#7225
A'isha reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:He who is taken to account on the Day of Resurrection is in fact put to torment. I said: Has Allah, the Exalted and Glorious, not said this: 'He will be made subject to an easy reckoning" (Ixxxiv. 8)? Thereupon he said: (What it implies) is not the actual reckoning, but only the presentation of one's deeds to Him. He who is thoroughly examined in reckoning is put to torment
اسماعیل بن علیہ نے ایوب سے انھوں نے عبد اللہ بن ابی ملیکہ سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت کے دن جس سے حساب لیا گیا وہ عذاب میں مبتلا! ہو گیا ۔ میں نے عرض کی ۔ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا : " عنقریب اس سے آسان حساب لیا جا ئے گا ؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ حساب نہیں وہ تو حساب کے لیے پیش ہونا ہے جس سے قیامت کے دن حساب کی پوچھ گچھ ہوئی اسے عذاب ( میں ڈال ) دیا جائے گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ حُوسِبَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عُذِّبَ " . فَقُلْتُ أَلَيْسَ قَدْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا} فَقَالَ " لَيْسَ ذَاكِ الْحِسَابُ إِنَّمَا ذَاكِ الْعَرْضُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عُذِّبَ " .
#7226
This hadith has been narrated on the authority of Ayyub with the same chain of transmitters
حماد بن زید نے کہا : ہمیں ایوب نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
#7227
A'isha reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Everyone who is reckoned thoroughly is undone. I said: Allah's Messenger, has Allah not called (reckoning) as easy reckoning? Thereupon he said.. It implies only presenta- tion of (one's deeds to Him), but if one is thoroughly examined in reckoning, he in fact is undone
ابو یونس قشیری نے ہمیں حدیث بیان کی کہا : ہمیں ابن ابی ملیکہ نے قاسم سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کا بھی حساب کتاب شروع ہو گیا وہ ہلاک ہو گیا ۔ " میں نے عرض کی ، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا : " آسان حساب ہوگا : ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ تو حساب کے لیے پیش ہونا ہے لیکن جس سے محاسبے میں پوچھ گچھ شروع ہو گئی وہ ہلاک ہو جا ئے گا ۔
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ - حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ الْقُشَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيْسَ أَحَدٌ يُحَاسَبُ إِلاَّ هَلَكَ " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ اللَّهُ يَقُولُ حِسَابًا يَسِيرًا قَالَ " ذَاكِ الْعَرْضُ وَلَكِنْ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ هَلَكَ " .
#7228
A'isha reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:He who is examined thoroughly In reckoning is undone
عثمان بن اسود نے ابن ابی ملیکہ سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس سے حساب میں پوچھ گچھ شروع ہوگئی وہ بلاک ہوجائے گا ۔ " پھر ابو یونس کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنْ عُثْمَانَ بْنِ، الأَسْوَدِ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ هَلَكَ " . ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي يُونُسَ .
#7229
Jabir reported:I heard Allah's Apostle (ﷺ) as saying three days before his death: None of you should court death but only hoping good from Allah
یحییٰ بن زکریا نے اعمش سے ، انھوں نےابو سفیان سے اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نےکہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی وفات سے تین دن پہلے یہ فرماتے ہوئے سنا : " تم میں سے ہر شخص کو اسی حالت میں موت آئے کہ وہ اللہ کے متعلق حسن ظن رکھتا ہو ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَبْلَ وَفَاتِهِ بِثَلاَثٍ يَقُولُ " لاَ يَمُوتَنَّ أَحَدُكُمْ إِلاَّ وَهُوَ يُحْسِنُ بِاللَّهِ الظَّنَّ " .
#7230
This hadith has been narrated on the authority of A'mash with the same chain of transmitters
جریر ، ابو معاویہ اورعیسیٰ بن یونس نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
#7231
Jabir b. 'Abdullah al-Ansari reported:I heard Allah's Messenger (ﷺ) say three days before his death: None of you should die but hoping only good from Allah, the Exalted and Glorious
ابوزبیر نے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی وفات سے تین دن پہلے یہ فرماتے ہوئے سنا : " تم میں سے کسی پر بھی موت نہ آئے مگر اس حالت میں کہ وہ اللہ عزوجل کے متعلق اچھا گمان رکھتا ہو ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ، سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، عَارِمٌ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ، مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا وَاصِلٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَبْلَ مَوْتِهِ بِثَلاَثَةِ أَيَّامٍ يَقُولُ " لاَ يَمُوتَنَّ أَحَدُكُمْ إِلاَّ وَهُوَ يُحْسِنُ الظَّنَّ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
#7232
Jabir reported:I heard Allah's Apostle (ﷺ) as saying. Every servant would be raised (in the same very state) in which he dies
جریر نے اعمش سے ، انھوں نے ابو سفیان سے اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " ہر شخص کو ( ایمان اور امید کی ) اسی کیفیت میں اٹھایا جائے گا جس پر اس کو موت آئی تھی ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " يُبْعَثُ كُلُّ عَبْدٍ عَلَى مَا مَاتَ عَلَيْهِ " .
#7233
This hadith has been transmitted on the authority of A'mash but with a slight variation of wording
سفیان نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ ، اسی کے مانند روایت کی اور کہا : " نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے " اوریہ نہیں کہا : میں نے ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ) سنا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَهُ وَقَالَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يَقُلْ سَمِعْتُ .
#7234
Abdullah b. Umar reported:I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: When Allah intends to chastise a people, He chastises all of them then they would be raised according to their deeds
حمزہ بن عبداللہ بن عمر نے بتایا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئےسنا؛ " جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو عذاب دینے کا ارادہ کرتاہے تو ہر شخص پر جو ان میں تھا ، عذاب آتا ہے ، اس کے بعد وہ اپنے اپنے اعمال کے مطابق اٹھائے جائیں گے ۔
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ أَخْبَرَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِقَوْمٍ عَذَابًا أَصَابَ الْعَذَابُ مَنْ كَانَ فِيهِمْ ثُمَّ بُعِثُوا عَلَى أَعْمَالِهِمْ " .
#7235
Zainab bint Jahsh reported that Allah's Apostle (ﷺ) got up from sleep saying:There is no being worthy of worship except Allah; there is a destruction in store for Arabia because of turmoil which is at hand, the barrier of Gog and Magog has opened so much. And Sufyan made a sign of ten with the help of his hand (in order to indicate the width of the gap) and I said: Allah's Messenger, would we be perished in spite of the fact that there would be good people amongst us? Thereupon he said: Of course, but only when the evil predominates
عمرو ناقد نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان بن عینیہ نے زہری سے حدیث بیان کی ، انھوں ن ے عروہ سے ، انھوں نے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ، انھوں نے حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اور انھوں نے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نیند سے بیدار ہوئے جبکہ آپ فرمارہے تھے : "" اللہ کے سواکوئی سچا معبود نہیں ، عرب اس شر کی وجہ سے ہلاک ہوگئے جو قریب آپہنچا ہے ۔ آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں سے اس قدر جگہ کھل گئی ہے ۔ "" اور سفیان نے اپنے ہاتھ سے دس کا اشارہ بنایا ۔ ( حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : میں نے عرض کی : ہم میں نیک لوگ موجود ہوں گے ، پھر بھی ہم ہلاک ہوجائیں گے؟فرمایا؛ "" ہاں جب شر اور گندگی زیادہ ہوجائے گی ۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ، بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اسْتَيْقَظَ مِنْ نَوْمِهِ وَهُوَ يَقُولُ " لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ " . وَعَقَدَ سُفْيَانُ بِيَدِهِ عَشَرَةً . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ قَالَ " نَعَمْ إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ " .
#7236
This hadith has been narrated on the authority of Zainab bint Jahsh with a slight variation in the chain of transmitters
ابو بکر بن ابی شیبہ ، سعید بن عمرو اشعشی ، زہیر بن حرب اور ابن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں سفیان نے زہری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور انھوں نے سفیان سے بیان کردہ روایت کی سند میں مزید کہا : زینب بنت ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حبیبہ سے ، انھوں نے ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اور انھوں نے زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَسَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ، أَبِي عُمَرَ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . وَزَادُوا فِي الإِسْنَادِ عَنْ سُفْيَانَ، فَقَالُوا عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ حَبِيبَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، .
#7237
Zainab bint Jahsh, the wife of Allah's Apostle (ﷺ), reported that one day Allah's Messenger (ﷺ) came out in a state of excitement with his face quite red. And he was saying:There is no god but Allah; there is a destruction in store for Arabia because of the turmoil which is near at hand as the barrier of Gog and Magog has been opened like it, and he (in order to explain it) made a ring with the help of his thumb and forefinger. I said: Allah's Messenger, would we be destroyed despite the fact that there would be pious people amongst us? He said: Yes, when evil would be predominant
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے بتایا کہ انھیں زینب بنت ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خبر دی کہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنت ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا ۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبراہٹ کے عالم میں سرخ چہرے کے ساتھ ( خواب گاہ سے ) نکلے ۔ آپ فرمارہے تھے : "" اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں عرب اسی شر کی وجہ سے ہلاک ہوگئے جو اب قریب آپہنچا ہے ۔ آج یاجوج ماجوج کی دیوار اس قدر کھل گئی ہے ۔ "" اور آپ نے شہادت کی انگلی اور انگوٹھے کو ملا کر حلقہ بنایا ۔ ( حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : تو میں نے عرض کی ہم میں نیک لوگ موجود ہوں ، یا پھر بھی ہم ہلاک ہوجائیں گے "" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ہاں ، جب شر اورگندگی زیادہ ہوجائے گی ۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا فَزِعًا مُحْمَرًّا وَجْهُهُ يَقُولُ " لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ " . وَحَلَّقَ بِإِصْبَعِهِ الإِبْهَامِ وَالَّتِي تَلِيهَا . قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ قَالَ " نَعَمْ إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ " .
#7238
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with a different chain of transmitters
عقیل بن خالد اور صالح دونوں نے ابن شہاب ( زہری ) سے یونس کی زہری سے حدیث کے مطابق اور اسی کی سند سے بیان کیا ۔
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ، خَالِدٍ ح وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِإِسْنَادِهِ .
#7239
Abu Huraira reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Today the wall (barrier) of Gog and Magog has been opened so much, and Wuhaib (in order to explain it) made the figure of ninety with the help of his hand
احمد بن اسحاق نے کہا : ہمیں وہیب نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں عبداللہ بن طاوس نے ا پنے والد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابو ہریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " آج یاجوج ماجوج کی دیوار اتنی کھل گئی ہے ۔ " وہیب نے اپنی انگلی سے نوے کا نشان بنایا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ، اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ " . وَعَقَدَ وُهَيْبٌ بِيَدِهِ تِسْعِينَ .
#7240
Harith b Abi Rabi'a and 'Abdullah b. Safwan both went to Umm Salama, the Mother of the Faithful, and they asked her about the army which would be sunk in the earth, and this relates to the time when Ibn Zubair (was the governor of Mecca). She reported that Allah's Messenger (ﷺ) had said that a seeker of refuge would seek refuge in the Sacred House and an army would be sent to him (in order to kill him) and when it would enter a plain ground, it would be made to sink. I said:Allah's Messenger, what about him who would be made to accompany this army willy nilly? Thereupon he said: He would be made to sink along with them but he would be raised on the Day of Resurrection on the basis of his intention. Abu Ja'far said. ' This plain, ground means the plain ground of Medina
جریر نے عبدالعزیز بن رفیع سے اور انھوں نے عبداللہ بن قبطیہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حارث بن ابی ربیعہ ، عبداللہ بن صفوان اور میں بھی ان کے ساتھ تھا ۔ ہم ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ان دونوں نے اُن سے اس لشکر کےمتعلق سوال کیا جس کو زمین میں دھنسا دیاجائے گا ، یہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( کی خلافت ) کا زمانہ تھا ۔ ( ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ٓ ) نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : "" ایک پناہ لینے والا بیت اللہ میں پناہ لے گا ، اس کی طرف ایک لشکر بھیجاجائےگا ، جب وہ لوگ زمین کے بنجر ہموارحصے میں ہوں گے تو ان کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا ۔ "" میں نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !جو مجبور ان کے ساتھ ( شامل ) ہوگا اس کا کیا بنے گا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" اسے بھی ان کے ساتھ دھنسا دیا جائے گاالبتہ قیامت کے دن اس کو اس کی نیت کے مطابق اٹھایا جائے گا ۔ "" اور ابو جعفر نے کہا : یہ مدینہ ( کے قریب ) کا چٹیل حصہ ہوگا ( جہاں ان کو دھنسا یا جائے گا ۔)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ، قَالَ دَخَلَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ وَأَنَا مَعَهُمَا، عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فَسَأَلاَهَا عَنِ الْجَيْشِ الَّذِي يُخْسَفُ بِهِ وَكَانَ ذَلِكَ فِي أَيَّامِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَقَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَعُوذُ عَائِذٌ بِالْبَيْتِ فَيُبْعَثُ إِلَيْهِ بَعْثٌ فَإِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ " . فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ بِمَنْ كَانَ كَارِهًا قَالَ " يُخْسَفُ بِهِ مَعَهُمْ وَلَكِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى نِيَّتِهِ " . وَقَالَ أَبُو جَعْفَرٍ هِيَ بَيْدَاءُ الْمَدِينَةِ .
#7241
This hadith has been narrated on the authority of 'Abdullah b. Rufai, with the same chain of transmitters (but with the addition of these words):" When I met Abu Ja'far I told him that she (simply) meant the plain ground. Thereupon Abu Ja'far said: No, by God, she meant the plain ground of Medina
عبدالعزیز بن رفیع نے ہمیں اسی سند کےساتھ حدیث بیان کی اور ان کی حدیث میں ہے : ( ابن قبطیہ نے ) کہا : تو میں ابو جعفر سے ملا ، میں نے کہا : انھوں ( ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے تو زمین کا ایک چٹیل میدان کہا تھا ۔ توابو جعفر نے کہا : ہرگز نہیں ، اللہ کی قسم! وہ مدینہ کا چٹیل حصہ ہے ۔
حَدَّثَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِ قَالَ فَلَقِيتُ أَبَا جَعْفَرٍ فَقُلْتُ إِنَّهَا إِنَّمَا قَالَتْ بِبَيْدَاءَ مِنَ الأَرْضِ فَقَالَ أَبُو جَعْفَرٍ كَلاَّ وَاللَّهِ إِنَّهَا لَبَيْدَاءُ الْمَدِينَةِ .
#7242
Abdullah b. Safwan reported that Hafsa told him that she had heard Allah's Apostle (ﷺ) as saying:An army would attack this House in order to fight against the inhabitants of this House and when it would be at the plain ground the ranks in the centre of the army would be sunk and the vanguard would call the rear flanks of the army and they would also be sunk and no flank would be left except some people who would go to inform them (their kith and kin). A person (who had been listening to this hadith from Abdullah b. Safwan) said: I bear testimony in regard to you that you are not imputing a lie to Hafsa. And I bear testimony to the fact that Hafsa is not telling a lie about Allah's Apostle (ﷺ)
امیہ بن صفوان سے روایت ہے ، انھوں نے اپنے داداعبداللہ بن صفوان کو کہتے ہوئے سنا کہ مجھے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : "" ایک لشکر ( اللہ کے ) اس گھر کے خلاف جنگ کرنے کے لئے اس کا رخ کرےگا یہاں تک کہ جب وہ زمین کے چٹیل حصے میں ہوں گے تو ان کے درمیان والے حصے کو ( زمین میں ) دھنسا دیا جائے گا ان میں سے ایک علیحدہ رہ جانے والے شخص کےسوا ، جو ان کے بارے میں خبر دے گا اور کوئی ( زندہ ) باقی نہیں بچے گا ۔ "" تو ایک شخص نے ( ان کی بات سن کر ) کہا : میں تمہارے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ تم نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر جھوٹ نہیں باندھا اور میں ( یہ بھی ) گواہی دیتاہوں کہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جھوٹ نہیں کہا ۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، - وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ، عُيَيْنَةَ عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ، سَمِعَ جَدَّهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ صَفْوَانَ، يَقُولُ أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لَيَؤُمَّنَّ هَذَا الْبَيْتَ جَيْشٌ يَغْزُونَهُ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الأَرْضِ يُخْسَفُ بِأَوْسَطِهِمْ وَيُنَادِي أَوَّلُهُمْ آخِرَهُمْ ثُمَّ يُخْسَفُ بِهِمْ فَلاَ يَبْقَى إِلاَّ الشَّرِيدُ الَّذِي يُخْبِرُ عَنْهُمْ " . فَقَالَ رَجُلٌ أَشْهَدُ عَلَيْكَ أَنَّكَ لَمْ تَكْذِبْ عَلَى حَفْصَةَ وَأَشْهَدُ عَلَى حَفْصَةَ أَنَّهَا لَمْ تَكْذِبْ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
#7243
Abdullah b. Safwan reported the Mother of the Faithful as saying that Allah's Messenger (ﷺ) said:They would soon seek protection in this House, viz. Ka'ba (the defenceless), people who would have nothing to protect themselves in the shape of weapons or the strength of the people. An army would be sent to fight (and kill) them and when they would enter a plain ground the army would be sunk in it. Yusuf (one of the narrators) said: It was a people of Syria (hordes of Hajjaj) who had been on that day coming towards Mecca for an attack (on 'Abdulllah b. Zubair) and Abdullah b. Safwan said: By God, it does not imply this army
عبیداللہ بن عمرو نے کہا : ہمی زید بن ابی اُنیسہ نے عبدالملک عامری سے خبر دی ، انھوں نے یوسف بن مالک سے روایت کی ، کہا : مجھے عبداللہ بن صفوان نے ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ایک قوم اس گھر ۔ ۔ ۔ یعنی کعبہ ۔ ۔ ۔ میں پناہ لے گی ، ا ن کے پاس نہ اپنا دفاع کرنے کےلیے کوئی ذریعہ ہوگا ، نہ عدوی قوت ہوگی اور نہ سامان جنگ ہی ہوگا ، ان کی طرف ایک لشکر روانہ کیا جائے گا ۔ یہاں تک کہ جب وہ ( لشکر کے ) لوگ زمین کے ایک چٹیل حصے میں ہوں گے تو ان کو ( زمین میں ) دھنسا دیا جائےگا ۔ "" یوسف ( بن مابک ) نے کہا : ان دونوں اہل شام مکہ کی طرف بڑھے آرہے تھے ، تو عبداللہ بن صفوان نے کہا : دیکھو ، اللہ کی قسم!یہ وہ لشکر نہیں ہے ۔ زید ( بن ابی انیسہ ) نے کہا : اور مجھے عبدالملک عامری نے عبدالرحمان بن سابط سے ، انھوں نے حارث بن ابی ربیعہ سے ، انھوں نے ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ، یوسف بن مابک کی حدیث کے مانند روایت کی ، مگر انھوں نے اس میں اس لشکر کی بات نہیں کی جس کا عبداللہ بن صفوان نے ذکر کیا ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ، عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ الْعَامِرِيِّ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " سَيَعُوذُ بِهَذَا الْبَيْتِ - يَعْنِي الْكَعْبَةَ - قَوْمٌ لَيْسَتْ لَهُمْ مَنَعَةٌ وَلاَ عَدَدٌ وَلاَ عُدَّةٌ يُبْعَثُ إِلَيْهِمْ جَيْشٌ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ " . قَالَ يُوسُفُ وَأَهْلُ الشَّأْمِ يَوْمَئِذٍ يَسِيرُونَ إِلَى مَكَّةَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ أَمَا وَاللَّهِ مَا هُوَ بِهَذَا الْجَيْشِ . قَالَ زَيْدٌ وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ الْعَامِرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنِ الْحَارِثِ، بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، . بِمِثْلِ حَدِيثِ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ الْجَيْشَ الَّذِي ذَكَرَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ .
#7244
A'isha reported that Allah's Messenger (ﷺ) was startled in the state of sleep. We said:Allah's Messenger, you have done something in the state of your sleep which you never did before, Thereupon he said: Strange it is that some people of my Ummah would attack the House (Ka'ba) (for killing) a person who would belong to the tribe of the Quraish and he would try to seek protection in the House. And when they would reach the plain ground they would be sunk. We said: Allah's Messenger, all sorts of people throng the path. Thereupon he said: Yes, there would be amongst them people who would come with definite designs and those who would come under duress and there would be travellers also, but they would all be destroyed through one (stroke) of destruction. though they would be raised in different states (on the Day of Resurrection). Allah would, however, raise them according to their intention
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیند کے دوران ( اضطراب کے عالم ) میں اپنے ہاتھ کو حرکت دی تو ہم نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے نیند میں کچھ ایسا کیا جو پہلےآپ نہیں کیا کر تے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ عجیب بات ہے کہ ( آخری زمانےمیں ) میری امت میں سے کچ لوگ بیت اللہ کی پناہ لینے والے قریش کے ایک آدمی کے خلاف ( کاروائی کرنے کے لیے ) بیت اللہ کا رخ کریں گے یہاں تک کہ جب وہ چٹیل میدان حصے میں ہوں گے تو انھیں ( زمین میں ) دھنسا دیا جائے گا ۔ " ہم نے عرض کی ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! راستہ تو ہرطرح کے لوگوں کے لیے ہوتا ہے ۔ آپ نے فرمایا : " ہاں ، ان میں سے کوئی اپنی مہم سے آگاہ ہوگا ، کوئی مجبور اور کوئی مسافر ہوگا ۔ وہ سب اکھٹے ہلاک ہوں گے اور ( قیامت کے روز ) واپسی کے مختلف راستوں پر نکلیں گے اللہ انھیں ان کی نیتوں کے مطابق اٹھائے گا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ، الْحُدَّانِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ عَبِثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَنَامِهِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَنَعْتَ شَيْئًا فِي مَنَامِكَ لَمْ تَكُنْ تَفْعَلُهُ . فَقَالَ " الْعَجَبُ إِنَّ نَاسًا مِنْ أُمَّتِي يَؤُمُّونَ بِالْبَيْتِ بِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ قَدْ لَجَأَ بِالْبَيْتِ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ خُسِفَ بِهِمْ " . فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الطَّرِيقَ قَدْ يَجْمَعُ النَّاسَ . قَالَ " نَعَمْ فِيهِمُ الْمُسْتَبْصِرُ وَالْمَجْبُورُ وَابْنُ السَّبِيلِ يَهْلِكُونَ مَهْلَكًا وَاحِدًا وَيَصْدُرُونَ مَصَادِرَ شَتَّى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ عَلَى نِيَّاتِهِمْ " .
#7245
Usama reported that Allah's Messenger (ﷺ) climbed up a battlement amongst the battlements of Medina and then said:You do not see what I am seeing and I am seeing the places of turmoil between your houses as the places of rainfall
سفیان بن عینیہ نے زہری سے ، انھوں نے عروہ سے اور انھوں نے حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے قلعوں میں سے ایک قلعے ( اونچی محفوظ عمارت ) پر چڑھے ، پھر فرمایا : " کیا تم ( بھی ) دیکھتے ہو جو میں دیکھ رہا ہوں؟میں تمہارے گھروں میں فتنوں کے واقع ہونے کے مقامات بارش ٹپکنے کے نشانات کی طرح ( بکثرت اور واضح ) دیکھ رہا ہوں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِي شَيْبَةَ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أُسَامَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَشْرَفَ عَلَى أُطُمٍ مِنْ آطَامِ الْمَدِينَةِ ثُمَّ قَالَ " هَلْ تَرَوْنَ مَا أَرَى إِنِّي لأَرَى مَوَاقِعَ الْفِتَنِ خِلاَلَ بُيُوتِكُمْ كَمَوَاقِعِ الْقَطْرِ " .
#7246
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
#7247
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There will be soon a period of turmoil in which the one who sits will be better than one who stands and the one who stands will be better than one who walks and the one who walks will be better than one who runs. He who would watch them will be drawn by them. So he who finds a refuge or shelter against it should make it as his resort
ابن مسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمان نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " عنقریب فتنے ہوں گے ، ان میں بیٹھا رہنے والا کھڑے رہنے والے سے بہتر ہوگا اور ان میں کھڑا ہونے والا چلنے و الے سے بہتر ہوگااور ان میں چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا جو ان کی طرف جھانکے گا بھی وہ اسے اوندھا کردیں گے اور جس کو ان ( کے دوران ) میں کوئی پناہ گاہ مل جائے وہ اس کی پناہ حاصل کرلے ۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَالْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنِي وَقَالَ، الآخَرَانِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " سَتَكُونُ فِتَنٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي مَنْ تَشَرَّفَ لَهَا تَسْتَشْرِفُهُ وَمَنْ وَجَدَ فِيهَا مَلْجَأً فَلْيَعُذْ بِهِ " .
#7248
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Huraira but with this variation of wording that in the hadith transmitted on the authority of Abu Bakr, there is an addition of these words:" There is a prayer among prayers ('Asr) and one who misses it is as if his family and property have been ruined
ابو بکر بن عبدالرحمان نے عبدالرحمان بن مطیع بن اسودسے ، انھوں نے نوفل بن معاویہ سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اسی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ، البتہ ابو بکر نے مزید کہا ہے : " نمازوں میں ایک نماز ایسی ہے جس کی وہ ( نماز ) فوت ہوگئی تو گویا اس کا اہل اور مال ( سب کچھ ) تباہ ہوگیا ۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَالْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنِي وَقَالَ، الآخَرَانِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُطِيعِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ نَوْفَلِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، . مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ هَذَا إِلاَّ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، يَزِيدُ " مِنَ الصَّلاَةِ صَلاَةٌ مَنْ فَاتَتْهُ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ " .
#7249
Abu Huraira reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:There would be turmoil and the one who would sleep would be better than who would be awake and the one who would be awake would be better than one who would stand and one who would stand would be better than one who would run. So he who finds refuge or shelter should take that refuge or shelter
ابراہیم بن سعد کے والد نے ابو سلمہ سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا ہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایسا فتنہ ( برپا ہوگا ) جس میں سونے والا جاگنے والےسے بہتر ہوگا اور اس میں جاگنے والے سے بہتر ہوگا اور اس میں جاگنے والا ( اٹھ ) کھڑے ہو جانے والے سے بہتر ہوگا اور اس میں کھڑا ہوجانے والا دوڑنے والے سےبہتر ہوگا جس کو بچنے کی جگہ یاکوئی پناہ گاہ مل جائے تو وہ ( اس کی ) پناہ حاصل کرے ۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " تَكُونُ فِتْنَةٌ النَّائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْيَقْظَانِ وَالْيَقْظَانُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي فَمَنْ وَجَدَ مَلْجَأً أَوْ مَعَاذًا فَلْيَسْتَعِذْ " .