#6001
Narrated `Abdullah:I said 'O Allah's Messenger (ﷺ)! Which sin is the greatest?" He said, "To set up a rival unto Allah, though He Alone created you." I said, "What next?" He said, "To kill your son lest he should share your food with you." I further asked, "What next?" He said, "To commit illegal sexual intercourse with the wife of your neighbor." And then Allah revealed as proof of the statement of the Prophet: 'Those who invoke not with Allah any other god)................. (to end of verse)
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں منصور بن معتمر نے، انہیں ابووائل نے، انہیں عمرو بن شرحبیل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے۔ فرمایا یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کا کسی کو شریک بناؤ حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ انہوں نے کہا پھر، اس کے بعد فرمایا یہ کہ تم اپنے لڑکے کو اس خوف سے قتل کرو کہ اگر زندہ رہا تو تمہاری روزی میں شریک ہو گا۔ انہوں نے کہا اس کے بعد، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی تائید میں یہ آیت «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر» الخ، نازل کی کہ ”اور وہ لوگ جو اللہ کے سوا کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور نہ وہ ناحق کسی کو قتل کرتے ہیں اور نہ وہ زنا کرتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ قَالَ " أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهْوَ خَلَقَكَ ". ثُمَّ قَالَ أَىُّ قَالَ " أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ خَشْيَةَ أَنْ يَأْكُلَ مَعَكَ ". قَالَ ثُمَّ أَىُّ قَالَ " أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ ". وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم {وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ}.
#6002
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) took a child in his lap for Tahnik (i.e. he chewed a date in his mouth and put its juice in the mouth of the child). The child urinated on him, so he asked for water and poured it over the place of the urine
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا، کہا مجھ کو میرے والد عروہ نے خبر دی اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچہ ( عبداللہ بن زبیر ) کو اپنی گود میں بٹھلایا اور کھجور چبا کر اس کے منہ میں دی، اس نے آپ پر پیشاب کر دیا آپ نے پانی منگوا کر اس پر بہا دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَضَعَ صَبِيًّا فِي حِجْرِهِ يُحَنِّكُهُ، فَبَالَ عَلَيْهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَأَتْبَعَهُ.
#6003
Narrated Usama bin Zaid:Allah's Messenger (ﷺ) used to put me on (one of) his thighs and put Al-Hasan bin `Ali on his other thigh, and then embrace us and say, "O Allah! Please be Merciful to them, as I am merciful to them
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عارم محمد بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ ان سے ان کے والد نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابو تمیمہ سے سنا، وہ ابوعثمان نہدی سے بیان کرتے تھے اور ابوعثمان نہدی نے کہا کہ ان سے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنی ایک ران پر بٹھاتے تھے اور حسن رضی اللہ عنہ کو دوسری ران پر بٹھلاتے تھے۔ پھر دونوں کو ملاتے اور فرماتے، اے اللہ! ان دونوں پر رحم کر کہ میں بھی ان پر رحم کرتا ہوں۔ اور علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان تیمی نے بیان کیا، ان سے ابوعثمان نہدی نے اسی حدیث کو بیان کیا۔ سلیمان تیمی نے کہا جب ابو تمیمہ نے یہ حدیث مجھ سے بیان کی ابوعثمان نہدی سے تو میرے دل میں شک پیدا ہوا۔ میں نے ابوعثمان سے بہت سی احادیث سنی ہیں پر یہ حدیث کیوں نہیں سنی پھر میں نے اپنی احادیث کی کتاب دیکھی تو اس میں یہ حدیث ابوعثمان نہدی سے لکھی ہوئی تھی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَارِمٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا تَمِيمَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، يُحَدِّثُهُ أَبُو عُثْمَانَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ـ رضى الله عنهما كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْخُذُنِي فَيُقْعِدُنِي عَلَى فَخِذِهِ، وَيُقْعِدُ الْحَسَنَ عَلَى فَخِذِهِ الأُخْرَى، ثُمَّ يَضُمُّهُمَا ثُمَّ يَقُولُ " اللَّهُمَّ ارْحَمْهُمَا فَإِنِّي أَرْحَمُهُمَا ". وَعَنْ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ التَّيْمِيُّ فَوَقَعَ فِي قَلْبِي مِنْهُ شَىْءٌ، قُلْتُ حَدَّثْتُ بِهِ كَذَا وَكَذَا، فَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ أَبِي عُثْمَانَ، فَنَظَرْتُ فَوَجَدْتُهُ عِنْدِي مَكْتُوبًا فِيمَا سَمِعْتُ.
#6004
Narrated `Aisha:I never felt so jealous of any woman as I did of Khadija, though she had died three years before the Prophet married me, and that was because I heard him mentioning her too often, and because his Lord had ordered him to give her the glad tidings that she would have a palace in Paradise, made of Qasab and because he used to slaughter a sheep and distribute its meat among her friends
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مجھے کسی عورت پر اتنا رشک نہیں آتا تھا جتنا خدیجہ رضی اللہ عنہا پر آتا تھا حالانکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجھ سے شادی سے تین سال پہلے وفات پا چکی تھیں۔ ( رشک کی وجہ یہ تھی ) کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میں کثرت سے ان کا ذکر کرتے سنتی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے رب نے حکم دیا تھا کہ خدیجہ کو جنت میں ایک خولدار موتیوں کے گھر کی خوشخبری سنا دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بکری ذبح کرتے پھر اس میں سے خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں کو حصہ بھیجتے تھے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ مَا غِرْتُ عَلَى امْرَأَةٍ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ، وَلَقَدْ هَلَكَتْ قَبْلَ أَنْ يَتَزَوَّجَنِي بِثَلاَثِ سِنِينَ، لِمَا كُنْتُ أَسْمَعُهُ يَذْكُرُهَا، وَلَقَدْ أَمَرَهُ رَبُّهُ أَنْ يُبَشِّرَهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ، وَإِنْ كَانَ لَيَذْبَحُ الشَّاةَ ثُمَّ يُهْدِي فِي خُلَّتِهَا مِنْهَا.
#6005
Narrated Sahl bin Sa`d:The Prophet (ﷺ) said, "I and the person who looks after an orphan and provides for him, will be in Paradise like this," putting his index and middle fingers together
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا کہ میں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے سنا، ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے اور آپ نے شہادت اور درمیانی انگلیوں کے اشارہ سے ( قرب کو ) بتایا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ، فِي الْجَنَّةِ هَكَذَا ". وَقَالَ بِإِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى.
#6006
Narrated Safwan bin Salim:The Prophet (ﷺ) said "The one who looks after and works for a widow and for a poor person, is like a warrior fighting for Allah's Cause or like a person who fasts during the day and prays all the night." Narrated Abu Huraira that the Prophet (ﷺ) said as above
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے صفوان بن سلیم تابعی اس حدیث کو مرسلاً روایت کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیواؤں اور مسکینوں کے لیے کوشش کرنے والا اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے یا اس شخص کی طرح ہے جو دن میں روزے رکھتا ہے اور رات کو عبادت کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " السَّاعِي عَلَى الأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ كَالَّذِي يَصُومُ النَّهَارَ وَيَقُومُ اللَّيْلَ ". حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ
#6007
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The one who looks after and works for a widow and for a poor person is like a warrior fighting for Allah's Cause." (The narrator Al-Qa'nabi is not sure whether he also said "Like the one who prays all the night without slackness and fasts continuously and never breaks his fast)
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ثور بن زید نے، ان سے ابوالغیث نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیواؤں اور مسکینوں کے لیے کوشش کرنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے۔ عبداللہ قعنبی کو اس میں شک ہے۔ امام مالک نے اس حدیث میں یہ بھی کہا تھا اس شخص کے برابر ثواب ملتا ہے جو نماز میں کھڑا رہتا ہے تھکتا ہی نہیں اور اس شخص کے برابر جو روزے برابر رکھے چلا جاتا ہے افطار ہی نہیں کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " السَّاعِي عَلَى الأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ـ وَأَحْسِبُهُ قَالَ، يَشُكُّ الْقَعْنَبِيُّ ـ كَالْقَائِمِ لاَ يَفْتُرُ، وَكَالصَّائِمِ لاَ يُفْطِرُ ".
#6008
Narrated Abu Sulaiman and Malik bin Huwairith:We came to the Prophet (ﷺ) and we were (a few) young men of approximately equal age and stayed with him for twenty nights. Then he thought that we were anxious for our families, and he asked us whom we had left behind to look after our families, and we told him. He was kindhearted and merciful, so he said, "Return to your families and teach them (religious knowledge) and order them (to do good deeds) and offer your prayers in the way you saw me offering my prayers, and when the stated time for the prayer becomes due, then one of you should pronounce its call (i.e. the Adhan), and the eldest of you should lead you in prayer
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے ابوقلابہ نے، ان سے ابوسلیمان مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ حاضر ہوئے اور ہم سب نوجوان اور ہم عمر تھے۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیس دنوں تک رہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال ہوا کہ ہمیں اپنے گھر کے لوگ یاد آ رہے ہوں گے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ان کے متعلق پوچھا جنہیں ہم اپنے گھروں پر چھوڑ کر آئے تھے۔ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا حال سنا دیا۔ آپ بڑے ہی نرم خو اور بڑے رحم کرنے والے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے گھروں کو واپس جاؤ اور اپنے ملک والوں کو دین سکھاؤ اور بتاؤ اور تم اس طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے اور جب نماز کا وقت آ جائے تو تم میں سے ایک شخص تمہارے لیے اذان دے پھر جو تم میں بڑا ہو وہ امامت کرائے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي سُلَيْمَانَ، مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قَالَ أَتَيْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ، فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً، فَظَنَّ أَنَّا اشْتَقْنَا أَهْلَنَا، وَسَأَلَنَا عَمَّنْ تَرَكْنَا فِي أَهْلِنَا، فَأَخْبَرْنَاهُ، وَكَانَ رَفِيقًا رَحِيمًا فَقَالَ " ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ فَعَلِّمُوهُمْ وَمُرُوهُمْ، وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي، وَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ ".
#6009
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "While a man was walking on a road. he became very thirsty. Then he came across a well, got down into it, drank (of its water) and then came out. Meanwhile he saw a dog panting and licking mud because of excessive thirst. The man said to himself "This dog is suffering from the same state of thirst as I did." So he went down the well (again) and filled his shoe (with water) and held it in his mouth and watered the dog. Allah thanked him for that deed and forgave him." The people asked, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Is there a reward for us in serving the animals?" He said, "(Yes) There is a reward for serving any animate (living being)
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوبکر کے غلام سمی نے، ان سے ابوصالح سمان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص راستہ میں چل رہا تھا کہ اسے شدت کی پیاس لگی اسے ایک کنواں ملا اور اس نے اس میں اتر کر پانی پیا۔ جب باہر نکلا تو وہاں ایک کتا دیکھا جو ہانپ رہا تھا اور پیاس کی وجہ سے تری کو چاٹ رہا تھا۔ اس شخص نے کہا کہ یہ کتا بھی اتنا ہی زیادہ پیاسا معلوم ہو رہا ہے جتنا میں تھا۔ چنانچہ وہ پھر کنویں میں اترا اور اپنے جوتے میں پانی بھرا اور منہ سے پکڑ کر اوپر لایا اور کتے کو پانی پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کو پسند فرمایا اور اس کی مغفرت کر دی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا ہمیں جانوروں کے ساتھ نیکی کرنے میں بھی ثواب ملتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں ہر تازہ کلیجے والے پر نیکی کرنے میں ثواب ملتا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ، فَوَجَدَ بِئْرًا فَنَزَلَ فِيهَا فَشَرِبَ ثُمَّ خَرَجَ، فَإِذَا كَلْبٌ يَلْهَثُ يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ فَقَالَ الرَّجُلُ لَقَدْ بَلَغَ هَذَا الْكَلْبَ مِنَ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِي كَانَ بَلَغَ بِي، فَنَزَلَ الْبِئْرَ فَمَلأَ خُفَّهُ، ثُمَّ أَمْسَكَهُ بِفِيهِ، فَسَقَى الْكَلْبَ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ ". قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ أَجْرًا. فَقَالَ " فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ ".
#6010
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) stood up for the prayer and we too stood up along with him. Then a bedouin shouted while offering prayer. "O Allah! Bestow Your Mercy on me and Muhammad only and do not bestow it on anybody else along with us." When the Prophet (ﷺ) had finished his prayer with Taslim, he said to the Bedouin, "You have limited (narrowed) a very vast (thing)," meaning Allah's Mercy
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور ہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ نماز پڑھتے ہی ایک دیہاتی نے کہا: اے اللہ! مجھ پر رحم کر اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ کر۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو دیہاتی سے فرمایا کہ تم نے ایک وسیع چیز کو تنگ کر دیا آپ کی مراد اللہ کی رحمت سے تھی۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي صَلاَةٍ وَقُمْنَا مَعَهُ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ وَهْوَ فِي الصَّلاَةِ اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا، وَلاَ تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا. فَلَمَّا سَلَّمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِلأَعْرَابِيِّ " لَقَدْ حَجَّرْتَ وَاسِعًا ". يُرِيدُ رَحْمَةَ اللَّهِ.
#6011
Narrated An-Nu`man bin Bashir:Allah's Messenger (ﷺ) said, "You see the believers as regards their being merciful among themselves and showing love among themselves and being kind, resembling one body, so that, if any part of the body is not well then the whole body shares the sleeplessness (insomnia) and fever with it
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا نے بیان کیا، ان سے عامر نے کہا کہ میں نے انہیں یہ کہتے سنا ہے کہ میں نے نعمان بن بشیر سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم مومنوں کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رحمت و محبت کا معاملہ کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ لطف و نرم خوئی میں ایک جسم جیسا پاؤ گے کہ جب اس کا کوئی ٹکڑا بھی تکلیف میں ہوتا ہے، تو سارا جسم تکلیف میں ہوتا ہے ایسا کہ نیند اڑ جاتی ہے اور جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَرَى الْمُؤْمِنِينَ فِي تَرَاحُمِهِمْ وَتَوَادِّهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ كَمَثَلِ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى عُضْوًا تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ جَسَدِهِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى ".
#6012
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) said, "If any Muslim plants any plant and a human being or an animal eats of it, he will be rewarded as if he had given that much in charity
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر کوئی مسلمان کسی درخت کا پودا لگاتا ہے اور اس درخت سے کوئی انسان یا جانور کھاتا ہے تو لگانے والے کے لیے وہ صدقہ ہوتا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا مِنْ مُسْلِمٍ غَرَسَ غَرْسًا فَأَكَلَ مِنْهُ إِنْسَانٌ أَوْ دَابَّةٌ إِلاَّ كَانَ لَهُ صَدَقَةً ".
#6013
Narrated Jarir bin `Abdullah:The Prophet (ﷺ) said, "He who is not merciful to others, will not be treated mercifully
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے زید بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔“
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ لاَ يَرْحَمُ لاَ يُرْحَمُ ".
#6014
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) said "Gabriel continued to recommend me about treating the neighbors Kindly and politely so much so that I thought he would order me to make them as my heirs
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے کہا کہ مجھے ابوبکر بن محمد نے خبر دی، انہیں عمرہ نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جبرائیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے بارے میں باربار اس طرح وصیت کرتے رہے کہ مجھے خیال گزرا کہ شاید پڑوسی کو وراثت میں شریک نہ کر دیں۔“
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا زَالَ يُوصِينِي جِبْرِيلُ بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ ".
#6015
Narrates Ibn `Umar:Allah's Apostle said, Gabriel kept on recommending me about treating the neighbors in a kind and polite manner, so much so that I thought that he would order (me) to make them (my) heirs
ہم سے محمد بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے عمر بن محمد نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جبرائیل علیہ السلام مجھے اس طرح باربار پڑوسی کے حق میں وصیت کرتے رہے کہ مجھے خیال گزرا کہ شاید پڑوسی کو وراثت میں شریک نہ کر دیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ ".
#6016
Narrated Abu Shuraih:The Prophet (ﷺ) said, "By Allah, he does not believe! By Allah, he does not believe! By Allah, he does not believe!" It was said, "Who is that, O Allah's Messenger (ﷺ)?" He said, "That person whose neighbor does not feel safe from his evil
ہم سے عاصم بن علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے سعید نے بیان کیا، ان سے ابوشریح نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ”واللہ! وہ ایمان والا نہیں۔ واللہ! وہ ایمان والا نہیں۔ واللہ! وہ ایمان والا نہیں۔ عرض کیا گیا کون: یا رسول اللہ؟ فرمایا وہ جس کے شر سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو۔ اس حدیث کو شبابہ اور اسد بن موسیٰ نے بھی روایت کیا ہے اور حمید بن اسود اور عثمان بن عمر اور ابوبکر بن عیاش اور شعیب بن اسحاق نے اس حدیث کو ابن ابی ذئب سے یوں روایت کیا ہے، انہوں نے مقبری سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے۔
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " وَاللَّهِ لاَ يُؤْمِنُ، وَاللَّهِ لاَ يُؤْمِنُ، وَاللَّهِ لاَ يُؤْمِنُ ". قِيلَ وَمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " الَّذِي لاَ يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَايِقَهُ ". تَابَعَهُ شَبَابَةُ وَأَسَدُ بْنُ مُوسَى. وَقَالَ حُمَيْدُ بْنُ الأَسْوَدِ وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ وَشُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،.
#6017
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) used to say, "O Muslim ladies! A neighbouress should not look down upon the present of her neighbouress even it were the hooves of a sheep
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا وہ سعید مقبری ہیں، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے ”اے مسلمان عورتو! تم میں سے کوئی عورت اپنی کسی پڑوسن کے لیے کسی بھی چیز کو ( ہدیہ میں ) دینے کے لیے حقیر نہ سمجھے خواہ بکری کا پایہ ہی کیوں نہ ہو۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ـ هُوَ الْمَقْبُرِيُّ ـ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " يَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ لاَ تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا وَلَوْ فِرْسِنَ شَاةٍ ".
#6018
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Anybody who believes in Allah and the Last Day should not harm his neighbor, and anybody who believes in Allah and the Last Day should entertain his guest generously and anybody who believes in Allah and the Last Day should talk what is good or keep quiet. (i.e. abstain from all kinds of evil and dirty talk)
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوالاحوص نے بیان، ان سے ابوحصین نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت کرے اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اچھی بات زبان سے نکالے ورنہ خاموش رہے۔“
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلاَ يُؤْذِ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ ".
#6019
Narrated Abu Shuraih Al-Adawi:My ears heard and my eyes saw the Prophet (ﷺ) when he spoke, "Anybody who believes in Allah and the Last Day, should serve his neighbor generously, and anybody who believes in Allah and the Last Day should serve his guest generously by giving him his reward." It was asked. "What is his reward, O Allah's Messenger (ﷺ)?" He said, "(To be entertained generously) for a day and a night with high quality of food and the guest has the right to be entertained for three days (with ordinary food) and if he stays longer, what he will be provided with will be regarded as Sadaqa (a charitable gift). And anybody who believes in Allah and the Last Day should talk what is good or keep quiet (i.e. abstain from all kinds of dirty and evil talks)
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے سعید مقبری نے بیان کیا، ان سے ابوشریح عدوی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ میرے کانوں نے سنا اور میری آنکھوں نے دیکھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گفتگو فرما رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کا اکرام کرے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی دستور کے موافق ہر طرح سے عزت کرے۔ پوچھا: یا رسول اللہ! دستور کے موافق کب تک ہے۔ فرمایا ایک دن اور ایک رات اور میزبانی تین دن کی ہے اور جو اس کے بعد ہو وہ اس کے لیے صدقہ ہے اور جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ بہتر بات کہے یا خاموش رہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ، قَالَ سَمِعَتْ أُذُنَاىَ، وَأَبْصَرَتْ، عَيْنَاىَ حِينَ تَكَلَّمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ جَائِزَتَهُ ". قَالَ وَمَا جَائِزَتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ وَالضِّيَافَةُ ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ، فَمَا كَانَ وَرَاءَ ذَلِكَ فَهْوَ صَدَقَةٌ عَلَيْهِ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ ".
#6020
Narrated `Aisha:I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have two neighbors! To whom shall I send my gifts?" He said, "To the one whose gate in nearer to you
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ابوعمران نے خبر دی، کہا کہ میں نے طلحہ سے سنا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری پڑوسنیں ہیں ( اگر ہدیہ ایک ہو تو ) میں ان میں سے کس کے پاس ہدیہ بھیجوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس کا دروازہ تم سے ( تمہارے دروازے سے ) زیادہ قریب ہو۔“
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو عِمْرَانَ، قَالَ سَمِعْتُ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي جَارَيْنِ فَإِلَى أَيِّهِمَا أُهْدِي قَالَ " إِلَى أَقْرَبِهِمَا مِنْكِ بَابًا ".
#6021
Narrated Jabir bin `Abdullah:The Prophet (ﷺ) said, Enjoining, all that is good is a Sadaqa
ہم سے علی بن عیاش نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوغسان نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے محمد بن منکدر نے بیان کیا، ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہر نیک کام صدقہ ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ ".
#6022
Narrated Abu Musa Al-Ash`ari:The Prophet (ﷺ) said, "On every Muslim there is enjoined (a compulsory) Sadaqa (alms)." They (the people) said, "If one has nothing?' He said, "He should work with his hands so that he may benefit himself and give in charity." They said, "If he cannot work or does not work?" He said, "Then he should help the oppressed unhappy person (by word or action or both)." They said, "If he does not do it?" He said, "Then he should enjoin what is good (or said what is reasonable).' They said, "If he does not do that''' He said, "Then he should refrain from doing evil, for that will be considered for Him as a Sadaqa (charity)
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے سعید بن ابی بردہ بن ابی موسیٰ اشعری نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ان کے دادا (ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہر مسلمان پر صدقہ کرنا ضروری ہے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اگر کوئی چیز کسی کو ( صدقہ کے لیے ) جو میسر نہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اپنے ہاتھ سے کام کرے اور اس سے خود کو بھی فائدہ پہنچائے اور صدقہ بھی کرے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی اگر اس میں اس کی طاقت نہ ہو یا کہا کہ نہ کر سکے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر کسی حاجت مند پریشان حال کی مدد کرے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اگر وہ یہ بھی نہ کر سکے۔ فرمایا کہ پھر بھلائی کی طرف لوگوں کو رغبت دلائے یا امر بالمعروف کا کرنا عرض کیا اور اگر یہ بھی نہ کر سکے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر برائی سے رکا رہے کہ یہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے۔
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ ". قَالُوا فَإِنْ لَمْ يَجِدْ قَالَ " فَيَعْمَلُ بِيَدَيْهِ فَيَنْفَعُ نَفْسَهُ وَيَتَصَدَّقُ ". قَالُوا فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَوْ لَمْ يَفْعَلْ قَالَ " فَيُعِينُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَ ". قَالُوا فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ قَالَ " فَيَأْمُرُ بِالْخَيْرِ ". أَوْ قَالَ " بِالْمَعْرُوفِ ". قَالَ فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ قَالَ " فَيُمْسِكُ عَنِ الشَّرِّ، فَإِنَّهُ لَهُ صَدَقَةٌ ".
#6023
Narrated `Adi bin Hatim:The Prophet (ﷺ) mentioned the (Hell) Fire and sought refuge (with Allah) from it, and turned his face to the other side. He mentioned the (Hell) Fire again and took refuge (with Allah) from it and turned his face to the other side. (Shu`ba, the sub-narrator, said, "I have no doubt that the Prophet (ﷺ) repeated it twice.") The Prophet (ﷺ) then said, "(O people!) Save yourselves from the (Hell) Fire even if with one half of a date fruit (given in charity), and if this is not available, then (save yourselves) by saying a good pleasant friendly word
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، کہا کہ مجھے عمرو نے خبر دی، انہیں خیثمہ نے اور ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم کا ذکر کیا اور اس سے پناہ مانگی اور چہرے سے اعراض و ناگواری کا اظہار کیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم کا ذکر کیا اور اس سے پناہ مانگی اور چہرے سے اعراض و ناگواری کا اظہار کیا، شعبہ نے بیان کیا کہ دو مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جہنم سے پناہ مانگنے کے سلسلے میں مجھے کوئی شک نہیں ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہنم سے بچو۔ خواہ آدھی کھجور ہی ( کسی کو ) صدقہ کر کے ہو سکے اور اگر کسی کو یہ بھی میسر نہ ہو تو اچھی بات کر کے ہی۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ ذَكَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم النَّارَ، فَتَعَوَّذَ مِنْهَا وَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ، ثُمَّ ذَكَرَ النَّارَ، فَتَعَوَّذَ مِنْهَا، وَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ ـ قَالَ شُعْبَةُ أَمَّا مَرَّتَيْنِ فَلاَ أَشُكُّ ـ ثُمَّ قَالَ " اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ ".
#6024
Narrated `Aisha:(the wife of the Prophet) A group of Jews entered upon the Prophet (ﷺ) and said, "As-Samu-Alaikum." (i.e. death be upon you). I understood it and said, "Wa-Alaikum As-Samu wal-la'n. (death and the curse of Allah be Upon you)." Allah's Messenger (ﷺ) said "Be calm, O `Aisha! Allah loves that on, should be kind and lenient in all matters." I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Haven't you heard what they (the Jews) have said?" Allah's Messenger (ﷺ) said "I have (already) said (to them) "And upon you
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعید نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے عروہ بن زبیر نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ کچھ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا «السام عليكم.» ( تمہیں موت آئے ) عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں اس کا مفہوم سمجھ گئی اور میں نے ان کا جواب دیا کہ «وعليكم السام واللعنة.» ( یعنی تمہیں موت آئے اور لعنت ہو ) بیان کیا کہ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ٹھہرو، اے عائشہ! اللہ تعالیٰ تمام معاملات میں نرمی اور ملائمت کو پسند کرتا ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے سنا نہیں انہوں نے کیا کہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اس کا جواب دے دیا تھا کہ «وعليكم» ( اور تمہیں بھی ) ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ دَخَلَ رَهْطٌ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكُمْ. قَالَتْ عَائِشَةُ فَفَهِمْتُهَا فَقُلْتُ وَعَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ. قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَهْلاً يَا عَائِشَةُ، إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الأَمْرِ كُلِّهِ ". فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَدْ قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ ".
#6025
Narrated Anas bin Malik:A bedouin urinated in the mosque and the people ran to (beat) him. Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not interrupt his urination (i.e. let him finish)." Then the Prophet (ﷺ) asked for a tumbler of water and poured the water over the place of urine
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ایک دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کر دیا تھا۔ صحابہ کرام ان کی طرف دوڑے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے پیشاب کو مت روکو۔ پھر آپ نے پانی کا ڈول منگوایا اور وہ پیشاب کی جگہ پر بہا دیا گیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، بَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَامُوا إِلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لا تُزْرِمُوهُ ". ثُمَّ دَعَا بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَصُبَّ عَلَيْهِ.