#4750
This hadith has been narrated on the authority of Abu Huraira through another chain of transmitters
زیاد ( بن سعد ) سے روایت ہے ، انہوں نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ بالکل اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ زِيَادٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ سَوَاءً
#4751
This hadith has been narrated on the authority of Abu Huraira by more than one chain of transmitters
ابو عوانہ اور شعبہ نے یعلیٰ بن عطاء سے روایت کی ، انہوں نے علقمہ سے ( حدیث ) سنی ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سابقہ حدیث کی طرح روایت کی
وَحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، مِنْ فِيهِ إِلَى فِيَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ح. وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، سَمِعَ أَبَا عَلْقَمَةَ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ حَدِيثِهِمْ
#4752
Hammam b. Munabbih has transmitted this hadith on the authority of Abu Huraira
معمر نے ہمام بن منبہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان سب کی حدیث کے مانند روایت کی
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ .
#4753
According to one version of the tradition, the Messenger of Allah (ﷺ) said:Whoso obeys the commander. He did not say:" My commander
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ ( ازاد کردہ غلام ) ابو یونس نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی ( حدیث ) روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے " جس نے امیر کی اطاعت کی " فرمایا ، " میرے امیر کی " نہیں فرمایا ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہمام کی روایت کردہ حدیث میں بھی اسی طرح ہے
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حَيْوَةَ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ، مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِذَلِكَ وَقَالَ " مَنْ أَطَاعَ الأَمِيرَ " . وَلَمْ يَقُلْ أَمِيرِي وَكَذَلِكَ فِي حَدِيثِ هَمَّامٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
#4754
It has been narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) said:It is obligatory for you to listen to the ruler and obey him in adversity and prosperity, in pleasure and displeasure, and even when another person is given (rather undue) preference over you
ابو صالح السمان سے روایت ہے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم پر ( امیر کا حکم ) سننا اور ماننا واجب ہے ، اپنی مشکل ( کی کیفیت ) میں بھی اور اپنی آسانی میں بھی ، اپنی خوشی میں بھی اور اپنی ناخوشی میں بھی اور اس وقت بھی جب تک پر ( کسی اور کو ) ترجیح دی جا رہی ہو
وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، كِلاَهُمَا عَنْ يَعْقُوبَ، قَالَ سَعِيدٌ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " عَلَيْكَ السَّمْعَ وَالطَّاعَةَ فِي عُسْرِكَ وَيُسْرِكَ وَمَنْشَطِكَ وَمَكْرَهِكَ وَأَثَرَةٍ عَلَيْكَ " .
#4755
It has been narrated on the authority of Abu Dharr who said:My friend (i. e. the Holy Prophet) advised me to listen (to the man in position of authority) and obey (him) even if he were a slave maimed (and disabled)
ابن ادریس نے ہمیں شعبہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابو عمران سے ، انہوں نے عبداللہ بن صامت سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی تھی کہ میں ( امیر کی بات ) سنوں اور اطاعت کروں ، چاہے وہ ( امیر ) کٹے ہوئے اعضاء والا غلام ہی کیوں نہ ہو
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِيُّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ إِنَّ خَلِيلِي أَوْصَانِي أَنْ أَسْمَعَ وَأُطِيعَ وَإِنْ كَانَ عَبْدًا مُجَدَّعَ الأَطْرَافِ .
#4756
In another version of the tradition, we have the wording:" An Abyssinian slave maimed and disabled
محمد بن جعفر اور نضر بن شمیل نے ہمیں شعبہ سے ، انہوں نے ابوعمران سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور حدیث میں کہا : چاہے وہ ( امیر ) کٹے ہوئے اعضاء والا حبشی غلام ( ہی کیوں نہ ہو)
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، بْنُ شُمَيْلٍ جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالاَ فِي الْحَدِيثِ عَبْدًا حَبَشِيًّا مُجَدَّعَ الأَطْرَافِ .
#4757
Abu 'Imran narrated this hadith with a slight change of wording
عبیداللہ کے والد معاذ نے ہمیں شعبہ سے اور انہوں نے ابوعمران سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، جس طرح ابن ادریس نے کہا : کٹے ہوئے اعضاء والا غلام ( ہی کیوں نہ ہو)
وَحَدَّثَنَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ كَمَا قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ عَبْدًا مُجَدَّعَ الأَطْرَافِ .
#4758
It has been narrated on the authority of Yahya b. Husain who learnt the tradition from his grandmother. She said that she heard the Prophet (ﷺ) delivering his sermon on the occasion of the Last Pilgrimage. He was saying:If a slave is appointed over you and he conducts your affairs according to the Book of Allah, you should listen to him and obeey (his orders)
محمد بن مثنیٰ نے کہا : محمد بن جعفر نے ہمیں شعبہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے یحییٰ بن حصین سے ، انہوں نے کہا : میں نے اپنی دادی سے سنا ، وہ بیان کرتی تھیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے دوران میں خطبہ دے رہے تھے اور آپ فرما رہے تھے : " اگر تم پر ایک غلام کو حاکم بنایا جائے اور وہ کتاب اللہ کے مطابق تمہاری راہنمائی کرے تو اس کی بات سنو اور اطاعت کرو
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ سَمِعْتُ جَدَّتِي، تُحَدِّثُ أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ يَقُولُ " وَلَوِ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا " .
#4759
This hadith has been transmitted on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters, and he said:"An Abyssinian slave
ابن بشار نے ہمیں یہی حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں محمد بن جعفر اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث سنائی اور کہا : حبشی غلام ہو
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ عَبْدًا حَبَشِيًّا .
#4760
In other versions of the above tradition, the wordings are" an Abyssinian slave." and" a maimed Abyssinian slave
وکیع بن جراح نے ہمیں شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور کہا : " کٹے ہوئے اعضاء والا حبشی غلام ہو
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ عَبْدًا حَبَشِيًّا مُجَدَّعًا .
#4761
Another version of the tradition does not qualify the slave with the epithets" maimed,"" an Abyssinian" but makes the addition:" I have heard the Prophet (ﷺ) (say this) at Mina or 'Arafat
بہز نے ہمیں شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی : انہوں نے " کٹے ہوئے اعضاء والا حبشی غلام " نہیں کہا ، اور یہ اضافہ کیا : انہوں ( ام الحصین رضی اللہ عنہا ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منیٰ یا عرفات میں سنا
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ حَبَشِيًّا مُجَدَّعًا وَزَادَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِنًى أَوْ بِعَرَفَاتٍ
#4762
It has been narrated on the authority of Yahya b. Husain who learnt the tradition from his grandmother. Umm Husain. He said':I heard her say: I performed Hajjat-ul-Wada' in the company of the Messenger of Allah (ﷺ). He said a lot of things (on this occasion). Then I heard him say: If a maimed slave is appointed a commander over you the narrator says: I think she said:" a black stave" who leads you according to the Book of Allah, then listen to him and obey him
زید بن ابی انیسہ نے یحییٰ بن حصین سے ، انہوں نے اپنی دادی حضرت ام حصین رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا : میں نے حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی باتیں ارشاد فرمائیں ، پھر میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " اگر تم پر ایک کٹے ہوئے اعضاء والا غلام ، میرا گمان ہے آپ نے " کالا " بھی کہا ، حاکم بنا دیا جائے اور وہ تم کو کتاب اللہ کے مطابق چلائے تو اس کی بات سنو اور اطاعت کرو
وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي، أُنَيْسَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ الْحُصَيْنِ، قَالَ سَمِعْتُهَا تَقُولُ، حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَجَّةَ الْوَدَاعِ - قَالَتْ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَوْلاً كَثِيرًا ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ " إِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ مُجَدَّعٌ - حَسِبْتُهَا قَالَتْ - أَسْوَدُ يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا " .
#4763
It has been narrated on the authority of Ibn 'Umar that the Prophet (ﷺ) said:It is obligatory upon a Muslim that he should listen (to the ruler appointed over him) and obey him whether he likes it or not, except that he is ordered to do a sinful thing. If he is ordered to do a sinful act, a Muslim should neither listen to him nor should he obey his orders
لیث نے عبیداللہ سے ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مسلمان شخص پر حاکم کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا واجب ہے ، وہ بات اس کو پسند ہو یا ناپسند ، سوائے اس کے کہ اسے گناہ کا حکم دیا جائے ، اگر اسے گناہ کا حکم دیا جائے تو اس میں سننا ( روا ) ہے نہ ماننا
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ إِلاَّ أَنْ يُؤْمَرَ بِمَعْصِيَةٍ فَإِنْ أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلاَ سَمْعَ وَلاَ طَاعَةَ " .
#4764
This hadith has been transmitted on the authority of 'Ubaidullah
ٰ قطان اور عبداللہ بن نمیر دونوں نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی
وَحَدَّثَنَاهُ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَهُوَ الْقَطَّانُ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي كِلاَهُمَا، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
#4765
It has been narrated on the authority of Abu 'Abd al-Rahman from 'Ali that the Messenger of Allah (ﷺ) sent a force (on a mission) and appointed over them a man. He kindled a fire and said:Enter it. Some people made up their minds to enter it (the fire), (carrying out the order of their commander), but the others said: We fled from the fire (that's why we have come into the fold of Islam). The matter was reported to the Messenger of Allah (ﷺ). He said to those who Contemplated entering (the fire at the order of their commander): If you had entered it, you would have remained there until the Day of Judgment. He commanded the act of the latter group and said: There is no submission in matters involving God's disobedience or displeasure. Submission is obligatory only in what is good (and reasonable)
زبید نے سعد بن عبیدہ سے ، انہوں نے ابوعبدالرحمٰن سے ، انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور ایک شخص کو ان کا امیر بنایا ، اس ( امیر ) شخص نے آگ جلائی اور لوگوں سے کہا : اس میں داخل ہو جاؤ ۔ کچھ لوگوں نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کر لیا اور کچھ لوگوں نے کہا : ہم آگ ہی سے تو بھاگے ہیں ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعے کا ذکر کیا گیا تو آپ نے ان لوگوں سے جو آگ میں داخل ہونا چاہتے تھے ، فرمایا : " اگر تم آگ میں داخل ہو جاتے تو قیامت تک اسی میں رہتے ۔ " اور دوسروں کے حق میں اچھی بات فرمائی اور فرمایا : " اللہ تعالیٰ کی معصیت میں کسی کی اطاعت نہیں ، اطاعت صرف نیکی میں ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّعليه وسلم بَعَثَ جَيْشًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلاً فَأَوْقَدَ نَارًا وَقَالَ ادْخُلُوهَا . فَأَرَادَ نَاسٌ أَنْ يَدْخُلُوهَا وَقَالَ الآخَرُونَ إِنَّا قَدْ فَرَرْنَا مِنْهَا . فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لِلَّذِينَ أَرَادُوا أَنْ يَدْخُلُوهَا " لَوْ دَخَلْتُمُوهَا لَمْ تَزَالُوا فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . وَقَالَ لِلآخَرِينَ قَوْلاً حَسَنًا وَقَالَ " لاَ طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ " .
#4766
It has been narrated on the authority of 'All who said:The Mersenger of Allah (ﷺ) sent an expeditionand appointed over the Mujahids a man from the Ansar. (While making the appointment), he ordered that his work should be listened to and obeyed. They made him angry in a matter. He said: Collect for me dry wood. They collected it for him. Then he said: Kindle a fire. They kindled (the fire). Then he said: Didn't the Messenger of Allah (ﷺ) order you to listen to me and obey (my orders)? They said: Yes. He said: Enter the fire. The narrator says: (At this), they began to look at one another and said: We fled from the fire to (find refuge with) the Messenger of Allah (ﷺ) (and now you order us to enter it). They stood quiet until his anger cooled down and the fire went out. When they returned, they related the incident to the Messenger of Allah (ﷺ). He said: If they had entered it, they would not have come out. Obedience (to the commander) is obligatory only in what is good
ہمیں محمد بن عبداللہ بن نمیر ، زہیر بن حرب اور ابوسعید اشج نے حدیث بیان کی ، الفاظ سب کے ملتے جلتے ہیں ، ( تینوں نے ) کہا : ہمیں وکیع نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سعد بن عبیدہ سے ، انہوں نے ابو عبدالرحمٰن سے ، انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور انصار میں سے ایک آدمی کو ان کا امیر بنایا اور لشکر کو یہ حکم دیا کہ وہ اس کے احکام سنیں اور اس کی اطاعت کریں ، ( اتفاق سے ) اہل لشکر نے کسی بات میں امیر کو ناراض کر دیا ، اس نے کہا : میرے لیے لکڑیاں جمع کرو ۔ لشکر نے لکڑیاں جمع کیں ، پھر اس نے کہا : آگ جلاؤ ، انہوں نے آگ جلائی ، پھر کہا : کیا تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا حکم سننے اور ماننے کا حکم نہیں دیا تھا؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ، اس نے کہا : آگ میں داخل ہو جاؤ ، انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کہا : ہم آگ ہی سے بھاگ کر تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے ۔ وہ اسی موقف پر قائم رہے حتی کہ اس کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا اور آگ بجھا دی گئی ، جب وہ لوٹے تو یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی ، آپ نے فرمایا : اگر یہ لوگ اس ( آگ ) میں داخل ہو جاتے تو پھر اس سے باہر نہ نکلتے ، اطاعت صرف معروف ( قابل قبول کاموں ) میں ہے
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ - وَتَقَارَبُوا فِي اللَّفْظِ - قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَرِيَّةً وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَسْمَعُوا لَهُ وَيُطِيعُوا فَأَغْضَبُوهُ فِي شَىْءٍ فَقَالَ اجْمَعُوا لِي حَطَبًا . فَجَمَعُوا لَهُ ثُمَّ قَالَ أَوْقِدُوا نَارًا . فَأَوْقَدُوا ثُمَّ قَالَ أَلَمْ يَأْمُرْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ تَسْمَعُوا لِي وَتُطِيعُوا قَالُوا بَلَى . قَالَ فَادْخُلُوهَا . قَالَ فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ فَقَالُوا إِنَّمَا فَرَرْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ النَّارِ . فَكَانُوا كَذَلِكَ وَسَكَنَ غَضَبُهُ وَطُفِئَتِ النَّارُ فَلَمَّا رَجَعُوا ذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " لَوْ دَخَلُوهَا مَا خَرَجُوا مِنْهَا إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ " .
#4767
This hadith has been transmitted on the authority of A'mash
ابوبکر بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں وکیع اور ابومعاویہ نے اعمش سے اسی سند سے اسی طرح حدیث بیان کی
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
#4768
It has been narrated on the authority of" Ubida who learnt the tradition from his father who, in turn, learnt it from his own father. 'Ubada's grandfather said:The Messenger of Allah (ﷺ) took an oath of allegiance from us on our listening to and obeying the orders of our commander in adversity and prosperity, in pleasure and displeasure (and even) when somebody is given preference over us, on our avoiding to dispute the delegation of powers to a person deemed to be a fit recipient thereof (in the eye of one who delegates it) and on our telling the truth in whatever position we be without fearing in the matter ef Allah the reproach of the reproacher
ہمیں ابوبکر بن ابی شیبہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبداللہ بن ادریس نے یحییٰ بن سعید اور عبیداللہ بن عمر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبادہ بن ولید سے ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے ان کے دادا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس بات پر بیعت کی کہ مشکل میں اور آسانی میں اور خوشی میں اور ناخوشی میں اور خود ترجیح دیے جانے کی صورت میں بھی سنیں گے اور اطاعت کریں گے اور اس بات پر بیعت کی کہ جن کے پاس امارت ہو گی ، امارت کے معاملے میں ان سے تنازع نہیں کریں گے اور ہم جہاں کہیں بھی ہوں گے ( ہمیشہ ) حق نہیں گے اور اللہ کے ( دین پر چلنے کے ) معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ وَعَلَى أَثَرَةٍ عَلَيْنَا وَعَلَى أَنْ لاَ نُنَازِعَ الأَمْرَ أَهْلَهُ وَعَلَى أَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ أَيْنَمَا كُنَّا لاَ نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لاَئِمٍ .
#4769
This hadith has been narrated on the authority of 'Ubada b. Walid with the same chain of transmitters
یہی حدیث نے ہمیں ابن نمیر نے بیان کی ، کہا : ہمیں عبداللہ بن ادریس نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابن عجلان ، عبیداللہ بن عمر اور یحییٰ بن سعید نے عبادہ بن ولید سے اسی سند سے اسی جیسی حدیث بیان کی
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ إِدْرِيسَ - حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلاَنَ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
#4770
The same tradition has been handed down through more than one chain of transmitters
یزید بن ہاد نے عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے میرے والد نے روایت کی ، کہا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیعت کی ، ابن ادریس کی حدیث کے مانند
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنْ يَزِيدَ، - وَهُوَ ابْنُ الْهَادِ - عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ إِدْرِيسَ .
#4771
It has been narrated on the authority of Junida b. Abu Umayya who said:We called upon 'Ubada b. Samit who was ill and said to him: May God give you health I Narrate to us a tradition which God may prove beneficial (to us) and which you have heard from the Messenger of Allah (ﷺ). He said: The Messenger of Allah (ﷺ) called us and we took the oath of allegiance to him. Among the injunctions he made binding upon us was: Listening and obedience (to the Amir) in our pleasure and displeasure, in our adversity and prosperity, even when somebody is given preference over us, and without disputing the delegation of powers to a man duly invested with them (Obedience shall be accorded to him in all circumstances) except when you have clear signs of his disbelief in (or disobedience to) God-signs that could be used as a conscientious justification (for non-compliance with his orders)
جنادہ بن ابی امیہ سے روایت ہے ، کہا : ہم حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے ، وہ ( اس وقت ) بیمار تھے ، ہم نے عرض کی : اللہ تعالیٰ آپ کو صحت عطا فرمائے ، ہم کو ایسی حدیث سنائیے جس سے ہمیں فائدہ ہوا اور جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو ، ( حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو بلایا ، ہم نے آپ کےساتھ بیعت کی ، آپ نے ہم سے جن چیزوں پر بیعت لی وہ یہ تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے خوشی اور ناخوشی میں اور مشکل اور آسانی میں اور ہم پر ترجیح دیے جانے کی صورت میں ، سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کی اور اس پر کہ ہم اقتدار کے معاملے میں اس کی اہلیت رکھنے والوں سے تنازع نہیں کریں گے ۔ کہا : ہاں ، اگر تم اس میں کھلم کھلا کفر دیکھو جس کے ( کفر ہونے پر ) تمہارے پاس ( قرآن اور سنت سے ) واضح آثار موجود ہوں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبِ بْنِ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنِي بُكَيْرٌ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، قَالَ دَخَلْنَا عَلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَهُوَ مَرِيضٌ فَقُلْنَا حَدِّثْنَا أَصْلَحَكَ اللَّهُ، بِحَدِيثٍ يَنْفَعُ اللَّهُ بِهِ سَمِعْتَهُ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ دَعَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَبَايَعْنَاهُ فَكَانَ فِيمَا أَخَذَ عَلَيْنَا أَنْ بَايَعَنَا عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي مَنْشَطِنَا وَمَكْرَهِنَا وَعُسْرِنَا وَيُسْرِنَا وَأَثَرَةٍ عَلَيْنَا وَأَنْ لاَ نُنَازِعَ الأَمْرَ أَهْلَهُ قَالَ " إِلاَّ أَنْ تَرَوْا كُفْرًا بَوَاحًا عِنْدَكُمْ مِنَ اللَّهِ فِيهِ بُرْهَانٌ " .
#4772
It has been narrated on the authority of Abu Huraira that the Prophet of Allah (ﷺ) said:A commander (of the Muslims) is a shield for them. They fight behind him and they are protected by (him from tyrants and aggressors). If he enjoins fear of God, the Exalted and Glorious, and dispenses justice, there will be a (great) reward for him; and if he enjoins otherwise, it redounds on him
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام سپر ہے اس كے پیچھے مسلمان لڑتے ہیں ( كافروں سے ) اور اس كی وجہ سے لوگ بچتے ہیں تكلیف سے ( ظالموں سے اور لٹیروں سے ) ۔ پھر اگر وہ حكم كرے اللہ سے ڈرنے كا اور انصاف كرے تو اس كو ثواب ہوگا اور جو اس كے خلاف حكم دے دے تو اس پر وبال ہوگا ۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّمَا الإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ فَإِنْ أَمَرَ بِتَقْوَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعَدَلَ كَانَ لَهُ بِذَلِكَ أَجْرٌ وَإِنْ يَأْمُرْ بِغَيْرِهِ كَانَ عَلَيْهِ مِنْهُ " .
#4773
It has been narrated by Abu Huraira that the Prophet (may pceace be upon him) said:Banu Isra'il were ruled over by the Prophets. When one Prophet died, another succeeded him; but after me there is no prophet and there will be caliphs and they will be quite large in number. His Companions said: What do you order us to do (in case we come to have more than one Caliph)? He said: The one to whom allegiance is sworn first has a supremacy over the others. Concede to them their due rights (i. e. obey them). God (Himself) will question them about the subjects whom He had entrusted to them
شعبہ نے ہمیں فرات قزاز سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوحازم سے روایت کی کہ میں پانچ سال حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ہم مجلس رہا ، میں نے ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا : " بنو اسرائیل کے انبیاء ان کا اجتماعی نظام چلاتے تھے ، جب ایک نبی فوت ہوتا تو دوسرا نبی اس کا جانشیں ہوتا اور ( اب ) بلاشبہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ، اب خلفاء ہوں گے اور کثرت سے ہوں گے ۔ " صحابہ نے عرض کی : آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا : پہلے اور اس کے بعد پھر پہلے کی بیعت کے ساتھ وفا کرو ، انہیں ان کا حق دو اور ( تمہارے حقوق کی ) جو ذمہ داری انہیں دی ہے اس کے متعلق اللہ خود ان سے سوال کرے گا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ قَاعَدْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ خَمْسَ سِنِينَ فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الأَنْبِيَاءُ كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ وَإِنَّهُ لاَ نَبِيَّ بَعْدِي وَسَتَكُونُ خُلَفَاءُ فَتَكْثُرُ " . قَالُوا فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ " فُوا بِبَيْعَةِ الأَوَّلِ فَالأَوَّلِ وَأَعْطُوهُمْ حَقَّهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُمْ " .
#4774
The same tradition has been transmitted by a different chain of narrators
حسن بن فرات نے اپنے والد سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، بْنُ إِدْرِيسَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ فُرَاتٍ، عَنْ أَبِيهِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .