#2976
Sahih
‘Umar bin Khattab said:I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say, when he was in ‘Aqiq: “Someone came to me from my Lord and said: ‘Pray in this blessed valley and say: (I intend to do) ‘Umrah in Hajj.’”
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وادی عقیق ۱؎ میں فرماتے سنا: میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا، اور اس نے کہا: اس مبارک وادی میں نماز پڑھو اور کہو: یہ عمرہ ہے حج میں ( یہ الفاظ دحیم کے ہیں ) ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، - يَعْنِي دُحَيْمًا - حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ وَهُوَ بِالْعَقِيقِ " أَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي فَقَالَ صَلِّ فِي هَذَا الْوَادِي الْمُبَارَكِ وَقُلْ عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ " . وَاللَّفْظُ لِدُحَيْمٍ .
#2977
Sahih
It was narrated that Suraqah bin Ju’shum said:“The Messenger of Allah (ﷺ) stood up to deliver a speech in this valley, and said: ‘Lo! ‘Umrah has been included in Hajj until the Day of Resurrection.”
سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وادی میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: آگاہ رہو، عمرہ حج میں قیامت تک کے لیے داخل ہو گیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ جُعْشُمٍ، قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ خَطِيبًا فِي هَذَا الْوَادِي فَقَالَ " أَلاَ إِنَّ الْعُمْرَةَ قَدْ دَخَلَتْ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
#2978
Sahih
It was narrated that Mutarrif bin ‘Abdullah bin Shikhkhir said:“Imran bin Husain said to me: ‘I will tell you a Hadith, that Allah may benefit you thereby after this day. Know that Allah’s Messenger (ﷺ) had a group from his family perform ‘Umrah during the ten (days) of Dhul-Hijjah, and the Messenger of Allah (ﷺ) did not forbid that, and no abrogation of that was revealed, and it does not matter what anyone else suggests.’”
مطرف بن عبداللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ مجھ سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا: میں تم سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں، ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے آج کے بعد فائدہ پہنچائے، جان لو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں میں سے ایک جماعت نے ذی الحجہ کے دس دنوں میں عمرہ کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو منع نہیں کیا، اور نہ قرآن مجید میں اس کا نسخ اترا، اس کے بعد ایک شخص نے اپنی رائے سے جو چاہا کہا ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلاَءِ، يَزِيدَ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ أَخِيهِ، مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ قَالَ قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ إِنِّي أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَنْفَعَكَ بِهِ بَعْدَ الْيَوْمِ اعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَدْ أَعْمَرَ طَائِفَةً مِنْ أَهْلِهِ فِي الْعَشْرِ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَلَمْ يَنْزِلْ نَسْخُهُ قَالَ فِي ذَلِكَ بَعْدُ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ أَنْ يَقُولَ .
#2979
Sahih
It was narrated from Ibrahim bin Abu Musa:“Abu Musa Al-Ash’ari used to issue rulings concerning Tamattu’. Then a man said to him: ‘Withhold some of your rulings, for you do not know what the Commander of the Believers has introduced into the rites after you.’ (Abu Musa said:) ‘Then when I met him later on, I asked him.’ ‘Umar said: ‘I know that the Messenger of Allah (ﷺ) and his Companions did it, but I did not like that people should lie with their wives in the shade of the Arak trees and then go out for Hajj with their heads dripping,’ (i.e. due to the bath after sexual relations).”
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ حج تمتع کے جواز کا فتویٰ دیتے تھے، ایک شخص نے ان سے کہا: آپ اپنے بعض فتوؤں سے دستبردار ہو جائیں کیونکہ آپ کے بعد امیر المؤمنین نے حج کے مسئلہ میں جو نئے احکام دئیے ہیں وہ آپ کو معلوم نہیں، ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں عمر رضی اللہ عنہ سے ملا، اور ان سے پوچھا، تو آپ نے کہا: مجھے معلوم ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے ایسا کیا ہے، لیکن مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ لوگ پیلو کے درخت کے نیچے عورتوں کے ساتھ رات گزاریں پھر حج کو جائیں، اور ان کے سروں سے پانی ٹپک رہا ہو۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالاَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، أَنَّهُ كَانَ يُفْتِي بِالْمُتْعَةِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ رُوَيْدَكَ بَعْضَ فُتْيَاكَ فَإِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُكِ بَعْدَكَ . حَتَّى لَقِيتُهُ بَعْدُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ عُمَرُ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَعَلَهُ وَأَصْحَابُهُ وَلَكِنِّي كَرِهْتُ أَنْ يَظَلُّوا بِهِنَّ مُعْرِسِينَ تَحْتَ الأَرَاكِ ثُمَّ يَرُوحُونَ بِالْحَجِّ تَقْطُرُ رُءُوسُهُمْ .
#2980
Sahih
It was narrated that Jabir bin ‘Abdullah said:“We began our Talbiyah for Hajj only with Allah’s Messenger (ﷺ), and we did not mix it with ‘Umrah. We arrived in Makkah when four nights of Dhul-Hijjah had passed, and when we had performed Tawaf around the Ka’bah and Sa’y between Safa and Marwah, the Messenger of Allah (ﷺ) commanded us to make it ‘Umrah, and to come out of Ihram and have relations with our wives. We said: ‘There are only five (days) until ‘Arafah. Will we g out to it with our male organs dripping with semen?’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘I am the most righteous and truthful among you, and were it not for the sacrificial animal, I would have exited Ihram.’ Suraqah bin Malik said: ‘Is this Tamattu’ for this year only or forever?’ He said: ‘No, it is forever and ever.’”
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف حج کا تلبیہ کہا ( یعنی احرام باندھا ) ، اس میں عمرہ کو شریک نہیں کیا ۱؎، پھر ہم مکہ پہنچے تو ذی الحجہ کی چار راتیں گزر چکی تھیں، جب ہم نے خانہ کعبہ کا طواف کیا، اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو حکم دیا کہ ہم اسے عمرہ میں تبدیل کر دیں، اور اپنی بیویوں کے لیے حلال ہو جائیں، ہم نے عرض کیا: اب عرفہ میں صرف پانچ دن رہ گئے ہیں، اور کیا ہم عرفات کو اس حال میں نکلیں کہ شرمگاہوں سے منی ٹپک رہی ہو؟ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم میں سب سے زیادہ نیک اور سچا ہوں ۲؎، اگر میرے ساتھ ہدی ( قربانی کا جانور ) نہ ہوتا تو میں بھی ( عمرہ کر کے ) حلال ہو جاتا ( یعنی احرام کھول ڈالتا اور حج کو عمرہ میں تبدیل کر دیتا ) ۔ سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے اس وقت عرض کیا: حج میں یہ تمتع ہمارے لیے صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ ہمیش کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، ہمیشہ ہمیش کے لیے ہے ۳؎۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَهْلَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِالْحَجِّ خَالِصًا لاَ نَخْلِطُهُ بِعُمْرَةٍ فَقَدِمْنَا مَكَّةَ لأَرْبَعِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فَلَمَّا طُفْنَا بِالْبَيْتِ وَسَعَيْنَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً وَأَنْ نَحِلَّ إِلَى النِّسَاءِ . فَقُلْنَا مَا بَيْنَنَا لَيْسَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلاَّ خَمْسٌ فَنَخْرُجُ إِلَيْهَا وَمَذَاكِيرُنَا تَقْطُرُ مَنِيًّا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنِّي لأَبَرُّكُمْ وَأَصْدَقُكُمْ وَلَوْلاَ الْهَدْىُ لأَحْلَلْتُ " . فَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ أَمُتْعَتُنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لأَبَدٍ فَقَالَ " لاَ بَلْ لأَبَدِ الأَبَدِ " .
#2981
Sahih
It was narrated that ‘Aishah said:“We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) when there were five nights left of Dhul-Qa’dah, intending only to perform Hajj. When we came close, the Messenger of Allah (ﷺ) ordered that whoever did not have a sacrificial animal, then he should exit the Ihram. So all the people exited Ihram, except those who had the sacrificial animal. When the Day of Sacrifice i.e., the 10th of Dhul-Hijjah) came, some beef was brought to us, and it was said: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) has offered a sacrifice on behalf of his wives.’”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب ذی قعدہ کے پانچ دن باقی تھے تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، جب ہم مکہ پہنچے یا اس سے قریب ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو جن لوگوں کے پاس ہدی ( قربانی ) کا جانور نہیں تھا احرام کھول دینے کا حکم دیا، تو سارے لوگوں نے احرام کھول دیا، سوائے ان لوگوں کے جن کے پاس ہدی ( قربانی ) کے جانور تھے، پھر جب نحر کا دن ( ذی الحجہ کا دسواں دن ) ہوا تو ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا، لوگوں نے کہا: یہ گائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے ذبح کی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ لاَ نُرَى إِلاَّ الْحَجَّ حَتَّى إِذَا قَدِمْنَا وَدَنَوْنَا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْىٌ أَنْ يَحِلَّ فَحَلَّ النَّاسُ كُلُّهُمْ إِلاَّ مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْىٌ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ دُخِلَ عَلَيْنَا بِلَحْمِ بَقَرٍ فَقِيلَ ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ أَزْوَاجِهِ .
#2982
Daif
It was narrated that Bara’ bin ‘Azib said:“The Messenger of Allah (ﷺ) and his Companions came out to us and we entered Ihram for Hajj. When we came to Makkah, he said: ‘Make your Hajj (to) ‘Umrah.’ The people said: ‘O Messenger of Allah, we have entered Ihram for Hajj, how can we make it ‘Umrah?’ He said: ‘Look at what I command you to do, and do it.’ They repeated their question and he got angry and went away. Then he entered upon ‘Aishah angry and she saw anger in his face, and said: ‘Who has made you angry? May Allah vex him!’ He said: ‘Why should I not get angry, when I give a command and it is not obeyed?’”
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نکلے، ہم نے حج کا احرام باندھا، جب ہم مکہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے حج کو عمرہ کر دو ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے حج کا احرام باندھا ہے ہم اس کو عمرہ کیسے کر لیں؟ آپ صلیاللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو جس کا میں تم کو حکم دیتا ہوں اس پر عمل کرو ، لوگوں نے پھر وہی بات دہرائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہو کر چل دئیے اور غصہ کی ہی حالت میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، انہوں نے آپ کے چہرے پر غصہ کے آثار دیکھے تو بولیں: کس نے آپ کو ناراض کیا ہے؟ اللہ اسے ناراض کرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کیوں کر غصہ نہ کروں جب کہ میں ایک کام کا حکم دیتا ہوں اور میری بات نہیں مانی جاتی ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَأَصْحَابُهُ فَأَحْرَمْنَا بِالْحَجِّ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قَالَ " اجْعَلُوا حَجَّكُمْ عُمْرَةً " . فَقَالَ النَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ أَحْرَمْنَا بِالْحَجِّ فَكَيْفَ نَجْعَلُهَا عُمْرَةً قَالَ " انْظُرُوا مَا آمُرُكُمْ بِهِ فَافْعَلُوا " . فَرَدُّوا عَلَيْهِ الْقَوْلَ فَغَضِبَ فَانْطَلَقَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ غَضْبَانَ فَرَأَتِ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَتْ مَنْ أَغْضَبَكَ أَغْضَبَهُ اللَّهُ قَالَ " وَمَالِي لاَ أَغْضَبُ وَأَنَا آمُرُ أَمْرًا فَلاَ أُتْبَعُ " .
#2983
Sahih
It was narrated that Asma’ bint Abi Bakr said:“We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) in Ihram. The Prophet (ﷺ) said: ‘Whoever has a sacrificial animal with him, let him remain in Ihram. Whoever does not have a sacrificial animal with him, let him exit Ihram.’ She said: ‘I did not have a sacrificial animal with me, so I exited Ihram, but Zubair had a sacrificial animal with him, so he did not exit Ihram. So I put on my regular clothes and came to Zubair, and he said: ‘Go away from me.’ I said: ‘Are you afraid I am going to jump on you?!’”
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام باندھ کر نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے ساتھ ہدی ( قربانی کا جانور ) ہو، وہ اپنے احرام پر قائم رہے، اور جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ احرام کھول کر حلال ہو جائے اور میرے ساتھ ہدی کا جانور نہیں تھا چنانچہ میں نے احرام کھول دیا، اور زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہدی کا جانور تھا تو انہوں نے احرام نہیں کھولا، میں نے اپنا کپڑا پہن لیا، اور زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی تو انہوں نے کہا: میرے پاس سے چلی جاؤ، میں نے کہا: کیا آپ ڈرتے ہیں کہ میں آپ پر کود پڑوں گی؟۔
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ، صَفِيَّةَ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مُحْرِمِينَ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْىٌ فَلْيُقِمْ عَلَى إِحْرَامِهِ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْىٌ فَلْيَحْلِلْ " . قَالَتْ وَلَمْ يَكُنْ مَعِي هَدْىٌ فَأَحْلَلْتُ وَكَانَ مَعَ الزُّبَيْرِ هَدْىٌ فَلَمْ يَحِلَّ فَلَبِسْتُ ثِيَابِي وَجِئْتُ إِلَى الزُّبَيْرِ فَقَالَ قُومِي عَنِّي . فَقُلْتُ أَتَخْشَى أَنْ أَثِبَ عَلَيْكَ .
#2984
Daif
It was narrated from Harith bin Bilal bin Harith, that his father said:“I said: ‘O Messenger of Allah, do you think that this cancellation of Hajj and it being replaced with ‘Umrah is only for us, or for all people?’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘No, it is only for us.’”
بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! حج کو فسخ کر کے عمرہ کر لینا صرف ہمیں لوگوں کے لیے خاص ہے یا سارے لوگوں کے لیے عام ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( نہیں ) بلکہ صرف ہمیں لوگوں کے لیے خاص ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ بِلاَلِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ فَسْخَ الْحَجِّ فِي الْعُمْرَةِ لَنَا خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " بَلْ لَنَا خَاصَّةً " .
#2985
Sahih
It was narrated that Abu Dharr said:“Tamattu’ in Hajj was for the Companions of Muhammad (ﷺ) specifically.”
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حج تمتع اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص تھا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ كَانَتِ الْمُتْعَةُ فِي الْحَجِّ لأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ـ صلى الله عليه وسلم ـ خَاصَّةً .
#2986
Sahih
It was narrated that Hisham bin ‘Urwah said:“My father told me: ‘I said to ‘Aishah: “I do not think there is any sin on me if I do not perform Tawaf* between Safa and Marwah.” She said: “Allah says: ‘Verily, Safa and Marwah are of the Symbols of Allah. So it is not a sin on him who performs Hajj or ‘Umrah of the House to perform Tawaf between them.’” [2:158] If the matter were as you say, then it would have said, ‘it is not a sin on him to not perform the Sa’y between them.’ Rather this was revealed concerning some people among the Ansar who previously, when they stated the Talbiyah, they used to recite it for Manat, and it was not lawful for them to perform Sa’y between Safa and Marwah. When they arrived with the Prophet (ﷺ) for Hajj, they mentioned that to him, and Allah revealed this Verse. By Allah, Allah will not accept the Hajj as complete if one who does not perform Sa’y between Safa and Marwah.’”
عروہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہ کرنے میں اپنے اوپر میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتا، آپ نے کہا: اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے: «إن الصفا والمروة من شعائر الله فمن حج البيت أو اعتمر فلا جناح عليه أن يطوف بهما» صفا اور مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں، اور جو حج کرے یا عمرہ کرے تو اس پر گناہ نہیں، ان دونوں کی سعی کرنے میں اگر بات ویسی ہوتی جو تم کہتے ہو تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا: «فلا جناح عليه أن يطوف بهما» اگر سعی نہ کرے تو ( اس پر گناہ نہیں ہے ) بات یہ ہے کہ یہ آیت انصار کے کچھ لوگوں کے بارے میں اتری ہے، وہ جب لبیک پکارتے تو منات ( جو عربوں کا مشہور بت تھا ) کے نام سے پکارتے، ان ( کے اپنے اعتقاد کے مطابق ان کے ) کے لیے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا حلال نہ تھا تو جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے آئے تو انہوں نے آپ سے اس کا ذکر کیا، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: «إن الصفا والمروة» صفا اور مروہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں، ان کے درمیان سعی کرنا گناہ نہیں ( جیسا کہ تم اسلام سے پہلے سمجھتے تھے ) اور قسم ہے کہ جس نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہ کی، اللہ تعالیٰ نے اس کا حج پورا نہیں کیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ، قُلْتُ لِعَائِشَةَ مَا أَرَى عَلَىَّ جُنَاحًا أَنْ لاَ أَطَّوَّفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ . قَالَتْ إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا} وَلَوْ كَانَ كَمَا تَقُولُ لَكَانَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لاَ يَطَّوَّفَ بِهِمَا . إِنَّمَا أُنْزِلَ هَذَا فِي نَاسٍ مِنَ الأَنْصَارِ كَانُوا إِذَا أَهَلُّوا أَهَلُّوا لِمَنَاةَ فَلاَ يَحِلُّ لَهُمْ أَنْ يَطَّوَّفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَلَمَّا قَدِمُوا مَعَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي الْحَجِّ ذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ فَأَنْزَلَهَا اللَّهُ فَلَعَمْرِي مَا أَتَمَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَجَّ مَنْ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ .
#2987
Sahih
It was narratd that an Umm Walad* of Shaibah said:“I saw the Messenger of Allah (ﷺ) performing Sa’y between Safa and Marwah saying: ‘The valley should not be crossed except quickly.’”
شیبہ کی ام ولد رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرتے دیکھا، آپ فرما رہے تھے: ابطح کو دوڑ ہی کر طے کیا جائے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ أُمِّ وَلَدِ، شَيْبَةَ قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَهُوَ يَقُولُ " لاَ يُقْطَعُ الأَبْطَحُ إِلاَّ شَدًّا " .
#2988
Sahih
It was narrated that Ibn ‘Umar said:“If I go quickly between Safa and Marwah, that is because I saw the Messenger of Allah (ﷺ) going quickly, and if I walk that is because I saw the Messenger of Allah (ﷺ) walking, even though I am an old man.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اگر میں صفا اور مروہ کے درمیان دوڑوں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوڑتے ہوئے دیکھا ہے، اور اگر میں عام چال چلوں تو میں نے آپ کو ایسا بھی چلتے دیکھا ہے، اور میں بہت بوڑھا ہوں ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ إِنْ أَسْعَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَسْعَى وَإِنْ أَمْشِ فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَمْشِي وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ .
#2989
Daif
It was narrated from Talhah bin ‘Ubaidullah that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) say:“Hajj is Jihad and ‘Umrah is voluntary.”
طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: حج جہاد ہے، اور عمرہ نفل ہے ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى الْخُشَنِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ، أَخْبَرَنِي طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَمِّهِ، إِسْحَاقَ بْنِ طَلْحَةَ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " الْحَجُّ جِهَادٌ وَالْعُمْرَةُ تَطَوُّعٌ " .
#2990
Sahih
Isma’il narrated:“I heard ‘Abdullah bin Abu Awfa say: ‘We were with the Messenger of Allah (ﷺ) when he performed ‘Umrah. He performed Tawaf (around the Ka’bah) and we performed Tawaf with him. He prayed and we prayed with him, and we were shielding him from the people of Makkah lest anyone harm him.’”
عبداللہ بن ابی او فی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا ہم آپ کے ساتھ تھے، آپ نے طواف کیا، اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ طواف کیا، آپ نے نماز پڑھی، ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی، اور ہم مکہ والوں سے آپ کو آڑ میں کیے رہتے تھے کہ وہ آپ کو کوئی اذیت نہ پہنچا دیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، يَقُولُ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ حِينَ اعْتَمَرَ فَطَافَ وَطُفْنَا مَعَهُ وَصَلَّى وَصَلَّيْنَا مَعَهُ وَكُنَّا نَسْتُرُهُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ لاَ يُصِيبُهُ أَحَدٌ بِشَىْءٍ .
#2991
Sahih
It was narrated from Wahb bin Khanbash that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“ ‘Umrah during Ramadan is equivalent to Hajj (i.e. in reward).”
وہب بن خنبش رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان میں عمرہ، ( ثواب میں ) حج کے برابر ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ بَيَانٍ، وَجَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ وَهْبِ بْنِ خَنْبَشٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حِجَّةً " .
#2992
Sahih
It was narrated from Harim bin Khanbash that the Messenger of Allah (ﷺ) said:‘ ‘Umrah during Ramadan is equivalent to Hajj (i.e., in reward).’”
ہرم بن خنبش رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان میں عمرہ ( کا ثواب ) حج کے برابر ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، جَمِيعًا عَنْ دَاوُدَ بْنِ يَزِيدَ الزَّعَافِرِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ هَرِمِ بْنِ خَنْبَشٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حِجَّةً " .
#2993
Sahih
It was narrated from Abu Ma’qil that the Prophet (ﷺ) said:“ ‘Umrah during Ramadan is equivalent to Hajj.”
ابومعقل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان میں عمرہ حج کے برابر ہے ۔
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي مَعْقِلٍ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حِجَّةً " .
#2994
Sahih
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Umrah during Ramadan is equivalent to Hajj.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان میں عمرہ ( کا ثواب ) حج کے برابر ہے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حِجَّةً " .
#2995
Sahih
It was narrated from Jabir that the Prophet (ﷺ) said:“ ‘Umrah during Ramadan is equivalent to Hajj.”
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان میں عمرہ ( کا ثواب ) حج کے برابر ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ وَاقِدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حِجَّةً " .
#2996
Sahih
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) did not perform any ‘Umrah except in Dhul-Qa’dah.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنے عمرے کیے ہیں، ماہ ذی قعدہ ہی میں کیے ہیں۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمْ يَعْتَمِرْ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِلاَّ فِي ذِي الْقَعْدَةِ .
#2997
Sahih
It was narrated that ‘Aishah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) did not perform any ‘Umrah except in Dhul-Qa’dah.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنے عمرے کیے ہیں ماہ ذی قعدہ ہی میں کیے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمْ يَعْتَمِرْ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عُمْرَةً إِلاَّ فِي ذِي الْقَعْدَةِ .
#2998
Sahih
It was narrated that ‘Urwah said:“Ibn ‘Umar was asked: ‘In which month did the Messenger of Allah (ﷺ) perform ‘Umrah?’ He said: ‘In Rajab.’ But ‘Aishah said: “The Messenger of Allah (ﷺ) never performed ‘Umrah during Rajab, and he never performed ‘Umrah, but he (meaning Ibn ‘Umar) was with him.”
عروہ کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس مہینہ میں عمرہ کیا؟ تو انہوں نے کہا: رجب میں، اس پر ام المؤمنین عائشہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی رجب میں عمرہ نہیں کیا، اور آپ کا کوئی عمرہ ایسا نہیں جس میں وہ یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہما آپ کے ساتھ نہ رہے ہوں۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبٍ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَابِتٍ - عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ فِي أَىِّ شَهْرٍ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ فِي رَجَبٍ . فَقَالَتْ عَائِشَةُ مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي رَجَبٍ قَطُّ وَمَا اعْتَمَرَ إِلاَّ وَهُوَ مَعَهُ - تَعْنِي ابْنَ عُمَرَ .
#2999
Sahih
‘Abdur-Rahman bin Abu Bakr narrated that the Prophet (ﷺ) told him to seat ‘Aishah behind him on his riding animal, and perform ‘Umrah with her from Tan’im
عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنے ساتھ سوار کر کے لے جائیں، اور انہیں تنعیم سے عمرہ کرائیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو إِسْحَاقَ الشَّافِعِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ شَافِعٍ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَمَرَهُ أَنْ يُرْدِفَ عَائِشَةَ فَيُعْمِرَهَا مِنَ التَّنْعِيمِ .
#3000
Sahih
It was narrated that ‘Aishah said:“We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) on the Farewell Pilgrimage, close to the time of the crescent of Dhul-Hijjah. The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever among you wants to begin the Talbiyah for ‘Umrah, let him do so. If it were not for the fact that I have brought a sacrificial animal with me, I would have began the Talbiyah for ‘Umrah.’” She said: “Some of the people began the Talbiyah for ‘Umrah, and some began the Talbiyah for Hajj. I was one of those who began the Talbiyah for ‘Umrah.” She said: “We set out until we reached Makkah, then the Day of ‘Arafah came while I was in menses, but I did not exit Ihram for ‘Umrah I complained about that to the Prophet (ﷺ) and he said: ‘Leave your ‘Umrah, undo your hair and comb it, and begin the Talbiyah for Hajj.’” She said: “So I did that, then on the night of Hasbah (i.e., the twelfth night of Dhul-Hijjah), when Allah had enables us to complete our Hajj, he sent ‘Abdur-Rahman bin Abu Bakr with me. He seated me behind him and went out to Tan’im, then I began the Talbiyah for ‘Umrah and Allah enabled us to complete our Hajj and ‘Umrah, and there was no sacrificial animal, charity nor fasting.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( مدینہ سے ) اس حال میں نکلے کہ ہم ذی الحجہ کے چاند کا استقبال کرنے والے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو عمرہ کا تلبیہ پکارنا چاہے، پکارے، اور اگر میں ہدی نہ لاتا تو میں بھی عمرہ کا تلبیہ پکارتا ، تو لوگوں میں کچھ ایسے تھے جنہوں نے عمرہ کا تلبیہ پکارا، اور کچھ ایسے جنہوں نے حج کا، اور میں ان لوگوں میں سے تھی جنہوں نے عمرہ کا تلبیہ پکارا، ہم نکلے یہاں تک کہ مکہ آئے، اور اتفاق ایسا ہوا کہ عرفہ کا دن آ گیا، اور میں حیض سے تھی، عمرہ سے ابھی حلال نہیں ہوئی تھی، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا عمرہ چھوڑ دو، اور اپنا سر کھول لو، اور بالوں میں کنگھا کر لو، اور نئے سرے سے حج کا تلبیہ پکارو ، چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا، پھر جب محصب کی رات ( بارہویں ذی الحجہ کی رات ) ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے ہمارا حج پورا کرا دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ عبدالرحمٰن بن ابی بکر کو بھیجا، وہ مجھے اپنے پیچھے اونٹ پر بیٹھا کر تنعیم لے گئے، اور وہاں سے میں نے عمرہ کا تلبیہ پکارا ( اور آ کر اس عمرے کے قضاء کی جو حیض کی وجہ سے چھوٹ گیا تھا ) اس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمارے حج اور عمرہ دونوں کو پورا کرا دیا، ہم پر نہ «هدي» ( قربانی ) لازم ہوئی، نہ صدقہ دینا پڑا، اور نہ روزے رکھنے پڑے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي حِجَّةِ الْوَدَاعِ نُوَافِي هِلاَلَ ذِي الْحِجَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهْلِلْ فَلَوْلاَ أَنِّي أَهْدَيْتُ لأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ " . قَالَتْ فَكَانَ مِنَ الْقَوْمِ مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ فَكُنْتُ أَنَا مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ . قَالَتْ فَخَرَجْنَا حَتَّى قَدِمْنَا مَكَّةَ فَأَدْرَكَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَنَا حَائِضٌ لَمْ أَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِي فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ " دَعِي عُمْرَتَكِ وَانْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ " . قَالَتْ فَفَعَلْتُ فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ وَقَدْ قَضَى اللَّهُ حَجَّنَا أَرْسَلَ مَعِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْدَفَنِي وَخَرَجَ إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ فَقَضَى اللَّهُ حَجَّنَا وَعُمْرَتَنَا وَلَمْ يَكُنْ فِي ذَلِكَ هَدْىٌ وَلاَ صَدَقَةٌ وَلاَ صَوْمٌ .