العربية
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ اسْتَعْمَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ابْنَ اللُّتْبِيَّةِ - رَجُلاً مِنَ الأَزْدِ - عَلَى الصَّدَقَةِ فَجَاءَ بِالْمَالِ فَدَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ هَذَا مَالُكُمْ وَهَذِهِ هَدِيَّةٌ أُهْدِيَتْ لِي . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَفَلاَ قَعَدْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِّكَ فَتَنْظُرَ أَيُهْدَى إِلَيْكَ أَمْ لاَ " . ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خَطِيبًا . ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ سُفْيَانَ .
English
It has been reported on the authority of Abu Humaid as-Sa'idi who said:The Prophet (ﷺ) appointed Ibn Lutbiyya, a man from the Azd tribe, in charge of Sadaqa (authorising him to receive gifts from the people on behalf of the State). He came with the collection, gave it to the Prophet (ﷺ), and said: This wealth is for you and this is a gift presented to me. The Prophet (ﷺ) said to him: Why didn't you remain in the house of your father and your mother to see whether gifts were presented to you or not. Then he stood up to deliver a sermon. Here follows the tradition like the tradition of Sufyan اردو
معمر نے زہری سے ، انہوں نے عروہ سے ، انہوں نے ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اَزد کے ابن لتبيه نامی ایک شخص کو زکاۃ ( کی وصولی ) پر عامل بنایا ، وہ کچھ مال لے کر آیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا اور کہا : یہ آپ لوگوں کا مال ہے اور یہ ہدیہ ہے جو مجھے دیا گیا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " تم اپنے باپ یا اپنی ماں کے گھر میں کیوں نہیں بیٹھے ، پھر دیکھتے کہ تمہیں ہدیہ دیا جاتا ہے یا نہیں؟ " پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے ، پھر سفیان ( بن عیینہ ) کی حدیث کی طرح بیان کیا