العربية
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ} وَرَهْطَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ . خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى صَعِدَ الصَّفَا فَهَتَفَ " يَا صَبَاحَاهْ " . فَقَالُوا مَنْ هَذَا الَّذِي يَهْتِفُ قَالُوا مُحَمَّدٌ . فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ فَقَالَ " يَا بَنِي فُلاَنٍ يَا بَنِي فُلاَنٍ يَا بَنِي فُلاَنٍ يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ " فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ فَقَالَ " أَرَأَيْتَكُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلاً تَخْرُجُ بِسَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ أَكُنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ " . قَالُوا مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ كَذِبًا . قَالَ " فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَىْ عَذَابٍ شَدِيدٍ " . قَالَ فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ تَبًّا لَكَ أَمَا جَمَعْتَنَا إِلاَّ لِهَذَا ثُمَّ قَامَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَقَدْ تَبَّ . كَذَا قَرَأَ الأَعْمَشُ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ .
English
It is reported on the authority of Ibn 'Abbas that when this verse was revealed:" And warn thy nearest kindred" (and thy group of selected people among them) the Messenger of Allah (ﷺ) set off till he climbed Safa' and called loudly: Be on your guard! They said: Who is it calling aloud? They said: Muhammad. They gathered round him, and he said: O sons of so and so, O sons of so and so, O sons of 'Abd Manaf, O sons of 'Abd al-Muttalib, and they gathered around him. He (the Apostle) said: If I were to inform you that there were horsemen emerging out of the foot of this mountain, would you believe me? They said: We have not experienced any lie from you. He said: Well, I am a warner to you before a severe torment. He (the narrator) said that Abu Lahab then said: Destruction to you! Is it for this you have gathered us? He (the Holy Prophet) then stood up, and this verse was revealed:" Perish the hands of Abu Lahab, and he indeed perished" (cxi. 1). A'mash recited this to the end of the Sura اردو
ابو اسامہ نے اعمش سے حدیث سنائی ، انہوں نے عمرو بن مرہ سے ، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جب یہ آیت اتری : ’’ اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے ‘ ‘ ( خاص کر ) اپنے خاندان کے مخلص لوگوں کو ۔ تو رسول اللہ ﷺ ( گھر سے ) نکلے یہاں تک کہ کوہ صفا پر چڑھ گئے اور پکار کر کہا : ’’وائے اس کی صبح ( کی تباہی ) ِِ ( سب ایک دوسرے سے ) پوچھنے لگے : یہ کون پکا رہا ہے ؟ ( کچھ ) لوگوں نے کہا : محمدﷺ ، چنانچہ سب لوگ آپ کے پاس جمع ہو گئے ۔ آپ نے فرمایا : ’’ اے فلاں کی اولاد! اے فلاں کی اولاد ! اے عبدمناف کی اولاد! اے عبد المطلب کی اولاد! ‘ ‘ یہ لوگ آپ کےقریب جمع ہو گئے تو آپ نے پوچھا : ’’تمہارا کیا خیال ہے ہے کہ اگر میں تمہیں خبر دوں کہ اس پہاڑ کے دامن سے گھڑ سوار نکلنے والے ہیں تو کیا تم میری تصدیق کروگے؟ ‘ ‘ انہوں نے کہا : ہمیں آپ سے کبھی جھوٹی بات ( سننے ) کا تجربہ نہیں ہوا ۔ آپ نے فرمایا : ’’تو میں تمہیں آنےوالے شدید عذاب سے ڈرا رہا ہوں ۔ ‘ ‘ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : تو ابولہب کہنے لگا : تمہارے لیے تباہی ہو ، کیا تم نے ہمیں اسی بات کے لیے جمع کیا تھا؟ پھر وہ اٹھ گیا ۔ اس پر یہ سورت نازل ہوئی : ’’ابولہب کے دونوں ہاتھ تباہ ہوئے اور وہ خود ہلاک ہوا ۔ ‘ ‘ اعمش نے اسی طرح سورت کے آخر تک پڑھا ۔