#3451
Daif Isnaad
It was narrated that Jabir bin ‘Abdullah said:“Some honey was given as a gift to the Prophet (ﷺ), and he shared among us spoonful by spoonful. I took my spoonful then I said: ‘O Messenger of Allah, can I have another?’ He said: ‘Yes.’”
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شہد ہدیہ میں آیا تو آپ نے تھوڑا تھوڑا ہم سب کے درمیان تقسیم فرمایا، مجھے اپنا حصہ ملا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں مزید لے سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَهْلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ الْعَطَّارُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَسَلٌ فَقَسَمَ بَيْنَنَا لُعْقَةً لُعْقَةً فَأَخَذْتُ لُعْقَتِي ثُمَّ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَزْدَادُ أُخْرَى قَالَ " نَعَمْ " .
#3452
Sahih Muquf
It was narrated from ‘Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“You should take the two that bring healing: Honey and the Qur’an.”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دو شفاوؤں یعنی شہد اور قرآن کو لازم پکڑو ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " عَلَيْكُمْ بِالشِّفَاءَيْنِ الْعَسَلِ وَالْقُرْآنِ " .
#3453
Sahih
It was narrated from Abu Sa`eed and Jabir that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Truffles are a type of manna, and their water is a healing for eye (diseases). And the `Ajwah* are from Paradise, and they are healing for possession.”** Another chain from Abu Sa`eed from the Prophet (ﷺ) with similar wording
ابو سعید خدری اور جابر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھمبی «منّ» میں سے ہے، اور اس کے پانی میں آنکھوں کا علاج، اور عجوہ ( کھجور ) جنت کا میوہ ہے اور اس میں پاگل پن اور دیوانگی کا علاج ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَجَابِرٍ، قَالاَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ وَهِي شِفَاءٌ مِنَ الْجَنَّةَ " . حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقِّيَّانِ، قَالاَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ هِشَامٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِثْلَهُ .
#3454
Sahih
‘Amr bin Huraith said:“I heard Sa’eed bin Zaid bin ‘Amr bin Nufail narrating from the Prophet (ﷺ) that: ‘Truffles are a type of manna that Allah sent down to the Children of Israel, and their water is a healing for eye (diseases).’”
سعید بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھمبی «من» میں سے ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر نازل فرمایا تھا، اور اس کے پانی میں آنکھوں کا علاج ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، سَمِعَ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّ " الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ " .
#3455
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:“We used to narrate from the Messenger of Allah (ﷺ) and mention truffles, and they said: ‘(It is) the smallpox of the earth.’ When the Messenger of Allah (ﷺ) was told of what they were saying: he said: ‘Truffles are a type of manna, and the Ajwah are from Paradise, and they are a healing from poison.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گفتگو کر رہے تھے کہ کھمبی کا ذکر آ گیا، تو لوگوں نے کہا: وہ تو زمین کی چیچک ہے، یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھمبی «منّ» میں سے ہے، اور عجوہ کھجور جنت کا پھل ہے، اور اس میں زہر سے شفاء ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كُنَّا نَتَحَدَّثُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَذَكَرْنَا الْكَمْأَةَ فَقَالُوا هِيَ جُدَرِيُّ الأَرْضِ . فَنُمِيَ الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ " الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ وَهِيَ شِفَاءٌ مِنَ السَّمِّ " .
#3456
Daif
Rafi’ bin ‘Amr Al-Muzani said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “Ajwah and the rock* are from Paradise.’”
رافع بن عمرو مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: عجوہ کھجور اور صخرہ یعنی بیت المقدس کا پتھر جنت کی چیزیں ہیں ۔ عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں: لفظ «صخرہ» میں نے ان کے منہ سے سن کر یاد کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا الْمُشْمَعِلُّ بْنُ إِيَاسٍ الْمُزَنِيُّ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سُلَيْمٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ عَمْرٍو الْمُزَنِيَّ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " الْعَجْوَةُ وَالصَّخْرَةُ مِنَ الْجَنَّةِ " . قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَفِظْتُ الصَّخْرَةَ مِنْ فِيهِ .
#3457
Sahih
Ibrahim bin Abu ‘Ablah said:“I heard Abu Ubayy bin Umm Haram, who had prayed with the Messenger of Allah (ﷺ) facing both the Qiblah, saying: ‘I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “You should use senna and the Sannut, for in them there is healing for every disease, except the Sam.” It was said: “O Messenger of Allah, what is the Sam?” He said: “Death.” (One of the narrators) ‘Amr said: “Ibn Abu ‘Ablah said: the ‘Sannut is dill.” Others said: “Rather, it is honey that is kept in a skin (i.e., receptacle) used for ghee.”
ابو ابی بن ام حرام رضی اللہ عنہا (وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھ چکے ہیں) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: «تمسنا» اور «سنوت» ۱؎ کا استعمال لازم کر لو، اس لیے کہ «سام» کے سوا ان میں ہر مرض کے لیے شفاء ہے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! «سام» کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موت ۔ عمرو کہتے ہیں کہ ابن ابی عبلہ نے کہا: «سنوت»: «سویے» کو کہتے ہیں، بعض دوسرے لوگوں نے کہا ہے کہ وہ شہد ہے جو گھی کی مشکوں میں ہوتا ہے، شاعر کا یہ شعر اسی معنی میں وارد ہے۔ «هم السمن بالسنوت لا ألس فيهم وهم يمنعون جارهم أن يقردا» وہ لوگ ملے ہوئے گھی اور شہد کی طرح ہیں ان میں خیانت نہیں، اور وہ لوگ تو اپنے پڑوسی کو بھی دھوکا دینے سے منع کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ سَرْجٍ الْفِرْيَابِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ بَكْرٍ السَّكْسَكِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُبَىٍّ ابْنَ أُمِّ حَرَامٍ، وَكَانَ، قَدْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الْقِبْلَتَيْنِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " عَلَيْكُمْ بِالسَّنَى وَالسَّنُّوتِ فَإِنَّ فِيهِمَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلاَّ السَّامَ . قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا السَّامُ قَالَ " الْمَوْتُ " . قَالَ عَمْرٌو قَالَ ابْنُ أَبِي عَبْلَةَ السَّنُّوتُ الشِّبِتُّ . وَقَالَ آخَرُونَ بَلْ هُوَ الْعَسَلُ الَّذِي يَكُونُ فِي زِقَاقِ السَّمْنِ وَهُوَ قَوْلُ الشَّاعِرِ هُمُ السَّمْنُ بِالسَّنُّوتِ لاَ أَلْسَ فِيهِمُ وَهُمْ يَمْنَعُونَ جَارَهُمْ أَنْ يُقَرَّدَا
#3458
Daif
It was narrated that Abu Hurairah said:“The Prophet (ﷺ) set out in the early morning and I did likewise. I prayed, then I sat. The Prophet (ﷺ) turned to me and said: ‘Do you have a stomach problem?’* I said: ‘Yes, O Messenger of Allah.’ He said: ‘Get up and pray, for in prayer there is healing.’” Another chain with similar wording. Abu `Abdullah said: A man narrated it to his people, then they were stirred up against him
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار دوپہر کو چلے، میں بھی چلا، تو میں نے نماز پڑھی پھر بیٹھ گیا، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے تو آپ نے فرمایا: «اشكمت درد» کیا پیٹ میں درد ہے ؟ میں نے کہا: ہاں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اٹھو اور نماز پڑھو، اس لیے کہ نماز میں شفاء ہے ۔
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا السَّرِيُّ بْنُ مِسْكِينٍ، حَدَّثَنَا ذُؤَادُ بْنُ عُلْبَةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ هَجَّرَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَهَجَّرْتُ فَصَلَّيْتُ ثُمَّ جَلَسْتُ فَالْتَفَتَ إِلَىَّ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ " اشِكَمَتْ دَرْدْ " . قُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " قُمْ فَصَلِّ فَإِنَّ فِي الصَّلاَةِ شِفَاءً " . قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ذُؤَادُ بْنُ عُلْبَةَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَقَالَ فِيهِ اشِكَمَتْ دَرْدْ . يَعْنِي تَشْتَكِي بَطْنَكَ بِالْفَارِسِيَّةِ . قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَ بِهِ رَجُلٌ لأَهْلِهِ فَاسْتَعْدَوْا عَلَيْهِ .
#3459
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade treating illness with foul things (Khabith), meaning poison.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپاک ( یا حرام ) دوا سے منع فرمایا، یعنی زہر سے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ الدَّوَاءِ الْخَبِيثِ . يَعْنِي السُّمَّ .
#3460
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever drinks poison and kills himself, will be sipping it in the fire of Hell forever and ever.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے زہر پی کر اپنے آپ کو مار ڈالا، تو وہ اسے جہنم میں بھی پیتا رہے گا جہاں وہ ہمیشہ ہمیش رہے گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ شَرِبَ سُمًّا فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَهُوَ يَتَحَسَّاهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا " .
#3461
Daif
It was narrated that Asma’ bint ‘Umais said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: ‘What do you use as a laxative?’ I said: ‘The Shubrum (spurge – Euphorb).’ He said: (It is) hot and powerful.’ Then I used senna as a laxative and he said: ‘If anything were to cure death, it would be senna. Senna is a cure for death.’”
اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: تم مسہل کس چیز کا لیتی تھی ؟ میں نے عرض کیا: «شبرم» سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تو بہت گرم ہے ، پھر میں «سنا» کا مسہل لینے لگی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی چیز موت سے نجات دے سکتی تو وہ «سنا» ہوتی، «سنا» ہر قسم کی جان لیوا امراض سے شفاء دیتی ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ زُرْعَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَوْلًى، لِمَعْمَرٍ التَّيْمِيِّ عَنْ مَعْمَرٍ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " بِمَاذَا كُنْتِ تَسْتَمْشِينَ " . قُلْتُ بِالشُّبْرُمِ قَالَ " حَارٌّ جَارٌّ " . ثُمَّ اسْتَمْشَيْتُ بِالسَّنَى . فَقَالَ " لَوْ كَانَ شَىْءٌ يَشْفِي مِنَ الْمَوْتِ كَانَ السَّنَى وَالسَّنَى شِفَاءٌ مِنَ الْمَوْتِ " .
#3462
Sahih
It was narrated that Umm Qais bint Mihsan said:“I brought a son of mine to the Prophet (ﷺ), and I had pressed on an area of his throat due to tonsillitis. He said: ‘Why do you poke your children with this pressing?’ You should use this aloeswood, for in it there are seven cures. It should be inhaled for pustules in the throat, and given in the side of the mouth for pleurisy.” (Another chain) from Umm Qais bint Mihsan, from the Prophet (ﷺ) with similar wording
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اپنے بچے کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اور اس سے پہلے میں نے «عذرہ» ۱؎ ( ورم حلق ) کی شکایت سے اس کا حلق دبایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: آخر کیوں تم لوگ اپنے بچوں کے حلق دباتی ہو؟ تم یہ عود ہندی اپنے لیے لازم کر لو، اس لیے کہ اس میں سات بیماریوں کا علاج ہے، اگر «عذرہ» ۱؎ ( ورم حلق ) کی شکایت ہو تو اس کو ناک ٹپکایا جائے، اور اگر «ذات الجنب» ۲؎ ( نمونیہ ) کی شکایت ہو تو اسے منہ سے پلایا جائے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، قَالَتْ دَخَلْتُ بِابْنٍ لِي عَلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَقَدْ أَعْلَقْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ فَقَالَ " عَلاَمَ تَدْغَرْنَ أَوْلاَدَكُنَّ بِهَذَا الْعِلاَقِ عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ يُسْعَطُ بِهِ مِنَ الْعُذْرَةِ وَيُلَدُّ بِهِ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ " . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِنَحْوِهِ . قَالَ يُونُسُ أَعْلَقْتُ يَعْنِي غَمَزْتُ .
#3463
Sahih
Anas bin Malik said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: ‘The cure for sciatica is the fat from the tail of a Bedouin sheep (or wild sheep), which should be melted and divided into three parts, one part to be taken each day on an empty stomach.’”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: «عرق النسا» ۱؎ کا علاج یہ ہے کہ جنگلی بکری کی ( چربی ) کی چکتی لی جائے اور اسے پگھلایا جائے، پھر اس کے تین حصے کئے جائیں، اور ہر حصے کو روزانہ نہار منہ پیا جائے ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَرَاشِدُ بْنُ سَعِيدٍ الرَّمْلِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " شِفَاءُ عِرْقِ النَّسَا أَلْيَةُ شَاةٍ أَعْرَابِيَّةٍ تُذَابُ ثُمَّ تُجَزَّأُ ثَلاَثَةَ أَجْزَاءٍ ثُمَّ يُشْرَبُ عَلَى الرِّيقِ فِي كُلِّ يَوْمٍ جُزْءٌ " .
#3464
Sahih
It was narrated that Sahl bin Sa’d As-Sa’idi said:“The Messenger of Allah (ﷺ) was wounded on the Day of Uhud. His molar was broken and his helmet was crushed on his head. Fatimah was washing the blood from him and ‘Ali was pouring water on him from a shield. When Fatimah realized that the water was only making the bleeding worse, she took a piece of a mat and burnt it, and when it had turned to ashes, she applied it to the wound to stop the bleeding
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد کے دن زخمی ہو گئے، آپ کے سامنے کا ایک دانت ٹوٹ گیا، اور خود ٹوٹ کر آپ کے سر میں گھس گیا تو فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کا خون دھو رہی تھیں اور علی رضی اللہ عنہ ڈھال سے پانی لا لا کر ڈال رہے تھے، جب فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ پانی کی وجہ سے خون بجائے رکنے کے بڑھتا ہی جاتا ہے تو چٹائی کا ایک ٹکڑا لے کر جلایا، جب وہ راکھ ہو گیا تو اسے زخم میں بھر دیا، اور اس طرح خون رک گیا۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ جُرِحَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَوْمَ أُحُدٍ وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ وَهُشِمَتِ الْبَيْضَةُ عَلَى رَأْسِهِ فَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَغْسِلُ الدَّمَ عَنْهُ وَعَلِيٌّ يَسْكُبُ عَلَيْهِ الْمَاءَ بِالْمِجَنِّ فَلَمَّا رَأَتْ فَاطِمَةُ أَنَّ الْمَاءَ لاَ يَزِيدُ الدَّمَ إِلاَّ كَثْرَةً أَخَذَتْ قِطْعَةَ حَصِيرٍ فَأَحْرَقَتْهَا حَتَّى إِذَا صَارَ رَمَادًا أَلْزَمَتْهُ الْجُرْحَ فَاسْتَمْسَكَ الدَّمُ .
#3465
Sahih
It was narrated from ‘Abdul-Muhaimin bin ‘Abbas bin Sahl bin Sa’d As- Sa’idi, from his father, that his grandfather said:“On the Day of Uhud, I recognized the one who wounded the face of the Messenger of Allah (ﷺ), the one who was washing the blood from the face of the Messenger of Allah (ﷺ) and treating him, and the one who was bringing the water in a shield, and with what the wound was treated until the bleeding stopped. The one who was carrying the water in the shield was ‘Ali. The one who was treating the wound was Fatimah. When the bleeding would not stop, she burned a piece of a worn out mat and applied the ashes to it (the wound), then the bleeding stopped
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے معلوم ہے کہ غزوہ احد کے دن کس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو زخمی کیا تھا؟ اور کون آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے زخموں کو دھو رہا تھا، اور ان کا علاج کر رہا تھا؟ کون تھا جو ڈھال میں پانی بھر کر لا رہا تھا؟ اور کس چیز کے ذریعے آپ کے زخم کا علاج کیا گیا، یہاں تک کہ خون تھما، ڈھال میں پانی بھر کر لانے والے علی رضی اللہ عنہ تھے، زخموں کا علاج کرنے والی فاطمہ رضی اللہ عنہا تھیں، جب خون نہیں رکا تو انہوں نے پرانی چٹائی کا ایک ٹکڑا جلایا، اور اس کی راکھ زخم پر لگا دی، اس طرح زخم سے خون کا بہنا بند ہوا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عَبْدِ الْمُهَيْمِنِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ إِنِّي لأَعْرِفُ يَوْمَ أُحُدٍ مَنْ جَرَحَ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَمَنْ كَانَ يُرْقِئُ الْكَلْمَ مِنْ وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَيُدَاوِيهِ وَمَنْ يَحْمِلُ الْمَاءَ فِي الْمِجَنِّ وَبِمَا دُووِيَ بِهِ الْكَلْمُ حَتَّى رَقَأَ . قَالَ أَمَّا مَنْ كَانَ يَحْمِلُ الْمَاءَ فِي الْمِجَنِّ فَعَلِيٌّ وَأَمَّا مَنْ كَانَ يُدَاوِي الْكَلْمَ فَفَاطِمَةُ أَحْرَقَتْ لَهُ حِينَ لَمْ يَرْقَأْ قِطْعَةَ حَصِيرٍ خَلَقٍ فَوَضَعَتْ رَمَادَهُ عَلَيْهِ فَرَقَأَ الْكَلْمُ .
#3466
Hasan
It was narrated from ‘Amr bin Shu’aib, from his father, that his grandfather said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever gives medical treatment, with no prior knowledge of medicine, is responsible (for any harm done).’”
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص علاج کرنے لگے حالانکہ اس سے پہلے اس کے طبیب ہونے کا کسی کو علم نہیں تھا، تو وہ ضامن ( ذمہ دار ) ہو گا ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَرَاشِدُ بْنُ سَعِيدٍ الرَّمْلِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ تَطَبَّبَ وَلَمْ يُعْلَمْ مِنْهُ طِبٌّ قَبْلَ ذَلِكَ فَهُوَ ضَامِنٌ " .
#3467
Daif
It was narrated that Zaid bin Arqam said:“The Messenger of Allah (ﷺ) prescribed Wars (memecyclon tinctorium), Indian aloeswood and olive oil for pleurisy, to be administered through the side of the mouth.”
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «ذات الجنب» کے علاج کے لیے یہ نسخہ بتایا کہ «ورس» اور «قسط» ( عود ہندی ) کو زیتون کے تیل میں ملا کر منہ میں ڈال دیا جائے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ نَعَتَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ وَرْسًا وَقُسْطًا وَزَيْتًا يُلَدُّ بِهِ .
#3468
Sahih
Umm Qais bint Mihsan said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘You should use Indian aloeswood for it contains seven cures, including (a cure for) pleurisy.’”
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے «عود ہندی» کا استعمال لازمی ہے «کست» کا اس لیے کہ اس میں سات بیماریوں سے شفاء ہے، ان میں ایک «ذات الجنب» بھی ہے ۔ ابن سمعان کے الفاظ اس حدیث میں یہ ہیں: «فإن فيه شفاء من سبعة أدواء منها ذات الجنب» اس میں سات امراض کا علاج ہے، ان میں سے ایک مرض «ذات الجنب» ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرٍ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ، وَابْنُ، سَمْعَانَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " عَلَيْكُمْ بِالْعُودِ الْهِنْدِيِّ - يَعْنِي بِهِ الْكُسْتَ - فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ " . قَالَ ابْنُ سَمْعَانَ فِي الْحَدِيثِ " فَإِنَّ فِيهِ شِفَاءً مِنْ سَبْعَةِ أَدْوَاءٍ مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ " .
#3469
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:“Mention of fever was made in the presence of the Messenger of Allah (ﷺ), and a man cursed it. The Prophet (ﷺ) said: ‘Do not curse it, for it erases sin as fire removes filth from iron.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بخار کا ذکر آیا تو ایک شخص نے بخار کو گالی دی ( برا بھلا کہا ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے گالی نہ دو ( برا بھلا نہ کہو ) اس لیے کہ اس سے گناہ اس طرح ختم ہو جاتے ہیں جیسے آگ سے لوہے کا کچرا صاف ہو جاتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ ذُكِرَتِ الْحُمَّى عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَسَبَّهَا رَجُلٌ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ تَسُبَّهَا فَإِنَّهَا تَنْفِي الذُّنُوبَ كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْحَدِيدِ " .
#3470
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) visited a sick person, due to an illness that he was suffering from and Abu Hurairah was with him. The Messenger of Allah (ﷺ) said:“Be of good cheer, for Allah says: ‘It is My fire which I have causes to overwhelm My believing slave in this world, to be his share of the Fire in the Hereafter.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بخار کے ایک مریض کی عیادت کی، آپ کے ساتھ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خوش ہو جاؤ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یہ میری آگ ہے، میں اسے اپنے مومن بندے پر اس دنیا میں اس لیے مسلط کرتا ہوں تاکہ وہ آخرت کی آگ کا بدل بن جائے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ عَادَ مَرِيضًا وَمَعَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ مِنْ وَعْكٍ كَانَ بِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَبْشِرْ فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ هِيَ نَارِي أُسَلِّطُهَا عَلَى عَبْدِيَ الْمُؤْمِنِ فِي الدُّنْيَا لِتَكُونَ حَظَّهُ مِنَ النَّارِ فِي الآخِرَةِ " .
#3471
Sahih
It was narrated from ‘Aishah that the Prophet (ﷺ) said:“Fever is from the heat of the Hell-fire, so cool it down with water.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بخار جہنم کی بھاپ ہے، لہٰذا اسے پانی سے ٹھنڈا کرو ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِنَّ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ " .
#3472
Sahih
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Prophet (ﷺ) said:“Intense fever is from the heat of Hell-fire, so cool it down with water.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بخار کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہے لہٰذا اسے پانی سے ٹھنڈا کرو ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ قَالَ " إِنَّ شِدَّةَ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ " .
#3473
Sahih
It was narrated that Rafi’ bin Khadij said:“I heard the Prophet (ﷺ) say: ‘Fever is from the heat of the Hell-fire, so cool it down with water.’ He entered upon a son of ‘Ammar and said: ‘Take away the harm, O Lord of mankind, O God of mankind.’”
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بخار جہنم کی بھاپ ہے، لہٰذا اسے پانی سے ٹھنڈا کرو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمار کے ایک لڑکے کے پاس تشریف لے گئے ( وہ بیمار تھا ) اور یوں دعا فرمائی: «اكشف الباس رب الناس إله الناس» لوگوں کے رب، لوگوں کے معبود! ( اے اللہ ) تو اس بیماری کو دور فرما ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ " . فَدَخَلَ عَلَى ابْنٍ لِعَمَّارٍ فَقَالَ " اكْشِفِ الْبَاسْ رَبَّ النَّاسْ إِلَهَ النَّاسْ " .
#3474
Sahih
It was narrated from Asma’ bint Abu Bakr that a woman suffering from fever would be brought to her, and she would call for water and pour it onto the neck of her garment. She said:The Prophet (ﷺ) said: “Cool it down with water,” and he said: “It is from the heat of Hell-fire.”
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے پاس بخار کی مریضہ ایک عورت لائی جاتی تھی، تو وہ پانی منگواتیں، پھر اسے اس کے گریبان میں ڈالتیں، اور کہتیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اسے پانی سے ٹھنڈا کرو نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ یہ جہنم کی بھاپ ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا كَانَتْ تُؤْتَى بِالْمَرْأَةِ الْمَوْعُوكَةِ فَتَدْعُو بِالْمَاءِ فَتَصُبُّهُ فِي جَيْبِهَا وَتَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " ابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ " . وَقَالَ " إِنَّهَا مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ " .
#3475
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Fever is one of the bellows of Hell, so avert it from yourselves with cold water.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بخار جہنم کی بھٹیوں میں سے ایک بھٹی ہے لہٰذا اسے ٹھنڈے پانی سے دور کرو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " الْحُمَّى كِيرٌ مِنْ كِيرِ جَهَنَّمَ فَنَحُّوهَا عَنْكُمْ بِالْمَاءِ الْبَارِدِ " .