#5951
Narrated `Abdullah bin `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Those who make these pictures will be punished on the Day of Resurrection, and it will be said to them. 'Make alive what you have created
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو لوگ یہ مورتیں بناتے ہیں انہیں قیامت کے دن عذاب کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جس کو تم نے بنایا ہے اب اس میں جان بھی ڈالو۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الَّذِينَ يَصْنَعُونَ هَذِهِ الصُّوَرَ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ ".
#5952
Narrated `Aisha:I never used to leave in the Prophet (ﷺ) house anything carrying images or crosses but he obliterated it
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، ان سے ہشام دستوائی نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے عمران بن حطان نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر میں جب بھی کوئی چیز ایسی ملتی جس پر صلیب کی مورت بنی ہو ( جیسے نصاریٰ رکھتے ہیں ) تو اس کو توڑ ڈالتے۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ حَدَّثَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَكُنْ يَتْرُكُ فِي بَيْتِهِ شَيْئًا فِيهِ تَصَالِيبُ إِلاَّ نَقَضَهُ.
#5953
Narrated Abu Zur'a:l entered a house in Medina with Abu Huraira, and he saw a man making pictures at the top of the house. Abu Huraira said, "I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying that Allah said, 'Who would be more unjust than the one who tries to create the like of My creatures? Let them create a grain: let them create a gnat.' "Abu Huraira then asked for a water container and washed his arms up to his armpits. I said, "0 Abu i Huraira! Is this something you have heard I from Allah's Messenger (ﷺ)?" He said, "The limit for ablution is up to the place where the ornaments will reach on the Day of Resurrection
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالواحد نے، کہا ہم سے عمارہ نے، کہا ہم سے ابوزرعہ نے، کہا کہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ میں ( مروان بن حکم کے گھر میں ) گیا تو انہوں نے چھت پر ایک مصور کو دیکھا جو تصویر بنا رہا تھا، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ) اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو میری مخلوق کی طرح پیدا کرنے چلا ہے اگر اسے یہی گھمنڈ ہے تو اسے چاہیئے کہ ایک دانہ پیدا کرے، ایک چیونٹی پیدا کرے۔ پھر انہوں نے پانی کا ایک طشت منگوایا اور اپنے ہاتھ اس میں دھوئے۔ جب بغل دھونے لگے تو میں نے عرض کیا ابوہریرہ! کیا ( بغل تک دھونے کے بارے میں ) تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہے انہوں نے کہا میں نے جہاں تک زیور پہنا جا سکتا ہے وہاں تک دھویا ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ، قَالَ دَخَلْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ دَارًا بِالْمَدِينَةِ فَرَأَى أَعْلاَهَا مُصَوِّرًا يُصَوِّرُ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ كَخَلْقِي، فَلْيَخْلُقُوا حَبَّةً، وَلْيَخْلُقُوا ذَرَّةً ". ثُمَّ دَعَا بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ فَغَسَلَ يَدَيْهِ حَتَّى بَلَغَ إِبْطَهُ فَقُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَشَىْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ مُنْتَهَى الْحِلْيَةِ.
#5954
Narrated `Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) returned from a journey when I had placed a curtain of mine having pictures over (the door of) a chamber of mine. When Allah's Messenger (ﷺ) saw it, he tore it and said, "The people who will receive the severest punishment on the Day of Resurrection will be those who try to make the like of Allah's creations." So we turned it (i.e., the curtain) into one or two cushions
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے سنا، ان دنوں مدینہ منورہ میں ان سے بڑھ کر عالم فاضل نیک کوئی آدمی نہیں تھا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد ( قاسم بن ابی بکر ) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر ( غزوہ تبوک ) سے تشریف لائے تو میں نے اپنے گھر کے سائبان پر ایک پردہ لٹکا دیا تھا، اس پر تصویریں تھیں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو اسے کھینچ کر پھینک دیا اور فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب میں وہ لوگ گرفتار ہوں گے جو اللہ کی مخلوق کی طرح خود بھی بناتے ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر میں نے پھاڑ کر اس پردہ کی ایک یا دو توشک بنا لیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ ـ وَمَا بِالْمَدِينَةِ يَوْمَئِذٍ أَفْضَلُ مِنْهُ ـ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ سَفَرٍ وَقَدْ سَتَرْتُ بِقِرَامٍ لِي عَلَى سَهْوَةٍ لِي فِيهَا تَمَاثِيلُ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَتَكَهُ وَقَالَ " أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ ". قَالَتْ فَجَعَلْنَاهُ وِسَادَةً أَوْ وِسَادَتَيْنِ.
#5955
Narrated Aisha:The Prophet (ﷺ) returned from a journey when I had hung a thick curtain having pictures (in front of a door). He ordered me to remove it and I removed it
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن داؤد نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے آئے اور میں نے پردہ لٹکا رکھا تھا جس میں تصویریں تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کے اتار لینے کا حکم دیا تو میں نے اسے اتار لیا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنْ سَفَرٍ، وَعَلَّقْتُ دُرْنُوكًا فِيهِ تَمَاثِيلُ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَنْزِعَهُ، فَنَزَعْتُهُ.
#5956
Aisha added:The Prophet (ﷺ) and I used to take a bath from one container (of water)
اور میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن میں غسل جنابت کیا کرتے تھے۔
وَكُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَالنَّبِيُّ، صلى الله عليه وسلم مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ.
#5957
Narrated `Aisha:I purchased a cushion with pictures on it. The Prophet (came and) stood at the door but did not enter. I said (to him), "I repent to Allah for what (the guilt) I have done." He said, "What is this cushion?" I said, "It is for you to sit on and recline on." He said, "The makers of these pictures will be punished on the Day of Resurrection and it will be said to them, 'Make alive what you have created.' Moreover, the angels do not enter a house where there are pictures
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ انہوں نے ایک گدا خریدا جس پر تصویریں تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اسے دیکھ کر ) دروازے پر کھڑے ہو گئے اور اندر تشریف نہیں لائے۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں نے جو غلطی کی ہے اس سے میں اللہ سے معافی مانگتی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ گدا کس لیے ہے؟ میں نے عرض کیا کہ آپ کے بیٹھنے اور اس پر ٹیک لگانے کے لیے ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان مورت کے بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو تم نے پیدا کیا ہے اسے زندہ بھی کر کے دکھاؤ اور فرشتے اس گھر میں نہیں داخل ہوتے جس میں مورت ہو۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ، فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْ. فَقُلْتُ أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ مِمَّا أَذْنَبْتُ. قَالَ " مَا هَذِهِ النُّمْرُقَةُ ". قُلْتُ لِتَجْلِسَ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدَهَا. قَالَ " إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ. وَإِنَّ الْمَلاَئِكَةَ لاَ تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ الصُّورَةُ ".
#5958
Narrated Abu Talha:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Angels (of mercy) do not enter a house where there are pictures.'" The subnarrator Busr added: "Then Zaid fell ill and we paid him a visit. Behold! There was, hanging at his door, a curtain decorated with a picture. I said to 'Ubaidullah Al-Khaulani, the step son of Maimuna, the wife of the Prophet (ﷺ) , "Didn't Zaid tell us about the picture the day before yesterday?" 'Ubaidullah said, "Didn't you hear him saying: 'except a design in a garment'?
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے بکیر بن عبداللہ نے، ان سے بسر بن سعید نے اور ان سے زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”فرشتے اس گھر میں نہیں داخل ہوتے جس میں تصویریں ہوں۔“ بسر نے بیان کیا کہ ( اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد ) پھر زید رضی اللہ عنہ بیمار پڑے تو ہم ان کی مزاج پرسی کے لیے گئے۔ ہم نے دیکھا کہ ان کے دروازہ پر ایک پردہ پڑا ہوا ہے جس پر تصویر ہے۔ میں نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے ربیب عبیداللہ بن اسود سے کہا کہ زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے ہمیں اس سے پہلے ایک مرتبہ تصویروں کے متعلق حدیث سنائی تھی۔ عبیداللہ نے کہا کہ کیا تم نے سنا نہیں تھا، حدیث بیان کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ جو مورت کپڑے میں ہو وہ جائز ہے ( بشرطیکہ غیر ذی روح کی ہو ) ۔ اور عبداللہ بن وہب نے کہا، انہیں عمرو نے خبر دی وہ ابن حارث ہیں، ان سے بکیر نے بیان کیا، ان سے بسر نے بیان کیا، ان سے زید نے بیان کیا، ان سے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا جیسا کہ اوپر مذکور ہوا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الْمَلاَئِكَةَ لاَ تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ الصُّورَةُ ". قَالَ بُسْرٌ ثُمَّ اشْتَكَى زَيْدٌ فَعُدْنَاهُ، فَإِذَا عَلَى بَابِهِ سِتْرٌ فِيهِ صُورَةٌ فَقُلْتُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ رَبِيبِ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَلَمْ يُخْبِرْنَا زَيْدٌ عَنِ الصُّوَرِ يَوْمَ الأَوَّلِ. فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ أَلَمْ تَسْمَعْهُ حِينَ قَالَ إِلاَّ رَقْمًا فِي ثَوْبٍ. وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا عَمْرٌو ـ هُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ـ حَدَّثَهُ بُكَيْرٌ، حَدَّثَهُ بُسْرٌ، حَدَّثَهُ زَيْدٌ، حَدَّثَهُ أَبُو طَلْحَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
#5959
Narrated Anas:Aisha had a thick curtain (having pictures on it) and she screened the side of her i house with it. The Prophet (ﷺ) said to her, "Remove it from my sight, for its pictures are still coming to my mind in my prayers
ہم سے عمران بن میسرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک پردہ تھا۔ اسے انہوں نے گھر کے ایک کنارے پر لٹکا دیا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ پردہ نکال ڈال، اس کی مورت اس نماز میں میرے سامنے آتی ہیں اور دل اچاٹ ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ قِرَاَمٌ لِعَائِشَةَ سَتَرَتْ بِهِ جَانِبَ بَيْتِهَا، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَمِيطِي عَنِّي، فَإِنَّهُ لاَ تَزَالُ تَصَاوِيرُهُ تَعْرِضُ لِي فِي صَلاَتِي ".
#5960
Narrated Salim's father:Once Gabriel promised to visit the Prophet (ﷺ) but he delayed and the Prophet (ﷺ) got worried about that. At last he came out and found Gabriel and complained to him of his grief (for his delay). Gabriel said to him, "We do not enter a place in which there is a picture or a dog
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے، کہا کہ مجھ سے عمر بن محمد نے بیان کیا، ان سے سالم نے اور ان سے ان کے والد (ابن عمر رضی اللہ عنہما) نے بیان کیا کہ ایک وقت پر جبرائیل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں آنے کا وعدہ کیا لیکن آنے میں دیر ہوئی۔ اس وقت پر نہیں آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سخت پریشان ہوئے پھر آپ باہر نکلے تو جبرائیل علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شکایت کی تو انہوں نے کہا کہ ہم ( فرشتے ) کسی ایسے گھر میں نہیں جاتے جس میں مورت یا کتا ہو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ ـ هُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ ـ عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ وَعَدَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جِبْرِيلُ فَرَاثَ عَلَيْهِ حَتَّى اشْتَدَّ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَخَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلَقِيَهُ، فَشَكَا إِلَيْهِ مَا وَجَدَ، فَقَالَ لَهُ " إِنَّا لاَ نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلاَ كَلْبٌ ".
#5961
Narrated `Aisha:(the wife of the Prophet) I bought a cushion having pictures on it. When Allah's Messenger (ﷺ) saw it, he stopped at the gate and did not enter. I noticed the signs of hatred (for that) on his face! I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I turn to Allah and His Apostle in repentance! What sin have I committed?" He said, "What about this cushion?" I said, 'I bought it for you to sit on and recline on." Allah's Messenger (ﷺ) said, "The makers of these pictures will be punished (severely) on the Day of Resurrection and it will be said to them, 'Make alive what you have created.'" He added, "Angels do not enter a house in which there are pictures
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے نافع نے، ان سے قاسم بن محمد نے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ انہوں نے ایک گدا خریدا جس میں مورتیں تھیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو آپ دروازے پر کھڑے ہو گئے اور اندر نہیں آئے۔ میں آپ کے چہرے سے ناراضگی پہچان گئی۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اللہ سے اس کے رسول کے سامنے توبہ کرتی ہوں، میں نے کیا غلطی کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گدا کیسا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے ہی اسے خریدا ہے تاکہ آپ اس پر بیٹھیں اور ٹیک لگائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان مورتوں کے بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو تم نے پیدا کیا ہے اب ان میں جان بھی ڈالو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس گھر میں مورت ہوتی ہے اس میں ( رحمت کے ) فرشتے نہیں داخل ہوتے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ، فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ عَلَى الْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْ، فَعَرَفَتْ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، مَاذَا أَذْنَبْتُ قَالَ " مَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةِ ". فَقَالَتِ اشْتَرَيْتُهَا لِتَقْعُدَ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدَهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَيُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ ـ وَقَالَ ـ إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّوَرُ لاَ تَدْخُلُهُ الْمَلاَئِكَةُ ".
#5962
Narrated Abu Juhaifa:that he had bought a slave whose profession was cupping. The Prophet (ﷺ) forbade taking the price of blood and the price of a dog and the earnings of a prostitute, and cursed the one who took or gave (Riba') usury, and the lady who tattooed others or got herself tattooed, and the picture-maker
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عون بن ابی جحیفہ نے اور ان سے ان کے والد (وہب بن عبداللہ) نے کہ انہوں نے ایک غلام خریدا جو پچھنا لگاتا تھا پھر فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خون نکالنے کی اجرت، کتے کی قیمت اور رنڈی کی کمائی کھانے سے منع فرمایا ہے اور آپ نے سود لینے والے، دینے والے، گودنے والی، گدوانے والی اور مورت بنانے والے پر لعنت بھیجی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنِي غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ اشْتَرَى غُلاَمًا حَجَّامًا فَقَالَ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ ثَمَنِ الدَّمِ، وَثَمَنِ الْكَلْبِ، وَكَسْبِ الْبَغِيِّ، وَلَعَنَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ وَالْمُصَوِّرَ.
#5963
Narrated Ibn `Abbas:I heard Muhammad saying, "Whoever makes a picture in this world will be asked to put life into it on the Day of Resurrection, but he will not be able to do so
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے نضر بن مالک سے سنا، وہ قتادہ سے بیان کرتے تھے کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا لوگ ان سے مختلف مسائل پوچھ رہے تھے۔ جب تک ان سے خاص طور سے پوچھا نہ جاتا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حوالہ نہیں دیتے تھے پھر انہوں نے کہا کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص دنیا میں مورت بنائے گا قیامت کے دن اس پر زور ڈالا جائے گا کہ اسے وہ زندہ بھی کرے حالانکہ وہ اسے زندہ نہیں کر سکتا۔
حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ سَمِعْتُ النَّضْرَ بْنَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، يُحَدِّثُ قَتَادَةَ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُمْ يَسْأَلُونَهُ وَلاَ يَذْكُرُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى سُئِلَ فَقَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فِي الدُّنْيَا كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ ".
#5964
Narrated Usama bin Zaid:Allah's Messenger (ﷺ) rode a donkey saddled with a saddle covered with a Fadakiyya velvet sheet, and he made me ride behind him
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوصفوان نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید ایلی نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے جس پر فدک کی بنی ہوئی کملی پڑی ہوئی تھی۔ آپ نے اسامہ رضی اللہ عنہ کو اسی پر اپنے پیچھے بٹھا لیا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَكِبَ عَلَى حِمَارٍ، عَلَى إِكَافٍ عَلَيْهِ قَطِيفَةٌ فَدَكِيَّةٌ، وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ وَرَاءَهُ.
#5965
Narrated Ibn `Abbas:When the Prophet (ﷺ) arrived at Mecca, the children of Bani `Abdul Muttalib received him. He then mounted one of them in front of him and the other behind him
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد حذاء نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے ( فتح کے موقع پر ) تو عبدالمطلب کی اولاد نے ( جو مکہ میں تھی ) آپ کا استقبال کیا۔ ( یہ سب بچے ہی تھے ) آپ نے از راہ محبت ایک بچے کو اپنے سامنے اور ایک کو اپنے پیچھے بٹھا لیا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ اسْتَقْبَلَهُ أُغَيْلِمَةُ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَحَمَلَ وَاحِدًا بَيْنَ يَدَيْهِ وَالآخَرَ خَلْفَهُ.
#5966
Narrated Aiyub:The worst of three (persons riding one, animal) was mentioned in `Ikrima's presence `Ikrima said, "Ibn `Abbas said, '(In the year of the conquest of Mecca) the Prophet (ﷺ) came and mounted Qutham in front of him and Al-Fadl behind him, or Qutham behind him and Al-Fadl in front of him.' Now which of them was the worst off and which was the best?
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے، کہا ہم سے ایوب سختیانی نے کہ عکرمہ کے سامنے یہ ذکر آیا کہ تین آدمی جو ایک جانور پر چڑھیں اس میں کون بہت برا ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( مکہ مکرمہ ) تشریف لائے تو آپ قثم بن عباس کو اپنی سواری پر آگے اور فضل بن عباس کو پیچھے بٹھائے ہوئے تھے۔ یا قثم پیچھے تھے اور فضل آگے تھے ( رضی اللہ عنہم ) اب تم ان میں سے کسے برا کہو گے اور کسے اچھا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، ذُكِرَ الأَشَرُّ الثَّلاَثَةُ عِنْدَ عِكْرِمَةَ فَقَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ حَمَلَ قُثَمَ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَالْفَضْلَ خَلْفَهُ، أَوْ قُثَمَ خَلْفَهُ، وَالْفَضْلَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَأَيُّهُمْ شَرٌّ أَوْ أَيُّهُمْ خَيْرٌ.
#5967
Narrated Mu`adh bin Jabal:While I was riding behind the Prophet (ﷺ) and between me and him and between me and him there was only the back of the saddle, he said, "0 Mu`adh!" I replied, "Labbaik, 0 Allah's Messenger (ﷺ), and Sa`daik!" he said, "Do you know what is Allah's right upon his slave?" I said, "Allah and His Apostle know best" He said "Allah's right upon his slaves is that they should worship Him alone and not worship anything else besides Him." Then he proceeded for a while and then said, "O Mu`adh bin Jabal!" I replied, "Labbaik, O Allah's Messenger (ﷺ):, Sa`daik!' He said, "Do you know what is the right of the slaves upon Allah if they do that?" I replied, "Allah and His Apostle know best." He said, "The right of the slaves upon Allah is that He will not punish them (if they do that)
ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، ان سے معاذ بن جبل نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا اور میرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کجاوہ کی پچھلی لکڑی کے سوا اور کوئی چیز حائل نہیں تھی اسی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یامعاذ! میں بولا یا رسول اللہ! میں حاضر ہوں، آپ کی اطاعت اور فرمابرداری کے لیے تیار ہوں۔ پھر آپ نے تھوڑی دیر تک چلتے رہے۔ اس کے بعد فرمایا: یا معاذ! میں بولا، یا رسول اللہ! حاضر ہوں آپ کی اطاعت کے لیے تیار ہوں۔ پھر آپ تھوڑی دیر چلتے رہے اس کے بعد فرمایا: یا معاذ! میں نے عرض کیا حاضر ہوں، یا رسول اللہ! آپ کی اطاعت کے لیے تیار ہوں۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں معلوم ہے اللہ کے اپنے بندوں پر کیا حق ہیں؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی کو زیادہ علم ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر حق یہ ہیں کہ بندے خاص اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں پھر آپ تھوڑی دیر چلتے رہے۔ اس کے بعد فرمایا: معاذ! میں نے عرض کیا، حاضر ہوں یا رسول اللہ! آپ کی اطاعت کے لیے تیار ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں معلوم ہے بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے۔ جب کہ وہ یہ کام کر لیں۔ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ فرمایا کہ پھر بندوں کا اللہ پر حق ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ کرے۔
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَيْنَا أَنَا رَدِيفُ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِلاَّ أَخِرَةُ الرَّحْلِ فَقَالَ " يَا مُعَاذُ ". قُلْتُ لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ. ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ " يَا مُعَاذُ ". قُلْتُ لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ. ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ " يَا مُعَاذُ ". قُلْتُ لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ. قَالَ " هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ ". قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ " حَقُّ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلاَ يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ". ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ " يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ ". قُلْتُ لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ. فَقَالَ " هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوهُ ". قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ " حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ أَنْ لاَ يُعَذِّبَهُمْ ".
#5968
Narrated Anas bin Malik:We were coming from Khaibar along with Allah's Messenger (ﷺ) while I was riding behind Abu Talha and he was proceeding. While one of the wives of Allah's Messenger (ﷺ) was riding behind Allah's Messenger (ﷺ), suddenly the foot of the camel Slipped and I said, "The woman!" and alighted (hurriedly). Allah's Apostle said, "She is your mother." Sol resaddled the she-camel and Allah's Messenger (ﷺ) mounted it. When he approached or saw Medina, he said, "Ayibun, ta'ibun, 'abidun, li-Rabbina hami-dun
ہم سے حسن بن محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن عباد نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہیں یحییٰ بن ابی اسحاق نے خبر دی، کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر سے واپس آ رہے تھے اور میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا اور چل رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض بیوی صفیہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے تھیں کہ اچانک اونٹنی نے ٹھوکر کھائی، میں نے کہا عورت کی خبرگیری کرو پھر میں اتر پڑا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تمہاری ماں ہیں پھر میں نے کجاوہ مضبوط باندھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو گئے پھر جب مدینہ منورہ کے قریب ہوئے یا ( راوی نے بیان کیا کہ ) مدینہ منورہ دیکھا تو فرمایا ”ہم واپس ہونے والے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونے والے ہیں، اسی کو پوجنے والے ہیں، اپنے مالک کی تعریف کرنے والے ہیں۔“
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَبَّاحٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ خَيْبَرَ، وَإِنِّي لَرَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ وَهْوَ يَسِيرُ وَبَعْضُ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَدِيفُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ عَثَرَتِ النَّاقَةُ فَقُلْتُ الْمَرْأَةَ. فَنَزَلْتُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّهَا أُمُّكُمْ ". فَشَدَدْتُ الرَّحْلَ وَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا دَنَا أَوْ رَأَى الْمَدِينَةَ قَالَ " آيِبُونَ تَائِبُونَ، عَابِدُونَ لِرَبِّنَا، حَامِدُونَ ".
#5969
Narrated `Abbad bin Tamim's uncle:I saw the Prophet (ﷺ) lying-down in the mosque and placing one leg on the other
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عبادہ بن تمیم نے، ان سے ان کے چچا (عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ) نے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں ( چت ) لیٹے ہوئے دیکھا کہ آپ ایک پاؤں کو دوسرے پاؤں پر اٹھا کر رکھے ہوئے تھے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّهُ أَبْصَرَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَضْطَجِعُ فِي الْمَسْجِدِ، رَافِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الأُخْرَى.
#5970
Narrated Al-Walid bin 'Aizar:I heard Abi `Amr 'Ash-Shaibani saying, "The owner of this house." he pointed to `Abdullah's house, "said, 'I asked the Prophet (ﷺ) 'Which deed is loved most by Allah?" He replied, 'To offer prayers at their early (very first) stated times.' " `Abdullah asked, "What is the next (in goodness)?" The Prophet (ﷺ) said, "To be good and dutiful to one's parents," `Abdullah asked, "What is the next (in goodness)?" The Prophet (ﷺ) said, "To participate in Jihad for Allah's Cause." `Abdullah added, "The Prophet (ﷺ) narrated to me these three things, and if I had asked more, he would have told me more
ہم سے ابوالولید ہشام نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، انہوں نے کہا کہ مجھے ولید بن عیزار نے خبر دی، کہا کہ میں نے ابوعمرو شیبانی سے سنا، کہا کہ ہمیں اس گھر والے نے خبر دی اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون سا عمل سب سے زیادہ پسند ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وقت پر نماز پڑھنا۔ پوچھا کہ پھر کون سا؟ فرمایا کہ والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، پوچھا پھر کون سا؟ فرمایا کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ان کاموں کے متعلق بیان کیا اور اگر میں اسی طرح سوال کرتا رہتا تو آپ جواب دیتے رہتے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ الْوَلِيدُ بْنُ عَيْزَارٍ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ، يَقُولُ أَخْبَرَنَا صَاحِبُ، هَذِهِ الدَّارِ ـ وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ ـ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَىُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ قَالَ " الصَّلاَةُ عَلَى وَقْتِهَا ". قَالَ ثُمَّ أَىُّ قَالَ " ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ ". قَالَ ثُمَّ أَىّ قَالَ " الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ". قَالَ حَدَّثَنِي بِهِنَّ وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي.
#5971
Narrated Abu Huraira:A man came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Who is more entitled to be treated with the best companionship by me?" The Prophet (ﷺ) said, "Your mother." The man said. "Who is next?" The Prophet said, "Your mother." The man further said, "Who is next?" The Prophet (ﷺ) said, "Your mother." The man asked for the fourth time, "Who is next?" The Prophet (ﷺ) said, "Your father
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے عمارہ بن قعقاع بن شبرمہ نے، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔ پوچھا اس کے بعد کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔ انہوں نے پھر پوچھا اس کے بعد کون؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔ انہوں نے پوچھا اس کے بعد کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تمہارا باپ ہے۔ ابن شبرمہ اور یحییٰ بن ایوب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوزرعہ نے اسی کے مطابق بیان کیا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ شُبْرُمَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَحَقُّ بِحُسْنِ صَحَابَتِي قَالَ " أُمُّكَ ". قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ " أُمُّكَ ". قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ " أُمُّكَ ". قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ " ثُمَّ أَبُوكَ ". وَقَالَ ابْنُ شُبْرُمَةَ وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ مِثْلَهُ.
#5972
Narrated `Abdullah bin `Amr:A man said to the Prophet, "Shall I participate in Jihad?" The Prophet (ﷺ) said, "Are your parents living?" The man said, "Yes." the Prophet (ﷺ) said, "Do Jihad for their benefit
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان اور شعبہ نے بیان کیا کہ ہم سے حبیب نے بیان کیا (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، انہیں حبیب نے، انہیں ابوعباس نے اور ان سے عبداللہ بن عمرو نے بیان کیا کہ ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا میں بھی جہاد میں شریک ہو جاؤں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہارے ماں باپ موجود ہیں انہوں نے کہا کہ جی ہاں موجود ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر انہیں میں جہاد کرو۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَبِيبٌ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أُجَاهِدُ. قَالَ " لَكَ أَبَوَانِ ". قَالَ نَعَمْ. قَالَ " فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ ".
#5973
Narrated `Abdullah bin `Amr:Allah's Messenger (ﷺ) said. "It is one of the greatest sins that a man should curse his parents." It was asked (by the people), "O Allah's Messenger (ﷺ)! How does a man curse his parents?" The Prophet (ﷺ) said, "'The man abuses the father of another man and the latter abuses the father of the former and abuses his mother
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے حمید بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً سب سے بڑے گناہوں میں سے یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے والدین پر لعنت بھیجے۔ پوچھا گیا: یا رسول اللہ! کوئی شخص اپنے ہی والدین پر کیسے لعنت بھیجے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ شخص دوسرے کے باپ کو برا بھلا کہے گا تو دوسرا بھی اس کے باپ کو اور اس کی ماں کو برا بھلا کہے گا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ أَنْ يَلْعَنَ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ ". قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يَلْعَنُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ قَالَ " يَسُبُّ الرَّجُلُ أَبَا الرَّجُلِ، فَيَسُبُّ أَبَاهُ، وَيَسُبُّ أَمَّهُ ".
#5974
Narrated Ibn `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "While three persons were traveling, they were overtaken by rain and they took shelter in a cave in a mountain. A big rock fell from the mountain over the mouth of the cave and blocked it. They said to each other. 'Think of such good (righteous) deeds which, you did for Allah's sake only, and invoke Allah by giving reference to those deeds so that Allah may relieve you from your difficulty. one of them said, 'O Allah! I had my parents who were very old and I had small children for whose sake I used to work as a shepherd. When I returned to them at night and milked (the sheep), I used to start giving the milk to my parents first before giving to my children. And one day I went far away in search of a grazing place (for my sheep), and didn't return home till late at night and found that my parents had slept. I milked (my livestock) as usual and brought the milk vessel and stood at their heads, and I disliked to wake them up from their sleep, and I also disliked to give the milk to my children before my parents though my children were crying (from hunger) at my feet. So this state of mine and theirs continued till the day dawned. (O Allah!) If you considered that I had done that only for seeking Your pleasure, then please let there be an opening through which we can see the sky.' So Allah made for them an opening through which they could see the sky. Then the second person said, 'O Allah! I had a she-cousin whom I loved as much as a passionate man love a woman. I tried to seduce her but she refused till I paid her one-hundred Dinars So I worked hard till I collected one hundred Dinars and went to her with that But when I sat in between her legs (to have sexual intercourse with her), she said, 'O Allah's slave! Be afraid of Allah ! Do not deflower me except legally (by marriage contract). So I left her O Allah! If you considered that I had done that only for seeking Your pleasure then please let the rock move a little to have a (wider) opening.' So Allah shifted that rock to make the opening wider for them. And the last (third) person said 'O Allah ! I employed a laborer for wages equal to a Faraq (a certain measure: of rice, and when he had finished his job he demanded his wages, but when I presented his due to him, he gave it up and refused to take it. Then I kept on sowing that rice for him (several times) till managed to buy with the price of the yield, some cows and their shepherd Later on the laborer came to me an said. '(O Allah's slave!) Be afraid o Allah, and do not be unjust to me an give me my due.' I said (to him). 'Go and take those cows and their shepherd. So he took them and went away. (So, O Allah!) If You considered that I had done that for seeking Your pleasure, then please remove the remaining part of the rock.' And so Allah released them (from their difficulty)
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم بن عقبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے نافع نے خبر دی، انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین آدمی چل رہے تھے کہ بارش نے انہیں آ لیا اور انہوں نے مڑ کر پہاڑی کی غار میں پناہ لی۔ اس کے بعد ان کے غار کے منہ پر پہاڑ کی ایک چٹان گری اور اس کا منہ بند ہو گیا۔ اب بعض نے بعض سے کہا کہ تم نے جو نیک کام کئے ہیں ان میں سے ایسے کام کو دھیان میں لاؤ جو تم نے خالص اللہ کے لیے کیا ہو تاکہ اللہ سے اس کے ذریعہ دعا کرو ممکن ہے وہ غار کو کھول دے۔ اس پر ان میں سے ایک نے کہا: اے اللہ! میرے والدین تھے اور بہت بوڑھے تھے اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے بھی تھے۔ میں ان کے لیے بکریاں چراتا تھا اور واپس آ کر دودھ نکالتا تو سب سے پہلے اپنے والدین کو پلاتا تھا اپنے بچوں سے بھی پہلے۔ ایک دن چارے کی تلاش نے مجھے بہت دور لے جا ڈالا چنانچہ میں رات گئے واپس آیا۔ میں نے دیکھا کہ میرے والدین سو چکے ہیں۔ میں نے معمول کے مطابق دودھ نکالا پھر میں دوھا ہوا دودھ لے کر آیا اور ان کے سرہانے کھڑا ہو گیا میں گوارا نہیں کر سکتا تھا کہ انہیں سونے میں جگاؤں اور یہ بھی مجھ سے نہیں ہو سکتا تھا کہ والدین سے پہلے بچوں کو پلاؤں۔ بچے بھوک سے میرے قدموں پر لوٹ رہے تھے اور اسی کشمکش میں صبح ہو گئی۔ پس اے اللہ! اگر تیرے علم میں بھی یہ کام میں نے صرف تیری رضا حاصل کرنے کے لیے کیا تھا تو ہمارے لیے کشادگی پیدا کر دے کہ ہم آسمان دیکھ سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے ( دعا قبول کی اور ) ان کے لیے اتنی کشادگی پیدا کر دی کہ وہ آسمان دیکھ سکتے تھے۔ دوسرے شخص نے کہا: اے اللہ! میری ایک چچا زاد بہن تھی اور میں اس سے محبت کرتا تھا، وہ انتہائی محبت جو ایک مرد ایک عورت سے کر سکتا ہے۔ میں نے اس سے اسے مانگا تو اس نے انکار کیا اور صرف اس شرط پر راضی ہوئی کہ میں اسے سو دینار دوں۔ میں نے دوڑ دھوپ کی اور سو دینار جمع کر لایا پھر اس کے پاس انہیں لے کر گیا پھر جب میں اس کے دونوں پاؤں کے درمیان میں بیٹھ گیا تو اس نے کہا کہ اے اللہ کے بندے! اللہ سے ڈر اور مہر کو مت توڑ۔ میں یہ سن کر کھڑا ہو گیا ( اور زنا سے باز رہا ) پس اگر تیرے علم میں بھی میں نے یہ کام تیری رضا و خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیا تھا تو ہمارے لیے کچھ اور کشادگی ( چٹان کو ہٹا کر ) پیدا کر دے۔ چنانچہ ان کے لیے تھوڑی سی اور کشادگی ہو گئی۔ تیسرے شخص نے کہا: اے اللہ! میں نے ایک مزدور ایک فرق چاول کی مزدوری پر رکھا تھا اس نے اپنا کام پورا کر کے کہا کہ میری مزدوری دو۔ میں نے اس کی مزدوری دے دی لیکن وہ چھوڑ کر چلا گیا اور اس کے ساتھ بےتوجہی کی۔ میں اس کے اس بچے ہوئے دھان کو بوتا رہا اور اس طرح میں نے اس سے ایک گائے اور اس کا چرواہا کر لیا ( پھر جب وہ آیا تو ) میں نے اس سے کہا کہ یہ گائے اور چرواہا لے جاؤ۔ اس نے کہا اللہ سے ڈرو اور میرے ساتھ مذاق نہ کرو۔ میں نے کہا کہ میں تمہارے ساتھ مذاق نہیں کرتا۔ اس گائے اور چرواہے کو لے جاؤ۔ چنانچہ وہ انہیں لے کر چلا گیا۔ پس اگر تیرے علم میں بھی میں نے یہ کام تیری رضا و خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیا تھا تو ( چٹان کی وجہ سے غار سے نکلنے میں جو رکاوٹ باقی رہ گئی ہے اسے بھی کھول دے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے پوری طرح کشادگی کر دی جس سے وہ باہر آ گئے۔)
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " بَيْنَمَا ثَلاَثَةُ نَفَرٍ يَتَمَاشَوْنَ أَخَذَهُمُ الْمَطَرُ، فَمَالُوا إِلَى غَارٍ فِي الْجَبَلِ، فَانْحَطَّتْ عَلَى فَمِ غَارِهِمْ صَخْرَةٌ مِنَ الْجَبَلِ، فَأَطْبَقَتْ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ انْظُرُوا أَعْمَالاً عَمِلْتُمُوهَا لِلَّهِ صَالِحَةً، فَادْعُوا اللَّهَ بِهَا لَعَلَّهُ يَفْرُجُهَا. فَقَالَ أَحَدُهُمُ اللَّهُمَّ إِنَّهُ كَانَ لِي وَالِدَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ، وَلِي صِبْيَةٌ صِغَارٌ كُنْتُ أَرْعَى عَلَيْهِمْ، فَإِذَا رُحْتُ عَلَيْهِمْ فَحَلَبْتُ بَدَأْتُ بِوَالِدَىَّ أَسْقِيهِمَا قَبْلَ وَلَدِي، وَإِنَّهُ نَاءَ بِيَ الشَّجَرُ فَمَا أَتَيْتُ حَتَّى أَمْسَيْتُ، فَوَجَدْتُهُمَا قَدْ نَامَا، فَحَلَبْتُ كَمَا كُنْتُ أَحْلُبُ، فَجِئْتُ بِالْحِلاَبِ فَقُمْتُ عِنْدَ رُءُوسِهِمَا، أَكْرَهُ أَنْ أُوقِظَهُمَا مِنْ نَوْمِهِمَا، وَأَكْرَهُ أَنْ أَبْدَأَ بِالصِّبْيَةِ قَبْلَهُمَا، وَالصِّبْيَةُ يَتَضَاغَوْنَ عِنْدَ قَدَمَىَّ، فَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ دَأْبِي وَدَأْبَهُمْ حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ، فَافْرُجْ لَنَا فُرْجَةً نَرَى مِنْهَا السَّمَاءَ، فَفَرَجَ اللَّهُ لَهُمْ فُرْجَةً حَتَّى يَرَوْنَ مِنْهَا السَّمَاءَ. وَقَالَ الثَّانِي اللَّهُمَّ إِنَّهُ كَانَتْ لِي ابْنَةُ عَمٍّ، أُحِبُّهَا كَأَشَدِّ مَا يُحِبُّ الرِّجَالُ النِّسَاءَ، فَطَلَبْتُ إِلَيْهَا نَفْسَهَا، فَأَبَتْ حَتَّى آتِيَهَا بِمِائَةِ دِينَارٍ، فَسَعَيْتُ حَتَّى جَمَعْتُ مِائَةَ دِينَارٍ، فَلَقِيتُهَا بِهَا، فَلَمَّا قَعَدْتُ بَيْنَ رِجْلَيْهَا قَالَتْ يَا عَبْدَ اللَّهِ اتَّقِ اللَّهَ، وَلاَ تَفْتَحِ الْخَاتَمَ. فَقُمْتُ عَنْهَا، اللَّهُمَّ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي قَدْ فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ لَنَا مِنْهَا فَفَرَجَ لَهُمْ فُرْجَةً. وَقَالَ الآخَرُ اللَّهُمَّ إِنِّي كُنْتُ اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا بِفَرَقِ أَرُزٍّ فَلَمَّا قَضَى عَمَلَهُ قَالَ أَعْطِنِي حَقِّي. فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَقَّهُ، فَتَرَكَهُ وَرَغِبَ عَنْهُ، فَلَمْ أَزَلْ أَزْرَعُهُ حَتَّى جَمَعْتُ مِنْهُ بَقَرًا وَرَاعِيَهَا، فَجَاءَنِي فَقَالَ اتَّقِ اللَّهَ وَلاَ تَظْلِمْنِي، وَأَعْطِنِي حَقِّي. فَقُلْتُ اذْهَبْ إِلَى ذَلِكَ الْبَقَرِ وَرَاعِيهَا. فَقَالَ اتَّقِ اللَّهَ وَلاَ تَهْزَأْ بِي. فَقُلْتُ إِنِّي لاَ أَهْزَأُ بِكَ، فَخُذْ ذَلِكَ الْبَقَرَ وَرَاعِيَهَا. فَأَخَذَهُ فَانْطَلَقَ بِهَا، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ، فَافْرُجْ مَا بَقِيَ، فَفَرَجَ اللَّهُ عَنْهُمْ ".
#5975
Narrated Al-Mughira:The Prophet (ﷺ) said, "Allah has forbidden you ( 1 ) to be undutiful to your mothers (2) to withhold (what you should give) or (3) demand (what you do not deserve), and (4) to bury your daughters alive. And Allah has disliked that (A) you talk too much about others ( B), ask too many questions (in religion), or (C) waste your property
ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے مسیب نے ان سے وراد نے اور ان سے مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے تم پر ماں کی نافرمانی حرام قرار دی ہے اور ( والدین کے حقوق ) نہ دینا اور ناحق ان سے مطالبات کرنا بھی حرام قرار دیا ہے، لڑکیوں کو زندہ دفن کرنا ( بھی حرام قرار دیا ہے ) اور «قيل وقال» ( فضول باتیں ) کثرت سوال اور مال کی بربادی کو بھی ناپسند کیا ہے۔
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ وَرَّادٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ عُقُوقَ الأُمَّهَاتِ، وَمَنْعَ وَهَاتِ، وَوَأْدَ الْبَنَاتِ، وَكَرِهَ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ ".