#4276
Sahih
It was narrated that Qasim said:‘Aishah said: “I said: ‘O Messenger of Allah, how will the people be gathered on the Day of Resurrection?’ He said: ‘Barefoot and naked.’ I said: ‘And the women?’ He said: ‘And the women.’ I said: ‘O Messenger of Allah, will we not feel embarrassed?’ He said: ‘O ‘Aishah, the matter will be too serious for them to look at one another.’”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! لوگ قیامت کے دن کیسے اٹھائے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ننگے پاؤں، ننگے بدن ، میں نے کہا: عورتیں بھی اسی طرح؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتیں بھی ، میں نے کہا: اللہ کے رسول! پھر شرم نہیں آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! معاملہ اتنا سخت ہو گا کہ ( کوئی ) ایک دوسرے کی طرف نہ دیکھے گا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي صَغِيرَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ " حُفَاةً عُرَاةً " . قُلْتُ وَالنِّسَاءُ قَالَ " وَالنِّسَاءُ " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا يُسْتَحْيَى قَالَ " يَا عَائِشَةُ الأَمْرُ أَشَدُّ مِنْ أَنْ يَنْظُرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ " .
#4277
Daif
It was narrated from Abu Musa Al-Ash’ari that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The people will be presented (before Allah) three times on the Day of Resurrection. The first two times will be for disputes and excuses, and the third time will be when the scrolls (of deeds) fly into their hands; some will take it in the right hand and some in the left.”
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن لوگوں کی تین پیشیاں ہوں گی، دوبار کی پیشی میں بحث و تکرار اور عذر و بہانے ہوں گے اور تیسری بار میں اعمال نامے ہاتھوں میں اڑ رہے ہوں گے، تو کوئی اس کو اپنے دائیں ہاتھ میں اور کوئی بائیں ہاتھ میں پکڑے ہو گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيِّ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " يُعْرَضُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلاَثَ عَرَضَاتٍ فَأَمَّا عَرْضَتَانِ فَجِدَالٌ وَمَعَاذِيرُ وَأَمَّا الثَّالِثَةُ فَعِنْدَ ذَلِكَ تَطِيرُ الصُّحُفُ فِي الأَيْدِي فَآخِذٌ بِيَمِينِهِ وَآخِذٌ بِشِمَالِهِ " .
#4278
Sahih
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Prophet (ﷺ) said:“The Day when (all) mankind will stand before the Lord of all that exists.” [83:6] One of them will stand in his sweat up to halfway up his ears.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے: «يوم يقوم الناس لرب العالمين» جس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے ( سورۃ المطففین: ۶ ) کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: لوگ اس طرح کھڑے ہوں گے کہ نصف کان تک اپنے پسینے میں غرق ہوں گے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَأَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ {يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ} قَالَ " يَقُومُ أَحَدُهُمْ فِي رَشْحِهِ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ " .
#4279
Sahih
It was narrated that ‘Aishah said:“I asked the Messenger of Allah (ﷺ): “On the Day when the earth will be changed to another earth and so will be the heavens.” [14:48] – where will the people be on that Day?’ He said: ‘On the Sirat (the Bridge across Hell-fire).’”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «يوم تبدل الأرض غير الأرض والسموات» جس دن زمین اور آسمان بدل دئیے جائیں گے ( سورة إبراهيم: 48 ) سے متعلق پوچھا کہ لوگ اس وقت کہاں ہوں گے؟ تو آپ صلی اللہعلیہ وسلم نے فرمایا: پل صراط پر ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ قَوْلِهِ {يَوْمَ تُبَدَّلُ الأَرْضُ غَيْرَ الأَرْضِ وَالسَّمَوَاتُ } فَأَيْنَ تَكُونُ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ قَالَ " عَلَى الصِّرَاطِ " .
#4280
Sahih
Abu Sa’eed narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The Sirat will be placed across Hell, on thorns like the thorns of Sa’dan plant.* Then the people will cross it. Some will pass over safe and sound, some will be detained, and some will fall in headfirst.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پل صراط جہنم کے دونوں کناروں پر رکھا جائے گا، اس پر سعدان کے کانٹوں کی طرح کانٹے ہوں گے، پھر لوگ اس پر سے گزرنا شروع کریں گے، تو بعض لوگ صحیح سلامت گزر جائیں گے، بعض کے کچھ اعضاء کٹ کر جہنم میں گر پڑیں گے، پھر نجات پائیں گے، بعض اسی پر اٹکے رہیں گے، اور بعض اوندھے منہ جہنم میں گریں گے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدٍ الْعُتْوَارِيِّ، أَحَدِ بَنِي لَيْثٍ - قَالَ - وَكَانَ فِي حَجْرِ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُهُ - يَعْنِي أَبَا سَعِيدٍ، - يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " يُوضَعُ الصِّرَاطُ بَيْنَ ظَهْرَانَىْ جَهَنَّمَ عَلَى حَسَكٍ كَحَسَكِ السَّعْدَانِ ثُمَّ يَسْتَجِيزُ النَّاسُ فَنَاجٍ مُسَلَّمٌ وَمَخْدُوجٌ بِهِ ثُمَّ نَاجٍ وَمُحْتَبَسٌ بِهِ وَمَنْكُوسٌ فِيهَا " .
#4281
Sahih
It was narrated from Hafsah that the Prophet (ﷺ) said:“I hope that no one of those who witnessed (the battle of) Badr and (Treaty) Hudaybiyah will enter Hell, if Allah wills.” I said: “O Messenger of Allah, doesn’t Allah say “There is not one of you but will pass over it (Hell); this is with your Lord, a decree which must be accomplished?” [19:71] He said: “Have you not heard that He says: ‘Then We shall save those who use to fear Allah and were dutiful to Him. And We shall leave the wrongdoers therein (humbled) to their knees (in Hell)?’” [19:]
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے جو لوگ بدر و حدیبیہ کی جنگوں میں شریک تھے، ان میں سے کوئی جہنم میں نہ جائے گا، «إ ن شاء اللہ» اگر اللہ نے چاہا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نہیں ہے: «وإن منكم إلا واردها كان على ربك حتما مقضيا» تم میں سے ہر ایک کو اس میں وارد ہونا ہے، یہ تیرے رب کا حتمی فیصلہ ہے ( سورة مريم: 71 ) ؟، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول نہیں سنا: «ثم ننجي الذين اتقوا ونذر الظالمين فيها جثيا» پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو اسی میں اوندھے منہ چھوڑ دیں گے ( سورة مريم: 72 ۔)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنِّي لأَرْجُو أَلاَّ يَدْخُلَ النَّارَ أَحَدٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ " . قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ قَدْ قَالَ اللَّهُ {وَإِنْ مِنْكُمْ إِلاَّ وَارِدُهَا كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا} قَالَ " أَلَمْ تَسْمَعِيهِ يَقُولُ {ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا} .
#4282
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“You will come to me with radiant faces, hands and feet from the traces of ablution. This is the characteristic sign of my nation which does not belong to anyone else.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میرے پاس آؤ گے اس حال میں کہ وضو کی وجہ سے تمہارے ہاتھ پاؤں اور پیشانیاں روشن ہوں گی، یہ میری امت کا نشان ہو گا، اور کسی امت کا یہ نشان نہ ہو گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " تَرِدُونَ عَلَىَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ سِيمَاءُ أُمَّتِي لَيْسَ لأَحَدٍ غَيْرِهَا " .
#4283
Sahih
It was narrated that ‘Abdullah said:“We were with the Messenger of Allah (ﷺ) in a tent, and he said: ‘Will it not please you to be one quarter of the people of Paradise?’ We said: ‘Yes.’ He said: ‘Will it not please you to be one third of the people of Paradise?’ We said: ‘Yes.’ He said: ‘By the One in Whose Hand is my soul, I hope that you will be half of the people of Paradise. For no one will enter Paradise but a Muslim soul, and among the people of polytheism you are like a white hair on the hide of a black bull, or like a black hair on the hide of a red bull.’”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک خیمے میں تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس پر راضی اور خوش ہو گے کہ تمہاری تعداد جنت والوں کے چوتھائی ہو ، ہم نے کہا: کیوں نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم خوش ہو گے کہ تمہاری تعداد جنت والوں کے ایک تہائی ہو ، ہم نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مجھے امید ہے کہ تمہاری تعداد تمام اہل جنت کا نصف ہو گی، ایسا اس لیے ہے کہ جنت میں صرف مسلمان ہی جائے گا، اور مشرکین کے مقابلے میں تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کالے بیل کی جلد پر سفید بال یا سرخ بیل کی جلد پر کالا بال ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي قُبَّةٍ فَقَالَ " أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . قُلْنَا بَلَى . قَالَ " أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . قُلْنَا نَعَمْ . قَالَ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَذَلِكَ أَنَّ الْجَنَّةَ لاَ يَدْخُلُهَا إِلاَّ نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ وَمَا أَنْتُمْ فِي أَهْلِ الشِّرْكِ إِلاَّ كَالشَّعَرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الأَسْوَدِ أَوْ كَالشَّعَرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الأَحْمَرِ " .
#4284
Sahih
It was narrated from Abu Sa’eed that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“A Prophet will come accompanied by two men, and a Prophet will come accompanied by three, and (some will come) with more or less than that. It will be said to him: ‘Did you convey the message to your people?’ And he will say: ‘Yes.’ Then his people will be called and it will be said: ‘Did he convey the message to you?’ They will say: ‘No.’ Then it will be said: ‘Who will bear witness for you?’ He will say: ‘Muhammad and his nation.’ So the nation of Muhammad will be called and it will be said: ‘Did this man convey the message?’ They will say: ‘Yes.’ He will say: ‘How did you know that?’ They will say: ‘Our Prophet told us that the Messengers had conveyed the message, and we believed him.’ This is what Allah says: “Thus We have made you, a just (and the best) nation, that you be witnesses over mankind and the Messenger (Muhammad (ﷺ)) be a witness over you.’” [2:]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( قیامت کے دن ) ایک نبی آئے گا اور اس کے ساتھ دو ہی آدمی ہوں گے، اور ایک نبی آئے گا اس کے ساتھ تین آدمی ہوں گے، اور کسی نبی کے ساتھ زیادہ لوگ ہوں گے، کسی کے ساتھ کم، اس نبی سے پوچھا جائے گا: کیا تم نے اپنی قوم تک اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا تھا؟ وہ کہے گا: جی ہاں پھر اس کی قوم بلائی جائے گی اور پوچھا جائے گا: کیا اس نے تم کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے: نہیں نبی سے پوچھا جائے گا: تمہارا گواہ کون ہے؟ وہ کہے گا: محمد اور ان کی امت، پھر محمد کی امت بلائی جائے گی اور کہا جائے گا: کیا اس نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہے گی: جی ہاں اس سے پوچھا جائے گا: تمہیں کیسے معلوم ہوا؟ جواب دے گی کہ ہمارے نبی نے ہم کو یہ بتایا کہ رسولوں نے پیغام پہنچا دیا ہے تو ہم نے ان کی تصدیق کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی اللہ تعالیٰ کے قول: «وكذلك جعلناكم أمة وسطا لتكونوا شهداء على الناس ويكون الرسول عليكم شهيدا» اسی طرح ہم نے تم کو امت وسط بنایا تاکہ تم گواہ رہو لوگوں پر اور رسول گواہ رہیں تمہارے اوپر ( سورة البقرة: 143 ) کا مطلب ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " يَجِيءُ النَّبِيُّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَعَهُ الرَّجُلُ وَيَجِيءُ النَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّجُلاَنِ وَيَجِيءُ النَّبِيُّ وَمَعَهُ الثَّلاَثَةُ وَأَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ وَأَقَلُّ فَيُقَالُ لَهُ هَلْ بَلَّغْتَ قَوْمَكَ فَيَقُولُ نَعَمْ . فَيُدْعَى قَوْمُهُ فَيُقَالُ هَلَ بَلَّغَكُمْ فَيَقُولُونَ لاَ . فَيُقَالُ مَنْ شَهِدَ لَكَ فَيَقُولُ مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ . فَتُدْعَى أُمَّةُ مُحَمَّدٍ فَيُقَالُ هَلْ بَلَّغَ هَذَا فَيَقُولُونَ نَعَمْ . فَيَقُولُ وَمَا عِلْمُكُمْ بِذَلِكَ فَيَقُولُونَ أَخْبَرَنَا نَبِيُّنَا بِذَلِكَ أَنَّ الرُّسُلَ قَدْ بَلَّغُوا فَصَدَّقْنَاهُ . قَالَ فَذَلِكُمْ قَوْلُهُ تَعَالَى {وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا} .
#4285
Sahih
It was narrated that Rifa’ah Al-Juhani said:“We came back (from a campaign) with the Messenger of Allah (ﷺ) and he said: ‘By the One in Whose Hand is the soul of Muhammad, there is no person who believes then stands firm, but he will be caused to enter Paradise. I hope that they will not enter it until you and those who are righteous among your offspring will enter it and take up your dwelling places therein. And my Lord has promised me that seventy thousand of my nation will enter Paradise without being brought to account.’”
رفاعہ جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، کوئی بندہ ایسا نہیں ہے، جو ایمان لائے، پھر اس پر جما رہے مگر وہ اس کی وجہ سے جنت میں داخل کیا جائے گا، اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ اس میں داخل نہ ہوں گے یہاں تک کہ تم اور تمہاری اولاد میں جو لوگ نیک ہوئے جنت کے مکانات میں ٹھکانا نہ بنا لیں، اور مجھ سے میرے رب نے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار لوگوں کو بغیر حساب و کتاب جنت میں داخل کرے گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رِفَاعَةَ الْجُهَنِيِّ، قَالَ صَدَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا مِنْ عَبْدٍ يُؤْمِنُ ثُمَّ يُسَدَّدُ إِلاَّ سُلِكَ بِهِ فِي الْجَنَّةِ وَأَرْجُو أَلاَّ يَدْخُلُوهَا حَتَّى تَبَوَّءُوا أَنْتُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ ذَرَارِيِّكُمْ مَسَاكِنَ فِي الْجَنَّةِ وَلَقَدْ وَعَدَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ " .
#4286
Sahih
Abu Umamah Al-Bahili said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘My Lord has promised me that seventy thousand of my nation will enter Paradise without being brought to account or punished. With every thousand will be (another) seventy thousand, and three handfuls of my Lord, the Glorified.’”
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میرے رب ( سبحانہ و تعالیٰ ) نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار لوگوں کو جنت میں داخل کرے گا، نہ ان کا حساب ہو گا، اور نہ ان پر کوئی عذاب، ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہوں گے، اور ان کے سوا میرے رب عزوجل کی مٹھیوں میں سے تین مٹھیوں کے برابر بھی ہوں گے ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ الأَلْهَانِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ وَعَدَنِي رَبِّي سُبْحَانَهُ أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا لاَ حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلاَ عَذَابَ مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا وَثَلاَثُ حَثَيَاتٍ مِنْ حَثَيَاتِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ " .
#4287
Hasan
It was narrated from Bahz bin Hakim, from his father, that his grandfather said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘On the Day of Resurrection, we will complete seventy nations, of whom we are the last and the best.’”
معاویہ بن حیدۃ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم قیامت کے دن ستر امتوں کا تکملہ ہوں گے، اور ہم ان سب سے آخری اور بہتر امت ہوں گے ۔
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ النَّحَّاسِ الرَّمْلِيُّ، وَأَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ شَوْذَبٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " نُكْمِلُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبْعِينَ أُمَّةً نَحْنُ آخِرُهَا وَخَيْرُهَا " .
#4288
Hasan
It was narrated from Bahz bin Hakim, from his father, that his grandfather said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘You complete seventy nations, of which you are the best and dearest to Allah.’”
معاویہ بن حیدۃ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تمہیں لے کر ستر امتیں پوری ہوئیں، اور تم ان میں سب سے بہتر ہو، اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ باعزت ہو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " إِنَّكُمْ وَفَّيْتُمْ سَبْعِينَ أُمَّةً أَنْتُمْ خَيْرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللَّهِ " .
#4289
Sahih
It was narrated from Sulaiman bin Buraidah, from his father, that the Prophet (ﷺ) said:“The people of Paradise are one hundred and twenty ranks, eighty from this nation and forty from all other nations.”
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت والوں کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی، ان میں سے اسی صفیں اس امت کے لوگوں کی ہوں گی، اور چالیس صفیں اور امتوں میں سے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ الأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " أَهْلُ الْجَنَّةِ عِشْرُونَ وَمِائَةُ صَفٍّ ثَمَانُونَ مِنْ هَذِهِ الأُمَّةِ وَأَرْبَعُونَ مِنْ سَائِرِ الأُمَمِ " .
#4290
Sahih
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet (ﷺ) said:“We are the last of the nations, and the first to be brought to account. It will be said: ‘Where is the unlettered nation and its Prophet?’ So we are the last and the first.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم آخری امت ہیں اور سب سے پہلے حساب کے لیے بلائے جائیں گے، کہا جائے گا: امت اور اس کے نبی کہاں ہیں؟ تو ہم اول بھی ہیں اور آخر بھی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ نَحْنُ آخِرُ الأُمَمِ وَأَوَّلُ مَنْ يُحَاسَبُ يُقَالُ أَيْنَ الأُمَّةُ الأُمِّيَّةُ وَنَبِيُّهَا فَنَحْنُ الآخِرُونَ الأَوَّلُونَ " .
#4291
Very Daif
It was narrated from Abu Burdah that his father said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘When Allah gathers all creatures on the Day of Resurrection, permission will be given to the nation of Muhammad to prostrate, so they will prostrate to Him for a long time. Then it will be said: “Raise your heads, for a certain number of you will go to Hell-fire and these will be your ransom from Hell.”
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام مخلوق کو جمع کرے گا، تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو سجدے کا حکم دے گا، وہ بڑی دیر تک اس کو سجدہ کرتے رہیں گے، پھر حکم ہو گا اپنے سروں کو اٹھاؤ ہم نے تمہاری تعداد کے مطابق تمہارے فدئیے جہنم سے کر دئیے ۔
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا جَمَعَ اللَّهُ الْخَلاَئِقَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أُذِنَ لأُمَّةِ مُحَمَّدٍ بِالسُّجُودِ فَيَسْجُدُونَ لَهُ طَوِيلاً ثُمَّ يُقَالُ ارْفَعُوا رُءُوسَكُمْ قَدْ جَعَلْنَا عِدَّتَكُمْ فِدَاءَكُمْ مِنَ النَّارِ " .
#4292
Sahih
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“This nation has been granted mercy (in the Hereafter) and its torment (in this world) is at the hands of one another. When the Day of Resurrection comes, each Muslim man will be given a man from among the idolaters and it will be said: ‘This is your ransom from the Fire.’”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک یہ امت امت مرحومہ ہے ( یعنی اس پر رحمت نازل کی گئی ہے ) ، اس کا عذاب اسی کے ہاتھوں میں ہے، جب قیامت کا دن ہو گا تو ہر مسلمان کے حوالے ایک مشرک کیا جائے گا، اور کہا جائے گا: یہ تیرا فدیہ ہے جہنم سے ۔
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ هَذِهِ أُمَّةٌ مَرْحُومَةٌ عَذَابُهَا بِأَيْدِيهَا فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ دُفِعَ إِلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَيُقَالُ هَذَا فِدَاؤُكَ مِنَ النَّارِ " .
#4293
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:“Allah has one hundred (degrees of) mercy, of which He has shared one between all of creation, by virtue of which you show mercy and compassion towards one another and the wild animals show compassion towards their young. And He has kept back ninety-nine (degrees of) mercy by virtue of which He will show mercy to His slaves on the Day of Resurrection.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیں، ان میں سے ایک رحمت کو تمام مخلوقات کے درمیان تقسیم کر دیا ہے، اسی کی وجہ سے وہ ایک دوسرے پر رحم اور شفقت کرتے ہیں، اور اسی وجہ سے وحشی جانور اپنی اولاد پر رحم کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ننانوے رحمتیں محفوظ کر رکھی ہیں، ان کے ذریعے وہ قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم کرے گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِنَّ لِلَّهِ مِائَةَ رَحْمَةٍ قَسَمَ مِنْهَا رَحْمَةً بَيْنَ جَمِيعِ الْخَلاَئِقِ فَبِهَا يَتَرَاحَمُونَ وَبِهَا يَتَعَاطَفُونَ وَبِهَا تَعْطِفُ الْوَحْشُ عَلَى أَوْلاَدِهَا وَأَخَّرَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ رَحْمَةً يَرْحَمُ بِهَا عِبَادَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
#4294
Sahih
It was narrated from Abu Sa’eed that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“On the day when He created the heavens and the earth, Allah created one hundred (degrees of) mercy, of which He placed one on earth, by virtue of which mothers show compassion to their children and animals as well as the birds show compassion to one another. And He kept back ninety-nine (degrees of) mercy. When the Day of Resurrection comes, Allah will complete this mercy.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل نے جس دن آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، سو رحمتیں پیدا کیں، زمین میں ان سو رحمتوں میں سے ایک رحمت بھیجی، اسی کی وجہ سے ماں اپنے بچے پر رحم کرتی ہے، اور چرند و پرند جانور بھی ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں، اور ننانوے رحمتوں کو اس نے قیامت کے دن کے لیے اٹھا رکھا ہے، جب قیامت کا دن ہو گا، تو اللہ تعالیٰ ان رحمتوں کو پورا کرے گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ مِائَةَ رَحْمَةٍ فَجَعَلَ فِي الأَرْضِ مِنْهَا رَحْمَةً فَبِهَا تَعْطِفُ الْوَالِدَةُ عَلَى وَلَدِهَا وَالْبَهَائِمُ بَعْضُهَا عَلَى بَعْضٍ وَالطَّيْرُ وَأَخَّرَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةٍ فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أَكْمَلَهَا اللَّهُ بِهَذِهِ الرَّحْمَةِ " .
#4295
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“When Allah created the universe, He decreed for Himself: ‘My mercy prevails over My wrath.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ عزوجل نے مخلوق کو پیدا کیا تو اپنے ہاتھ سے اپنے اوپر یہ لکھا کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا خَلَقَ الْخَلْقَ كَتَبَ بِيَدِهِ عَلَى نَفْسِهِ إِنَّ رَحْمَتِي تَغْلِبُ غَضَبِي " .
#4296
Sahih
It was narrated that Mu’adh bin Jabal said:“The Messenger of Allah (ﷺ) passed by me when I was riding a donkey, and said: ‘O Mu’adh, do you know what Allah’s right over His slaves is and what His slaves’ right over Allah is?’ I said: ‘Allah and His Messenger know best.’ He said: ‘The right of Allah over His slaves is that they should worship Him and not associate anything with Him. And the right of the slaves over Allah, if they do that, is that He should not punish them.’”
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس گزرے اور میں ایک گدھے پر سوار تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کا حق بندوں پر کیا ہے؟ اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر کیا ہے ؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر یہ ہے کہ جب وہ ایسا کریں تو وہ ان کو عذاب نہ دے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَأَنَا عَلَى حِمَارٍ فَقَالَ " يَا مُعَاذُ هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ وَمَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ " . قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ " فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلاَ يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا . وَحَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ أَنْ لاَ يُعَذِّبَهُمْ " .
#4297
Mawdu
It was narrated that Ibn ‘Umar said:“We were with the Messenger of Allah (ﷺ) on one of his campaigns. He passed by some people and said: ‘Who are these people?’ They said: ‘We are Muslims.’ There was a woman putting wood in her oven, and a son of hers was with her. When the flames got higher, she moved him away. She came to the Prophet (ﷺ) and said: ‘Are you the Messenger of Allah?’ He said: ‘Yes.’ She said: ‘May my father and mother be ransomed for you. Is not Allah the Most Merciful of those who show mercy?’ He said: ‘Yes indeed.’ She said: ‘Is not Allah more Merciful than a mother to her child?’ He said: ‘Yes indeed.’ She said: ‘A mother would not throw her child into the fire.’ The Messenger of Allah (ﷺ) lowered his head and wept. Then he looked up at her and said: ‘Allah does not punish any of His slaves except those who are defiant and rebellious, who rebel against Allah and refuse to say: La ilaha illallah.’”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں شریک تھے کہ آپ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے تو پوچھا: تم کون لوگ ہو ؟ انہوں نے کہا: ہم مسلمان ہیں، ان میں ایک عورت تنور میں ایندھن جھوک رہی تھی، اور اس کے ساتھ اس کا بیٹا بھی تھا، جب تنور کی آگ بھڑک اٹھی وہ اپنے بیٹے کو لے کر ہٹ گئی، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں عورت نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا اللہ سارے رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں وہ بولی: کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے زیادہ رحم نہیں کرے گا جتنا ماں اپنے بچے پر کرتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں ؟ اس نے کہا: ماں تو اپنے بچے کو آگ میں نہیں ڈالتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر جھکا دیا، اور روتے رہے پھر اپنا سر اٹھایا، اور فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے انہی بندوں کو عذاب دے گا جو بہت سرکش و شریر ہیں، اور جو اللہ تعالیٰ کے باغی ہوتے ہیں اور «لا إله إلا الله» کہنے سے انکار کرتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي بَعْضِ غَزَوَاتِهِ فَمَرَّ بِقَوْمٍ فَقَالَ مَنِ الْقَوْمُ فَقَالُوا نَحْنُ الْمُسْلِمُونَ . وَامْرَأَةٌ تَحْصِبُ تَنُّورَهَا وَمَعَهَا ابْنٌ لَهَا فَإِذَا ارْتَفَعَ وَهَجُ التَّنُّورِ تَنَحَّتْ بِهِ فَأَتَتِ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَتْ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ " نَعَمْ " . قَالَتْ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَرْحَمِ الرَّاحِمِينَ قَالَ " بَلَى " . قَالَتْ أَوَلَيْسَ اللَّهُ بِأَرْحَمَ بِعِبَادِهِ مِنَ الأُمِّ بِوَلَدِهَا قَالَ " بَلَى " . قَالَتْ فَإِنَّ الأُمَّ لاَ تُلْقِي وَلَدَهَا فِي النَّارِ . فَأَكَبَّ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَبْكِي ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهَا فَقَالَ " إِنَّ اللَّهَ لاَ يُعَذِّبُ مِنْ عِبَادِهِ إِلاَّ الْمَارِدَ الْمُتَمَرِّدَ الَّذِي يَتَمَرَّدُ عَلَى اللَّهِ وَأَبَى أَنْ يَقُولَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ " .
#4298
Daif
It was narrated that Abu Hurairah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: “No one will enter Hell except one who is doomed.” It was said: “O Messenger of Allah, who is the one who is doomed?” He said: “The one who never does any act of obedience (towards Allah) and who never omitted any act of sin.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم میں کوئی نہیں جائے گا سوائے بدبخت کے لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! بدبخت کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کبھی اللہ تعالیٰ کی اطاعت نہیں کی، اور کوئی گناہ نہ چھوڑا ۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ يَدْخُلُ النَّارَ إِلاَّ شَقِيٌّ " . قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَنِ الشَّقِيُّ قَالَ " مَنْ لَمْ يَعْمَلْ لِلَّهِ بِطَاعَةٍ وَلَمْ يَتْرُكْ لَهُ مَعْصِيَةً " .
#4299
Daif
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) recited this Verse:“He (Allah) is the One, deserving that mankind should be afraid of, and should be dutiful to Him, and should not take any Ilah (god) along with Him, and He is the One Who forgives (sins).” [74:56] Then he said: “Allah says: ‘I am the One Who deserves to be feared, so no other god should be appointed alongside Me. Whoever avoids appointing another god alongside Me, I am the One Who should forgive him.” Another chain reports a similar hadith
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت: «هو أهل التقوى وأهل المغفرة» یعنی اللہ ہی سے ڈرنا چاہیئے اور وہی گناہ بخشنے کا اہل ہے ( سورۃ المدثر: ۵۶ ) تلاوت فرمائی، اور فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے میں اس کے لائق ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے، اور میرے ساتھ کوئی اور معبود نہ بنایا جائے، تو جو میرے ساتھ کوئی دوسرا معبود بنانے سے بچے تو میں ہی اس کا اہل ہوں کہ اس کو بخش دوں دوسری سند اس سند سے بھی انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت: «هو أهل التقوى وأهل المغفرة» کے بارے میں کہ تمہارے رب نے فرمایا: میں ہی اس بات کا اہل ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے، میرے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کیا جائے، اور جو میرے ساتھ شریک کرنے سے بچے میں اہل ہوں اس بات کا کہ اسے بخش دوں ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، - أَخُو حَزْمٍ الْقُطَعِيِّ - حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَرَأَ - أَوْ تَلاَ - هَذِهِ الآيَةَ {هُوَ أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ} فَقَالَ " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا أَهْلٌ أَنْ أُتَّقَى فَلاَ يُجْعَلَ مَعِي إِلَهٌ آخَرُ فَمَنِ اتَّقَى أَنْ يَجْعَلَ مَعِي إِلَهًا آخَرَ فَأَنَا أَهْلٌ أَنْ أَغْفِرَ لَهُ " . قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي حَزْمٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ فِي هَذِهِ الآيَةِ {هُوَ أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ } قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " قَالَ رَبُّكُمْ أَنَا أَهْلٌ أَنْ أُتَّقَى فَلاَ يُشْرَكَ بِي غَيْرِي وَأَنَا أَهْلٌ لِمَنِ اتَّقَى أَنْ يُشْرِكَ بِي أَنْ أَغْفِرَ لَهُ " .
#4300
Sahih
‘Abdullah bin ‘Amr narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“A man from my nation will be called before all of creation on the Day of Resurrection, and ninety-nine scrolls will be spread out for him, each one extending as far as the eye can see. Then Allah will say: “Do you deny anything of this?” He will say: “No, O Lord.” He will say: “Have My recording scribes been unfair to you?” Then He will say: “Apart from that, do you have any good deeds?” The man will be terrified and will say: “No.” (Allah) will say: “Indeed, you have good deeds with Us, and you will not be treated unjustly this Day.” Then a card will be brought out on which is written Ash-hadu an la ilaha illallah wa anna Muhammadan ‘abduhu wa rasuluhu (I bear witness that none has the right to be worshipped but Allah, and that Muhammad is His slave and Messenger). He will say: “O Lord, what is this card compared with these scrolls?” He will say: “You will not be treated unjustly.” Then the scrolls will be placed in one side of the Balance and the card in the other. The scrolls will go up (i.e., be light) and the card will go down (i.e., will weigh heavily).”
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن تمام لوگوں کے سامنے میری امت کے ایک شخص کی پکار ہو گی، اور اس کے ننانوے دفتر پھیلا دئیے جائیں گے، ہر دفتر حد نگاہ تک پھیلا ہو گا، پھر اللہ عزوجل فرمائے گا: کیا تم اس میں سے کسی چیز کا انکار کرتے ہو؟ وہ کہے گا: نہیں، اے رب! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا میرے محافظ کاتبوں نے تم پر ظلم کیا ہے؟ پھر فرمائے گا: کیا تمہارے پاس کوئی نیکی بھی ہے؟ وہ آدمی ڈر جائے گا، اور کہے گا: نہیں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: نہیں، ہمارے پاس کئی نیکیاں ہیں، اور آج کے دن تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا، پھر ایک پرچہ نکالا جائے گا جس پر «أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله» لکھا ہو گا، وہ کہے گا: اے میرے رب! ان دفتروں کے سامنے یہ پرچہ کیا حیثیت رکھتا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: آج تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا، پھر وہ تمام دفتر ایک پلڑے میں رکھے جائیں گے اور وہ پرچہ دوسرے پلڑے میں، وہ سارے دفتر ہلکے پڑ جائیں گے اور پرچہ بھاری ہو گا ۱؎۔ محمد بن یحییٰ کہتے ہیں:«بطاقہ» پرچے کو کہتے ہیں، اہل مصر رقعہ کو «بطاقہ» کہتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " يُصَاحُ بِرَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رُءُوسِ الْخَلاَئِقِ فَيُنْشَرُ لَهُ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ سِجِلاًّ كُلُّ سِجِلٍّ مَدَّ الْبَصَرِ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَلْ تُنْكِرُ مِنْ هَذَا شَيْئًا فَيَقُولُ لاَ يَا رَبِّ فَيَقُولُ أَظَلَمَتْكَ كَتَبَتِي الْحَافِظُونَ ثُمَّ يَقُولُ أَلَكَ عُذْرٌ أَلَكَ حَسَنَةٌ فَيُهَابُ الرَّجُلُ فَيَقُولُ لاَ . فَيَقُولُ بَلَى إِنَّ لَكَ عِنْدَنَا حَسَنَاتٍ وَإِنَّهُ لاَ ظُلْمَ عَلَيْكَ الْيَوْمَ فَتُخْرَجُ لَهُ بِطَاقَةٌ فِيهَا أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ قَالَ فَيَقُولُ يَا رَبِّ مَا هَذِهِ الْبِطَاقَةُ مَعَ هَذِهِ السِّجِلاَّتِ فَيَقُولُ إِنَّكَ لاَ تُظْلَمُ . فَتُوضَعُ السِّجِلاَّتُ فِي كِفَّةٍ وَالْبِطَاقَةُ فِي كِفَّةٍ فَطَاشَتِ السِّجِلاَّتُ وَثَقُلَتِ الْبِطَاقَةُ " . قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْبِطَاقَةُ الرُّقْعَةُ وَأَهْلُ مِصْرَ يَقُولُونَ لِلرُّقْعَةِ بِطَاقَةً