#3001
Daif
It was narrated from Umm Salamah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever begins the Talbiyah for ‘Umrah from Baitul-Maqdis, will be forgiven.”
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے بیت المقدس سے عمرہ کا تلبیہ پکارا اس کو بخش دیا جائے گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ، عَنْ أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ أُمَيَّةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ غُفِرَ لَهُ " .
#3002
Daif
It was narrated from Umm Salamah, the wife of the Prophet (ﷺ), that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever begins the Talbiyah for ‘Umrah from Baitul-Maqdis, that will be an expiation for all his previous sins.” She said: “So I went out.” Meaning, from Baitul-Maqdis for ‘Umrah
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے بیت المقدس سے عمرہ کا تلبیہ پکارا یہ اس کے پہلے گناہوں کا کفارہ ہو گا ، تو میں بیت المقدس سے عمرہ کے لیے نکلی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ أُمَيَّةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ كَانَتْ لَهُ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهَا مِنَ الذُّنُوبِ " . قَالَتْ فَخَرَجْتُ - أَىْ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ - بِعُمْرَةٍ .
#3003
Sahih
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“The Messenger of Allah (ﷺ) performed ‘Umrah four times: The ‘Umrah of Hudaibiyah, the ‘Umrah to make up for (the one not completed previously), the third from Ji’ranah and the fourth that he did with his Hajj.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے: عمرہ حدیبیہ، عمرہ قضاء جو دوسرے سال کیا، تیسرا عمرہ جعرانہ سے، اور چوتھا جو حج کے ساتھ کیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّافِعِيُّ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَرْبَعَ عُمَرٍ عُمْرَةَ الْحُدَيْبِيَةِ وَعُمْرَةَ الْقَضَاءِ مِنْ قَابِلٍ وَالثَّالِثَةَ مِنَ الْجِعْرَانَةِ وَالرَّابِعَةَ الَّتِي مَعَ حَجَّتِهِ .
#3004
Sahih
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) prayed in Mina, on the Day of Tarwiyah (the 8th of Dhul-Hijjah), Zuhr, ‘Asr, Maghrib, ‘Isha’ and Fajr, then he went in the morning to ‘Arafat
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم الترویہ ( آٹھویں ذی الحجہ ) کو منیٰ میں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں پڑھیں، پھر نویں ( ذی الحجہ ) کی صبح کو عرفات تشریف لے گئے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ صَلَّى بِمِنًى يَوْمَ التَّرْوِيَةِ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَالْفَجْرَ ثُمَّ غَدَا إِلَى عَرَفَةَ .
#3005
Hasan
It was narrated from Ibn ‘Umar that he used to pray all five prayers in Mina, then he would tell them that the Messenger of Allah (ﷺ) used to do that
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ پانچ وقت کی نماز منیٰ میں پڑھتے تھے، پھر انہیں بتاتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ بِمِنًى ثُمَّ يُخْبِرُهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ .
#3006
Daif
It was narrated that ‘Aishah said:‘I said: ‘O Messenger of Allah, should we not build you a house in Mina?’ He said: ‘No, Mina is just a stopping place for those who get there first.’”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے لیے منیٰ میں گھر نہ بنا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، منیٰ اس کی جائے قیام ہے جو پہلے پہنچ جائے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ نَبْنِي لَكَ بِمِنًى بَيْتًا قَالَ " لاَ مِنًى مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ " .
#3007
Daif
It was narrated that ‘Aishah said:“We said: ‘O Messenger of Allah, should we not build you a house in Mina that will be a means of shade for you?’ He said: ‘No, Mina is just a stopping place for those who get there first.’”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم منیٰ میں آپ کے لیے ایک گھر نہ بنا دیں جو آپ کو سایہ دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، منیٰ اس کی جائے قیام ہے جو پہلے پہنچ جائے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ أُمِّهِ، مُسَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ نَبْنِي لَكَ بِمِنًى بُنْيَانًا يُظِلُّكَ قَالَ " لاَ مِنًى مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ " .
#3008
Sahih
It was narrated that Anas said:“We went in the morning on this day with the Messenger of Allah (ﷺ) from Mina to ‘Arafat. Some of us recited the Takbir (Allahu Akbar) and some of us recited the Tahlil (La ilaha illallah), and neither criticized the other.”
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ سے عرفات کے لیے چلے، تو ہم میں سے کچھ لوگ اللہ اکبر کہتے تھے اور کچھ لوگ لبیک پکارتے تھے، تو اس نے نہ اس پر عیب لگایا اور نہ اس نے اس پر، اور بسا اوقات انہوں نے یوں کہا: نہ انہوں نے ان لوگوں پر عیب لگایا، اور نہ ان لوگوں نے ان پر
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ غَدَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي هَذَا الْيَوْمِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ فَمِنَّا مَنْ يُكَبِّرُ وَمِنَّا مَنْ يُهِلُّ فَلَمْ يَعِبْ هَذَا عَلَى هَذَا وَلاَ هَذَا عَلَى هَذَا - وَرُبَّمَا قَالَ هَؤُلاَءِ عَلَى هَؤُلاَءِ وَلاَ هَؤُلاَءِ عَلَى هَؤُلاَءِ .
#3009
Hasan
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) used to stop at ‘Arafat in Namirah Valley. When Hajjaj killed Ibn Zubair, he sent word to Ibn ‘Umar asking:“At what hour did the Prophet (ﷺ) go out on this day?” He said: “When that time comes, we will go out.” So Hajjah sent a man to watch for the time when they went out. When Ibn ‘Umar wanted to set out, he said: “Has the sun passed the zenith?” They said: “It has not passed the zenith yet.” So he sat down. Then he said: “Has the sun passed the zenith?” They said: “It has not passed the zenith yet.” So he sat down. Then he said: “Has the sun passed the zenith?” They said: “Yes.” When they said that it had passed the zenith, he set out
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات کی وادی نمرہ میں ٹھہرتے، راوی کہتے ہیں: جب حجاج نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو قتل کیا، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس یہ پوچھنے کے لیے آدمی بھیجا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آج کے دن کس وقت ( نماز اور خطبہ کے لیے ) نکلتے تھے؟ انہوں نے کہا: جب یہ وقت آئے گا تو ہم خود چلیں گے، حجاج نے ایک آدمی کو بھیجا کہ وہ دیکھتا رہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کب نکلتے ہیں؟ جب ابن عمر رضی اللہ عنہما نے چلنے کا ارادہ کیا، تو پوچھا: کیا سورج ڈھل گیا؟ لوگوں نے کہا: ابھی نہیں ڈھلا ہے، تو وہ بیٹھ گئے، پھر پوچھا: کیا اب ڈھل گیا؟ لوگوں نے کہا: ابھی نہیں ڈھلا ہے، پھر آپ بیٹھ گئے، پھر آپ نے کہا: کیا اب ڈھل گیا؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو جب لوگوں نے کہا: ہاں، تو وہ چلے۔ وکیع نے «ارتحل» کا معنی «راح» ( چلے ) بتایا ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، أَنْبَأَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يَنْزِلُ بِعَرَفَةَ فِي وَادِي نَمِرَةَ . قَالَ فَلَمَّا قَتَلَ الْحَجَّاجُ ابْنَ الزُّبَيْرِ أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ أَىَّ سَاعَةٍ كَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَرُوحُ فِي هَذَا الْيَوْمِ قَالَ إِذَا كَانَ ذَلِكَ رُحْنَا . فَأَرْسَلَ الْحَجَّاجُ رَجُلاً يَنْظُرُ إِلَى سَاعَةِ يَرْتَحِلُ . فَلَمَّا أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ أَنْ يَرْتَحِلَ قَالَ أَزَاغَتِ الشَّمْسُ قَالُوا لَمْ تَزِغْ بَعْدُ . فَجَلَسَ ثُمَّ قَالَ أَزَاغَتِ الشَّمْسُ قَالُوا لَمْ تَزِغْ بَعْدُ . فَجَلَسَ ثُمَّ قَالَ أَزَاغَتِ الشَّمْسُ قَالُوا لَمْ تَزِغْ بَعْدُ . فَجَلَسَ ثُمَّ قَالَ أَزَاغَتِ الشَّمْسُ قَالُوا نَعَمْ . فَلَمَّا قَالُوا قَدْ زَاغَتِ ارْتَحَلَ . قَالَ وَكِيعٌ يَعْنِي رَاحَ .
#3010
Sahih
It was narrated that ‘Ali said:“The Messenger of Allah (ﷺ) stopped at ‘Arafat and said: ‘This is the place of standing, and all of ‘Arafat is a place of standing.’”
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں وقوف کیا، اور فرمایا: یہ جگہ اور سارا عرفات ٹھہرنے کی جگہ ہے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِعَرَفَةَ فَقَالَ " هَذَا الْمَوْقِفُ وَعَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ " .
#3011
Sahih
It was narrated that Yazid bin Shaiban said:“We were standing in a place that was far from the place of standing. Ibn Mirba’ came to us and said: ‘I am the messenger of the Messenger of Allah (ﷺ) to you. He said: “Stay where you are today for today you are on the legacy of Ibrahim.’”
یزید بن شیبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم عرفات میں ایک جگہ ٹھہرے ہوئے تھے، جس کو ہم موقف ( ٹھہرنے کی جگہ ) سے دور سمجھ رہے تھے، اتنے میں ہمارے پاس ابن مربع آئے اور کہنے لگے: میں تمہارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد بن کر آیا ہوں، آپ فرما رہے ہیں: تم لوگ اپنی اپنی جگہوں پر رہو، کیونکہ تم آج ابراہیم علیہ السلام کے وارث ہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَيْبَانَ، قَالَ كُنَّا وُقُوفًا فِي مَكَانٍ تُبَاعِدُهُ مِنَ الْمَوْقِفِ فَأَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ فَقَالَ إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِلَيْكُمْ يَقُولُ " كُونُوا عَلَى مَشَاعِرِكُمْ فَإِنَّكُمُ الْيَوْمَ عَلَى إِرْثٍ مِنْ إِرْثِ إِبْرَاهِيمَ " .
#3012
Sahih
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“All of ‘Arafat is the place of standing, but keep away from the interior of ‘Uranah. And all of Muzdalifah is the place of standing but keep away from the interior of Muhassir. And all of Mina is the place of sacrifice, except for what is beyond ‘Aqaba.”
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پورا عرفات جائے وقوف ہے، اور بطن عرفہ سے اٹھ جاؤ یعنی وہاں نہ ٹھہرو، اور پورا ( مزدلفہ ) ٹھہرنے کی جگہ ہے، اور بطن محسر سے اٹھ جاؤ یعنی وہاں نہ ٹھہرو، اور پورا منٰی منحر ( مذبح ) ہے، سوائے جمرہ عقبہ کے پیچھے کے ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " كُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ وَارْفَعُوا عَنْ بَطْنِ عُرَنَةَ وَكُلُّ الْمُزْدَلِفَةِ مَوْقِفٌ وَارْفَعُوا عَنْ بَطْنِ مُحَسِّرٍ وَكُلُّ مِنًى مَنْحَرٌ إِلاَّ مَا وَرَاءَ الْعَقَبَةِ " .
#3013
Daif
‘Abdullah bin Kinanah bin ‘Abbas bin Mirdas As-Sulami narrated that his father told him, from his father, that the Messenger of Allah (ﷺ) prayed for forgiveness for his nation one evening at ‘Arafat, and the response came:“I have forgiven them, except for the wrongdoer, with whom I will settle the score in favor of the one whom he wronged.” He said: “O Lord, if You will, then grant Paradise to the one who is wronged, and forgive the wrongdoer.” No response came (that evening).The next day at Muzdalifah he repeated the supplication, and received a response to what he asked for. He (the narrator) said: “The Messenger of Allah (ﷺ) laughed,” or he said, “He smiled. Abu Bakr and ‘Umar said to him: ‘May my father and mother be ransomed for you, this is not a time when you usually laugh. What made you laugh, may Allah make your years filled with laughter?’ He said: ‘The enemy of Allah, Iblis, when he came to know that Allah answered my prayer and forgiven my nation, took some dust and started to sprinkle it on his head, uttering cries of woe and doom, and what I saw of his anguish made me laugh.’”
عباس بن مرداس سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کی شام کو اپنی امت کی مغفرت کی دعا کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب ملا کہ میں نے انہیں بخش دیا، سوائے ان کے جو ظالم ہوں، اس لیے کہ میں اس سے مظلوم کا بدلہ ضرور لوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے رب! اگر تو چاہے تو مظلوم کو جنت دے اور ظالم کو بخش دے ، لیکن اس شام کو آپ کو جواب نہیں ملا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں صبح کی تو پھر یہی دعا مانگی، آپ کی درخواست قبول کر لی گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے یا مسکرائے، پھر آپ سے ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: ہمارے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، یہ ایسا وقت ہے کہ آپ اس میں ہنستے نہیں تھے تو آپ کو کس چیز نے ہنسایا؟ اللہ آپ کو ہنساتا ہی رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے دشمن ابلیس کو جب معلوم ہوا کہ اللہ نے میری دعا قبول فرما لی ہے، اور میری امت کو بخش دیا ہے، تو وہ مٹی لے کر اپنے سر پر ڈالنے لگا اور کہنے لگا: ہائے خرابی، ہائے تباہی! جب میں نے اس کا یہ تڑپنا دیکھا تو مجھے ہنسی آ گئی ۔
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَاشِمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ السَّرِيِّ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كِنَانَةَ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ مِرْدَاسٍ السُّلَمِيُّ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ دَعَا لأُمَّتِهِ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ بِالْمَغْفِرَةِ فَأُجِيبَ إِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ مَا خَلاَ الظَّالِمَ فَإِنِّي آ��ُذُ لِلْمَظْلُومِ مِنْهُ . قَالَ " أَىْ رَبِّ إِنْ شِئْتَ أَعْطَيْتَ الْمَظْلُومَ مِنَ الْجَنَّةِ وَغَفَرْتَ لِلظَّالِمِ " . فَلَمْ يُجَبْ عَشِيَّتَهُ فَلَمَّا أَصْبَحَ بِالْمُزْدَلِفَةِ أَعَادَ الدُّعَاءَ فَأُجِيبَ إِلَى مَا سَأَلَ . قَالَ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ . أَوْ قَالَ تَبَسَّمَ . فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي إِنَّ هَذِهِ لَسَاعَةٌ مَا كُنْتَ تَضْحَكُ فِيهَا فَمَا الَّذِي أَضْحَكَكَ أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ قَالَ " إِنَّ عَدُوَّ اللَّهِ إِبْلِيسَ لَمَّا عَلِمَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدِ اسْتَجَابَ دُعَائِي وَغَفَرَ لأُمَّتِي أَخَذَ التُّرَابَ فَجَعَلَ يَحْثُوهُ عَلَى رَأْسِهِ وَيَدْعُو بِالْوَيْلِ وَالثُّبُورِ فَأَضْحَكَنِي مَا رَأَيْتُ مِنْ جَزَعِهِ " .
#3014
Sahih
It was narrated from Ibn Musayyab that ‘Aishah said that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“There is no day on which Allah ransoms more slaves from the Fire than the Day of ‘Arafah. He draws closer and closer, then He boasts about them before the angels and says: ‘What do these people want?’”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جتنا عرفہ کے دن اپنے بندوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے اتنا کسی اور دن نہیں، اللہ تعالیٰ قریب ہو جاتا ہے، اور ان کی وجہ سے فرشتوں پر فخر کرتا ہے، اور فرماتا ہے: میرے ان بندوں نے کیا چا ہا ؟ ۱؎۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْمِصْرِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ يُوسُفَ، يَقُولُ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ وَإِنَّهُ لَيَدْنُو عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ يُبَاهِي بِهِمُ الْمَلاَئِكَةَ فَيَقُولُ مَا أَرَادَ هَؤُلاَءِ " .
#3015
Sahih
Sufyan bin Bukair bin ‘Ata’ said:“I heard ‘Abdur-Rahman bin Ya’mur Dili say: ‘I saw the Messenger of Allah (ﷺ) when he was standing at ‘Arafat, and some people from Najd came to him and said: “O Messenger of Allah, what is Hajj?” He said: “Hajj is ‘Arafah. Whoever comes before Fajr prayer on the night of Jam’, he has completed his Hajj. The days at Mina are three. ‘But whosoever hastens to leave in two days, there is no sin on him and whosoever stays on, there is no sin on him.’” [2:203] Then he seated a man behind him on his mount and he started calling out these words.’” Another chain reports a similar hadith
عبدالرحمن بن یعمر دیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ عرفات میں وقوف فرما تھے، اہل نجد میں سے کچھ لوگوں آپ کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! حج کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج عرفات میں وقوف ہے، جو مزدلفہ کی رات فجر سے پہلے عرفات میں آ جائے اس کا حج پورا ہو گیا، اور منیٰ کے تین دن ہیں ( گیارہ بارہ اور تیرہ ذی الحجہ ) ، جو جلدی کرے اور دو دن کے بعد بارہ ذی الحجہ ہی کو چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، اور جو تیسرے دن بھی رکا رہے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنے پیچھے سوار کر لیا، وہ ان باتوں کا اعلان کر رہا تھا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَعْمُرَ الدِّيلِيَّ، قَالَ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَهُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ وَأَتَاهُ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ الْحَجُّ قَالَ " الْحَجُّ عَرَفَةُ فَمَنْ جَاءَ قَبْلَ صَلاَةِ الْفَجْرِ لَيْلَةَ جَمْعٍ فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ أَيَّامُ مِنًى ثَلاَثَةٌ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلاَ إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلاَ إِثْمَ عَلَيْهِ " . ثُمَّ أَرْدَفَ رَجُلاً خَلْفَهُ فَجَعَلَ يُنَادِي بِهِنَّ . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمُرَ الدِّيلِيِّ، قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِعَرَفَةَ فَجَاءَهُ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ . قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى مَا أُرَى لِلثَّوْرِيِّ حَدِيثًا أَشْرَفَ مِنْهُ .
#3016
Sahih
It was narrated from ‘Urwah bin Mudarris At-Ta’i that he performed Hajj during the time of the Messenger of Allah (ﷺ), and he did not catch up with the people until they were at Jam’ (Al-Muzdalifah). He said:“I came to the Prophet (ﷺ) and said: ‘O Messenger of Allah, I have made my camel lean (because of the long journey) and I have worn myself out. By Allah, there is no sand hill on which I did not stand. Have I performed Hajj?’ The Prophet (ﷺ) said: ‘Whoever attended the prayer (i.e., Fajr at Muzdalifah) with us and departed from ‘Arafat, by night or day, may remove the dirt and has completed his Hajj.’”
عروہ بن مضرس طائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں حج کیا، تو اس وقت پہنچے جب لوگ مزدلفہ میں تھے، وہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اپنی اونٹنی کو لاغر کر دیا اور اپنے آپ کو تھکا ڈالا، اور قسم اللہ کی! میں نے کوئی ایسا ٹیلہ نہیں چھوڑا، جس پر نہ ٹھہرا ہوں، تو کیا میرا حج ہو گیا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ہمارے ساتھ نماز میں حاضر رہا ہو، اور عرفات میں ٹھہر کر دن یا رات میں لوٹے، تو اس نے اپنا میل کچیل دور کر لیا، اور اس کا حج پورا ہو گیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، - يَعْنِي الشَّعْبِيَّ - عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ الطَّائِيِّ، أَنَّهُ حَجَّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَلَمْ يُدْرِكِ النَّاسَ إِلاَّ وَهُمْ بِجَمْعٍ . قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَنْضَيْتُ رَاحِلَتِي وَأَتْعَبْتُ نَفْسِي وَاللَّهِ إِنْ تَرَكْتُ مِنْ حَبْلٍ إِلاَّ وَقَفْتُ عَلَيْهِ فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ شَهِدَ مَعَنَا الصَّلاَةَ وَأَفَاضَ مِنْ عَرَفَاتٍ لَيْلاً أَوْ نَهَارًا فَقَدْ قَضَى تَفَثَهُ وَتَمَّ حَجُّهُ " .
#3017
Sahih
It was narrated from Usamah bin Zaid that he was asked:“How did the Messenger of Allah (ﷺ) travel when he departed from ‘Arafat?” He said: “He moved at a quick pace, and when he reached an open space he would make his camel run.”
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے پوچھا گیا: عرفات سے لوٹتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے چلتے تھے؟ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم«عنق» کی چال ( تیز چال ) چلتے، اور جب خالی جگہ پاتے تو «نص» کرتے یعنی دوڑتے۔ وکیع کہتے ہیں کہ «عنق» سے زیادہ تیز چال کو «نص» کہتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ سُئِلَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَسِيرُ حِينَ دَفَعَ مِنْ عَرَفَةَ قَالَ كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ . قَالَ وَكِيعٌ وَالنَّصُّ يَعْنِي فَوْقَ الْعَنَقِ .
#3018
Sahih
It was narrated that ‘Aishah said:“The Quraish said: ‘We are the neighbors of the House and we do not leave the sanctuary.’ Allah said: ‘Then depart from the place whence all the people depart.’” [2:]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: قریش کہتے تھے کہ ہم بیت اللہ کے رہنے والے ہیں، حرم کے باہر نہیں جاتے ۱؎، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ: «ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس» پھر تم بھی وہیں سے لوٹو جہاں سے اور لوگ لوٹتے ہیں ( یعنی عرفات سے ) اتاری۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَتْ قُرَيْشٌ نَحْنُ قَوَاطِنُ الْبَيْتِ لاَ نُجَاوِزُ الْحَرَمَ . فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ } .
#3019
Sahih
It was narrated that Usamah bin Zaid said:“I departed from ‘Arafat with the Messenger of Allah (ﷺ), and when he reached the mountain path at which the chiefs would dismount, he dismounted and urinated, then performed ablution. I said: ‘(Is it time for) prayer?’ He said: ‘The prayer is still ahead of you.’ When he reached Jam’ (Muzdalifah) he called the Adhan and Iqamah, then he prayed Maghrib. Then no one among the people unloaded (the camels) until he had prayed ‘Isha’.”
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفات سے لوٹا، جب آپ اس گھاٹی پر آئے جہاں امراء اترتے ہیں، تو آپ نے اتر کر پیشاب کیا، پھر وضو کیا، تو میں نے عرض کیا: نماز ( پڑھ لی جائے ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز تمہارے آگے ( پڑھی جائے گی ) پھر جب مزدلفہ میں پہنچے تو اذان دی، اقامت کہی، اور مغرب پڑھی، پھر کسی نے اپنا کجاوہ بھی نہیں کھولا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور عشاء پڑھی
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ أَفَضْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَلَمَّا بَلَغَ الشِّعْبَ الَّذِي يَنْزِلُ عِنْدَهُ الأُمَرَاءُ نَزَلَ فَبَالَ وَتَوَضَّأَ قُلْتُ الصَّلاَةَ . قَالَ " الصَّلاَةُ أَمَامَكَ " . فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى جَمْعٍ أَذَّنَ وَأَقَامَ ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ لَمْ يَحِلَّ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ حَتَّى قَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ .
#3020
Sahih
It was narrated from ‘Abdullah bin Yazid Al-Khatmi that he heard Abu Ayyub Al-Ansari say:“I prayed Maghrib and ‘Isha’ with the Messenger of Allah (ﷺ) during the Farewell Pilgrimage, at Muzdalifah.”
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب اور عشاء مزدلفہ میں پڑھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ فِي حِجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْمُزْدَلِفَةِ .
#3021
Sahih
It was narrated from ‘Ubaidullah, from Salim, from his father, that the Prophet (ﷺ) prayed Maghrib at Muzdalifah. When we halted he said:“Prayer should be done with Iqamah.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلیاللہ علیہ وسلم نے مغرب مزدلفہ میں پڑھی، پھر جب ہم نے اپنے اونٹوں کو بٹھا دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اقامت کہہ کر عشاء پڑھو ۔
حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ صَلَّى الْمَغْرِبَ بِالْمُزْدَلِفَةِ فَلَمَّا أَنَخْنَا قَالَ " الصَّلاَةُ بِإِقَامَةٍ " .
#3022
Sahih
It was narrated that ‘Amr bin Maimun said:“We performed Hajj with ‘Umar bin Khattab, and when we wanted to depart from Muzdalifah, he said: ‘The idolators used to say: “May the sun rise over you, O Thabir!* So that we may begin our journey (to Mina),” and they did not depart until the sun had risen.’ So the Messenger of Allah (ﷺ) differed from them by departing before the sun rose.”
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ ہم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا، تو جب ہم نے مزدلفہ سے لوٹنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے کہا: مشرکین کہا کرتے تھے: اے کوہ ثبیر! روشن ہو جا، تاکہ ہم جلد چلے جائیں، اور جب تک سورج نکل نہیں آتا تھا وہ نہیں لوٹتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خلاف کیا، آپ سورج نکلنے سے پہلے ہی مزدلفہ سے چل پڑے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ حَجَجْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَلَمَّا أَرَدْنَا أَنْ نُفِيضَ، مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ قَالَ إِنَّ الْمُشْرِكِينَ كَانُوا يَقُولُونَ أَشْرِقْ ثَبِيرُ كَيْمَا نُغِيرُ . وَكَانُوا لاَ يُفِيضُونَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَخَالَفَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَفَاضَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ .
#3023
Sahih
Jabir said:“The Messenger of Allah (ﷺ) departed during the Farewell Pilgrimage in a tranquil manner, and he urged them to be tranquil. He told them to throw small pebbles. He hastened through Muhassir Valley, and said: ‘Let my nation learn its rites (of Hajj), for I do not know, perhaps I will not meet them again after this year.’”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں مزدلفہ سے اطمینان کے ساتھ لوٹے، اور لوگوں کو بھی اطمینان کے ساتھ چلنے کا حکم دیا، اور حکم دیا کہ وہ ایسی کنکریاں ماریں جو دونوں انگلیوں کے درمیان آ سکیں، اور وادی محسر، میں آپ نے سواری کو تیز چلایا اور فرمایا: میری امت کے لوگ حج کے احکام سیکھ لیں، کیونکہ مجھے نہیں معلوم شاید اس سال کے بعد میں ان سے نہ مل سکوں ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، قَالَ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ جَابِرٌ أَفَاضَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ وَأَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ . وَقَالَ " لِتَأْخُذْ أُمَّتِي نُسُكَهَا فَإِنِّي لاَ أَدْرِي لَعَلِّي لاَ أَلْقَاهُمْ بَعْدَ عَامِي هَذَا " .
#3024
Sahih
It was narrated from Bilal bin Rabah that the Prophet (ﷺ) said to him, on the morning of Jama’:“O Bilal, calm the people down,” or “make them be quiet.” Then he said: “Allah has been very gracious to you in this Jam’ of yours. He has forgiven the wrongdoers among you because of the righteous among you, and He has given the righteous among you whatever they ask. Move on in the Name of Allah.”
بلال بن رباح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ کی صبح کو ان سے فرمایا: بلال! لوگوں کو خاموش کرو ، پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تم پر بہت فضل کیا، تمہارے اس مزدلفہ میں تم میں گنہگار کو نیکوکار کے بدلے بخش دیا، اور نیکوکار کو وہ دیا جو اس نے مانگا، اب اللہ کا نام لے کر لوٹ چلو ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ الْحِمْصِيِّ، عَنْ بِلاَلِ بْنِ رَبَاحٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ لَهُ غَدَاةَ جَمْعٍ " يَا بِلاَلُ أَسْكِتِ النَّاسَ " . أَوْ " أَنْصِتِ النَّاسَ " . ثُمَّ قَالَ " إِنَّ اللَّهَ تَطَوَّلَ عَلَيْكُمْ فِي جَمْعِكُمْ هَذَا فَوَهَبَ مُسِيئَكُمْ لِمُحْسِنِكُمْ وَأَعْطَى مُحْسِنَكُمْ مَا سَأَلَ ادْفَعُوا بِاسْمِ اللَّهِ " .
#3025
Sahih
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“We youngsters from the clan of ‘Abdul-Muttalib came to the Messenger of Allah (ﷺ), from Jam’, on donkeys of ours. He started striking our thighs and saying: ‘O my sons, do not stone the Pillar until the sun rises.’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ سے عبدالمطلب کی اولاد میں سے ہم چھوٹے بچوں کو ہماری اپنی گدھیوں پر پہلے ہی روانہ کر دیا، آپ ہماری رانوں پر آہستہ سے مارتے تھے، اور فرماتے تھے: میرے بچو! سورج نکلنے سے پہلے کنکریاں نہ مارنا ۱؎۔ سفیان نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے: میں نہیں سمجھتا کہ سورج نکلنے سے پہلے کوئی کنکریاں مارتا ہو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، وَسُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَدَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أُغَيْلِمَةَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَى حُمُرَاتٍ لَنَا مِنْ جَمْعٍ فَجَعَلَ يَلْطَحُ أَفْخَاذَنَا وَيَقُولُ " أُبَيْنِيَّ لاَ تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ " . زَادَ سُفْيَانُ فِيهِ " وَلاَ إِخَالُ أَحَدًا يَرْمِيهَا حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ " .