#5976
Narrated Abu Bakra:Allah's Messenger (ﷺ) said thrice, "Shall I not inform you of the biggest of the great sins?" We said, "Yes, O Allah's Messenger (ﷺ)" He said, "To join partners in worship with Allah: to be undutiful to one's parents." The Prophet (ﷺ) sat up after he had been reclining and added, "And I warn you against giving forged statement and a false witness; I warn you against giving a forged statement and a false witness." The Prophet kept on saying that warning till we thought that he would not stop
مجھ سے اسحاق بن شاہین واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد واسطی نے بیان کیا، ان سے جریری نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اور ان سے ان کے والد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤں؟ ہم نے عرض کیا ضرور بتائیے یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ٹیک لگائے ہوئے تھے اب آپ سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا آگاہ ہو جاؤ جھوٹی بات بھی اور جھوٹی گواہی بھی ( سب سے بڑے گناہ ہیں ) آگاہ ہو جاؤ جھوٹی بات بھی اور جھوٹی گواہی بھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے مسلسل دہراتے رہے اور میں نے سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش نہیں ہوں گے۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْوَاسِطِيُّ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَلاَ أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ ". قُلْنَا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ " الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ". وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ فَقَالَ " أَلاَ وَقَوْلُ الزُّورِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ، أَلاَ وَقَوْلُ الزُّورِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ ". فَمَا زَالَ يَقُولُهَا حَتَّى قُلْتُ لاَ يَسْكُتُ.
#5977
Narrated Anas bin Malik:Allah's Messenger (ﷺ) mentioned the greatest sins or he was asked about the greatest sins. He said, "To join partners in worship with Allah; to kill a soul which Allah has forbidden to kill; and to be undutiful or unkind to one's parents." The Prophet (ﷺ) added, "Shall I inform you of the biggest of the great sins? That is the forged statement or the false witness." Shu`ba (the sub-narrator) states that most probably the Prophet said, "the false witness
مجھ سے محمد بن ولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبیداللہ بن ابی بکر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبائر کا ذکر کیا یا ( انہوں نے کہا کہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کبائر کے متعلق پوچھا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا، کسی کی ( ناحق ) جان لینا، والدین کی نافرمانی کرنا پھر فرمایا کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ نہ بتا دوں؟ فرمایا کہ جھوٹی بات یا فرمایا کہ جھوٹی شہادت ( سب سے بڑا گناہ ہے ) شعبہ نے بیان کیا کہ میرا غالب گمان یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹی گواہی فرمایا تھا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْكَبَائِرَ، أَوْ سُئِلَ عَنِ الْكَبَائِرِ فَقَالَ " الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ". فَقَالَ " أَلاَ أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ ـ قَالَ ـ قَوْلُ الزُّورِ ـ أَوْ قَالَ ـ شَهَادَةُ الزُّورِ ". قَالَ شُعْبَةُ وَأَكْثَرُ ظَنِّي أَنَّهُ قَالَ " شَهَادَةُ الزُّورِ ".
#5978
Narrated Asma' bint Abu Bakr:My mother came to me, hoping (for my favor) during the lifetime of the Prophet. I asked the Prophet, "May I treat her kindly?" He replied, "Yes." Ibn 'Uyaina said, "Then Allah revealed: 'Allah forbids you not with regards to those who fought not against you because of religion, and drove you not out from your homes, that you should show them kindness and deal justly with them
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہا مجھ کو میرے والد نے خبر دی، انہیں اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ میری والدہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں میرے پاس آئیں، وہ اسلام سے منکر تھیں۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا میں اس کے ساتھ صلہ رحمی کر سکتی ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «لا ينهاكم الله عن الذين لم يقاتلوكم في الدين» یعنی ”اللہ پاک تم کو ان لوگوں کے ساتھ نیک سلوک کرنے سے منع نہیں کرتا جو تم سے ہمارے دین کے متعلق کوئی لڑائی جھگڑا نہیں کرتے۔“
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، أَخْبَرَتْنِي أَسْمَاءُ ابْنَةُ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَتْ أَتَتْنِي أُمِّي رَاغِبَةً فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم آصِلُهَا قَالَ " نَعَمْ ". قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِيهَا {لاَ يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ}
#5979
Narrated Asma':"My mother who was a Mushrikah (pagan, etc.), came with her father during the period of peace pact between the Muslims and the Quraish infidels. I went to seek the advice of the Prophet (ﷺ) saying, "My mother has arrived and she is hoping (for my favor)." The Prophet (ﷺ) said, "Yes, be good to your mother
اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے ہشام نے بیان کیا، ان سے عروہ نے اور ان سے اسماء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میری والدہ مشرکہ تھیں وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریش کے ساتھ صلح کے زمانہ میں اپنے والد کے ساتھ ( مدینہ منورہ ) آئیں۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے متعلق پوچھا کہ میری والدہ آئی ہیں اور وہ اسلام سے الگ ہیں ( کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کر سکتی ہوں؟ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اپنی والدہ کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔
وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي هِشَامٌ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ قَدِمَتْ أُمِّي وَهْىَ مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ وَمُدَّتِهِمْ، إِذْ عَاهَدُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَعَ أَبِيهَا، فَاسْتَفْتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ وَهْىَ رَاغِبَةٌ {أَفَأَصِلُهَا} قَالَ " نَعَمْ صِلِي أُمَّكِ ".
#5980
Narrated Abu Sufyan:That Heraclius sent for him and said, "What did he, i.e. the Prophet (ﷺ) order you?" I replied, "He orders us to offer prayers; to give alms; to be chaste; and to keep good relations with our relatives
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی اور انہیں ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ہرقل نے انہیں بلا بھیجا تو انہوں نے اسے بتایا کہ وہ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز، صدقہ، پاک دامنی اور صلہ رحمی کا حکم فرماتے ہیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ أَخْبَرَهُ أَنَّ هِرَقْلَ أَرْسَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُنَا بِالصَّلاَةِ وَالصَّدَقَةِ وَالْعَفَافِ وَالصِّلَةِ.
#5981
Narrated Ibn `Umar:My father, seeing a silken cloak being sold, said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Buy this and wear it on Fridays and when the foreign delegates pay a visit to you." He said, "This is worn only by that person who will have no share in the Hereafter." Later a few silken cloaks were given to the Prophet (ﷺ) as a gift, and he sent one of those cloaks to `Umar. `Umar said (to the Prophet), "How can I wear it while you have said about it what you said?" The Prophet (ﷺ) said, "I did not give it to you to wear but to sell or to give to someone else to wear." So `Umar sent it to his (pagan) brother who was from the inhabitants of Mecca before he (`Umar's brother) embraced Islam
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے سیراء کا ( ایک ریشمی ) حلہ بکتے دیکھا تو عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ اسے خرید لیں اور جمعہ کے دن اور جب آپ کے پاس وفود آئیں تو اسے پہنا کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے تو وہی پہن سکتا ہے جس کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہ ہو۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسی قسم کے کئی حلے آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ایک حلہ عمر رضی اللہ عنہ کے لیے بھیجا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میں اسے کیسے پہن سکتا ہوں جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے متعلق پہلے ممانعت فرما چکے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اسے تمہیں پہننے کے لیے نہیں دیا بلکہ اس لیے دیا ہے کہ تم اسے بیچ دو یا کسی دوسرے کو پہنا دو چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے وہ حلہ اپنے ایک بھائی کو بھیج دیا جو مکہ مکرمہ میں تھے اور اسلام نہیں لائے تھے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ رَأَى عُمَرُ حُلَّةَ سِيَرَاءَ تُبَاعُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْتَعْ هَذِهِ، وَالْبَسْهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَإِذَا جَاءَكَ الْوُفُودُ. قَالَ " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ ". فَأُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنْهَا بِحُلَلٍ، فَأَرْسَلَ إِلَى عُمَرَ بِحُلَّةٍ فَقَالَ كَيْفَ أَلْبَسُهَا وَقَدْ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ قَالَ " إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهَا لِتَلْبَسَهَا، وَلَكِنْ تَبِيعُهَا أَوْ تَكْسُوهَا ". فَأَرْسَلَ بِهَا عُمَرُ إِلَى أَخٍ لَهُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ.
#5982
Narrated Abu Ayyub Al-Ansari:It was said" "O Allah's Messenger! Inform me of a deed which will make me enter Paradise." (continues through a different chain in the next hadith)
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ابن عثمان نے خبر دی، کہا کہ میں نے موسیٰ بن طلحہ سے سنا اور ان سے ابوایوب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہا گیا کہ یا رسول اللہ! کوئی ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں لے جائے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ عُثْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ، يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ.
#5983
Narrated Abu Aiyub Al-Ansari:A man said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Inform me of a deed which will make me enter Paradise." The people said, "What is the matter with him? What is the matter with him?" Allah's Messenger (ﷺ) said, "He has something to ask (what he needs greatly)." The Prophet (ﷺ) said (to him), (In order to enter Paradise) you should worship Allah and join none in worship with Him: You should offer prayers perfectly, give obligatory charity (Zakat), and keep good relations with your Kith and kin." He then said, "Leave it!" (The sub-narrator said, "It seems that the Prophet (ﷺ) was riding his she camel
(دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن بشر نے بیان کیا، ان سے بہز بن اسد بصریٰ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابن عثمان بن عبداللہ بن موہب اور ان کے والد عثمان بن عبداللہ نے بیان کیا کہ انہوں نے موسیٰ بن طلحہ سے سنا اور انہوں نے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے کہ ایک صاحب نے کہا: یا رسول اللہ! کوئی ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں لے جائے۔ اس پر لوگوں نے کہا کہ اسے کیا ہو گیا ہے، اسے کیا ہو گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیوں ہو کیا گیا ہے؟ اجی اس کو ضرورت ہے بیچارہ اس لیے پوچھتا ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اللہ کی عبادت کر اور اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کر، نماز قائم کر، زکوٰۃ دیتے رہو اور صلہ رحمی کرتے رہو۔ ( بس یہ اعمال تجھ کو جنت میں لے جائیں گے ) چل اب نکیل چھوڑ دے۔ راوی نے کہا شاید اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار تھے۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، وَأَبُوهُ، عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُمَا سَمِعَا مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ ـ رضى الله عنه أَنَّ رَجُلاً قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ. فَقَالَ الْقَوْمُ مَالَهُ مَالَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَرَبٌ مَالَهُ ". فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " تَعْبُدُ اللَّهَ لاَ تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلاَةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصِلُ الرَّحِمَ، ذَرْهَا ". قَالَ كَأَنَّهُ كَانَ عَلَى رَاحِلَتِهِ.
#5984
Narrated Jubair bin Mut`im:That he heard the Prophet (ﷺ) saying, "The person who severs the bond of kinship will not enter Paradise
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے محمد بن جبیر بن مطعم نے بیان کیا اور انہیں ان کے والد جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے خبر دی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قطع رحمی کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ إِنَّ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ ".
#5985
Narrated Abu Huraira:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "Who ever is pleased that he be granted more wealth and that his lease of life be pro longed, then he should keep good relations with his Kith and kin
مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن معن نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید بن ابی سعید نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جسے پسند ہے کہ اس کی روزی میں فراخی ہو اور اس کی عمردراز کی جائے تو وہ صلہ رحمی کیا کرے۔
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْنٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ، وَأَنْ يُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ، فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ ".
#5986
Narrated Anas bin Malik:Allah's Apostle said, "Whoever loves that he be granted more wealth and that his lease of life be prolonged then he should keep good relations with his Kith and kin
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو چاہتا ہو کہ اس کے رزق میں فراخی ہو اور اس کی عمردراز ہو تو وہ صلہ رحمی کیا کرے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ، وَيُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ، فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ ".
#5987
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Allah created the creations, and when He finished from His creations, Ar-Rahm i.e., womb said, "(O Allah) at this place I seek refuge with You from all those who sever me (i.e. sever the ties of Kith and kin). Allah said, 'Yes, won't you be pleased that I will keep good relations with the one who will keep good relations with you, and I will sever the relation with the one who will sever the relations with you.' It said, 'Yes, O my Lord.' Allah said, 'Then that is for you ' " Allah's Messenger (ﷺ) added. "Read (in the Qur'an) if you wish, the Statement of Allah: 'Would you then, if you were given the authority, do mischief in the land and sever your ties of kinship?
مجھ سے بشر بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو معاویہ بن ابی مزرد نے خبر دی، کہا کہ میں نے اپنے چچا سعید بن یسار سے سنا، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مخلوق پیدا کی اور جب اس سے فراغت ہوئی تو رحم نے عرض کیا کہ یہ اس شخص کی جگہ ہے جو قطع رحمی سے تیری پناہ مانگے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہاں کیا تم اس پر راضی نہیں کہ میں اس سے جوڑوں گا جو تم سے اپنے آپ کو جوڑے اور اس سے توڑ لوں گا جو تم سے اپنے آپ کو توڑ لے؟ رحم نے کہا کیوں نہیں، اے رب! اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پس یہ تجھ کو دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد فرمایا کہ اگر تمہارا جی چاہے تو یہ آیت پڑھ لو «فهل عسيتم إن توليتم أن تفسدوا في الأرض وتقطعوا أرحامكم» یعنی ”کچھ عجیب نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم ملک میں فساد برپا کرو اور رشتے ناطے توڑ ڈالو۔“
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي مُزَرِّدٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَمِّي، سَعِيدَ بْنَ يَسَارٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْخَلْقَ حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْ خَلْقِهِ، قَالَتِ الرَّحِمُ هَذَا مَقَامُ الْعَائِذِ بِكَ مِنَ الْقَطِيعَةِ. قَالَ نَعَمْ أَمَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ. وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ. قَالَتْ بَلَى يَا رَبِّ. قَالَ فَهْوَ لَكِ ". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ {فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ}".
#5988
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "The word 'Ar-Rahm (womb) derives its name from Ar-Rahman (i.e., one of the names of Allah) and Allah said: 'I will keep good relation with the one who will keep good relation with you, (womb i.e. Kith and Kin) and sever the relation with him who will sever the relation with you, (womb, i.e. Kith and Kin)
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن دینار نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رحم کا تعلق رحمن سے جڑا ہوا ہے پس جو کوئی اس سے اپنے آپ کو جوڑتا ہے اللہ پاک نے فرمایا کہ میں بھی اس کو اپنے سے جوڑ لیتا ہوں اور جو کوئی اسے توڑتا ہے میں بھی اپنے آپ کو اس سے توڑ لیتا ہوں۔
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الرَّحِمَ سُجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ اللَّهُ مَنْ وَصَلَكِ وَصَلْتُهُ، وَمَنْ قَطَعَكِ قَطَعْتُهُ ".
#5989
Narrated `Aisha:(the wife of the Prophet) The Prophet (ﷺ) said, "The word 'Ar-Rahm' (womb) derives its name from 'Ar- Rahman' (i.e. Allah). So whosoever keeps good relations with it (womb i.e. Kith and kin), Allah will keep good relations with him, and whosoever will sever it (i.e. severs his bonds of Kith and kin) Allah too will sever His relations with him
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے، انہوں نے کہا مجھ کو معاویہ بن ابی مزرد نے خبر دی، انہوں نے یزید بن رومان سے، انہوں نے عروہ سے، ام المؤمنین انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رحم ( رشتہ داری رحمن سے ملی ہوئی ) شاخ ہے جو شخص اس سے ملے میں اس سے ملتا ہوں اور جو اس سے قطع تعلق کرے میں اس سے قطع تعلق کرتا ہوں۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي مُزَرِّدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الرَّحِمُ شِجْنَةٌ، فَمَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُهُ، وَمَنْ قَطَعَهَا قَطَعْتُهُ ".
#5990
Narrated `Amr bin Al-`As:I heard the Prophet (ﷺ) saying openly not secretly, "The family of Abu so-and-so (i.e. Talib) are not among my protectors." `Amr said that there was a blank space (1) in the Book of Muhammad bin Ja`far. He added, "My Protector is Allah and the righteous believing people." `Amr bin Al-`As added: I heard the Prophet (ﷺ) saying, 'But they (that family) have kinship (Rahm) with me and I will be good and dutiful to them
ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ فلاں کی اولاد ( یعنی ابوسفیان بن حکم بن عاص یا ابولہب کی اولاد ) یہ عمرو بن عباس نے کہا کہ محمد بن جعفر کی کتاب میں اس وہم پر سفید جگہ خالی تھی ( یعنی تحریر نہ تھی ) میرے عزیز نہیں ہیں ( گو ان سے نسبی رشتہ ہے ) میرا ولی تو اللہ ہے اور میرے عزیز تو ولی ہیں جو مسلمانوں میں نیک اور پرہیزگار ہیں ( گو ان سے نسبی رشتہ بھی نہ ہو ) ۔ عنبسہ بن عبدالواحد نے بیان بن بشر سے، انہوں نے قیس سے، انہوں نے عمرو بن العاص سے اتنا بڑھایا ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا البتہ ان سے میرا رشتہ ناطہٰ ہے اگر وہ تر رکھیں گے تو میں بھی تر رکھوں گا یعنی وہ ناطہٰ جوڑیں گے تو میں بھی جوڑوں گا۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جِهَارًا غَيْرَ سِرٍّ يَقُولُ " إِنَّ آلَ أَبِي " ـ قَالَ عَمْرٌو فِي كِتَابِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ بَيَاضٌ ـ لَيْسُوا بِأَوْلِيَائِي، إِنَّمَا وَلِيِّيَ اللَّهُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ. زَادَ عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ عَنْ بَيَانٍ عَنْ قَيْسٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم " وَلَكِنْ لَهُمْ رَحِمٌ أَبُلُّهَا بِبَلاَلِهَا ". يَعْنِي أَصِلُهَا بِصِلَتِهَا.
#5991
Narrated `Abdullah bin `Amr:The Prophet (ﷺ) said, "Al-Wasil is not the one who recompenses the good done to him by his relatives, but Al-Wasil is the one who keeps good relations with those relatives who had severed the bond of kinship with him
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں اعمش اور حسن بن عمرو اور فطر بن خلیفہ نے، ان سے مجاہد بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے سفیان سے، کہا کہ اعمش نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع نہیں بیان کی لیکن حسن اور فطر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کیا، فرمایا کہ کسی کام کا بدلہ دینا صلہ رحمی نہیں ہے بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس کے ساتھ صلہ رحمی کا معاملہ نہ کیا جا رہا ہو تب بھی وہ صلہ رحمی کرے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، وَالْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو، وَفِطْرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ـ وَقَالَ سُفْيَانُ لَمْ يَرْفَعْهُ الأَعْمَشُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَرَفَعَهُ حَسَنٌ وَفِطْرٌ ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ، وَلَكِنِ الْوَاصِلُ الَّذِي إِذَا قَطَعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا ".
#5992
Narrated Hakim bin Hizam:That he said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! What do you think about my good deeds which I used to do during the period of ignorance (before embracing Islam) like keeping good relations with my Kith and kin, manumitting of slaves and giving alms etc; Shall I receive the reward for that?" Allah's Messenger (ﷺ) said, "You have embraced Islam with all those good deeds which you did
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے کہا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی اور انہیں حکیم بن حزام نے خبر دی، انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ کا ان کاموں کے بارے میں کیا خیال ہے جنہیں میں عبادت سمجھ کر زمانہ جاہلیت میں کرتا تھا مثلاً صلہ رحمی، غلام کی آزادی، صدقہ، کیا مجھے ان پر ثواب ملے گا؟ حکیم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے تم ان تمام اعمال خیر کے ساتھ اسلام لائے ہو جو پہلے کر چکے ہو۔ اور بعضوں نے ابوالیمان سے بجائے «اتحنث» کے «اتحت» ( تاء کے ساتھ ) روایت کیا ہے اور معمر اور صالح اور ابن مسافر نے بھی «اتحت» روایت کیا ہے۔ ابن اسحاق نے کہا «اتحنث»، «تحت» سے نکلا ہے اس کے معنی مثل اور عبادت کرنا۔ ہشام نے بھی اپنے والد عروہ سے ان لوگوں کی متابعت کی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ صِلَةٍ وَعَتَاقَةٍ وَصَدَقَةٍ، هَلْ لِي فِيهَا مِنْ أَجْرٍ. قَالَ حَكِيمٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَسْلَمْتَ عَلَى مَا سَلَفَ مِنْ خَيْرٍ ". وَيُقَالُ أَيْضًا عَنْ أَبِي الْيَمَانِ أَتَحَنَّثُ. وَقَالَ مَعْمَرٌ وَصَالِحٌ وَابْنُ الْمُسَافِرِ أَتَحَنَّثُ. وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ التَّحَنُّثُ التَّبَرُّرُ، وَتَابَعَهُمْ هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ.
#5993
Narrated Sa`id:Um Khalid bint Khalid bin Sa`id said, "I came to Allah's Messenger (ﷺ) along with my father and I was wearing a yellow shirt. Allah's Messenger (ﷺ) said, "Sanah Sanah!" (`Abdullah, the sub-narrator said, "It means, 'Nice, nice!' in the Ethiopian language.") Um Khalid added, "Then I started playing with the seal of Prophethood. My father admonished me. But Allah's Messenger (ﷺ) said (to my father), "Leave her," Allah's Messenger (ﷺ) (then addressing me) said, "May you live so long that your dress gets worn out, and you will mend it many times, and then wear another till it gets worn out (i.e. May Allah prolong your life)." (The sub-narrator, `Abdullah aid, "That garment (which she was wearing remained usable for a long period)
ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں خالد بن سعید نے، انہیں ان کے والد نے، ان سے ام خالد بنت سعید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے والد کے ساتھ حاضر ہوئی۔ میں ایک زرد قمیص پہنے ہوئے تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ”سنہ سنہ“ عبداللہ بن مبارک نے کہا کہ یہ حبشی زبان میں ”اچھا“ کے معنی میں ہے۔ ام خالد نے بیان کیا کہ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتم نبوت سے کھیلنے لگی تو میرے والد نے مجھے ڈانٹا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے کھیلنے دو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم ایک زمانہ تک زندہ رہو گی اللہ تعالیٰ تمہاری عمر خوب طویل کرے، تمہاری زندگی دراز ہو۔ عبداللہ نے بیان کیا چنانچہ انہوں نے بہت ہی طویل عمر پائی اور ان کی طول عمر کے چرچے ہونے لگے۔
حَدَّثَنَا حِبَّانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَتْ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَ أَبِي وَعَلَىَّ قَمِيصٌ أَصْفَرُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " سَنَهْ سَنَهْ ". قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَهْىَ بِالْحَبَشِيَّةِ حَسَنَةٌ. قَالَتْ فَذَهَبْتُ أَلْعَبُ بِخَاتَمِ النُّبُوَّةِ، فَزَجَرَنِي أَبِي. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " دَعْهَا ". ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَبْلِي وَأَخْلِقِي، ثُمَّ أَبْلِي وَأَخْلِقِي، ثُمَّ أَبْلِي وَأَخْلِقِي ". قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَبَقِيَتْ حَتَّى ذَكَرَ. يَعْنِي مِنْ بَقَائِهَا.
#5994
Narrated Ibn Abi Na'm:I was present when a man asked Ibn `Umar about the blood of mosquitoes. Ibn `Umar said, "From where are you?" The man replied. "From Iraq." Ibn `Umar said, "Look at that! he is asking me about the blood of Mosquitoes while they (the Iraqis ) have killed the (grand) son of the Prophet. I have heard the Prophet (ﷺ) saying, "They (Hasan and Husain) are my two sweet-smelling flowers in this world
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے مہدی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن یعقوب نے بیان کیا، ان سے ابونعیم نے بیان کیا کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں موجود تھا ان سے ایک شخص نے ( حالت احرام میں ) مچھر کے مارنے کے متعلق پوچھا ( کہ اس کا کیا کفارہ ہو گا ) ابن عمر رضی اللہ عنہما نے دریافت فرمایا کہ تم کہاں کے ہو؟ اس نے بتایا کہ عراق کا، فرمایا کہ اس شخص کو دیکھو، ( مچھر کی جان لینے کے تاوان کا مسئلہ پوچھتا ہے ) حالانکہ اس کے ملک والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسہ کو ( بےتکلف قتل کر ڈالا ) میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ یہ دونوں ( حسن اور حسین رضی اللہ عنہما ) دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، قَالَ كُنْتُ شَاهِدًا لاِبْنِ عُمَرَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ. فَقَالَ مِمَّنْ أَنْتَ فَقَالَ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ. قَالَ انْظُرُوا إِلَى هَذَا، يَسْأَلُنِي عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " هُمَا رَيْحَانَتَاىَ مِنَ الدُّنْيَا ".
#5995
Narrated `Aisha:(the wife of the Prophet) A lady along with her two daughters came to me asking me (for some alms), but she found nothing with me except one date which I gave to her and she divided it between her two daughters, and then she got up and went away. Then the Prophet (ﷺ) came in and I informed him about this story. He said, "Whoever is in charge of (put to test by) these daughters and treats them generously, then they will act as a shield for him from the (Hell) Fire
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبداللہ بن ابی بکر نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میرے یہاں ایک عورت ( اور ) اس کے ساتھ دو بچیاں تھیں، وہ مانگنے آئی تھی۔ میرے پاس سے سوا ایک کھجور کے اسے اور کچھ نہ ملا۔ میں نے اسے وہ کھجور دے دی اور اس نے وہ کھجور اپنی دونوں لڑکیوں کو تقسیم کر دی۔ پھر اٹھ کر چلی گئی اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص بھی اس طرح کی لڑکیوں کی پرورش کرے گا اور ان کے ساتھ اچھا معاملہ کرے گا تو یہ اس کے لیے جہنم سے پردہ بن جائیں گی۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَدَّثَتْهُ قَالَتْ جَاءَتْنِي امْرَأَةٌ مَعَهَا ابْنَتَانِ تَسْأَلُنِي، فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي غَيْرَ تَمْرَةٍ وَاحِدَةٍ، فَأَعْطَيْتُهَا، فَقَسَمَتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا، ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ " مَنْ يَلِي مِنْ هَذِهِ الْبَنَاتِ شَيْئًا فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ ".
#5996
Narrated Abu Qatada:The Prophet (ﷺ) came out towards us, while carrying Umamah, the daughter of Abi Al-As (his granddaughter) over his shoulder. He prayed, and when he wanted to bow, he put her down, and when he stood up, he lifted her up
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید مقبری نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن سلیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور امامہ بنت ابی العاص ( جو بچی تھیں ) وہ آپ کے شانہ مبارک پر تھیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی جب آپ رکوع کرتے تو انہیں اتار دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو پھر اٹھا لیتے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سُلَيْمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو قَتَادَةَ، قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأُمَامَةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ عَلَى عَاتِقِهِ، فَصَلَّى فَإِذَا رَكَعَ وَضَعَهَا، وَإِذَا رَفَعَ رَفَعَهَا.
#5997
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) kissed Al-Hasan bin `Ali while Al-Aqra' bin H`Abis at-Tamim was sitting beside him. Al-Aqra said, "I have ten children and I have never kissed anyone of them," Allah's Messenger (ﷺ) cast a look at him and said, "Whoever is not merciful to others will not be treated mercifully
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے خبر دی، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو بوسہ دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے۔ اقرع رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ میرے دس لڑکے ہیں اور میں نے ان میں سے کسی کو بوسہ نہیں دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ جو اللہ کی مخلوق پر رحم نہیں کرتا اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَبَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ وَعِنْدَهُ الأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ التَّمِيمِيُّ جَالِسًا. فَقَالَ الأَقْرَعُ إِنَّ لِي عَشَرَةً مِنَ الْوَلَدِ مَا قَبَّلْتُ مِنْهُمْ أَحَدًا. فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ " مَنْ لاَ يَرْحَمُ لاَ يُرْحَمُ ".
#5998
Narrated `Aisha:A bedouin came to the Prophet (ﷺ) and said, "You (people) kiss the boys! We don't kiss them." The Prophet said, "I cannot put mercy in your heart after Allah has taken it away from it
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا آپ لوگ بچوں کو بوسہ دیتے ہیں، ہم تو انہیں بوسہ نہیں دیتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اللہ نے تمہارے دل سے رحم نکال دیا ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ تُقَبِّلُونَ الصِّبْيَانَ فَمَا نُقَبِّلُهُمْ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَوَ أَمْلِكُ لَكَ أَنْ نَزَعَ اللَّهُ مِنْ قَلْبِكَ الرَّحْمَةَ ".
#5999
Narrated `Umar bin Al-Khattab:Some Sabi (i.e. war prisoners, children and woman only) were brought before the Prophet (ﷺ) and behold, a woman amongst them was milking her breasts to feed and whenever she found a child amongst the captives, she took it over her chest and nursed it (she had lost her child but later she found him) the Prophet said to us, "Do you think that this lady can throw her son in the fire?" We replied, "No, if she has the power not to throw it (in the fire)." The Prophet (ﷺ) then said, "Allah is more merciful to His slaves than this lady to her son
ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوغسان نے، کہا کہ مجھ سے زید بن اسلم نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے قیدیوں میں ایک عورت تھی جس کا پستان دودھ سے بھرا ہوا تھا اور وہ دوڑ رہی تھی، اتنے میں ایک بچہ اس کو قیدیوں میں ملا اس نے جھٹ اپنے پیٹ سے لگا لیا اور اس کو دودھ پلانے لگی۔ ہم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم خیال کر سکتے ہو کہ یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں ڈال سکتی ہے ہم نے عرض کیا کہ نہیں جب تک اس کو قدرت ہو گی یہ اپنے بچے کو آگ میں نہیں پھینک سکتی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اللہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے جتنا یہ عورت اپنے بچہ پر مہربان ہو سکتی ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم سَبْىٌ، فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنَ السَّبْىِ قَدْ تَحْلُبُ ثَدْيَهَا تَسْقِي، إِذَا وَجَدَتْ صَبِيًّا فِي السَّبْىِ أَخَذَتْهُ فَأَلْصَقَتْهُ بِبَطْنِهَا وَأَرْضَعَتْهُ، فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَتَرَوْنَ هَذِهِ طَارِحَةً وَلَدَهَا فِي النَّارِ ". قُلْنَا لاَ وَهْىَ تَقْدِرُ عَلَى أَنْ لاَ تَطْرَحَهُ. فَقَالَ " اللَّهُ أَرْحَمُ بِعِبَادِهِ مِنْ هَذِهِ بِوَلَدِهَا ".
#6000
Narrated Abu Huraira:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, Allah divided Mercy into one hundred parts. He kept ninety nine parts with Him and sent down one part to the earth, and because of that, its one single part, His Creations are merciful to each other, so that even the mare lifts up its hoofs away from its baby animal, lest it should trample on it
ہم سے حکم بن نافع نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا ہم کو سعید بن مسیب نے خبر دی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے رحمت کے سو حصے بنائے اور اپنے پاس ان میں سے ننانوے حصے رکھے صرف ایک حصہ زمین پر اتارا اور اسی کی وجہ سے تم دیکھتے ہو کہ مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے، یہاں تک کہ گھوڑی بھی اپنے بچہ کو اپنے سم نہیں لگنے دیتی بلکہ سموں کو اٹھا لیتی ہے کہ کہیں اس سے اس کے بچہ کو تکلیف نہ پہنچے۔
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " جَعَلَ اللَّهُ الرَّحْمَةَ مِائَةَ جُزْءٍ، فَأَمْسَكَ عِنْدَهُ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ جُزْءًا، وَأَنْزَلَ فِي الأَرْضِ جُزْءًا وَاحِدًا، فَمِنْ ذَلِكَ الْجُزْءِ يَتَرَاحَمُ الْخَلْقُ، حَتَّى تَرْفَعَ الْفَرَسُ حَافِرَهَا عَنْ وَلَدِهَا خَشْيَةَ أَنْ تُصِيبَهُ ".