#3526
Daif
It was narrated from Ibn ‘Abbas that, for fever and all kinds of pain, the Prophet (ﷺ) used to teach them to say:“Bismillahil-kabir, a’udhu billahil-‘Azim min sharri ‘irqin na’ar wa, min sharri harrin- nar (In the Name of Allah the Great, I seek refuge with Allah the Almighty from the evil of a vein gushing (with blood) and the evil of the heat of the Fire.” (One of the narrators) Abu `Ammar said: “I differed with the people on this, I said: ‘Screaming.’” Another chain from Ibn `Abbas, from the Prophet (ﷺ) with similar wording, and he said: “From the evil of a vein screaming (with blood).”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بخار اور ہر طرح کے درد کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو سکھاتے کہ اس طرح کہیں: «بسم الله الكبير أعوذ بالله العظيم من شر عرق نعار ومن شر حر النار» یعنی اللہ عظیم کے نام سے، جوش مارنے والی رگ کے شر سے، اور جہنم کی گرمی کے شر سے میں اللہ عظیم کی پناہ مانگتا ہوں ۔ ابوعامر کہتے ہیں کہ میں اس میں لوگوں کے برخلاف «یعّار» کہتا ہوں ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ الأَشْهَلِيُّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يُعَلِّمُهُمْ مِنَ الْحُمَّى وَمِنَ الأَوْجَاعِ كُلِّهَا أَنْ يَقُولُوا " بِسْمِ اللَّهِ الْكَبِيرِ أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ مِنْ شَرِّ عِرْقٍ نَعَّارٍ وَمِنْ شَرِّ حَرِّ النَّارِ " . قَالَ أَبُو عَامِرٍ أَنَا أُخَالِفُ النَّاسَ فِي هَذَا أَقُولُ يَعَّارٍ . حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ الأَشْهَلِيُّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَحْوَهُ وَقَالَ " مِنْ شَرِّ عِرْقٍ نَعَّارٍ " .
#3527
Hasan
It was narrated from ‘Umair that he heard Junadah bin Abu Umayyah say:“I heard ‘Ubadah bin Samit say: ‘Jibra’il (as) came to the Prophet (ﷺ) when he was suffering from fever and said: ‘Bismillahi arqika, min kulli shay’in yu’dhika, min hasadi hasidin, wa min kulli ‘aynin, Allahu yashfika (In the Name of Allah I perform Ruqyah for you, from everything that is harming you; from the envy of the envier and from every evil eye, may Allah heal you).’”
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بخار تھا، تو انہوں نے کہا: «بسم الله أرقيك من كل شيء يؤذيك من حسد حاسد ومن كل عين الله يشفيك» یعنی اللہ کے نام سے میں آپ پر دم کرتا ہوں، ہر اس چیز سے جو آپ کو اذیت دے، حاسد کے حسد سے، اور ہر نظر بد سے، اللہ تعالیٰ آپ کو شفاء عطا کرے ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ عُمَيْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جُنَادَةَ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، يَقُولُ أَتَى جِبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَهُوَ يُوعَكُ فَقَالَ بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَىْءٍ يُؤْذِيكَ مِنْ حَسَدِ حَاسِدٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ اللَّهُ يَشْفِيكَ .
#3528
Sahih
It was narrated from ‘Aishah that the Prophet (ﷺ) used to blow when performing Ruqyah
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دعا پڑھ کر ( منتر ) کو پھونکا کرتے تھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يَنْفِثُ فِي الرُّقْيَةِ .
#3529
Sahih
It was narrated from ‘Aishah:“Whenever the Prophet (ﷺ) fell ill, he would recite the Mu’awwidhat and blow, and when his pain grew worse, I would recite over him and wipe his hand over him, hoping for its blessing.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار پڑے تو اپنے اوپر معوذات پڑھتے اور پھونک لیتے، لیکن جب آپ کا مرض شدت اختیار کر گیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر پڑھتی اور برکت کی امید سے آپ ہی کا ہاتھ آپ پر پھیرتی۔
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ إِذَا اشْتَكَى يَقْرَأُ عَلَى نَفْسِهِ الْمُعَوِّذَاتِ وَيَنْفِثُ فَلَمَّا اشْتَدَّ وَجَعُهُ كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَيْهِ وَأَمْسَحُ بِيَدِهِ رَجَاءَ بَرَكَتِهَا .
#3530
Sahih
It was narrated that Zainab said:“There was an old woman who used to enter upon us and perform Ruqyah from erysipelas: Contagious disease which causes fever and leaves a red coloration of the skin. We had a bed with long legs, and when ‘Abdullah entered he would clear his throat and make noise. He entered one day and when she heard his voice she veiled herself from him. He came and sat beside me, and touched me, and he found a sting. He said: ‘What is this?’ I said: ‘An amulet against erysipelas.’ He pulled it, broke it and threw it away, and said: ‘The family of ‘Abdullah has no need of polytheism.’ I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “Ruqyah (i.e., which consist of the names of idols and devils etc.), amulets and Tiwalah (charms) are polytheism.’” “I said: ‘I went out one day and so-and-so looked at me, and my eye began to water on the side nearest him. When I recited Ruqyah for it, it stopped, but if I did not recite Ruqyah it watered again.’ He said: ‘That is Satan, if you obey him he leaves you alone but if you disobey him he pokes you with his finger in your eye. But if you do what the Messenger of Allah (ﷺ) used to do, that will be better for you and more effective in healing. Sprinkle water in your eye and say: Adhhibil-bas Rabban-nas, washfi Antash-Shafi, la shifa’a illa shafi’uka, shafi’an la yughadiru saqaman (Take away the pain, O Lord of mankind, and grant healing, for You are the Healer, and there is no healing but Your healing that leaves no trace of sickness).’”
زینب زوجہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ ہمارے پاس ایک بڑھیا آیا کرتی تھیں، وہ «حمرہ» ۱؎ کا دم کرتی تھیں، ہمارے پاس بڑے پایوں کی ایک چارپائی تھی، اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ جب گھر آتے تو کھنکھارتے اور آواز دیتے، ایک دن وہ گھر کے اندر آئے جب اس بڑھیا نے ان کی آواز سنی تو ان سے پردہ کر لیا، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آ کر میری ایک جانب بیٹھ گئے اور مجھے چھوا تو ان کا ہاتھ ایک گنڈے سے جا لگا، پوچھا: یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: یہ سرخ بادے ( «حمرہ» ) کے لیے دم کیا ہوا گنڈا ہے، یہ سن کر انہوں نے اسے کھینچا اور کاٹ کر پھینک دیا اور کہا: عبداللہ کے گھرانے کو شرک کی حاجت نہیں ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: دم، تعویذ، گنڈے اور ٹونا شرک ہیں ۱؎، ایک دن میں باہر نکلی تو مجھ پر فلاں شخص کی نظر پڑ گئی، تو میری اس آنکھ سے جو اس سے قریب تر تھی آنسو بہہ نکلے، جب میں اس پر دم کرتی تو اس کے آنسو رک جاتے، اور جب میں دم کرنا چھوڑ دیتی تو آنسو بہنے لگتے، انہوں نے کہا: یہی تو شیطان ہے، جب تم اس کی اطاعت کرتی ہو تو وہ تم کو چھوڑ دیتا ہے، اور جب تم اس کی نافرمانی کرتی ہو تو وہ تمہاری آنکھ میں اپنی انگلی چبھو دیتا ہے، لیکن اگر تم وہ عمل کرتیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے موقع پر کیا تو تمہارے حق میں بہتر ہوتا، اور تم ٹھیک ہو جاتیں، تم اپنی آنکھ میں پانی کے چھینٹے مارا کرو، اور یہ دعا پڑھا کرو: «أذهب الباس رب الناس اشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما» اے لوگوں کے رب، مصیبت دور فرما، شفاء عطا کر، تو ہی شفاء عطا کرنے والا ہے، تیری شفاء کے سوا اور کوئی شفاء ہے بھی نہیں، ایسی شفاء دے کہ کوئی بیماری باقی رہ نہ جائے ۔
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بِشْرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنِ ابْنِ أُخْتِ، زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ زَيْنَبَ، قَالَتْ كَانَتْ عَجُوزٌ تَدْخُلُ عَلَيْنَا تَرْقِي مِنَ الْحُمْرَةِ وَكَانَ لَنَا سَرِيرٌ طَوِيلُ الْقَوَائِمِ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا دَخَلَ تَنَحْنَحَ وَصَوَّتَ فَدَخَلَ يَوْمًا فَلَمَّا سَمِعَتْ صَوْتَهُ احْتَجَبَتْ مِنْهُ فَجَاءَ فَجَلَسَ إِلَى جَانِبِي فَمَسَّنِي فَوَجَدَ مَسَّ خَيْطٍ فَقَالَ مَا هَذَا فَقُلْتُ رُقًى لِي فِيهِ مِنَ الْحُمْرَةِ فَجَذَبَهُ وَقَطَعَهُ فَرَمَى بِهِ وَقَالَ لَقَدْ أَصْبَحَ آلُ عَبْدِ اللَّهِ أَغْنِيَاءَ عَنِ الشِّرْكِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " إِنَّ الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ وَالتِّوَلَةَ شِرْكٌ " . قُلْتُ فَإِنِّي خَرَجْتُ يَوْمًا فَأَبْصَرَنِي فُلاَنٌ فَدَمَعَتْ عَيْنِي الَّتِي تَلِيهِ فَإِذَا رَقَيْتُهَا سَكَنَتْ دَمْعَتُهَا وَإِذَا تَرَكْتُهَا دَمَعَتْ . قَالَ ذَاكِ الشَّيْطَانُ إِذَا أَطَعْتِيهِ تَرَكَكِ وَإِذَا عَصَيْتِيهِ طَعَنَ بِإِصْبَعِهِ فِي عَيْنِكِ وَلَكِنْ لَوْ فَعَلْتِ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ خَيْرًا لَكِ وَأَجْدَرَ أَنْ تَشْفِينَ تَنْضَحِينَ فِي عَيْنِكِ الْمَاءَ وَتَقُولِينَ " أَذْهِبِ الْبَاسْ رَبَّ النَّاسْ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لاَ شِفَاءَ إِلاَّ شِفَاؤُكَ شِفَاءً لاَ يُغَادِرُ سَقَمًا " .
#3531
Daif
It was narrated from ‘Imran bin Husain that the Prophet (ﷺ) saw a man with a brass ring on his hand. He said:“What is this ring?” He said: “It is for Wahinah.”* He said: “Take it off, for it will only increase you in weakness.”
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں پیتل کا ایک کڑا ہے، پوچھا: یہ کیسا کڑا ہے، اس نے جواب دیا: یہ واہنہ ۱؎ کی بیماری سے بچنے کے لیے ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اتارو، اس لیے کہ یہ تمہارے اندر مزید وہن ( کمزوری ) پیدا کر دے گا ۲؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مُبَارَكٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَأَى رَجُلاً فِي يَدِهِ حَلْقَةٌ مِنْ صُفْرٍ فَقَالَ " مَا هَذِهِ الْحَلْقَةُ " . قَالَ هَذِهِ مِنَ الْوَاهِنَةِ . قَالَ " انْزِعْهَا فَإِنَّهَا لاَ تَزِيدُكَ إِلاَّ وَهْنًا " .
#3532
Daif
It was narrated that Umm Jundub said:“I saw the Messenger of Allah (ﷺ) stoning the ‘Aqabah Pillar from the bottom of the valley on the Day of Sacrifice, then he went away. A woman from Khath’am followed him, and with her was a son of hers who had been afflicted, he could not speak. She said: ‘O Messenger of Allah! This is my son, and he is all I have left of my family. He has been afflicted and cannot speak.’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Bring me some water.’ So it was brought, and he washed his hands and rinsed out his mouth. Then he gave it to her and said: ‘Give him some to drink, and pour some over him, and seek Allah’s healing for him.’” She (Umm Jundub) said: “I met that woman and said: ‘Why don’t you give me some?’ She said: ‘It is only for the sick one.’ I met that woman one year later and asked her about the boy. She said: ‘He recovered and became (very) smart, not like the rest of the people.’”
ام جندب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوم النحر کو بطن وادی میں جمرہ عقبہ کی رمی کرتے دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے تو آپ کے پیچھے پیچھے قبیلہ خثعم کی ایک عورت آئی، اس کے ساتھ ایک بچہ تھا جس پر آسیب تھا، وہ بولتا نہیں تھا، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ میرا بیٹا ہے اور یہی میرے گھر والوں میں باقی رہ گیا ہے، اور اس پر ایک بلا ( آسیب ) ہے کہ یہ بول نہیں پاتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تھوڑا سا پانی لاؤ ، پانی لایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے اور اس میں کلی کی، پھر وہ پانی اسے دے دیا، اور فرمایا: اس میں سے تھوڑا سا اسے پلا دو، اور تھوڑا سا اس کے اوپر ڈال دو، اور اللہ تعالیٰ سے اس کے لیے شفاء طلب کرو ، ام جندب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اس عورت سے ملی اور اس سے کہا کہ اگر تم اس میں سے تھوڑا سا پانی مجھے بھی دے دیتیں، ( تو اچھا ہوتا ) تو اس نے جواب دیا کہ یہ تو صرف اس بیمار بچے کے لیے ہے، ام جندب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اس عورت سے سال بھر بعد ملی اور اس بچے کے متعلق پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ ٹھیک ہو گیا ہے، اور اسے ایسی عقل آ گئی جو عام لوگوں کی عقل سے بڑھ کر ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الأَحْوَصِ، عَنْ أُمِّ جُنْدَبٍ، قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ انْصَرَفَ وَتَبِعَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمٍ وَمَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا بِهِ بَلاَءٌ لاَ يَتَكَلَّمُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا ابْنِي وَبَقِيَّةُ أَهْلِي وَإِنَّ بِهِ بَلاَءً لاَ يَتَكَلَّمُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " ائْتُونِي بِشَىْءٍ مِنْ مَاءٍ " . فَأُتِيَ بِمَاءٍ فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَمَضْمَضَ فَاهُ ثُمَّ أَعْطَاهَا فَقَالَ " اسْقِيهِ مِنْهُ وَصُبِّي عَلَيْهِ مِنْهُ وَاسْتَشْفِي اللَّهَ لَهُ " . قَالَتْ فَلَقِيتُ الْمَرْأَةَ فَقُلْتُ لَوْ وَهَبْتِ لِي مِنْهُ . فَقَالَتْ إِنَّمَا هُوَ لِهَذَا الْمُبْتَلَى . قَالَتْ فَلَقِيتُ الْمَرْأَةَ مِنَ الْحَوْلِ فَسَأَلْتُهَا عَنِ الْغُلاَمِ فَقَالَتْ بَرَأَ وَعَقَلَ عَقْلاً لَيْسَ كَعُقُولِ النَّاسِ .
#3533
Daif
It was narrated from ‘Ali that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The best remedy is the Qur’an.”
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین دوا قرآن مجید ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكِنْدِيُّ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ حَدَّثَنَا مُعَّادُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ الدَّوَاءِ الْقُرْآنُ
#3534
Sahih
It was narrated that ‘Aishah said:“The Prophet (ﷺ) enjoined killing Dhit-Tufytain* for it takes away the sight and causes miscarriage.” *That means a wicked snake
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دھاری سانپ کو مار ڈالنے کا حکم دیا، اس لیے کہ وہ آنکھ کی بینائی کو زائل کرنے اور عورتوں کے حمل کو گرا دیتا ہے، یہ ایک خبیث سانپ ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَمَرَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِقَتْلِ ذِي الطُّفْيَتَيْنِ فَإِنَّهُ يَلْتَمِسُ الْبَصَرَ وَيُصِيبُ الْحَبَلَ . يَعْنِي حَيَّةً خَبِيثَةً .
#3535
Hasan Sahih
it was narrated from Salim, from his father, that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Kill snakes, and kill Dhit-Tufytain* and the Abtar**, for they take away the sight and cause miscarriage.” *A snake that has two white stripes on its back. **A snake with a short or mutilated tail
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سانپوں کو مار ڈالو، دو دھاری اور دم کٹے سانپ کو ضرور مارو، اس لیے کہ یہ دونوں آنکھ کی بینائی زائل کر دیتے اور حمل کو گرا دیتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ وَيُسْقِطَانِ الْحَبَلَ " .
#3536
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:“The Prophet (ﷺ) used to like good signs and hate bad omens.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیک فال ( اچھے شگون ) اچھی لگتی تھی، اور فال بد ( برے شگون ) کو ناپسند فرماتے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُعْجِبُهُ الْفَأْلُ الْحَسَنُ وَيَكْرَهُ الطِّيَرَةَ .
#3537
Sahih
It was narrated that Anas said:“The Prophet (ﷺ) said: ‘There is no ‘Adwa* and no omen, but I like Al-Fa’l As-Salih.”
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھوت چھات اور بدشگونی کوئی چیز نہیں، اور میں فال نیک کو پسند کرتا ہوں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ وَأُحِبُّ الْفَأْلَ الصَّالِحَ " .
#3538
Sahih
It was narrated from ‘Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The omen is polytheistic deed and anyone of us may think he sees an omen but Allah will dispel it by means of relying upon Him.”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بدشگونی شرک ہے ۱؎ اور ہم میں سے جسے بھی بدشگونی کا خیال آئے تو اللہ تعالیٰ پر توکل کی وجہ سے یہ خیال دور کر دے گا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " الطِّيَرَةُ شِرْكٌ وَمَا مِنَّا إِلاَّ وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ " .
#3539
Sahih
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“There is no ‘Adwa, no omen, no Hamah and no Safar.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھوت چھات ۱؎ اور بدشگونی کوئی چیز نہیں ہے، اسی طرح الو اور ماہ صفر کی نحوست کوئی چیز نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ وَلاَ هَامَةَ وَلاَ صَفَرَ " .
#3540
Sahih
Ibn ‘Umar said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘There is no ‘Adwa, no omen, and no Hamah.’ A man stood up and said: ‘O Messenger of Allah, what if a camel has mange and another camel gets mange from it?’ He said: ‘That is the Divine decree. Who causes the mange in the first one?’”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھوت چھات، بدشگونی اور الو دیکھنے کی کوئی حقیقت نہیں، ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب اٹھ کر بولا: اللہ کے رسول! ایک اونٹ کو جب کھجلی ہوتی ہے تو دوسرے اونٹ کو بھی اس کی وجہ سے کھجلی ہو جاتی ہے ۱؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی تو تقدیر ہے، آخر پہلے اونٹ کو کس نے کھجلی والا بنایا ۲؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ وَلاَ هَامَةَ " . فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْبَعِيرُ يَكُونُ بِهِ الْجَرَبُ فَتَجْرَبُ بِهِ الإِبِلُ . قَالَ " ذَلِكَ الْقَدَرُ فَمَنْ أَجْرَبَ الأَوَّلَ " .
#3541
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“A man with sick camels should not let them graze or drink alongside healthy ones.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیمار اونٹ کو تندرست اونٹ کے پاس نہ جانے دیا جائے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ يُورِدُ الْمُمْرِضُ عَلَى الْمُصِحِّ " .
#3542
Daif
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) took the hand of a leper and made him eat with him, and said:“Eat, with trust in Allah and reliance upon Allah.”
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جذامی شخص کا ہاتھ پکڑا، اور اپنے ساتھ اس کے ہاتھ کو پیالے میں داخل کر دیا، پھر اس سے کہا: کھاؤ، میں اللہ پر اعتماد اور اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، وَمُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلاَنِيُّ، قَالُوا حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَخَذَ بِيَدِ رَجُلٍ مَجْذُومٍ فَأَدْخَلَهَا مَعَهُ فِي الْقَصْعَةِ ثُمَّ قَالَ " كُلْ ثِقَةً بِاللَّهِ وَتَوَكُّلاً عَلَى اللَّهِ " .
#3543
Hasan Sahih
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet (ﷺ) said:“Do not keep looking at those who have leprosy.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جذامیوں ( کوڑھیوں ) کی طرف لگاتار مت دیکھو ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُمِّهِ، فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " لاَ تُدِيمُوا النَّظَرَ إِلَى الْمَجْذُومِينَ " .
#3544
Sahih
It was narrated from a man from the family of Sharid whose name was ‘Amr, that his father said:“There was a leper among the delegation of Thaqif. The Prophet (ﷺ) sent word to him: ‘Go back, for we have accepted your oath of allegiance.’”
شرید بن سوید ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وفد ثقیف میں ایک جذامی شخص تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہلا بھیجا: تم لوٹ جاؤ ہم نے تمہاری بیعت لے لی ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ آلِ الشَّرِيدِ يُقَالُ لَهُ عَمْرٌو عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ رَجُلٌ مَجْذُومٌ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " ارْجِعْ فَقَدْ بَايَعْنَاكَ " .
#3545
Sahih
It was narrated that ‘Aishah said:“A Jew from among the Jews of Bani Zuraiq, whose name was Labid bin A’sam, cast a spell on the Prophet (ﷺ), and the Prophet (ﷺ) began to imagine that he had done something when he had not. One day, or one night, the Messenger of Allah (ﷺ) supplicated, and then supplicated again. Then he said: ‘O ‘Aishah, do you know that Allah has instructed me concerning the matter I asked Him about? Two men came to me, and one of them sat at my head and the other at my feet. The one at my head said to the one at my feet, or the one at my feet said to the one at my head "what is ailing this man ?" He said: “He has been affected by a spell.” He said: “Who cast the spell on him?” He said: “Labid bin A’sam.” He said: “With what?” He said: “With a comb and the hairs stuck to it, and the spathe of a male date palm.” He said: “Where is that?” He said: “In the well of Dhu Arwan.” She said: “So the Prophet (ﷺ) went to it, with a group of his Companions, then he came and said: ‘By Allah. O ‘Aishah. It was as if its water was infused with henna and its date palms were like the heads of devils.’” She said: “I said: ‘O Messenger of Allah, why don’t you burn them?’ He said: ‘As for me, Allah has healed me, and I do not like to let evil spread among the people.’ Then he issued orders that the well be filled up with earth.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بنی زریق کے یہودیوں میں سے لبید بن اعصم نامی ایک یہودی نے جادو کر دیا، تو آپ کو ایسا لگتا کہ آپ کچھ کر رہے ہیں حالانکہ آپ کچھ بھی نہیں کر رہے ہوتے تھے، یہی صورت حال تھی کہ ایک دن یا ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی، پھر دعا فرمائی اور پھر دعا فرمائی، پھر کہا: عائشہ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ بات بتا دی جو میں نے اس سے پوچھی تھی، میرے پاس دو شخص آئے، ایک میرے سرہانے اور دوسرا پائتانے بیٹھ گیا، سرہانے والے نے پائتانے والے سے کہا، یا پائتانے والے نے سرہانے والے سے کہا: اس شخص کو کیا بیماری ہے؟ دوسرے نے کہا: اس پر جادو کیا گیا ہے، اس نے سوال کیا: کس نے جادو کیا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا: لبید بن اعصم نے، اس نے پوچھا: کس چیز میں جادو کیا ہے؟ جواب دیا: کنگھی میں اور ان بالوں میں جو کنگھی کرتے وقت گرتے ہیں، اور نر کھجور کے خوشے کے غلاف میں، پہلے نے پوچھا: یہ چیزیں کہاں ہیں؟ دوسرے نے جواب دیا: ذی اروان کے کنوئیں میں ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ کے ساتھ اس کنوئیں پر تشریف لائے، پھر واپس آئے تو فرمایا: اے عائشہ! اللہ تعالیٰ کی قسم! اس کا پانی مہندی کے پانی کی طرح ( رنگین ) تھا، اور وہاں کے کھجور کے درخت گویا شیطانوں کے سر تھے ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے اسے جلایا نہیں؟ فرمایا: نہیں، مجھے تو اللہ تعالیٰ نے تندرست کر دیا ہے، اب میں نے ناپسند کیا کہ میں لوگوں پر اس کے شر کو پھیلاؤں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو وہ سب چیزیں دفن کر دی گئیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سَحَرَ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَهُودِيٌّ مِنْ يَهُودِ بَنِي زُرَيْقٍ يُقَالُ لَهُ لَبِيدُ بْنُ الأَعْصَمِ حَتَّى كَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَفْعَلُ الشَّىْءَ وَلاَ يَفْعَلُهُ . قَالَتْ حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ثُمَّ دَعَا ثُمَّ دَعَا ثُمَّ قَالَ " يَا عَائِشَةُ أَشَعَرْتِ أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ جَاءَنِي رَجُلاَنِ فَجَلَسَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي وَالآخَرُ عِنْدَ رِجْلِي فَقَالَ الَّذِي عِنْدَ رَأْسِي لِلَّذِي عِنْدَ رِجْلِي أَوِ الَّذِي عِنْدَ رِجْلِي لِلَّذِي عِنْدَ رَأْسِي مَا وَجَعُ الرَّجُلِ قَالَ مَطْبُوبٌ . قَالَ مَنْ طَبَّهُ قَالَ لَبِيدُ بْنُ الأَعْصَمِ . قَالَ فِي أَىِّ شَىْءٍ قَالَ فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ وَجُفِّ طَلْعَةِ ذَكَرٍ . قَالَ وَأَيْنَ هُوَ قَالَ فِي بِئْرِ ذِي أَرْوَانَ " . قَالَتْ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ " وَاللَّهِ يَا عَائِشَةُ لَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ وَلَكَأَنَّ نَخْلَهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ " . قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلاَ أَحْرَقْتَهُ قَالَ " لاَ أَمَّا أَنَا فَقَدْ عَافَانِيَ اللَّهُ وَكَرِهْتُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى النَّاسِ مِنْهُ شَرًّا " . فَأَمَرَ بِهَا فَدُفِنَتْ .
#3546
Daif
It was narrated from Ibn ‘Umar that Umm Salamah said:“O Messenger of Allah, every year you are still suffering pain because of the poisoned meat that you ate.” He said: “Nothing that happens to me, but it was decreed for me when Adam was still at the stage of being clay.’”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! آپ کو ہر سال اس زہریلی بکری کی وجہ سے جو آپ نے کھائی تھی، تکلیف ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس کی وجہ سے کچھ بھی ہوا وہ میرے مقدر میں اسی وقت لکھ دیا گیا تھا جب آدم مٹی کے پتلے تھے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْعَنْسِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، وَمُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ الْمِصْرِيَّيْنِ، قَالاَ حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لاَ يَزَالُ يُصِيبُكَ كُلَّ عَامٍ وَجَعٌ مِنَ الشَّاةِ الْمَسْمُومَةِ الَّتِي أَكَلْتَ . قَالَ " مَا أَصَابَنِي شَىْءٌ مِنْهَا إِلاَّ وَهُوَ مَكْتُوبٌ عَلَىَّ وَآدَمُ فِي طِينَتِهِ " .
#3547
Sahih
It was narrated from Khawlah bint Hakim that the Prophet (ﷺ) said:“If anyone of you, when he stops to camp (while on a journey), says A’udhu bi kalimatil-lahit-tammati min sharri ma khalaq (I seek refuge in the Perfect Words of Allah from the evil of that which He has created), then nothing will harm him in that place until he moves on.”
خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کسی مقام پر اترے تو وہ اس وقت یہ دعا پڑھے: «أعوذ بكلمات الله التامة من شر ما خلق- لم يضره في ذلك المنزل شيء حتى يرتحل منه» میں پناہ مانگتا ہوں اللہ تعالیٰ کے تمام کلمات کی ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کیا تو اس مقام پر کوئی چیز اسے ضرر نہیں پہنچا سکتی یہاں تک کہ وہ وہاں سے روانہ ہو جائے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا نَزَلَ مَنْزِلاً قَالَ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ - لَمْ يَضُرَّهُ فِي ذَلِكَ الْمَنْزِلِ شَىْءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْهُ " .
#3548
Sahih
It was narrated that ‘Uthman bin Abul-‘As said:“When the Messenger of Allah (ﷺ) appointed me as governor of Ta’if, I began to get confused during my prayer, until I no longer knew what I was doing. When I noticed that, I travelled to the Messenger of Allah (ﷺ), and he said: ‘The son of Abul-‘As?’ I said: ‘Yes, O Messenger of Allah.’ He said: ‘What brings you here?’ He said: ‘O Messenger of Allah, I get confused during my prayer, until I do not know what I am doing.’ He said: ‘That is Satan. Come here.’ So I came close to him, and sat upon the front part of my feet then he struck my chest with his hand and put some spittle in my mouth and said: ‘Get out, O enemy of Allah!’ He did that three times, then he said: ‘Get on with your work.’” ‘Uthman said: “Indeed, I never felt confused (during my prayer) after that.”
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا عامل مقرر کیا، تو مجھے نماز میں کچھ ادھر ادھر کا خیال آنے لگا یہاں تک کہ مجھے یہ یاد نہیں رہتا کہ میں کیا پڑھتا ہوں، جب میں نے یہ حالت دیکھی تو میں سفر کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا، تو آپ نے فرمایا: کیا ابن ابی العاص ہو ؟، میں نے کہا: جی ہاں، اللہ کے رسول! آپ نے سوال کیا: تم یہاں کیوں آئے ہو ؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے نماز میں طرح طرح کے خیالات آتے ہیں یہاں تک کہ مجھے یہ بھی خبر نہیں رہتی کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شیطان ہے، تم میرے قریب آؤ، میں آپ کے قریب ہوا، اور اپنے پاؤں کی انگلیوں پر دو زانو بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھ سے میرا سینہ تھپتھپایا اور اپنے منہ کا لعاب میرے منہ میں ڈالا، اور ( شیطان کو مخاطب کر کے ) فرمایا: «اخرج عدو الله» اللہ کے دشمن! نکل جا ؟ یہ عمل آپ نے تین بار کیا، اس کے بعد مجھ سے فرمایا: اپنے کام پر جاؤ عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: قسم سے! مجھے نہیں معلوم کہ پھر کبھی شیطان میرے قریب پھٹکا ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ لَمَّا اسْتَعْمَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَلَى الطَّائِفِ جَعَلَ يَعْرِضُ لِي شَىْءٌ فِي صَلاَتِي حَتَّى مَا أَدْرِي مَا أُصَلِّي فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ رَحَلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ " ابْنُ أَبِي الْعَاصِ " . قُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " مَا جَاءَ بِكَ " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَرَضَ لِي شَىْءٌ فِي صَلاَتِي حَتَّى مَا أَدْرِي مَا أُصَلِّي . قَالَ " ذَاكَ الشَّيْطَانُ ادْنُهْ " . فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَجَلَسْتُ عَلَى صُدُورِ قَدَمَىَّ . قَالَ فَضَرَبَ صَدْرِي بِيَدِهِ وَتَفَلَ فِي فَمِي وَقَالَ " اخْرُجْ عَدُوَّ اللَّهِ " . فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ " الْحَقْ بِعَمَلِكَ " . قَالَ فَقَالَ عُثْمَانُ فَلَعَمْرِي مَا أَحْسِبُهُ خَالَطَنِي بَعْدُ .
#3549
Daif
It was narrated from ‘Abdur-Rahman bin Abi Laila that his father Abu Laila said:“I was sitting with the Prophet (ﷺ) when a Bedouin came to him and said: ‘I have a brother who is sick.’ He said: ‘What is the matter with your brother?’ He said: ‘He suffers from a slight mental derangement.’ He said: ‘Go and bring him.’” He said: “(So he went) and he brought him. He made him sit down in front of him and I heard him seeking refuge for him with Fatihatil-Kitab; four Verses from the beginning of Al-Baqarah, two Verses from its middle: ‘And your Ilah (God) is One Ilah (God – Allah),’ [2:163] and Ayat Al-Kursi; and three Verses from its end; a Verse from Al ‘Imran, I think it was: ‘Allah bears witness that La ilaha illa Huwa (none has the right to be worshipped but He),’ [3:18] a Verse from Al-A’raf: ‘Indeed, your Lord is Allah,’ [7:54] a Verse from Al-Mu’minun: ‘And whoever invokes (or worships), besides Allah, any other ilah (god), of whom he has no proof,’[23:117] a Verse from Al-Jinn: ‘And He, exalted is the Majesty of our Lord,’ [72:3] ten Verses from the beginning of As-Saffat; three Verses from the end of Al-Hashr; (then) ‘Say: He is Allah, (the) One,’ [112:1] and Al-Mu’awwidhatain. Then the Bedouin stood up, healed, and there was nothing wrong with him.”
ابولیلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہوسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ آپ کے پاس ایک اعرابی نے آ کر کہا: میرا ایک بیمار بھائی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا: تمہارے بھائی کو کیا بیماری ہے ؟ وہ بولا: اسے آسیب ہو گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اسے لے کر آؤ ، ابولیلیٰ کہتے ہیں کہ وہ ( اعرابی ) گیا اور اسے لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے سامنے بیٹھایا، میں نے آپ کو سنا کہ آپ نے اسے دم کیا، سورۃ فاتحہ، سورۃ البقرہ کی ابتدائی چار آیات اور درمیان کی دو آیتیں، اور «وإلهكم إله واحد» والی آیت، آیت الکرسی، پھر سورۃ البقرہ کی آخری تین آیات، آل عمران کی آیت ( جو میرے خیال میں ) «شهد الله أنه لا إله إلا هو» ہے، سورۃ الاعراف کی آیت «إن ربكم الله الذي خلق»، سورۃ مومنون کی آیت «ومن يدع مع الله إلها آخر لا برهان له به»، سورۃ الجن کی آیت «وأنه تعالى جد ربنا ما اتخذ صاحبة ولا ولدا» اور سورۃ الصافات کے شروع کی دس آیات، اور سورۃ الحشر کی آخری تین آیات، سورۃ «قل هو الله أحد» اور معوذتین کے ذریعے، تو اعرابی شفایاب ہو کر کھڑا ہو گیا، اور ایسا لگ رہا تھا کہ اسے کوئی تکلیف نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ حَيَّانَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو جَنَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِيهِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذْ جَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ إِنَّ لِي أَخًا وَجِعًا . قَالَ " مَا وَجَعُ أَخِيكَ " . قَالَ بِهِ لَمَمٌ . قَالَ " اذْهَبْ فَأْتِنِي بِهِ " . قَالَ فَذَهَبَ فَجَاءَ بِهِ فَأَجْلَسَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَسَمِعْتُهُ عَوَّذَهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَأَرْبَعِ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ الْبَقَرَةِ وَآيَتَيْنِ مِنْ وَسَطِهَا وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ وَآيَةِ الْكُرْسِيِّ وَثَلاَثِ آيَاتٍ مِنْ خَاتِمَتِهَا وَآيَةٍ مِنْ آلِ عِمْرَانَ - أَحْسِبُهُ قَالَ {شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ} - وَآيَةٍ مِنَ الأَعْرَافِ {إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ} الآيَةَ وَآيَةٍ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ {وَمَنْ يَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلهًا آخَرَ لاَ بُرْهَانَ لَهُ بِهِ } وَآيَةٍ مِنَ الْجِنِّ {وَأَنَّهُ تَعَالَى جَدُّ رِبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَلاَ وَلَدًا} وَعَشْرِ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ الصَّافَّاتِ وَثَلاَثِ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ الْحَشْرِ وَ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ } وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ . فَقَامَ الأَعْرَابِيُّ قَدْ بَرَأَ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ .
#3550
Sahih
It was narrated that ‘Aishah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) prayed in a Khamisah* that had markings on it. Then he said: ‘These markings distracted me. Take it to Abu Jahm and bring me an Anbijaniyyah.’”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر میں نماز پڑھی جس میں نقش و نگار تھے، تو آپ صلی اللہعلیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ان بیل بوٹوں نے غافل کر دیا، اسے ابوجہم کو کے پاس لے کر جاؤ اور مجھے ان کی انبجانی چادر لا کر دے دو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلاَمٌ فَقَالَ " شَغَلَنِي أَعْلاَمُ هَذِهِ اذْهَبُوا بِهَا إِلَى أَبِي جَهْمٍ وَائْتُونِي بِأَنْبِجَانِيَّتِهِ " .