#2150
Abdullah b. Abu Mulaika said:The daughter of 'Uthman b. 'Affan died in Mecca. We came to attend her (funeral). Ibn 'Umar and Ibn 'Abbas were also present there, and I was sitting between them. He added: I (first sat) by the side of one of them, then the other one came and he sat by my side. 'Abdullah b. 'Umar said to 'Amr b. 'Uthman who was sitting opposite to him: Will you not prevent the people from lamenting, for the Messenger of Allah (ﷺ) had said:" The dead is punished because of the lamenting of his family for him"? Ibn 'Abbas then said that Umar used to say someting of that nature, and then narrated saying: I proceeded from Mecca along with 'Umar till we reached al-Baida' and there was a party of riders under the shade of a tree. He said (to me): Go and find out who this party is. I cast a glance and there was Suhaib (in that party). So I informed him ('Umar) about it. He said: Call him to me. So I went back to Suhaib and said: Go and meet the Commander of the believers. When 'Umar was wounded, Suhaib came walling: Alas, for the brother! alas for the companion! 'Umar said: O Suhaib, do you wail for me, whereas the Messenger of Allah (ﷺ) said:" The dead would be punished on account of the lamentation of the (members of his family)"? Ibn 'Abbas said: When 'Umar died I made a mention of it to 'A'isha. She said: May Allah have mercy upon 'Umar! I swear by Allah that Allah's Messenger (ﷺ) never said that Allah would punish the believer because of the weeping (of any one of the members of his family), but he said that Allah would increase the punishment of the unbeliever because of the weeping of his family over him. 'A'isha said: The Qur'an is enough for you (when it states):" No bearer of burden will bear another's burden" (vi. 164). Thereupon Ibn 'Abbas said: Allah is He Who has caused laughter and weeping. Ibn Abu Mulaika said: By Allah, Ibn 'Umar said nothing
(ابن جریج نے کہا : مجھے عبد اللہ بن ابی ملیکہ نے خبر دی انھوں نے کہا : حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صاحبزادی مکہ میں فو ت ہو گئی توہم ان کے جنا زے میں شرکت کے لیے آئے حضرت ابن عمر اور حضرت ابن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تشریف لا ئے ۔ میں ان دو نوں کے درمیان میں بیٹھا تھا میں ان میں سے ایک کے پاس بیٹھا تھا پھر دوسرا آکر میرے پہلو میں بیٹھ گیا حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عمرو بن عثمان سے اور وہ ان کے رو برو بیٹھے ہو ئے تھے کہا : تم رو نے سے رو کتے کیوں نہیں ؟بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا تھا " میت کو اس کے گھروالوں کے اس پررونے سے عذاب دیا جا تا ہے ۔ اس پر ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کے بعض طرح کے رونے سے ) کہا کرتے تھے پھر انھوں نے ( مکمل ) حدیث بیان کی کہا : میں عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مکہ سے لو ٹا حتیٰ کہ جب ہم مقام بیداء پر پہنچے تو اچانک انھیں درخت کے سائے تلے کچھ اونٹ سوار دکھا ئی دیے انھوں نے کہا : جا کر دیکھو یہ اونٹ سوار کو ن ہیں ؟ میں نے دیکھا تو وہ صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے میں نے ( آکر ) انھیں بتا یا تو انھوں نے کہا : انھیں میرے پاس بلا ؤ ۔ میں لو ٹ کر صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا ۔ میں نے کہا : چلیے امیر المومنین کے ساتھ ہو جائیے اس کے بعد جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ زخمی کر دیے گئے تو صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ روتے ہو ئے اندر آئے کہہ رہے تھے ہائے میرا بھا ئی ! ہا ئے میرا ساتھی !تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا صہیب ! کیا تم مجھ پر رو رہے ہو؟حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا ہے : " میت کو اس کے گھر والوں کے بعض ( طرح کے ) رونے سے عذاب دیا جا تا ہے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وفات پا گئے تو میں نے یہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بیان کی انھوں نے کہا : اللہ عمر پر رحم فر ما ئے !اللہ کی قسم !نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فر ما یا کہ اللہ تعا لیٰ مومن کو کسی کے رونے کی وجہ سے عذاب دیتا ہے بلکہ آپ نے فر ما یا : " اللہ تعا لیٰ کا فرکے عذاب کو اس کے گھر والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے بڑھا دیتا ہے ۔ " کہا اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : اور تمھا رے لیے قرآن کا فی ہے ( جس میں یہ ہے ) اور بو جھ اٹھا نے والی کو ئی جا ن کسی دوسری جا ن کا بوجھ نہیں اٹھا ئے گی ۔ اسکے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اور اللہ ہی ہنساتا ہے اور رلا تا ہے ۔ ابن ابی ملیکہ نے نے کہا : اللہ کی قسم !حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ( جواب میں ) کچھ نہیں کہا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ تُوُفِّيَتِ ابْنَةٌ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ بِمَكَّةَ قَالَ فَجِئْنَا لِنَشْهَدَهَا - قَالَ - فَحَضَرَهَا ابْنُ عُمَرَ وَابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ وَإِنِّي لَجَالِسٌ بَيْنَهُمَا - قَالَ - جَلَسْتُ إِلَى أَحَدِهِمَا ثُمَّ جَاءَ الآخَرُ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِي فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لِعَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ وَهُوَ مُوَاجِهُهُ أَلاَ تَنْهَى عَنِ الْبُكَاءِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " . فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَدْ كَانَ عُمَرُ يَقُولُ بَعْضَ ذَلِكَ ثُمَّ حَدَّثَ فَقَالَ صَدَرْتُ مَعَ عُمَرَ مِنْ مَكَّةَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ إِذَا هُوَ بِرَكْبٍ تَحْتَ ظِلِّ شَجَرَةٍ فَقَالَ اذْهَبْ فَانْظُرْ مَنْ هَؤُلاَءِ الرَّكْبُ فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ صُهَيْبٌ - قَالَ - فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ادْعُهُ لِي . قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَى صُهَيْبٍ فَقُلْتُ ارْتَحِلْ فَالْحَقْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ . فَلَمَّا أَنْ أُصِيبَ عُمَرُ دَخَلَ صُهَيْبٌ يَبْكِي يَقُولُ وَاأَخَاهْ وَاصَاحِبَاهْ . فَقَالَ عُمَرُ يَا صُهَيْبُ أَتَبْكِي عَلَىَّ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " . فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ فَقَالَتْ يَرْحَمُ اللَّهُ عُمَرَ لاَ وَاللَّهِ مَا حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ يُعَذِّبُ الْمُؤْمِنَ بِبُكَاءِ أَحَدٍ " . وَلَكِنْ قَالَ " إِنَّ اللَّهَ يَزِيدُ الْكَافِرَ عَذَابًا بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " قَالَ وَقَالَتْ عَائِشَةُ حَسْبُكُمُ الْقُرْآنُ { وَلاَ تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} قَالَ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ عِنْدَ ذَلِكَ وَاللَّهُ أَضْحَكَ وَأَبْكَى . قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ فَوَاللَّهِ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ مِنْ شَىْءٍ .
#2151
Amr reported on the authority of Ibn Abu Mulaika:We were with the bier of Umm Aban, daughter of 'Uthman, and the rest of the hadith is the same, but he did not narrate it as a marfu' hadith on the authority of 'Umar from the Messenger of Allah (ﷺ) as it was narrated by Ayyub and Ibn Juraij, and the hadith narrated by them (Ayyub and Ibn Juraij) is more complete than that of 'Amr
عمرو ( بن دینا ر ) نے ابن ابی ملیکہ سے روا یت کی ، انھوں نے کہا : ہم حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صاحبزادی اُم ابان کے جنا زے میں ( حاضر ) تھے ۔ ۔ ۔ اور مذکورہ حدیث بیان کی ، انھوں ( عمرو ) نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ( آگے ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روا یت مرفوع ہو نے کی صراحت نہیں کی جس طرح ایوب اور ابن جریج نے اس کی صراحت کی ہے اور ان دو نوں کی حدیث سے زیادہ مکمل ہے ۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، كُنَّا فِي جَنَازَةِ أُمِّ أَبَانٍ بِنْتِ عُثْمَانَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَلَمْ يَنُصَّ رَفْعَ الْحَدِيثِ عَنْ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَمَا نَصَّهُ أَيُّوبُ وَابْنُ جُرَيْجٍ وَحَدِيثُهُمَا أَتَمُّ مِنْ حَدِيثِ عَمْرٍو .
#2152
Abdullah b. 'Umar reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said:The dead is punished because of the lamentation of the living
سالم نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میت کو زندہ کے رونے سے عذاب دیا جا تا ہے ۔
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنَّحَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَىِّ " .
#2153
Hisham b. 'Urwa narrated on the authority of his father that the saying of Ibn 'Umar, viz." The dead would be punished because of the lamentation of his family over him" was mentioned to 'A'isha. Upon this she said:May Allah have mercy upon Abu 'Abd al-Rahman (the kunya of Ibn 'Umar) that he heard something but could not retain it (well). (The fact is) that the bier of a Jew passed before the Messenger of Allah (ﷺ) and (the members of his family) were waiting over him. Upon this he said: You are wailing and he is being punished
حماد بن زید نے ہشام بن عروہ سے انھوں نے اپنے والد سے روا یت کی انھوں نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سامنے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا روایت کردہ قول بیان کیا گیا : میت کو اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب دیا جا تا ہے تو انھوں نے کہا : اللہ عبد الرحمٰن پر رحم فر ما ئے انھوں نے ایک چیز کو سنا لیکن ( پوری طرح ) محفوظ نہ رکھا ( امرواقع یہ ہے کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک یہودی کا جنا زہ گزرا اور وہ لو گ اس پر رو رہے تھے تو آپ نے فر ما یا : " تم رو رہے ہو اور اسے عذاب دیا جا رہا ہے ۔
وَحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ، - قَالَ خَلَفٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، - عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ ذُكِرَ عِنْدَ عَائِشَةَ قَوْلُ ابْنِ عُمَرَ الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ . فَقَالَتْ رَحِمَ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَمِعَ شَيْئًا فَلَمْ يَحْفَظْهُ إِنَّمَا مَرَّتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ وَهُمْ يَبْكُونَ عَلَيْهِ فَقَالَ " أَنْتُمْ تَبْكُونَ وَإِنَّهُ لَيُعَذَّبُ " .
#2154
Hisham narrated on the authority of his father that it was mentioned to 'A'isha that Ibn 'Umar had narrated as marfu' hadith from the Messenger of Allah (ﷺ) that the dead would be punished in the grave because of the lamentation of his family for him. Upon this she said:He (Ibn 'Umar) missed (the point). The Messenger of Allah (ﷺ) had (in fact) said: He (the dead) is punished for his faults or for his sins, and the members of his family are wailing for him now. (This misunderstanding of Ibn 'Umar is similar to his saying: ) The Messenger of Allah (ﷺ) stood by the well in which were lying the dead bodies of those polytheists who had been killed on the Day of Badr, and he said to them what he had to say, i. e.: They hear what I say. But he (Ibn 'Umar) misunderstood. The Prophet (ﷺ) had only said: They (the dead) understand that what I used to say to them was truth. She then recited:" Certainly, thou canst not make the dead hear the call" (xxvii. 80), nor can you make those hear who are in the graves, nor can you inform them when they have taken their seats in Hell
ابو اسامہ نے ہشام سے اور انھوں نے اپنے والد ( عروہ ) سے روایت کی انھوں نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس اس بات کا ذکر کیا گیا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً یہ بیان کرتے ہیں میت کو اس کی قبر میں اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب دیا جا تا ہے ۔ " انھوں نے کہا : وہ ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) بھول گئے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فر ما یا تھا : " اس ( مرنےوالے ) کو اس کی غلطی یا گناہ کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا ہے اور اس کے گھر والے اب اسی وقت اس پر رورہے ہیں اور یہ ( بھول ) ان ( اعبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کی اس روا یت کے مانند ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے دب اس کنویں ( کے کنارے ) پر کھڑے ہو ئے جس بدر میں قتل ہو نے والے مشرکوں کی لا شیں تھیں تو آپ نے ان سے جو کہنا تھا کہا ( اور فرمایا : " اب ) جو میں کہہ رہا ہوں وہ اس کو بخوبی سن رہے ہیں ۔ حالا نکہ ( اس بات میں بھی ) وہ بھول گئے آپ نے تو فر ما یا تھا : " یہ لو گ بخوبی جانتے ہیں کہ میں ان سے ( دنیامیں ) جو کہاکرتا تھا وہ حق تھا ۔ " پھر انھوں ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے ( یہ آیتیں پڑھیں ) " اور بے شک تو مردوں کو نہیں سنا سکتا ۔ " اور تو ہر گز انھیں سنانے والا نہیں جو قبروں میں ہیں ( گویا ) آپ یہ کہہ رہے ہیں : جبکہ وہ آگ میں اپنے ٹھکانے بنا چکے ہیں ( اور وہ اچھی طرح جان چکے ہیں کہ جو ان سے کہا گیا تھا وہی سچ ہے یعنی ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان دو روایتوں کا اصل بیان محفوظ نہیں رکھ سکے ۔)
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ ذُكِرَ عِنْدَ عَائِشَةَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، يَرْفَعُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " . فَقَالَتْ وَهَلَ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّهُ لَيُعَذَّبُ بِخَطِيئَتِهِ أَوْ بِذَنْبِهِ وَإِنَّ أَهْلَهُ لَيَبْكُونَ عَلَيْهِ الآنَ " . وَذَاكَ مِثْلُ قَوْلِهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ عَلَى الْقَلِيبِ يَوْمَ بَدْرٍ وَفِيهِ قَتْلَى بَدْرٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ لَهُمْ مَا قَالَ " إِنَّهُمْ لَيَسْمَعُونَ مَا أَقُولُ " . وَقَدْ وَهَلَ إِنَّمَا قَالَ " إِنَّهُمْ لَيَعْلَمُونَ أَنَّ مَا كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ حَقٌّ " . ثُمَّ قَرَأَتْ { إِنَّكَ لاَ تُسْمِعُ الْمَوْتَى} { وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ} يَقُولُ حِينَ تَبَوَّءُوا مَقَاعِدَهُمْ مِنَ النَّارِ .
#2155
This hadith has been narrated by Ibn 'Urwa with the same chain of transmitters. The hadith narrated by Abu Usama is more complete
وکیع نے بیان کیا کہ ہمیں ہشام بن عروہ نے اسی سند سے ابو اسامہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث سنا ئی اور ابو اسامہ کی ( مذکورہ بالا ) حدیث زیادہ مکمل ہے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ وَحَدِيثُ أَبِي أُسَامَةَ أَتَمُّ .
#2156
Amra daughter of 'Abd al Rahman narrated that she heard (from) 'A'isha and made a mention to her about 'Abdullah b. 'Umar as saying:The dead is punished because of the lamentation of the living. Upon this 'A'isha said: May Allah have mercy upon the father of 'Abd al-Rahman (Ibn 'Umar). He did not tell a lie, but he forgot or made a mistake. The Messenger of Allah (ﷺ) happened to pass by a (dead) Jewess who was being lamented. Upon this he said: They weep over her and she is being punished in the grave
عمرہ بنت عبد الرحمٰن نے خبردی کہ انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا ( اس موقع پر ) ان کے سامنے بیان کیا گیا تھا حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں میت کو زندہ کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے تو عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : اللہ ابو عبد الرحمٰن کو معاف فر ما ئے !یقیناً انھوں نے جھوٹ نہیں بو لا لیکن وہ بھول گئے ہیں یا ان سے غلطی ہو گئی ہے ( امرواقع یہ ہے کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی عورت ( کے جنازے ) کے پاس سے گزرے جس پر آہ و بکارکی جا رہی تھی تو آپ نے فر ما یا : " یہ لو گ اس پر رو رہے ہیں اور اس کو اس کی قبر میں عذاب دیا جا رہاہے ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ، أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا، سَمِعَتْ عَائِشَةَ، وَذُكِرَ، لَهَا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَىِّ . فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَغْفِرُ اللَّهُ لأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَكْذِبْ وَلَكِنَّهُ نَسِيَ أَوْ أَخْطَأَ إِنَّمَا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى يَهُودِيَّةٍ يُبْكَى عَلَيْهَا فَقَالَ " إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا " .
#2157
Ali b. Rabi'a reported that the first one who was lamented upon in Kufa was Qaraza b. Ka'b. Mughira b. Shu'ba said:I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: He who is lamented upon would be punished because of the lamentation for him on the Day of judgment
وکیع نے سعید بن عبید طائی اور محمد بن قیس سے اور انھوں نے علی بن ربیعہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : کو فہ میں سب سے پہلے جس پر نو حہ کیا گیا وہ قرظہ بن کعب تھا اس پر حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فر ما تے ہو ئے سنا ہے ۔ " جس پر نوھہ کیا گیا اسے قیامت کے دن اس پر کیے جا نے والے نو حے ( کی وجہ ) سے عذاب دیا جا ئے گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدٍ الطَّائِيِّ، وَمُحَمَّدِ، بْنِ قَيْسٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ أَوَّلُ مَنْ نِيحَ عَلَيْهِ بِالْكُوفَةِ قَرَظَةُ بْنُ كَعْبٍ فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ نِيحَ عَلَيْهِ فَإِنَّهُ يُعَذَّبُ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
#2158
A hadith like this has been narrated by Mughira b. Shu'ba from the Messenger of Allah (ﷺ)
ہمیں علی بن مسہر نے حدیث بیان کی ، ( کہا ) ہمیں محمد بن قیس نے علی بن ربیعہ سے خبر دی انھوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس ( سابقہ حدیث ) کے مانند روایت کی ۔
وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ، الأَسْدِيُّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الأَسْدِيِّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ .
#2159
This hadith has been narrated from the Messenger of Allah (ﷺ) through another chain of transmitters
مروان بن معاویہ فزاری نے کہا : ہمیں سعید بن عبید طا ئی نے علی بن ربیعہ سے حدیث سنا ئی انھوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس ( سابقہ حدیث ) کے مانند روایت کی ۔
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، - يَعْنِي الْفَزَارِيَّ - حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ، الطَّائِيُّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ .
#2160
Abu Malik al-Ash'ari reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Among my people there are four characteristics belonging to pre-Islamic period which they do not abandon: boasting of high rank, reviling other peoples' genealogies, seeking rain by stars, and walling. And he (further) said: If the wailing woman does not repent before she dies, she will be made to stand on the Day of Resurrection wearing a garment of pitch and a chemise of mange
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میری امت میں جا ہلیت کے کا موں میں سے چار باتیں ( موجود ) ہیں وہ ان کو ترک نہیں کریں گے اَحساب ( باپ داداکے اصلی یا مزعومہ کا ر ناموں ) پر فخر کرنا ( دوسروں کے ) نسب پر طعن کرنا ستاروں کے ذریعے سے بارش مانگنا اور نوحہ کرنا ۔ اور فر ما یا " نوحہ کرنے والی جب اپنی مو ت سے پہلے تو بہ نہ کرے تو قیامت کے دن اس کو اس حالت میں اٹھا یا جا ئے گا کہ اس ( کے بدن ) پر تار کول کا لباس اور خارش کی قمیص ہو گی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، ح وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، بْنُ مَنْصُورٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ، حَدَّثَنَا أَبَانٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَنَّ زَيْدًا، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَلاَّمٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الأَشْعَرِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَرْبَعٌ فِي أُمَّتِي مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لاَ يَتْرُكُونَهُنَّ الْفَخْرُ فِي الأَحْسَابِ وَالطَّعْنُ فِي الأَنْسَابِ وَالاِسْتِسْقَاءُ بِالنُّجُومِ وَالنِّيَاحَةُ " . وَقَالَ " النَّائِحَةُ إِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِهَا تُقَامُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَيْهَا سِرْبَالٌ مِنْ قَطِرَانٍ وَدِرْعٌ مِنْ جَرَبٍ " .
#2161
A'isha reported that when the Messenger of Allah (ﷺ) was told that Ibn Haritha, Ja'far b. Abu Talib and Abdullah b. Rawaha were killed, he sat down, showing signs of grief. She (further) said:I was looking (at him) through the crevice of the door. A man came to him and mentioned that Ja'far's women were lamenting. He (the Holy Prophet) commanded him to go and forbid them (to do so). So he went away but came back and told (him) that they did not obey (him). He commanded him a second time to go and forbid them (to do so). He again went but came back to him and said: I swear by God, Messenger of Allah, that they have overpowered us. She ('A'isha) said that she thought the Messenger of Allah (ﷺ) had told (her) to throw dust in their mouths. Thereupon 'A'isha said: May Allah humble you! You did not do what Allah's Messenger (ﷺ) ordered you, nor did you stop annoying Allah's Messenger (ﷺ)
عبد الوہاب نے کہا : میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا وہ کہہ رہے تھے مجھے عمرہ نے بتا یا کہ انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا وہ فر ما رہی تھیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زید بن حارثہ جعفر بن ابی طالب اور عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قتل ( شہید ) ہو نے کی خبر پہنچی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح ) مسجد میں ) بیٹھے کہ آپ ( کے چہرہ انور ) پر غم کا پتہ چل رہا تھا کہا : میں دروازے کی جھری ۔ ۔ ۔ دروازے کی درز ۔ ۔ ۔ ے دیکھ رہی تھی کہ آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !جعفر ( کے خاندان ) کی عورتیں اور اس نے ان کے رونے کا تذکرہ کیا آپ نے اسے حکم دیا کہ وہ جا کر انھیں روکے وہ چلا گیا وہ ( دوبارہ ) آپ کے پاس آیا اور بتا یا کہ انھوں نے اس کی بات نہیں مانی آپ نے اسے دوبارہ حکم دیا کہ وہ جا کر انھیں روکے وہ گیا اور پھر ( تیسری بار ) آپ کے پاس آکر کہنے لگا : اللہ کی قسم !اللہ کے رسول !وہ ہم پر غالب آگئی ہیں کہا : : ان ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جاؤ اور ان کے منہ میں مٹی ڈال دو ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : میں نے ( دل میں ) کہا : اللہ تیری ناک خاک آلود کرے !اللہ کی قسم !نہ تم وہ کا م کرتے ہو جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمھیں حکم دیا ہے اور نہ ہی تم نے ( باربار بتا کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف ( دینا ) ترک کیا ہے ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ، تَقُولُ لَمَّا جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَتْلُ ابْنِ حَارِثَةَ وَجَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعْرَفُ فِيهِ الْحُزْنُ قَالَتْ وَأَنَا أَنْظُرُ مِنْ صَائِرِ الْبَابِ - شَقِّ الْبَابِ - فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ نِسَاءَ جَعْفَرٍ وَذَكَرَ بُكَاءَهُنَّ فَأَمَرَهُ أَنْ يَذْهَبَ فَيَنْهَاهُنَّ فَذَهَبَ فَأَتَاهُ فَذَكَرَ أَنَّهُنَّ لَمْ يُطِعْنَهُ فَأَمَرَهُ الثَّانِيَةَ أَنْ يَذْهَبَ فَيَنْهَاهُنَّ فَذَهَبَ ثُمَّ أَتَاهُ فَقَالَ وَاللَّهِ لَقَدْ غَلَبْنَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَتْ فَزَعَمَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " اذْهَبْ فَاحْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ مِنَ التُّرَابِ " . قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ أَرْغَمَ اللَّهُ أَنْفَكَ وَاللَّهِ مَا تَفْعَلُ مَا أَمَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَا تَرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْعَنَاءِ .
#2162
This hadith has been narrated by Yahya b. Sa'id with the same chain of transmitters like one narrated by 'Abd al-'Aziz (with the change of these words):" You did not spare the Messenger of Allah (ﷺ) the botheration
عبد اللہ بن نمیر ، معاویہ بن صالح اور عبد العزیز بن مسلم نے یحییٰ بن سعید سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی اور عبد العزیز کی حدیث میں ہے تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشقت میں ڈالنے سے باز نہیں آئے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، ح وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ - كُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . نَحْوَهُ . وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَمَا تَرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْعِيِّ .
#2163
Umm 'Atiyya reported:The Messenger of Allah (ﷺ) took a promise from us along with the oath of Allegiance that we would not lament. But only five among us fulfilled the promise (and they are) Umm Sulaim, and Umm al-'Ala', and the daughter of Abu Sabra the wife of Mu'adh, or daughter of Abu Sabra and wife of Mu'adh
محمد ( بن سیرین ) نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت کے ساتھ ہم سے یہ عہد لیا کہ ہم نو حہ نہیں کریں گی تو ہم میں سے ان پانچ عورتوں : ام سلیم ، امعلاء ابو سیر ہ کی بیٹی ، معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی یا ابو سیرہ کی بیٹی اور معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی کے سواکسی نے ( کماحقہ ) اس کی پاسداری نہیں کی ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَ الْبَيْعَةِ أَلاَّ نَنُوحَ فَمَا وَفَتْ مِنَّا امْرَأَةٌ إِلاَّ خَمْسٌ أُمُّ سُلَيْمٍ وَأُمُّ الْعَلاَءِ وَابْنَةُ أَبِي سَبْرَةَ امْرَأَةُ مُعَاذٍ أَوِ ابْنَةُ أَبِي سَبْرَةَ وَامْرَأَةُ مُعَاذٍ .
#2164
Umm 'Atiyya reported that the Messenger of Allah (ﷺ) took pledge from us (including this promise) that we would not lament. Only five amongst us fulfilled the promise, and one of them (who fulfilled the promise) was Umm Sulaim
ہشام نے حفصہ سے اور انھوں نے حضرت عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت میں ہم سے یہ عہد لیا کہ تم نو حہ نہیں کرو گی ہم میں سے پانچ کے سوا کسی نے اس کی ( کماحقہ ) پاسداری نہیں کی ، ان ( پانچ ) میں سے ایک ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہیں ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَسْبَاطٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْبَيْعَةِ أَلاَّ تَنُحْنَ فَمَا وَفَتْ مِنَّا غَيْرُ خَمْسٍ مِنْهُنَّ أُمُّ سُلَيْمٍ .
#2165
Hafsa narrated on the authority of Umm 'Atiyya that she said:When this verse was revealed:" When believing women came to thee giving thee a pledge that they will not associate aught with Allah, and will not disobey thee in good" (lx. 12), she (Umm Atiyya) said: In (this pledge) was also included wailing. I said: Messenger of Allah, except members of such a tribe who helped me (in lamentation) during pre-Islamic days, there is left no alternative for me, but that I should also help them. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: (Yes) but only in case of the members of such a tribe
عاصم نے حفصہ سے اور انھوں نے حضرت اُم عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : جب یہ آیت نازل ہو ئی : " عورتیں آپ سے بیعت کریں کہ وہ اللہ تعا لیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی ۔ ۔ ۔ اور کسی نیک کا م میں آپ کی مخالفت نہیں کریں گی ۔ " کہا : اس ( عہد ) میں سے ایک نو حہ گری ( کی شق ) بھی تھی تو میں نے کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !فلا ں خاندان کے سوا کیونکہ انھوں نے جا ہلیت کے دور میں ( نوھہ کرنے پر ) میرے ساتھ تعاون کیا تھا تو اب میرے لیے بھی لا زمی ہے کہ میں ( ایک بار ) ان کے ساتھ تعاون کروں ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " فلاں کے خاندان کے سوا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، - قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ، - حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ، عَطِيَّةَ قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لاَ يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا} { وَلاَ يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ} قَالَتْ كَانَ مِنْهُ النِّيَاحَةُ . قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلاَّ آلَ فُلاَنٍ فَإِنَّهُمْ كَانُوا أَسْعَدُونِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلاَ بُدَّ لِي مِنْ أَنْ أُسْعِدَهُمْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِلاَّ آلَ فُلاَنٍ " .
#2166
Umm 'Atiyya reported:We were forbidden to follow the bier, but it was not made absolute on us
محمد بن سیرین نے کہا : حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فر ما یا ہمیں جنازوں کے ساتھ جا نے سے روکا جا تا تھا لیکن ہمیں سختی کے ساتھ حکم نہیں دیا گیا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ قَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ كُنَّا نُنْهَى عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا .
#2167
Umm 'Atiyya reported:We were refrained from following the bier, but it was not made absolute on us
حفصہ نے حجرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روا یت کی ، انھوں نے کہا : ہمیں جنازوں کے ساتھ جا نے سے رو کا گیا لیکن ہمیں سختی کے ساتھ حکم نہیں دیا گیا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، كِلاَهُمَا عَنْ هِشَامٍ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ نُهِينَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا .
#2168
Umm 'Atiyya reported:The Apostle of Allah (ﷺ) came to us when we were bathing his daughter, and he told us: Wash her with water and (with the leaves of) the lote tree, three or five times, or more than that if you think fit, and put camphor or something like camphor in the last washing; then inform me when you have finished. So when we had finished, we informed him, and he gave to us his (own) under-garment saying:" Put it next her body
یزید بن زریع نے ایوب سے انھوں نے محمد بن سیرین سے اور انھوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کو غسل دے رہی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لا ئے آپ نے فر ما یا : " اس کو تین پانچ یا اگر تمھا ری را ئے ہو تو اس سے زائد مرتبہ پانی اور بیری ( کے پتوں ) سے غسل دو اور آخری بار میں کا فوریا کا فورمیں سے کچھ ڈال دینا اور جب تم فارغ ہو جا ؤ تو مجھے اطلا ع کر دینا ۔ جب ہم فارغ ہو گئیں تو ہم نے آپ کو اطلا ع دی تو آپ نے ہمیں اپنا تہبند دیا اور فر ما یا : " اس کو اس کے جسم کے ساتھ لپیٹ دو
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ فَقَالَ " اغْسِلْنَهَا ثَلاَثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي " . فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ فَقَالَ " أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ " .
#2169
Umm 'Atiyya reported:We braided her hair in three plaits
حفصہ بنت سیرین نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم نے ان ( کے بالوں ) کی کنگھی کر کے تین گندھی ہو ئی لٹیں بنا دیں
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ مَشَطْنَاهَا ثَلاَثَةَ قُرُونٍ .
#2170
Umm 'Atiyya reported:One of the daughters of the Messenger of Allah (ﷺ) died. And in the hadith transmitted by Ibn 'Ulayya (the words are): The Messenger of Allah (ﷺ) came to us and we were washing his daughter. And in the hadith transmitted by Malik (the words are): There came in (our apartment) the Messenger of Allah (way peace be upon him) when his daughter died. The rest of the hadith is the same as narrated by Yazid b. Zurai' from Ayyub from Muhammad from Umm 'Atiyya
مالک بن انس ، حماد اور ابن علیہ نے ایوب سے انھوں نے محمد سے اور انھوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیوں میں سے ایک وفات پاگئیں ۔ ابن علیہ کی حدیث میں ( یوں ) ہے ( ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لا ئے اور ہم آپ کی بیٹی کو غسل دے رہی تھیں اور مالک کی حدیث میں ہے کہا : جب آپ کی بیٹی وفات پا گئیں تو آپ ہمارے پاس تشریف لا ئے ۔ ۔ ۔ ( اس سے آگے ) ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے محمد ، ان سے ایوب اور ان سے یزید کی حدیث کے مانند ہے
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَقُتَيْبَةُ، بْنُ سَعِيدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، كُلُّهُمْ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ قَالَتْ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ . وَفِي حَدِيثِ مَالِكٍ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ تُوُفِّيَتِ ابْنَتُهُ . بِمِثْلِ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ .
#2171
A hadith like this has been transmitted by Hafsa on the authority of Umm 'Atiyya with the exception (of these words that the Prophet asked them to wash her dead body):" three times, five times, seven times, or more than that, if you deem fit:" Hafsa (further) said on the authority of Umm 'Atiyya: We braided (the hair) of her head in three plaits
۔ حماد نے ایوب سے ، انھوں نے حفصہ سے اور انھوں نے حجرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اس ( سابقہ حدیث ) کی طرح روایت بیان کی ، اس کے سوا کہ آپ نے فر ما یا : " تین ، پانچ سات یا اگر تمھاری رائے ہو تو اس سے زائد بار ( غسل دینا ۔ ) حفصہ نے ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا : ہم نے ان کے سر ( کے بالوں ) کی تین گندھی ہو ئی لٹیں بنا دیں ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، . بِنَحْوِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " ثَلاَثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ " . فَقَالَتْ حَفْصَةُ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ وَجَعَلْنَا رَأْسَهَا ثَلاَثَةَ قُرُونٍ .
#2172
Umm 'Atiyya reported:We washed her an odd number of times, i. e. three, five or seven times; and Umm 'Atiyya (further) said: We braided her hair in three plaits
(اسماعیل ) ابن علیہ نے کہا : ہمیں ایوب نے خبر دی ، انھوں نے کہا : حفصہ نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ( بیان کرتے ہو ئے ) کہا : ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فر ما یا : اس کو طاق تعداد میں تین ، پانچ یا سات مرتبہ غسل دو ۔ کہا اور ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ہم نے ان ( کے بالوں ) کی کنگھی کر کے تین مینڈھیاں بنا دیں ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، وَأَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، قَالَ وَقَالَتْ حَفْصَةُ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتِ اغْسِلْنَهَا وِتْرًا ثَلاَثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا قَالَ وَقَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ مَشَطْنَاهَا ثَلاَثَةَ قُرُونٍ .
#2173
Umm 'Atiyya reported:When Zainab the daughter of the Messenger of Allah (ﷺ) died, he said to us: Wash her odd number of times, i. e. three or five times, and put camphor or something-like camphor at the fifth time, and after you have washed her inform me. So we informed him and he gave us his under-garment, saying:" Put it next her body
عاصم احول نے حفصہ بنت سیرین سے اور انھوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ( بڑی ) بیٹی زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا وفات پا گئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فر ما یا : " اسے طاق تعداد میں تین یا پنچ مرتبہ غسل دو اور پانچویں بار ( پانی میں ) کا فور ۔ ۔ ۔ یا کچھ کا فور ۔ ۔ ۔ ڈال دینا اور جب تم غسل سے فارغ ہو جا ؤتو مجھے بتا نا ۔ " ہم نے آپ کو بتا یا تو آپ نے ہمیں اپنا تہبند دیا اور فر ما یا : " اس ( تہبند ) کو اس کے جسم کے ساتھ لپیٹ دو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، - قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ أَبُو مُعَاوِيَةَ، - حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ لَمَّا مَاتَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اغْسِلْنَهَا وِتْرًا ثَلاَثًا أَوْ خَمْسًا وَاجْعَلْنَ فِي الْخَامِسَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ فَإِذَا غَسَلْتُنَّهَا فَأَعْلِمْنَنِي " . قَالَتْ فَأَعْلَمْنَاهُ . فَأَعْطَانَا حِقْوَهُ وَقَالَ " أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ " .
#2174
Umm 'Atiyya reported:There came to us the Messenger of Allah (ﷺ) as we were washing one of his daughters. So he said: Wash her (dead body) an odd number of times, five times or more than that, the rest of the hadith is the same. She (further) said: We braided her hair in three plaits: (two) on the sides of her head and one on her forehead
ہشا م بن حسان نے حفصہ بنت سیرین سے اور انھوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشر یف لا ئے اور ہم آپ کی بیٹیوں میں سے ایک کو غسل دے رہی تھیں تو آپ نے فر ما یا : " اسے طاق تعداد میں پانچ یا اس سے زائد بار غسل دینا ۔ ( آگے ) ایوب اور عاصم کی حدیث کے ہم معنی ( حدیث بیان کی ) اس حدیث میں انھوں نے کہا : ( ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : ہم نے ان کے بالوں کو تین تہائیوں میں گو ندھ دیا ان کے سر کے دو نوں طرف اور انکی پیشانی کے بال ۔
وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ حَفْصَةَ، بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ نَغْسِلُ إِحْدَى بَنَاتِهِ فَقَالَ " اغْسِلْنَهَا وِتْرًا خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ " . بِنَحْوِ حَدِيثِ أَيُّوبَ وَعَاصِمٍ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ قَالَتْ فَضَفَرْنَا شَعْرَهَا ثَلاَثَةَ أَثْلاَثٍ قَرْنَيْهَا وَنَاصِيَتَهَا .