#3026
Sahih
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“I was among the weak ones of his family (i.e., the women and children) whom the Messenger of Allah (ﷺ) sent on ahead.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں میں جن کمزور لوگوں کو پہلے بھیج دیا تھا ان میں میں بھی تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كُنْتُ فِيمَنْ قَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ .
#3027
Sahih
It was narrated from ‘Aishah that Sawdah bint Zam’ah was a slow- moving woman, so she asked the Messenger of Allah (ﷺ) for permission to depart from Jam’ ahead of the people, and he gave her permission
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا ایک بھاری بھر کم عورت تھیں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مزدلفہ سے لوگوں کی روانگی سے پہلے جانے کی اجازت چاہی تو آپ نے انہیں اجازت دے دی۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ، كَانَتِ امْرَأَةً ثَبِطَةً فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ تَدْفَعَ مِنْ جَمْعٍ قَبْلَ دُفْعَةِ النَّاسِ فَأَذِنَ لَهَا .
#3028
Hasan
It was narrated from Sulaiman bin ‘Amr bin Ahwas that his mother said:“I saw the Prophet (saw0 on the Day of Sacrifice, at ‘Aqabah Pillar, riding a mule. He said: ‘O people! When you stone the Pillar, throw small pebbles.’”)
سلیمان بن عمرو بن احوص کی والدہ (ام جندب الازدیہ رضی اللہ عنہا) کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دسویں ذی الحجہ کو جمرہ عقبہ کے پاس ایک خچر پر سوار دیکھا، آپ فرما رہے تھے: لوگو! جب جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارو تو ایسی ہوں جو دونوں انگلیوں کے درمیان آ جائیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الأَحْوَصِ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَوْمَ النَّحْرِ عِنْدَ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ وَهُوَ رَاكِبٌ عَلَى بَغْلَةٍ فَقَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِذَا رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ فَارْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ " .
#3029
Sahih
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“On the morning of ‘Aqabah, when he was atop his she-camel, the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Pick up some pebbles for me.’ So I picked up seven pebbles for him, suitable for Khadhf.* He began to toss them in his hand, saying: ‘Throw something like these.’ Then he said: ‘O people, beware of exaggeration in religious matters for those who came before you were doomed because of exaggeration in religious matters.’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ کی صبح کو فرمایا، اس وقت آپ اپنی اونٹنی پر سوار تھے: میرے لیے کنکریاں چن کر لاؤ ، چنانچہ میں نے آپ کے لیے سات کنکریاں چنیں، وہ کنکریاں ایسی تھیں جو دونوں انگلیوں کے بیچ آ جائیں، آپ انہیں اپنی ہتھیلی میں ہلاتے تھے اور فرماتے تھے: انہیں جیسی کنکریاں مارو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! دین میں غلو سے بچو کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو دین میں اسی غلو نے ہلاک کیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ غَدَاةَ الْعَقَبَةِ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ " الْقُطْ لِي حَصًى " . فَلَقَطْتُ لَهُ سَبْعَ حَصَيَاتٍ هُنَّ حَصَى الْخَذْفِ فَجَعَلَ يَنْفُضُهُنَّ فِي كَفِّهِ وَيَقُولُ " أَمْثَالَ هَؤُلاَءِ فَارْمُوا " . ثُمَّ قَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّينِ فَإِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ الْغُلُوُّ فِي الدِّينِ " .
#3030
Sahih
It was narrated that ‘Abdur-Rahman bin Yazid said:“When ‘Abdullah bin Mas’ud stoned ‘Aqabah Pillar, he went to the bottom of the valley and turned to face the Ka’bah, with the Pillar on his right hand side. Then he threw seven pebbles, saying the Takbir with each one. Then he said: ‘From here, by the One besides Whom there is none worthy of worship, did the one throw, to whom Surat Al-Baqarah was revealed.’”
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ جب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جمرہ عقبہ کے پاس آئے تو وادی کے نچلے حصے میں گئے، کعبہ کی طرف رخ کیا، اور جمرہ عقبہ کو اپنے دائیں ابرو پر کیا، پھر سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری پر اللہ اکبر کہتے جاتے تھے پھر کہا: قسم اس ذات کی جس کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، یہیں سے اس ذات نے کنکری ماری ہے جس پر سورۃ البقرہ نازل کی گئی۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ لَمَّا أَتَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ اسْتَبْطَنَ الْوَادِيَ وَاسْتَقْبَلَ الْكَعْبَةَ وَجَعَلَ الْجَمْرَةَ عَلَى حَاجِبِهِ الأَيْمَنِ ثُمَّ رَمَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ثُمَّ قَالَ مِنْ هَاهُنَا وَالَّذِي لاَ إِلَهَ غَيْرُهُ رَمَى الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ .
#3031
Hasan
It was narrated from Sulaiman bin ‘Amr bin Ahwas that his mother said:“I saw the Prophet (ﷺ) on the Day of Sacrifice, at ‘Aqabah Pillar. He went to the interior of the valley and threw seven pebbles, saying Takbir with each pebble, then he departed.” Another chain reports a similar hadith
سلیمان بن عمرو بن احوص کی ماں ام جندب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یوم النحر کو جمرہ عقبہ کے پاس دیکھا، آپ وادی کے نشیب میں تشریف لے گئے، اور جمرہ عقبہ کو سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے پھر لوٹ آئے۔ اس سند سے بھی ( سلیمان بن عمرو بن احوص کی والدہ ام جندب رضی اللہ عنہا ) سے اسی جیسی حدیث آئی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الأَحْوَصِ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَوْمَ النَّحْرِ عِنْدَ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ اسْتَبْطَنَ الْوَادِيَ فَرَمَى الْجَمْرَةَ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ثُمَّ انْصَرَفَ . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الأَحْوَصِ، عَنْ أُمِّ جُنْدُبٍ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِنَحْوِهِ .
#3032
Sahih
It was narrated that Ibn ‘Umar stoned ‘Aqabah Pillar, but he did not stay there, and he mentioned that the Prophet (ﷺ) had done likewise
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے جمرہ عقبہ کی رمی کی، اور اس کے پاس رکے نہیں، اور بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسے ہی کیا ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ وَلَمْ يَقِفْ عِنْدَهَا وَذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ .
#3033
Sahih
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“When the Messenger of Allah (ﷺ) had stoned ‘Aqabah Pillar, he would continue on, and would not stay there.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جمرہ عقبہ کی رمی کر لی تو چلے گئے، رکے نہیں۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مَضَى وَلَمْ يَقِفْ .
#3034
Sahih
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet (ﷺ) stoned the Pillar from atop his mount
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر جمرہ کو کنکریاں ماریں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَمَى الْجَمْرَةَ عَلَى رَاحِلَتِهِ .
#3035
Sahih
It was narrated that Qudamah bin ‘Abdullah Al-‘Amiri said:“I saw the Prophet (ﷺ) stone the Pillar, on the Day of Sacrifice, from atop a reddish-brown camel of his, without beating anyone, driving them off or telling them to go away.”
قدامہ بن عبداللہ عامری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے یوم النحر کو جمرہ کو اپنی سرخ اور سفید اونٹنی پر سوار ہو کر کنکریاں ماریں، اس وقت آپ نہ کسی کو مارتے، اور نہ ہٹاتے تھے، اور نہ یہی کہتے تھے کہ ہٹو! ہٹو!۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَيْمَنَ بْنِ نَابِلٍ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَامِرِيِّ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَمَى الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ صَهْبَاءَ لاَ ضَرْبَ وَلاَ طَرْدَ وَلاَ إِلَيْكَ إِلَيْكَ .
#3036
Sahih
It was narrated from Abu Baddah bin ‘Asim, from his father, that the Prophet (ﷺ) granted permission for some shepherds to stone one day and to not stone (the next) day
عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے چرواہوں کو اجازت دی کہ وہ ایک دن رمی کریں، اور ایک دن کی رمی چھوڑ دیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَخَّصَ لِلرِّعَاءِ أَنْ يَرْمُوا يَوْمًا وَيَدَعُوا يَوْمًا .
#3037
Sahih
It was narrated from Abu Baddah bin ‘Asim that his father said:“The Messenger of Allah (ﷺ) granted permission to some camel herders regarding staying (in Mina),* and allowing them to stone the Pillars on the Day of Sacrifice, then to combine the stoning of two days after the sacrifice, so that they could do it on one of the two days.”** Malik said: “I think that he said: ‘On the first of the first of the two days, then they could stone them on the day of departure (from Mina).’”
عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے چرواہوں کو رخصت دی کہ وہ یوم النحر ( دسویں ذی الحجہ ) کو رمی کر لیں، پھر یوم النحر کے بعد کے دو دنوں کی رمی ایک ساتھ جمع کر لیں، خواہ گیارہویں، بارہویں دونوں کی رمی بارہویں کو کریں، یا گیارہویں کو بارہویں کی بھی رمی کر لیں ۱؎۔ مالک بن انس کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا: پہلے دن رمی کریں پھر جس دن کوچ کرنے لگیں اس دن کر لیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لِرِعَاءِ الإِبِلِ فِي الْبَيْتُوتَةِ أَنْ يَرْمُوا يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ يَجْمَعُوا رَمْىَ يَوْمَيْنِ بَعْدَ النَّحْرِ فَيَرْمُونَهُ فِي أَحَدِهِمَا - قَالَ مَالِكٌ ظَنَنْتُ أَنَّهُ قَالَ فِي الأَوَّلِ مِنْهُمَا - ثُمَّ يَرْمُونَ يَوْمَ النَّفْرِ .
#3038
Daif
It was narrated that Jabir said:“We performed Hajj with the Messenger of Allah (ﷺ), and there were women and children with us. We recited Talbiyah on behalf of the children and stoned the Pillars on their behalf.”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا، ہمارے ساتھ عورتیں اور بچے تھے، ہم نے بچوں کی طرف سے لبیک پکارا، اور ان کی طرف سے رمی کی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَمَعَنَا النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ فَلَبَّيْنَا عَنِ الصِّبْيَانِ وَرَمَيْنَا عَنْهُمْ .
#3039
Sahih
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet (ﷺ) recited Talbiyah until he stoned ‘Aqabah Pillar
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ کی رمی تک لبیک پکارا۔
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا حَمْزَةُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لَبَّى حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ .
#3040
Sahih
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“Fadl bin ‘Abbas said: ‘I was riding behind the Prophet (ﷺ) and I continued to hear him reciting the Talbiyah until he stoned ‘Aqabah Pillar, and when he stoned it, he stopped reciting the Talbiyah.’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیچھے سوار تھا، تو میں برابر آپ کا تلبیہ سنتا رہا یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی، جب آپ نے اس کی رمی کر لی تو لبیک کہنا ترک کر دیا۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَمَا زِلْتُ أَسْمَعُهُ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَلَمَّا رَمَاهَا قَطَعَ التَّلْبِيَةَ .
#3041
Sahih
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“When you have stoned the Pillar, everything becomes permissible to you except your wives. A man said to him: ‘O Ibn ‘Abbas, and perfume?’ He said: ‘I saw the Messenger of Allah (ﷺ) perfume his head with musk. Is that perfume or not?’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب تم رمی جمار کر چکتے ہو تو ہر چیز سوائے بیوی کے حلال ہو جاتی ہے، اس پر ایک شخص نے کہا: ابن عباس! اور خوشبو؟ تو انہوں نے کہا: میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سر میں مشک ملتے ہوئے دیکھا، کیا وہ خوشبو ہے یا نہیں؟ ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَوَكِيعٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ إِذَا رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ فَقَدْ حَلَّ لَكُمْ كُلُّ شَىْءٍ إِلاَّ النِّسَاءَ . فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ وَالطِّيبُ فَقَالَ أَمَّا أَنَا فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُضَمِّخُ رَأْسَهُ بِالْمِسْكِ أَفَطِيبٌ ذَلِكَ أَمْ لاَ .
#3042
Sahih
It was narrated that ‘Aishah said:“I applied perfume to the Messenger of Allah (ﷺ) for his Ihram when he entered Ihram, and when he exited Ihram.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام باندھتے وقت، اور احرام کھولتے وقت خوشبو لگائی ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا خَالِي، مُحَمَّدٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لإِحْرَامِهِ حِينَ أَحْرَمَ وَلإِحْلاَلِهِ حِينَ أَحَلَّ .
#3043
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“O Allah, forgive those who shave (their heads).” They said: “O Messenger of Allah, and those who cut (their hair)?’ He said; “O Allah, forgive those who shave (their heads),” three times. They said: “O Messenger of Allah, and those who cut (their hair)?” He said: “And those who cut (their hair).”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! سر منڈانے والوں کو بخش دے ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اور بال کتروانے والوں کو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! سر منڈانے والوں کو بخش دے ، آپ نے یہ تین بار فرمایا: تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اور بال کتروانے والوں کو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور بال کتروانے والوں کو بھی ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالْمُقَصِّرِينَ قَالَ " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ " . ثَلاَثًا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالْمُقَصِّرِينَ قَالَ " وَالْمُقَصِّرِينَ " .
#3044
Sahih
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“May Allah have mercy on those who shave (their heads).” They said: “And those who cut (their hair), O Messenger of Allah!” He said: “May Allah have mercy on those who shave (their heads).” They said: “And those who cut (their hair), O Messenger of Allah!” He said: “May Allah have mercy on those who shave (their heads).” They said: “And those who cut (their hair), O Messenger of Allah!” He said: “And those who cut (their hair).”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سر منڈانے والوں پر رحم فرمائے ، لوگوں نے عرض کیا: اور بال کٹوانے والوں پر؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سر منڈانے والوں پر رحم فرمائے ، لوگوں نے عرض کیا: اور بال کٹوانے والوں پر؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سر منڈانے والوں پر رحم فرمائے ، لوگوں نے عرض کیا: اور بال کٹوانے والوں پر؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور بال کٹوانے والوں پر بھی ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِيِّ الدِّمَشْقِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ " . قَالُوا وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ " . قَالُوا وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ " . قَالُوا وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " وَالْمُقَصِّرِينَ " .
#3045
Hasan
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“It was said: ‘O Messenger of Allah, why did you support (by supplicating for) those who shave (their heads) three times and those who cut (their hair) only once?’ He said: ‘Because they did not entertain any doubts.’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا کہ اللہ کے رسول! آپ نے بال منڈوانے والوں کے لیے تین بار دعا فرمائی، اور بال کتروانے والوں کے لیے ایک بار، اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہوں نے شک نہیں کیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ ظَاهَرْتَ لِلْمُحَلِّقِينَ ثَلاَثًا وَلِلْمُقَصِّرِينَ وَاحِدَةً قَالَ " إِنَّهُمْ لَمْ يَشُكُّوا " .
#3046
Sahih
It was narrated from Ibn ‘Umar that Hafsah, the wife of the Prophet (ﷺ), said:“I said: ‘O Messenger of Allah, what is the matter with people who have exited Ihram when you have not exited your Ihram?’ He said: ‘I have applied something to my head to keep my hair together, and I have garlanded my sacrificial animal, so I will not exit Ihram until I have offered my sacrifice.’”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا بات ہے لوگوں نے اپنے عمرے سے احرام کھول دیا، اور آپ نے نہیں کھولا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے سر کی تلبید ۱؎ کی تھی، اور ہدی ( کے جانور ) کو قلادہ پہنایا تھا ۲؎ اس لیے جب تک میں قربانی نہ کر لوں حلال نہیں ہو سکتا ۳؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ حَفْصَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحِلَّ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ قَالَ " إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي وَقَلَّدْتُ هَدْيِي فَلاَ أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ " .
#3047
Sahih
It was narrated from Salim, from his father:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) reciting the Talbiyah when he entered Ihram with something applied to his head to keep the hair together.’”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لبیک پکارتے ہوئے سنا، اس حال میں کہ آپ سر کی تلبید کیے ہوئے تھے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُهِلُّ مُلَبِّدًا .
#3048
Hasan Sahih
It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“All of Mina is a place of sacrifice. Every road of Makkah is a thoroughfare and a place of sacrifice. All of ‘Arafat is the place of standing, and all of Muzdalifah is a place of standing.”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پورا منیٰ قربانی کی جگہ ہے، اور مکہ کی سب گلیاں راستے، قربانی کی جگہیں ہیں، پورا عرفات اور پورا مزدلفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ طَرِيقٌ وَمَنْحَرٌ وَكُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ وَكُلُّ الْمُزْدَلِفَةِ مَوْقِفٌ " .
#3049
Sahih
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“The Messenger of Allah (ﷺ) was never asked about someone who had done one thing before another, but he would gesture with both his hands to say: ‘There is no harm in that.’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے حج کے کسی عمل کو دوسرے پر مقدم کر دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے یہی اشارہ کیا کہ کوئی حرج نہیں ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَمَّنْ قَدَّمَ شَيْئًا قَبْلَ شَىْءٍ إِلاَّ يُلْقِي بِيَدَيْهِ كِلْتَيْهِمَا " لاَ حَرَجَ " .
#3050
Sahih
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“The Messenger of Allah (ﷺ) was asked on the Day of Mina, and he would say: ‘There is no harm in that, there is no harm in that.’ A man came to him and said: ‘I shaved my head before I slaughtered (my sacrifice),’ and he said: ‘There is no harm in that.’ He said: ‘I stoned (the Pillar) after evening came,’ and he said: ‘There is no harm in that.’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ منیٰ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: کوئی حرج نہیں، کوئی حرج نہیں ، ایک شخص نے آ کر کہا: میں نے قربانی سے پہلے حلق کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بات نہیں ، دوسرا بولا: میں نے رمی شام کو کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بات نہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُسْأَلُ يَوْمَ مِنًى فَيَقُولُ " لاَ حَرَجَ لاَ حَرَجَ " . فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ قَالَ " لاَ حَرَجَ " . قَالَ رَمَيْتُ بَعْدَ مَا أَمْسَيْتُ قَالَ " لاَ حَرَجَ " .