العربية
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " وَاخْلُفْهُ فِي تَرِكَتِهِ " . وَقَالَ " اللَّهُمَّ أَوْسِعْ لَهُ فِي قَبْرِهِ " . وَلَمْ يَقُلِ " افْسَحْ لَهُ " . وَزَادَ قَالَ خَالِدٌ الْحَذَّاءُ وَدَعْوَةٌ أُخْرَى سَابِعَةٌ نَسِيتُهَا .
English
This hadith has been narrated by Khalid al Hadhdha' with the same chain of transmitters but with this alteration that he said:(O Allah! ) let Thee be the caretaker of what is left by him, and he said: Grant him expansion of the grave, but he did not say: Make his grave spacious. Khalid said: He supplicated for the seventh (thing too) which I have forgotten اردو
عبیداللہ بن حسن نے کہا : ہمیں خالد حذاء نے اسی ( مذکورہ بالا ) سند کے ساتھ اس ( سابقہ حدیث ) کے ہم معنی حدیث بیان کی ، اس کے سوا کہ انھوں نے ( واخلفه في عقبه کے بجائے ) واخلفه في تركته ( جو کچھ اس نے چھوڑا ہے ، یعنی اہل ومال ، اس میں اس کا جانشین بن ) کہا ، اور انھوں نےاللهم!اوسع له في قبره ( اے اللہ!اس کے لئے اس کی قبر میں وسعت پیدا فرما ) کہا اورافسح له ( اوراس کے لئے کشادگی پیدا فرما ) نہیں کہا اور ( عبیداللہ نے ) یہ زائد بیان کیا کہ خالد حذاء نے کہا : ایک اور ساتویں دعا کی جسے میں بھول گیا ۔