#4725
This tradition has been narrated through more; than one chain of transmitters
عبیداللہ بن عمر ، ایوب ، ضحاک بن عثمان اور اسامہ ( بن زید لیثی ) سب نے نافع سے ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح لیث نے نافع سے بیان کی
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي الْقَطَّانَ - كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، جَمِيعًا عَنْ أَيُّوبَ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ، - يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ - ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ، كَلُّ هَؤُلاَءِ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، مِثْلَ حَدِيثِ اللَّيْثِ عَنْ نَافِعٍ، . قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، بِهَذَا مِثْلَ حَدِيثِ اللَّيْثِ عَنْ نَافِعٍ، .
#4726
This tradition has been narrated through more; than one chain of transmitters
عبیداللہ بن عمر ، ایوب ، ضحاک بن عثمان اور اسامہ ( بن زید لیثی ) سب نے نافع سے ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح لیث نے نافع سے بیان کی
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي الْقَطَّانَ - كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، جَمِيعًا عَنْ أَيُّوبَ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ، - يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ - ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ، كَلُّ هَؤُلاَءِ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، مِثْلَ حَدِيثِ اللَّيْثِ عَنْ نَافِعٍ، . قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، بِهَذَا مِثْلَ حَدِيثِ اللَّيْثِ عَنْ نَافِعٍ، .
#4727
This hadith has been transmitted on the authority of Ibn 'Umar, but there is (a slight change of wording) in the hadith transmitted through Zuhri that he said:" I think that he (the narrator) said: The man is a custodian of the wealth of his father, and he would be answerable for what is in his custody
اسماعیل بن جعفر نے حضرت عبداللہ بن دینار سے ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ اور یونس نے ابن شہاب سے ، انہوں نے سالم بن عبداللہ سے ، انہوں نے اپنے والد ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ) سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ، ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نافع کی حدیث کے مانند ۔ ( یونس نے ) زہری کی حدیث میں یہ اضافہ کیا : کہا : میں سمجھتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " آدمی اپنے باپ کے مال کا راعی ( محافظ ) ہے اور اس سے اس کی رعایا کے متعلق سوال کیا جائے گا
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ، حُجْرٍ كُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ح. وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ . بِمَعْنَى حَدِيثِ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَزَادَ فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ قَالَ وَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَدْ قَالَ " الرَّجُلُ رَاعٍ فِي مَالِ أَبِيهِ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ " .
#4728
A hadith having the same meaning has been transmitted on the authority of 'Abdullah b. 'Umar
بسر بن سعید نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے
وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي رَجُلٌ، سَمَّاهُ وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْمَعْنَى .
#4729
It has been narrated on the authority of Hasan who said:Ubaidullah b Ziyad visited Ma'qil b. Yasir al-Muzani in his last iliness. Ma'qil said (to him): I am narrating to you a tradition I heard from the Messenger of Allah (ﷺ). If I knew that I am to survive this illness. I would, not narrate it to you. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: If God appointed anyone ruler over a people and he died while he was still treacherous to his people, God would forbid his entry into Paradise
ابو اشہب نے حضرت حسب بصری سے روایت کی کہ عبیداللہ بن زیاد حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کے پاس اس مرض میں ان کی عیادت کرنے کے لیے گئے جس میں ان کی وفات ہوئی ۔ حضرت معقل رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تم کو ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جس کو میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، اگر مجھے ( پکا ) علم ہوتا کہ میں ابھی اور زندہ رہوں گا تو میں تمہیں یہ حدیث نہ سناتا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " کوئی شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے کسی بھی رعیت کا ذمہ دار بنایا وہ جس دن مرے اس حال میں مرے کہ وہ اپنی رعایا کے ساتھ خیانت کرنے والا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام کر دے گا
وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْهَبِ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ عَادَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ الْمُزَنِيَّ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَقَالَ مَعْقِلٌ إِنِّي مُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَوْ عَلِمْتُ أَنَّ لِي حَيَاةً مَا حَدَّثْتُكَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْتَرْعِيهِ اللَّهُ رَعِيَّةً يَمُوتُ يَوْمَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لِرَعِيَّتِهِ إِلاَّ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ " .
#4730
It has been narrated through a different chain of transmitters on the authority of Hasan who said:Ibn, Ziyad paid a visit to Ma'qil b. Yasir who was seriously ill. Here follows the same tradition as has gone before with the addition that Ibn Ziyad asked: Why didn't you narrate this tradition to me before this day? Ma'qil reprimanded him and said: I did not narrate it to you or I was not going to narrate it to you
یونس نے حضرت حسن بصری سے روایت کی ، کہا : ابن زیاد حضرت معقل رضی اللہ عنہ کے پاس گیا وہ اس وقت ( بیمار تھے اور ) درد میں مبتلا تھے ، جیسے ابو اشہب کی حدیث ہے اور انہوں نے اضافہ کیا : اس ( ابن زیاد ) نے کہا : آپ نے آج سے پہلے مجھے یہ حدیث کیوں نہیں بیان کی؟ حضرت معقل رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے تمہیں کبھی حدیث نہیں سنائی ، ( تم نے حدیث کا سماع ہی نہیں کیا ) یا فرمایا : میں تمہیں حدیث بیان نہیں کیا کرتا تھا ( حدیث میں تمہارا استاد نہ تھا)
وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ دَخَلَ ابْنُ زِيَادٍ عَلَى مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ وَهُوَ وَجِعٌ . بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي الأَشْهَبِ وَزَادَ قَالَ أَلاَّ كُنْتَ حَدَّثْتَنِي هَذَا، قَبْلَ الْيَوْمِ قَالَ مَا حَدَّثْتُكَ أَوْ، لَمْ أَكُنْ لأُحَدِّثَكَ .
#4731
It has been narrated on the authority of Abu Malik that Ubaidullah b. Ziyad visited Ma'qil b. Yaser in the latter's illness. Ma'qil said to him:I am narrating to you a tradition. If I were not at death's door, I would not narrate it to you. I heard the Messenger of Allah (may peace he upon him) say: A ruler who, having obtained control over the affairs of the Muslims, does not strive for their betterment and does not serve them sincerely shall not enter Paradise with them
ابو ملیح سے روایت ہے کہ عبیداللہ بن زیاد ، حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بیماری میں ان کے پاس گیا ، حضرت معقل رضی اللہ عنہ نے کہا : میں تم کو ایک حدیث بیان کرنے لگا ہوں اور اگر میں مرض الموت میں نہ ہوتا تو تمہیں یہ حدیث نہ سناتا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : " کوئی امیر نہیں جو مسلمانوں کے امور کا ذمہ دار ہو ، پھر ان کے لیے جدوجہد اور خیرخواہی نہ کرے ، مگر وہ ان کے ساتھ جنت میں داخل نہیں ہو گا
وَحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، أَنَّإِنِّي مُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ لَوْلاَ أَنِّي فِي الْمَوْتِ لَمْ أُحَدِّثْكَ بِهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَا مِنْ أَمِيرٍ يَلِي أَمْرَ الْمُسْلِمِينَ ثُمَّ لاَ يَجْهَدُ لَهُمْ وَيَنْصَحُ إِلاَّ لَمْ يَدْخُلْ مَعَهُمُ الْجَنَّةَ " .
#4732
It has been narrated on the authority of Abu al-Aswad who said:My father related to me that Ma'qil b. Yasir fell ill. 'Ubaidullah b. Ziyad called on him to inquire after his health. Here follows the tradition as narrated by Hasan from Ma'qil
سوادہ بن ابواسود نے خبر دی کہ میرے والد نے مجھے حدیث بیان کی کہ حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے تو عبیداللہ بن زیاد ان کی عیادت کے لیے گیا ۔ ( آگے ) حسن بصری کی حضرت معقل رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث کی طرح ہے
وَحَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنِي سَوَادَةُ بْنُ أَبِي، الأَسْوَدِ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ، مَرِضَ فَأَتَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ يَعُودُهُ . نَحْوَ حَدِيثِ الْحَسَنِ عَنْ مَعْقِلٍ، .
#4733
It has been narrated on the authority of Hasan that A'idh b. 'Amr who was one of the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) called on 'Ubaidullah b. Ziyad and said (to him):O my son, I have heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: The worst of guardians is the cruel ruler. Beware of being one of them. Ubaidullah said (to him out of arrogance): Sit you down. You are from the chaff of the Companions of Muhammad (ﷺ). A'idh said: Was there worthless chaff among them? Such worthless chaff appeared after them and among other people
حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے بتایا کہ عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے ، عبیداللہ بن زیاد کے پاس گئے اور فرمایا : میرے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " بدترین راعی ، سخت گیر اور ظلم کرنے والا ہوتا ہے ، تم اس سے بچنا کہ تم ان میں سے ہو ۔ " اس نے کہا : آپ بیٹھیے : آپ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے چھلنی میں بچ جانے والے آخری حصے کی طرح ہیں ۔ ( آخر میں چونکہ تنکے ، پتھر ، بھوسی بچ جاتے ہیں ، اس لیے ) انہوں نے کہا : کیا ان میں بھوسی ، تنکے ، پتھر تھے؟ یہ تو ان کے بعد ہوئے اور ان کے علاوہ دوسروں میں ہوئے
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، أَنَّ عَائِذَ بْنَ عَمْرٍو، - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - دَخَلَ عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ فَقَالَ أَىْ بُنَىَّ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ شَرَّ الرِّعَاءِ الْحُطَمَةُ فَإِيَّاكَ أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ " . فَقَالَ لَهُ اجْلِسْ فَإِنَّمَا أَنْتَ مِنْ نُخَالَةِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ وَهَلْ كَانَتْ لَهُمْ نُخَالَةٌ إِنَّمَا كَانَتِ النُّخَالَةُ بَعْدَهُمْ وَفِي غَيْرِهِمْ .
#4734
It has been narrated on the authority of Abu Huraira who said:One day the Messenger of Allah (ﷺ) stood among us (to deliver a sermon). He talked about the misappropriation of booty, and declared it to be a serious matter and a grave sin. Then he said: I shouldn't find that any of you should come on the Day of Judgment with a growling camel mounted on his neck, and should appeal to me for help saying:" Messenger of Allah, help me." and I should say: I have no authority to help you; I already communicated to you. I shouldn't find that any of you should come on the Day of Judgment with a bleating ewe mounted on his neck, and he should say to me:" Messenger of Allah, help me," and I should say: I have no authority to help you; I conveyed to you. I shouldn't find that one of you should come on the Day of Judgment with a Person crying loudly mounted on his neck, and he should say to me:" Messenger of Allah, help me," and I should say: I have no authority to help you; I conveyed to you. I shouldn't find that any one of you should come on the Day of Judgment with fluttering clothes wrapped round his neck and he should say to me:" Messenger of Allah, help me," and I should say: I have no authority to help you; I conveyed to you. I shouldn't find that any of you should come on the Day of Judgment with a heap of gold and silver placed on his neck and he should say to me:" Messenger of Allah, help me." and I should say: I have no authority to help you; I already conveyed to you (the warning from the Almighty)
اسماعیل بن ابراہیم نے ابوحیان سے ، انہوں نے ابو زرعہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں ( خطبہ دینے کے لیے ) کھڑے ہوئے ۔ اور آپ نے مال غنیمت میں خیانت کا ذکر فرمایا : آپ نے ایسی خیانت اور اس کے معاملے کو انتہائی سنگین قرار دیا ، پھر فرمایا : " میں تم میں سے کسی کو قیامت کے دن اس طرح آتا ہوا نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر اونٹ سوار ہو کر بلبلا رہا ہو اور وہ کہے : اللہ کے رسول! میری مدد فرمائیے ، اور میں جواب میں کہوں : میں تمہارے لئے کچھ کرنے کا اختیار نہیں رکھتا ، میں نے تمہیں ( دنیا ہی میں ) حق پہنچا دیا تھا ۔ میں تم میں سے کسی شخص کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر گھوڑا سوار ہو کر ہنہنا رہا ہو ، وہ کہے : اللہ کے رسول! میری مدد کیجئے ، اور میں کہوں کہ میں تمہارے لیے کچھ بھی نہیں کر سکتا ، میں نے تمہیں حق پہنچا دیا تھا ۔ میں تم میں سے کسی شخص کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر بکری سوار ہو کر ممیا رہی ہو ، وہ کہے : اللہ کے رسول! میری مدد کیجئے ، اور میں کہوں : میں تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا ، میں نے تمہیں حق سے آگاہ کر دیا تھا ، میں تم میں سے کسی شخص کو روزِ قیامت اس حالت میں نہ دیکھوں کہ اس کی گردن پر کسی شخص کی جان سوار ہو اور وہ ( ظلم کی دہائی دیتے ہوئے ) چیخیں مار رہی ہو ، اور وہ شخص کہے : اللہ کے رسول! میری مدد کیجئے ، اور میں کہوں : میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا ، میں نے تمہیں سب کچھ بتا دیا تھا ۔ میں تم میں سے کسی شخص کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر کپڑا لدا ہوا پھڑپھڑا رہا ہو ، اور وہ کہے : اللہ کے رسول! میری مدد کیجئے ، میں کہوں : تمہارے لیے میرے بس میں کچھ نہیں ، میں نے تم کو سب کچھ سے آگاہ کر دیا تھا ۔ میں تم میں سے کسی شخص کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گرن پر نہ بولنے والا مال ( سونا چاندی ) لدا ہوا ہو ، وہ کہے : اللہ کے رسول! میری مدد کیجئے ، میں کہوں : تمہارے لیے میرے پاس کسی چیز کا اختیار نہیں ، میں نے تم کو ( انجام ) کی خبر پہنچا دی تھی
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، عَنْ أَبِي، زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ فَذَكَرَ الْغُلُولَ فَعَظَّمَهُ وَعَظَّمَ أَمْرَهُ ثُمَّ قَالَ " لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ يَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي . فَأَقُولُ لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ . لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ فَرَسٌ لَهُ حَمْحَمَةٌ فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي . فَأَقُولُ لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ . لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ شَاةٌ لَهَا ثُغَاءٌ يَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي . فَأَقُولُ لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ . لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ نَفْسٌ لَهَا صِيَاحٌ فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي . فَأَقُولُ لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ . لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ رِقَاعٌ تَخْفِقُ فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي . فَأَقُولُ لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ . لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ صَامِتٌ فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي فَأَقُولُ لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ " .
#4735
The above tradition has been narrated on the same authority through different chains of transmitters
عبدالرحیم بن سلیمان نے ابوحیان سے ، جریر نے ان سے اور عمارہ بن قعقاع سے ، ان سب نے ابوزرعہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ابوحیان سے اسماعیل کی روایت کردہ حدیث کی طرح روایت بیان کی
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، وَعُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ عَنْ أَبِي حَيَّانَ، .
#4736
Abu Huraira has narrated this hadith with a slight variation of words
حماد بن زید نے ایوب سے ، انہوں نے یحییٰ بن سعید سے ، انہوں نے ابوزرعہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت میں خیانت کا ذکر فرمایا اور اس کی سنگینی بیان کی اور انہوں ( ایوب ) نے پوری حدیث بیان کی ۔ حماد نے کہا : پھر اس کے بعد میں نے یحییٰ بن سعید کو یہی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ۔ انہوں نے بعینہ اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح ہمیں ایوب نے ان سے بیان کی تھی
وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْغُلُولَ فَعَظَّمَهُ . وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ قَالَ حَمَّادٌ ثُمَّ سَمِعْتُ يَحْيَى بَعْدَ ذَلِكَ يُحَدِّثُهُ فَحَدَّثَنَا بِنَحْوِ مَا حَدَّثَنَا عَنْهُ أَيُّوبُ .
#4737
Abu Huraira has narrated this hadith similar to the above mentioned hadith
ہمیں عبدالوارث نے بیان کیا ، کہا : ہمیں ایوب نے یحییٰ بن سعید بن حیان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوزرعہ سے ، انہوں نے ابوہریرہ سے ان سب کی حدیث کی طرح حدیث روایت کی
وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ .
#4738
It has been narrated on the authority of Abu Humaid as-Sa'idi who said:The Messenger of Allah (ﷺ) appointed a man from the Asad tribe who was called Ibn Lutbiyya in charge of Sadaqa (i. e. authorised hign to receive Sadaqa from the people on behalf of the State. When he returned (with the collictions), he said: This is for you and (this is mine as) it was presented to me as a gift. The narrator said: The Messenger of Allah (may peace be upod him) stood on the pulpit and praised God and extolled Him. Then he said: What about a State official whom I give an assignment and who (comes and) says: This is for you and this has been presented to me as a gift? Why didn't he remain in the house of his father or the house of his mother so that he could observe whether gifts were presented to him or not. By the Being in Whose Hand is the life of Muhammad, any one of you will not take anything from it but will bring it on the Day of Judgment, carrying on his neck a camel that will be growling, or a cow that will be bellowing or an ewe that will be bleating. Then he raised his hands so that we could see the whiteness of his armpits. Then he said twice: O God, I have conveyed (Thy Commandments)
ابوبکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد اور ابن ابی عمر نے حدیث بیان کی ، ۔ ۔ الفاظ ابوبکر بن ابی شیبہ کے ہیں ۔ ۔ کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عروہ سے ، انہوں نے ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو اسد کے ایک شخص کو جسے ابن لُتبیہ کہا جاتا تھا ، عامل مقرر کیا ۔ ۔ عمرو اور ابن ابی عمر نے کہا : زکاۃ کی وصولی پر ( مقرر کیا ) ۔ ۔ جب وہ ( زکاۃ وصول کر کے ) آیا تو اس نے کہا : یہ آپ لوگوں کے لیے ہے اور یہ مجھے ہدیہ کیا گیا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے ، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا : "" ایک عامل کا حال کیا ہوتا ہے کہ میں اس کو ( زکاۃ وصول کرنے ) بھیجتا ہوں اور وہ آ کر کہتا ہے : یہ آپ لوگوں کے لیے ہے اور یہ مجھے ہدیہ کیا گیا ہے ، ایسا کیوں نہ ہوا کہ یہ اپنے باپ یا اپنی ماں کےگھر میں بیٹھتا ، پھر نظر آتا کہ اسے ہدیہ دیا جاتا ہے یا نہیں؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! تم میں سے کوئی بھی شخص ایسا نہیں کہ وہ اس ( مال ) میں سے ( اپنے لیے ) کچھ لے ، مگر وہ قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ اس نے اسے اپنی گردن پر اٹھا رکھا ہو گا ، قیامت کے دن اونٹ ہو گا ، بلبلا رہا ہو گا ، گائے ہو گی ، ڈکرا رہی ہو گی ، بکری ہو گئی ، ممیا رہی ہو گی ۔ "" پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اس قدر بلند کیے کہ ہمیں آپ کی دونوں بغلوں کے سفید حصے نظر آئے ، پھر آپ نے دو مرتبہ فرمایا : "" اے اللہ! کیا میں نے ( حق ) پہنچا دیا؟ "" ( 4739 ) معمر نے زہری سے ، انہوں نے عروہ سے ، انہوں نے ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اَزد کے ابن لتبيه نامی ایک شخص کو زکاۃ ( کی وصولی ) پر عامل بنایا ، وہ کچھ مال لے کر آیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا اور کہا : یہ آپ لوگوں کا مال ہے اور یہ ہدیہ ہے جو مجھے دیا گیا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : "" تم اپنے باپ یا اپنی ماں کے گھر میں کیوں نہیں بیٹھے ، پھر دیکھتے کہ تمہیں ہدیہ دیا جاتا ہے یا نہیں؟ "" پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے ، پھر سفیان ( بن عیینہ ) کی حدیث کی طرح بیان کیا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، - وَاللَّفْظُ لأَبِي بَكْرٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ اسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً مِنَ الأَسْدِ يُقَالُ لَهُ ابْنُ اللُّتْبِيَّةِ - قَالَ عَمْرٌو وَابْنُ أَبِي عُمَرَ عَلَى الصَّدَقَةِ - فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ هَذَا لَكُمْ وَهَذَا لِي أُهْدِيَ لِي قَالَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ " مَا بَالُ عَامِلٍ أَبْعَثُهُ فَيَقُولُ هَذَا لَكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي . أَفَلاَ قَعَدَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ أَوْ فِي بَيْتِ أُمِّهِ حَتَّى يَنْظُرَ أَيُهْدَى إِلَيْهِ أَمْ لاَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لاَ يَنَالُ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْهَا شَيْئًا إِلاَّ جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَى عُنُقِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ أَوْ بَقَرَةٌ لَهَا خُوَارٌ أَوْ شَاةٌ تَيْعِرُ " . ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْنَا عُفْرَتَىْ إِبْطَيْهِ ثُمَّ قَالَ " اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ " . مَرَّتَيْنِ .
#4739
It has been reported on the authority of Abu Humaid as-Sa'idi who said:The Prophet (ﷺ) appointed Ibn Lutbiyya, a man from the Azd tribe, in charge of Sadaqa (authorising him to receive gifts from the people on behalf of the State). He came with the collection, gave it to the Prophet (ﷺ), and said: This wealth is for you and this is a gift presented to me. The Prophet (ﷺ) said to him: Why didn't you remain in the house of your father and your mother to see whether gifts were presented to you or not. Then he stood up to deliver a sermon. Here follows the tradition like the tradition of Sufyan
معمر نے زہری سے ، انہوں نے عروہ سے ، انہوں نے ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اَزد کے ابن لتبيه نامی ایک شخص کو زکاۃ ( کی وصولی ) پر عامل بنایا ، وہ کچھ مال لے کر آیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا اور کہا : یہ آپ لوگوں کا مال ہے اور یہ ہدیہ ہے جو مجھے دیا گیا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " تم اپنے باپ یا اپنی ماں کے گھر میں کیوں نہیں بیٹھے ، پھر دیکھتے کہ تمہیں ہدیہ دیا جاتا ہے یا نہیں؟ " پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے ، پھر سفیان ( بن عیینہ ) کی حدیث کی طرح بیان کیا
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ اسْتَعْمَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ابْنَ اللُّتْبِيَّةِ - رَجُلاً مِنَ الأَزْدِ - عَلَى الصَّدَقَةِ فَجَاءَ بِالْمَالِ فَدَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ هَذَا مَالُكُمْ وَهَذِهِ هَدِيَّةٌ أُهْدِيَتْ لِي . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَفَلاَ قَعَدْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِّكَ فَتَنْظُرَ أَيُهْدَى إِلَيْكَ أَمْ لاَ " . ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خَطِيبًا . ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ سُفْيَانَ .
#4740
It has been reported on the authority of Abu Humaid as-Sa'idi who said:The Messenger of Allah (ﷺ) appointed a man from the Azd tribe called Ibn al-Utbiyya, in charge of Sadaqat to be received from Banu Sulaim. When he came (back), the Messenger of Allah (ﷺ) asked him to render his account. He said: This wealth is for you (i.e. for the public treasury) and this is a gift (presented to me). The Messenger of Allah (ﷺ) said: You should have remained in the house of your father and your mother, until your gift came to you if you spoke the truth; then he addressed us. He praised God and extolled Him, and afterwards said: I appoint a man from you to a responsible post sharing with him authority that God has entrusted to me, and he comes to me saying: This wealth is for you (i.e. for the public treasury) and this is a gift presented to me. Why did he not remain in the house of his father and his mother and his gift came to him, if he was truthful? By God, any one of you will not take anything from (the public funds) without any justification, but will meet his Lord carrying it on himself on the Day of judgment. I will recognise any one of you meeting Allah and carrying a growling camel, or a cow bellowing or a goat bleating. Then he raised his hands so high that whiteness of his armpits could be seen. Then he said: O my Lord, I have conveyed (Thy Commandments). The narrator says: My eyes saw (the Prophet standing in that pose) and my ears heard (what he said)
ہشام نے اپنے والد سے ، انہوں نے ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو اسد کے ایک شخص کو بنو سلیم کے صدقات وصول کرنے کے لیے عامل بنایا ، اسے ابن اُتبیہ کہا جاتا تھا ۔ جب وہ مال وصول کر کے آیا تو ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) اس کے ساتھ حساب کیا ۔ وہ کہنے لگا : یہ آپ لوگوں کا مال ہے اور یہ ہدیہ ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر تم سچے ہو تو اپنے باپ یا اپنی ماں کے گھر میں جا کر کیوں نہ بیٹھ گئے تاکہ تمہارا ہدیہ تمہارے پاس آ جاتا ۔ " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا ، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی ، پھر فرمایا : " اما بعد! میں تم میں سے کسی شخص کو کسی ایسے کام پر عامل بناتا ہوں جس کی تولیت ( انتظام ) اللہ تعالیٰ نے میرے سپرد کی ہے اور وہ شخص آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ تم لوگوں کا مال ہے اور یہ ہدیہ ہے جو مجھے ملا ہے ۔ وہ شخص اگر سچا ہے تو اپنے باپ یا اپنی ماں کے گھر میں کیوں نہ بیٹھ گیا تاکہ اس کا ہدیہ اس کے پاس آتا ، اللہ کی قسم! تم میں سے جو شخص بھی اس مال میں سے کوئی چیز اپنے حق کے بغیر لے گا ، وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے اس حال میں پیش ہو گا کہ وہ چیز اس نے اپنی گردن پر اٹھا رکھی ہو گی ، میں تم میں سے کسی بھی شخص کو ضرور پہچان لوں گا جو اللہ تعالیٰ کے سامنے اس حال میں پیش ہو گا کہ اس نے اونٹ اٹھایا ہو گا جو بلبلا رہا ہو گا ، یا گائے اٹھا رکھی ہو گی جو ڈکرا رہی ہو گی ، یا بکری اٹھائی ہو گی جو ممیا رہی ہو گی ، " پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اتنا اوپر اٹھایا کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی ، ( اس وقت ) آپ فرما رہے تھے : " اے اللہ! کیا میں نے ( تیرا پیگام ) پہنچا دیا؟ " ( ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ سب ) میری آنکھوں نے دیکھا اور میرے کانوں نے سنا
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ اسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً مِنَ الأَزْدِ عَلَى صَدَقَاتِ بَنِي سُلَيْمٍ يُدْعَى ابْنَ الأُتْبِيَّةِ فَلَمَّا جَاءَ حَاسَبَهُ قَالَ هَذَا مَالُكُمْ وَهَذَا هَدِيَّةٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَهَلاَّ جَلَسْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِّكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ هَدِيَّتُكَ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا " . ثُمَّ خَطَبَنَا فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ " أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَسْتَعْمِلُ الرَّجُلَ مِنْكُمْ عَلَى الْعَمَلِ مِمَّا وَلاَّنِي اللَّهُ فَيَأْتِي فَيَقُولُ هَذَا مَالُكُمْ وَهَذَا هَدِيَّةٌ أُهْدِيَتْ لِي . أَفَلاَ جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ حَتَّى تَأْتِيَهُ هَدِيَّتُهُ إِنْ كَانَ صَادِقًا وَاللَّهِ لاَ يَأْخُذُ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْهَا شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ إِلاَّ لَقِيَ اللَّهَ تَعَالَى يَحْمِلُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَلأَعْرِفَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ لَقِيَ اللَّهَ يَحْمِلُ بَعِيرًا لَهُ رُغَاءٌ أَوْ بَقَرَةً لَهَا خُوَارٌ أَوْ شَاةً تَيْعِرُ " . ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رُئِيَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ ثُمَّ قَالَ " اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ " . بَصُرَ عَيْنِي وَسَمِعَ أُذُنِي .
#4741
This tradition has been hanoed down through a different chain of transmitters on the authority of Hisham with aslight variation in the wording
عبدہ ، ابن نمیر اور ابومعاویہ ، اسی طرح عبدالرحیم بن سلیمان اور سفیان سب نے اسی سند کے ساتھ ہشام سے روایت کی ۔ عبدہ اور ابن نمیر کی حدیث میں ہے : جب وہ آیا تو ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) اس کے ساتھ حساب کیا ، جس طرح ابواسامہ نے کہا اور ابن نمیر کی حدیث میں یہ ( بھی ) ہے : " تم لوگوں کو ضرور پتہ چل جائے گا ، اللہ کی قسم! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم میں سے کوئی بھی شخص جو اس ( مال ) میں سے کوئی چیز لے گا ۔ " سفیان کی حدیث میں یہ اضافہ ہے : میری آنکھ نے دیکھا اور میرے دونوں کانوں نے سنا ۔ ( حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کرتے ہوئے ) کہا : تم لوگ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے پوچھ لو ، وہ بھی میرے ساتھ موجود تھے
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ، أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . وَفِي حَدِيثِ عَبْدَةَ وَابْنِ نُمَيْرٍ فَلَمَّا جَاءَ حَاسَبَهُ . كَمَا قَالَ أَبُو أُسَامَةَ . وَفِي حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ " تَعْلَمُنَّ وَاللَّهِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ مِنْهَا شَيْئًا " . وَزَادَ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ قَالَ بَصُرَ عَيْنِي وَسَمِعَ أُذُنَاىَ . وَسَلُوا زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَإِنَّهُ كَانَ حَاضِرًا مَعِي .
#4742
It has been narrated on the authority of Abu Humaid as-Sa'idi that the Messenger of Allah (ﷺ) appointed a man in charge of Sadaqa (authorising him to receive charity from the people on behalf of the State). He came (back to the Holy prophet) with a large number of things and started saying:This is for you and this has been presented to me as a gift. Here follows the tradition that has gone before except that 'Urwa (one of the narrators in the chain of transmitters) asked Abu Humaid: Did you hear it from the Messenger of Allah (himself) (ﷺ)? He replied: My ears heard it from his mouth
عبداللہ بن ذکوان یعنی ابوزناد سے روایت ہے انہوں نے عروہ بن زبیر سے ، انہوں نے ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو صدقات پر عامل مقرر کیا ، وہ بہت زیادہ مال لے کر آیا اور کہنے لگا : یہ آپ لوگوں کا ہے اور یہ مجھے بطور ہدیہ ملا ہے ، پھر اسی ( سابقہ حدیث کی ) طرح بیان کیا ۔ عروہ نے کہا : میں نے حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا آپ نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی؟ انہوں نے کہا : براہِ راست آپ کے دہن مبارک سے اپنے کانوں تک ( آتی ہوئی آواز سے سنی)
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ذَكْوَانَ، - وَهُوَ أَبُو الزِّنَادِ - عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَعْمَلَ رَجُلاً عَلَى الصَّدَقَةِ فَجَاءَ بِسَوَادٍ كَثِيرٍ فَجَعَلَ يَقُولُ هَذَا لَكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ إِلَىَّ . فَذَكَرَ نَحْوَهُ قَالَ عُرْوَةُ فَقُلْتُ لأَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ أَسَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ مِنْ فِيهِ إِلَى أُذُنِي .
#4743
It has been reported on the authority of 'Adi b. 'Amira al-Kindi who said:I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Whosoever from you is appointed by us to a position of authority and he conceals from us a needle or something smaller than that, it would be misappropriation (of public funds) and will (have to) produce it on the Day of Judgment. The narrator says: A dark-complexioned man from the Ansar stood up - I can visualise him still - and said: Messenger of Allah, take back from me your assignment. He said: What has happened to you? The man said: I have heard you say so and so. He said: I say that (even) now: Whosoever from you is appointed by us to a position of authority, he should bring everything, big or small, and whatever he is given therefrom he should take, and he should restrain himself from taking that which is forbidden
وکیع بن جراح نے کہا : ہمیں اسماعیل بن ابی خالد نے قیس بن ابی حازم سے حدیث سنائی ، انہوں نے حضرت عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " ہم تم میں سے جس شخص کو کسی کام پر عامل مقرر کریں اور وہ ایک سوئی یا اس سے بڑی کوئی چیز ہم سے چھپا لے تو یہ خیانت ہو گی ، وہ شخص قیامت کے دن اسے ساتھ لے کر آئے گا ۔ " ( حضرت عدی رضی اللہ عنہ نے ) کہا : میں دیکھ رہا تھا ، ( یہ بات سن کر ) انصار میں سے کالے رنگ کا ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا : یا رسول اللہ! آپ مجھ سے اپنا کام واپس لے لیجئے! آپ نے فرمایا : " تمہیں کیا ہوا؟ " اس نے کہا : میں نے آپ کو اس اس طرح فرماتے ہوئے سنا ہے ( میں اس وعید سے ڈرتا ہوں ۔ ) آپ نے فرمایا : میں اب بھی یہی کہتا ہوں کہ ہم تم میں سے جس شخص کو کسی کام کا عامل بنائیں وہ ہر چھوٹی اور بڑی چیز کو لے کر آئے ، اس کے بعد اس میں سےجو چیز اس کو دی جائے وہ لے لے اور جو چیز اس سے روک لی جائے اس سے دور رہے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي، خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَمِيرَةَ الْكِنْدِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ مِنْكُمْ عَلَى عَمَلٍ فَكَتَمَنَا مِخْيَطًا فَمَا فَوْقَهُ كَانَ غُلُولاً يَأْتِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ أَسْوَدُ مِنَ الأَنْصَارِ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْبَلْ عَنِّي عَمَلَكَ قَالَ " وَمَا لَكَ " . قَالَ سَمِعْتُكَ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا . قَالَ " وَأَنَا أَقُولُهُ الآنَ مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ مِنْكُمْ عَلَى عَمَلٍ فَلْيَجِئْ بِقَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ فَمَا أُوتِيَ مِنْهُ أَخَذَ وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهَى " .
#4744
This hadith has been narrated on the authority of Isma'il with the same chain of transmitters
عبداللہ بن نمیر ، محمد بن بشر اور ابواسامہ سبنے کہا : ہمیں اسماعیل نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مطابق حدیث بیان کی
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ، بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ .
#4745
Adi b. 'Amira al-Kindi heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying (as) was narrated in the (above-mentioned) hadith
فضل بن موسیٰ نے کہا : ہمیں اسماعیل بن ابی خالد نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں قیس بن ابی حازم نے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ، ان سب کی حدیث کے مانند
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، بْنُ أَبِي خَالِدٍ أَخْبَرَنَا قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ عَمِيرَةَ الْكِنْدِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ .
#4746
It has been narrated on the authority of Ibn Juraij that the Qur'anic injunction:" 0 you who believe, obey Allah, His Apostle and those in authority from amongst You" (iv. 59) -was revealed in respect of 'Abdullah b. Hudhafa b. Qais b. Adi al-Sahmi who was despatched by the Prophet (ﷺ) as leader of a military campaign. The narrator said: He was informed of this fact by Ya'la b. Muslim who was informed by Sa'id b. Jubair who in turn was informed by Ibn Abbas
ابن جریج نے بیان کیا کہ قرآن مجید کی آیت : " اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور ان کی جو تم میں سے اختیار والے ہیں " حضرت عبداللہ بن حذافہ بن قیس بن عدی سہمی رضی اللہ عنہ کے متعلق نازل ہوئی ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک لشکر میں ( امیر بنا کر ) روانہ کیا تھا ( ابن جریج نے کہا ) مجھے یعلیٰ بن مسلم نے سعید بن جبیر سے خبر دی ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ نَزَلَ { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأَمْرِ مِنْكُمْ} فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَدِيٍّ السَّهْمِيِّ بَعَثَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي سَرِيَّةٍ . أَخْبَرَنِيهِ يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ .
#4747
It has been narrated on the authority of Abu Huraira that the Holy prophet (ﷺ) said:Whoso obeys me obeys God, and whoso disobeys me disobeys God. Whoso obeys the commander (appointed by me) obeys me, and whoso disobeys the commander disobeys me. The same tradition transmitted by different persons omits the portion: And whose disobeys the commander disobeys me
مغیرہ بن عبدالرحمان نے ابوزناد سے ، انہوں نے اعرج سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ يَعْصِنِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَمَنْ يُطِعِ الأَمِيرَ فَقَدْ أَطَاعَنِي وَمَنْ يَعْصِ الأَمِيرَ فَقَدْ عَصَانِي " . وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُر " وَمَنْ يَعْصِ الأَمِيرَ فَقَدْ عَصَانِي " .
#4748
It has been narrated on the authority of Abu Huraira that the Holy prophet (ﷺ) said:Whoso obeys me obeys God, and whoso disobeys me disobeys God. Whoso obeys the commander (appointed by me) obeys me, and whoso disobeys the commander disobeys me. The same tradition transmitted by different persons omits the portion: And whose disobeys the commander disobeys me
مغیرہ بن عبدالرحمان نے ابوزناد سے ، انہوں نے اعرج سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ يَعْصِنِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَمَنْ يُطِعِ الأَمِيرَ فَقَدْ أَطَاعَنِي وَمَنْ يَعْصِ الأَمِيرَ فَقَدْ عَصَانِي " . وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُر " وَمَنْ يَعْصِ الأَمِيرَ فَقَدْ عَصَانِي " .
#4749
It has been narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) said:Whoso obeys me obeys God; and whose disobeys me disobeys God. Whoso obeys my commander obeys me, and whoso disobeys my commander disobeys me
یونس نے خبر دی کہ انہیں ابن شہاب نے خبر دی ، کہا : ہمیں ابوسلمہ بن عبدالرحمان نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے میرے ( مقرر کردہ ) امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَمَنْ أَطَاعَ أَمِيرِي فَقَدْ أَطَاعَنِي وَمَنْ عَصَى أَمِيرِي فَقَدْ عَصَانِي " .