#3501
Daif
It was narrated from ‘Ali that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The best remedy is the Qur’an.”
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین دوا قرآن ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا سَعَّادُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " خَيْرُ الدَّوَاءِ الْقُرْآنُ " .
#3502
Hasan
Salma Umm Rafi’, the freed slave woman of the Messenger of Allah (ﷺ), said:“The Prophet (ﷺ) did not suffer any injury or thorn- prick but he would apply henna to it.”
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لونڈی سلمیٰ ام رافع رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی زخم لگتا، یا کانٹا چبھتا تو آپ اس پر مہندی لگاتے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا فَائِدٌ، مَوْلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ حَدَّثَنِي مَوْلاَىَ، عُبَيْدُ اللَّهِ حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي، سَلْمَى أُمُّ رَافِعٍ مَوْلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَتْ كَانَ لاَ يُصِيبُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَرْحَةٌ وَلاَ شَوْكَةٌ إِلاَّ وَضَعَ عَلَيْهِ الْحِنَّاءَ .
#3503
Sahih
It was narrated from Anas that some people from ‘Urainah came to the Messenger of Allah (ﷺ) but they were averse to the climate of Al- Madinah. He (ﷺ) said:“Why don’t you go out to a flock of camels of ours, and drink their milk and urine.” And they did that
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ آئے، انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہ آئی، اور بیمار ہو گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کے دودھ اور پیشاب پیتے ( تو اچھا ہوتا ) ، تو انہوں نے ایسا ہی کیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَاسًا، مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ فَقَالَ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لَوْ خَرَجْتُمْ إِلَى ذَوْدٍ لَنَا فَشَرِبْتُمْ مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا " . فَفَعَلُوا .
#3504
Sahih
Abu Sa’eed narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“On one of the wings of a fly there is a poison and on the other is the cure. If it falls into the food, then dip it into it, for it puts the poison first and holds back the cure.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مکھی کے ایک پر میں زہر اور دوسرے میں شفاء ہے، اگر وہ کھانے میں گر جائے تو اسے اس میں پوری طرح ڈبو دو، اس لیے کہ وہ زہر والا پر آگے رکھتی ہے ( اور وہی کھانے میں ڈالتی ہے ) اور شفاء والا پیچھے رکھتی ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " فِي أَحَدِ جَنَاحَىِ الذُّبَابِ سُمٌّ وَفِي الآخَرِ شِفَاءٌ فَإِذَا وَقَعَ فِي الطَّعَامِ فَامْقُلُوهُ فِيهِ فَإِنَّهُ يُقَدِّمُ السُّمَّ وَيُؤَخِّرُ الشِّفَاءَ " .
#3505
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:“If a fly falls into your drink, dip it into it then throw it away, for on one of its wings is a disease and on the other is a cure.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے پینے کی چیز میں مکھی گر جائے تو اسے اس میں پوری طرح ڈبو دو، پھر نکال کر پھینک دو، اس لیے کہ اس کے ایک پر میں بیماری اور دوسرے میں شفاء ہے ۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي شَرَابِكُمْ فَلْيَغْمِسْهُ فِيهِ ثُمَّ لْيَطْرَحْهُ فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءً وَفِي الآخَرِ شِفَاءً " .
#3506
Sahih Mutawatir
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Amir bin Rabi’ah, from his father, that the Prophet (ﷺ) said:“The evil eye is real.”
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نظر کا لگنا حقیقت ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ هِنْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " الْعَيْنُ حَقٌّ " .
#3507
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:‘The evil eye is real.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نظر کا لگنا حقیقت ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ مُضَارِبِ بْنِ حَزْنٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " الْعَيْنُ حَقٌّ " .
#3508
Sahih
It was narrated from ‘Aishah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:‘Seek refuge with Allah, for the evil eye is real.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی پناہ طلب کرو، اس لیے کہ نظر بد حق ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ فَإِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ " .
#3509
Sahih
It was narrated that Abu Umamah bin Sahl bin Hunaif said:“ ‘Amir bin Rabi’ah passed by Sahl bin Hunaif when he was having a bath, and said: ‘I have never seen such beautiful skin.’ Straightaway, he (Sahl) fell to the ground. He was brought to the Prophet (ﷺ) and it was said: ‘Sahl has had a fit.’ He said: ‘Whom do you accuse with regard to him?’ They said: “ ‘Amir bin Rabi’ah.’ They said: ‘Why would anyone of you kill his brother? If he sees something that he likes, then let him pray for blessing for him.’ Then he called for water, and he told ‘Amir to perform ablution, then he washed his face and his arms up to the elbows, his knees and inside his lower garment, then he told him to pour the water over him.”
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کا گزر سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ ( ابوامامہ کے باپ ) کے پاس ہوا، سہل رضی اللہ عنہ اس وقت نہا رہے تھے، عامر نے کہا: میں نے آج کے جیسا پہلے نہیں دیکھا، اور نہ پردہ میں رہنے والی کنواری لڑکی کا بدن ایسا دیکھا، سہل رضی اللہ عنہ یہ سن کر تھوڑی ہی دیر میں چکرا کر گر پڑے، تو انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، اور عرض کیا گیا کہ سہل کی خبر لیجئیے جو چکرا کر گر پڑے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم لوگوں کا گمان کس پر ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ عامر بن ربیعہ پر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس بنیاد پر تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو قتل کرتا ہے ، جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی کسی ایسی چیز کو دیکھے جو اس کے دل کو بھا جائے تو اسے اس کے لیے برکت کی دعا کرنی چاہیئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا، اور عامر کو حکم دیا کہ وضو کریں، تو انہوں نے اپنا چہرہ اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک، اور اپنے دونوں گھٹنے اور تہبند کے اندر کا حصہ دھویا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سہل رضی اللہ عنہ پر وہی پانی ڈالنے کا حکم دیا۔ سفیان کہتے ہیں کہ معمر کی روایت میں جو انہوں نے زہری سے روایت کی ہے اس طرح ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ برتن کو ان کے پیچھے سے ان پر انڈیل دیں ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ مَرَّ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ بِسَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ وَهُوَ يَغْتَسِلُ فَقَالَ لَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ وَلاَ جِلْدَ مُخَبَّأَةٍ . فَمَا لَبِثَ أَنْ لُبِطَ بِهِ فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقِيلَ لَهُ أَدْرِكْ سَهْلاً صَرِيعًا . قَالَ " مَنْ تَتَّهِمُونَ بِهِ " . قَالُوا عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ . قَالَ " عَلاَمَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مِنْ أَخِيهِ مَا يُعْجِبُهُ فَلْيَدْعُ لَهُ بِالْبَرَكَةِ " . ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَأَمَرَ عَامِرًا أَنْ يَتَوَضَّأَ فَيَغْسِلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ وَرُكْبَتَيْهِ وَدَاخِلَةَ إِزَارِهِ وَأَمَرَهُ أَنْ يَصُبَّ عَلَيْهِ . قَالَ سُفْيَانُ قَالَ مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَأَمَرَهُ أَنْ يَكْفَأَ الإِنَاءَ مِنْ خَلْفِهِ .
#3510
Sahih
It was narrated that ‘Ubaid bin Rifa’ah Az-Zuraqi said:“Asma’ said: ‘O Messenger of Allah! The children of Ja’far have been afflicted by the evil eye, shall I recite Ruqyah* for them?’ He said: ‘Yes, for if anything were to overtake the Divine decree it would be the evil eye.’”
عبید بن رفاعہ زرقی کہتے ہیں کہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! جعفر کے بیٹوں کو نظر بد لگ جاتی ہے، کیا میں ان کے لیے دم کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اگر کوئی چیز لکھی ہوئی تقدیر پر سبقت لے جاتی تو نظر بد لے جاتی ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ، قَالَ قَالَتْ أَسْمَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بَنِي جَعْفَرٍ تُصِيبُهُمُ الْعَيْنُ فَأَسْتَرْقِي لَهُمْ قَالَ " نَعَمْ فَلَوْ كَانَ شَىْءٌ سَابَقَ الْقَدَرَ سَبَقَتْهُ الْعَيْنُ " .
#3511
Sahih
It was narrated that Abu Sa’eed said:“The Messenger of Allah (ﷺ) used to seek refuge from the evil eye of the jinn and of mankind. When the Mu’awwidhatain* were revealed, he started to recite them and stopped reciting anything else.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنوں کی نظر بد سے، پھر آدمیوں کی نظر بد سے پناہ مانگتے تھے، پھر جب معوذتین ( سورۃ الفلق اور سورۃ الناس ) نازل ہوئیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پڑھنا شروع کیا، اور باقی تمام چیزیں چھوڑ دیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبَّادٍ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَيْنِ الْجَانِّ وَأَعْيُنِ الإِنْسِ فَلَمَّا نَزَلَتِ الْمُعَوِّذَتَانِ أَخَذَهُمَا وَتَرَكَ مَا سِوَى ذَلِكَ .
#3512
Sahih
It was narrated from ‘Aishah that the Prophet (ﷺ) commanded her to recite Ruqyah to treat the evil eye
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نظر بد لگ جانے پر دم کرنے کا حکم دیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، وَمِسْعَرٍ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَمَرَهَا أَنْ تَسْتَرْقِيَ مِنَ الْعَيْنِ .
#3513
Sahih
It was narrated from Buraidah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“There is no Ruqyah except for the evil eye or from the sting of a scorpion.”
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نظر بد لگنے یا ڈنک لگنے کے سوا کسی صورت میں دم کرنا درست نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ بُرَيْدَةَ بْنِ الْحُصَيْبِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ رُقْيَةَ إِلاَّ مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ " .
#3514
Daif
It as narrated from Abu Bakr bin Muhammad that Khalidah bint Anas, the mother of Banu Hazm As-Sa’idiyyah, came to the Prophet (ﷺ) and recited a Ruqyah to him, and he told her to use it
ابوبکر بن محمد سے روایت ہے کہ خالدہ بنت انس ام بنی حزم ساعدیہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، اور آپ کے سامنے کچھ منتر پیش کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت دے دی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّ خَالِدَةَ بِنْتَ أَنَسٍ أُمَّ بَنِي حَزْمٍ السَّاعِدِيَّةَ، جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ الرُّقَى فَأَمَرَهَا بِهَا .
#3515
Sahih
It was narrated that Jabir said:“There was a family among the Ansar, called Al ‘Amr bin Hazm, who used to recite Ruqyah for the scorpion sting, but the Messenger of Allah (ﷺ) forbade Ruqyah. They came to him and said: ‘O Messenger of Allah! You have forbidden Ruqyah, but we recite Ruqyah against the scorpion’s sting.’ He said to them: ‘Recite it to me.’ So they recited it to him, and he said: ‘There is nothing wrong with this, this is confirmed.’”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انصار کا آل عمرو بن حزم نامی گھرانہ زہریلے ڈنک پر جھاڑ پھونک کیا کرتا تھا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھاڑ پھونک کرنے سے منع فرمایا تھا، چنانچہ ان لوگوں نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اللہ کے رسول! آپ نے دم کرنے سے روک دیا ہے حالانکہ ہم لوگ زہریلے ڈنک پر جھاڑ پھونک کرتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا جھاڑ پھونک ( منتر ) مجھے سناؤ ، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھ کر سنایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں کوئی مضائقہ نہیں، یہ تو «اقرارات ہیں» ( یعنی ثابت شدہ ہیں ) ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عِيسَى، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كَانَ أَهْلُ بَيْتٍ مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُمْ آلُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ يَرْقُونَ مِنَ الْحُمَةِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَدْ نَهَى عَنِ الرُّقَى فَأَتَوْهُ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ قَدْ نَهَيْتَ عَنِ الرُّقَى وَإِنَّا نَرْقِي مِنَ الْحُمَةِ . فَقَالَ لَهُمُ " اعْرِضُوا عَلَىَّ " . فَعَرَضُوهَا عَلَيْهِ فَقَالَ " لاَ بَأْسَ بِهَذِهِ هَذِهِ مَوَاثِيقُ " .
#3516
Sahih
It was narrated from Anas that the Prophet (ﷺ) allowed Ruqyah for the scorpion’s sting, the evil eye, and Namlah (sores or small pustules ulcers or sores on a person’s sides)
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زہریلے ڈنک، نظر بد اور نملہ ۱؎ پر جھاڑ پھونک کی اجازت دی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَخَّصَ فِي الرُّقْيَةِ مِنَ الْحُمَةِ وَالْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ .
#3517
Sahih
It was narrated that ‘Aishah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) allowed Ruqyah for snakebites and scorpion stings.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سانپ اور بچھو کے ( کاٹے پر ) دم ( جھاڑ پھونک ) کرنے کی اجازت دی ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي الرُّقْيَةِ مِنَ الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ .
#3518
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:“A scorpion stung a man and he did not sleep all the night. It was said to the Prophet (ﷺ): ‘So- and-so was stung by a scorpion and he did not sleep all the night.’ He said: ‘If he had said, last night: A’udhu bikalimatil-lahit-tammati min sharri ma khalaq (I seek refuge in the Perfect Words of Allah from the evil of that which He has created), the scorpion sting would not have harmed him, until morning.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی کو بچھو نے ڈنک مار دیا تو وہ رات بھر نہیں سو سکا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ فلاں شخص کو بچھو نے ڈنک مار دیا ہے، اور وہ رات بھر نہیں سو سکا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ شام کے وقت ہی یہ دعا پڑھ لیتا «أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق» یعنی میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کے ذریعہ پناہ مانگتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کیا ، تو بچھو کا اسے ڈنک مارنا صبح تک ضرر نہ پہنچاتا ۱؎۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ بَهْرَامَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَدَغَتْ عَقْرَبٌ رَجُلاً فَلَمْ يَنَمْ لَيْلَتَهُ فَقِيلَ لِلنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِنَّ فُلاَنًا لَدَغَتْهُ عَقْرَبٌ فَلَمْ يَنَمْ لَيْلَتَهُ . فَقَالَ " أَمَا إِنَّهُ لَوْ قَالَ حِينَ أَمْسَى أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ - مَا ضَرَّهُ لَدْغُ عَقْرَبٍ حَتَّى يُصْبِحَ " .
#3519
Daif Isnaad
It was narrated that ‘Amr bin Hazm said:“I recited the Ruqyah for snakebite to the Messenger of Allah (ﷺ), or it was recited to him, and he commanded that it be used.”
عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سانپ کے ڈسے ہوئے کو پیش کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر دم ( جھاڑ پھونک ) کرنے کی اجازت دے دی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، قَالَ عَرَضْتُ النَّهْشَةَ مِنَ الْحَيَّةِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَمَرَ بِهَا .
#3520
Sahih
It was narrated that ‘Aishah said:“When the Messenger of Allah (ﷺ) came to a sick person, he would make supplication for him, and would say: Adhhibil-bas, Rabban-nas, washfi Antash-Shafi, la shifa’a illa shifa’uka shifa’an la yughadiru saqama (Take away the pain, O Lord of mankind, and grant healing, for You are the Healer, and there is no healing but Your healing that leaves no trace of sickness).’”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مریض کے پاس آتے تو آپ اس کے لیے دعا فرماتے، اور کہتے: «أذهب الباس رب الناس واشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما» اے لوگوں کے رب! تو بیماری دور فرما، اور صحت عطا کر، تو ہی صحت عطا کرنے والا ہے، شفاء اور صحت وہی ہے جو تو عطا کرے، تو ایسی شفاء عطا کر کہ پھر کوئی بیماری باقی نہ رہ جائے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا أَتَى الْمَرِيضَ فَدَعَا لَهُ قَالَ " أَذْهِبِ الْبَاسْ رَبَّ النَّاسْ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لاَ شِفَاءَ إِلاَّ شِفَاؤُكَ شِفَاءً لاَ يُغَادِرُ سَقَمًا " .
#3521
Sahih
It was narrated from ‘Aishah that one of the things that the Prophet (ﷺ) used to say for the sick person, with saliva on his finger (dipped in dust), was:“Bismillah, turbatu ardina, biriqati ba’dina, liyushfa saqimuna. Bi’dhni Rabbina (In the Name of Allah, the dust of our land mixed with the saliva of one of us, to cure our sick one by the permission of our Lord).”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلی میں تھوک لگا کر بیمار کے لیے یوں کہتے: «بسم الله بتربة أرضنا بريقة بعضنا ليشفى سقيمنا بإذن ربنا» اللہ کے نام سے، ہماری زمین کی مٹی سے، ہم میں سے بعض کے لعاب سے ملی ہوئی ہے تاکہ ہمارا مریض ہمارے رب کے حکم سے شفاء پا جائے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ مِمَّا يَقُولُ لِلْمَرِيضِ بِبُزَاقِهِ بِإِصْبَعِهِ " بِسْمِ اللَّهِ بِتُرْبَةِ أَرْضِنَا بِرِيقَةِ بَعْضِنَا لِيُشْفَى سَقِيمُنَا بِإِذْنِ رَبِّنَا " .
#3522
Sahih
It was narrated that ‘Uthman bin Abul-‘As Thaqafi said:“I came to the Prophet (ﷺ) and I was suffering pain that was killing me. The Prophet (ﷺ) said to me: ‘Put your right hand on it and say: Bismillah, a’udhu bi’izzatil-lahi wa qudratihi min sharri ma ajidu wa uhadhiru. (In the Name of Allah, I seek refuge in the might and power of Allah from the evil of what I feel and what I fear),” seven times.’ I said that, and Allah healed me.”
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، مجھے ایسا درد تھا کہ لگ رہا تھا وہ مجھے ہلاک کر دے گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اپنا دایاں ہاتھ اس پر رکھ کر «أعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما أجد وأحاذر» اللہ کے نام سے میں اللہ تعالیٰ کی عزت اور اس کی قدرت کی پناہ مانگتا ہوں اس تکلیف کے شر سے جو میں محسوس کرتا ہوں اور جس سے ڈرتا ہوں سات مرتبہ پڑھو ، میں نے یہ دعا پڑھی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے شفاء عطا کی
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيِّ، أَنَّهُ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَبِي وَجَعٌ قَدْ كَادَ يُبْطِلُنِي فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " اجْعَلْ يَدَكَ الْيُمْنَى عَلَيْهِ وَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ سَبْعَ مَرَّاتٍ " . فَقُلْتُ ذَلِكَ فَشَفَانِيَ اللَّهُ .
#3523
Sahih
It was narrated from Abu Sa’eed that Jibra’il came to the Prophet (ﷺ) and said:“O Muhammad, you are ill. He said: ‘Yes.’ He said: Bismillahi arqika, min kulli shay’in yu’dhika, min sharri kulli nafsin aw ‘aynin aw hasidin. Allahu yashfika, bismillahi arqika (In the Name of Allah I perform Ruqyah for you, from everything that is harming you, from the evil of every soul or envious eye, may Allah heal you. In the Name of Allah I perform Ruqyah for you)
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اے محمد! کیا آپ بیمار ہو گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرض کیا: ہاں ، جبرائیل علیہ السلام نے کہا: «بسم الله أرقيك من كل شيء يؤذيك من شر كل نفس أو عين أو حاسد الله يشفيك بسم الله أرقيك» اللہ کے نام سے میں آپ پر دم کرتا ہوں، ہر اس چیز سے جو آپ کو اذیت پہنچائے، ہر جاندار، نظر بند، اور حاسد کے شر سے، اللہ تعالیٰ آپ کو شفاء دے، میں اللہ کے نام سے آپ پر دم کرتا ہوں۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلاَلٍ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ جِبْرَائِيلَ، أَتَى النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ اشْتَكَيْتَ قَالَ " نَعَمْ " . قَالَ بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَىْءٍ يُؤْذِيكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ أَوْ عَيْنٍ أَوْ حَاسِدٍ اللَّهُ يَشْفِيكَ بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ .
#3524
Daif
It was narrated that Abu Hurairah said:“The Prophet (ﷺ) came to visit me (when I was sick), and said to me: ‘Shall I not recite for you a Ruqyah that Jibra’il brought to me?’ I said: ‘May my father and mother be ransomed for you! Yes, O Messenger of Allah!’ He said: Bismillah arqika, wallahu yashfika, min kulli da’in fika, min sharrin- naffathati fil-‘uqad, wa min sharri hasidin idha hasad (In the Name of Allah I perform Ruqyah for you, from every disease that is in you, and from the evil of those who (practice witchcraft when they) blow in the knots, and from the evil of the envier when he envies), three times.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے، تو آپ نے مجھ سے فرمایا: کیا میں تم پر وہ دم نہ کروں جو میرے پاس جبرائیل لے کر آئے؟ ، میں نے عرض کیا: ضرور یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار یہ پڑھا: «بسم الله أرقيك والله يشفيك من كل داء فيك من شر النفاثات في العقد ومن شر حاسد إذا حسد» اللہ کے نام سے میں تم پر دم کرتا ہوں، اللہ ہی تمہیں شفاء دے گا، تمہارے ہر مرض سے، گرہوں پر پھونکنے والیوں کے شر سے، اور حاسد کے حسد سے جب وہ حسد کرے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ ثُوَيْبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَعُودُنِي فَقَالَ لِي " أَلاَ أَرْقِيكَ بِرُقْيَةٍ جَاءَنِي بِهَا جِبْرَائِيلُ " . قُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ وَاللَّهُ يَشْفِيكَ مِنْ كُلِّ دَاءٍ فِيكَ مِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ " . ثَلاَثَ مَرَّاتٍ .
#3525
Sahih
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“The Prophet (ﷺ) used to seek refuge for Hasan and Husain and say: A’udhu bi kalimatil-lahil- tammati, min kulli shaitanin wa hammah, wa min kulli ‘aynin lammah (I seek refuge for you both in the Perfect Words of Allah, from every devil and every poisonous reptile, and from every evil eye).’ And he would say: ‘Thus Ibrahim used to seek refuge with Allah for Isma’il and Ishaq,’ or he said: ‘for Isma’il and Ya’qub.’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حسن اور حسین ( رضی اللہ عنہما ) پر دم فرماتے تو کہتے: «أعوذ بكلمات الله التامة من كل شيطان وهامة ومن كل عين لامة» میں اللہ کے مکمل کلمات کے ذریعہ پناہ مانگتا ہوں ہر شیطان سے، ہر زہریلے کیڑے ( سانپ، بچھو وغیرہ ) اور ہر نظر بد والی آ نکھ سے ، اور فرماتے: ہمارے والد ابراہیم علیہ السلام بھی اسی کے ذریعہ اسماعیل و اسحاق علیہما السلام پر دم فرماتے تھے یا کہا: اسماعیل اور یعقوب علیہما السلام پر ۔ یہ حدیث وکیع کی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ هِشَامٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مِنْهَالٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُعَوِّذُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ يَقُولُ " أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لاَمَّةٍ " . قَالَ " وَكَانَ أَبُونَا إِبْرَاهِيمُ يَعُوِّذُ بِهَا إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ " . أَوْ قَالَ " إِسْمَاعِيلَ وَيَعْقُوبَ " . وَهَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ .