#2125
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Exhort to recite" There is no god but Allah" to those of you who are dying
حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " اپنے مرنے والے لوگوں کو لاالٰہ الا اللہ کی تلقین کرو ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، وَعُثْمَانُ، ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ ح وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالُوا جَمِيعًا حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ " .
#2126
Umm Salama reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:If any Muslim who suffers some calamity says, what Allah has commanded him," We belong to Allah and to Him shall we return; O Allah, reward me for my affliction and give me something better than it in exchange for it," Allah will give him something better than it in exchange. When Abu Salama died she said: What Muslim is better than Abu Salama whose family was the first to emigrate to the Messenger of Allah (ﷺ). I then said the words, and Allah gave me God's Messenger (ﷺ) in exchange. She said: The Messenger of Allah (ﷺ) sent Hatib b. Abu Balta'a to deliver me the message of marriage with him. I said to him: I have a daughter (as my dependant) and I am of jealous temperament. He (the Holy Prophet) said: So far as her daughter is concerned, we would supplicate Allah, that He may free her (of her responsibility) and I would also supplicate Allah to do away with (her) jealous (temperament)
اسماعیل بن جعفر نےکہا : مجھے سعد بن سعید نے عمر بن کثیر بن افلح سے خبر دی ، انھوں نے ( عمر ) ابن سفینہ سے اور انھوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : "" کوئی مسلمان نہیں جسے مصیبت پہنچے اور وہ ( وہی کچھ ) کہے جس کا اللہ نے اسے حکم دیا ہے : "" یقینا ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ، اے اللہ!مجھے میری مصیبت پر اجر دے اور مجھے ( اس کا ) اس سے بہتر بدل عطا فرما "" مگر اللہ تعالیٰ اسے اس ( ضائع شدہ چیز ) کا بہتر بدل عطا فرمادیتا ہے ۔ "" ( ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : جب ( میرے خاوند ) ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہوگئے تو میں نے ( دل میں ) کہا : کون سا مسلمان ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بہتر ( ہوسکتا ) ہے!وہ پہلا گھرانہ ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی ۔ پھر میں نے وہ ( کلمات ) کہےتو اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں اس کا بدل عطا فرمادیا ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لئے نکاح کا پیغام دیتے ہوئے حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو میرے پا س بھیجا تو میں نے کہا : میری ایک بیٹی ہے اور میں بہت غیرت کرنے والی ہوں ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اس کی بیٹی کے بارے میں ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ اس کو اس ( ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) سے بے نیاز کردے اور میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ( بے جا ) غیرت کو ( اس سے ) ہٹا دے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، - قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنِ ابْنِ، سَفِينَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَا مِنْ مُسْلِمٍ تُصِيبُهُ مُصِيبَةٌ فَيَقُولُ مَا أَمَرَهُ اللَّهُ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا . إِلاَّ أَخْلَفَ اللَّهُ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا " . قَالَتْ فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ أَىُّ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ أَوَّلُ بَيْتٍ هَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . ثُمَّ إِنِّي قُلْتُهَا فَأَخْلَفَ اللَّهُ لِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَتْ أَرْسَلَ إِلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَاطِبَ بْنَ أَبِي بَلْتَعَةَ يَخْطُبُنِي لَهُ فَقُلْتُ إِنَّ لِي بِنْتًا وَأَنَا غَيُورٌ . فَقَالَ " أَمَّا ابْنَتُهَا فَنَدْعُو اللَّهَ أَنْ يُغْنِيَهَا عَنْهَا وَأَدْعُو اللَّهَ أَنْ يَذْهَبَ بِالْغَيْرَةِ " .
#2127
Umm Salama, the wife of the Messenger of Allah (ﷺ), reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:If any servant (of Allah) who suffers a calamity says:" We belong to Allah and to Him shall we return; O Allah, reward me for my affliction and give me something better than it in exchange for it," ' Allah will give him reward for affliction, and would give him something better than it in exchange. She (Umm Salama) said: When Abu Salama died. I uttered (these very words) as I was commanded (to do) by the Messenger of Allah (ﷺ). So Allah gave me better in exchange than him. i. e. (I was taken as the wife of) the Messenger of Allah (ﷺ)
ابو اسامہ نے سعد بن سعید سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے عمر بن کثیر بن افلح نے خبر دی ، انھوں نے کہا : میں نے ابن سفینہ سے سنا ، وہ بیان کررہے تھے کہ انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ کو یہ کہتے ہوئے سناکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : "" کوئی بندہ نہیں جسے مصیبت پہنچے اور وہ کہے : بےشک ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔ اے اللہ!مجھے میری مصیبت کا اجردے اور مجھے اس کا بہتر بدل عطا فرما ، مگر اللہ تعالیٰ اسے اس کی مصیبت کا اجر دیتاہے اور اسے اس کا بہتر بدل عطا فرماتاہے ۔ "" ( حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : تو جب ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہوگئے ، میں نے اس طرح کہا جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں ان سے بہتر بدل عطا فرمادیا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ سَفِينَةَ، يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ سَلَمَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَا مِنْ عَبْدٍ تُصِيبُهُ مُصِيبَةٌ فَيَقُولُ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا إِلاَّ أَجَرَهُ اللَّهُ فِي مُصِيبَتِهِ وَأَخْلَفَ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا " . قَالَتْ فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ كَمَا أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْلَفَ اللَّهُ لِي خَيْرًا مِنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#2128
Umm Salama, the wife of the Messenger of Allah (way peace be upon him), reported Allah's Messenger (ﷺ) saying like the hadith transmitted by Abu Usama, but with this addition that she said:" When Abu Salama died I said: Who is better than Abu Salama, the Companion of the Messenger of Allah (ﷺ), and Allah decided for me and I said (these words contained in the supplication mentioned above) and I was married to the Messenger of Allah (ﷺ)
عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں سعد بن سعید نے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : مجھے عمر بن کثیر نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے آزاد کردہ غلام ابن سفینہ سے خبر دی اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ۔ ۔ ۔ ( آگے ) ابو اسامہ کی حدیث کے مانند ( حدیث بیان کی ) اور یہ اضافہ کیا : حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نےکہا : جب ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہوگئے تو میں نے ( دل میں ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بہتر کون ہوسکتاہے؟پھر اللہ تعالیٰ نے میرے ارادے کو پختہ کردیا تو میں نےوہی ( کلمات ) کہے ۔ اس کے بعد میری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شادی ہوگئی ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ، - يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ - عَنِ ابْنِ سَفِينَةَ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ وَزَادَ قَالَتْ فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ مَنْ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ عَزَمَ اللَّهُ لِي فَقُلْتُهَا . قَالَتْ فَتَزَوَّجْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#2129
Umm Salama reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Whenever you visit the sick or the dead, supplicate for good because angels say" Amen" to whatever you say. She added: When Abu Salama died, I went to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: Messenger of Allah, Abu Salama has died. He told me to recite:" O Allah! forgive me and him (Abu Salama) and give me a better substitute than he." So I said (this), and Allah gave me in exchange Muhammad, who is better for me than him (Abu Salama)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم مریض یا مرنے والے کے پاس جاؤ تو بھلائی کی بات کہو کیونکہ جو تم کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں ۔ " کہا : جب ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہوگئے تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ابو سلمہ وفات پاگئے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : " تم ( یہ کلمات ) کہو : اےاللہ! مجھے اور اس کو معاف فرما اور اس کے بعد مجھے اس کا بہترین بدل عطا فرما ۔ " کہا : میں نے ( یہ کلمات ) کہے تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کےبعد وہ دے دیے جو میرے لئے ان سے بہتر ہیں ، یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَرِيضَ أَوِ الْمَيِّتَ فَقُولُوا خَيْرًا فَإِنَّ الْمَلاَئِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ " . قَالَتْ فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سَلَمَةَ قَدْ مَاتَ قَالَ " قُولِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلَهُ وَأَعْقِبْنِي مِنْهُ عُقْبَى حَسَنَةً " . قَالَتْ فَقُلْتُ فَأَعْقَبَنِي اللَّهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ لِي مِنْهُ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم .
#2130
Umm Salama reported:The Messenger of Allah (may peace be upon came to Abu Salama (as he died). His eyes were fixedly open. He closed them, and then said: When the soul is taken away the sight follows it. Some of the people of his family wept and wailed. So he said: Do not supplicate for yourselves anything but good, for angels say" Amen" to what you say. He then said: O Allah, forgive Abu Salama, raise his degree among those who are rightly guided, grant him a successor in his descendants who remain. Forgive us and him, O Lord of the Universe, and make his grave spacious, and grant him light in it
ابو اسحاق فزاری نے خالد حذا سے ، انھوں نے ابو قلابہ سے ، انھوں نے قبیصہ بن ذویب سے اور انھوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تشریف لائے ، اس وقت ان کی آنکھیں کھلی ہوئیں تھیں تو آپ نے انھیں بند کردیا ، پھر فرمایا : " جب روح قبض کی جاتی ہے تو نظر اس کا پیچھاکرتی ہے ۔ " اس پر انکے گھر کے کچھ لوگ چلا کر ر ونے لگے تو آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " تم اپنے لئے بھلائی کے علاوہ اور کوئی دعا نہ کرو کیونکہ تم جو کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں ۔ " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے اللہ!ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مغفرت فرما ، ہدایت یافتہ لوگوں میں اس کے درجات بلند فرما اور اس کے پیچھے رہ جانے والوں میں تو اس کا جانشین بن اور اے جہانوں کے پالنے والے!ہمیں اور اس کو بخش دے ، اس کے لئے اس کی قبر میں کشادگی عطا فرما اور اس کے لئے اس ( قبر ) میں روشنی کردے ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى أَبِي سَلَمَةَ وَقَدْ شَقَّ بَصَرُهُ فَأَغْمَضَهُ ثُمَّ قَالَ " إِنَّ الرُّوحَ إِذَا قُبِضَ تَبِعَهُ الْبَصَرُ " . فَضَجَّ نَاسٌ مِنْ أَهْلِهِ فَقَالَ " لاَ تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِلاَّ بِخَيْرٍ فَإِنَّ الْمَلاَئِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ " . ثُمَّ قَالَ " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لأَبِي سَلَمَةَ وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِي الْمَهْدِيِّينَ وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ فِي الْغَابِرِينَ وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ وَافْسَحْ لَهُ فِي قَبْرِهِ . وَنَوِّرْ لَهُ فِيهِ " .
#2131
This hadith has been narrated by Khalid al Hadhdha' with the same chain of transmitters but with this alteration that he said:(O Allah! ) let Thee be the caretaker of what is left by him, and he said: Grant him expansion of the grave, but he did not say: Make his grave spacious. Khalid said: He supplicated for the seventh (thing too) which I have forgotten
عبیداللہ بن حسن نے کہا : ہمیں خالد حذاء نے اسی ( مذکورہ بالا ) سند کے ساتھ اس ( سابقہ حدیث ) کے ہم معنی حدیث بیان کی ، اس کے سوا کہ انھوں نے ( واخلفه في عقبه کے بجائے ) واخلفه في تركته ( جو کچھ اس نے چھوڑا ہے ، یعنی اہل ومال ، اس میں اس کا جانشین بن ) کہا ، اور انھوں نےاللهم!اوسع له في قبره ( اے اللہ!اس کے لئے اس کی قبر میں وسعت پیدا فرما ) کہا اورافسح له ( اوراس کے لئے کشادگی پیدا فرما ) نہیں کہا اور ( عبیداللہ نے ) یہ زائد بیان کیا کہ خالد حذاء نے کہا : ایک اور ساتویں دعا کی جسے میں بھول گیا ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " وَاخْلُفْهُ فِي تَرِكَتِهِ " . وَقَالَ " اللَّهُمَّ أَوْسِعْ لَهُ فِي قَبْرِهِ " . وَلَمْ يَقُلِ " افْسَحْ لَهُ " . وَزَادَ قَالَ خَالِدٌ الْحَذَّاءُ وَدَعْوَةٌ أُخْرَى سَابِعَةٌ نَسِيتُهَا .
#2132
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Did you not see when the man died and his eyes were fixedly open? He (Abu Huraira) said: Yes. He (the Holy Prophet) said: It is due to the fact that when (the soul leaves the body) his eyesight follows the soul
ابن جریج نے علاء بن یعقوب سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے میرے والد نے خبر دی کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیاتم انسان کو دیکھتے نہیں کہ جب وہ فوت ہوجاتاہے تو اس کی نظر اٹھ جاتی ہے؟ " لوگوں نے کہا : کیوں نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ اس وقت ہوتا ہے جب اس کی نظر اس کی روح کا پیچھا کرتی ہے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ، يَعْقُوبَ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَلَمْ تَرَوُا الإِنْسَانَ إِذَا مَاتَ شَخَصَ بَصَرُهُ " . قَالُوا بَلَى . قَالَ " فَذَلِكَ حِينَ يَتْبَعُ بَصَرُهُ نَفْسَهُ " .
#2133
This hadith is narrated on the authority of 'Ala' with the same chain of transmitters
عبدالعزیز دراوردی نے ( بھی ) علاء سے اسی سند کے ساتھ ( سابقہ حدیث کے مانند ) روایت بیان کی ۔
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنِ الْعَلاَءِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
#2134
Umm Salama reported:When Abu Salama died I said: I am a stranger in a strange land; I shall weep for him in a manner that would be talked of. I made preparation for weeping for him when a woman from the upper side of the city came there who intended to help me (in weeping). She happened to come across the Messenger of Allah (ﷺ) and he said: Do you intend to bring the devil into a house from which Allah has twice driven him out? I (Umm Salama), therefore, refrained from weeping and I did not weep
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا : جب ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہوئے ، میں نے ( دل میں ) کہا : پردیسی ، پردیس میں ( فوت ہوگیا ) میں اس پر ایسا روؤں گی کہ اس کا خوب چرچا ہوگا ، چنانچہ میں نے اس پر رونے کی تیاری کرلی کہ اچانک بالائی علاقے سے ایک عورت آئی ، وہ ( رونے میں ) میرا ساتھ دینا چاہتی تھی کہ اسے سامنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مل گئےتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " کیا تم شیطان کو اس گھر میں ( دوبارہ ) داخل کرنا چاہتی ہو ۔ جہاں سے اللہ نے اس کو نکال دیا ہے؟ " دوبار ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات کہے ) تو میں ر ونے سے رک گئی اور نہ روئی ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ، عُيَيْنَةَ - قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، - عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ لَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ غَرِيبٌ وَفِي أَرْضِ غُرْبَةٍ لأَبْكِيَنَّهُ بُكَاءً يُتَحَدَّثُ عَنْهُ . فَكُنْتُ قَدْ تَهَيَّأْتُ لِلْبُكَاءِ عَلَيْهِ إِذْ أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الصَّعِيدِ تُرِيدُ أَنْ تُسْعِدَنِي فَاسْتَقْبَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ " أَتُرِيدِينَ أَنْ تُدْخِلِي الشَّيْطَانَ بَيْتًا أَخْرَجَهُ اللَّهُ مِنْهُ " . مَرَّتَيْنِ فَكَفَفْتُ عَنِ الْبُكَاءِ فَلَمْ أَبْكِ .
#2135
Usama b. Zaid reported:While we were with the Messenger of Allah (ﷺ), one of his daughters sent to him (the Messenger) to call him and inform him that her child or her son was dying. The Messenger of Allah (ﷺ) told the messenger to go back and tell her that what Allah had taken belonged to Him, and to him belonged what He granted; and He has an appointed time for everything. So you (the messenger) order her to show endurance and seek reward from Allah. The messenger came back and said: She adjures him to come to her. He got up to go accompanied by Sa'd b. 'Ubada, Mu'adh b. Jabal, and I also went along with them. The child was lifted to him and his soul was feeling as restless as if it was in an old (waterskin). His (Prophet's) eyes welled up with tears. Sa'd said: What is this, Messenger of Allah? He replied: This is compassion which Allah has placed in the hearts of His servants, and God shows compassion only to those of His servants who are compassionate
حماد بن زید نے عاصم احول سے ، انھوں نے ابو عثمان نہدی سے اور انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ کی بیٹیوں میں سے ایک نے آپ کو بلاتے ہوئے اور اطلاع دیتے ہوئے آپ کی طرف پیغام بھیجا کہ اس کابچہ ۔ ۔ ۔ یااس کا بیٹا ۔ ۔ ۔ موت ( کے عالم ) میں ہے ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیام لانے والےسے فرمایا : " ان کے پاس واپس جا کر ان کو بتاؤ کہ اللہ ہی کا ہے جو اس نے لے لیا اوراسی کا ہے ۔ جو اس نے دیا تھا اور اس کے ہاں ہر چیز کا وقت مقرر ہے ، اور ان کو بتادو کہ وہ صبر کریں اور اجر وثواب کی طلب گار ہوں ۔ " پیام رساں دوبارہ آیا اور کہا : انھوں نے ( آپ کو ) قسم دی ہے کہ آپ ان کے پاس ضرور تشریف لائیں ۔ کہا : اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ کے ساتھ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اٹھ کھڑے ہوئے اور میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا ، آپ کے سامنے بچے کو پیش کیا گیا جبکہ اس کا سانس اکھڑا ہواتھا ، ( جسم اس طرح مضطرب تھا ) جیسے اس کی جان پرانے مشکیزے میں ہوتو آپ کی آنکھیں بہہ پڑیں ، اس پر حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : اےاللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !یہ کیا ہے؟آپ نے فرمایا؛ " یہ رحمت ہے جو اللہ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھی ہے اور اللہ اپنے بندوں میں سے رحم دل بندوں ہی پر رحم فرماتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ إِحْدَى بَنَاتِهِ تَدْعُوهُ وَتُخْبِرُهُ أَنَّ صَبِيًّا لَهَا - أَوِ ابْنًا لَهَا - فِي الْمَوْتِ فَقَالَ لِلرَّسُولِ " ارْجِعْ إِلَيْهَا فَأَخْبِرْهَا إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى وَكُلُّ شَىْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى فَمُرْهَا فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ " فَعَادَ الرَّسُولُ فَقَالَ إِنَّهَا قَدْ أَقْسَمَتْ لَتَأْتِيَنَّهَا . قَالَ فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقَامَ مَعَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُمْ فَرُفِعَ إِلَيْهِ الصَّبِيُّ وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ كَأَنَّهَا فِي شَنَّةٍ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " هَذِهِ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ " .
#2136
This hadith has been narrated by another chain of transmitters on the authority of 'Asim al-Ahwal
ابن فضیل اور ابو معاویہ ہر ایک نے عاصم احول سے اسی سند کے ساتھ ( سابقہ حدیث کی مانند ) حدیث بیان کی ، البتہ حماد کی حدیث زیادہ مکمل اور زیادہ لمبی ہے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي، شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، جَمِيعًا عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ حَمَّادٍ أَتَمُّ وَأَطْوَلُ .
#2137
Abdullah b. 'Umar said that Sa'd b. Ubada complained of illness. The Messenger of Allah (ﷺ) came to visit him accompanied by 'Abd al-Rahman b. 'Auf, Sa'd b. Abi Waqqas and 'Abdullah b. Mas'ud. As he entered (his room) he found him in a swoon. Upon this he said:Has he died? They said: Messenger of Allah, it is not so. The Messenger of Allah (ﷺ) wept. When the people saw Allah's Messenger (ﷺ) weeping, they also began to weep. He said. Listen, Allah does not punish for the tears that the eye sheds or the grief the heart feels, but He punishes for this (pointing to his tongue), or He may show mercy
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی بیماری میں مبتلا ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےساتھ ان کی عیادت کے لئے ان کے پاس تشریف لے گئے ۔ جب آپ ان کے ہاں داخل ہوئے تو انھیں غشی کی حالت میں پایا ، آپ نے پوچھا : " کیا انھوں نے اپنی مدت پوری کرلی ( وفات پاگئے ہیں ) ؟ " لوگوں نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !نہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روپڑے ، جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روتے ہوئے دیکھاتو انہوں نے بھی روناشروع کردیا ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم سنو گے نہیں کہ اللہ تعالیٰ آنکھ کے آنسو اور دل کے غم پر سزا نہیں دیتا بلکہ اس ۔ ۔ ۔ آپ نے اپنی زبان مبارک کی طرف اشارہ کیا ۔ ۔ ۔ کی وجہ سے عذاب دیتا ہے یا رحم کرتا ہے ۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّدَفِيُّ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ اشْتَكَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ شَكْوَى لَهُ فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعُودُهُ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ وَجَدَهُ فِي غَشِيَّةٍ فَقَالَ " أَقَدْ قَضَى " . قَالُوا لاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَبَكَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا رَأَى الْقَوْمُ بُكَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَكَوْا فَقَالَ " أَلاَ تَسْمَعُونَ إِنَّ اللَّهَ لاَ يُعَذِّبُ بِدَمْعِ الْعَيْنِ وَلاَ بِحُزْنِ الْقَلْبِ وَلَكِنْ يُعَذِّبُ بِهَذَا - وَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ - أَوْ يَرْحَمُ " .
#2138
Abdullah b. 'Umar reported:While we were sitting with the Messenger of Allah (ﷺ), a person, one of the Ansar, came to him and greeted him. The Ansari then turned back. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: o brother of Ansar, how is my brother Sa'd be 'Ubada? He said: He is better. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Who amongst you would visit him? He (the Holy Prophet) stood up and we also got up along with him, and we were more than ten persons. We had neither shoes with us, nor socks, nor caps, nor shirts. We walked on the barren land till we came to him. The people around him kept away till the Messenger of Allah (ﷺ) and his Companions with him came near him (Sa'd b. 'Ubada)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ انصار میں سے ایک آدمی آیا ، اس نے آپ کو سلام کہا اور پھر وہ انصاری پشت پھیر کر چل دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے انصار کے بھائی ( انصاری ) !میرے بھائی سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کیا حال ہے ؟ " اس نے عرض کی : وہ اچھا ہے ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کون اسکی عیادت کرے گا؟ " پھر آپ اٹھے اور آپ کےساتھ ہم بھی اٹھ کھڑے ہوئے ، ہم دس سے زائد لوگ تھے ، ہمارے پاس جوتے نہ تھے نہ موزے ، نہ ٹوپیاں اور نہ قمیص ہی ۔ ہم اس شوریلی زمین پر چلتے ہوئے ان کے پاس پہنچ گئے ، ان کی قوم کے لوگ ان کے ارد گرد سے پیچھے ہٹ گئے حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین جو آپ کےساتھ تھے ، ( ان کے ) قریب ہوگئے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنْ عُمَارَةَ، - يَعْنِي ابْنَ غَزِيَّةَ - عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُعَلَّى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَدْبَرَ الأَنْصَارِيُّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا أَخَا الأَنْصَارِ كَيْفَ أَخِي سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ " . فَقَالَ صَالِحٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ يَعُودُهُ مِنْكُمْ " . فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَهُ وَنَحْنُ بِضْعَةَ عَشَرَ مَا عَلَيْنَا نِعَالٌ وَلاَ خِفَافٌ وَلاَ قَلاَنِسُ وَلاَ قُمُصٌ نَمْشِي فِي تِلْكَ السِّبَاخِ حَتَّى جِئْنَاهُ فَاسْتَأْخَرَ قَوْمُهُ مِنْ حَوْلِهِ حَتَّى دَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ الَّذِينَ مَعَهُ .
#2139
Anas b. Malik reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Endurance is to be shown at the first blow
محمد یعنی جعفر ( الصادق ) کے فرزند نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے ثابت سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " صبر پہلے صدمے کے وقت ہے ( اس کے بعد تو انسان غم کو آہستہ آہستہ برداشت کرنے لگتاہے ۔)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الأُولَى " .
#2140
Anas b. Malik reported that Allah's Messenger (ﷺ) came to a woman who had been weeping for her (dead) child, and said to her:Fear Allah and show endurance. She (not recognising him) said: You have not been afflicted as I have been. When he (the Holy Prophet) had departed, it was said to her that he was the Messenger of Allah (ﷺ), she was mortally shocked. She came to his door and she did not find doorkeepers at his door. She said: Messenger of Allah. I did not recognise you. He said: Endurance is to be shown at first blow, or at the first blow
عثمان بن عمر نے کہا : ہمیں شعبہ نے ثابت بنانی کے حوالےسے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت کے پاس آئے جو اپنے بچے ( کی موت ) پر رورہی تھی تو آپ نے ان سے فرمایا : " اللہ کاتقویٰ اختیار کرواورصبر کرو " اس نے کہا : آپ کو میری مصیبت کی کیاپروا؟جب آپ چلے گئے تو اس کو بتایا گیا کہ وہ ( تمھیں صبر کی تلقین کرنے والے ) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے ۔ تو اس عورت پر موت جیسی کیفیت طاری ہوگئی ، وہ آپ کے دروازے پر آئی تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر دربان نہ پائے ۔ اس نےکہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے ( اس وقت ) آپ کو نہیں پہچانا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " ( حقیقی ) صبر پہلے صدمے یا صدمے کے آغاز ہی میں ہوتا ہے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَى عَلَى امْرَأَةٍ تَبْكِي عَلَى صَبِيٍّ لَهَا فَقَالَ لَهَا " اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي " . فَقَالَتْ وَمَا تُبَالِي بِمُصِيبَتِي . فَلَمَّا ذَهَبَ قِيلَ لَهَا إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَأَخَذَهَا مِثْلُ الْمَوْتِ فَأَتَتْ بَابَهُ فَلَمْ تَجِدْ عَلَى بَابِهِ بَوَّابِينَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَعْرِفْكَ . فَقَالَ " إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ أَوَّلِ صَدْمَةٍ " . أَوْ قَالَ " عِنْدَ أَوَّلِ الصَّدْمَةِ " .
#2141
A hadith like this is narrated with the same chain of transmitters but with the addition of these words:" The Apostle of Allah (ﷺ) happened to pass by a woman (who was sitting) by the side of a grave
خالد بن حارث ، عبدالملک بن عمرو ، اور عبدالصمد سب نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ عثمان بن عمر کے سنائے گئے واقعے کے مطابق اس کی حدیث کی طرح حدیث سنائی ۔ اورعبدالصمد کی حدیث میں ( یہ جملہ ) ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبرکے پاس ( بیٹھی ہوئی ) ایک عورت کے پاس سے گزرے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، ح وَحَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، ح وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالُوا جَمِيعًا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ بِقِصَّتِهِ . وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الصَّمَدِ مَرَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِامْرَأَةٍ عِنْدَ قَبْرٍ .
#2142
Abdullah b. 'Umar reported that Hafsa wept for 'Umar (when he was about to die). He ('Umar) said:Be quiet, my daughter. Don't you know that the Messenger of Allah (ﷺ) had said:" The deceased is punished because of his family's weeping over the death"?
نافع نے حضرت عبد اللہ ( بن عمر ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سید نا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( کی حالت ) پر رونے لگیں تو انھوں نے کہا : اے میری بیٹی !رک جا ؤ کیا تمھیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا تھا : " میت کو اس پر اس کے گھروالوں کی آہ و بکا سے عذاب دیا جا تا ہے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ بِشْرٍ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ حَفْصَةَ، بَكَتْ عَلَى عُمَرَ فَقَالَ مَهْلاً يَا بُنَيَّةُ أَلَمْ تَعْلَمِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " .
#2143
Umar reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:The dead is punished in the grave because of wailing on it
شعبہ نے کہا : میں نے قتادہ کو سعید بن مسیب سے حدیث بیان کرتے ہو ئے سنا ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے واسطے سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روا یت کی ، آپ نے فر ما یا : " میت کو اس کی قبر میں اس پر کیے جا نے والے نو حے سے عذاب دیا جا تاہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ " .
#2144
The same hadith is narrated on the authority of 'Umar through another chain of transmitters
سعید ( بن ابی عروبہ ) نے قتادہ سے انھوں نے سعید بن مسیب سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فر ما یا : " میت کو اس کی قبر میں اس پر کیے جا نے والے نو حے سے عذاب دیا جا تا ہے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ، بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ " .
#2145
Ibn 'Umar reported:When 'Umar was wounded he fainted, and there was a loud lamentation over him. When he regained consciousness he said: Didn't you know that the Messenger of Allah (ﷺ) said:" The dead is punished because of the weeping of the living"?
ابو صالح نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی ، انھوں نے کہا : جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زخمی کیا گیاوہ بے ہو ش ہو گئے تب ان پر بلند آواز سے چیخ و پکار کی گئی جب ان کو افاقہ ہوا تو انھوں نے کہا : کیا تم لوگ جانتے نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : " میت کو زندہ کے رونے سے عذاب دیا جا تا ہے ؟
وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي، صَالِحٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فَصِيحَ عَلَيْهِ فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ أَمَا عَلِمْتُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَىِّ " .
#2146
Abu Burda narrated on the authority of his father that when 'Umar was wounded Suhaib uttered (loudly in lamentation):O brother! Upon this 'Umar said: Suhaib, did you not know that the Messenger of Allah (ﷺ) said:" The dead is punished because of the lamentation of the living"?
۔ ( ابو اسحاق ) شیبانی نے ابو بردہ سے اور انھوں نے اپنے والد ( حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، انھوں نے کہا : جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زخمی کیا گیا تو حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ کہنا شروع کر دیا : ہائے میرا بھا ئی ! تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا : صہیب !کیا تمھیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " زندہ کے رونے سے میت کو عذاب دیا جا تا ہے :
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ جَعَلَ صُهَيْبٌ يَقُولُ وَاأَخَاهْ . فَقَالَ لَهُ عُمَرُ يَا صُهَيْبُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَىِّ " .
#2147
Abu Musa reported that when 'Umar was wounded, there came Suhaib from his house and went to 'Umar and stood by his side, and began to wail. Upon this 'Umar said:What are you weeping for? Are you weeping for me? He said: By Allah, it is for you that I weep, O Commander of the believers. He said: By Allah, you already know that the Messenger of Allah (ﷺ) had said: He who is lamented upon is punished. I made a mention of it to Musa b. Talha, and he said that 'A'isha told that it concerned the Jews (only)
عبد الملک بن عمیر نے ابو بردہ بن ابی موسیٰ سے اور انھوں نے ( اپنے والد ) حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی ، انھوں نے کہا : جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ زخمی ہو ئے تو صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے گھر سے آئے یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پا س اندر داخل ہو ئے اور ان کے سامنے کھڑے ہو کر رونے لگے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا : کیوں رو رہے ہو؟ کیا مجھ پر رو رہے ہو ؟ کہا : اللہ کی قسم !ہاں ، امیر المومنین!آپ ہی پر رو رہا ہوں ۔ تو انھوں نے کہا : اللہ کی قسم !تمھیں خوب علم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا تھا جس پر آہ و بکا کی جا ئے اسے عذاب دیا جا تا ہے ۔ ( عبد الملک بن عمیر نے ) کہا : میں نے یہ حدیث موسیٰ بن طلحہ کے سامنے بیان کی تو انھوں نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہا کرتی تھیں ( یہ ) یہودیوں کا معاملہ تھا ۔ ( دیکھیے حدیث نمبر2153 ) ۔
وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ أَبُو يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ، عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ لَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ أَقْبَلَ صُهَيْبٌ مِنْ مَنْزِلِهِ حَتَّى دَخَلَ عَلَى عُمَرَ فَقَامَ بِحِيَالِهِ يَبْكِي فَقَالَ عُمَرُ عَلاَمَ تَبْكِي أَعَلَىَّ تَبْكِي قَالَ إِي وَاللَّهِ لَعَلَيْكَ أَبْكِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ . قَالَ وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ يُبْكَى عَلَيْهِ يُعَذَّبُ " . قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِمُوسَى بْنِ طَلْحَةَ فَقَالَ كَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ إِنَّمَا كَانَ أُولَئِكَ الْيَهُودَ .
#2148
Anas reported that when 'Umar b. Khattab was wounded Hafsa lamented for him. Upon this he said:O Hafsa, did you not hear the Messenger of Allah (ﷺ) saying:" One who is lamented would be punished"? Suhaib also lamented over him. 'Umar told him also: O Suhaib, didn't you know that one who is lamented is punished?
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زخمی کر دیا گیا تو حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان پر واویلا کیا انھوں نے کہا : اے حفصہ !کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فر ما تے ہو ئے نہیں سنا کہ جس پر واویلا کیاجا تا ہے اسے عذاب دیا جا تا ہے اور ( اسی طرح ) صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی واویلا کیا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : صہیب !کیا تمھیں علم نہیں : " جس پر واویلا کیا جا ئے اس کو عذاب دیا جا تا ہے ؟
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، لَمَّا طُعِنَ عَوَّلَتْ عَلَيْهِ حَفْصَةُ فَقَالَ يَا حَفْصَةُ أَمَا سَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الْمُعَوَّلُ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ " . وَعَوَّلَ عَلَيْهِ صُهَيْبٌ فَقَالَ عُمَرُ يَا صُهَيْبُ أَمَا عَلِمْتَ " أَنَّ الْمُعَوَّلَ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ " .
#2149
Abdullah b. Abu Mulaika reported:I was sitting by the side of Ibn 'Umar, and we were waiting for the bier of Umm Aban, daughter of 'Uthman, and there was also 'Amr b. 'Uthman. In the meanwhile there came Ibn 'Abbas led by a guide. I conceive that he was informed of the place of Ibn 'Umar. So he came till he sat by my side. While I was between them (Ibn 'Abbas and Ibn 'Umar) there came the noise (of wailing) from the house. Upon this Ibn 'Umar said (that is, he pointed out to 'Amr that he should stand and forbid them, for): I heard the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: The dead is punished because of the lamentation of his family. 'Abdullah made it general (what was said for a particular occasion). Ibn 'Abbas said: When we were with the Commander of the believers, 'Umar b. Khattab, we reached Baida', and there was a man under the shadow of the tree. He said to me: Go and inform me who is that person. So I went and (found) that he was Suhaib. I returned to him and said: You commanded me to find out for you who that was, and he is Suhaib. He (Hadrat 'Umar) said: Command him to see us. I said: He has family along with him. He said: (That is of no account) even if he has family along with him. So he (the narrator) told him to see (the Commander of the believers and his party). When we came (to Medina), it was before long that the Commander of the believers was wounded, and Suhaib came weeping and crying: Alas for the brother, alas for the companion. Upon this 'Umar said: Didn't you know, or didn't you hear, that the Messenger of Allah (ﷺ) said:" The dead is punished because of the lamentation of his family"? Then 'Abdullah made it general and 'Umar told it of certain occasions. So I ('Abdullah b. Abu Mulaika) stood up and went to 'A'isha and told her what Ibn 'Umar had said. Upon this she said: I swear by Allah that Allah's Messenger (ﷺ) never said that dead would be punished because of his family's lamenting (for him). What he said was that Allah would increase the punishment of the unbeliever because of his family's lamenting for him. Verily it is Allah Who has caused laughter and weeping. No bearer of a burden will bear another's burden. Ibn Abu Mulaika said that al-Qasim b. Muhammad said that when the words of 'Umar and Ibn 'Umar were conveyed to 'A'isha, she said: You have narrated it to me from those who are neither liar nor those suspected of lying but (sometimes) hearing misleads
ایوب نے عبد اللہ بن ابی ملیکہ سے روا یت کی ، انھوں نے کہا : میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پہلو میں بیٹھا ہوا تھا ۔ ہم حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صاحبزادی ام ابان کے جنازے کا انتظار کر رہے تھے جبکہ عمرو بن عثمان بھی ان کے پا س تھے اتنے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے انھیں لے کر آنے والا ایک آدمی لا یا میرے خیال میں اس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹھنے کی جگہ کے بارے میں بتا یا تو وہ آکر میرے پہلو میں بیٹھ گئے میں ان دو نوں کے در میان میں تھا اچانک گھر ( کے اندر ) سے ( رونے کی ) آواز آئی تو ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ۔ ۔ ۔ اور ایسا لگتا تھا وہ عمرو ( بن عثمان ) کو اشارہ کر رہے ہیں کہ وہ انھیں اور ان کو روکیں ۔ ۔ ۔ کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فر ما تے ہو ئے سنا ہے بلا شبہ میت کو اس کے گھر والوں کے رو نے سے عذاب دیا جا تا ہے : " ( عبد اللہ بن ابی ملیکہ نے ) کہا : حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو بلا شرط و قید ( یعنی ہر طرح کے رو نے کے حوالے سے ) بیان کیا ۔ اس پر حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ہم امیر المو منین حضرت عمربن خطا ب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے حتیٰ کہ جب ہم بیداء کے مقام پر پہنچے تو انھوں نے ایک آدمی کو درخت کے سائے میں پڑا ؤڈالے دیکھا انھوں نے مجھ سے کہا : جا ؤ اور میرے لیے پتہ کرو کہ وہ کو ن آدمی ہے میں گیا تو دیکھا وہ صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے میں ان کے پاس واپس آیا اور کہا : آپ نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں آپ کے لیے پتہ کروں کہ وہ کو ن شخص ہیں تو وہ صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں انھوں نے کہا : ( جاؤ اور ) ان کو حکم ( پہنچا ) دو کہ وہ ہمارے ساتھ ( قافلے میں ) آجا ئیں ۔ میں نے کہا : ان کے ساتھ ان کے گھر والے ہیں انھوں نے کہا : چاہے ان کے ساتھ ان کے گھر والے ( بھی ) ہیں شامل ہو جا ئیں ) بسا اوقات ایوب نے ( بس یہاں تک کہا ) ان سے کہو کہ وہ ہمارے ساتھ ( قافلے میں ) شامل ہو جائیں ۔ ۔ ۔ جب ہم مدینہ پہنچے تو زیادہ وقت نہ گزرا تھا کہ امیر المو منین زخمی کردیے گئے صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ کہتے ہو ئے آئے ہائے میرا بھائی !ہائے میرا ساتھی!تو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کیا تمھیں معلوم نہیں یا ( کہا : تم نے سنا نہیں ۔ ۔ ۔ ایوب نے کہا : یا انھوں نے ( اس کے بجا ئے ( او لم تعلم ...اولم تسمع کیا تمھیں پتہ نہیں اور تم نے سنا نہیں " کے الفاظ کہے ۔ ۔ ۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میت کو اس کے گھر والوں کے بعض ( طرح کے ) رونے سے عذاب دیا جاتا ہے ( ابن ابی ملیکہ نے ) کہا : حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس ( رونے کے لفظ ) کو بلا قید بیان کیا جبکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ( لفظ ) بعض ( کی قید ) کے ساتھ کہاتھا ۔ میں ( ابن ابی ملکہ ) اٹھ کر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو کہا تھا ان کو بتا یا انھوں نے کہا نہیں اللہ کی قسم !رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کبھی نہیں فر ما یا کہ میت کو کسی ایک کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جا تا ہے بلکہ آپ نے فر ما یا ہے : " اللہ تعا لیٰ کا فر کے عذاب میں اس کے گھر والوں کے رو نے کی وجہ سے اضافہ کر دیتا ہے ( کیونکہ کا فروں نے اپنی اولاد کو بلند آواز سے رونا سکھایا ہوتا ہے رہا بغیر آواز کے رونا تو اس کی ذمہ داری رونے والے پر نہیں کیونکہ ) بے شک اللہ ہی ہے جس نے ہنسایا اور رلایا ۔ " اور بو جھ اٹھا نے والی کو ئی جان کسی دوسری کا بو جھ نہیں اٹھا ئے گی ۔ ( آواز کے بغیر محض آنسوؤں سے رونے کا نہ رونے والے کو گنا ہ ہے نہ اس کے بڑوں کو کیونکہ وہ بھی اس کے ذمہ دار نہیں ۔ ) ایوب نے کہا : ابن ابی ملیکہ نے کہاں مجھ سے قاسم بن محمد نے بیان کیا انھوں نے کہا : جب حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو حضرت عمر اور ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ بات پہنچی تو انھوں نے کہا : تم مجھے ایسے دو افراد کی حدیث بیان کرتے ہو جو نہ ( خود جھوٹ بولنے والے ہیں اور نہ جھٹلائے جا نے والے ہیں لیکن ( بعض اوقات ) سماع ( سننا ) غلط ہو جا تا ہے ( کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور سیاق میں یہ با ت کی تھی دیکھیے حدیث نمبر2153 ۔ 2156 ) ۔ ۔
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ، أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ وَنَحْنُ نَنْتَظِرُ جَنَازَةَ أُمِّ أَبَانٍ بِنْتِ عُثْمَانَ وَعِنْدَهُ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ فَجَاءَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُودُهُ قَائِدٌ فَأُرَاهُ أَخْبَرَهُ بِمَكَانِ ابْنِ عُمَرَ، فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ إِلَى جَنْبِي فَكُنْتُ بَيْنَهُمَا فَإِذَا صَوْتٌ مِنَ الدَّارِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ - كَأَنَّهُ يَعْرِضُ عَلَى عَمْرٍو أَنْ يَقُومَ فَيَنْهَاهُمْ - سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ " . قَالَ فَأَرْسَلَهَا عَبْدُ اللَّهِ مُرْسَلَةً . فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كُنَّا مَعَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ نَازِلٍ فِي شَجَرَةٍ فَقَالَ لِيَ اذْهَبْ فَاعْلَمْ لِي مَنْ ذَاكَ الرَّجُلُ . فَذَهَبْتُ فَإِذَا هُوَ صُهَيْبٌ . فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ إِنَّكَ أَمَرْتَنِي أَنْ أَعْلَمَ لَكَ مَنْ ذَاكَ وَإِنَّهُ صُهَيْبٌ . قَالَ مُرْهُ فَلْيَلْحَقْ بِنَا . فَقُلْتُ إِنَّ مَعَهُ أَهْلَهُ . قَالَ وَإِنْ كَانَ مَعَهُ أَهْلُهُ - وَرُبَّمَا قَالَ أَيُّوبُ مُرْهُ فَلْيَلْحَقْ بِنَا - فَلَمَّا قَدِمْنَا لَمْ يَلْبَثْ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ أَنْ أُصِيبَ فَجَاءَ صُهَيْبٌ يَقُولُ وَاأَخَاهْ وَاصَاحِبَاهْ . فَقَالَ عُمَرُ أَلَمْ تَعْلَمْ أَوْ لَمْ تَسْمَعْ - قَالَ أَيُّوبُ أَوْ قَالَ أَوَلَمْ تَعْلَمْ أَوَلَمْ تَسْمَعْ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ " . قَالَ فَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ فَأَرْسَلَهَا مُرْسَلَةً وَأَمَّا عُمَرُ فَقَالَ بِبَعْضٍ . فَقُمْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَحَدَّثْتُهَا بِمَا، قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَقَالَتْ لاَ وَاللَّهِ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَطُّ " إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَحَدٍ " . وَلَكِنَّهُ قَالَ " إِنَّ الْكَافِرَ يَزِيدُهُ اللَّهُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَذَابًا وَإِنَّ اللَّهَ لَهُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَى وَلاَ تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى " . قَالَ أَيُّوبُ قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ لَمَّا بَلَغَ عَائِشَةَ قَوْلُ عُمَرَ وَابْنِ عُمَرَ قَالَتْ إِنَّكُمْ لَتُحَدِّثُونِّي عَنْ غَيْرِ كَاذِبَيْنِ وَلاَ مُكَذَّبَيْنِ وَلَكِنَّ السَّمْعَ يُخْطِئُ .