#4301
Sahih
It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri that the Prophet (ﷺ) said:“I have a Cistern, (as large as the distance) between the Ka’bah and Baitul-Maqdis (Jerusalem). (It is) whiter than milk, and its vessels are the number of the stars. I will be the Prophet with the most followers on the Day of Resurrection.”
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا ایک حوض ہے، کعبہ سے لے کر بیت المقدس تک، دودھ جیسا سفید ہے، اس کے برتن آسمان کے ستاروں کی تعداد میں ہیں، اور قیامت کے دن میرے پیروکار اور متبعین تمام انبیاء کے پیروکاروں اور متبعین سے زیادہ ہوں گے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، حَدَّثَنَا عَطِيَّةُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِنَّ لِي حَوْضًا مَا بَيْنَ الْكَعْبَةِ وَبَيْتِ الْمَقْدِسِ أَبْيَضَ مِثْلَ اللَّبَنِ آنِيَتُهُ عَدَدُ النُّجُومِ وَإِنِّي لأَكْثَرُ الأَنْبِيَاءِ تَبَعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
#4302
Sahih
It was narrated from Hudhaifah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“My Cistern is wider than the distance between Ailah and ‘Aden. By the One in Whose Hand is my soul, its vessels are more numerous than the number of stars, and it is whiter than milk and sweeter than honey. By the One in Whose Hand is my soul, I will drive men away from it as a man drives strange camels away from his cistern.” It was said: “O Messenger of Allah, will you recognize us?” He said: “Yes, you will come to me with radiant faces, hands and feet, because of the traces of ablution, and this is not for anyone but you.”
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا حوض ایلہ سے عدن تک کے فاصلے سے بھی زیادہ بڑا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس کے برتن ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں اس حوض سے کچھ لوگوں کو ایسے ہی دھتکاروں اور بھگاؤں گا جیسے کوئی آدمی اجنبی اونٹ کو اپنے حوض سے دھتکارتا اور بھگاتا ہے ، سوال کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا آپ ہمیں پہچان لیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، تم میرے پاس اس حالت میں آؤ گے کہ تمہارے ہاتھ اور منہ وضو کے نشان سے روشن ہوں گے، اور یہ نشان تمہارے علاوہ اور کسی کا نہیں ہو گا ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ حَوْضِي لأَبْعَدُ مِنْ أَيْلَةَ إِلَى عَدَنَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لآنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ النُّجُومِ وَلَهُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأَذُودُ عَنْهُ الرِّجَالَ كَمَا يَذُودُ الرَّجُلُ الإِبِلَ الْغَرِيبَةَ عَنْ حَوْضِهِ " . قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَعْرِفُنَا قَالَ " نَعَمْ تَرِدُونَ عَلَىَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ لَيْسَتْ لأَحَدٍ غَيْرِكُمْ " .
#4303
Sahih
It was narrated that Abu Sallam Al-Habashi said:“Umar bin ‘Abdul-‘Aziz sent for me and I came to him upon the riding animal prepared for swift mail delivery. When I came to him, he said: ‘We have caused you some trouble O Abu Sallam.’ He said: ‘Yes, by Allah, O Commander of the Believers!’ He said: ‘By Allah, we did not want to cause you any hardship, but there is a Hadith which I have heard that you narrate from Thawban, the freed slave of the Messenger of Allah (ﷺ), concerning the Cistern, and I wanted to hear it directly from you.’ He said: “I said: ‘Thawban, the freed slave of the Messenger of Allah (ﷺ), told me that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “My Cistern is (wider than) the distance between Ailah and ‘Aden. It is whiter than milk and sweeter than honey, and its cups are as many as the stars in the sky. Whoever drinks from it will never feel thirst again. The first ones who come to drink from it will be the poor Muhajirin, with dirty clothes and disheveled hair, who do not marry refined women and for whom no doors are opened.” ‘Umar wept until his beard became wet, then he said: ‘But I have married refined women and doors have been opened for me. Certainly I will not wash the clothes that are on my body until they become dirt, and I will not comb my hair until it becomes disheveled.’”
ابوسلام حبشی کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے مجھ کو بلا بھیجا، میں ان کے پاس ڈاک کے گھوڑے پر بیٹھ کر آیا، جب میں پہنچا تو انہوں نے کہا: اے ابو سلام! ہم نے آپ کو زحمت دی کہ آپ کو تیز سواری سے آنا پڑا، میں نے کہا: بیشک، اللہ کی قسم! اے امیر المؤمنین! ( ہاں واقعی تکلیف ہوئی ہے ) ، انہوں نے کہا، اللہ کی قسم، میں آپ کو تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا، لیکن مجھے پتا چلا کہ آپ ثوبان رضی اللہ عنہ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ) سے حوض کوثر کے بارے میں ایک حدیث روایت کرتے ہیں تو میں نے چاہا کہ یہ حدیث براہ راست آپ سے سن لوں، تو میں نے کہا کہ مجھ سے ثوبان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا حوض اتنا بڑا ہے جتنا عدن سے ایلہ تک کا فاصلہ، دودھ سے زیادہ سفید، اور شہد سے زیادہ میٹھا، اس کی پیالیاں آسمان کے تاروں کی تعداد کے برابر ہیں، جو شخص اس میں سے ایک گھونٹ پی لے گا کبھی پیاسا نہ ہو گا، اور سب سے پہلے جو لوگ میرے پاس آئیں گے ( پانی پینے ) وہ میلے کچیلے کپڑوں اور پراگندہ بالوں والے فقراء مہاجرین ہوں گے، جو ناز و نعم میں پلی عورتوں سے نکاح نہیں کر سکتے اور نہ ان کے لیے دروازے کھولے جاتے ۔ ابو سلام کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رونے لگے یہاں تک کہ ان کی داڑھی تر ہو گئی، پھر بولے: میں نے تو ناز و نعم والی عورتوں سے نکاح بھی کیا، اور میرے لیے دروازے بھی کھلے، اب میں جو کپڑا پہنوں گا، اس کو ہرگز نہ دھووں گا، جب تک وہ میلا نہ ہو جائے، اور اپنے سر میں تیل نہ ڈالوں گا جب تک کہ وہ پراگندہ نہ ہو جائے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ سَالِمٍ الدِّمَشْقِيُّ، نُبِّئْتُ عَنْ أَبِي سَلاَّمٍ الْحَبَشِيِّ، قَالَ بَعَثَ إِلَىَّ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَأَتَيْتُهُ عَلَى بَرِيدٍ فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَيْهِ قَالَ لَقَدْ شَقَقْنَا عَلَيْكَ يَا أَبَا سَلاَّمٍ فِي مَرْكَبِكَ . قَالَ أَجَلْ وَاللَّهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ . قَالَ وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ الْمَشَقَّةَ عَلَيْكَ وَلَكِنْ حَدِيثٌ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَدِّثُ بِهِ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي الْحَوْضِ فَأَحْبَبْتُ أَنْ تُشَافِهَنِي بِهِ . قَالَ فَقُلْتُ حَدَّثَنِي ثَوْبَانُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِنَّ حَوْضِي مَا بَيْنَ عَدَنَ إِلَى أَيْلَةَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ أَوَانِيهِ كَعَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ شَرْبَةً لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا وَأَوَّلُ مَنْ يَرِدُهُ عَلَىَّ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ الدُّنْسُ ثِيَابًا وَالشُّعْثُ رُءُوسًا الَّذِينَ لاَ يَنْكِحُونَ الْمُنَعَّمَاتِ وَلاَ يُفْتَحُ لَهُمُ السُّدَدُ " . قَالَ فَبَكَى عُمَرُ حَتَّى اخْضَلَّتْ لِحْيَتُهُ ثُمَّ قَالَ لَكِنِّي قَدْ نَكَحْتُ الْمُنَعَّمَاتِ وَفُتِحَتْ لِيَ السُّدَدُ لاَ جَرَمَ أَنِّي لاَ أَغْسِلُ ثَوْبِي الَّذِي عَلَى جَسَدِي حَتَّى يَتَّسِخَ وَلاَ أَدْهُنُ رَأْسِي حَتَّى يَشْعَثَ .
#4304
Sahih
It was narrated from Anas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The distance between the two ends of my Cistern is like the distance between San’a and Al-Madinah,’ or ‘between Al-Madinah and ‘Amman.’”
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے حوض کے دونوں کناروں کا فاصلہ اتنا ہے جتنا صنعاء اور مدینہ میں یا مدینہ و عمان میں ہے ۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَا بَيْنَ نَاحِيَتَىْ حَوْضِي كَمَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَالْمَدِينَةِ أَوْ كَمَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ وَعَمَّانَ " .
#4305
Sahih
Anas bin Malik narrated that the Prophet (ﷺ) said:‘One can see in it (the Cistern) jugs of gold and silver, like the number of stars in the sky.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حوض کوثر پر چاندی اور سونے کے جگ آسمان کے تاروں کی تعداد کے برابر ہوں گے ۔
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " يُرَى فِيهِ أَبَارِيقُ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ كَعَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ " .
#4306
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) came to a graveyard and greeted (its occupants) with Salam, then he said:“Peace be upon you, abode of believing people. We will join you soon, if Allah wills.” Then he said: “Would that we could see our brothers.” They said: “O Messenger of Allah, are we not your brothers?” He said: “You are my Companions. My brothers are those who will come after me. I will reach the Cistern ahead of you.” They said: “O Messenger of Allah, how will you recognize those of your nation who have not yet come?” He said: “If a man has a horse with a blaze on its forehead and white feet, don’t you think that he will recognize it among horses that are deep black in color?” They said: “Of course.” He said: “On the Day of Resurrection they will come with radiant faces, hands, and feet, because of the traces of ablution.” He said: “I will reach the Cistern ahead of you.” Then he said: “Men will be driven away from my Cistern just as stray camels are driven away. And I will call to them: ‘Come here!’ But it will be said: ‘They changed after you were gone, and they kept turning on their heels.’ So I will say: “Be off with you!”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان میں آئے، اور قبر والوں کو سلام کرتے ہوئے فرمایا: «السلام عليكم دار قوم مؤمنين وإنا إن شاء الله تعالى بكم لاحقون» اے مومن قوم کے گھر والو! آپ پر سلامتی ہو، ان شاءاللہ ہم آپ لوگوں سے جلد ہی ملنے والے ہیں ، پھر فرمایا: میری آرزو ہے کہ میں اپنے بھائیوں کو دیکھوں ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا، کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ فرمایا: تم سب میرے اصحاب ہو، میرے بھائی وہ ہیں جو میرے بعد آئیں گے، اور میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کی امت میں سے جو لوگ ابھی نہیں آئے ہیں آپ ان کو کیسے پہچانیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ آدمی جس کے گھوڑے سفید پیشانی، اور سفید ہاتھ پاؤں والے ہوں خالص کالے گھوڑوں کے بیچ میں ان کو نہیں پہچانے گا ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے اخوان قیامت کے دن وضو کے نشانات سے ( اسی طرح ) سفید پیشانی، اور سفید ہاتھ پاؤں ہو کر آئیں گے ، پھر فرمایا: میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا کچھ لوگ میرے حوض سے بھولے بھٹکے اونٹ کی طرح ہانک دئیے جائیں گے، میں انہیں پکاروں گا کہ ادھر آؤ، تو کہا جائے گا کہ انہوں نے تمہارے بعد دین کو بدل دیا، اور وہ الٹے پاؤں لوٹ جائیں گے، میں کہوں گا: خبردار! دور ہٹو، دور ہٹو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ أَتَى الْمَقْبَرَةَ فَسَلَّمَ عَلَى الْمَقْبَرَةِ فَقَالَ " السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى بِكُمْ لاَحِقُونَ " . ثُمَّ قَالَ " وَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَلَسْنَا إِخْوَانَكَ قَالَ " أَنْتُمْ أَصْحَابِي وَإِخْوَانِي الَّذِينَ يَأْتُونَ مِنْ بَعْدِي وَأَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ يَأْتِ مِنْ أُمَّتِكَ قَالَ " أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ رَجُلاً لَهُ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ بَيْنَ ظَهْرَانَىْ خَيْلٍ دُهْمٍ بُهْمٍ أَلَمْ يَكُنْ يَعْرِفُهَا " . قَالُوا بَلَى . قَالَ " فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ " . قَالَ " أَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ " . ثُمَّ قَالَ أَلاَ لَيُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِي كَمَا يُذَادُ الْبَعِيرُ الضَّالُّ فَأُنَادِيهِمْ أَلاَ هَلُمُّوا . فَيُقَالُ إِنَّهُمْ قَدْ بَدَّلُوا بَعْدَكَ وَلَمْ يَزَالُوا يَرْجِعُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ . فَأَقُولُ أَلاَ سُحْقًا سُحْقًا " .
#4307
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Every Prophet had a prayer that was answered, and every Prophet offered this prayer in this world. But I am saving my prayer so that I can intercede for my nation, and it reaches every one of them who dies not associating anything with Allah.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کی ( اپنی امت کے سلسلے میں ) ایک دعا ہوتی ہے جو ضرور قبول ہوتی ہے، تو ہر نبی نے جلدی سے دنیا ہی میں اپنی دعا پوری کر لی، اور میں نے اپنی دعا کو چھپا کر اپنی امت کی شفاعت کے لیے رکھ چھوڑا ہے، تو میری شفاعت ہر اس شخص کے لیے ہو گی جو اس حال میں مرا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا رہا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ فَتَعَجَّلَ كُلُّ نَبِيٍّ دَعْوَتَهُ وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لأُمَّتِي فَهِيَ نَائِلَةٌ مَنْ مَاتَ مِنْهُمْ لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا " .
#4308
Sahih
It was narrated from Abu Sa’eed that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“I am the leader of the sons of Adam, and it is no boast. I will be the first one for whom the earth will be split open on the Day of Resurrection, and it is no boast. I will be the first to intercede and the first whose intercession will be accepted, and it is no boast. The banner of praise will be in my hand on the Day of Resurrection, and it is no boast.”
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اولاد آدم کا سردار ہوں اور یہ فخریہ نہیں کہتا، قیامت کے دن زمین سب سے پہلے میرے لیے پھٹے گی، اور میں یہ فخریہ نہیں کہتا، میں پہلا شفاعت کرنے والا ہوں اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول ہو گی، اور میں فخریہ نہیں کہتا، حمد کا جھنڈا قیامت کے دن میرے ہاتھ میں ہو گا، اور میں یہ فخریہ نہیں کہتا ۔
حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، وَأَبُو إِسْحَاقَ الْهَرَوِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَاتِمٍ قَالاَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ وَلاَ فَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ الأَرْضُ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلاَ فَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ وَلاَ فَخْرَ وَلِوَاءُ الْحَمْدِ بِيَدِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلاَ فَخْرَ " .
#4309
Sahih
It was narrated from Abu Sa’eed that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“As for the people of Hell, who are its people (i.e., its permanent residents), they will neither die nor live therein. But there are some people who will be punished with fire because of their sins, whom it will kill, then when they have become like coal, permission will be granted for intercession for them. They will be brought, group by group, and scattered on the banks of the rivers of Paradise. It will be said: ‘O people of Paradise, pour water on them.’ Then they will grow like seeds carried by a flood (i.e., quickly).” A man among the people said: It is as if the Messenger of Allah (ﷺ) has been in the desert.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم والے جن کا ٹھکانا جہنم ہی ہے، وہ اس میں نہ مریں گے نہ جئیں گے، لیکن کچھ لوگ ایسے ہوں گے جن کو ان کے گناہوں کی وجہ سے جہنم کی آگ پکڑ لے گی، اور ان کو مار ڈالے گی یہاں تک کہ جب وہ کوئلہ ہو جائیں گے، تو ان کی شفاعت کا حکم ہو گا، پھر وہ گروہ در گروہ لائے جائیں گے اور جنت کی نہروں پر پھیلائے جائیں گے، کہا جائے گا: اے جنتیو! ان پر پانی ڈالو تو وہ نالی میں دانے کے اگنے کی طرح اگیں گے ، راوی کہتے ہیں کہ یہ سن کر ایک آدمی نے کہا: گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بادیہ ( دیہات ) میں بھی رہ چکے ہیں۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا فَإِنَّهُمْ لاَ يَمُوتُونَ فِيهَا وَلاَ يَحْيَوْنَ وَلَكِنْ نَاسٌ أَصَابَتْهُمُ النَّارُ بِذُنُوبِهِمْ أَوْ بِخَطَايَاهُمْ فَأَمَاتَتْهُمْ إِمَاتَةً حَتَّى إِذَا كَانُوا فَحْمًا أُذِنَ لَهُمْ فِي الشَّفَاعَةِ فَجِيءَ بِهِمْ ضَبَائِرَ ضَبَائِرَ فَبُثُّوا عَلَى أَنْهَارِ الْجَنَّةِ فَقِيلَ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ أَفِيضُوا عَلَيْهِمْ فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحِبَّةِ تَكُونُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ " . قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ كَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَدْ كَانَ فِي الْبَادِيَةِ .
#4310
Sahih
It was narrated that Jabir said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘My intercession on the Day of Resurrection will be for those among my nation who committed major sins.’”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری شفاعت قیامت کے دن میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے ہو گی ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " إِنَّ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ لأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي " .
#4311
Daif
It was narrated from Abu Musa Al-Ash’ari that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“I was given the choice between being admitted to Paradise, and I chose intercession, because it is more general and more sufficient. Do you think it is for the pious? No, it is for the impure sinners.”
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اختیار دیا گیا کہ شفاعت اور آدھی امت کے جنت میں داخل ہونے میں سے ایک چیز چن لوں، تو میں نے شفاعت کو اختیار کیا، کیونکہ وہ عام ہو گی اور کافی ہو گی، کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ شفاعت متقیوں کے لیے ہے؟ نہیں، بلکہ یہ ایسے گناہگاروں کے لیے ہے جو غلطی کرنے والے اور گناہوں سے آلودہ ہوں گے ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " خُيِّرْتُ بَيْنَ الشَّفَاعَةِ وَبَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ لأَنَّهَا أَعَمُّ وَأَكْفَى أَتُرَوْنَهَا لِلْمُتَّقِينَ لاَ وَلَكِنَّهَا لِلْمُذْنِبِينَ الْخَطَّائِينَ الْمُتَلَوِّثِينَ " .
#4312
Sahih
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The believers will be gathered on the Day of Resurrection, inspired or worried.” – Sa’eed was not sure – “And they will say: ‘If we seek someone to intercede for us with our Lord, we may find relief from our situation.’ So they will go to Adam and will say: ‘You are Adam, the father of mankind. Allah created you with His Hand and His angels prostrated to you. Intercede for us with your Lord, that He might grant us relief from our situation.’ He will say: ‘I am not the one,’ and he will mention to them and complain of the sin that he committed. He will feel too shy to do that (and will say): ‘Rather go to Nuh, for he is the first Messenger whom Allah sent to the people of earth.’ So they will go to him, but he will say: ‘I am not the one,’ and he will mention of how he asked of Allah that of which he had no knowledge.* He will feel too shy to do that (and will say): ‘Rather go to the Close Friend of the Most Merciful, Ibrahim.’ So they will go to him and he will say: ‘I am not the one. Rather go to Musa, a slave to whom Allah spoke and to whom He gave the Torah.’ So they will go to him and he will say: ‘I am not the one,’ and he will mention how he killed a soul, not in retaliation for murder (and will say): ‘Rather go to ‘Isa, the slave of Allah and His Messenger, the Word of Allah and a spirit created by Him.’ So they will go to him, but he will say: ‘I am not the one. Rather go to Muhammad, a slave whose past and future sins Allah forgave.’ So they will come to me and I will go with them.” – There was a similar report from Hasan who added (the Prophet (ﷺ) said:) And I will walk between two rows of the believers.” Then he went back to the Hadith of Anas. – And he said: “And I will ask my Lord for permission and permission will be given to me. When I see Him I will fall down prostrating, and I will be left as long as Allah wills to leave me. Then it will be said: ‘Get up, O Muhammad. Speak, you will be heard; ask, you will be given; intercede, your intercession will be accepted.’ I will praise Him with praise that He will teach me, then I will intercede, and a limit will be set. Then they will be admitted to Paradise, and I will come back a second time. When I see Him I will fall down prostrating, and I will be left as long as Allah wills to leave me. Then it will be said: ‘Get up, O Muhammad. Speak, you will be heard; ask, you will be given; intercede, your intercession will be accepted.’ I will praise Him with praise that He will teach me, then I will intercede, and a limit will be set. Then they will be admitted to Paradise, and I will come back a third time. When I see Him I will fall down prostrating, and I will be left as long as Allah wills to leave me. Then it will be said: ‘Get up, O Muhammad. Speak, you will be heard; ask, you will be given; intercede, your intercession will be accepted.’ I will praise Him with praise that He will teach me, then I will intercede, and a limit will be set. Then they will be admitted to Paradise, and I will come back a fourth time and will say: ‘O Lord, there is no one left except those who are detained by the Qur’an.’” ** Qatadah (the Tabi'ee in the chain) would narrate after this hadith that Anas (ra) said "Those who said 'La illaha illa Allah' (there is no god except Allah) and had the weight of a grain of barley in good in his heart will come out of the Fire, and those who said 'La illaha illa Allah' and had a weight of a grain of wheat in good in his heart will come out of the Fire, and those who said 'La illaha illa Allah' and had a weight of a grain of dust in good in his heart will come out of the Fire
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن قیامت کے دن جمع ہوں گے اور ان کے دلوں میں ڈال دیا جائے گا، یا وہ سوچنے لگیں گے، ( یہ شک راوی حدیث سعید کو ہوا ہے ) ، تو وہ کہیں گے: اگر ہم کسی کی سفارش اپنے رب کے پاس لے جاتے تو وہ ہمیں اس حالت سے راحت دے دیتا، وہ سب آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے، اور کہیں گے: آپ آدم ہیں، سارے انسانوں کے والد ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اور اپنے فرشتوں سے آپ کا سجدہ کرایا، تو آپ اپنے رب سے ہماری سفارش کر دیجئیے کہ وہ ہمیں اس جگہ سے نجات دیدے، آپ فرمائیں گے: میں اس قابل نہیں ہوں – آپ اپنے کئے ہوئے گناہ کو یاد کر کے اس کا شکوہ ان لوگوں کے سامنے کریں گے، اور اس بات سے شرمندہ ہوں گے، پھر فرمائیں گے: لیکن تم سب نوح کے پاس جاؤ اس لیے کہ وہ پہلے رسول ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اہل زمین کے پاس بھیجا، وہ سب نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے، تو آپ ان سے کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں کہ اللہ کے حضور جاؤں، اور آپ اپنے اس سوال کو یاد کر کے شرمندہ ہوں گے جو آپ نے اپنے رب سے اس چیز کے بارے میں کیا تھا جس کا آپ کو علم نہیں تھا – پھر کہیں گے کہ لیکن تم سب ابراہیم خلیل الرحمن کے پاس جاؤ، وہ سب ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے، تو آپ بھی یہی کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں، لیکن تم سب موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، وہ ایسے بندے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے گفتگو کی، اور ان کو تورات عطا کی، وہ سب ان کے پاس آئیں گے تو وہ کہیں گے کہ میں اس لائق نہیں ( وہ اپنا وہ قتل یاد کریں گے جو ان سے بغیر کسی خون کے مقابل ہو گیا تھا ) ، لیکن تم سب عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، جو اللہ کے بندے، اس کے رسول، اور اس کا کلمہ و روح ہیں، وہ سب ان کے پاس آئیں گے، تو وہ کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں، لیکن تم سب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ، جو اللہ کے ایسے بندے ہیں جن کے اگلے اور پچھلے گناہوں کو اللہ تعالیٰ نے معاف کر دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ میرے پاس آئیں گے تو میں چلوں گا ( حسن کی روایت کے مطابق مومنوں کی دونوں صفوں کے درمیان چلوں گا ) میں اپنے رب سے اجازت مانگوں گا، تو مجھے اجازت دے دی جائے گی، جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا، تو سجدے میں گر پڑوں گا، میں اس کے آگے سجدے میں اس وقت تک رہوں گا جب تک وہ اس حالت میں مجھے چھوڑے رکھے گا، پھر حکم ہو گا: اے محمد! سر اٹھاؤ، اور کہو، تمہاری بات سنی جائے گی، مانگو تمہیں دیا جائے گا، شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی، میں اس کی حمد بیان کروں گا جس طرح وہ مجھے سکھائے گا، پھر میں شفاعت کروں گا، میرے لیے حد مقرر کر دی جائے گی، اللہ تعالیٰ ان سب کو جنت میں داخل کر دے گا، پھر میں دوبارہ لوٹوں گا، جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا، تو سجدے میں گر پڑوں گا، میں اس کے آگے سجدے میں اس وقت تک رہوں گا، جب تک وہ اس حالت میں مجھے چھوڑے رکھے گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا: اے محمد! سر اٹھاؤ، تم کہو، تمہاری بات سنی جائے گی، مانگو دیا جائے گا، شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول ہو گی، میں اپنا سر اٹھاؤں گا، اس کی تعریف کروں گا، جس طرح وہ مجھے سکھائے گا، پھر میں شفاعت کروں گا، تو میرے لیے حد مقرر کر دی جائے گی، اور وہ ان کو جنت میں داخل کر دے گا، پھر میں تیسری بار لوٹوں گا، جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا تو سجدے میں گر پڑوں گا، میں اس کے آگے سجدے میں اس وقت تک رہوں گا، جب تک وہ اس حالت میں مجھے چھوڑے رکھے گا، پھر حکم ہو گا کہ اے محمد! سر اٹھاؤ، کہو تمہاری بات سنی جائے گی، مانگو تمہیں دیا جائے گا، اور شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول ہو گی، میں اپنا سر اٹھاؤں گا، اس کے سکھائے ہوئے طریقے سے اس کی حمد کروں گا، پھر میں شفاعت کروں گا، میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی، پھر ان کو اللہ تعالیٰ جنت میں داخل کر دے گا، پھر میں چوتھی بار لوٹوں گا، اور کہوں گا: اے میرے رب! اب تو کوئی باقی نہیں ہے، سوائے اس کے جس کو قرآن نے روکا ہے یعنی جو قرآن کی تعلیمات کی رو سے جہنم کے لائق ہے، قتادہ کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہم سے یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم سے وہ شخص بھی نکل آئے گا جس نے «لا إله إلا الله» کہا، اور اس کے دل میں جو کے برابر بھی نیکی ہو گی، اور وہ شخص بھی نکلے گا جس نے «لا إله إلا الله» کہا، اور اس کے دل میں گیہوں کے دانہ برابر نیکی ہو گی، اور وہ شخص بھی نکلے گا جس نے «لا إله إلا الله» کہا، اور اس کے دل میں ذرہ برابر نیکی ہو گی ۱؎۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " يَجْتَمِعُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلْهَمُونَ - أَوْ يَهُمُّونَ شَكَّ سَعِيدٌ - فَيَقُولُونَ لَوْ تَشَفَّعْنَا إِلَى رَبِّنَا فَأَرَاحَنَا مِنْ مَكَانِنَا فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ أَنْتَ آدَمُ أَبُو النَّاسِ خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَأَسْجَدَ لَكَ مَلاَئِكَتَهُ فَاشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّكَ يُرِحْنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا . فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ - وَيَذْكُرُ وَيَشْكُو إِلَيْهِمْ ذَنْبَهُ الَّذِي أَصَابَ فَيَسْتَحْيِي مِنْ ذَلِكَ - وَلَكِنِ ائْتُوا نُوحًا فَإِنَّهُ أَوَّلُ رَسُولٍ بَعَثَهُ اللَّهُ إِلَى أَهْلِ الأَرْضِ فَيَأْتُونَهُ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ - وَيَذْكُرُ سُؤَالَهُ رَبَّهُ مَا لَيْسَ لَهُ بِهِ عِلْمٌ وَيَسْتَحْيِي مِنْ ذَلِكَ - وَلَكِنِ ائْتُوا خَلِيلَ الرَّحْمَنِ إِبْرَاهِيمَ فَيَأْتُونَهُ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ وَلَكِنِ ائْتُوا مُوسَى عَبْدًا كَلَّمَهُ اللَّهُ وَأَعْطَاهُ التَّوْرَاةَ . فَيَأْتُونَهُ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ - وَيَذْكُرُ قَتْلَهُ النَّفْسَ بِغَيْرِ النَّفْسِ - وَلَكِنِ ائْتُوا عِيسَى عَبْدَ اللَّهِ وَرَسُولَهُ وَكَلِمَةَ اللَّهِ وَرُوحَهُ . فَيَأْتُونَهُ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ وَلَكِنِ ائْتُوا مُحَمَّدًا عَبْدًا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ . قَالَ فَيَأْتُونِي فَأَنْطَلِقُ - قَالَ فَذَكَرَ هَذَا الْحَرْفَ عَنِ الْحَسَنِ . قَالَ فَأَمْشِي بَيْنَ السِّمَاطَيْنِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ . قَالَ ثُمَّ عَادَ إِلَى حَدِيثِ أَنَسٍ - قَالَ " فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فَيُؤْذَنُ لِي فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي ثُمَّ يُقَالُ ارْفَعْ يَا مُحَمَّدُ وَقُلْ تُسْمَعْ وَسَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَحْمَدُهُ بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ ثُمَّ أَعُودُ الثَّانِيَةَ فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي ثُمَّ يُقَالُ لِي ارْفَعْ مُحَمَّدُ قُلْ تُسْمَعْ وَسَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَحْمَدُهُ بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ ثُمَّ أَعُودُ الثَّالِثَةَ فَإِذَا رَأَيْتُ رَبِيِّ وَقَعْتُ سَاجِدًا فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي ثُمَّ يُقَالُ ارْفَعْ مُحَمَّدُ قُلْ تُسْمَعْ وَسَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَحْمَدُهُ بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ ثُمَّ أَعُودُ الرَّابِعَةَ فَأَقُولُ يَا رَبِّ مَا بَقِيَ إِلاَّ مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ " . يَقُولُ قَتَادَةُ عَلَى أَثَرِ هَذَا الْحَدِيثِ وَحَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ شَعِيرَةٍ مِنْ خَيْرٍ وَيَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ بُرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ وَيَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ " .
#4313
Mawdu
It was narrated from ‘Uthman bin ‘Affan that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Three will intercede on the Day of Resurrection: The Prophets, then the scholars, then the martyrs.”
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن تین طرح کے لوگ شفاعت کر سکیں گے: انبیاء، علماء پھر شہداء ۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عِلاَقِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " يَشْفَعُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلاَثَةٌ الأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الْعُلَمَاءُ ثُمَّ الشُّهَدَاءُ " .
#4314
Hasan
It was narrated from Ubayy bin Ka’b, from his father, that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“When the Day of Resurrection comes, I will be the leader of the Prophets and the one who addresses them, and the one among them who will agree to intercede, and it is no boast.”
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہو گا تو میں نبیوں کا امام اور ان کا خطیب مقرر ہوں گا، اور ان کی سفارش کرنے والا ہوں گا، میں بغیر کسی فخر کے یہ بات کہہ رہا ہوں ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ كُنْتُ إِمَامَ النَّبِيِّينَ وَخَطِيبَهُمْ وَصَاحِبَ شَفَاعَتِهِمْ غَيْرَ فَخْرٍ " .
#4315
Sahih
It was narrated from ‘Imran bin Husain that the Prophet (ﷺ) said:“Some people will be brought forth from Hell by my intercession, who will be called Al-Jahannamiyyin (those who came out of Hell).”
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم میں سے ایک گروہ میری شفاعت کی وجہ سے باہر آئے گا، ان کا نام جہنمی ہو گا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " لَيَخْرُجَنَّ قَوْمٌ مِنَ النَّارِ بِشَفَاعَتِي يُسَمَّوْنَ الْجَهَنَّمِيِّينَ " .
#4316
Sahih
It was narrated from ‘Abdullah bin Abi Jad’a’ that he heard the Prophet (ﷺ) say:“More than (the members of the tribe of) Banu Tamim will enter Paradise through the intercession of a man from among my nation.” They said: “O Messenger of Allah, besides you?” He said: “Besides me.”
عبداللہ بن ابی الجدعا رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میری امت کے ایک شخص کی شفاعت کے نتیجہ میں بنو تمیم سے بھی زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ کے علاوہ ( یعنی وہ شخص آپ کے علاوہ کوئی ہے؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ، میرے علاوہ، ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی الجدعا رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ بات آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے آپ ہی سے سنی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْجَذْعَاءِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَكْثَرُ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ سِوَاكَ قَالَ " سِوَاىَ " . قُلْتُ أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ أَنَا سَمِعْتُهُ .
#4317
Sahih
‘Awf bin Malik Al-Ashja’i said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Do you know what choice my Lord gave me on this night?’ We said: ‘Allah and His Messenger know best.’ He said: ‘He gave me the choice between admitting half of my nation to Paradise and intercession, and I chose intercession.’ We said: ‘O Messenger of Allah, pray that we will be among its people (the people for whom you will intercede).’ He said: ‘It is for every Muslim.’”
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ آج رات میرے رب نے مجھے کس بات کا اختیار دیا ہے ؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے کہ میری آدھی امت جنت میں داخل ہو یا شفاعت کروں تو میں نے شفاعت کو اختیار کیا ، ہم نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کیجئیے کہ وہ ہمیں بھی شفاعت والوں میں بنائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شفاعت ہر مسلمان کو شامل ہے ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ، قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَ بْنَ عَامِرٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ الأَشْجَعِيَّ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَتَدْرُونَ مَا خَيَّرَنِي رَبِّيَ اللَّيْلَةَ " . قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ " فَإِنَّهُ خَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ " . قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنَا مِنْ أَهْلِهَا . قَالَ " هِيَ لِكُلِّ مُسْلِمٍ " .
#4318
Very Daif
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“This fire of yours is one-seventieth part of the fire of Hell. Were it not that its heat has been reduced by water twice, you would not have been able to benefit from it. And it is praying to Allah, asking Allah not to return it (to its original level of heat).”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک تمہاری یہ آگ جہنم کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے، اور اگر یہ دو مرتبہ پانی سے نہ بجھائی جاتی تو تم اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے تھے، اور یہ آگ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی ہے کہ دوبارہ اس کو جہنم میں نہ ڈالا جائے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي وَيَعْلَى، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ نُفَيْعٍ أَبِي دَاوُدَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ نَارَكُمْ هَذِهِ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ وَلَوْلاَ أَنَّهَا أُطْفِئَتْ بِالْمَاءِ مَرَّتَيْنِ مَا انْتَفَعْتُمْ بِهَا وَإِنَّهَا لَتَدْعُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لاَ يُعِيدَهَا فِيهَا " .
#4319
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The Fire complained to its Lord and said: ‘O Lord, parts of me have consumed other parts.’ So He gave it two occasions to exhale, one in winter and one in summer. The intense cold that you feel (in winter) is part of its severe frost (Zamharir) and the intense heat that you feel in summer is part of its hot wind (Samum).”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم نے اپنے رب سے شکایت کی اور کہا: اے میرے رب! میرے بعض حصہ نے بعض حصے کو کھا لیا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اس کو دو سانسیں عطا کیں: ایک سانس سردی میں، دوسری گرمی میں، تو سردی کی جو شدت تم پاتے ہو وہ اسی کی سخت سردی کی وجہ سے ہے، اور جو تم گرمی کی شدت پاتے ہو یہ اس کی گرم ہوا سے ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " اشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا فَقَالَتْ يَا رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا . فَجَعَلَ لَهَا نَفَسَيْنِ نَفَسٌ فِي الشِّتَاءِ وَنَفَسٌ فِي الصَّيْفِ فَشِدَّةُ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْبَرْدِ مِنْ زَمْهَرِيرِهَا وَشِدَّةُ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ مِنْ سَمُومِهَا " .
#4320
Daif
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:“The Hell-Fire was kindled for one thousand years and turned white. Then it was kindled for another thousand years and it turned red. Then it was kindled for another thousand years and it turned black. So it is black like the darkest night.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم ہزار برس تک بھڑکائی گئی تو اس کی آگ سفید ہو گئی، پھر ہزار برس بھڑکائی گئی تو وہ سرخ ہو گئی، پھر ہزار برس بھڑکائی گئی تو وہ سیاہ ہو گئی، اب وہ تاریک رات کی طرح سیاہ ہے ۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " أُوقِدَتِ النَّارُ أَلْفَ سَنَةٍ فَابْيَضَّتْ ثُمَّ أُوقِدَتْ أَلْفَ سَنَةٍ فَاحْمَرَّتْ ثُمَّ أُوقِدَتْ أَلْفَ سَنَةٍ فَاسْوَدَّتْ فَهِيَ سَوْدَاءُ كَاللَّيْلِ الْمُظْلِمِ " .
#4321
Sahih
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“On the Day of Resurrection the disbeliever who lived the most luxurious will be brought, and it will be said: ‘Dip him once in Hell.’ So he will be dipped in it, then it will be said to him: ‘O so- and-so, have you every enjoyed any pleasure?’ He will say: ‘No, I have never enjoyed any pleasure.’ Then the believer who suffered the most hardship and trouble will be brought and it will be said: ‘Dip him once in Paradise.’ So he will be dipped in it and it will be said to him: ‘O so-and-so, have you ever suffered any hardship or trouble?’ He will say: ‘I have never suffered any hardship or trouble.’”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن کافروں میں سے وہ شخص لایا جائے گا، جس نے دنیا میں بہت عیش کیا ہو گا، اور کہا جائے گا: اس کو جہنم میں ایک غوطہٰ دو، اس کو ایک غوطہٰ جہنم میں دیا جائے گا، پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اے فلاں! کیا تم نے کبھی راحت بھی دیکھی ہے؟ وہ کہے گا: نہیں، میں نے کبھی کوئی راحت نہیں دیکھی اور مومنوں میں سے ایک ایسے مومن کو لایا جائے گا، جو سخت تکلیف اور مصیبت میں رہا ہو گا، اس کو جنت کا ایک غوطہٰ دیا جائے گا، پھر اس سے پوچھا جائے گا: کیا تم نے کبھی کوئی تکلیف یا پریشانی دیکھی؟ وہ کہے گا: مجھے کبھی بھی کوئی مصیبت یا تکلیف نہیں پہنچی ۔
حَدَّثَنَا الْخَلِيلُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " يُؤْتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَنْعَمِ أَهْلِ الدُّنْيَا مِنَ الْكُفَّارِ فَيُقَالُ اغْمِسُوهُ فِي النَّارِ غَمْسَةً . فَيُغْمَسُ فِيهَا ثُمَّ يُقَالُ لَهُ أَىْ فُلاَنُ هَلْ أَصَابَكَ نَعِيمٌ قَطُّ فَيَقُولُ لاَ مَا أَصَابَنِي نَعِيمٌ قَطُّ . وَيُؤْتَى بِأَشَدِّ الْمُؤْمِنِينَ ضُرًّا وَبَلاَءً . فَيُقَالُ اغْمِسُوهُ غَمْسَةً فِي الْجَنَّةِ . فَيُغْمَسُ فِيهَا غَمْسَةً فَيُقَالُ لَهُ أَىْ فُلاَنُ هَلْ أَصَابَكَ ضُرٌّ قَطُّ أَوْ بَلاَءٌ فَيَقُولُ مَا أَصَابَنِي قَطُّ ضُرٌّ وَلاَ بَلاَءٌ " .
#4322
Daif
It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri that the Prophet (ﷺ) said:“The disbeliever will be made huge so much so that his molar will be bigger than (Mount) Uhud, and the size of his body in relation to his molar will be like the size of the body of anyone of you in relation to his molar.”
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کافر جہنم میں اتنا بھاری بھر کم ہو گا کہ اس کا دانت احد پہاڑ سے بڑا ہو جائے گا، اور اس کا باقی بدن دانت سے اتنا ہی بڑا ہو گا جتنا تمہارا بدن دانت سے بڑا ہوتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِنَّ الْكَافِرَ لَيَعْظُمُ حَتَّى إِنَّ ضِرْسَهُ لأَعْظَمُ مِنْ أُحُدٍ وَفَضِيلَةُ جَسَدِهِ عَلَى ضِرْسِهِ كَفَضِيلَةِ جَسَدِ أَحَدِكُمْ عَلَى ضِرْسِهِ " .
#4323
Sahih
‘Abdullah bin Qais said:“I was with Abu Burdah one night, and Harith bin Uqaish entered upon us. Harith told us that night that the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Among my nation are some by whose intercession more (than the members of the tribe of) Mudar will enter Paradise, and among my nation are some who will be made huge for the Fire until they fill one of its corners.’”
عبداللہ بن قیس کہتے ہیں کہ میں ایک رات ابوبردہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، تو ہمارے پاس حارث بن اقیش رضی اللہ عنہ آئے، اس رات حارث نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں ایسا شخص بھی ہو گا جس کی شفاعت سے مضر قبیلے سے زیادہ لوگ جنت میں جائیں گے، اور میری امت میں سے ایسا شخص ہو گا جو جہنم کے لیے اتنا بڑا ہو جائے گا کہ وہ جہنم کا ایک کونہ ہو جائے گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ أَبِي بُرْدَةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَدَخَلَ عَلَيْنَا الْحَارِثُ بْنُ أُقَيْشٍ فَحَدَّثَنَا الْحَارِثُ، لَيْلَتَئِذٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِنَّ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِهِ أَكْثَرُ مِنْ مُضَرَ وَإِنَّ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَعْظُمُ لِلنَّارِ حَتَّى يَكُونَ أَحَدَ زَوَايَاهَا " .
#4324
Daif
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The people of Hell will be made to weep and they will weep until they run out of tears. Then they will weep blood until something like trenches appear on their faces, and if ships were placed in them they would float.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنمیوں پر رونا آزاد چھوڑ دیا جائے گا، وہ روئیں گے یہاں تک کہ آنسو ختم ہو جائیں گے، پھر وہ خون روئیں گے یہاں تک کہ ان کے چہروں پر گڑھے بن جائیں گے، اگر ان میں کشتیاں چھوڑ دی جائیں تو وہ تیرنے لگیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " يُرْسَلُ الْبُكَاءُ عَلَى أَهْلِ النَّارِ فَيَبْكُونَ حَتَّى يَنْقَطِعَ الدُّمُوعُ ثُمَّ يَبْكُونَ الدَّمَ حَتَّى يَصِيرَ فِي وُجُوهِهِمْ كَهَيْئَةِ الأُخْدُودِ لَوْ أُرْسِلَتْ فِيهِ السُّفُنُ لَجَرَتْ " .
#4325
Daif
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) recited:“O you who believe! Have fear of Allah as is His due, and die not except as Muslims. [3:102] (Then he said): ‘If a drop of Zaqqum were to be dropped on the earth, it would ruin the livelihood of the people of this world, so how about those who have no food other than it (i.e. Zaqqum)?’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت: «يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون» اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو ( آل عمران: ۱۰۲ ) تلاوت کی اور فرمایا: زقوم ( تھوہڑ ) کا ایک قطرہ ( جہنمیوں کی خوراک ) زمین پر ٹپک جائے، تو ساری دنیا والوں کی زندگی تباہ کر دے، تو پھر ان لوگوں کا کیا حال ہو گا جن کے پاس اس کے سوا کوئی کھانا نہ ہو گا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلاَ تَمُوتُنَّ إِلاَّ وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ } " وَلَوْ أَنَّ قَطْرَةً مِنَ الزَّقُّومِ قُطِرَتْ فِي الأَرْضِ لأَفْسَدَتْ عَلَى أَهْلِ الدُّنْيَا مَعِيشَتَهُمْ فَكَيْفَ بِمَنْ لَيْسَ لَهُ طَعَامٌ غَيْرُهُ " .