#3476
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:“If there is any good in any of the remedies you use, it is in cupping.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جن چیزوں سے تم علاج کرتے ہو اگر ان میں سے کسی میں خیر ہے تو پچھنے میں ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِنْ كَانَ فِي شَىْءٍ مِمَّا تَدَاوَوْنَ بِهِ خَيْرٌ فَالْحِجَامَةُ " .
#3477
Sahih
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“On the night on which I was taken on the Night Journey (Isra’), I did not pass by any group of angels but all of them said to me: ‘O Muhammad, you should use cupping.’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معراج کی رات میرا گزر فرشتوں کی جس جماعت پر بھی ہوا اس نے یہی کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ پچھنے کو لازم کر لیں ۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " مَا مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي بِمَلإٍ مِنَ الْمَلاَئِكَةِ إِلاَّ كُلُّهُمْ يَقُولُ لِي عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ بِالْحِجَامَةِ " .
#3478
Daif
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘What a good slave is the cupper. He takes away the blood, reduces pressure on the spine, and improves the eyesight.’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچھنا لگانے والا بہت بہتر شخص ہے کہ وہ خون نکال دیتا ہے، کمر کو ہلکا اور نگاہ کو تیز کرتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " نِعْمَ الْعَبْدُ الْحَجَّامُ يَذْهَبُ بِالدَّمِ وَيُخِفُّ الصُّلْبَ وَيَجْلُو الْبَصَرَ " .
#3479
Sahih
Anas bin Malik said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘On the night on which I was taken on the Night Journey (Isra’), I did not pass by any group (of angels) but they said to me: “O Muhammad, tell your nation to use cupping.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس رات معراج ہوئی میرا گزر فرشتوں کی جس جماعت پر ہوا اس نے کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اپنی امت کو پچھنا لگانے کا حکم دیں ۔
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ سُلَيْمٍ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَا مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي بِمَلإٍ إِلاَّ قَالُوا يَا مُحَمَّدُ مُرْ أُمَّتَكَ بِالْحِجَامَةِ " .
#3480
Sahih
It was narrated from Jabir that Umm Salamah, the wife of the Prophet (ﷺ), asked the Messenger of Allah (ﷺ) for permission to be cupped, and the Prophet (ﷺ) told Abu Taibah to cup her
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پچھنا لگانے کی اجازت طلب کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطیبہ کو حکم دیا کہ وہ انہیں پچھنا لگائے، جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ ابوطیبہ یا تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی بھائی تھے یا پھر نابالغ لڑکے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ اسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي الْحِجَامَةِ فَأَمَرَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَبَا طَيْبَةَ أَنْ يَحْجُمَهَا . وَقَالَ حَسِبْتُ أَنَّهُ كَانَ أَخَاهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ أَوْ غُلاَمًا لَمْ يَحْتَلِمْ .
#3481
Sahih
‘Abdur-Rahman Al-A’raj said:“I heard ‘Abdullah bin Buhainah say: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) was cupped in Lahyi Jamal,* in the middle of his head, while he was a Muhrim.”
عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی حالت میں مقام لحی جمل میں اپنے سر کے بیچ میں پچھنا لگوایا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ أَبِي عَلْقَمَةَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ ابْنَ بُحَيْنَةَ، يَقُولُ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِلَحْىِ جَمَلٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَسْطَ رَأْسِهِ .
#3482
Very Daif
It was narrated that ‘Ali said:“Jibra’il came down to the Prophet (ﷺ) with (the recommendation of) cupping in the two veins at the side of the neck and the base of the neck.”
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام گردن کی دونوں رگوں اور دونوں مونڈھوں کے درمیان کی جگہ پر پچھنا لگانے کا حکم لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ سَعْدٍ الإِسْكَافِ، عَنِ الأَصْبَغِ بْنِ نُبَاتَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ نَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِحِجَامَةِ الأَخْدَعَيْنِ وَالْكَاهِلِ .
#3483
Sahih
It was narrated from Anas that the Prophet (ﷺ) was cupped in the two veins at theside of the neck and the base of the neck
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گردن کی رگوں اور مونڈھے کے درمیان کی جگہ پچھنا لگوایا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ احْتَجَمَ فِي الأَخْدَعَيْنِ وَعَلَى الْكَاهِلِ .
#3484
Sahih
It was narrated from Abu Kabshah Al-Anmari that the Prophet (ﷺ) used to be cupped on his head and between his shoulders, and he said:“Whoever lets blood from these places, it does not matter if he does not seek treatment for anything else.”
ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر پر اور دونوں کندھوں کے درمیان پچھنا لگواتے اور فرماتے تھے: جو ان مقامات سے خون بہا دے، تو اگر وہ کسی بیماری کا کسی چیز سے علاج نہ کرے تو اس کے لیے نقصان دہ نہیں ہو سکتا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ الأَنْمَارِيِّ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يَحْتَجِمُ عَلَى هَامَتِهِ وَبَيْنَ كَتِفَيْهِ وَيَقُولُ " مَنْ أَهْرَاقَ مِنْهُ هَذِهِ الدِّمَاءَ فَلاَ يَضُرُّهُ أَنْ لاَ يَتَدَاوَى بِشَىْءٍ لِشَىْءٍ " .
#3485
Sahih
It was narrated from Jabir that the Prophet (ﷺ) fell from his horse onto the truck of a palm tree and dislocated his foot. (One of the narrators) Waki’ said:“Meaning that the Prophet (ﷺ) was cupped because of that for bruising.”
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار اپنے گھوڑے سے کھجور کے درخت کی پیڑی پر گر پڑے، اس سے آپ کے پیر میں موچ آ گئی۔ وکیع کہتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف درد کی وجہ سے وہاں پر پچھنا لگوایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ سَقَطَ مِنْ فَرَسِهِ عَلَى جِذْعٍ فَانْفَكَّتْ قَدَمُهُ . قَالَ وَكِيعٌ يَعْنِي أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ احْتَجَمَ عَلَيْهَا مِنْ وَثْءٍ .
#3486
Sahih
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever wants to be cupped, let him seek out the seventeenth, nineteenth or twenty-first (of the month); and let none of you allow his blood to rage so that it kills him.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص پچھنا لگوانا چاہے تو ( ہجری ) مہینے کی سترہویں، انیسویں یا اکیسویں تاریخ کو لگوائے، اور ( کسی ایسے دن نہ لگوائے ) جب اس کا خون جوش میں ہو کہ یہ اس کے لیے موجب ہلاکت بن جائے ۱؎۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَطَرٍ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنِ النَّهَّاسِ بْنِ قَهْمٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " مَنْ أَرَادَ الْحِجَامَةَ فَلْيَتَحَرَّ سَبْعَةَ عَشَرَ أَوْ تِسْعَةَ عَشَرَ أَوْ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَلاَ يَتَبَيَّغْ بِأَحَدِكُمُ الدَّمُ فَيَقْتُلَهُ " .
#3487
Hasan
It was narrated that Ibn ‘Umar said:“O Nafi’! The blood is boiling in me, find me a cupper, but let it be someone gentle if you can, not an old man or a young boy. For I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘Cupping on an empty stomach is better, and in it there is healing and blessing, and it increases one’s intellect and memory. So have yourselves cupped for the blessing of Allah on Thursdays, and avoid cupping on Wednesdays, Fridays, Saturdays and Sundays. Have yourselves cupped on Mondays and Tuesdays, for that is the day on which Allah relieved Ayyub of Calamity, and He inflicted calamity upon him on a Wednesday, and leprosy and leucoderma only appear on Wednesdays, or on the night of Wednesday.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے ( اپنے غلام ) نافع سے کہا: نافع! میرے خون میں جوش ہے، لہٰذا کسی پچھنا لگانے والے کو میرے لیے تلاش کرو، اور اگر ہو سکے تو کسی نرم مزاج کو لاؤ، زیادہ بوڑھا اور کم سن بچہ نہ ہو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: پچھنا نہار منہ لگانا بہتر ہے، اس میں شفاء اور برکت ہے، اس سے عقل بڑھتی ہے اور قوت حافظہ تیز ہوتی ہے، تو جمعرات کو پچھنا لگواؤ، اللہ برکت دے گا، البتہ بدھ، جمعہ، سنیچر اور اتوار کو پچھنا لگوانے سے بچو، اور ان دنوں کا قصد نہ کرو، پھر سوموار ( دوشنبہ ) اور منگل کے دن پچھنا لگواؤ، اس لیے کہ منگل وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ایوب علیہ السلام کو بیماری سے نجات دی، اور بدھ کے دن آپ کو اس بیماری میں مبتلا کیا تھا، چنانچہ جذام ( کوڑھ ) اور برص ( سفید داغ ) کی بیماریاں ( عام طور سے ) بدھ کے دن یا بدھ کی رات میں پیدا ہوتی ہیں ۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَطَرٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ يَا نَافِعُ قَدْ تَبَيَّغَ بِيَ الدَّمُ فَالْتَمِسْ لِي حَجَّامًا وَاجْعَلْهُ رَفِيقًا إِنِ اسْتَطَعْتَ وَلاَ تَجْعَلْهُ شَيْخًا كَبِيرًا وَلاَ صَبِيًّا صَغِيرًا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " الْحِجَامَةُ عَلَى الرِّيقِ أَمْثَلُ وَفِيهِ شِفَاءٌ وَبَرَكَةٌ وَتَزِيدُ فِي الْعَقْلِ وَفِي الْحِفْظِ فَاحْتَجِمُوا عَلَى بَرَكَةِ اللَّهِ يَوْمَ الْخَمِيسِ وَاجْتَنِبُوا الْحِجَامَةَ يَوْمَ الأَرْبِعَاءِ وَالْجُمُعَةِ وَالسَّبْتِ وَيَوْمَ الأَحَدِ تَحَرِّيًا وَاحْتَجِمُوا يَوْمَ الاِثْنَيْنِ وَالثُّلاَثَاءِ فَإِنَّهُ الْيَوْمُ الَّذِي عَافَى اللَّهُ فِيهِ أَيُّوبَ مِنَ الْبَلاَءِ وَضَرَبَهُ بِالْبَلاَءِ يَوْمَ الأَرْبِعَاءِ فَإِنَّهُ لاَ يَبْدُو جُذَامٌ وَلاَ بَرَصٌ إِلاَّ يَوْمَ الأَرْبِعَاءِ أَوْ لَيْلَةَ الأَرْبِعَاءِ " .
#3488
Hasan
It was narrated that Nafi’ said:“Ibn ‘Umar said: ‘O Nafi’! The blood is boiling in me. Bring me a cupper and let him be a young man, not an old man or a boy.’ Ibn ‘Umar said: ‘I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “Cupping on an empty stomach is better, and it increases one’s intellect and memory. And it increases the memory of one who has a good memory so whoever wants to be cupped, (let him do it) on a Thursday, in the Name of Allah. Avoid cupping on Fridays, Saturdays and Sundays. Have yourselves cupped on Mondays and Tuesdays, and avoid cupping on Wednesdays, for that is the day on which the calamity befell Ayyub, and leprosy and leucoderma only appear on Wednesday or the night of Wednesday.”
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: نافع! میرا خون جوش میں ہے، لہٰذا کوئی پچھنا لگانے والا لاؤ، جو جوان ہو، ناکہ بوڑھا یا بچہ، نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: نہار منہ پچھنا لگانا بہتر ہے، اس سے عقل بڑھتی ہے، حافظہ تیز ہوتا ہے، اور یہ حافظ کے حافظے کو بڑھاتی ہے، لہٰذا جو شخص پچھنا لگائے تو اللہ کا نام لے کر جمعرات کے دن لگائے، جمعہ، ہفتہ ( سنیچر ) اور اتوار کو پچھنا لگانے سے بچو، پیر ( دوشنبہ ) اور منگل کو لگاؤ پھر چہار شنبہ ( بدھ ) سے بھی بچو، اس لیے کہ یہی وہ دن ہے جس میں ایوب علیہ السلام بیماری سے دوچار ہوئے، اور جذام و برص کی بیماریاں بھی بدھ کے دن یا بدھ کی رات ہی کو نمودار ہوتی ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِصْمَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ يَا نَافِعُ تَبَيَّغَ بِيَ الدَّمُ فَأْتِنِي بِحَجَّامٍ وَاجْعَلْهُ شَابًّا وَلاَ تَجْعَلْهُ شَيْخًا وَلاَ صَبِيًّا . قَالَ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " الْحِجَامَةُ عَلَى الرِّيقِ أَمْثَلُ وَهِيَ تَزِيدُ فِي الْعَقْلِ وَتَزِيدُ فِي الْحِفْظِ وَتَزِيدُ الْحَافِظَ حِفْظًا فَمَنْ كَانَ مُحْتَجِمًا فَيَوْمَ الْخَمِيسِ عَلَى اسْمِ اللَّهِ وَاجْتَنِبُوا الْحِجَامَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيَوْمَ السَّبْتِ وَيَوْمَ الأَحَدِ وَاحْتَجِمُوا يَوْمَ الاِثْنَيْنِ وَالثُّلاَثَاءِ وَاجْتَنِبُوا الْحِجَامَةَ يَوْمَ الأَرْبِعَاءِ فَإِنَّهُ الْيَوْمُ الَّذِي أُصِيبَ فِيهِ أَيُّوبُ بِالْبَلاَءِ وَمَا يَبْدُو جُذَامٌ وَلاَ بَرَصٌ إِلاَّ فِي يَوْمِ الأَرْبِعَاءِ أَوْ لَيْلَةِ الأَرْبِعَاءِ " .
#3489
Sahih
It was narrated from ‘Aqqar bin Al-Mughirah from his father that the Prophet (ﷺ) said:“Whoever seeks treatment by cauterization, or with Ruqyah, then he had absolved himself of reliance upon Allah.”
مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ( آگ یا لوہا سے بدن ) داغنے یا منتر ( جھاڑ پھونک ) سے علاج کیا، وہ توکل سے بری ہو گیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَقَّارِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " مَنِ اكْتَوَى أَوِ اسْتَرْقَى فَقَدْ بَرِئَ مِنَ التَّوَكُّلِ " .
#3490
Sahih
It was narrated that ‘Imran bin Husain said:“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade cauterization. I had myself cauterized and I have not prospered or succeeded.”
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( آگ یا لوہے سے جسم ) داغنے سے منع فرمایا، لیکن میں نے داغ لگایا، تو نہ میں کامیاب ہوا، اور نہ ہی میری بیماری دور ہوئی ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَيُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ الْكَىِّ فَاكْتَوَيْتُ فَمَا أَفْلَحْتُ وَلاَ أَنْجَحْتُ .
#3491
Sahih
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“Healing is in three things: A drink of honey, the glass of the cupper, and cauterizing with fire, but I forbid my nation to use cauterization.” And he attributed it to the Prophet (ﷺ)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ شفاء تین چیزوں میں ہے: گھونٹ بھر شہد پینے میں، پچھنا لگانے میں اور انگار سے ہلکا سا داغ دینے میں، اور میں اپنی امت کو داغ دینے سے منع کرتا ہوں، یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مرفوع روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ، حَدَّثَنَا سَالِمٌ الأَفْطَسُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ " الشِّفَاءُ فِي ثَلاَثٍ شَرْبَةِ عَسَلٍ وَشَرْطَةِ مِحْجَمٍ وَكَيَّةٍ بِنَارٍ وَأَنْهَى أُمَّتِي عَنِ الْكَىِّ " . رَفَعَهُ .
#3492
Hasan
Muhammad bin ‘Abdur-Rahman bin Sa’d bin Zurarah Al-Ansari said:“I heard my paternal uncle Yahya – and I have not seen a man among us like him – tell the people that Sa'd bin Zurarah, who was the grandfather of Muhammad through his mother, was suffering from pain in his throat, known as croup. The Prophet (ﷺ) said: ‘I shall do my best for Abu Umamah.’ Such that I will be excused (i.e., free of blame if he is not healed). And he cauterized him with his own hand, but he died. The Prophet (ﷺ) said: ‘May the Jews be doomed! They will say: “Why could he not avert death from his Companions?” But I have no power to do anything for him or for my own self.’”
محمد بن عبدالرحمٰن بن اسعد بن زرارہ انصاری سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے چچا یحییٰ بن اسعد بن زرارہ سے سنا، اور ان کا کہنا ہے کہ اپنوں میں ان جیسا متقی و پرہیزگار مجھے کوئی نہیں ملا لوگوں سے بیان کرتے تھے کہ سعد بن زرارہ ۱؎ ( جو محمد بن عبدالرحمٰن کے نانا تھے ) کو ایک بار حلق کا درد ہوا، اس درد کو «ذُبحہ» کہا جاتا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ابوامامہ ( یعنی! اسعد رضی اللہ عنہ ) کے علاج میں اخیر تک کوشش کرتا رہوں گا تاکہ کوئی عذر نہ رہے ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے ہاتھ سے داغ دیا، پھر ان کا انتقال ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود بری موت مریں، اب ان کو یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اپنے ساتھی کو موت سے کیوں نہ بچا لیا، حالانکہ نہ میں اس کی جان کا مالک تھا، اور نہ اپنی جان کا ذرا بھی مالک ہوں ۲؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ عَمِّي، يَحْيَى - وَمَا أَدْرَكْتُ رَجُلاً مِنَّا بِهِ شَبِيهًا يُحَدِّثُ النَّاسَ أَنَّ سَعْدَ بْنَ زُرَارَةَ - وَهُوَ جَدُّ مُحَمَّدٍ مِنْ قِبَلِ أُمِّهِ أَنَّهُ أَخَذَهُ وَجَعٌ فِي حَلْقِهِ يُقَالُ لَهُ الذُّبْحَةُ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لأُبْلِغَنَّ أَوْ لأُبْلِيَنَّ فِي أَبِي أُمَامَةَ عُذْرًا " . فَكَوَاهُ بِيَدِهِ فَمَاتَ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مِيتَةَ سُوءٍ لِلْيَهُودِ يَقُولُونَ أَفَلاَ دَفَعَ عَنْ صَاحِبِهِ . وَمَا أَمْلِكُ لَهُ وَلاَ لِنَفْسِي شَيْئًا " .
#3493
Sahih
It was narrated that Jabir said:“Ubayy bin Ka’b fell sick, and the Prophet (ﷺ) sent a doctor to him who cauterized him on his medical arm vein.”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ایک بار بیمار پڑے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس ایک طبیب بھیجا، اس نے ان کے ہاتھ کی رگ پر داغ دیا۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ مَرِضَ أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ مَرَضًا فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ طَبِيبًا فَكَوَاهُ عَلَى أَكْحَلِهِ .
#3494
Sahih
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) cauterized Sa’d bin Mu’adh on his medial arm vein, twice
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ والی رگ میں دو مرتبہ داغا ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَوَى سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ فِي أَكْحَلِهِ مَرَّتَيْنِ .
#3495
Sahih
Salim bin ‘Abdullah narrated that his father said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘You should use antimony, for it improves the eyesight and makes the hair (eyelashes) grow.’”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنے اوپر «اثمد» ۲؎ کو لازم کر لو، اس لیے کہ وہ بینائی تیز کرتا ہے اور بال اگاتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " عَلَيْكُمْ بِالإِثْمِدِ فَإِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعَرَ " .
#3496
Sahih
It was narrated that Jabir said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘You should use antimony when you go to sleep, for it improves the eyesight and makes the hair (eyelashes) grow.’”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: سوتے وقت اثمد کا سرمہ ضرور لگاؤ، کیونکہ اس سے نظر ( نگاہ ) تیز ہوتی ہے اور بال اگتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " عَلَيْكُمْ بِالإِثْمِدِ عِنْدَ النَّوْمِ فَإِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعَرَ " .
#3497
Sahih
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The best of your kohl is antimony, for it improves the eyesight and makes the hair (eyelashes) grow.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہتر سرمہ اثمد کا ہے، وہ نظر ( بینائی ) تیز کرتا، اور بالوں کو اگاتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " خَيْرُ أَكْحَالِكُمُ الإِثْمِدُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعَرَ " .
#3498
Daif
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:“Whoever applies kohl, let him do it an odd number of times. Whoever does that has done well, and whoever does not, it does not matter.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص سرمہ لگائے تو طاق لگائے، اگر ایسا کرے گا تو بہتر ہو گا، اور اگر نہ کیا تو حرج کی بات نہیں ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ حُصَيْنٍ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ أَبِي سَعْدِ الْخَيْرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " مَنِ اكْتَحَلَ فَلْيُوتِرْ مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لاَ فَلاَ حَرَجَ " .
#3499
Daif
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“The Prophet (ﷺ) had a kohl container from which he would apply kohl three times, to each eye.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہوسلمہ کے پاس ایک سرمہ دانی تھی، آپ اس میں سے ہر آنکھ میں تین بار سرمہ لگاتے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَتْ لِلنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مُكْحُلَةٌ يَكْتَحِلُ مِنْهَا ثَلاَثًا فِي كُلِّ عَيْنٍ .
#3500
Sahih
It was narrated that Tariq bin Suwaid Al-Hadrami said:“I said: ‘O Messenger of Allah, in our land there are grapes which we squeeze (to make wine). Can we drink from it?’ He said: ‘No.’ I repeated the question and said: ‘We treat the sick with it.’ He said: ‘That is not a cure, it is a disease.’”
طارق بن سوید حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے ملک میں انگور ہیں، کیا ہم انہیں نچوڑ کر پی لیا کریں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ، میں نے دوبارہ عرض کیا کہ ہم اس سے مریض کا علاج کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دوا نہیں بلکہ خود بیماری ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنْبَأَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ طَارِقِ بْنِ سُوَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بِأَرْضِنَا أَعْنَابًا نَعْتَصِرُهَا فَنَشْرَبُ مِنْهَا قَالَ " لاَ " . فَرَاجَعْتُهُ قُلْتُ إِنَّا نَسْتَشْفِي بِهِ لِلْمَرِيضِ . قَالَ " إِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ بِشِفَاءٍ وَلَكِنَّهُ دَاءٌ " .