#525
Imran b. Husain reported:Verily the Messenger of Allah (ﷺ) said: Seventy thousand men of my Ummah would enter Paradise without rendering account. They (the companions of the Holy Prophet) said: Who would be those, Messenger of Allah? He (the Holy Prophet) said: They would be those who neither practise charm, not take omens, nor do they cauterise, but they repose their trust in their Lord
حکم بن اعرج نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ میری امت کے ستر ہزار لوگ حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ۔ ‘ ‘ صحابہ کرام نے پوچھا : ا ے اللہ کے رسول ! وہ کون لوگ ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ’’وہ ایسے لوگ ہیں جو دم نہیں کرواتے ، شگون نہیں لیتے ، داغنے کے ذریعے سے علاج نہیں کرواتے او راپنے رب پر پورا بھروسہ کرتے ہیں ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ أَبُو خُشَيْنَةَ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ الأَعْرَجِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ " . قَالُوا مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " هُمُ الَّذِينَ لاَ يَسْتَرْقُونَ وَلاَ يَتَطَيَّرُونَ وَلاَ يَكْتَوُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ " .
#526
Abu Hazim narrated it on the authority of Ibn Sa'd that the Messenger of Allah (ﷺ) said:Seventy thousand persons or seven hundred thousand persons (Abu Hazim does not remember the exact number) would enter Paradise holding and supporting one another, and the first among them would not enter till the last among them would enter (therein) ; (they would enter simultaneously) and their faces would be bright like the full moon
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میری امت میں سے ستر ہزار یا سات لاکھ افراد ( ابو حازم کو شک ہے کہ سہل رضی اللہ عنہ نے کون سا عدد بتایا ) اس طرح جنت میں داخل ہوں گے کہ وہ یکجا ہوں گے ، ایک دوسرےکو پکڑے ہوئے ، ان میں سے پہلا فرد اس وقت تک داخل نہیں ہو گا جب تک آخری فرد ( بھی ساتھ ہی ) داخل نہ ہو گا ، اکٹھے ہی ( جنت کے وسیع دروازے سے ) اندر جائیں گے ۔ ان کے چہرے چو دھویں رات کے چاندجیسے ہوں گے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا أَوْ سَبْعُمِائَةِ أَلْفٍ - لاَ يَدْرِي أَبُو حَازِمٍ أَيَّهُمَا قَالَ - مُتَمَاسِكُونَ آخِذٌ بَعْضُهُمْ بَعْضًا لاَ يَدْخُلُ أَوَّلُهُمْ حَتَّى يَدْخُلَ آخِرُهُمْ وُجُوهُهُمْ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ " .
#527
Husain b. 'Abd al-Rahman reported:I was with Sa'id b. Jubair when he said: Who amongst you saw a star shooting last night? I said: It was I; then I said: I was in fact not (busy) in prayer, but was stung by a scorpion (and that is the reason why I was awake and had a glimpse of the shooting star). He said: Then what did you do? I said: I practised charm. He said: What urged you to do this? I said: (I did this according to the implied suggestion) of the hadith which al-Shu'ba narrated. He said: What did al-Shu'ba narrate to you? I said: Buraida b. Husaib al-Aslami narrated to us. The charm is of no avail except in case of the (evil influence) of an eye or the sting of a scorpion. He said: He who acted according to what he had heard (from the Holy Prophet) acted rightly, but Ibn 'Abbas narrated to us from the Messenger of Allah (ﷺ) that he said: There were brought before me the peoples and I saw an apostle and a small group (of his followers) along with him, another (apostle) and one or two persons (along with him) and (still another) apostle having no one with him. When a very large group was brought to me I conceived as if it were my Ummah. Then it was said to me: It is Moses and his people. You should look at the horizon, and I saw a very huge group. It was again said to me: See the other side of the horizon, and there was (also) a very huge group. It was said to me: This is your Ummah, and amongst them there were seventy thousand persons who would be made to enter Paradise without rendering any account and without (suffering) any torment. He then stood up and went to his house. Then the people began to talk about the people who would be admitted to Paradise without rendering any account and without (suffering) any torment. Some of them said: They may be those who (have had the good fortune of living) in the company of the Messenger of Allah (ﷺ) and some of them said: They be those who were born in Islam and did not associate anything with Allah. Some people mentioned other things. Thereupon came forth the Messenger of Allah (ﷺ) before them and he said: What was that which you were talking about? They informed him. He said: They are those persons who neither practise charm, nor ask others to practise it, nor do they take omens, and repose their trust in their Lord. Upon this 'Ukkasha b. Mihsan stood up and said: Supplicate for me that He should make me one among them. Upon this he (Messenger of Allah) said: Thou are one among them. Then another man stood up and said: Supplicate before Allah that He should make me one among them. Upon this he said: 'Ukkisha has preceded you
ہشیم نے کہا : ہمیں حصین بن عبد الرحمن نے خبر دی ، کہا کہ میں سعید بن جبیر کے پاس موجود تھا ، انہوں نے پوچھا : تم میں سے وہ ستارا کس نے دیکھا تھا جو کل رات ٹوٹا تھا ۔ میں نے کہا : میں نے ، پھر میں نے کہا کہ میں نماز میں نہیں تھا بلکہ مجھے ڈس لیا گیا تھا ( کسی موذی جانور نے ڈس لیا تھا ۔ ) انہوں نے پوچھا : پھر تم نے کیا کیا؟ میں نے کہا : میں نے دم کروایا ۔ انہوں نےکہا : تمہیں کس چیز نےاس پر آمادہ کیا ؟ میں نے جواب دیا : اس حدیث نے جو ہمیں شعبی نے سنائی ۔ انہوں نے پوچھا : شعبی نے تمہیں کون سی حدیث سنائی؟ میں نے کہا : انہوں ( شعبی ) نےہمیں بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت سنائی ، انہوں نے بتایا کہ نظر بد لگنے اور زہریلی چیز کےڈسنے کے علاوہ اور کسی چیز کے لیے جھاڑ پھونک نہیں ۔ تو سعید نے کہا : جس نے سنا ، اسے اختیار کیا تو اچھا کیا ۔ لیکن ہمیں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ سے حدیث سنائی کہ آپ نے فرمایا : ’’میرے سامنے امتیں پیش کی گئیں ، میں نے ایک نبی کو دیکھا ، ان کے ساتھ ایک چھوٹا سا ( دس سے کم کا ) گروہ تھا ، کسی ( اور ) نبی کو دیکھا کہ اس کےساتھ ایک یا دو امتی تھے ، کوئی نبی ایسا بھی تھا کہ اس کے ساتھ کوئی امتی نہ تھا ، اچانک ایک بڑی جماعت میرے سامنے لائی گئی ، مجھے گمان ہوا کہ یہ میرے امتی ہیں ، اس پر مجھ سے کہا گیا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم ہے لیکن آپ افق کی طرف دیکھیں ، میں نے دیکھا تو ( وہاں بھی ) ایک بہت بڑی جماعت تھی ، مجھے بتایا گیا : یہ آپ کی امت ہے ۔ اور ان کےساتھ ایسے ستر ہزار ( لوگ ) ہیں جو کسی حساب کتاب اور کسی عذاب کے بغیر جنت میں داخل ہو جائیں گے ۔ ‘ ‘ پھر آپ اٹھے اور ا پنے گھر کے اندر چلے گئے ، وہ ( صحابہ کرام رضی اللہ عنہ ) ان لوگوں کے بارے میں گفتگو میں مصروف ہو گئے ، جو بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے ۔ ان میں سے بعض نے کہا : شاید وہ لوگ ہیں جنہیں رسول اللہ ﷺ کی صحبت کا شرف حاصل ہے ۔ بعض نے کہا : شاید یہ لوگ وہ ہوں گے جو اسلامی دور میں پیدا ہوئے اور ( ایک لمحہ بھی ) اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہیں کیا اور انہوں نے بعض دوسری باتوں کا بھی تذکرہ کیا پھر ( کچھ دیربعد ) رسول اللہ ﷺ ( گھر سے ) نکل کر ان کے پاس تشریف لائے اور پوچھا : ’’ تو کن باتوں میں لگے ہوئے ہو ؟ ‘ ‘ انہوں نے آپ کو وہ باتیں بتائیں ، اس پر آپ نے فرمایا : ’’وہ ایسے لوگ ہیں جو نہ دم کرتے ہیں ، نہ دم کرواتے ہیں ، نہ شگون لیتے ہیں اور وہ اپنے رب پر پوراتوکل کرتے ہیں ۔ ‘ ‘ اس پر عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئےاور عرض کی : اللہ سے دعا فرمائیے کہ وہ مجھے بھی ان لوگوں میں ( شامل ) کر دے تو آپ نے فرمایا : ’’ تو ان میں سے ہے ۔ ‘ ‘ پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا : دعا فرمائیے ! اللہ مجھے ( بھی ) ان میں سے کردے تو آپ نے فرمایا : ’’عکاشہ اس ( فرمائش ) کے ذریعے سے تم سے سبقت لے گئے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فَقَالَ أَيُّكُمْ رَأَى الْكَوْكَبَ الَّذِي انْقَضَّ الْبَارِحَةَ قُلْتُ أَنَا . ثُمَّ قُلْتُ أَمَا إِنِّي لَمْ أَكُنْ فِي صَلاَةٍ وَلَكِنِّي لُدِغْتُ . قَالَ فَمَاذَا صَنَعْتَ قُلْتُ اسْتَرْقَيْتُ . قَالَ فَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ قُلْتُ حَدِيثٌ حَدَّثَنَاهُ الشَّعْبِيُّ . فَقَالَ وَمَا حَدَّثَكُمُ الشَّعْبِيُّ قُلْتُ حَدَّثَنَا عَنْ بُرَيْدَةَ بْنِ حُصَيْبٍ الأَسْلَمِيِّ أَنَّهُ قَالَ لاَ رُقْيَةَ إِلاَّ مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ . فَقَالَ قَدْ أَحْسَنَ مَنِ انْتَهَى إِلَى مَا سَمِعَ وَلَكِنْ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " عُرِضَتْ عَلَىَّ الأُمَمُ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ وَمَعَهُ الرُّهَيْطُ وَالنَّبِيَّ وَمَعَهُ الرَّجُلُ وَالرَّجُلاَنِ وَالنَّبِيَّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ إِذْ رُفِعَ لِي سَوَادٌ عَظِيمٌ فَظَنَنْتُ أَنَّهُمْ أُمَّتِي فَقِيلَ لِي هَذَا مُوسَى صلى الله عليه وسلم وَقَوْمُهُ وَلَكِنِ انْظُرْ إِلَى الأُفُقِ . فَنَظَرْتُ فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ فَقِيلَ لِي انْظُرْ إِلَى الأُفُقِ الآخَرِ . فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ فَقِيلَ لِي هَذِهِ أُمَّتُكَ وَمَعَهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلاَ عَذَابٍ " . ثُمَّ نَهَضَ فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ فَخَاضَ النَّاسُ فِي أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلاَ عَذَابٍ فَقَالَ بَعْضُهُمْ فَلَعَلَّهُمُ الَّذِينَ صَحِبُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . وَقَالَ بَعْضُهُمْ فَلَعَلَّهُمُ الَّذِينَ وُلِدُوا فِي الإِسْلاَمِ وَلَمْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ . وَذَكَرُوا أَشْيَاءَ فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَا الَّذِي تَخُوضُونَ فِيهِ " . فَأَخْبَرُوهُ فَقَالَ " هُمُ الَّذِينَ لاَ يَرْقُونَ وَلاَ يَسْتَرْقُونَ وَلاَ يَتَطَيَّرُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ " . فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ . فَقَالَ " أَنْتَ مِنْهُمْ " ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ . فَقَالَ " سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ " .
#528
Ibn 'Abbas reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: Peoples would be presented to me (on the Day of Resurrection), and then the remaining part of the hadith was narrated like the one transmitted by Hushaim, but he made no mention of the first portion
حصین بن عبد الرحمن سے ( ہشیم کے بجائے ) محمد بن فضیل نے سعید بن جبیر کے حوالے سے حدیث سنائی ، انہوں نےکہا : ہمیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نےحدیث سنائی کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میرےسامنے تمام امتیں پیش کی گئیں ..... ‘ ‘ پھر حدیث کا باقی حصہ ہشیم کی طرح بیان کیا اور ابتدائی حصے ( حصین کےواقعے ) کا ذکر نہیں کیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " عُرِضَتْ عَلَىَّ الأُمَمُ " . ثُمَّ ذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ نَحْوَ حَدِيثِ هُشَيْمٍ وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَ حَدِيثِهِ .
#529
Abdullah b. Mas'ud reported:The Messenger of Allah (ﷺ) addressing us said: Aren't you pleased that you should constitute one-fourth of the inhabitants of Paradise? He (the narrator) said: We glorified (our Lord, i. e. we called aloud Allah-o Akbar, Allah is the Greatest). He, then, again said: Aren't you pleased that you should constitute one-third of the inhabitants of Paradise? He (the narrator) said: We glorified (our Lord) and he (the Holy Prophet) then again said: I hope that you would constitute half of the inhabitants of Paradise and I shall explain to you its (reason). The believers among the unbelievers would not be more than a white hair on (the body of a) black ox or a black hair on (the body of a) white ox
ابو احوص نے ابو اسحاق سے حدیث سنائی ، انہوں نےعمرو بن میمون سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نےہم سے فرمایا : ’’کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تم اہل جنت کا چوتھا حصہ ہو ؟ ‘ ‘ ہم نے ( خوشی ) اللہ اکبر کہا ، پھر آپ نے فرمایا : ’’ کیا تم اس پر راضی نہ ہوگے کہ تم اہل جنت کا تہائی حصہ ہو ؟ ‘ ‘ کہا کہ ہم نے ( دوبارہ ) نعرہ تکبیر بلند کیا ، پھر آپ نے فرمایا : ’’میں امید کرتا ہوں کہ تم اہل جنت کانصف ہو گے اور ( یہ کیسے ہو گا؟ ) میں اس کے بارے میں ابھی بتاؤں گا ۔ کافروں ( کے مقابلے ) میں مسلمان اس سے زیادہ نہیں جتنے سیاہ رنگ کے بیل میں ایک سفید بال یا سفید رنگ کے بیل میں ایک
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ " قَالَ فَكَبَّرْنَا . ثُمَّ قَالَ " أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ " قَالَ فَكَبَّرْنَا . ثُمَّ قَالَ " إِنِّي لأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَسَأُخْبِرُكُمْ عَنْ ذَلِكَ مَا الْمُسْلِمُونَ فِي الْكُفَّارِ إِلاَّ كَشَعْرَةٍ بَيْضَاءَ فِي ثَوْرٍ أَسْوَدَ أَوْ كَشَعْرَةٍ سَوْدَاءَ فِي ثَوْرٍ أَبْيَضَ " .
#530
Abdullah (b. Mas'ud) reported:We, about forty men, were with the Messenger of Allah (ﷺ) in a camp when he said: Aren't you pleased that they should constitute one-fourth of the inhabitants of Paradise? He (the narrator) said: Yes. He (the Holy Prophet) again said: Aren't you pleased that you should constitute one-third of the inhabitants of Paradise? They said: Yes. Upon this he again said: By Him in Whose Hand is my life, I hope that you would constitute one-half of the inhabitants of Paradise and the reason is that no one would be admitted into Paradise but a believer and you are no more among the polytheists than as a white hair on the skin of a black ox or a black hair on the skin of a red ox
ابو اسحاق سے ( ابو احوص کے بجائے ) شعبہ نے حدیث سنائی ، انہو ں نے عمرو بن میمون سے ا ور انہوں نے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ہم تقریباً چالیس افراد ایک خیمے میں رسو ل اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ آپ نے فرمایا : ’’ کیا تم اس بات پر راضی ہو گے کہ تم اہل جنت کا چوتھائی حصہ ہو؟ ‘ ‘ ہم نےکہا : ہاں ۔ تو آپ نے فرمایا : ’’کیا تم اس پر راضی ہو جاؤ گے کہ تم اہل جنت کا ایک تہائی حصہ ہو ؟ ‘ ‘ ہم نےکہا : ہاں ۔ تو آپ نے فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم جس کےہاتھ میں میری جان ہے ! مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت میں سے آدھے ہو گے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جنت میں اس انسان کے سوا کوئی داخل نہ ہو گا جس نے خود کو اللہ کے سپرد کر دیا ۔ اور مشرکوں میں تمہاری تعداد ایسی ہی ہے جیسے سیاہ بیل کی جلد پر ایک سفید بال یا سرخ بیل کی جلد پر ایک سیاہ بال ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي قُبَّةٍ نَحْوًا مِنْ أَرْبَعِينَ رَجُلاً فَقَالَ " أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالَ قُلْنَا نَعَمْ . فَقَالَ " أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ " فَقُلْنَا نَعَمْ . فَقَالَ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَذَاكَ أَنَّ الْجَنَّةَ لاَ يَدْخُلُهَا إِلاَّ نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ وَمَا أَنْتُمْ فِي أَهْلِ الشِّرْكِ إِلاَّ كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الأَسْوَدِ أَوْ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الأَحْمَرِ " .
#531
Abdullah b Mas'ud reported:The Messenger of Allah (ﷺ) addressed us and then supported his back (by reclining) against a leather tent and said: Behold, no one but a believing person would enter Paradise. O Allah, (see) have I conveyed (it not)? 0 Allah, be witness (to it that I have conveyed it). (Then addressing the companions) he said: Don't you like that you should constitute one-fourth of the inhabitants of Paradise? We said: Yes, Messenger of Allah. He again said: Don't you like that you should constitute one-third of the inhabitants of Paradise? They said: Yes, Messenger of Allah. He said: I hope that you would constitute one- half of the inhabitants of Paradise and you would be among the peoples of the world, like a black hair on (the body of) a white ox or like a white hair on the body of a black ox
مالک بن مغول نے ابو اسحاق کےواسطے سے عمرو بن میمون سے حدیث سنائی انہوں نے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطاب کیا آپ نے چمڑے کے ایک خیمے سے ٹیک لگائی ہوئی تھی اور فرمایا : ’’یاد رکھو ! جنت میں اسلام لانے والی روح کے سوا کوئی داخل نہ ہو گا ۔ اے اللہ ! کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟ اے اللہ ! تو گواہ رہنا ۔ کیا تم پسند کرتے ہو کہ تم اہل جنت کا چوتھائی حصہ ہو ؟ ‘ ‘ ہم نےکہا : جی ہاں ، اے اللہ کے رسول !آپ نے فرمایا : ’’کیا تم پسند کرتے ہو کہ تم اہل جنت کا چوتھائی حصہ ہو ؟ ‘ ‘ صحابہ رضی اللہ عنہ نے کہا : جی ہاں ، اے اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ’’مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا نصف ہو گے ، دوسری امتوں میں تم ( اس سے زیادہ ) نہیں ہو مگر ( ایسے ) جس طرح ایک سیاہ بال جو سفید رنگ کے بیل پر ہو یا ایک سفید بال جو سیاہ بیل پر ہو ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، - وَهْوَ ابْنُ مِغْوَلٍ - عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَسْنَدَ ظَهْرَهُ إِلَى قُبَّةِ أَدَمٍ فَقَالَ " أَلاَ لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلاَّ نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ اللَّهُمَّ اشْهَدْ . أَتُحِبُّونَ أَنَّكُمْ رُبُعُ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . فَقُلْنَا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ " أَتُحِبُّونَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " إِنِّي لأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ مَا أَنْتُمْ فِي سِوَاكُمْ مِنَ الأُمَمِ إِلاَّ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي الثَّوْرِ الأَبْيَضِ أَوْ كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي الثَّوْرِ الأَسْوَدِ " .
#532
Abu Sa'id reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: Allah, the High and Glorious, would say: O Adam I and he would say: At Thy service, at thy beck and call, O Lord, and the good is in Thy Hand. Allah would say: Bring forth the group of (the denizens of) Fire. He (Adam) would say: Who are the denizens of Hell? It would be said: They are out of every thousand nine hundred and ninety-nine. He (the Holy Prophet) said: It is at this juncture that every child would become white-haired and every pregnant woman would abort and you would see people in a state of intoxication, and they would not be in fact intoxicated but grievous will be the torment of Allah. He (the narrator) said: This had a very depressing effect upon them (upon the companions of the Holy Prophet) and they said: Messenger of Allah, who amongst us would be (that unfortunate) person (who would be doomed to Hell)? He said: Good tidings for you, Yajuj Majuj would be those thousands (who would be the denizens of Hell) and a person (selected for Paradise) would be amongst you. He (the narrator) further reported that he (the Messenger of Allah) again said: By Him in Whose Hand is thy life, I hope that you would constitute one-fourth of the inhabitants of Paradise. We extolled Allah and we glorified (Him). He (the Holy Prophet) again said: BY Him in Whose Hand is my life, I wish you would constitute one-third of the inhabitants of Paradise. We extolled Allah and Glorified (Him). He (the Holy Prophet) again said: By Him in Whose Hand is my life, I hope that you would constitute half of the inhabitants of Paradise. Your likeness among the people is the likeness of a white hair on the skin of a black ox or a strip on the foreleg of an ass
جریر نے اعمش سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اللہ عز وجل فرمائے گا : اے آدم ! وہ کہیں گے : میں حاضر ہوں ( میرے رب! ) قسمت کی خوبی ( تیری عطا ہے ) اور ساری خیر تیرے ہاتھ میں ہے ! کہا : اللہ فرمائے گا : دوزخیوں کی جماعت کو الگ کر دو ۔ آدم علیہ السلام عرض کریں گے : دوزخیوں کی جماعت ( تعداد میں ) کیا ہے ؟ اللہ فرمائے گا : ہر ہزار میں سے نوسو ننانوے ۔ یہ وقت ہو گا جب بچے بوڑھے ہو جائیں گے ۔ ہر حاملہ اپنا حمل گرا دے گی اور تم لوگوں کو مدہوش کی طرح دیکھو گے ، حالانکہ وہ ( نشےمیں ) مدہوش نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہی بہت سخت ہو گا ۔ ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ بات ان ( صحابہ کرام رضی اللہ عنہ ) پر حد درجہ گراں گزری ۔ انہوں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! ہم میں سے وہ ( ایک ) آدمی کون ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : ’’خوش ہو جاؤ ، ہزار یا جوج ماجوج میں سے ہیں اور ایک تم میں سے ہے ، ( ابو سعید رضی اللہ عنہ نے ) کہا : پھر آپ نے فرمایا : ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا چوتھائی ( حصہ ) ہو گے ۔ ‘ ‘ ہم نےاللہ تعالیٰ کی حمد کی او رتکبیر کہی ( اللہ اکبرکہا ۔ ) ، پھر آپ نے فرمایا : ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا تہائی ( حصہ ) ہو گے ۔ ‘ ‘ ہم نے اللہ کی حمد کی اور تکبیر کہی ، پھر فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم جس کےہاتھ میں میری جان ہے ! مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا آدھا حصہ ہو گے ۔ ( دوسری ) امتوں کے مقابلے میں تمہاری مثال اس سفید بال کی سی ہے جو سیاہ بیل کی جلدپر ہوتا ہے یا اس چھوٹے سے نشان کی سی ہے جو گدھے کے اگلے پاؤں پر ہوتا ہے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْعَبْسِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا آدَمُ فَيَقُولُ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ - قَالَ - يَقُولُ أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ . قَالَ وَمَا بَعْثُ النَّارِ قَالَ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ . قَالَ فَذَاكَ حِينَ يَشِيبُ الصَّغِيرُ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ " . قَالَ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّنَا ذَلِكَ الرَّجُلُ فَقَالَ " أَبْشِرُوا فَإِنَّ مِنْ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ أَلْفًا وَمِنْكُمْ رَجُلٌ " . قَالَ ثُمَّ قَالَ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأَطْمَعُ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . فَحَمِدْنَا اللَّهَ وَكَبَّرْنَا ثُمَّ قَالَ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأَطْمَعُ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . فَحَمِدْنَا اللَّهَ وَكَبَّرْنَا ثُمَّ قَالَ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأَطْمَعُ أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِنَّ مَثَلَكُمْ فِي الأُمَمِ كَمَثَلِ الشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الأَسْوَدِ أَوْ كَالرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الْحِمَارِ " .
#533
The same hadith has been narrated from A'mash on the authority of the same chain of transmitters with the exception of these words:You would be no more among men (on the Day of Resurrection) but like a white hair on (the body of) a black ox, or like a black hair on (the body of) a white ox, and he made no mention of: a strip on the foreleg of an ass
(جریر کے بجائے ) اعمش کے دو شاگردوں وکیع اور ابو معاویہ نےاسی سند کے ساتھ روایت کی ، لیکن دونوں کے الفاظ ہیں : ’’اس دن لوگوں میں تم ( اسےسے زیادہ ) نہیں ہو گے مگر ( ایسے ) جس طرح ایک سفید بال جو سیاہ بیل پر ہوتا ہے یا سیاہ بال جو سفید بیل پر ہوتا ہے ۔ ‘ ‘ ان دونوں نے گدھے کے اگلے پاؤں کے نشان کا تذکرہ نہیں کیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُمَا قَالاَ " مَا أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ فِي النَّاسِ إِلاَّ كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي الثَّوْرِ الأَسْوَدِ أَوْ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي الثَّوْرِ الأَبْيَضِ " . وَلَمْ يَذْكُرَا " أَوْ كَالرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الْحِمَارِ " .
#534
Abu Malik at-Ash'ari reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: Cleanliness is half of faith and al-Hamdu Lillah (all praise and gratitude is for Allah alone) fills the scale, and Subhan Allah (Glory be to Allah) and al-Hamdu Lillah fill up what is between the heavens and the earth, and prayer is a light, and charity is proof (of one's faith) and endurance is a brightness and the Holy Qur'an is a proof on your behalf or against you. All men go out early in the morning and sell themselves, thereby setting themselves free or destroying themselves
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’پاکیزگی نصف ایمان ہے ۔ الحمد لله ترازو کو بھر دیتا ہے ۔ سبحان الله اور الحمد لله آسمانوں سے زمین تک کی وسعت کو بھر دیتے ہیں ۔ نماز نور ہے ۔ صدقہ دلیل ہے ۔ صبر روشنی ہے ۔ قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے ہر انسان دن کا آغاز کرتا ہے تو ( کچھ اعمال کے عوض ) اپنا سودا کرتا ہے ، پھر یا تو خود آزاد کرنےوالا ہوتا ہے خود کو تباہ کرنے والا ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ، حَدَّثَنَا أَبَانٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَنَّ زَيْدًا، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَلاَّمٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْعَرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الطُّهُورُ شَطْرُ الإِيمَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلأُ الْمِيزَانَ . وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلآنِ - أَوْ تَمْلأُ - مَا بَيْنَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَالصَّلاَةُ نُورٌ وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا " .
#535
It was narrated from Simak bin Harb, that Mus'ab bin Sa'd said:'" 'Abdullah bin 'Umar came to visit Ibn 'Amir when he was sick and he said: 'Won't you supplicate to Allah for me, O Ibn 'Umar ?' He said: 'I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "No Salat is accepted without Wudu' (purification), and no charity (is accepted) that comes from Ghulul [1] " and you were the governor of Al-Basrah.' " [1] Goods pilfered from the spoils of war prior to their authorized distribution
ابو عوانہ نے سماک بن حرب سےانہوں نے مصعب بن سعد سے روایت کی کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ابن عامر رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی عیادت کے لیے گےوہ بیمار تھے ابن عامر نے کہا اے ابن عمر رضی اللہ عنہ کیا آپ میرے لیے اللہ سے دعا کریں گےانہوں نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا نماز پاکیزگی کے بغیر قبول نہیں ہوتی اور صدقہ ناجائز طریقے سے حاصل کیے ہوئے مال سے قبول نہیں ہوتااور آپ بصرہ کے حاکم رہ چکے ہیں ( مبادہ کہ آپ کے پاس کوئی ایسا مال آ گیا ہوگا)
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ - وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ دَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَلَى ابْنِ عَامِرٍ يَعُودُهُ وَهُوَ مَرِيضٌ فَقَالَ أَلاَ تَدْعُو اللَّهَ لِي يَا ابْنَ عُمَرَ . قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ تُقْبَلُ صَلاَةٌ بِغَيْرِ طُهُورٍ وَلاَ صَدَقَةٌ مِنْ غُلُولٍ " . وَكُنْتَ عَلَى الْبَصْرَةِ .
#536
A hadith like this is narrated from the Apostle (ﷺ) with the same chain of transmitters by Muhammad b. Muthanna, Ibn Bashshar, Muhammad b. Ja'far, Shu'ba
شعبہ ، زائدہ اور اسرائیل سب نے سماک بن حرب سے اسی اسناد کے ساتھ رسول اللہ ﷺ سے یہی حدیث روایت کی ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَوَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ، كُلُّهُمْ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
#537
Hammam b. Munabbih who is the brother of Wahb b. Munabbih said:This is what has been transmitted to us by Abu Huraira from Muhammad, the Messenger of Allah (ﷺ) and then narrated a hadith out of them and observed that the Messenger of Allah (ﷺ) said: The prayer of none amongst you would be accepted in a state of impurity until he performs ablution
وہب بن منبہ کے بھائی ہمام بن منبہ سے روایت ہے ، کہا : یہ وہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے محمدرسول اللہ ﷺ سے ہمیں سنائیں ، پھر انہوں نے کچھ احادیث کا تذکرہ کیا ، ان میں سے یہ بھی تھی : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’تم میں سے جب کوئی بے وضو ہو جائے ، تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی یہاں تک کہ وضو کرے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، أَخِي وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُقْبَلُ صَلاَةُ أَحَدِكُمْ إِذَا أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ " .
#538
Humran, the freed slave of 'Uthman, said:Uthman b. 'Affan called for ablution water and this is how he performed the ablution. He washed his hands thrice. He then rinsed his mouth and cleaned his nose with water (three times). He then washed his face three times, then washed his right arm up to the elbow three times, then washed his left arm like that, then wiped his head; then washed his right foot up to the ankle three times, then washed his left foot like that, and then said: I saw the Messenger of Allah (ﷺ) perform ablution like this ablution of mine. Then the Messenger of Allah (ﷺ) said: He who performs ablution like this ablution of mine and then stood up (for prayer) and offered two rak'ahs of prayer without allowing his thoughts to be distracted, all his previous sins are expiated. Ibn Shihab said: Our scholars remarked: This is the most complete of the ablutions performed for prayer
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ عطاء بن یزید نے انہیں خبر دی کہ حمران نے ، جوحضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں ، انہیں بتایا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وضوکے لیے پانی منگوایا اور وضو کیا تو دونوں ہاتھوں کو تین بار دھویا ، پھر کلی کی اور ( ناک میں پانی ڈال کر ) ناک جھاڑی ، پھر تین بار چہرہ دھویا ، پھر تین بار دایاں بازو کہنیوں تک دھویا ، پھر اسی طرح بایاں دھویا ، پھر اپنے سر کا مسح کیا ، پھر تین بار اپنا دایاں پاؤں ٹخنوں تک دھویا ، پھر اسی طرح بایاں پاؤں دھویا ، پھر کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تھا کہ آپ نے اسی طرح وضو کیا جس طرح میں نے اب کیا ہے ، پھر رسول ا للہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس شخص نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا ، پھر اٹھ کر دو رکعتیں ادا کیں ، ان دونوں کے دوران میں اپنے آپ سے باتیں نہ کیں ، اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے ۔ ‘ ‘ ابن شہاب نے کہا : ہمارے علماء ( تابعین ) کہا کرتے تھے کہ یہ کامل ترین وضو ہے جو کوئی انسان نماز کے لیے کرتا ہے ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ اللَّيْثِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ - رضى الله عنه - دَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ لاَ يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَكَانَ عُلَمَاؤُنَا يَقُولُونَ هَذَا الْوُضُوءُ أَسْبَغُ مَا يَتَوَضَّأُ بِهِ أَحَدٌ لِلصَّلاَةِ .
#539
Humran, the freed slave of 'Uthman said:I saw Uthman call for a vessel (of water) and poured water over his hands three times and then washed them. Then he put his right hand in the vessel and rinsed his mouth and cleaned his nose. Then he washed his face three times and his hands up to the elbow three times; then wiped his head, then washed his feet three times. Then he said that the Messenger of Allah (ﷺ) had said: He who performed ablution like this ablution of mine and offered two raka`ahs of prayer without allowing his thoughts to be distracted, all his previous sins would be expiated
یعقوب کے والد ابراہیم ( بن سعد ) نے ابن شہاب سے باقی ماندہ سند کے ساتھ حمران سے روایت کی کہ انہوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا ، انہوں نے پانی کا برتن منگوایا ، پھر اپنے ہاتھوں پر تین بار پانی انڈیلا اور ان کو دھویا ، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں ڈالا اور کلی کی اور ( ناک میں پانی ڈال کر ) ناک جھاڑی ، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا اور تین بار اپنے دونوں بازو کہنیوں تک دھوئے ، پھر سر کا مسح کیا ، پھر دو رکعتیں پڑھیں جن میں ( وہ ) اپنے آپ سے باتیں نہ کر رہا تھا ، اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ حُمْرَانَ، مَوْلَى عُثْمَانَ أَنَّهُ رَأَى عُثْمَانَ دَعَا بِإِنَاءٍ فَأَفْرَغَ عَلَى كَفَّيْهِ ثَلاَثَ مِرَارٍ فَغَسَلَهُمَا ثُمَّ أَدْخَلَ يَمِينَهُ فِي الإِنَاءِ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لاَ يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
#540
Humran. the freed slave of 'Uthman. said:I heard from 'Uthman b. 'Affan and he was in the courtyard of the mosque, when the Mu'adhdhin (announcer of the prayer) came to him at the time of afternoon prayer. So the ('Uthman) called for the ablution water and performed ablution and then said: By Allah, I am narrating to you a hadith. If there were not a verse in the Book of Allah, I would have never narrated it to you. I heard Allah's Messenger (ﷺ) say: If a Muslim performs ablution and does it well and offers prayer, all his (sins) daring the period from one prayer to another would be pardoned by Allah
جریر نے ہشام بن عروہ سے ، انہوں نے اپنے والد ( عروہ بن زبیر ) سے ، انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آزادکردہ غلام حمران سےروایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ مسجد کے آنگن میں تھے اور عصر کے وقت ان کے پاس مؤذن آیا تو انہوں نے وضو کے لیے پانی منگایا ، وضوکیا ، پھر فرمایا : اللہ کی قسم! میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں ، اگر کتاب اللہ کی ایک آیت نہ ہوتی تو میں تمہیں نہ سناتا ، میں نے رسول اللہ ﷺ سےسنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’ جومسلمان وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے ، پھر نماز پڑھے تو اس کے وہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں جو اس نماز اور اگلی نماز کے درمیان ہوں گے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، - وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حُمْرَانَ، مَوْلَى عُثْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، وَهُوَ بِفِنَاءِ الْمَسْجِدِ فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ عِنْدَ الْعَصْرِ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ لأُحَدِّثَنَّكُمْ حَدِيثًا لَوْلاَ آيَةٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا حَدَّثْتُكُمْ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ يَتَوَضَّأُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ فَيُصَلِّي صَلاَةً إِلاَّ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلاَةِ الَّتِي تَلِيهَا " .
#541
This hadith is also narrated on the authority with the same chain of transmitters and in the hadith of Abu Usama the words are:" He who performed the ablution well and then offered the obligatory prayer
ہشام سے ( جریر کے بجائے ) ابو اسامہ ، وکیع اور سفیان کی سندوں سے بھی یہ روایت بیان کی گئی ۔ ان میں ابو اسامہ کی روایت کے الفاظ اس طرح ہیں : ’’اچھی طرح وضو کرے اور فرض نماز ادا کرے
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، جَمِيعًا عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ " فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ ثُمَّ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ " .
#542
Humran reported when 'Uthman performed ablution he said:By Allah, I am narrating to you a hadith had there not been this verse in the Book of Allah. I would not have narrated it to you. Verily I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Not a person is there who performed ablution, and did it well, then offered prayer, but his sins (which he committed) were not pardoned between the prayer that he offered and the next one. 'Urwa said: The verse is this:" Those who suppress the clear proofs and the guidance which We have sent down"... to His words:" the Cursers" (ii)
ابن شہاب نے کہا : لیکن عروہ ، حمران کی جانب سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا : پھر جب عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کر لیا تو فرمایا : اللہ کی قسم ! میں تمہیں ایک حدیث ضرورسناؤں گا ، اللہ کی قسم ! اگر کتاب اللہ کی ایک آیت نہ ہوتی تو میں تمہیں وہ حدیث سناتا : میں نے رسول اللہﷺ سےسنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’جو آدمی وضو کرے اور وہ اچھی طرح وضو کرے ، پھر نماز پڑھے تو اس کے وہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں جواس نماز اور اگلی نماز کے درمیان ہوں گے ۔ ‘ ‘ عروہ نےکہا : وہ آیت ( جس کی طرف حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اشارہ کیا ) : ’’بلاشبہ وہ لوگ جوان کھلی نشانیوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں جو ہم نے اتاریں ‘ ‘ سے لے کر ﴿الّٰعِنُوْنَ﴾ تک ہے ۔
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَلَكِنْ عُرْوَةُ يُحَدِّثُ عَنْ حُمْرَانَ، أَنَّهُ قَالَ فَلَمَّا تَوَضَّأَ عُثْمَانُ قَالَ وَاللَّهِ لأُحَدِّثَنَّكُمْ حَدِيثًا وَاللَّهِ لَوْلاَ آيَةٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا حَدَّثْتُكُمُوهُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ يَتَوَضَّأُ رَجُلٌ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ ثُمَّ يُصَلِّي الصَّلاَةَ إِلاَّ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلاَةِ الَّتِي تَلِيهَا " . قَالَ عُرْوَةُ الآيَةُ { إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى} إِلَى قَوْلِهِ { اللاَّعِنُونَ}
#543
Amr b Sa'id b al-As reported:I was with Uthman, and he called for ablution water and said: I heard Allah's Messenger (ﷺ) say: When the time for a prescribed prayer comes, if any Muslim performs ablution well and offers his prayer with humility and bowing, it will be an expiation for his past sins, so long as he has not committed a major sin; and this applies for all times
اسحاق بن سعيد نے عمرو بن سعید بن عاص نے اپنے والد ( سعید بن عمرو ) سے اور انہوں نے اپنے والد ( عمرو بن سعید ) سے روایت کی ، انہو ں نے کہا : میں عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس تھا ، انہوں نے وضو کاپانی منگایااور کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’کوئی مسلمان نہیں جس کی فرض نماز کا وقت ہو جائے ، پھر وہ اس کے لیے اچھی طرح وضو کرے ، اچھی طرح خشوع سے اسے ادا کرے اور احسن انداز سے رکوع کرے ، مگر وہ نماز اس کے پچھلے گناہوں کا کفارہ ہو گی جب تک وہ کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہیں کرتا اور یہ بات ہمیشہ کے لیے کی ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، قَالَ عَبْدٌ حَدَّثَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ عُثْمَانَ فَدَعَا بِطَهُورٍ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَا مِنِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ تَحْضُرُهُ صَلاَةٌ مَكْتُوبَةٌ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهَا وَخُشُوعَهَا وَرُكُوعَهَا إِلاَّ كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهَا مِنَ الذُّنُوبِ مَا لَمْ يُؤْتِ كَبِيرَةً وَذَلِكَ الدَّهْرَ كُلَّهُ " .
#544
Humran, the freed slave of 'Uthman reported:I brought for Uthman b. 'Affan the ablution water. He performed ablution and then said: Verily the people narrate from the Messenger of Allah (ﷺ) a hadith. I do not know what these are. but (I know this fact) that I saw the Messenger of Allah (ﷺ) perform ablution like this ablution of mine and then he said: He who performed ablution like this, all his previous sins would be expiated and his prayer and going towards the mosque would have an extra reward. In the tradition narrated by Ibn 'Abda (the words are):" I came to Uthman and he performed ablution
ابن عبدہ کی روایت میں ہے : میں عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے وضو کیا ۔ قتیبہ بن سعید اور احمد بن عبدہ ضبی نے کہا : ہمیں عبد العزیز دراوردی نے زید بن اسلم سےحدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حمران سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس وضو کا پانی لایا تو انہوں نے وضو کیا ، پھر کہا : کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ سے احادیث بیان کرتے ہیں جن کی حقیقت میں نہیں جانتامگر میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا ، آپ نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا ، پھر فرمایا : ’’جس نے اس طریقے سے وضو کیا اس کے گزشتہ گناہ معاف ہو گئے اور اس کی نماز اور مسجد کی طرف جانازائد ( ثواب کا باعث ) ہو گا ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - وَهُوَ الدَّرَاوَرْدِيُّ - عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ حُمْرَانَ، مَوْلَى عُثْمَانَ قَالَ أَتَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَالَ إِنَّ نَاسًا يَتَحَدَّثُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحَادِيثَ لاَ أَدْرِي مَا هِيَ إِلاَّ أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَالَ " مَنْ تَوَضَّأَ هَكَذَا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَكَانَتْ صَلاَتُهُ وَمَشْيُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ نَافِلَةً " . وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبْدَةَ أَتَيْتُ عُثْمَانَ فَتَوَضَّأَ .
#545
Abu Anas reported that Uthman performed ablution at Maqi'aid and said:Should I not show you the ablution performed by Allah's Messenger (ﷺ)? And he then washed (the different parts of the body) three times. 4" Qutaiba has added in his narration the words:" There were with him (with Uthman) Companions of Allah's Messenger (ﷺ)
قتیبہ بن سعید ، ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا : ( اس حدیث کے الفاظ قتیبہ اور ابوبکر کےہیں ) ہمیں وکیع نے سفیان کے حوالے سے ابو نضر سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو انس سے روایت کی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے المقاعد کے پاس وضو کیا ، کیا کہنے لگے : کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کا وضو ( کر کے ) نہ دکھاؤں ؟ پھر ہر عضو کو تین تین بار دھویا ۔ قتیبہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا : سفیان نے کہا : ابو نضر نے ابوانس سے روایت بیان کرتے ہوئے کہا : ان ( عثمان رضی اللہ عنہ ) کے پاس رسول ا للہ ﷺ کے صحابہ میں سے کئی لوگ موجود تھے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ - وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ وَأَبِي بَكْرٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي أَنَسٍ، أَنَّ عُثْمَانَ، تَوَضَّأَ بِالْمَقَاعِدِ فَقَالَ أَلاَ أُرِيكُمْ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ تَوَضَّأَ ثَلاَثًا ثَلاَثًا . وَزَادَ قُتَيْبَةُ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ سُفْيَانُ قَالَ أَبُو النَّضْرِ عَنْ أَبِي أَنَسٍ قَالَ وَعِنْدَهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#546
Humran b. Aban reported:I used to fetch water for 'Uthman for his purification. Never was there a day that he did not take a bath with a small quantity of water. And Uthman said: The Messenger of Allah (ﷺ) at the time of our returning from our prayer told us (certain things pertaining to purification). Mis'ar said: I find that it was afternoon prayer. He said: I do not know whether I should tell you a thing or keep quiet. We said: Messenger of Allah, tell us if it is good and if it is otherwise, Allah and His Apostle know better. Upon this he said: A Muslim who purifies (himself) and completes purification as enjoined upon him by Allah and then offers the prayers, that will be expiation (of his sins he committed) between these (prayers)
مسعر نےابو صخرہ جامع بن شداد سے روایت کی ، انہو ں نے کہا : میں نےحمران بن ابان سے سنا ، انہوں نےکہا : میں عثمان رضی اللہ عنہ کے غسل اور وضو کے لیے پانی رکھا کرتا تھا اور کوئی دن ایسا نہ آتا کہ وہ تھوڑا سا ( پانی ) اپنے اوپر نہ بہا لیتے ( ہلکا سا غسل نہ کر لیتے ، ایک دن ) عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے اس نماز سے ( مسعر کا قول ہے : میرا خیال ہے کہ عصر کی نماز مراد ہے ) سلام پھیرنے کے بعد ہم سے گفتگو فرمائی ، آپ نے فرمایا : ’’میں نہیں جانتا کہ ایک بات تم سے کہہ دوں یا خاموش رہوں؟ ‘ ‘ ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول!اگر بھلائی کی بات ہے تو ہمیں بتا دیجیے ، اگر کچھ اور ہے تو اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ۔ رسو ل اللہﷺنے فرمایا : ’’جو بھی مسلمان وضو کرتا ہے اور جو وضو اللہ نے اس کے لیے فرض قرار دیا ہے اس کو مکمل طریقے سے کرتا ہے پھر یہ پانچوں نمازیں ادا کرتا ہے تو یقیناً یہ نمازیں ان گناہوں کا کفارہ بن جائیں گی جو ان نمازوں کے درمیان کے اوقات میں سرزد ہوئے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ أَبِي صَخْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ، قَالَ كُنْتُ أَضَعُ لِعُثْمَانَ طَهُورَهُ فَمَا أَتَى عَلَيْهِ يَوْمٌ إِلاَّ وَهُوَ يُفِيضُ عَلَيْهِ نُطْفَةً . وَقَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ انْصِرَافِنَا مِنْ صَلاَتِنَا هَذِهِ - قَالَ مِسْعَرٌ أُرَاهَا الْعَصْرَ - فَقَالَ " مَا أَدْرِي أُحَدِّثُكُمْ بِشَىْءٍ أَوْ أَسْكُتُ " . فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ كَانَ خَيْرًا فَحَدِّثْنَا وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ فَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَطَهَّرُ فَيُتِمُّ الطُّهُورَ الَّذِي كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَيُصَلِّي هَذِهِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ إِلاَّ كَانَتْ كَفَّارَاتٍ لِمَا بَيْنَهَا " .
#547
Jami' b. Shaddad reported:I heard Humran b. Aban narrate to Abu Burda in this very mosque during the governorship of Bishr that 'Uthman b. Alfan said: The Messenger of Allah (ﷺ) observed: He who completed ablution as Allah, the Exalted, enjoined upon him, his obligatory prayers would be explatious (for his minor sins that he would commit) during (the interval) between them. This hadith is transmitted by Ibn Mu'adh, and in the hadith narrated by Ghundar, the words" during the governorship of Bishr" are omitted and there is no mention of the obligatory prayers
عبید اللہ بن معاذ نے اپنےوالد سے اور محمد بن مثنیٰ اورابن بشار نے محمد بن جعفر ( غندر ) سےروایت کی ، ان دونوں ( معاذ بن اور ابن جعفر ) نے کہا : ہمیں شعبہ نے جامع ابن شداد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا کہ میں نے حمران بن ابان سے سنا ، وہ بشر کے دور امارات میں اس مسجد میں ابو بردہ رضی اللہ عنہ کو بتا رہے تھے کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے اس طرح وضو کومکمل کیا جس طرح اللہ نے حکم دیا ہے تو ( اس کی ) فرض نمازیں ان گناہوں کے لیے کفارہ ہوں گی جو ان کے درمیان سرزد ہو ئے ۔ ‘ ‘ یہ ابن معاذ کی روایت ہے ، غندر کی حدیث میں بشر کے دور حکومت اور فرض نمازوں کا ذکر نہیں ہے ۔ [مخرمہ کےوالد بکیر ( بن عبد اللہ ) نے حمران ( مولیٰ عثمان ) سے روایت کی کہ ایک دن حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بہت اچھی طرح وضو کیا ، پھر کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کودیکھا ، آپ نے بہت اچھی طرح وضوکیا ، پھر فرمایا : ’’جس نے اس طرح وضو کیا ، پھر مسجدکی طرف نکلا ، نماز ہی نے اسے ( جانے کے لیے ) کھڑا کیا تو اس کے گزرے ہوئے گناہ معاف کر دیے جائیں گے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالاَ جَمِيعًا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، قَالَ سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ، يُحَدِّثُ أَبَا بُرْدَةَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ فِي إِمَارَةِ بِشْرٍ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَتَمَّ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى فَالصَّلوَاتُ الْمَكْتُوبَاتُ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ " . هَذَا حَدِيثُ ابْنِ مُعَاذٍ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ غُنْدَرٍ فِي إِمَارَةِ بِشْرٍ وَلاَ ذِكْرُ الْمَكْتُوبَاتِ .
#548
Humran, the freed slave of Uthman reported:One day Uthman b. Affan performed the ablution well, and then said: I saw Allah's Messenger (ﷺ) perform ablution, the best ablution, and then observed: He who performed ablution like this and then went towards the mosque and nothing (but the love of) prayer urged him (to do so), all his previous (minor) sins would be expiated
مخرمہ کےوالد بکیر ( بن عبد اللہ ) نے حمران ( مولیٰ عثمان ) سے روایت کی کہ ایک دن حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بہت اچھی طرح وضو کیا ، پھر کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کودیکھا ، آپ نے بہت اچھی طرح وضوکیا ، پھر فرمایا : ’’جس نے اس طرح وضو کیا ، پھر مسجدکی طرف نکلا ، نماز ہی نے اسے ( جانے کے لیے ) کھڑا کیا تو اس کے گزرے ہوئے گناہ معاف کر دیے جائیں گے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ وَأَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حُمْرَانَ، مَوْلَى عُثْمَانَ قَالَ تَوَضَّأَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ يَوْمًا وُضُوءًا حَسَنًا ثُمَّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ قَالَ " مَنْ تَوَضَّأَ هَكَذَا ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ لاَ يَنْهَزُهُ إِلاَّ الصَّلاَةُ غُفِرَ لَهُ مَا خَلاَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
#549
Humran, the freed slave of 'Uthman b. 'Affan, reported on the authority of 'Uthman b. 'Affan that he heard Allah's Messenger (ﷺ) say:He who performed ablution for prayer and performed it properly and then went (to observe) obligatory prayer and offered it along with people or with the congregation or in the mosque, Allah would pardon his sins
معاذ بن عبد الرحمن نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے مولیٰ حمران سے اور انہوں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سےروایت کی کہ میں نے رسول ا للہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ’’ جس نے نماز کے لیے وضو کیا اور وضو کی تکمیل کی ، پھر فرض نماز کے لیے چل کرگیا اور لوگوں کے ساتھ یا جماعت کے ساتھ نماز ادا کی یا مسجد میں نماز پڑھی ، اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کر دے گا ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ الْحُكَيْمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَاهُ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُمَا عَنْ حُمْرَانَ، مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ تَوَضَّأَ لِلصَّلاَةِ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ثُمَّ مَشَى إِلَى الصَّلاَةِ الْمَكْتُوبَةِ فَصَلاَّهَا مَعَ النَّاسِ أَوْ مَعَ الْجَمَاعَةِ أَوْ فِي الْمَسْجِدِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ذُنُوبَهُ " .