#3426
Hasan
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“The Messenger of Allah (ﷺ) was brought some milk. On his right was Ibn ‘Abbas and on his left was Khalid bin Walid. The Messenger of Allah (ﷺ) said to Ibn ‘Abbas: ‘Will you permit me to give Khalid to drink?’ Ibn ‘Abbas said: ‘I would not like to give preference to anyone over myself when it comes to the leftover drink of the Messenger of Allah (ﷺ). So Ibn ‘Abbas took it and drank some, then Khalid drank some.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ آیا، اس وقت آپ کے دائیں جانب ابن عباس رضی اللہ عنہما اور بائیں جانب خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا تم مجھے اس کی اجازت دیتے ہو کہ پہلے خالد کو پلاؤں؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوٹھے کے لیے اپنے اوپر کسی کو ترجیح دینا پسند نہیں کرتا، چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لیا، اور پیا، اور پھر خالد رضی اللہ عنہ نے پیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِلَبَنٍ وَعَنْ يَمِينِهِ ابْنُ عَبَّاسٍ وَعَنْ يَسَارِهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لاِبْنِ عَبَّاسٍ " أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَسْقِيَ خَالِدًا " . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا أُحِبُّ أَنْ أُوثِرَ بِسُؤْرِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَلَى نَفْسِي أَحَدًا . فَأَخَذَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَشَرِبَ وَشَرِبَ خَالِدٌ .
#3427
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“When anyone of you drinks, let him not breathe into the vessel. If he wants to continue drinking, let him move the vessel away (in order to breathe) then bring it back, if he wants.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کچھ پئے تو برتن میں سانس نہ لے، اور اگر سانس لینا چاہے تو برتن کو منہ سے علیحدہ کر لے، پھر اگر چاہے تو دوبارہ پئے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا شَرِبَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يَتَنَفَّسْ فِي الإِنَاءِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَعُودَ فَلْيُنَحِّ الإِنَاءَ ثُمَّ لْيَعُدْ إِنْ كَانَ يُرِيدُ " .
#3428
Sahih
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade breathing into the vessel.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ التَّنَفُّسِ فِي الإِنَاءِ .
#3429
Sahih
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade blowing into the vessel.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ يُنْفَخَ فِي الإِنَاءِ .
#3430
Daif
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“The Messenger of Allah (ﷺ) did not blow into his drinks.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مشروب میں پھونک نہیں مارتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَنْفُخُ فِي الشَّرَابِ .
#3431
Daif
It was narrated from ‘Asim bin Muhammad bin Zaid bin ‘Abdullah, from his father, that his grandfather said:“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade us to drink while (lying) on our bellies, lapping up water, and he forbade us to drink from one hand only. He said: ‘None of you should lap up water as a dog does, and he should not drink water from one hand as the people with whom Allah is angry do, and he should not drink from a vessel at night without stirring it first, unless the vessel was covered. Whoever drinks from his hand when he is able to drink from a vessel, with the intention of humility, Allah will record good deeds equivalent to the number of fingers for him. It (i.e., the hand) is the vessel of ‘Eisa bin Maryam, (as) when he threw away the cup and said: ‘Ugh! That belongs to this world.’”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اوندھے منہ پیٹ کے بل لیٹ کر پینے سے منع فرمایا ہے، اور یہی «کرع» ہے، اور ہمیں اس بات سے بھی منع فرمایا کہ ایک ہاتھ سے چلو لیں، اور ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی کتے کی طرح برتن میں منہ نہ ڈالے، اور نہ ایک ہاتھ سے پئے، جیسا کہ وہ لوگ پیا کرتے تھے جن سے اللہ ناراض ہوا، رات میں برتن کو ہلائے بغیر اس میں سے نہ پئے مگر یہ کہ وہ ڈھکا ہوا ہو، اور جو شخص محض عاجزی و انکساری کی وجہ سے اپنے ہاتھ سے پانی پیتا ہے حالانکہ وہ برتن سے پینے کی استطاعت رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کی انگلیوں کی تعداد کے برابر نیکیاں لکھتا ہے، یہی عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا برتن تھا جب انہوں نے یہ کہہ کر پیالہ پھینک دیا: اف! یہ بھی دنیا کا سامان ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ نَشْرَبَ عَلَى بُطُونِنَا وَهُوَ الْكَرْعُ وَنَهَانَا أَنْ نَغْتَرِفَ بِالْيَدِ الْوَاحِدَةِ وَقَالَ " لاَ يَلَغْ أَحَدُكُمْ كَمَا يَلَغُ الْكَلْبُ وَلاَ يَشْرَبْ بِالْيَدِ الْوَاحِدَةِ كَمَا يَشْرَبُ الْقَوْمُ الَّذِينَ سَخِطَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَلاَ يَشْرَبْ بِاللَّيْلِ مِنْ إِنَاءٍ حَتَّى يُحَرِّكَهُ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ إِنَاءً مُخَمَّرًا وَمَنْ شَرِبَ بِيَدِهِ وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَى إِنَاءٍ يُرِيدُ التَّوَاضُعَ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِعَدَدِ أَصَابِعِهِ حَسَنَاتٍ وَهُوَ إِنَاءُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ إِذْ طَرَحَ الْقَدَحَ فَقَالَ أُفٍّ هَذَا مَعَ الدُّنْيَا " .
#3432
Sahih
It was narrated that Jabir bin ‘Abdullah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) entered upon a man among the Ansar when he was watering his garden. The Messenger of Allah (ﷺ) said to him: ‘If you have any water that has been kept overnight in a water skin, then give us some to drink, otherwise we will drink by putting out mouths in the basin.’ He said: ‘I have water that has been kept in a water skin. So he went and we went with him, to the shelter, where he milked a sheep for him and (mixed it with) the water that had been kept overnight in a water skin. He drank from it, then he did likewise for his Companion who was with him.”
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے ایک شخص کے پاس تشریف لے گئے، وہ اپنے باغ میں پانی دے رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: اگر تمہارے پاس مشک میں باسی پانی ہو تو ہمیں پلاؤ، ورنہ ہم بہتے پانی میں منہ لگا کر پئیں گے، اس نے جواب دیا: میرے پاس مشک میں باسی پانی ہے، چنانچہ وہ اور اس کے ساتھ ساتھ ہم چھپر کی طرف گئے، تو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر بکری کا دودھ دوھ کر اس باسی پانی میں ملایا جو مشک میں رکھا ہوا تھا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا، پھر اس نے ایسا ہی آپ کے ساتھ موجود صحابی کے ساتھ کیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَهُوَ يُحَوِّلُ الْمَاءَ فِي حَائِطِهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنْ كَانَ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ فِي شَنٍّ فَاسْقِنَا وَإِلاَّ كَرَعْنَا " . قَالَ عِنْدِي مَاءٌ بَاتَ فِي شَنٍّ . فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْنَا مَعَهُ إِلَى الْعَرِيشِ فَحَلَبَ لَهُ شَاةً عَلَى مَاءٍ بَاتَ فِي شَنٍّ فَشَرِبَ ثُمَّ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ بِصَاحِبِهِ الَّذِي مَعَهُ .
#3433
Daif
It was narrated that Ibn ‘Umar said:“We passed by a pond and we started to lap up water from it. The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Do not lap up the water, rather wash your hands then drink from them, for there is no better vessel than the hand.’”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک حوض کے پاس سے ہمارا گزر ہوا تو ہم منہ لگا کے پانی پینے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منہ لگا کر پانی نہ پیو، بلکہ اپنے ہاتھوں کو دھو لو پھر ان سے پیو، اس لیے کہ ہاتھ سے زیادہ پاکیزہ کوئی برتن نہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ مَرَرْنَا عَلَى بِرْكَةٍ فَجَعَلْنَا نَكْرَعُ فِيهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ تَكْرَعُوا وَلَكِنِ اغْسِلُوا أَيْدِيَكُمْ ثُمَّ اشْرَبُوا فِيهَا فَإِنَّهُ لَيْسَ إِنَاءٌ أَطْيَبَ مِنَ الْيَدِ " .
#3434
Sahih
It was narrated from Abu Qatadah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The oen who serves water to others should be the last one to drink from it.”
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قوم کا ساقی ( پلانے والا ) سب سے آخر میں پیتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " سَاقِي الْقَوْمِ آخِرُهُمْ شُرْبًا " .
#3435
Daif
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“The Messenger of Allah (ﷺ) had a glass cup from which he would drink.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شیشے کا ایک پیالہ تھا جس میں آپ پیتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَدَحٌ مِنْ قَوَارِيرَ يَشْرَبُ فِيهِ .
#3436
Sahih
It was narrated that Usamah bin Sharik said:“I saw the Bedouins asking the Prophet (ﷺ): ‘Is there any harm in such and such, is there any harm in such and such?’ He said to them: ‘O slaves of Allah! Allah has only made harm in that which transgresses the honor of one’s brother. That is what is sinful.’ They said: ‘O Messenger of Allah! Is there any sin if we do not seek treatment?’ He said: ‘Seek treatment, O slaves of Allah! For Allah does not create any disease but He also creates with it the cure, except for old age.’ They said: ‘O Messenger of Allah, what is the best thing that a person may be given?’ He said: ‘Good manners.’”
اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اعرابیوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے دیکھا کہ کیا فلاں معاملے میں ہم پر گناہ ہے؟ کیا فلاں معاملے میں ہم پر گناہ ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے بندو! ان میں سے کسی میں بھی اللہ تعالیٰ نے گناہ نہیں رکھا سوائے اس کے کہ کوئی اپنے بھائی کی عزت سے کچھ بھی کھیلے، تو دراصل یہی گناہ ہے ، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر ہم دوا علاج نہ کریں تو اس میں بھی گناہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے بندو! دوا علاج کرو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسا مرض نہیں بنایا جس کی شفاء اس کے ساتھ نہ بنائی ہو سوائے بڑھاپے کے ، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بندے کو جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہیں ان میں سے سب بہتر چیز کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حسن اخلاق ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاَقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ شَهِدْتُ الأَعْرَابَ يَسْأَلُونَ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَعَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا أَعَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا فَقَالَ لَهُمْ " عِبَادَ اللَّهِ وَضَعَ اللَّهُ الْحَرَجَ إِلاَّ مَنِ اقْتَرَضَ مِنْ عِرْضِ أَخِيهِ شَيْئًا فَذَاكَ الَّذِي حَرَجٌ " . فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ عَلَيْنَا جُنَاحٌ أَنْ نَتَدَاوَى قَالَ " تَدَاوَوْا عِبَادَ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلاَّ وَضَعَ مَعَهُ شِفَاءً إِلاَّ الْهَرَمَ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ الْعَبْدُ قَالَ " خُلُقٌ حَسَنٌ " .
#3437
Daif
It was narrated that Abu Khizamah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) was asked: ‘Do you think that the medicines with which we treat ourselves, the Ruqyah by which we seek healing, and the means of protection that we seek, change the decree of Allah at all?’ He said: ‘They are part of the decree of Allah.’”
ابوخزامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: بتائیے ان دواؤں کے بارے میں جن سے ہم علاج کرتے ہیں، ان منتروں کے بارے میں جن سے ہم جھاڑ پھونک کرتے ہیں، اور ان بچاؤ کی چیزوں کے بارے میں جن سے ہم بچاؤ کرتے ہیں، کیا یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی تقدیر کو کچھ بدل سکتی ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ خود اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں شامل ہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي خِزَامَةَ، عَنْ أَبِي خِزَامَةَ، قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَرَأَيْتَ أَدْوِيَةً نَتَدَاوَى بِهَا وَرُقًى نَسْتَرْقِي بِهَا وَتُقًى نَتَّقِيهَا هَلْ تَرُدُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ شَيْئًا قَالَ " هِيَ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ " .
#3438
Sahih
It was narrated from ‘Abdullah that the Prophet (ﷺ) said:“Allah does not send down any disease, but He also sends down the cure for it.”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی بیماری نہیں اتاری جس کی دوا نہ اتاری ہو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَاءً إِلاَّ أَنْزَلَ لَهُ دَوَاءً " .
#3439
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Allah does not send down any disease, but He also sends down the cure.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی بیماری نہیں اتاری جس کا علاج نہ اتارا ہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَاءً إِلاَّ أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً " .
#3440
Daif
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet (ﷺ) visited a man (who was sick) and said to him:“What do you desire?” He said: “I want wheat bread.” The Prophet (ﷺ) said: “Whoever has wheat bread, let him send it to his brother.” Then the Prophet (ﷺ) said: “When a sick person among you desires something, give it to him.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی عیادت فرمائی، اور اس سے پوچھا: تمہارا کیا کھانے کا جی چاہتا ہے ؟ تو اس نے جواب دیا کہ گیہوں کی روٹی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جس کے پاس گیہوں کی روٹی ہو، وہ اپنے بھائی کے پاس بھیجے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مریض کسی چیز کی خواہش کرے تو وہ اسے کھلائے ۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ هُبَيْرَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مَكِينٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَادَ رَجُلاً فَقَالَ لَهُ " مَا تَشْتَهِي " . فَقَالَ أَشْتَهِي خُبْزَ بُرٍّ . فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ كَانَ عِنْدَهُ خُبْزُ بُرٍّ فَلْيَبْعَثْ إِلَى أَخِيهِ " . ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا اشْتَهَى مَرِيضُ أَحَدِكُمْ شَيْئًا فَلْيُطْعِمْهُ " .
#3441
Daif
It was narrated that Anas bin Malik said:“The Prophet (ﷺ) went to visit a sick person, and said: ‘Do you want anything? Do you want cake?’ He said: ‘Yes.’ So they looked for some for him.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مریض کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، اور اس سے پوچھا: کیا تمہارا جی کسی چیز کی خواہش رکھتا ہے ؟ جواب دیا: میرا جی کیک ( کھانے کو ) چاہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، پھر صحابہ نے اس کے لیے کیک منگوایا ۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَلَى مَرِيضٍ يَعُودُهُ قَالَ " أَتَشْتَهِي شَيْئًا أَتَشْتَهِي كَعْكًا " . قَالَ نَعَمْ . فَطَلَبُوا لَهُ .
#3442
Hasan
It was narrated that Umm Mundhir bint Qais Ansariyyah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) entered upon us, and with him was ‘Ali bin Abu Talib, who had recently recovered from an illness. We had bunches of unripe dates hanging up, and the Prophet (ﷺ) was eating from them. ‘Ali reached out to eat some, and the Prophet (ﷺ) said to ‘Ali: ‘Stop, O ‘Ali! You have just recovered from an illness.’ I made some greens and barley for the Prophet (ﷺ), and the Prophet (ﷺ) said to ‘Ali: ‘O ‘Ali, eat some of this, for it is better for you.’”
ام المنذر بنت قیس انصاریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہمارے یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ کے ساتھ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بھی تھے، وہ اس وقت ایک بیماری کی وجہ سے کمزور ہو گئے تھے، ہمارے پاس کھجور کے خوشے لٹکے ہوئے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے کھا رہے تھے، تو علی رضی اللہ عنہ نے بھی اس میں سے کھانے کے لیے لیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی ٹھہرو! تم بیماری سے کمزور ہو گئے ہو، ام منذر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چقندر اور جو پکائے، تو آپ نے فرمایا: علی! اس میں سے کھاؤ، یہ تمہارے لیے مفید ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، وَأَبُو دَاوُدَ قَالاَ حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ أُمِّ الْمُنْذِرِ بِنْتِ قَيْسٍ الأَنْصَارِيَّةِ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَمَعَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَعَلِيٌّ نَاقِهٌ مِنْ مَرَضٍ وَلَنَا دَوَالِي مُعَلَّقَةٌ وَكَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَأْكُلُ مِنْهَا فَتَنَاوَلَ عَلِيٌّ لِيَأْكُلَ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَهْ يَا عَلِيُّ إِنَّكَ نَاقِهٌ " . قَالَتْ فَصَنَعْتُ لِلنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ سِلْقًا وَشَعِيرًا فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " يَا عَلِيُّ مِنْ هَذَا فَأَصِبْ فَإِنَّهُ أَنْفَعُ لَكَ " .
#3443
Hasan Sahih
It was narrated that Suhaib said:“I came to the Prophet (ﷺ) and in front of him there were some bread and dates. The Prophet (ﷺ) said: ‘Come and eat.’ So I started to eat some of the dates. Then the Prophet (ﷺ) said: ‘Are you eating dates when you have an inflammation in your eye?’ I said: ‘I am chewing from the other side.’ And the Messenger of Allah (ﷺ) smiled.”
صہیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ کے سامنے روٹی اور کھجور رکھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب آؤ اور کھاؤ ، میں کھجوریں کھانے لگا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کھجور کھا رہے ہو حالانکہ تمہاری آنکھ آئی ہوئی ہے ، میں نے عرض کیا: میں دوسری جانب سے چبا رہا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ صَيْفِيٍّ، - مِنْ وَلَدِ صُهَيْبٍ - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، صُهَيْبٍ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَبَيْنَ يَدَيْهِ خُبْزٌ وَتَمْرٌ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " ادْنُ فَكُلْ " . فَأَخَذْتُ آكُلُ مِنَ التَّمْرِ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " تَأْكُلُ تَمْرًا وَبِكَ رَمَدٌ " . قَالَ فَقُلْتُ إِنِّي أَمْضُغُ مِنْ نَاحِيَةٍ أُخْرَى . فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ .
#3444
Hasan
It was narrated from ‘Uqbah bin ‘Amir Al-Juhani that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Do not force your sick ones to eat or drink. Allah will feed them and give them to drink.”
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے مریضوں کو کھانے اور پینے پر مجبور نہ کرو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ انہیں کھلاتا اور پلاتا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ يُونُسَ بْنِ بُكَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ تُكْرِهُوا مَرْضَاكُمْ عَلَى الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ فَإِنَّ اللَّهَ يُطْعِمُهُمْ وَيَسْقِيهِمْ " .
#3445
Daif
It was narrated that ‘Aishah said:“If any of his family members became ill, the Messenger of Allah (ﷺ) would order that some broth be made. And he would say: ‘It consoles the grieving heart and cleanses the ailing heart, as anyone of you cleanses her face of dirt with water.’”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کو جب بخار آتا تو آپ حریرہ کھانے کا حکم دیتے، اور فرماتے: یہ غمگین کے دل کو سنبھالتا ہے، اور بیمار کے دل سے اسی طرح رنج و غم دور کر دیتا ہے جس طرح کہ تم میں سے کوئی عورت اپنے چہرے سے میل کو پانی سے دور کر دیتی ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ بْنِ بَرَكَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا أَخَذَ أَهْلَهُ الْوَعْكُ أَمَرَ بِالْحَسَاءِ . قَالَتْ وَكَانَ يَقُولُ " إِنَّهُ لَيَرْتُو فُؤَادَ الْحَزِينِ وَيَسْرُو عَنْ فُؤَادِ السَّقِيمِ كَمَا تَسْرُو إِحْدَاكُنَّ الْوَسَخَ عَنْ وَجْهِهَا بِالْمَاءِ " .
#3446
Daif Isnaad
It was narrated from ‘Aishah that the Prophet (ﷺ) said:“You should eat the beneficial thing that is unpleasant to eat: Talbinah,” meaning broth. If any member of the family of the Messenger of Allah (ﷺ) was sick, the cooking pot would remain on the fire until one of two things happened, either the person recovered or died
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایک ایسی چیز کو لازماً کھاؤ جس کو دل نہیں چاہتا، لیکن وہ نفع بخش ہے یعنی حریرہ چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں میں سے کوئی بیمار ہوتا تو ہانڈی برابر چولھے پر چڑھی رہتی یعنی حریرہ تیار رہتا یہاں تک کہ دو میں سے کوئی ایک بات ہوتی یعنی یا تو وہ شفاء یاب ہو جاتا یا انتقال کر جاتا ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَيْمَنَ بْنِ نَابِلٍ، عَنِ امْرَأَةٍ، مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالَ لَهَا كَلْثَمُ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " عَلَيْكُمْ بِالْبَغِيضِ النَّافِعِ التَّلْبِينَةِ " . يَعْنِي الْحَسَاءَ . قَالَتْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا اشْتَكَى أَحَدٌ مِنْ أَهْلِهِ لَمْ تَزَلِ الْبُرْمَةُ عَلَى النَّارِ حَتَّى يَنْتَهِيَ أَحَدُ طَرَفَيْهِ . يَعْنِي يَبْرَأُ أَوْ يَمُوتُ .
#3447
Sahih
Abu Hurairah narrated that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) say:“In black seed there is healing for every disease, except the Sam.” "Sam means death. And black seed is Shuwniz
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: کلونجی میں ہر مرض کا علاج ہے، سوائے «سام» کے، اور «سام»موت ہے، اور کالا دانہ «شونیز» یعنی کلونجی ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْمِصْرِيَّانِ، قَالاَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُمَا أَنَّهُ، سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " إِنَّ فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلاَّ السَّامَ " . وَالسَّامُ الْمَوْتُ . وَالْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ الشُّونِيزُ .
#3448
Sahih
It was narrated that ‘Uthman bin ‘Abdul-Malik said:“I heard Salim bin ‘Abdullah narrating from his father that the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘You should eat this black seed, for in it there is healing from every disease, except the Sam (death).’”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کالے دانے کا استعمال پابندی سے کرو اس لیے کہ اس میں سوائے موت کے ہر مرض کا علاج ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ فَإِنَّ فِيهَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلاَّ السَّامَ " .
#3449
Sahih
It was narrated that Khalid bin Sa’d said:“We went out and with us was Ghalib bin Abjar. He fell sick along the way, and when we came to Al-Madinah he was sick. Ibn Abu ‘Atiq came to visit him and said to us: ‘You should use this black seed. Take five or seven (seeds) and grind them to a powder, then drop them into his nose with drops of olive oil, on this side and on this side. For ‘Aishah narrated to them that she heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “This black seed is a healing for every disease, except the Sam.” I said: “What is the Sam?” He said: “Death.”
خالد بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم سفر پر نکلے، ہمارے ساتھ غالب بن ابجر بھی تھے، وہ راستے میں بیمار پڑ گئے، پھر ہم مدینہ آئے، ابھی وہ بیمار ہی تھے، تو ان کی عیادت کے لیے ابن ابی عتیق آئے، اور ہم سے کہا: تم اس کالے دانے کا استعمال اپنے اوپر لازم کر لو، تم اس کے پانچ یا سات دانے لو، انہیں پیس لو پھر زیتون کے تیل میں ملا کر چند قطرے ان کی ناک میں ڈالو، اس نتھنے میں بھی اور اس نتھنے میں بھی، اس لیے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کالے دانے یعنی کلونجی میں ہر مرض کا علاج ہے، سوائے اس کے کہ وہ «سام» ہو ، میں نے عرض کیا کہ «سام» کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موت ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ خَرَجْنَا وَمَعَنَا غَالِبُ بْنُ أَبْجَرَ فَمَرِضَ فِي الطَّرِيقِ فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَهُوَ مَرِيضٌ فَعَادَهُ ابْنُ أَبِي عَتِيقٍ وَقَالَ لَنَا عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ فَخُذُوا مِنْهَا خَمْسًا أَوْ سَبْعًا فَاسْحَقُوهَا ثُمَّ اقْطُرُوهَا فِي أَنْفِهِ بِقَطَرَاتِ زَيْتٍ فِي هَذَا الْجَانِبِ وَفِي هَذَا الْجَانِبِ فَإِنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُمْ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " إِنَّ هَذِهِ الْحَبَّةَ السَّوْدَاءَ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ السَّامُ " . قُلْتُ وَمَا السَّامُ قَالَ " الْمَوْتُ " .
#3450
Daif
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever eats honey three mornings each month, will not suffer any serious calamity.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ہر ماہ تین روز صبح کے وقت شہد چاٹ لیا کرے، وہ کسی بڑی آفت بیماری سے دو چار نہ ہو گا ۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَاشِمِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ لَعِقَ الْعَسَلَ ثَلاَثَ غَدَوَاتٍ كُلَّ شَهْرٍ لَمْ يُصِبْهُ عَظِيمٌ مِنَ الْبَلاَءِ " .