#7250
Abu Bakra reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There would soon be turmoil. Behold! there would be turmoil in which the one who would be seated would be better than one who would stand and the one who would stand would be better than one who would run. Behold! when the turmoil comes or it appears, the one who has camel should stick to his camel and he who has sheep or goat should stick to his sheep and goat and he who has land should stick to the land. A person said: 'Allah's Messenger, what is your opinion about one who has neither camel nor sheep nor land? Thereupon, he said: He should take hold of his sword and beat its edge with the help of stone and then try to find a way of escape. O Allah, I have conveyed (Thy Message) ; O Allah, I have conveyed (Thy Message) ; O Allah, I have conveyed (Thy Message). A person said: Allah's Messenger, what is your opinion if I am drawn to a rank in spite of myself, or in one of the groups and made to march and a man strikes with his sword or there comes an arrow and kills me? Thereupon he said: He will bear the punishment of his sin and that of yours and he would be one amongst the denizens of Hell
حمادبن زید نے کہا : ہمیں عثمان الشحام نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں اور فرقد سبخی مسلم بن ابی بکرہ کے ہاں گئے ، وہ اپنی زمین میں تھے ہم ان کے ہاں اندر داخل ہوئے اور کہا : کیا آپ نے اپنےوالد کو فتنوں کے بارے میں کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا؟انھوں نے کہا : ہاں ، میں نے ( اپنے والد ) حضرت ابو بکرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وحدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نے فرمایا : " عنقریب فتنے برپا ہوں گے سن لو!پھر ( اور ) فتنے برپا ہوں گے ، ان ( کےدوران ) میں بیٹھا رہنے و الا چلے والے سے بہتر ہوگا ، اور ان میں چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگایاد رکھو!جب وہ نازل ہوگا یا واقع ہوں گے تو جس کے ( پاس ) اونٹ ہوں وہ اپنے اونٹوں کے پاس چلا جائے ، جس کے پاس بکریاں ہوں وہ بکریوں کے پاس چلاجائے اور جس کی زمین وہ زمین میں چلاجائے ۔ " ( حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو ایک شخص نے عرض کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اس کےبارے میں کیا خیال ہے جس کے پاس یہ اونٹ ہوں ، نہ بکریاں ، نہ زمین؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ اپنی تلوار لے ، اس کی دھار کو پتھر سے کوٹے ( کندکردے ) اورپھر اگر بچ سکےتو بچ نکلے!اے اللہ!کیا میں نے ( حق ) پہنچا دیا؟اے اللہ! کیا میں نے ( حق ) پہنچا دیا ۔ اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا ۔ کہا : تو ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اگر مجھے مجبور کردیا جائے اور لے جاکر ایک صف میں یا ایک فریق کے ساتھ کھڑا کردیاجائے اور کوئی آدمی مجھے اپنی تلوار کا نشانہ بنادے یا کوئی تیر آئے اور مجھے مار ڈالے تو؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( اگر تم نے وار نہ کیا ہوا ) تو وہ اپنے اور تمہارے گناہ سمیٹ لے جائے گا اور اہل جہنم میں سے ہوجائے گا ۔
حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، الشَّحَّامُ قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَفَرْقَدٌ السَّبَخِيُّ، إِلَى مُسْلِمِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ وَهُوَ فِي أَرْضِهِ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَقُلْنَا هَلْ سَمِعْتَ أَبَاكَ يُحَدِّثُ فِي الْفِتَنِ حَدِيثًا قَالَ نَعَمْ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرَةَ يُحَدِّثُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتَنٌ أَلاَ ثُمَّ تَكُونُ فِتْنَةٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي فِيهَا وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي إِلَيْهَا أَلاَ فَإِذَا نَزَلَتْ أَوْ وَقَعَتْ فَمَنْ كَانَ لَهُ إِبِلٌ فَلْيَلْحَقْ بِإِبِلِهِ وَمَنْ كَانَتْ لَهُ غَنَمٌ فَلْيَلْحَقْ بِغَنَمِهِ وَمَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَلْحَقْ بِأَرْضِهِ " . قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ مَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ إِبِلٌ وَلاَ غَنَمٌ وَلاَ أَرْضٌ قَالَ " يَعْمِدُ إِلَى سَيْفِهِ فَيَدُقُّ عَلَى حَدِّهِ بِحَجَرٍ ثُمَّ لْيَنْجُ إِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَاءَ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ " . قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ أُكْرِهْتُ حَتَّى يُنْطَلَقَ بِي إِلَى أَحَدِ الصَّفَّيْنِ أَوْ إِحْدَى الْفِئَتَيْنِ فَضَرَبَنِي رَجُلٌ بِسَيْفِهِ أَوْ يَجِيءُ سَهْمٌ فَيَقْتُلُنِي قَالَ " يَبُوءُ بِإِثْمِهِ وَإِثْمِكَ وَيَكُونُ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ " .
#7251
This hadith has been transmitted on the authority of Waki' with a slight variation of wording
وکیع اور ا بن ابی عدی نے عثمان شحام سے اسی سند کے ساتھ ابن عدی کی حدیث کو حماد کی حدیث کے مانند آخر تک بیان کیا اور وکیع کی حدیث اس بات پر ختم ہوگئی؛ " اگر وہ بچ سکے ( تو بچ جائے ۔ ) " اور بعد والا حصہ بیان نہیں کیا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ، بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، كِلاَهُمَا عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . حَدِيثُ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ نَحْوَ حَدِيثِ حَمَّادٍ إِلَى آخِرِهِ وَانْتَهَى حَدِيثُ وَكِيعٍ عِنْدَ قَوْلِهِ " إِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَاءَ " . وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ .
#7252
Ahnaf b. Qais reported:I set out with the intention of helping this person (Hadrat 'Ali) when Abu Bakra met me. He said: Ahnaf, where do you intend to go? I said: I intend to help the cousin of Allah's Messenger (ﷺ), viz. 'Ali. Thereupon he said to me: Ahnaf, go back, for I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: When two Muslims confront one another with swords (in hand) both the slayer and the slain would be in Fire. He (Ahnaf) said: I said, or it was said: Allah's Messenger, it may be the case of one who kills. but what about the slain (why he would be put in Hell-Fire)? Thereupon he said: He also intended to kill his companion
ابو کامل فضیل بن حسین جحدری نے مجھے حدیث بیان کی کہا : ہمیں حماد بن زید نے ایوب اور یونس سے حدیث بیان کی انھوں نے احنف بن قیس سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں ( گھر سے ) اس شخص ( حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ شامل ہونے ) کے ارادے سے نکلا تو مجھے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ملے ۔ انھوں نے پوچھا : احنف! کہاں کاارداہ ہے؟کہا : میں نے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عم زادیعنی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نصرت کرنا چاہتا ہوں ۔ کہا تو انھوں نے مجھ سے کہا : احنف !لوٹ جاؤ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سناتھا آپ فرمارہے تھے " جب دومسلمان اپنی اپنی تلواروں کے ساتھ آمنے سامنے آجائیں تو قاتل اور مقتول دونوں ( جہنم کی ) آگ میں ہوں گے ۔ " کہا : تو میں نے عرض کی ۔ یا کہاگیا ۔ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ تو قاتل ہوا ( لیکن ) مقتول کا یہ حال کیوں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس نے ( بھی ) اپنے ساتھی کو قتل کرنے کا ارداہ کر لیاتھا ۔
حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ، فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، وَيُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ خَرَجْتُ وَأَنَا أُرِيدُ، هَذَا الرَّجُلَ فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرَةَ فَقَالَ أَيْنَ تُرِيدُ يَا أَحْنَفُ قَالَ قُلْتُ أُرِيدُ نَصْرَ ابْنِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - يَعْنِي عَلِيًّا - قَالَ فَقَالَ لِي يَا أَحْنَفُ ارْجِعْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ " . قَالَ فَقُلْتُ أَوْ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ قَالَ " إِنَّهُ قَدْ أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِهِ " .
#7253
Ahnaf b. Qais reported on the authority of Abu Bakra that Allah's Messenger (ﷺ) said:When two Muslims confront each other with their swords, both the slayer and the slain are doomed to Hell-Fire
احمد بن عبدہ نصحی نے ہمیں یہی حدیث بیان کی انھوں نے کہا : ہمیں حماد نے ایوب یونس اور معلی بن زیادہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حسن سے انھو ں نے حسن سے انھوں نے احنف بن قیس سے اور انھوں نےحضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب وہ مسلمان اپنی اپنی تلواروں سے باہم ٹکرائیں تو قاتل اور مقتول دونوں آگ میں ہو ں گے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَيُونُسَ، وَالْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ " .
#7254
This hadith has been narrated on the authority of Hammad through another chain of transmitters
معمر نے ہمیں ایوب سے اسی سند کے ساتھ حماد سے ابو کامل کی حدیث کی طرح آخر تک بیان کیا ۔
وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، مِنْ كِتَابِهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي كَامِلٍ عَنْ حَمَّادٍ، إِلَى آخِرِهِ .
#7255
Abu Bakra reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When two Muslims (confront each other) and the one amongst them attacks his brother with a weapon, both of them are at the brink of Hell-Fire. And when one of them kills his companion, both of them get into Hell-Fire
ربعی بن حراش نے حضرت ابو بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اورانھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " جب وہ مسلمانوں میں سے ایک نے اپنے بھائی پر اسلحہ کشی کی تو وہ دونوں جہنم کے کنارے پر ہیں پھر جب ان میں سے ایک نے ( موقع پاتے ) دوسرے کو قتل کردیا تو دونوں اکٹھے جہنم میں داخل ہوں گے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا الْمُسْلِمَانِ حَمَلَ أَحَدُهُمَا عَلَى أَخِيهِ السِّلاَحَ فَهُمَا فِي جُرُفِ جَهَنَّمَ فَإِذَا قَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ دَخَلاَهَا جَمِيعًا " .
#7256
معمر نے ہمام بن منبہ سے روایت کی کہا : یہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں انھوں نے کئی احادیث ذکر کیں ان میں سے ( ایک یہ تھی ) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت اس وقت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ مسلمانوں کی دوبڑی جماعتیں باہم جنگ آزماہوں گی ۔ ان دونوں کے درمیان بڑی قتل و غارتگری ہوگی جبکہ دونوں ایک ہی ( بات یعنی حق کی نصرت کا ) دعویٰ کرتے ہوں گے ۔
#7257
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The last Hour will not come unless there is much bloodshed. They said: What is harj? Thereupon he said: Bloodshed. bloodshed
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ بہت زیادہ ہرج ( جانوں کی تباہی ) ہوجائے گی؟انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے پوچھا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہرج ( تباہی ) کیا ہو گی؟فرمایا : " قتل ، قتل ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ الْهَرْجُ " . قَالُوا وَمَا الْهَرْجُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " الْقَتْلُ الْقَتْلُ " .
#7258
Thauban reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:Allah drew the ends of the world near one another for my sake. And I have seen its eastern and western ends. And the dominion of my Ummah would reach those ends which have been drawn near me and I have been granted the red and the white treasure and I begged my Lord for my Ummah that it should not be destroyed because of famine, nor be dominated by an enemy who is not amongst them to take their lives and destroy them root and branch, and my Lord said: Muhammad, whenever I make a decision, there is none to change it. I grant you for your Ummah that it would not be destroyed by famine and it would not be dominated by an enemy who would not be amongst it and would take their lives and destroy them root and branch even if all the people from the different parts of the world join hands together (for this purpose), but it would be from amongst them, viz. your Ummah, that some people would kill the others or imprison the others
ایوب نے ابو قلابہ سے انھوں نے ابو اسماء سے اور انھوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین کو لپیٹ دیا اور میں نے اس کے مشارق و مغارب کو دیکھ لیا اور جہاں تک یہ زمین میرے لیے لپیٹی گئی عنقریب میری امت کی حکومت وہاں تک پہنچے گی اور مجھے سرخ اور سفید دونوں خزانے ( سونے اور چاندی کے ذخائر ) دیے گئے اور میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے لیے یہ سوال کیا کہ وہ اس کو عام قحط سالی سے ہلاک نہ کرے اور ان کے علاوہ سے ان پر کوئی دشمن مسلط نہ کرے جو مجموعی طور پر ان سب ( کی جانوں ) کورواکر لے ۔ بے شک میرے رب نے فرمایا : " اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !جب میں کو ئی فیصلہ کردوں تو وہ رد نہیں ہوتا ۔ بلاشبہ میں نے آپ کی امت کے لیے آپ کو یہ بات عطا کردی ہے کہ ان کو عام قحط سالی سے ہلاک نہیں کروں گا اور ان پر ان کے علاوہ سے کسی اور دشمن کو مسلط نہ کروں گاجو ان سب ( کی جانوں ) کورواقراردے لے ۔ چاہے ان کے خلاف ان کے اطراف والے ۔ یا کہا : ان کے اطراف والوں کے اندر سے ہوں اکٹھے کیوں نہ ہوں جائیں ۔ یہاں تک کہ یہ ( خود ) ایک دوسرے کو ہلاک کریں گے ۔ اور ایک دوسرے کو قیدی بنائیں گے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، كِلاَهُمَا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، - وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ - حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ زَوَى لِيَ الأَرْضَ فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا وَإِنَّ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مُلْكُهَا مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا وَأُعْطِيتُ الْكَنْزَيْنِ الأَحْمَرَ وَالأَبْيَضَ وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي لأُمَّتِي أَنْ لاَ يُهْلِكَهَا بِسَنَةٍ بِعَامَّةٍ وَأَنْ لاَ يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَى أَنْفُسِهِمْ فَيَسْتَبِيحَ بَيْضَتَهُمْ وَإِنَّ رَبِّي قَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي إِذَا قَضَيْتُ قَضَاءً فَإِنَّهُ لاَ يُرَدُّ وَإِنِّي أَعْطَيْتُكَ لأُمَّتِكَ أَنْ لاَ أُهْلِكَهُمْ بِسَنَةٍ بِعَامَّةٍ وَأَنْ لاَ أُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَى أَنْفُسِهِمْ يَسْتَبِيحُ بَيْضَتَهُمْ وَلَوِ اجْتَمَعَ عَلَيْهِمْ مَنْ بِأَقْطَارِهَا - أَوْ قَالَ مَنْ بَيْنَ أَقْطَارِهَا - حَتَّى يَكُونَ بَعْضُهُمْ يُهْلِكُ بَعْضًا وَيَسْبِي بَعْضُهُمْ بَعْضًا " .
#7259
Thauban reported that Allah's Messenger (ﷺ) said. Verily, Allah drew the ends of the world near me until I saw its east and west, and He bestowed upon me two treasures, the red and the white. The rest of the hadith is the same
قتادہ نے ابوقلابہ سے انھوں نے ابو اسماء یحییٰ سے اور انھوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین کو میرے لیے لپیٹ دیا حتیٰ کہ میں نے اس کےمشارق کو مغارب کو دیکھ لیا اور اس نے مجھے سرخ اور سفید وہ خزانے عطا فرمائے ۔ " اس کے بعد ابو قلابہ سے ایوب کی روایت کی طرح بیان کیا ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى زَوَى لِيَ الأَرْضَ حَتَّى رَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا وَأَعْطَانِي الْكَنْزَيْنِ الأَحْمَرَ وَالأَبْيَضَ " . ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ .
#7260
Amir b. Sa'd reported on the authority of his father that one day Allah's Messenger (ﷺ) came from a high, land. He passed by the mosque of Banu Mu'awiya, went in and observed two rak'ahs there and we also observed prayer along with him and he made a long supplication to his Lord. He then came to us and said:I asked my Lord three things and He has granted me two but has withheld one. I begged my Lord that my Ummah should not be destroyed because of famine and He granted me this. And I begged my Lord that my Ummah should not be destroyed by drowning (by deluge) and He granted me this. And I begged my Lord that there should be no bloodshed among the people of my Ummah, but He did not grant it
عبد اللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں عثمان بن حکیم نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے عامر بن سعد نے اپنے والد ( سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( مدینہ کے ) بالائی علاقے سے تشریف لائے یہاں تک کہ جب آپ بنو معاویہ کی مسجد کے قریب سے گزرے تو آپ اس میں داخل ہوئے اور وہ رکعتیں ادا فرمائیں ۔ ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ نے اپنے رب سے بہت لمبی دعا کی پھر آپ نے ہماری طرف رخ کیا تو فرمایا : " میں نے اپنے رب سے تین ( چیزیں ) مانگیں ۔ اس نے وہ مجھے عطا فرمادیں اور ایک مجھ سے روک لی ۔ میں نے اپنے رب سے یہ مانگا کہ وہ میری ( پوری ) امت کو قحط سالی سے ہلاک نہ کرے تو اس نے مجھے یہ چیز عطا فرمادی اور میں نے اس سے مانگا کہ وہ میری امت کو غرق کر کے ہلاک نہ کرے تو اس نے یہ ( بھی ) مجھے عطافرمادی اور میں نے اس سے یہ سوال کیا کہ ان کی آپس میں جنگ نہ ہو تو اس نے یہ ( بات ) مجھ سے روک لی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَقْبَلَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنَ الْعَالِيَةِ حَتَّى إِذَا مَرَّ بِمَسْجِدِ بَنِي مُعَاوِيَةَ دَخَلَ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ وَدَعَا رَبَّهُ طَوِيلاً ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْنَا فَقَالَ صلى الله عليه وسلم " سَأَلْتُ رَبِّي ثَلاَثًا فَأَعْطَانِي ثِنْتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً سَأَلْتُ رَبِّي أَنْ لاَ يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالسَّنَةِ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُهُ أَنْ لاَ يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالْغَرَقِ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُهُ أَنْ لاَ يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ فَمَنَعَنِيهَا " .
#7261
Amir b. Sa'd reported on the authority of his father that Allah's Messenger (ﷺ) came with a group of his Companions and he passed by the mosque of Banu Mu'awiya. The rest of the hadith is the same
مروان بن معاویہ نے کہا : ہمیں عثمان بن حکیم نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے عامر بن سعد نے اپنے والد ( سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی ایک جماعت کے ساتھ آئے اور آپ بنو معاویہ کی مسجد کے قریب سے گزرے ۔ ( آگے ) ابن نمیرکی حدیث کے مانند ۔
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ الأَنْصَارِيُّ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَقْبَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَمَرَّ بِمَسْجِدِ بَنِي مُعَاوِيَةَ . بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ .
#7262
Hudhaifa b. al-Yaman reported:By Allah, I have the best knowledge amongst people about every turmoil which is going to appear in the period intervening me and the Last Hour; and it is not for the fact that Allah's Messenger (ﷺ) told me something confidentially pertaining to it and he did not tell anybody else about it, but it is because of the fact that I was present in the assembly in which he had been describing the turmoil. and he especially made a mention of three turmoils which would not spare anything and amongst these there would be turmoils like storms in the hot season. Some of them would be violent and some of them would be comparatively mild. Hudhaifa said: All (who were present) except I have gone (to the next world)
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبردی کہ ابو ادریس خولانی کہا کرتے تھے کہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا : اللہ کی قسم!میں اب سے لے کر قیامت تک وقوع پذیر ہونے والے تمام فتنوں کے بارے میں باقی سب لوگوں کی نسبت زیادہ جانتاہوں ۔ اور ( انھیں بیان کرنےمیں ) میرے لیے اس کے سوا اور کوئی ( مانع ) نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کوئی چیز راز کے طورپر مجھے بتائی تھی جو آپ نے میرے علاوہ کسی اور کو نہیں بتائی تھی ۔ ( ایسی باتیں میں کبھی بیان نہیں کروں گا ) البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجلس میں جہاں میں مو جود تھا فتنوں کو شمار کر رہے تھے : " ان میں سے تین ( فتنے ) ایسے ہیں جو تقریباً کسی چیزکو باقی نہیں چھوڑیں گے اور ان میں سے کچھ فتنے ایسے ہیں جو موسم گرما کی آندھیوں کی طرح ہیں ان میں کچھ چھوٹے ہیں اور کچھ بڑے ہیں ۔ " حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میرے سوا وہ سب لوگ ( جو اس مجلس میں موجود تھے ) رخصت ہوگئے ۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيَّ، كَانَ يَقُولُ قَالَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ وَاللَّهِ إِنِّي لأَعْلَمُ النَّاسِ بِكُلِّ فِتْنَةٍ هِيَ كَائِنَةٌ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَ السَّاعَةِ وَمَا بِي إِلاَّ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَسَرَّ إِلَىَّ فِي ذَلِكَ شَيْئًا لَمْ يُحَدِّثْهُ غَيْرِي وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَهُوَ يُحَدِّثُ مَجْلِسًا أَنَا فِيهِ عَنِ الْفِتَنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَعُدُّ الْفِتَنَ " مِنْهُنَّ ثَلاَثٌ لاَ يَكَدْنَ يَذَرْنَ شَيْئًا وَمِنْهُنَّ فِتَنٌ كَرِيَاحِ الصَّيْفِ مِنْهَا صِغَارٌ وَمِنْهَا كِبَارٌ " . قَالَ حُذَيْفَةُ فَذَهَبَ أُولَئِكَ الرَّهْطُ كُلُّهُمْ غَيْرِي .
#7263
Hudhaifa reported that Allah's Messenger (ﷺ) stood before us one day and he did not leave anything unsaid (that he had to say) at that very spot which would happen (in the shape of turmoil) up to the Last Hour. Those who had to remember them preserved them in their minds and those who could not remember them forgot them. My friends knew them and there are certain things which slip out of my mind, but I recapitulate them when anyone makes a mention of them just as a person is lost from one's mind but is recalled to him on seeing his face
جریر نے اعمش سے انھوں نے شقیق سے اور انھوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سامنے کھڑے ہوئے اور آپ نے اپنے کھڑے ہونے کے اس وقت سے لے کر قیامت تک ہونے والی کوئی ( اہم ) بات نہ چھوڑی مگر اسے بیان فرمادیا جس نے اس ( بیان ) کو یاد رکھا اس نے اسے یاد رکھا اور جس نے اسے بھلادیا اس نے اسے بھلادیا ۔ وہ سب کچھ میرے ان ساتھیوں کے علم میں آیا پھر ان میں سے کوئی چیز پیش آتی ہے جو میں بھول چکا ہوتا ہوں تو جب اسے دیکھتا ہوں تو وہ مجھے یاد آجاتی ہے بالکل اسی طرح جیسے انسان کسی غائب ہو جانے والے شخص کا چہرہ یاد رکھتا ہے جب اسے دیکھتا ہے تو پہچان لیتا ہے ۔
وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا وَقَالَ، إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَقَامًا مَا تَرَكَ شَيْئًا يَكُونُ فِي مَقَامِهِ ذَلِكَ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ إِلاَّ حَدَّثَ بِهِ حَفِظَهُ مَنْ حَفِظَهُ وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ قَدْ عَلِمَهُ أَصْحَابِي هَؤُلاَءِ وَإِنَّهُ لَيَكُونُ مِنْهُ الشَّىْءُ قَدْ نَسِيتُهُ فَأَرَاهُ فَأَذْكُرُهُ كَمَا يَذْكُرُ الرَّجُلُ وَجْهَ الرَّجُلِ إِذَا غَابَ عَنْهُ ثُمَّ إِذَا رَآهُ عَرَفَهُ .
#7264
This hadith has been narrated on the authority of A'mash with the same chain of transmitters up to the words:And he forgot who had to forget that and. he did not make a mention of what follows after this
سفیان نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ ان ( حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے اس قول تک : " اور جس نے اسے بھلادیا اس نے اسے بھلادیا " روایت کی اور اس کے بعد کا حصہ بیان نہیں کیا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ . وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ .
#7265
Hudhaifa reported:Allah's Messenger (ﷺ) informed me of what is going to happen before the approach of the Last Hour. And there is nothing that I did not ask him in this connection except this that I did not ask him as to what would turn the people of Medina out from Medina
محمد بن جعفر غندرنے کہا : ہمیں شعبہ نے عدی بن ثابت سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عبد اللہ بن یزید سے اور انھوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت قائم ہونے تک جو کچھ ہونے والا ہے اس کی مجھے خبر دی اور ان میں سے کوئی چیز نہیں مگر میں نے آپ سے اس کے بارے میں سوال کیا البتہ میں نے آپ سے یہ سوال نہیں کیا کہ اہل مدینہ کو مدینہ سے کون سی چیز باہر نکالے گی ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ، بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ فَمَا مِنْهُ شَىْءٌ إِلاَّ قَدْ سَأَلْتُهُ إِلاَّ أَنِّي لَمْ أَسْأَلْهُ مَا يُخْرِجُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ مِنَ الْمَدِينَةِ
#7266
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters
وہب بن جریر نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
#7267
Abu Zaid (viz. Amr b. Akhtab) reported:Allah's Messenger (ﷺ) led us in the dawn prayer and then mounted the pulpit and addressed us until it was (time for the) noon prayer. He then came down the pulpit and observed prayer and then again mounted the pulpit and again addressed us until it was time for the 'Asr prayer. He then again came down and observed the prayer and again mounted the pulpit and addressed us until the sun was set and he informed (about) everything (pertaining to turmoil) that lay hidden in the past and what lies in (the womb) of) the future and the most learned amongst us is one who remembers them well
علباء بن احمر نے کہا : حضرت ابو زید عمرو بن اخطب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے بیان کیا کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی اور منبر پر رونق افروز ہوئے تو ہمیں خطبہ دیا یہاں تک کہ ظہر کی نماز کا وقت ہو گیا آپ ( منبرسے ) اترے ہمیں نماز پڑھائی پھر دوبارہ منبر پر رونق افروز ہوئے اور ( آگے ) خطبہ ارشاد فرمایا : یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت ہوگیا پھر آپ اترے نماز پڑھائی اور پھر منبر پر تشریف لے گئے اور خطبہ دیا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا ۔ آپ نے جو کچھ ہوا اور جو ہونے والاتھا ( سب ) ہمیں بتادیا ہم میں سے زیادہ جاننے والا وہی ہے جو یا دواشت میں دوسروں سے بڑھ کر ہے ۔
وَحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي عَاصِمٍ، - قَالَ حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، - أَخْبَرَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ، أَخْبَرَنَا عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ، حَدَّثَنِي أَبُو زَيْدٍ، - يَعْنِي عَمْرَو بْنَ أَخْطَبَ - قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْفَجْرَ وَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَتِ الظُّهْرُ فَنَزَلَ فَصَلَّى ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَتِ الْعَصْرُ ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَأَخْبَرَنَا بِمَا كَانَ وَبِمَا هُوَ كَائِنٌ فَأَعْلَمُنَا أَحْفَظُنَا .
#7268
Hudhaifa reported:We were one day in the company of 'Umar that he said: Who amongst you has preserved in his mind most perfectly the hadith of Allah's Messenger (ﷺ) in regard to the turmoil as he told about it? I said: It is I. Thereupon he said: You are bold (enough to make this claim). And he further said: How? I said: I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: There would (first) be turmoil for a person in regard to his family, his property, his own self, his children, his neighbours (and the sins committed in their connection) would be expiated by fasting, prayer, charity, enjoining good and prohibiting evil. Thereupon 'Umar said: I do not mean (that turmoil on a small scale) but that one which would emerge like the mounting waves of the ocean. I said: Commander of the Faithful, you have nothing to do with it, for the door is closed between you and that. He said: Would that door be broken or opened? I said: No, it would be broken. Thereupon he said: Then it would not be closed despite best efforts. We said to Hudhaifa: Did Umar know the door? Thereupon he said: Yes, he knew it (for certain) just as one knows that night precedes the next day. And I narrated to him something in which there was nothing fabricated. Shaqiq (one of the narrators) said: We dared not ask Hudhaifa about that door. So we requested Masruq to ask him. So he asked him and he said: (By that door, he meant) 'Umar
ابو معاویہ نے کہا : ہمیں اعمش نے ( ابو وائل ) شقیق سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ انھوں نے کہا : فتنے کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد جس طرح آپ نے خود فرمایا تھا تم میں سے کسی کو یاد ہے؟ ( حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں نے عرض کی : مجھے ۔ ( حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تم بہت جرات مند ہو ۔ ( یہ بتاؤ کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح ارشاد فرمایاتھا؟میں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا آپ فرما رہے تھے ۔ انسان اپنے گھروالوں اپنےمال اپنی جان اور اپنے ہمسائے کے بارے میں جس فتنے میں مبتلا ہوتاہے تو روزہ نماز ، صدقہ ، نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے منع کرنا اس کا کفارہ بن جاتے ہیں ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میری مراد اس سے نہیں میری مراد تواس ( فتنے ) سے ہے جو سمندر کی موجوں کی طرح امڈکرآتا ہے ۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : امیر المؤمنین!آپ کو اس فتنے سے کیا ( خطرہ ) ہے؟آپ کے اور اس فتنے کے درمیان ایک بنددروازہ ہے ۔ انھوں نے کہا : وہ دروازہ توڑاجائے گا یا کھولا جا ئے گا؟کہا : میں نے جواب دیا نہیں بلکہ توڑاجائےگا ۔ ( حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : پھر اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ وہ ( دروازہ دوبارہ ) کبھی بند نہیں کیا جا سکے گا ۔ ( شقیق نے ) کہا : ہم نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کیا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جانتے تھے کہ دروازہ کون ہے؟انھوں نے کہا : ہاں اسی طرح جیسے وہ یہ بات جانتے تھے کہ صبح کے بعد رات ہے میں نے ان کو ایک حدیث بیان کی تھی وہ کوئی اٹکل بچو بات نہ تھی ۔ کہا : پھر ہم اس بات سے ڈرگئے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھیں وہ دروازہ کون تھا؟ ہم نے مسروق سے کہا : آپ ان ( حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے پوچھیں انھوں نے پوچھا تو ( حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : ( وہ دروازہ ) حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( تھے)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ أَبُو كُرَيْبٍ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي، مُعَاوِيَةَ قَالَ ابْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ فَقَالَ أَيُّكُمْ يَحْفَظُ حَدِيثَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْفِتْنَةِ كَمَا قَالَ قَالَ فَقُلْتُ أَنَا . قَالَ إِنَّكَ لَجَرِيءٌ وَكَيْفَ قَالَ قَالَ قُلْتُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَنَفْسِهِ وَوَلَدِهِ وَجَارِهِ يُكَفِّرُهَا الصِّيَامُ وَالصَّلاَةُ وَالصَّدَقَةُ وَالأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْىُ عَنِ الْمُنْكَرِ " . فَقَالَ عُمَرُ لَيْسَ هَذَا أُرِيدُ إِنَّمَا أُرِيدُ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ - قَالَ - فَقُلْتُ مَا لَكَ وَلَهَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا قَالَ أَفَيُكْسَرُ الْبَابُ أَمْ يُفْتَحُ قَالَ قُلْتُ لاَ بَلْ يُكْسَرُ . قَالَ ذَلِكَ أَحْرَى أَنْ لاَ يُغْلَقَ أَبَدًا . قَالَ فَقُلْنَا لِحُذَيْفَةَ هَلْ كَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ مَنِ الْبَابُ قَالَ نَعَمْ كَمَا يَعْلَمُ أَنَّ دُونَ غَدٍ اللَّيْلَةَ إِنِّي حَدَّثْتُهُ حَدِيثًا لَيْسَ بِالأَغَالِيطِ . قَالَ فَهِبْنَا أَنْ نَسْأَلَ حُذَيْفَةَ مَنِ الْبَابُ فَقُلْنَا لِمَسْرُوقٍ سَلْهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ عُمَرُ .
#7269
This hadith has been narrated on the authority of Hudhaifa through other chains of transmitters also
وکیع جریر عیسیٰ بن یونس اور یحییٰ بن عیسیٰ سب نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ ابو معاویہ کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور شقیق سے اعمش اور ان سے عیسیٰ کی حدیث میں یہ ( جملہ ) ہے کہا : میں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عِيسَى، كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَفِي حَدِيثِ عِيسَى عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ، يَقُولُ .
#7270
Hudhaifa reported that Umar said:Who would narrate to us (the ahadith pertaining to turmoil) and he reported a hadith similar to these ahadith
ابن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان نے جامع بن ابی راشد سے اور اعمش نے ابو وائل ( شقیق ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : کون ہے جو ہمیں فتنے کے بارے میں حدیث بیان کرے گا؟اور ( پھر ) ا ن سب کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ، وَالأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ قَالَ عُمَرُ مَنْ يُحَدِّثُنَا عَنِ الْفِتْنَةِ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ، بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ .
#7271
Jundub reported:I came on the day of Jara`a that a person was (found) sitting. I said: They would shed their blood today. That person said: By Allah. not at all. I said: By Allah, of course, they would do it. He said: By Allah, they would not do it. I said: By Allah, of course, they would do it. He said: By Allah, they would not do it, and I have heard a hadith of Allah's Messenger (ﷺ) which I am narrating to you in this connection. I said: You are a bad seat fellow. I have been opposing you since morning and you are listening to me in spite of the fact that you have heard a hadith from Allah's Apostle (ﷺ) (contrary to my statement). I myself felt that there was no use of this annoyance. (He could tell me earlier that it was a hadith of the Prophet (may peace be upon him], and I would not have opposed him at all.) I turned my face toward him and asked him and he was Hadrat Hudhaifa
محمد ( بن سیرین ) سے روایت ہے انھوں نے کہا : حضرت جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں جرعہ کے دن وہاں آیا تو ( وہاں ) ایک شخص بیٹھا ہوا تھا ۔ میں نے کہا : آج یہاں بہت خونریزی ہو گی ۔ اس شخص نے کہا : اللہ کی قسم!ہر گز نہیں ہو گی ۔ میں نے کہا : اللہ کی قسم!ضرورہو گی اس نے کہا : واللہ !ہر گز نہیں ہو گی ، میں نے کہا واللہ!ضرورہوگی اس نے کہا : واللہ!ہرگز نہیں ہو گی ، یہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے جو آپ نے مجھے ارشاد فرمائی تھی ۔ میں نے جواب میں کہا : آج تم میرے لیے آج کے بد ترین ساتھی ( ثابت ہوئے ) ہو ۔ تم مجھ سے سن رہے ہو کہ میں تمھاری مخالفت کرر ہا ہوں اور تم نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سناہےا س کی بنا پر مجھے روکتے نہیں؟پھر میں نے کہا : یہ غصہ کیسا؟چنانچہ میں ( ٹھیک طرح سے ) ان کی طرف متوجہ ہوا اور ان کے بارے میں پوچھا تو وہ آدمی حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ، عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ جُنْدُبٌ جِئْتُ يَوْمَ الْجَرَعَةِ فَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ فَقُلْتُ لَيُهَرَاقَنَّ الْيَوْمَ هَا هُنَا دِمَاءٌ . فَقَالَ ذَاكَ الرَّجُلُ كَلاَّ وَاللَّهِ . قُلْتُ بَلَى وَاللَّهِ . قَالَ كَلاَّ وَاللَّهِ . قُلْتُ بَلَى وَاللَّهِ . قَالَ كَلاَّ وَاللَّهِ إِنَّهُ لَحَدِيثُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَدَّثَنِيهِ . قُلْتُ بِئْسَ الْجَلِيسُ لِي أَنْتَ مُنْذُ الْيَوْمِ تَسْمَعُنِي أُخَالِفُكَ وَقَدْ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلاَ تَنْهَانِي ثُمَّ قُلْتُ مَا هَذَا الْغَضَبُ فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهِ وَأَسْأَلُهُ فَإِذَا الرَّجُلُ حُذَيْفَةُ .
#7272
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The Last Hour would not come before the Euphrates uncovers a mountain of gold, for which people would fight. Ninety-nine out of each one hundred would die but every man amongst them would say that perhaps he would be the one who would be saved (and thus possess this gold)
یعقوب بن عبد الرحمٰن القاری نے ہمیں سہیل سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت نہیں آئے گی ۔ یہاں تک کہ دریائے فرات سونے کے ایک پہاڑ کو ظاہر کرے گا ۔ اس پر ( لڑتے ہوئے ) ہر سو میں سے ننانوے لوگ مارے جائیں گے اور ان ( لڑنے والوں ) میں سے ہر کوئی کہے گا ۔ شاید میں ہی بچ جاؤں گا ۔ ( اور سارے سونے کا مالک بن جاؤں گا ۔)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ - عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَحْسِرَ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ يَقْتَتِلُ النَّاسُ عَلَيْهِ فَيُقْتَلُ مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ وَيَقُولُ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ لَعَلِّي أَكُونُ أَنَا الَّذِي أَنْجُو " .
#7273
This hadith has been narrated on the authority of Suhail with the same chain of transmitters but with this addition:" My father said: If you see that, do not even go near it
روح نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مطابق حدیث بیان کی اور مزید کہا : تو میرے والد نے کہا : اگر تم اس پہاڑ کو دیکھ لو تو اس کے قریب بھی مت جانا ۔
وَحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَزَادَ فَقَالَ أَبِي إِنْ رَأَيْتَهُ فَلاَ تَقْرَبَنَّهُ .
#7274
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The Last Hour would not come unless the Euphrates would uncover a treasure of gold, so he who finds it should not take anything out of that
حفص بن عاصم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عنقریب دریائے فرات سونے کے ایک خزانے کو ظاہر کردےگا جو شخص وہاں موجودہو تو وہ اس میں سے کچھ بھی نہ لے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ، سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ السَّكُونِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ، اللَّهِ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يُوشِكُ الْفُرَاتُ أَنْ يَحْسِرَ عَنْ كَنْزٍ مِنْ ذَهَبٍ فَمَنْ حَضَرَهُ فَلاَ يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا " .