#4326
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:“The Fire will consume all of the son of Adam except the mark of prostration. Allah has forbidden the Fire to consume the mark of prostration.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم کی آگ ابن آدم کے سارے بدن کو کھائے گی سوائے سجدوں کے نشان کے، اللہ تعالیٰ نے آگ پر یہ حرام کیا ہے کہ وہ سجدوں کے نشان کو کھائے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " تَأْكُلُ النَّارُ ابْنَ آدَمَ إِلاَّ أَثَرَ السُّجُودِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَى النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ أَثَرَ السُّجُودِ " .
#4327
Hasan Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:‘Death will be brought on the Day of Resurrection and made to stand on the Sirat (the Bridge over Hell). It will be said: “O people of Paradise!” And they will look. Anxious and afraid lest they be brought out of the place they are in. Then it will be said: “O people of Hell!” and they will look, hoping that they will be brought out of the place they are in. Then it will be said: “Do you know what this is?” They will say: “Yes, this is Death.” Then the command will be given for it to be slaughtered on the Sirat, and it will be said to both groups: “It is eternal wherever you are, and there will never be any death therein.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن موت کو لایا جائے گا، اور پل صراط پر کھڑا کیا جائے گا، پھر کہا جائے گا: اے جنت والو! تو وہ خوف زدہ اور ڈرے ہوئے اوپر چڑھیں گے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کو ان کے مقام سے نکال دیا جائے، پھر پکارا جائے گا: اے جہنم والو! تو وہ خوش خوش اوپر آئیں گے کہ وہ اپنے مقام سے نکالے جا رہے ہیں، پھر کہا جائے گا: کیا تم اس کو جانتے ہو؟ وہ کہیں گے: ہاں، یہ موت ہے، فرمایا: پھر حکم ہو گا تو وہ پل صراط پر ذبح کر دی جائے گی، پھر دونوں گروہوں سے کہا جائے گا: اب دونوں گروہ اپنے اپنے مقام میں ہمیشہ رہیں گے، اور موت کبھی نہیں آئے گی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " يُؤْتَى بِالْمَوْتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُوقَفُ عَلَى الصِّرَاطِ فَيُقَالُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ . فَيَطَّلِعُونَ خَائِفِينَ وَجِلِينَ أَنْ يُخْرَجُوا مِنْ مَكَانِهِمُ الَّذِي هُمْ فِيهِ ثُمَّ يُقَالُ يَا أَهْلَ النَّارِ فَيَطَّلِعُونَ مُسْتَبْشِرِينَ فَرِحِينَ أَنْ يُخْرَجُوا مِنْ مَكَانِهِمُ الَّذِي هُمْ فِيهِ فَيُقَالُ هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا قَالُوا نَعَمْ هَذَا الْمَوْتُ . قَالَ فَيُؤْمَرُ بِهِ فَيُذْبَحُ عَلَى الصِّرَاطِ ثُمَّ يُقَالُ لِلْفَرِيقَيْنِ كِلاَهُمَا خُلُودٌ فِيمَا تَجِدُونَ لاَ مَوْتَ فِيهِ أَبَدًا " .
#4328
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Allah says: ‘I have prepared for My righteous slaves that which no eye has seen, no ear has heard, and it has never crossed the mind of man.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ نعمت تیار کر رکھی ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا، اور نہ کسی آدمی کے دل میں اس کا خیال آیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ان نعمتوں کے علاوہ جو تم کو اللہ تعالیٰ نے بتائی ہیں اور بھی نعمتیں ہیں، اگر تم چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھو: «فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين جزاء بما كانوا يعملون» کوئی نفس نہیں جانتا ہے کہ اس کے لیے کیا آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے، یہ بدلہ ہے اس کے نیک اعمال کا ( سورۃ السجدۃ: ۱۷ ) ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس کو «قرآت أعين» ( یعنی جمع کا صیغہ ) پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِينَ مَا لاَ عَيْنٌ رَأَتْ وَلاَ أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلاَ خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ " . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَمِنْ بَلْهَ مَا قَدْ أَطْلَعَكُمُ اللَّهُ عَلَيْهِ اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ {فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ } قَالَ وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقْرَؤُهَا مِنْ قُرَّاتِ أَعْيُنٍ .
#4329
Daif
It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri that the Prophet (ﷺ) said:“A hand span in Paradise is better than the earth and everything on it.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلیاللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایک بالشت کی جگہ زمین یا زمین پر موجود تمام چیزوں میں یعنی «دنيا وما فيها» سے بہتر ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " لَشِبْرٌ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الأَرْضِ وَمَا عَلَيْهَا - الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا .
#4330
Sahih
It was narrated from Sahl bin Sa’d that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“A place the size of a whip in Paradise is better than this world and everything in it.”
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایک کوڑے کی جگہ «دنيا وما فيها» سے بہتر ہے ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ مَنْظُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " .
#4331
Sahih
Mu’adh bin Jabal said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘Paradise has one hundred grades, each of which is as big as the distance between heaven and earth. The highest of them is Firdaws and the best of them is Firdaws. The Throne is above Firdaws and from it spring forth the rivers of Paradise. If you ask of Allah, ask Him for Firdaws.’”
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جنت کے سو درجے ہیں، ہر درجے کا فاصلہ زمین و آسمان کے فاصلے کے برابر ہے، اور اس کا سب سے اونچا درجہ فردوس ہے، اور سب سے عمدہ بھی فردوس ہے اور عرش بھی فردوس پر ہے، اسی میں سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں، تو جب تم اللہ تعالیٰ سے مانگو تو فردوس مانگو ۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " الْجَنَّةُ مِائَةُ دَرَجَةٍ كُلُّ دَرَجَةٍ مِنْهَا مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ وَإِنَّ أَعْلاَهَا الْفِرْدَوْسُ وَإِنَّ أَوْسَطَهَا الْفِرْدَوْسُ وَإِنَّ الْعَرْشَ عَلَى الْفِرْدَوْسِ مِنْهَا تُفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ فَإِذَا مَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَسَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ " .
#4332
Daif
Usamah bin Zaid said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said one day to his Companions: ‘Who will strive hard with sincerity for Paradise? For there is nothing like Paradise. By the Lord of the Ka’bah, it is sparkling light, sweet basil waving in the breeze, a lofty palace, a flowing river, abundant ripe fruit, a beautiful wife and many fine garments, in a palace of eternal abode, in ease and luxury, in beautiful, strongly-built, lofty houses.’ They said: ‘We will strive heard for it, O Messenger of Allah.’ He said: ‘Say: In sha’ Allah (if Allah wills).’ Then he mentioned Jihad and encouraged them to engage in it.”
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن اپنے صحابہ سے فرمایا: کیا کوئی جنت کے لیے کمر نہیں باندھتا؟ اس لیے کہ جنت جیسی کوئی اور چیز نہیں ہے، رب کعبہ کی قسم، وہ چمکتا ہوا نور ہے، خوشبودار پھول ہے جو جھوم رہا ہے، مضبوط محل ہے، بہتی نہر ہے، وہاں بہت سارے پکے ہوئے میوے اور تیار پھل ہیں، خوبصورت اور خوش اخلاق بیویاں ہیں، کپڑوں کے بہت سارے جوڑے ہیں، ہمیشگی کا مقام ہے، جہاں سدا بہار اور تازگی ہے، اونچا، محفوظ اور روشن محل ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم اس کے لیے کمر باندھتے ہیں، تو آپ نے فرمایا: کہو، ان شاءاللہ، پھر جہاد کا ذکر کیا، اور اس کی رغبت دلائی ۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ الْمَعَافِرِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ كُرَيْبٍ، - مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ - قَالَ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ذَاتَ يَوْمٍ لأَصْحَابِهِ " أَلاَ مُشَمِّرٌ لِلْجَنَّةِ فَإِنَّ الْجَنَّةَ لاَ خَطَرَ لَهَا هِيَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ نُورٌ يَتَلأْلأُ وَرَيْحَانَةٌ تَهْتَزُّ وَقَصْرٌ مَشِيدٌ وَنَهَرٌ مُطَّرِدٌ وَفَاكِهَةٌ كَثِيرَةٌ نَضِيجَةٌ وَزَوْجَةٌ حَسْنَاءُ جَمِيلَةٌ وَحُلَلٌ كَثِيرَةٌ فِي مَقَامٍ أَبَدًا فِي حَبْرَةٍ وَنَضْرَةٍ فِي دَارٍ عَالِيَةٍ سَلِيمَةٍ بَهِيَّةٍ " . قَالُوا نَحْنُ الْمُشَمِّرُونَ لَهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " قُولُوا إِنْ شَاءَ اللَّهُ " . ثُمَّ ذَكَرَ الْجِهَادَ وَحَضَّ عَلَيْهِ .
#4333
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The first group to enter Paradise will enter with (faces) like the moon in the night when it is full. Then those who follow them will be shining with a light brighter than the brightest star in the sky. They will not urinate or defecate, or blow their noses or spit. Their combs will be of gold, their sweat will be musk, their braziers (receptacle for holding live coals for burning incense) will be pearls and their wives will be houris. Their form will be that of a single man, the form of their father Adam, sixty forearm’s length tall.’” Another chain reports the same
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلی جماعت جو جنت میں داخل ہو گی وہ چودھویں رات کے چاند کی طرح ہو گی، پھر جو لوگ ان کے بعد آئیں گے آسمان میں سب سے زیادہ روشن تارے کی طرح چمکتے ہوں گے، نہ وہ پیشاب کریں گے نہ پاخانہ، نہ وہ ناک صاف کریں گے نہ تھوکیں گے، ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی اور پسینہ مشک کا ہو گا، ان کی انگیٹھیاں عود کی ہوں گی، ان کی بیویاں بڑی آنکھوں والی حوریں ہوں گی، سارے جنتیوں کی عادت ایک شخص جیسی ہو گی، سب اپنے والد آدم علیہ السلام کی شکل و صورت پر ہوں گے، ساٹھ ہاتھ کے لمبے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى ضَوْءِ أَشَدِّ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ إِضَاءَةً لاَ يَبُولُونَ وَلاَ يَتَغَوَّطُونَ وَلاَ يَمْتَخِطُونَ وَلاَ يَتْفِلُونَ أَمْشَاطُهُمُ الذَّهَبُ وَرَشْحُهُمُ الْمِسْكُ وَمَجَامِرُهُمُ الأَلُوَّةُ أَزْوَاجُهُمُ الْحُورُ الْعِينُ أَخْلاَقُهُمْ عَلَى خَلْقِ رَجُلٍ وَاحِدٍ عَلَى صُورَةِ أَبِيهِمْ آدَمَ سِتُّونَ ذِرَاعًا " . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ فُضَيْلٍ عَنْ عُمَارَةَ.
#4334
Sahih
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Kauthar is a river in Paradise whose banks are of gold and its bed is of rubies and pearls. Its soil is more fragrant than musk, its water is sweeter than honey and whiter than snow.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوثر جنت میں ایک نہر ہے، اس کے دونوں کنارے سونے کے ہیں، اور اس کی پانی بہنے کی نالی یا قوت و موتی پر ہو گی، اس کی مٹی مشک سے زیادہ خوشبودار ہے، اور اس کا پانی شہد سے زیادہ میٹھا اور برف سے زیادہ سفید ہے۔
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " الْكَوْثَرُ نَهَرٌ فِي الْجَنَّةِ حَافَتَاهُ مِنْ ذَهَبٍ مَجْرَاهُ عَلَى الْيَاقُوتِ وَالدُّرِّ تُرْبَتُهُ أَطْيَبُ مِنَ الْمِسْكِ وَمَاؤُهُ أَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ وَأَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ الثَّلْجِ " .
#4335
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“In Paradise there is a tree under whose shade a rider could travel for one hundred years and never leave it.” "Recite, if you wish: 'And in shade long-extended (56:)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایک درخت ہے، اس کے سائے میں سوار سو برس تک چلتا رہے گا لیکن وہ ختم نہ ہو گا، اگر تم چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھو: «وظل ممدود» جنت میں دراز اور لمبا سایہ ہے ( سورة الواقعة: 3 ) ۔
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ سَنَةٍ لاَ يَقْطَعُهَا " . وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ {وَظِلٍّ مَمْدُودٍ * وَمَاءٍ مَسْكُوبٍ ) .
#4336
Daif
Sa’eed bin Al-Musayyab said that he met Abu Hurairah and Abu Hurairah said:“I supplicate Allah to bring you and I together in the marketplace of Paradise,” Sa’eed said: “Is there a marketplace there?” He said: “Yes. The Messenger of Allah (ﷺ) told me that when the people of Paradise enter it, they will take their places according to their deeds, and they will be given permission for a length of time equivalent to Friday on earth, when they will visit Allah. His Throne will be shown to them and He will appear to them in one of the gardens of Paradise. Chairs of light and chairs of pearls and chairs of rubies and chairs of chrysolite and chairs of gold and chairs of silver will be placed for them. Those who are of a lower status than them, and none of them will be regarded as insignificant, will sit on sandhills of musk and camphor, and they will not feel that those who are sitting on chairs are seated better than them.” Abu Hurairah said: “I said: ‘O Messenger of Allah, will we see our Lord?’ He said: ‘Yes. Do you dispute that you see the sun and the moon on the night when it is full?’ We said: ‘No.’ He said: ‘Likewise, you will not dispute that you see your Lord, the Glorified. There will be no one left in that gathering with whom Allah does not speak face to face, until He will say to a man among you: “Do you not remember, O so-and-so, the day you did such and such?” And He will remind him of some of his sins in this world. He will say: “O Lord, have You not forgiven me?” He will say: “Yes, it is by the vastness of My forgiveness that You have reached the position you are in.” While they are like that, a cloud will cover them from above and will rain down on them perfume the like of whose fragrance they have never smelled before. Then He will say: “Get up and go to the honor that has been prepared for you, and take whatever you desire.” So we will go to a marketplace surrounded by the angels, in which there will be such things as eyes have never seen, ears have never heard and it has not entered the heart of man. Whatever we desire will be carried for us. Nothing will be bought or sold therein. In that marketplace the people of Paradise will meet one another. A man of elevated status will meet those who are of lower status than him, but none shall be regarded as insignificant, and he will be dazzled by the clothes that he sees on him. He will not finish the last of his conversation before better clothes appear on him. That is because no one should be sad there.’” “He said: ‘Then we will go back to our homes where we will be met by our wives, and they will say: ‘Welcome. You have come looking more handsome and with a better fragrance than when you left us.’ And we will say: ‘Today we sat with our Lord, the Compeller, the Glorified, and we deserve to come back as we have come back.’”
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملے تو انہوں نے کہا: میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے اور تمہیں جنت کے بازار میں ملا دے، سعید بن مسیب نے کہا: کیا وہاں بازار بھی ہو گا؟ فرمایا: ہاں، مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ اہل جنت جب جنت میں داخل ہوں گے تو ان کے مراتب اعمال کے مطابق ان کو جگہ ملے گی، پھر ان کو دنیا کے دنوں میں سے جمعہ کے دن کے برابر اجازت دی جائے گی، وہ اللہ عزوجل کی زیارت کریں گے، اللہ تعالیٰ ان کے لیے اپنا عرش ظاہر کرے گا، اور ان کے سامنے جنت کے باغات میں سے ایک باغ میں جلوہ افروز ہو گا، ان کے لیے منبر رکھے جائیں گے، نور کے منبر، موتی کے منبر، یاقوت کے منبر، زبرجد کے منبر، سونے اور چاندی کے منبر اور ان میں سے کم تر درجے والا ( حالانکہ ان میں کم تر کوئی نہ ہو گا ) مشک و کافور کے ٹیلوں پر بیٹھے گا، اور ان کو یہ خیال نہ ہو گا کہ کرسیوں والے ان سے زیادہ اچھی جگہ بیٹھے ہیں ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟ فرمایا: ہاں، کیا تم سورج اور چودھویں کے چاند کو دیکھنے میں جھگڑتے ہو ؟ ہم نے کہا: نہیں، فرمایا: اسی طرح تم اپنے رب عزوجل کو دیکھنے میں جھگڑا نہیں کرو گے اور اس مجلس میں کوئی شخص نہیں بچے گا مگر اللہ تعالیٰ ہر شخص سے گفتگو کرے گا، یہاں تک کہ وہ ان میں سے ایک شخص سے کہے گا: اے فلاں! کیا تمہیں یاد نہیں کہ ایک دن تم نے ایسا ایسا کیا تھا؟ ( اس کو دنیا کی بعض غلطیاں یاد دلائے گا ) تو وہ کہے گا: اے میرے رب! کیا تم نے مجھے معاف نہیں کیا؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیوں نہیں، میری وسیع مغفرت ہی کی وجہ سے تو اس درجے کو پہنچا ہے، وہ سب اسی حالت میں ہوں گے کہ ان کو اوپر سے ایک بادل ڈھانپ لے گا، اور ایسی خوشبو برسائے گا جو انہوں نے کبھی نہ سونگھی ہو گی، پھر فرمائے گا: اب اٹھو اور جو کچھ تمہاری مہمان نوازی کے لیے میں نے تیار کیا ہے اس میں سے جو چاہو لے لو، فرمایا: پھر ہم ایک بازار میں آئیں گے جس کو فرشتوں نے گھیر رکھا ہو گا، اس میں وہ چیزیں ہوں گی جن کے مثل نہ آنکھوں نے دیکھا، نہ کانوں نے سنا، اور نہ دلوں نے سوچا، ( فرمایا ) ہم جو چاہیں گے ہمارے لیے پیش کر دیا جائے گا، اس میں کسی چیز کی خرید و فروخت نہ ہو گی، اس بازار میں اہل جنت ایک دوسرے سے ملیں گے، ایک اونچے مرتبے والا شخص آگے بڑھے گا اور اپنے سے نیچے درجے والے سے ملے گا ( حالانکہ ان میں کوئی کم درجے کا نہ ہو گا ) وہ اس کے لباس کو دیکھ کر مرعوب ہو گا، لیکن یہ دوسرا شخص اپنی گفتگو پوری نہ کر پائے گا کہ اس پر اس سے بہتر لباس آ جائے گا، ایسا اس لیے ہے کہ جنت میں کسی کو کسی چیز کا غم نہ رہے ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پھر ہم اپنے گھروں کو لوٹیں گے، تو ہماری بیویاں ہم سے ملیں گی، اور خوش آمدید کہیں گی، اور کہیں گی کہ تم آ گئے اور تمہاری خوبصورتی اور خوشبو اس سے کہیں عمدہ ہے جس میں تم ہمیں چھوڑ کر گئے تھے، تو ہم کہیں گے: آج ہم اپنے رب کے پاس بیٹھے، اور یہ ضروری تھا کہ ہم اسی حال میں لوٹتے۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ أَبِي الْعِشْرِينَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ لَقِيَ أَبَا هُرَيْرَةَ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يَجْمَعَ، بَيْنِي وَبَيْنَكَ فِي سُوقِ الْجَنَّةِ . قَالَ سَعِيدٌ أَوَفِيهَا سُوقٌ قَالَ نَعَمْ أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ إِذَا دَخَلُوهَا نَزَلُوا فِيهَا بِفَضْلِ أَعْمَالِهِمْ فَيُؤْذَنُ لَهُمْ فِي مِقْدَارِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا فَيَزُورُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيُبْرِزُ لَهُمْ عَرْشَهُ وَيَتَبَدَّى لَهُمْ فِي رَوْضَةٍ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ فَتُوضَعُ لَهُمْ مَنَابِرُ مِنْ نُورٍ وَمَنَابِرُ مِنْ لُؤْلُؤٍ وَمَنَابِرُ مِنْ يَاقُوتٍ وَمَنَابِرُ مِنْ زَبَرْجَدٍ وَمَنَابِرُ مِنْ ذَهَبٍ وَمَنَابِرُ مِنْ فِضَّةٍ وَيَجْلِسُ أَدْنَاهُمْ - وَمَا فِيهِمْ دَنِيءٌ - عَلَى كُثْبَانِ الْمِسْكِ وَالْكَافُورِ مَا يُرَوْنَ أَنَّ أَصْحَابَ الْكَرَاسِيِّ بِأَفْضَلَ مِنْهُمْ مَجْلِسًا . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا قَالَ " نَعَمْ هَلْ تَتَمَارَوْنَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ " . قُلْنَا لاَ . قَالَ " كَذَلِكَ لاَ تَتَمَارَوْنَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ وَلاَ يَبْقَى فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ أَحَدٌ إِلاَّ حَاضَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مُحَاضَرَةً حَتَّى إِنَّهُ يَقُولُ لِلرَّجُلِ مِنْكُمْ أَلاَ تَذْكُرُ يَا فُلاَنُ يَوْمَ عَمِلْتَ كَذَا وَكَذَا - يُذَكِّرُهُ بَعْضَ غَدَرَاتِهِ فِي الدُّنْيَا - فَيَقُولُ يَا رَبِّ أَفَلَمْ تَغْفِرْ لِي فَيَقُولُ بَلَى فَبِسَعَةِ مَغْفِرَتِي بَلَغْتَ مَنْزِلَتَكَ هَذِهِ . فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ غَشِيَتْهُمْ سَحَابَةٌ مِنْ فَوْقِهِمْ فَأَمْطَرَتْ عَلَيْهِمْ طِيبًا لَمْ يَجِدُوا مِثْلَ رِيحِهِ شَيْئًا قَطُّ ثُمَّ يَقُولُ قُومُوا إِلَى مَا أَعْدَدْتُ لَكُمْ مِنَ الْكَرَامَةِ فَخُذُوا مَا اشْتَهَيْتُمْ . قَالَ فَنَأْتِي سُوقًا قَدْ حُفَّتْ بِهِ الْمَلاَئِكَةُ فِيهِ مَا لَمْ تَنْظُرِ الْعُيُونُ إِلَى مِثْلِهِ وَلَمْ تَسْمَعِ الآذَانُ وَلَمْ يَخْطُرْ عَلَى الْقُلُوبِ . قَالَ فَيُحْمَلُ لَنَا مَا اشْتَهَيْنَا لَيْسَ يُبَاعُ فِيهِ شَىْءٌ وَلاَ يُشْتَرَى وَفِي ذَلِكَ السُّوقِ يَلْقَى أَهْلُ الْجَنَّةِ بَعْضُهُمْ بَعْضًا فَيُقْبِلُ الرَّجُلُ ذُو الْمَنْزِلَةِ الْمُرْتَفِعَةِ فَيَلْقَى مَنْ هُوَ دُونَهُ - وَمَا فِيهِمْ دَنِيءٌ - فَيَرُوعُهُ مَا يَرَى عَلَيْهِ مِنَ اللِّبَاسِ فَمَا يَنْقَضِي آخِرُ حَدِيثِهِ حَتَّى يَتَمَثَّلَ لَهُ عَلَيْهِ أَحْسَنُ مِنْهُ وَذَلِكَ أَنَّهُ لاَ يَنْبَغِي لأَحَدٍ أَنْ يَحْزَنَ فِيهَا " . قَالَ " ثُمَّ نَنْصَرِفُ إِلَى مَنَازِلِنَا فَيَتَلَقَّانَا أَزْوَاجُنَا فَيَقُلْنَ مَرْحَبًا وَأَهْلاً لَقَدْ جِئْتَ وَإِنَّ بِكَ مِنَ الْجَمَالِ وَالطِّيبِ أَفْضَلَ مِمَّا فَارَقْتَنَا عَلَيْهِ فَنَقُولُ إِنَّا جَالَسْنَا الْيَوْمَ رَبَّنَا الْجَبَّارَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَحِقُّنَا أَنْ نَنْقَلِبَ بِمِثْلِ مَا انْقَلَبْنَا " .
#4337
Very Daif
It was narrated from Abu Umamah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“There is no one whom Allah will admit to Paradise but Allah will marry him to seventy-two wives, two from houris and seventy from his inheritance from the people of Hell, all of whom will have desirable front passages and he will have a male member that never becomes flaccid (i.e., soft and limp).’”
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بھی جنت میں جائے گا اللہ تعالیٰ بہتر ( ۷۲ ) بیویوں سے اس کی شادی کر دے گا، دو بڑی آنکھوں والی حوریں اور ستر ( ۷۰ ) اہل جہنم کی میراث میں سے ہوں گی، ان میں سے ہر ایک کی شرمگاہ خوب شہوت والی ہو گی، اور اس کا ذکر ایسا ہو گا جس میں کبھی کجی نہیں ہو گی ، ہشام بن خالد نے کہا: اہل جہنم کی میراث سے مراد یہ ہے کہ جو لوگ جہنم میں جائیں گے اہل جنت ان کی بیویوں کے وارث ہو جائیں گے مثلا ً فرعون کی بیوی کے وارث جنتی ہوں گے۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْرَقُ أَبُو مَرْوَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَا مِنْ أَحَدٍ يُدْخِلُهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ إِلاَّ زَوَّجَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ زَوْجَةً ثِنْتَيْنِ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ وَسَبْعِينَ مِنْ مِيرَاثِهِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ مَا مِنْهُنَّ وَاحِدَةٌ إِلاَّ وَلَهَا قُبُلٌ شَهِيٌّ وَلَهُ ذَكَرٌ لاَ يَنْثَنِي " . قَالَ هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ مِنْ مِيرَاثِهِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَعْنِي رِجَالاً دَخَلُوا النَّارَ فَوَرِثَ أَهْلُ الْجَنَّةِ نِسَاءَهُمْ كَمَا وُرِثَتِ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ .
#4338
Sahih
It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“When the believer wants a child in Paradise, he will be conceived and born and grown up, in a short while, according to his desire.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن جب جنت میں اولاد کی خواہش کرے گا، تو حمل اور وضع حمل اس کی خواہش کے موافق سب ایک گھڑی میں ہو جائے گا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَامِرٍ الأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " الْمُؤْمِنُ إِذَا اشْتَهَى الْوَلَدَ فِي الْجَنَّةِ كَانَ حَمْلُهُ وَوَضْعُهُ فِي سَاعَةٍ وَاحِدَةٍ كَمَا يَشْتَهِي " .
#4339
Sahih
It was narrated from ‘Abdullah bin Mas’ud that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“I know the last of the people of Hell who will be brought forth from it, and the last of the people of Paradise to be admitted to Paradise. (It is) a man who will emerge from Hell crawling, and it will be said to him: ‘Go and enter Paradise.’ He will come to it and it will be made to appear to him as if it is full.’ Allah will say: ‘Go and enter Paradise.’ He will come to it and it will appear to him as if it is full. So he will say: ‘O Lord, I found it full.’ Allah will say: ‘Go and enter Paradise.’ He will come to it and it will be made to appear to him as if it is full. So he will say: ‘O Lord, I found it full.’ Allah will say: ‘Go and enter Paradise, for you will have the like of the world and ten times more, or you will have ten times the like of the world.’ He will say: ‘Are You mocking me, or are You laughing at me, when You are the Sovereign?’” He said: "And I saw the Messenger of Allah (ﷺ) smiling so broadly that his molar teeth could be seen." And he used to say: "This is the lowest of the people of Paradise in status
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں جانتا ہوں اس کو جو سب سے آخر میں جہنم سے نکلے گا، اور جنت میں سب سے آخر میں داخل ہو گا، وہ شخص جہنم سے گھسٹتا ہوا نکلے گا، اس سے کہا جائے گا: جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ وہ جنت تک آئے گا تو اس کو لگے گا کہ وہ بھری ہوئی ہے، وہ لوٹ جائے گا اس پر کہے گا: اے میرے رب! میں نے اس کو بھری ہوئی پایا، اللہ فرمائے گا: جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ، وہ جنت تک آئے گا تو اس کو بھری ہوئی سمجھ کر پھر واپس چلا جائے گا، لوٹ کر کہے گا: اے میرے رب! وہ تو بھری ہوئی ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ، تمہارے لیے دنیا اور اس کے مثل دس دنیاؤں کی جگہ ( جنت میں ) ہے، وہ کہے گا: کیا تو مجھ سے مذاق کر رہا ہے حالانکہ تو بادشاہ ہے؟، یہ حدیث بیان کرتے ہوئے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اتنا ہنسے کہ آپ کے اخیر کے دانت ظاہر ہو گئے، ( یعنی کھل کھلا کر ہنس پڑے ) کہا جاتا ہے کہ یہ شخص جنتیوں میں سب سے کم درجے والا ہو گا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنِّي لأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا وَآخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولاً الْجَنَّةَ . رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ حَبْوًا فَيُقَالُ لَهُ اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ . فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلأَى فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ وَجَدْتُهَا مَلأَى . فَيَقُولُ اللَّهُ اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ . فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلأَى فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ وَجَدْتُهَا مَلأَى . فَيَقُولُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ . فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلأَى فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ إِنَّهَا مَلأَى . فَيَقُولُ اللَّهُ اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ . فَإِنَّ لَكَ مِثْلَ الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا - أَوْ إِنَّ لَكَ مِثْلَ عَشَرَةِ أَمْثَالِ الدُّنْيَا - فَيَقُولُ أَتَسْخَرُ بِي - أَوْ أَتَضْحَكُ بِي - وَأَنْتَ الْمَلِكُ " . قَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ . فَكَانَ يُقَالُ هَذَا أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً .
#4340
Sahih
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever asks for Paradise, three times, Paradise will say: “O Allah, admit him to Paradise.” And whoever asked to be saved from Hell, three times, Hell will say: “O Allah, save him from Hell.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے تین بار جنت مانگی تو جنت نے کہا: اے اللہ! اسے جنت میں داخل فرما، اور جس نے تین بار جہنم سے پناہ مانگی تو جہنم نے کہا: اے اللہ! اس کو جہنم سے پناہ دے ۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ سَأَلَ الْجَنَّةَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ قَالَتِ الْجَنَّةُ اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَمَنِ اسْتَجَارَ مِنَ النَّارِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ قَالَتِ النَّارُ اللَّهُمَّ أَجِرْهُ مِنَ النَّارِ " .
#4341
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“There is no one among you who does not have two abodes: An abode in Paradise and an abode in Hell. If he dies and enters Hell, the people of Paradise inherit his abode. This is what Allah says: ‘These are indeed the inheritors.’” [23:]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ لَهُ مَنْزِلاَنِ مَنْزِلٌ فِي الْجَنَّةِ وَمَنْزِلٌ فِي النَّارِ فَإِذَا مَاتَ فَدَخَلَ النَّارَ وَرِثَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مَنْزِلَهُ فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى {أُولَئِكَ هُمُ الْوَارِثُونَ } " .