیں گے؟ جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما چکے ہیں: ”مجھے تو لوگوں سے لڑنے کا اس وقت تک حکم دیا گیا ہے جب تک کہ لوگ «لا إله إلا اللہ» کے قائل نہ ہو جائیں، اور جب انہوں نے یہ کلمہ کہہ لیا تو اپنے خون اور اپنے مال کو مجھ سے بچا لیا۔ مگر اس کے حق کے بدلے ( جان و مال پر جو حقوق لگا دیئے گئے ہیں اگر ان کی پاسداری نہ کرے گا تو سزا کا حقدار ہو گا۔ مثلاً قصاص و حدود ضمانت وغیرہ میں ) ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تو ہر اس شخص سے لڑوں گا جو نماز اور زکاۃ ( دونوں فریضوں ) میں فرق کرے گا۔ اور قسم اللہ کی اگر انہوں نے مجھے بکری کا ایک چھوٹا بچہ بھی دینے سے انکار کیا جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے۔ تو میں ان کے اس انکار پر بھی ان سے جنگ کروں گا۔ عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قسم اللہ کی میں نے اچھی طرح جان لیا کہ ان ( منحرفین ) سے جنگ کے معاملہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پورے طور پر شرح صدر حاصل ہے۔ ( تبھی وہ اتنے مستحکم اور فیصلہ کن انداز میں بات کر رہے ہیں ) اور مجھے یقین آ گیا کہ وہ حق پر ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ حَدَّثَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَذَكَرَ، آخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَمَّا جَمَعَ أَبُو بَكْرٍ لِقِتَالِهِمْ فَقَالَ عُمَرُ يَا أَبَا بَكْرٍ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلاَّ بِحَقِّهَا " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ رضى الله عنه لأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلاَةِ وَالزَّكَاةِ وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا . قَالَ عُمَرُ رضى الله عنه فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلاَّ أَنْ رَأَيْتُ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِقِتَالِهِمْ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ .
#3094
Hasan Sahih
It was narrated that Anas bin Malik said:"When the Messenger of Allah (ﷺ) died, some of the 'Arabs apostatized. 'Umar said: 'O Abu Bakr, how can you fight the 'Arabs? Abu Bakr said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) said: I have been commanded to fight the people until they testify that La ilaha illallah (there is none worthy of worship except Allah) and that I am the Messenger of Allah, and establish prayer and pay Zakah?' By Allah, if they withhold from me a small she-goat that they used to give to the Messenger of Allah (ﷺ) I will fight them for withholding it.' ('Umar siad) 'By Allah, when I realized that (Abu) Bakr was confident about this idea, then I knew that this was teh truth.'" Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasa'i) said: 'Imran Al Qattan is not strong in Hadith, and this narration is a mistake. The one that is before it is the correct narration of Az-Zuhri, from 'Ubaidullah bin 'Abdullah bin 'Utbah, from Abu Hurairah
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رحلت فرما گئے، تو عرب ( دین اسلام سے ) مرتد ہو گئے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوبکر! آپ عربوں سے کیسے لڑائی لڑیں گے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ لوگ گواہی دینے لگیں کہ کوئی معبود برحق نہیں ہے سوائے اللہ کے اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور نماز قائم کرنے لگیں، اور زکاۃ دینے لگیں، قسم اللہ کی، اگر انہوں نے ایک بکری کا چھوٹا بچہ دینے سے انکار کیا جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( زکاۃ میں ) دیا کرتے تھے تو میں اس کی خاطر بھی ان سے لڑائی لڑوں گا۔ عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب میں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے دیکھی کہ انہیں اس پر شرح صدر حاصل ہے تو مجھے یقین ہو گیا کہ وہ حق پر ہیں“۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: عمران بن قطان حدیث میں قوی نہیں ہیں۔ یہ حدیث صحیح نہیں ہے، اس سے پہلے والی حدیث صحیح و درست ہے، زہری کی حدیث کا سلسلہ «عن عبيد اللہ بن عبداللہ بن عتبة عن أبي هريرة» ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ أَبُو الْعَوَّامِ الْقَطَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ارْتَدَّتِ الْعَرَبُ قَالَ عُمَرُ يَا أَبَا بَكْرٍ كَيْفَ تُقَاتِلُ الْعَرَبَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَيُقِيمُوا الصَّلاَةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ " . وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا مِمَّا كَانُوا يُعْطُونَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَيْهِ . قَالَ عُمَرُ رضى الله عنه فَلَمَّا رَأَيْتُ رَأْىَ أَبِي بَكْرٍ قَدْ شُرِحَ عَلِمْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عِمْرَانُ الْقَطَّانُ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ وَهَذَا الْحَدِيثُ خَطَأٌ وَالَّذِي قَبْلَهُ الصَّوَابُ حَدِيثُ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
#3095
Sahih
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah (there is non worthy or worship except Allah). Whoever says it, his life and his property are safe from me, except for its right, and his reckoning will be with Allah
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم ملا ہے کہ جب تک لوگ «لا إله إلا اللہ» کے قائل نہ ہو جائیں میں ان سے لڑوں تو جس نے اسے کہہ لیا ( قبول کر لیا ) تو اس نے مجھ سے اپنی جان و مال محفوظ کر لیا۔ اب ان پر صرف اسی وقت ہاتھ ڈالا جا سکے گا جب اس کا حق ( وقت و نوبت ) آ جائے ۱؎۔ اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ کرے گا ۲؎۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح وَأَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَمَنْ قَالَهَا فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي نَفْسَهُ وَمَالَهُ إِلاَّ بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ " .
#3096
Sahih
It was narrated from Anas that the Prophet (ﷺ) said:"Strive against the idolators with your wealth, your hands and your tongues." [1] [1] Its chain has defects while its meaning is supported by other chains
انس رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشرکین سے جہاد کرو اپنے مالوں، اپنے ہاتھوں، اور اپنی زبانوں کے ذریعہ“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " جَاهِدُوا الْمُشْرِكِينَ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ وَأَلْسِنَتِكُمْ " .
#3097
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:"Whoever dies without having fought or thought of fighting, he dies on one of the branches of hypocrisy
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مر گیا، اور اس نے جہاد نہیں کیا، اور نہ ہی جہاد کے بارے میں اس نے اپنے دل میں سوچا و ارادہ کیا ۱؎، تو وہ ایک طرح سے نفاق پر مرا ۲؎“۔
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ أَنْبَأَنَا وُهَيْبٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْوَرْدِ - قَالَ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ سُمَىٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ وَلَمْ يُحَدِّثْ نَفْسَهُ بِغَزْوٍ مَاتَ عَلَى شُعْبَةِ نِفَاقٍ " .
#3098
Sahih
Abu Hurairah said:"I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'By the One in Whose hand is my soul, were it not for the fact that there are some believing men who would not feel happy to stay behind (when I go out on a campaign) and I do not have the means to provide them with mounts (so that they cn join me), I would not have stayed behind from any campaign or battle in the cause of Allah. By the One in Whose hand is my soul, I wish that I could be killed in the cause of Allah, then brought back to life, then be killed, then be brought back to life, then be killed then be brought back to life, then be killed
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر بہت سے مسلمانوں کو مجھ سے پیچھے رہنا ناگوار نہ ہوتا اور میں ایسی چیز نہ پاتا جس پر انہیں سوار کر کے لے جاتا تو کسی ایسے فوجی دستے سے جو اللہ عزوجل کے راستے میں جہاد کے لیے نکلا ہو پیچھے نہ رہتا، ( لیکن چونکہ مجبوری ہے اس لیے ایسے مجبور کے لیے فوجی دستے کے ساتھ نہ جانے کی رخصت ہے ) اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے مجھے پسند ہے کہ میں اللہ کے راستے میں قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَزِيرِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ عُفَيْرٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنِ ابْنِ مُسَافِرٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلاَ أَنَّ رِجَالاً مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لاَ تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنِّي وَلاَ أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ مَا تَخَلَّفْتُ عَنْ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ أُحْيَا ثُمَّ أُقْتَلُ ثُمَّ أُحْيَا ثُمَّ أُقْتَلُ ثُمَّ أُحْيَا ثُمَّ أُقْتَلُ " .
#3099
Sahih
It was narrated that Sahl bin Sa'd said:"I saw Marwan bin Al-Hakam sitting and I came and sat with him. He told us that Zaid bin Thabit told him, that the following was revealed to Allah's Messenger (ﷺ): (Not equal are those of the believers who sit (at home) and those who strive hard and fight in the cause of Allah), then Ibn Umm Maktum came when he was dictating it to me (Zaid), and said: 'O Messenger of Allah! If I were able to go for Jihad I would go out for Jihad.' Then Allah, the Mighty and Sublime, revealed to him - while his thigh was against mine, and became so heavy that I thought my thigh would break, until (the revelation) stopped -: 'Except those who are disabled (by injury or are blind or lame).'" [1] Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasa'i) said: This 'Abdur-Rahman bin Ishaq is tolerable, while 'Abdur-Rahman bin IShaq, from whom reports 'Ali bin Mushir, abu Mu'awiyah, and 'Abdul-Wahid bin Ziyad from An-Nu'man bin Sa'd - he is not trustworthy. [1] An-Nisa' 4:
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے مروان بن حکم کو بیٹھے دیکھا تو ان کے پاس آ کر بیٹھ گیا، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آیت: «لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل اللہ» ”اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے مومن اور بغیر عذر کے بیٹھ رہنے والے مومن برابر نہیں“۔ ( النساء: ۹۵ ) نازل ہوئی اور آپ اسے بول کر مجھ سے لکھوا رہے تھے کہ اسی دوران ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آ گئے ( وہ ایک نابینا صحابی تھے ) انہوں نے ( حسرت بھرے انداز میں ) کہا: اگر میں جہاد کر سکتا تو ضرور کرتا ( مگر میں اپنی آنکھوں سے مجبور ہوں ) تو اس وقت اللہ تعالیٰ ٰ نے ( کلام پاک کا یہ ٹکڑا ) «غير أولي الضرر» نازل فرمایا۔ ”ضرر والے یعنی مجبور لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں“ اور ( اس ٹکڑے کے نزول کے وقت کی صورت و کیفیت یہ تھی ) کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران میری ران پر ٹکی ہوئی تھی۔ اس آیت کے نزول کا بوجھ مجھ پر ( بھی ) پڑا اور اتنا پڑا کہ مجھے خیال ہوا کہ میری ران ٹوٹ ہی جائے گی، پھر یہ کیفیت موقوف ہو گئی۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس روایت میں عبدالرحمٰن بن اسحاق ہیں ان سے روایت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور وہ عبدالرحمٰن بن اسحاق جو نعمان بن سعد سے روایت کرتے ہیں ثقہ نہیں ہیں، اور عبدالرحمٰن بن اسحاق سے روایت کی ہے، علی بن مسہر، ابومعاویہ اور عبدالواحد بن زیاد روایت کرتے ہیں بواسطہ نعمان بن سعد جو ثقہ نہیں ہیں۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ - قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ رَأَيْتُ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ جَالِسًا فَجِئْتُ حَتَّى جَلَسْتُ إِلَيْهِ فَحَدَّثَنَا أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُنْزِلَ عَلَيْهِ لاَ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ . فَجَاءَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَهُوَ يُمِلُّهَا عَلَىَّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَسْتَطِيعُ الْجِهَادَ لَجَاهَدْتُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَفَخِذُهُ عَلَى فَخِذِي فَثَقُلَتْ عَلَىَّ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنْ سَتُرَضُّ فَخِذِي ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ { غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ } قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ هَذَا لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ يَرْوِي عَنْهُ عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ لَيْسَ بِثِقَةٍ .
#3100
Sahih
It was narrated that Ibn Shihab said:"Sahl bin Sa'd said: 'I saw Marwan sitting in the Masjid so I went and sat beside him, and he told us that Zaid bin Thabit had told him, that the Messenger of Allah (ﷺ) dictated to him the words: [Not equal are those of the believers who sit (at home) and those who strive hard and fight in the cause of Allah]. Then Ibn umm Maktum came to him while he was dictating it to me (Zaid) and said: 'O Messenger of Allah! If I were able to go for Jihad I would go out for Jihad.' But he was a blind man. Then Allah revealed to His Messenger (ﷺ) - while his thigh was agaisnt my thigh, and (it became so heavy that) I thought my thigh would break, then it was lifted from him, and Allah, the Mighty and Sublime, revealed: 'Except those who are disabled (by injury or are blind or lame).'" [1] [1] An-Nisa' 4:
زید بن ثابت رضی الله عنہ نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بول کر لکھایا «لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل اللہ» ( النساء: ۹۵ ) کہ اسی دوران ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آ گئے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر میں جہاد کی استطاعت رکھتا تو ضرور جہاد کرتا اور وہ ایک اندھے شخص تھے۔ تو اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر آیت کا یہ حصہ «غير أولي الضرر» نازل فرمایا، ( اس آیت کے اترتے وقت ) آپ کی ران میری ران پر چڑھی ہوئی تھی اور ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کے نزول کے سبب ) ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ میری ران چور چور ہو جائے گی، پھر وحی موقوف ہو گئی ( تو وحی کا دباؤ و بوجھ بھی ختم ہو گیا ) ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ رَأَيْتُ مَرْوَانَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ فَأَقْبَلْتُ حَتَّى جَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَأَخْبَرَنَا أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمْلَى عَلَيْهِ لاَ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ . قَالَ فَجَاءَهُ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَهُوَ يُمِلُّهَا عَلَىَّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَسْتَطِيعُ الْجِهَادَ لَجَاهَدْتُ . وَكَانَ رَجُلاً أَعْمَى فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم وَفَخِذُهُ عَلَى فَخِذِي حَتَّى هَمَّتْ تَرُضُّ فَخِذِي ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ } .