#500
Anas reported:Verily, a person said: Messenger of Allah, where is my father? He said: (He) is in the Fire. When he turned away, he (the Holy Prophet) called him and said: Verily my father and your father are in the Fire
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! میرا باپ کہاں ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ آگ میں ۔ ‘ ‘ پھر جب وہ پلٹ گیا توآپ نے اسے بلا کر فرمایا : ’’ بلاشبہ میراباپ اور تمہارا باپ آگ میں ہیں ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلاً، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ أَبِي قَالَ " فِي النَّارِ " . فَلَمَّا قَفَّى دَعَاهُ فَقَالَ " إِنَّ أَبِي وَأَبَاكَ فِي النَّارِ " .
#501
Abu Huraira reported:When this verse was revealed:" And warn thy nearest kindred (al-Qur'an, xxvi. 214), the Messenger of Allah (ﷺ) called the Quraish; so they gathered and he gave them a general warning. Then he made a particular (reference to certain tribes) and said: O sons of Ka'b b. Luwayy, rescue yourselves from the Fire; O sons of Murra b. Ka'b, rescue yourselves from the Fire: O sons of Abd Shams, rescue yourselves from the Fire; 0 sons of Abd Manaf rescue yourselves from the Fire; O sons of Hashim, rescue yourselves from the Fire; 0 sons of Abd al-Muttalib, rescue yourselves from the Fire; O Fatimah, rescue thyself from the Fire, for I have no power (to protect you) from Allah in anything except this that I would sustain relationship with you
جریر نےعبد الملک بن عمیر سے حدیث سنائی ، انہوں نے موسیٰ بن طلحہ اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جب یہ آیت اتری : ’’اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈائیے ‘ ‘ تو رسول اللہ ﷺ نے قریش کو بلایا ۔ جب وہ جمع ہو گئے تو آپ نے عمومی حیثیت سے ( سب کو ) اور خاص کر کے ( الگ خاندانوں اور لوگوں کے ان کے نام لے لے کر ) فرمایا : ’’اے کعب بن لؤی کی اولاد! اپنے آپ کو آگ سے بچالو ، اے مرہ بن کعب کی اولاد! اپنے آپ کو آگ سے بچالو ، اے عبدمناف کی اولاد! اپنے آپ کو آگ سے بچالو ، اے بنو ہاشم کی اولاد! اپنے آپ کو آگ سے بچالو ، اے عبد المطلب کی اولاد! اپنےآپ کو آگ سے بچالو ، اے فاطمہ ( ینت رسول اللہﷺ ) ! اپنے آپ کو آگ سے بچالو ، میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ( کسی مؤاخذے کی صورت میں ) تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا ، تم لوگوں کے ساتھ رشتہ ہے ، اسے میں اسی طرح جوڑتا رہوں گا جس طرح جوڑنا چاہیے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَمَّا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ} دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُرَيْشًا فَاجْتَمَعُوا فَعَمَّ وَخَصَّ فَقَالَ " يَا بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَىٍّ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا بَنِي مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا بَنِي هَاشِمٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا فَاطِمَةُ أَنْقِذِي نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ فَإِنِّي لاَ أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّ لَكُمْ رَحِمًا سَأَبُلُّهَا بِبَلاَلِهَا " .
#502
The same hadith is narrated by Ubaidallah b. Umar al-Qawariri from Abu 'Uwana, who transmitted it to 'Abd al-Malik b. 'Umair on the same chain of transmitter and the hadith of Jarir is more perfect and comprehensive
عبدالملک سے ( جریر کے علاوہ ) ابوعوانہ نے بھی یہ حدیث اسی سند کے ساتھ بیان کی ۔ لیکن جریر کی روایت زیادہ مکمل اور سیر حاصل ہے ۔
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَحَدِيثُ جَرِيرٍ أَتَمُّ وَأَشْبَعُ .
#503
It is narrated on the authority of 'A'isha that when this verse was revealed:" And warn thy nearest kindred," the Messenger of Allah (ﷺ) stood up on Safa' and said: O Fatima, daughter of Muhammad. O Safiya, daughter of 'Abd al-Muttalib, O sons of 'Abd al-Muttalib. I have nothing which can avail you against Allah; you may ask me what you want of my worldly belongings
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ جب آیت : ’’ اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے ‘ ‘ نازل ہوئی تو رسو ل ا للہﷺ نے صفا پہاڑ پر کھڑے ہو کر فرمایا : ’’ اے محمد ( ﷺ ) کی بیٹی فاطمہ ! اے عبد المطلب کی بیٹی صفیہ ! اے عبدالمطلب کی اولاد! میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا ۔ ( ہاں! ) میرے مال میں سے جوچاہو مجھ سے مانگ لو ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَيُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتْ { وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ} قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الصَّفَا فَقَالَ " يَا فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ يَا صَفِيَّةُ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لاَ أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمْ " .
#504
Abu Huraira reported:When (this verse) was revealed to him:" Warn your nearest kinsmen." the Messenger of Allah (ﷺ) said: O people of Quraish, buy yourselves from Allah, I cannot avail you at all against Allah; O sons of Abd al-Muttalib. I cannot avail you at all against Allah; 0 Abbas b. 'Abd al- Muttalib, I cannot avail you at all against Allah; O Safiya (aunt of the Messenger of Allah), I cannot avail you at all against Allah; 0 Fatima, daughter of Muhammad, ask me whatever you like, but I cannot avail you at all against Allah
ابن مسیب اور ابوسلمہ بن عبد الرحمن نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہاکہ جب رسول اللہ ﷺ پر یہ آیت اتاری گئی : ’’ اور اپنے قریبی رشتہ داروں کوڈرائیں ‘ ‘ تو آپ نے فرمایا : ’’ اے قریش کےلوگو!اپنی جانوں کو اللہ تعالیٰ سے خرید لو ، میں اللہ تعالیٰ کے ( فیصلے کے ) سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آسکتا ، اے عبد المطلب کے بیٹے عباس! میں اللہ کے ( فیصلے کے ) سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آ سکتا ، اے اللہ کے رسول کی پھوپھی صفیہ ! میں اللہ کے ( فیصلے کے ) سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آ سکتا ، اے اللہ کےرسول کے بیٹی فاطمہ ! مجھ سے ( میرے مال میں سے ) جو چاہو مانگ لو ، میں اللہ کے ( فیصلےکے ) سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آ سکتا ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ أُنْزِلَ عَلَيْهِ { وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ} " يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ لاَ أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لاَ أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا يَا عَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لاَ أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا يَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ لاَ أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ سَلِينِي بِمَا شِئْتِ لاَ أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا " .
#505
This hadith is narrated from the Apostle (ﷺ) by another chain of narrators, 'Amr al-Naqid, Mu'awiya b. 'Amr, Abdullah b. Dhakwan, A'raj on the authority of Abu Huraira
ایک اور سند سے اعرج نےحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے اسی طرح روایت کی ۔
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ذَكْوَانَ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ هَذَا .
#506
Qabisa b. al-Mukhariq and Zuhair b. 'Amr reported:When this verse was revealed:" And warn thy nearest kindred," the Messenger of Allah (ﷺ) set off towards a rock of the hill and ascended the highest of the rocks and then called: 0 sons of 'Abd Manaf! I am a warner; my similitude and your similitude is like a man who saw the enemy and went to guard his people, but, being afraid they might get there before him, he shouted: Be on your guard
یزید بن زریع نے ( سلیمان ) تیمی سے ، انہوں نے ابو عثمان کے واسطے سے حضرت قبیصہ بن مخارق اور حضرت زہیر بن عمرو رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، دونوں نےکہا کہ جب آیت : ’’ اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے ‘ ‘ اتری ، کہا : تو اللہ کے نبی ﷺ ایک پہاڑی چٹان کی طرف تشریف لے گئے اور اس کے سب سے اونچے پتھروں والے حصے پر چڑھے ، پھر آواز دی : ’’ اے عبد مناف کی اولاد! میں ڈرانے والا ہوں ، میری اور تمہاری مثال اس آدمی کی ہے جس نے دشمن کو دیکھا تو وہ خاندان کو بچانے کے لیے چل پڑا اور اسے خطرہ ہوا کہ دشمن اس سے پہلے نہ پہنچ جائے تووہ بلند آواز سے پکارنے لگاؤ : وائے اس کی صبح ( کی تباہی! ) ‘ ‘
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ، وَزُهَيْرِ بْنِ عَمْرٍو، قَالاَ لَمَّا نَزَلَتْ { وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ} قَالَ انْطَلَقَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى رَضْمَةٍ مِنْ جَبَلٍ فَعَلاَ أَعْلاَهَا حَجَرًا ثُمَّ نَادَى " يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافَاهْ إِنِّي نَذِيرٌ إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ رَأَى الْعَدُوَّ فَانْطَلَقَ يَرْبَأُ أَهْلَهُ فَخَشِيَ أَنْ يَسْبِقُوهُ فَجَعَلَ يَهْتِفُ يَا صَبَاحَاهْ " .
#507
This hadith is narrated from the Messenger of Allah (ﷺ) by another chain of narrators, Muhammad b. Abd al-A'la, Mu'tamir, Abu 'Uthman, Zuhair b. 'Amr, Qabisa b. Mukhariq
(یزید بن زریع کے بجائے ) معتمر نے اپنے والد ( سلیمان ) کے حوالے سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ عَمْرٍو، وَقَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِهِ .
#508
It is reported on the authority of Ibn 'Abbas that when this verse was revealed:" And warn thy nearest kindred" (and thy group of selected people among them) the Messenger of Allah (ﷺ) set off till he climbed Safa' and called loudly: Be on your guard! They said: Who is it calling aloud? They said: Muhammad. They gathered round him, and he said: O sons of so and so, O sons of so and so, O sons of 'Abd Manaf, O sons of 'Abd al-Muttalib, and they gathered around him. He (the Apostle) said: If I were to inform you that there were horsemen emerging out of the foot of this mountain, would you believe me? They said: We have not experienced any lie from you. He said: Well, I am a warner to you before a severe torment. He (the narrator) said that Abu Lahab then said: Destruction to you! Is it for this you have gathered us? He (the Holy Prophet) then stood up, and this verse was revealed:" Perish the hands of Abu Lahab, and he indeed perished" (cxi. 1). A'mash recited this to the end of the Sura
ابو اسامہ نے اعمش سے حدیث سنائی ، انہوں نے عمرو بن مرہ سے ، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جب یہ آیت اتری : ’’ اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے ‘ ‘ ( خاص کر ) اپنے خاندان کے مخلص لوگوں کو ۔ تو رسول اللہ ﷺ ( گھر سے ) نکلے یہاں تک کہ کوہ صفا پر چڑھ گئے اور پکار کر کہا : ’’وائے اس کی صبح ( کی تباہی ) ِِ ( سب ایک دوسرے سے ) پوچھنے لگے : یہ کون پکا رہا ہے ؟ ( کچھ ) لوگوں نے کہا : محمدﷺ ، چنانچہ سب لوگ آپ کے پاس جمع ہو گئے ۔ آپ نے فرمایا : ’’ اے فلاں کی اولاد! اے فلاں کی اولاد ! اے عبدمناف کی اولاد! اے عبد المطلب کی اولاد! ‘ ‘ یہ لوگ آپ کےقریب جمع ہو گئے تو آپ نے پوچھا : ’’تمہارا کیا خیال ہے ہے کہ اگر میں تمہیں خبر دوں کہ اس پہاڑ کے دامن سے گھڑ سوار نکلنے والے ہیں تو کیا تم میری تصدیق کروگے؟ ‘ ‘ انہوں نے کہا : ہمیں آپ سے کبھی جھوٹی بات ( سننے ) کا تجربہ نہیں ہوا ۔ آپ نے فرمایا : ’’تو میں تمہیں آنےوالے شدید عذاب سے ڈرا رہا ہوں ۔ ‘ ‘ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : تو ابولہب کہنے لگا : تمہارے لیے تباہی ہو ، کیا تم نے ہمیں اسی بات کے لیے جمع کیا تھا؟ پھر وہ اٹھ گیا ۔ اس پر یہ سورت نازل ہوئی : ’’ابولہب کے دونوں ہاتھ تباہ ہوئے اور وہ خود ہلاک ہوا ۔ ‘ ‘ اعمش نے اسی طرح سورت کے آخر تک پڑھا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ} وَرَهْطَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ . خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى صَعِدَ الصَّفَا فَهَتَفَ " يَا صَبَاحَاهْ " . فَقَالُوا مَنْ هَذَا الَّذِي يَهْتِفُ قَالُوا مُحَمَّدٌ . فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ فَقَالَ " يَا بَنِي فُلاَنٍ يَا بَنِي فُلاَنٍ يَا بَنِي فُلاَنٍ يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ " فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ فَقَالَ " أَرَأَيْتَكُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلاً تَخْرُجُ بِسَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ أَكُنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ " . قَالُوا مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ كَذِبًا . قَالَ " فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَىْ عَذَابٍ شَدِيدٍ " . قَالَ فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ تَبًّا لَكَ أَمَا جَمَعْتَنَا إِلاَّ لِهَذَا ثُمَّ قَامَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَقَدْ تَبَّ . كَذَا قَرَأَ الأَعْمَشُ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ .
#509
This hadith was narrated by A'mash on the authority of the same chain of narrators and he said:One day the Messenger of Allah (ﷺ) climbed the hill of Safa' and said: Be on your guard, and the rest of the hadith was narrated like the hadith transmitted by Usama; he made no mention of the revelation of the verse:" Warn thy nearest kindred
اعمش شے ( ابو اسامہ کے بجائے ) ابو معاویہ نے اسی ( سابقہ ) سند کے ساتھ بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن کوہ صفا پر چڑھے اور فرمایا : ’’ وائے اس کی صبح ( کی تباہی! ) ‘ ‘ اس کے بعد ابو اسامہ کی بیان کر دہ حدیث کی طرح روایت کی اورآیت : ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ اترنے کا ذکر نہیں کیا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ الصَّفَا فَقَالَ " يَا صَبَاحَاهْ " . بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ وَلَمْ يَذْكُرْ نُزُولَ الآيَةِ { وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ}
#510
It is reported on the authority of 'Abbas b. Abd al-Muttalib that he said:Messenger of Allah, have you benefited Abu Talib in any way for he defended you and was fervent in your defence? The Messenger of Allah (may peace he upon him) said: Yes; he would be in the most shallow part of the Fire and were not for me, he would have been in the bottom-most depth of Hell
ابو عوانہ نے عبدالملک بن عمیر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبداللہ بن حارث بن نوفل سے اور انہوں نے حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت کہ انہوں نے کہا : اے اللہ کےرسول! کیا آپ نے ابو طالب کو کچھ نفع پہنچایا؟ وہ ہر طرف سے آپ کا دفاع کرتے تھے اور آپ کی خاطر غضب ناک ہوتے تھے ۔ آپ نےجواب دیا : ’’ہاں ، وہ کم گہری آگ میں ہیں ( جو ٹخنوں تک آتی ہے ) اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوتے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرِ الْمُقَدَّمِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الأُمَوِيُّ، قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَفَعْتَ أَبَا طَالِبٍ بِشَىْءٍ فَإِنَّهُ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَغْضَبُ لَكَ قَالَ " نَعَمْ هُوَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ وَلَوْلاَ أَنَا لَكَانَ فِي الدَّرْكِ الأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ " .
#511
Abdullah b. al-Harith reported:I heard Abbas say: I said: Messenger of Allah, verily Abu Talib defended you and helped you; would it be beneficial for him? He (the Holy Prophet) said: Yes; I found him in the lowest part of the Fire and I brought him to the shallow part
سفیان ( بن عیینہ ) نے عبد الملک بن عمیر سے حدیث سنائی ، انہوں نے عبد اللہ بن حارث سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! ابو طالب ہر طرف سے آپ کی حفاظت کرتے تھے ، آپ کی مدد کرتے تھے اور آپ کی خاطر ( مخالفین پر ) غصہ کرتے تھے توکیا اس سے ان کو کچھ نفع ہوا؟ آپ نے فرمایا : ’’ہاں ، میں نے ان کو آگ کی اتھاہ گہرائیوں میں پایا تو ان کم گہری آگ تک نکال لایا ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ، يَقُولُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا طَالِبٍ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَنْصُرُكَ فَهَلْ نَفَعَهُ ذَلِكَ قَالَ " نَعَمْ وَجَدْتُهُ فِي غَمَرَاتٍ مِنَ النَّارِ فَأَخْرَجْتُهُ إِلَى ضَحْضَاحٍ " .
#512
This hadith is narrated from the Apostle (ﷺ) like one narrated by Abu 'Uwana on the authority of the chain of transmitters like Muhammad b. Hatim, Yahya b. Sa'id, Abu Sufyan, 'Abbas b. 'Abd al-Muttalib and others
سفیان ( ثوری ) نے اسی سند کے ساتھ نبیﷺ سے اسی طرح حدیث بیان کی ابو عوانہ نے بیان کی ۔
وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ أَخْبَرَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ .
#513
Abu Sa'id al-Khudri reported:A mention was made of his uncle Abu Talib before the Messenger of Allah (ﷺ) He said: My intercession may benefit him on the Day of Resurrection and he may be placed in the shallow part of the Fire which would reach his ankles and his brain would be boiling
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کےسامنے آپ کے چچا ابو طالب کا تذکرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا : ’’امید ہے قیامت کے دن میری سفارش ان کو نفع دے گی اور انہیں اتھلی ( کم گہری ) آ گ میں ڈالا جائے گا جو ( بمشکل ) ان کے ٹخنوں تک پہنچتی ہو گی ، اس سے ( بھی ) ان کا دماغ کھولے گا ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذُكِرَ عِنْدَهُ عَمُّهُ أَبُو طَالِبٍ فَقَالَ " لَعَلَّهُ تَنْفَعُهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُجْعَلُ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ يَبْلُغُ كَعْبَيْهِ يَغْلِي مِنْهُ دِمَاغُهُ " .
#514
Abu Sa'id al-Khudri reported:Verily, the Messenger of Allah (ﷺ) said: The least tormented of the inhabitants of the Fire would be he who would wear two shoes of Fire and his brain would boil on account of the heat of the shoes
حضرت ابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اہل جہنم میں سے سب سے کم عذاب میں وہ ہو گا جو آگ کی دو جوتیاں پہنے ہوگا ، اس کی جوتیوں کی گرمی سے اس کا دماغ کھولے گا ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَنْتَعِلُ بِنَعْلَيْنِ مِنْ نَارٍ يَغْلِي دِمَاغُهُ مِنْ حَرَارَةِ نَعْلَيْهِ " .
#515
Ibn 'Abbas reported:The Prophet (ﷺ) said: Among the inhabitants of the Fire Abu Talib would have the least suffering, and he would be wearing two shoes (of Fire) which would boil his brain
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ دوزخیوں میں سے سب سے ہلکا عذاب ابو طالب کو ہو گا ، انہوں نے دو جوتیاں پہن رکھی ہوں گی جن سے ان کا دماغ کھولے گا ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَهْوَنُ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا أَبُو طَالِبٍ وَهُوَ مُنْتَعِلٌ بِنَعْلَيْنِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ " .
#516
Nu'man b. Bashir was delivering an address and saying:I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: the least suffering for the inhabitants of Hell on the Day of Resurrection would be for the man under whose soles would be placed two embers and his brain would boil on account of them
شعبہ نے ابو اسحاق سے سن کر حدیث بیان کی ، انہوں نےکہا : میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو خطاب کرتے ہوئے سنا ، کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سےسنا : آپ نے فرمایا : ’’قیامت کےدن دوزخیوں میں سے سب کم عذاب اس آدمی کو ہو گا جس کے تلووں کےنیچے آگ کے دو انگارے رکھے جائیں گے ، ان سے اس کا دماغ کھولے گا ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ، يَقُولُ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، يَخْطُبُ وَهْوَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَرَجُلٌ تُوضَعُ فِي أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ جَمْرَتَانِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ " .
#517
Nu'man b. Bashir reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: Verily the least suffering for the inhabitants of Fire would be for him who would have two shoes and two laces of Fire (on his feet), and with these would boil his brain as boils the cooking vessel, and he would think that he would not see anyone in a more grievous torment than him, whereas he would be in the least torment
(شعبہ کے بجائے ) اعمش نے ابو اسحاق سے ، انہو ں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’دوزخیوں میں سے سب سے ہلکے عذاب والا شخص وہ ہو گا جس کےدونوں جوتے اور دونوں تسمے آگے کے ہوں گے ، ان سے اس کا دماغ اس طرح کھولے گا جس طرح ہنڈیا کھولتی ہے ، وہ نہیں سمجھے گا کہ کوئی بھی اس سے زیادہ عذاب میں ہے ، حالانکہ حقیقت میں وہ ان سب میں سے ہلکے عذاب میں ہو گا ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا مَنْ لَهُ نَعْلاَنِ وَشِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ كَمَا يَغْلِي الْمِرْجَلُ مَا يَرَى أَنَّ أَحَدًا أَشَدُّ مِنْهُ عَذَابًا وَإِنَّهُ لأَهْوَنُهُمْ عَذَابًا " .
#518
A'isha reported:I said: Messenger of Allah, the son of Jud'an established ties of relationship, fed the poor. Would that be of any avail to him? He said: It would be of no avail to him as he did not ever say: O my Lord, pardon my sins on the Day of Resurrection
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے پوچھا : اے اللہ کےرسول! ابن جدعان جاہلیت کےدور میں صلہ رحمی کرتا تھا اور محتاجوں کو کھانا کھلاتا تھا تو کیا یہ عمل اس کے لیے فائدہ مند ہوں گے؟آپ نے فرمایا : ’’اسے فائدہ نہیں پہنچائیں گے ، ( کیونکہ ) اس نے کسی ایک دن ( بھی ) یہ نہیں کہا تھا : میرے رب! حساب و کتاب کے دن میری خطائیں معاف فرمانا ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنُ جُدْعَانَ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَصِلُ الرَّحِمَ وَيُطْعِمُ الْمِسْكِينَ فَهَلْ ذَاكَ نَافِعُهُ قَالَ " لاَ يَنْفَعُهُ إِنَّهُ لَمْ يَقُلْ يَوْمًا رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ " .
#519
Amr b. 'As reported:I heard it from the Messenger of Allah (ﷺ) quite audibly and not secretly: Behold! the posterity of my fathers, that is, so and so, are not my friends. Verily Allah and the pious believers are my friends
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سےروایت ہے ، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو بلند آواز سے برسرعام یہ کہتے ہوئے سنا : ’’ یقیناآل ابی ، یعنی فلاں میرے ولی نہیں ، میرا ولی صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہے اور نیک مومن ہیں
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جِهَارًا غَيْرَ سِرٍّ يَقُولُ " أَلاَ إِنَّ آلَ أَبِي - يَعْنِي فُلاَنًا - لَيْسُوا لِي بِأَوْلِيَاءَ إِنَّمَا وَلِيِّيَ اللَّهُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ " .
#520
It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) said:Seventy thousand (persons) of my Ummah would enter Paradise without rendering an account. Upon this a person said: Messenger of Allah. pray to Allah that He make me one of them. He (the Holy Prophet) said: O Allah! make him one of them. Then another stood up and said: Messenger of Allah, pray to Allah that He make me one of them. He (the Holy Prophet) said: 'Ukkasha has preceded you in this matter
ربیع بن مسلم نے محمد بن زیاد کے واسطے سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’میری امت میں سے ستر ہزار ( افراد ) بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے ۔ ‘ ‘ ایک آدمی نے عرض کی : اے اللہ کے رسول !اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کردے ، آپ نے دعا فرمائی : ’’اے اللہ ! اسے ان میں شامل کر ۔ ‘ ‘ پھر ایک اور کھڑا ہو گیا اور کہا : اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے وہ مجھے بھی ان شامل کر دے ۔ آپ نے جواب : ’’عکاشہ اس معاملے میں تم سے سبقت لے گئے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلاَّمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ، - يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ " . فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ . قَالَ " اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ " . ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ . قَالَ " سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ " .
#521
Muhammad b. Ziyad reported:I heard Abu Huraira narrate this: I heard it from the Messenger of Allah (ﷺ) saying a hadith like one narrated by al-Rabi
ششعبہ نے کہا : میں نے محمد بن زیاد سے حدیث سنی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابو ہریرہ سے سنی ، انہوں نےکہا : میں نےحضرت ابو ہریرہ سے سنی ، انہوں نےکہا : میں نے رسو ل اللہ ﷺ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے...... ( آگے ) ربیع کی حدیث کی طرح ( ہے ۔)
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ زِيَادٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ . بِمِثْلِ حَدِيثِ الرَّبِيعِ .
#522
Abu Huraira reported:I heard it from the Messenger of Allah (ﷺ) saying: A group of my Ummah consisting of seventy thousand persons would enter Paradise; their faces would be as bright as the brightness of the full moon. Abd Huraira said: 'Ukkasha b. Mihsan al-Asadi then stood up wrapping the blanket around him and said: Messenger of Allah, supplicate (before) Allah that He should make me one among them. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: O Allah, make him among them. Then stood up a man from the Ansa and said: Messenger of Allah, pray to Allah that He should make me one among them. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Ukkasha has preceded you in this matter
سعید بن مسیب نے حدیث سنائی کہ انہیں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نےحدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کویہ فرماتے ہوئے سنا : ’’میری امت کا ایک گروہ جنت میں داخل ہو گا ، وہ ستر ہزار افراد ہوں گے ، ان کے چہرے اس طرح چمکتے ہوں گے جس طرح چودھویں رات کو ماہ کامل چمکتا ہے ۔ ‘ ‘ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : ( اس پر ) عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ اپنی سرخ ، سفید اور سیاہ دھاریوں والی چادر بلند کرتے ہوئے اٹھے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول ! اللہ سے دعا فرمائیے کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کر دے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اے اللہ ! اسے ان میں سے کردے ۔ ‘ ‘ پھر انصاری کھڑا ہو ا اور کہا : اے اللہ کے رسول! اللہ سے دعا فرمایئے کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کر دے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اس میں عکاشہ تم سے سبقت لے گئے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، حَدَّثَهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي زُمْرَةٌ هُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا تُضِيءُ وُجُوهُهُمْ إِضَاءَةَ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ " . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ الأَسَدِيُّ يَرْفَعُ نَمِرَةً عَلَيْهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ " ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ " .
#523
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: Seventy thousand (persons) would enter Paradise as one group and among them (there would be people) whom faces would be bright like the moon
(سعید بن مسیب کے بجائے ) ابو یونس نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میری امت سے ستر ہزار افراد جنت میں داخل ہوں گے ، چاند کی سی صورت میں ، ان کا ایک گروہ ہو گا ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو يُونُسَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا زُمْرَةٌ وَاحِدَةٌ مِنْهُمْ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ " .
#524
It is reported on the authority of 'Imran that the Messenger of Allah (ﷺ) said:Seventy thousand people of my Ummah would be admitted into Paradise without rendering any account. They (the companions) said: Who would be of those (fortunate persons)? He (the Holy Prophet) said: Those who do not cauterise and practise charm, but repose trust in their Lord, 'Ukkasha then stood up and said: Supplicate (before) Allah that He should make me one among them. He (the Holy Prophet) said: Thou art one among them He (the narrator) said: A man stood up and said: Apostle of Allah, supplicate (before) Allah that He should make me one among them. He (the Prophet said: 'Ukkasha has preceded you (in this matter)
محمد بن سیرین نے کہا کہ حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث سنائی ، انہوں نے کہا کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’میری امت کے ستر ہزا اشخاص حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ۔ ‘ ‘ صحابہ کرام نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! وہ کون لوگ ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ’’وہ ایسے لوگ ہیں جو داغنے کے عمل سے علاج نہیں کراتے ، نہ دم ہی کراتے ہیں اور اپنے رب پر کامل بھروسہ کرتے ہیں ۔ ‘ ‘ عکاشہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا : اللہ سے دعا فرمائیے کہ وہ مجھے بھی ان میں ( شامل ) کر دے ۔ آپ نے فرمایا : ’’تم ان میں سے ہو ۔ ‘ ‘ ( عمران رضی اللہ عنہ نے ) کہا : پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا او رکہنے لگا : اے اللہ کے نبی ! اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے ( بھی ) ان میں ( شامل ) کر دے ، آپ نے فرمایا : ’’اس میں عکاشہ تم سے سبقت لے گئے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، - يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ - قَالَ حَدَّثَنِي عِمْرَانُ، قَالَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ " . قَالُوا وَمَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " هُمُ الَّذِينَ لاَ يَكْتَوُونَ وَلاَ يَسْتَرْقُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ " . فَقَامَ عُكَّاشَةُ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ . قَالَ " أَنْتَ مِنْهُمْ " . قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ . قَالَ " سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ " .