#6026
Narrated Abu Musa:The Prophet (ﷺ) said, "A believer to another believer is like a building whose different parts enforce each other." The Prophet (ﷺ) then clasped his hands with the fingers interlaced. (At that time) the Prophet (ﷺ) was sitting and a man came and begged or asked for something. The Prophet (ﷺ) faced us and said, "Help and recommend him and you will receive the reward for it, and Allah will bring about what He will through His Prophet's tongue
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي جَدِّي أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ، يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا ". ثُمَّ شَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ. وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم جَالِسًا إِذْ جَاءَ رَجُلٌ يَسْأَلُ أَوْ طَالِبُ حَاجَةٍ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ " اشْفَعُوا فَلْتُؤْجَرُوا، وَلْيَقْضِ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ مَا شَاءَ ".
#6027
Narrated Abu Musa:The Prophet (ﷺ) said, "A believer to another believer is like a building whose different parts enforce each other." The Prophet (ﷺ) then clasped his hands with the fingers interlaced. (At that time) the Prophet (ﷺ) was sitting and a man came and begged or asked for something. The Prophet (ﷺ) faced us and said, "Help and recommend him and you will receive the reward for it, and Allah will bring about what He will through His Prophet's tongue
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي جَدِّي أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ، يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا ". ثُمَّ شَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ. وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم جَالِسًا إِذْ جَاءَ رَجُلٌ يَسْأَلُ أَوْ طَالِبُ حَاجَةٍ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ " اشْفَعُوا فَلْتُؤْجَرُوا، وَلْيَقْضِ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ مَا شَاءَ ".
#6028
Narrated Abu Musa: Whenever a beggar or a person in need came to the Prophet, the Prophet would say "Help and recommend him and you will receive the reward for it, and Allah will bring about what he will through His Prophet's tongue
ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی مانگنے والا یا ضرورت مند آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ لوگو! تم سفارش کرو تاکہ تمہیں بھی ثواب ملے اور اللہ اپنے نبی کی زبان پر جو چاہے گا فیصلہ کرائے گا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَتَاهُ السَّائِلُ أَوْ صَاحِبُ الْحَاجَةِ قَالَ " اشْفَعُوا فَلْتُؤْجَرُوا، وَلْيَقْضِ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ رَسُولِهِ مَا شَاءَ ".
#6029
Narrated Masruq: Abdullah bin 'Amr mentioned Allah's Messenger (ﷺ) saying that he was neither a Fahish nor a Mutafahish. Abdullah bin 'Amr added, Allah's Messenger (ﷺ) said, 'The best among you are those who have the best manners and character
ہم سے حفص بن عمر بن حارث ابوعمرو حوش نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، انہوں نے ابووائل شقیق بن سلمہ سے سنا، انہوں نے مسروق سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے شقیق بن سلمہ نے اور ان سے مسروق نے بیان کیا کہ جب معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عبداللہ بن عمرو بن عاص کوفہ تشریف لائے تو ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا اور بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بدگو نہ تھے اور نہ آپ بدزبان تھے اور انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر وہ آدمی ہے، جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، سَمِعْتُ مَسْرُوقًا، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو. حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو حِينَ قَدِمَ مَعَ مُعَاوِيَةَ إِلَى الْكُوفَةِ فَذَكَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا وَلاَ مُتَفَحِّشًا، وَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِنْ أَخْيَرِكُمْ أَحْسَنَكُمْ خُلُقًا ".
#6030
Narrated `Abdullah bin Mulaika:`Aisha said that the Jews came to the Prophet (ﷺ) and said, "As-Samu 'Alaikum" (death be on you). `Aisha said (to them), "(Death) be on you, and may Allah curse you and shower His wrath upon you!" The Prophet (ﷺ) said, "Be calm, O `Aisha ! You should be kind and lenient, and beware of harshness and Fuhsh (i.e. bad words)." She said (to the Prophet), "Haven't you heard what they (Jews) have said?" He said, "Haven't you heard what I have said (to them)? I said the same to them, and my invocation against them will be accepted while theirs against me will be rejected (by Allah)
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی، انہیں ایوب سختیانی نے، انہیں عبداللہ بن ابی ملیکہ نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ کچھ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں آئے اور کہا «السام عليكم.» ( تم پر موت آئے ) اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا «عليكم، ولعنكم الله، وغضب الله عليكم.» کہ تم پر بھی موت آئے اور اللہ کی تم پر لعنت ہو اور اس کا غضب تم پر نازل ہو۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ( ٹھہرو ) عائشہ! تمہیں نرم خوئی اختیار کرنے چاہیے سختی اور بد زبانی سے بچنا چاہیئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے ان کی بات نہیں سنی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے انہیں میرا جواب نہیں سنا، میں نے ان کی بات انہیں پر لوٹا دی اور ان کے حق میں میری بددعا قبول ہو جائے گی۔ لیکن میرے حق میں ان کی بددعا قبول ہی نہ ہو گی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها أَنَّ يَهُودَ، أَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكُمْ. فَقَالَتْ عَائِشَةُ عَلَيْكُمْ، وَلَعَنَكُمُ اللَّهُ، وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ. قَالَ " مَهْلاً يَا عَائِشَةُ، عَلَيْكِ بِالرِّفْقِ، وَإِيَّاكِ وَالْعُنْفَ وَالْفُحْشَ ". قَالَتْ أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا قَالَ " أَوَلَمْ تَسْمَعِي مَا قُلْتُ رَدَدْتُ عَلَيْهِمْ، فَيُسْتَجَابُ لِي فِيهِمْ، وَلاَ يُسْتَجَابُ لَهُمْ فِيَّ ".
#6031
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) was not one who would abuse (others) or say obscene words, or curse (others), and if he wanted to admonish anyone of us, he used to say: "What is wrong with him, his forehead be dusted
ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے عبداللہ بن وہب نے خبر دی انہوں نے کہا ہم کو ابویحییٰ فلیح بن سلیمان نے خبر دی، انہیں ہلال بن اسامہ نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ گالی دیتے تھے نہ بدگو تھے نہ بدخو تھے اور نہ لعنت ملامت کرتے تھے۔ اگر ہم میں سے کسی پر ناراض ہوتے اتنا فرماتے اسے کیا ہو گیا ہے، اس کی پیشانی میں خاک لگے۔
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو يَحْيَى، هُوَ فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ هِلاَلِ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم سَبَّابًا وَلاَ فَحَّاشًا وَلاَ لَعَّانًا، كَانَ يَقُولُ لأَحَدِنَا عِنْدَ الْمَعْتَبَةِ " مَا لَهُ، تَرِبَ جَبِينُهُ ".
#6032
Narrated 'Aisha: A man asked permission to enter upon the Prophet. When the Prophet (ﷺ) saw him, he said, "What an evil brother of his tribe! And what an evil son of his tribe!" When that man sat down, the Prophet (ﷺ) behaved with him in a nice and polite manner and was completely at ease with him. When that person had left, 'Aisha said (to the Prophet). "O Allah's Apostle! When you saw that man, you said so-and-so about him, then you showed him a kind and polite behavior, and you enjoyed his company?" Allah's Messenger (ﷺ) said, "O 'Aisha! Have you ever seen me speaking a bad and dirty language? (Remember that) the worst people in Allah's sight on the Day of Resurrection will be those whom the people leave (undisturbed) to be away from their evil (deeds)
ہم سے عمرو بن عیسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن سواء نے بیان کیا، کہا ہم سے روح ابن قاسم نے بیان کیا، ان سے محمد بن منکدر نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے اندر آنے کی اجازت چاہی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ برا ہے فلاں قبیلہ کا بھائی۔ یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) کہ برا ہے فلاں قبیلہ کا بیٹا۔ پھر جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ بیٹھا تو آپ اس کے ساتھ بہت خوش خلقی کے ساتھ پیش آئے۔ وہ شخص جب چلا گیا تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے عرض کیا: یا رسول اللہ! جب آپ نے اسے دیکھا تھا تو اس کے متعلق یہ کلمات فرمائے تھے، جب آپ اس سے ملے تو بہت ہی خندہ پیشانی سے ملے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عائشہ! تم نے مجھے بدگو کب پایا۔ اللہ کے یہاں قیامت کے دن وہ لوگ بدترین ہوں گے جن کے شر کے ڈر سے لوگ اس سے ملنا چھوڑ دیں۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَجُلاً، اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا رَآهُ قَالَ " بِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ، وَبِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ ". فَلَمَّا جَلَسَ تَطَلَّقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي وَجْهِهِ وَانْبَسَطَ إِلَيْهِ، فَلَمَّا انْطَلَقَ الرَّجُلُ قَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ حِينَ رَأَيْتَ الرَّجُلَ قُلْتَ لَهُ كَذَا وَكَذَا، ثُمَّ تَطَلَّقْتَ فِي وَجْهِهِ وَانْبَسَطْتَ إِلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا عَائِشَةُ مَتَى عَهِدْتِنِي فَحَّاشًا، إِنَّ شَرَّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ تَرَكَهُ النَّاسُ اتِّقَاءَ شَرِّهِ ".
#6033
Narrated Anas: The Prophet (ﷺ) was the best among the people (both in shape and character) and was the most generous of them, and was the bravest of them. Once, during the night, the people of Medina got afraid (of a sound). So the people went towards that sound, but the Prophet (ﷺ) having gone to that sound before them, met them while he was saying, "Don't be afraid, don't be afraid." (At that time) he was riding a horse belonging to Abu Talha and it was naked without a saddle, and he was carrying a sword slung at his neck. The Prophet (ﷺ) said, "I found it (the horse) like a sea, or, it is the sea indeed
ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ خوبصورت، سب سے زیادہ سخی اور سب سے زیادہ بہادر تھے۔ ایک رات مدینہ والے ( شہر کے باہر شور سن کر ) گھبرا گئے۔ ( کہ شاید دشمن نے حملہ کیا ہے ) سب لوگ اس شور کی طرف بڑھے۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آواز کی طرف بڑھنے والوں میں سب سے آگے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ کوئی ڈر کی بات نہیں، کوئی ڈر کی بات نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ابوطلحہ کے ( مندوب نامی ) گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار تھے، اس پر کوئی زین نہیں تھی اور گلے میں تلوار لٹک رہی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے اس گھوڑے کو سمندر پایا یا فرمایا کہ یہ تیز دوڑنے میں سمندر کی طرح تھا۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ـ هُوَ ابْنُ زَيْدٍ ـ عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَحْسَنَ النَّاسِ وَأَجْوَدَ النَّاسِ وَأَشْجَعَ النَّاسِ، وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَانْطَلَقَ النَّاسُ قِبَلَ الصَّوْتِ، فَاسْتَقْبَلَهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَدْ سَبَقَ النَّاسَ إِلَى الصَّوْتِ وَهْوَ يَقُولُ " لَنْ تُرَاعُوا، لَنْ تُرَاعُوا ". وَهْوَ عَلَى فَرَسٍ لأَبِي طَلْحَةَ عُرْىٍ مَا عَلَيْهِ سَرْجٌ، فِي عُنُقِهِ سَيْفٌ فَقَالَ " لَقَدْ وَجَدْتُهُ بَحْرًا ". أَوْ " إِنَّهُ لَبَحْرٌ ".
#6034
Narrated Jabir:Never was the Prophet (ﷺ) asked for a thing to be given for which his answer was 'no
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، ان سے ابن منکدر نے بیان کیا، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے کوئی چیز مانگی ہو اور آپ نے اس کے دینے سے انکار کیا ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ مَا سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ شَىْءٍ قَطُّ فَقَالَ لاَ.
#6035
Narrated Masruq:We were sitting with `Abdullah bin `Amr who was narrating to us (Hadith): He said, "Allah's Messenger (ﷺ) was neither a Fahish nor a Mutafahhish, and he used to say, 'The best among you are the best in character (having good manners)
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا مجھ سے شفیق نے بیان کیا، ان سے مسروق نے بیان کیا کہ ہم عبداللہ بن عمرو کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، وہ ہم سے باتیں کر رہے تھے اسی دوران انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ بدگو تھے نہ بد زبانی کرتے تھے ( کہ منہ سے گالیاں نکالیں ) بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ تم میں سب سے زیادہ بہتر وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي شَقِيقٌ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ كُنَّا جُلُوسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو يُحَدِّثُنَا إِذْ قَالَ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاحِشًا وَلاَ مُتَفَحِّشًا، وَإِنَّهُ كَانَ يَقُولُ " إِنَّ خِيَارَكُمْ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلاَقًا ".
#6036
Narrated Abu Hazim:Sahl bin Sa`d said that a woman brought a Burda (sheet) to the Prophet. Sahl asked the people, "Do you know what is a Burda?" The people replied, "It is a 'Shamla', a sheet with a fringe." That woman said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have brought it so that you may wear it." So the Prophet (ﷺ) took it because he was in need of it and wore it. A man among his companions, seeing him wearing it, said, "O Allah's Apostle! Please give it to me to wear." The Prophet (ﷺ) said, "Yes." (and gave him that sheet). When the Prophet left, the man was blamed by his companions who said, "It was not nice on your part to ask the Prophet for it while you know that he took it because he was in need of it, and you also know that he (the Prophet) never turns down anybody's request that he might be asked for." That man said, "I just wanted to have its blessings as the Prophet (ﷺ) had put it on, so I hoped that I might be shrouded in it
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوغسان (محمد بن مطرف) نے بیان کیا کہ کہا مجھ سے ابوحازم نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ”بردہ“ لے کر آئیں پھر سہل نے موجود لوگوں سے کہا تمہیں معلوم ہے، کہ بردہ کیا چیز ہے؟ لوگوں نے کہا کہ بردہ شملہ کو کہتے ہیں۔ سہل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں لنگی جس میں حاشیہ بنا ہوا ہوتا ہے تو اس خاتون نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں یہ لنگی آپ کے پہننے کے لیے لائی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لنگی ان سے قبول کر لی۔ اس وقت آپ کو اس کی ضرورت بھی تھی پھر آپ نے پہن لیا۔ صحابہ میں سے ایک صحابی عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن پروہ لنگی دیکھی تو عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ بڑی عمدہ لنگی ہے، آپ مجھے اس کو عنایت فرما دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لے لو، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے اٹھ کر تشریف لے گئے تو اندر جا کر وہ لنگی بدل کر تہہ کر کے عبدالرحمٰن کو بھیج دی تو لوگوں نے ان صاحب کو ملامت سے کہا کہ تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لنگی مانگ کر اچھا نہیں کیا، تم نے دیکھ لیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس طرح قبول کیا تھا گویا آپ کو اس کی ضرورت تھی۔ اس کے باوجود تم نے لنگی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگی، حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی کوئی چیز مانگی جاتی ہے تو آپ انکار نہیں کرتے۔ اس صحابی نے عرض کیا کہ میں تو صرف اس کی برکت کا امیدوار ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے پہن چکے تھے میری غرض یہ تھی کہ میں اس لنگی میں کفن دیا جاؤں گا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِبُرْدَةٍ. فَقَالَ سَهْلٌ لِلْقَوْمِ أَتَدْرُونَ مَا الْبُرْدَةُ فَقَالَ الْقَوْمُ هِيَ شَمْلَةٌ. فَقَالَ سَهْلٌ هِيَ شَمْلَةٌ مَنْسُوجَةٌ فِيهَا حَاشِيَتُهَا ـ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكْسُوكَ هَذِهِ. فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مُحْتَاجًا إِلَيْهَا، فَلَبِسَهَا، فَرَآهَا عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنَ الصَّحَابَةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَحْسَنَ هَذِهِ فَاكْسُنِيهَا. فَقَالَ " نَعَمْ ". فَلَمَّا قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لاَمَهُ أَصْحَابُهُ قَالُوا مَا أَحْسَنْتَ حِينَ رَأَيْتَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَخَذَهَا مُحْتَاجًا إِلَيْهَا، ثُمَّ سَأَلْتَهُ إِيَّاهَا، وَقَدْ عَرَفْتَ أَنَّهُ لاَ يُسْأَلُ شَيْئًا فَيَمْنَعَهُ. فَقَالَ رَجَوْتُ بَرَكَتَهَا حِينَ لَبِسَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لَعَلِّي أُكَفَّنُ فِيهَا.
#6037
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Time will pass rapidly, good deeds will decrease, and miserliness will be thrown (in the hearts of the people), and the Harj (will increase)." They asked, "What is the Harj?" He replied, "(It is) killing (murdering), (it is) murdering (killing)
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے کہا کہ مجھے حمید بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”زمانہ جلدی جلدی گزرے گا اور دین کا علم دنیا میں کم ہو جائے گا اور دلوں میں بخیلی سما جائے گی اور لڑائی بڑھ جائے گی۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا «هرج» کیا ہوتا ہے؟ فرمایا قتل خون ریزی۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ وَيَنْقُصُ الْعَمَلُ، وَيُلْقَى الشُّحُّ وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ ". قَالُوا وَمَا الْهَرْجُ قَالَ " الْقَتْلُ، الْقَتْلُ ".
#6038
Narrated Anas:I served the Prophet (ﷺ) for ten years, and he never said to me, "Uf" (a minor harsh word denoting impatience) and never blamed me by saying, "Why did you do so or why didn't you do so?
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے سلام بن مسکین سے سنا، کہا کہ میں نے ثابت سے سنا، کہا کہ ہم سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال تک خدمت کی لیکن آپ نے کبھی مجھے اف تک نہیں کہا اور نہ کبھی یہ کہا کہ فلاں کام کیوں کیا اور فلاں کام کیوں نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، سَمِعَ سَلاَّمَ بْنَ مِسْكِينٍ، قَالَ سَمِعْتُ ثَابِتًا، يَقُولُ حَدَّثَنَا أَنَسٌ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ خَدَمْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَشْرَ سِنِينَ، فَمَا قَالَ لِي أُفٍّ. وَلاَ لِمَ صَنَعْتَ وَلاَ أَلاَّ صَنَعْتَ.
#6039
Narrated Al-Aswad:I asked `Aisha what did the Prophet (ﷺ) use to do at home. She replied. "He used to keep himself busy serving his family and when it was time for the prayer, he would get up for prayer
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے اسود نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کرتے تھے؟ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے کام کاج کرتے اور جب نماز کا وقت ہو جاتا تو نماز کے لیے مسجد تشریف لے جاتے تھے۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ مَا كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُ فِي أَهْلِهِ قَالَتْ كَانَ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ.
#6040
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "If Allah loves a person, He calls Gabriel saying: 'Allah loves so and so; O Gabriel, love him.' Gabriel would love him, and then Gabriel would make an announcement among the residents of the Heaven, 'Allah loves so-and-so, therefore, you should love him also.' So, all the residents of the Heavens would love him and then he is granted the pleasure of the people of the earth
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعاصم نے، ان سے ابن جریج نے، کہا مجھ کو موسیٰ بن عقبہ نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب اللہ کسی بندہ سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام کو آواز دیتا ہے کہ اللہ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو۔ جبرائیل علیہ السلام بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر وہ تمام آسمان والوں میں آواز دیتے ہیں کہ اللہ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے۔ تم بھی اس سے محبت کرو۔ پھر تمام آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ اس کے بعد وہ زمین میں بھی ( اللہ کے بندوں کا ) مقبول اور محبوب بن جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا نَادَى جِبْرِيلَ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلاَنًا، فَأَحِبَّهُ. فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ، فَيُنَادِي جِبْرِيلُ فِي أَهْلِ السَّمَاءِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلاَنًا، فَأَحِبُّوهُ. فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ، ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي أَهْلِ الأَرْضِ ".
#6041
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) said, "None will have the sweetness (delight) of Faith (a) till he loves a person and loves him only for Allah's sake, (b) and till it becomes dearer to him to be thrown in the fire than to revert to disbelief (Heathenism) after Allah has brought him out of it, (c) and till Allah and His Apostle become dearer to him than anything else
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی شخص ایمان کی حلاوت ( مٹھاس ) اس وقت تک نہیں پا سکتا جب تک وہ کسی شخص سے محبت کرئے تو صرف اللہ کے لیے کرے اور اس کو آگ میں ڈالا جانا اچھا لگے لیکن ایمان کے بعد کفر میں جانا اسے پسند نہ ہو، اور جب تک اللہ اور اس کے رسول سے اسے ان کے سوا دوسری تمام چیزوں کے مقابلے میں زیادہ محبت نہ ہو۔
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَجِدُ أَحَدٌ حَلاَوَةَ الإِيمَانِ حَتَّى يُحِبَّ الْمَرْءَ، لاَ يُحِبُّهُ إِلاَّ لِلَّهِ، وَحَتَّى أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الْكُفْرِ، بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ، وَحَتَّى يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا ".
#6042
Narrated `Abdullah bin Zam`a:The Prophet (ﷺ) forbade laughing at a person who passes wind, and said, "How does anyone of you beat his wife as he beats the stallion camel and then he may embrace (sleep with) her?" And Hisham said, "As he beats his slave
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کی ریح خارج ہونے پر ہنسنے سے منع فرمایا اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ تم میں سے کس طرح ایک شخص اپنی بیوی کو زور سے مارتا ہے جیسے اونٹ، حالانکہ اس کی پوری امید ہے کہ شام میں اسے وہ گلے لگائے گا۔ اور ثوری، وہیب اور ابومعاویہ نے ہشام سے بیان کیا کہ ( جانور کی طرح ) کے بجائے لفظ غلام کی طرح کا استعمال کیا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَضْحَكَ الرَّجُلُ مِمَّا يَخْرُجُ مِنَ الأَنْفُسِ وَقَالَ " بِمَ يَضْرِبُ أَحَدُكُمُ امْرَأَتَهُ ضَرْبَ الْفَحْلِ، ثُمَّ لَعَلَّهُ يُعَانِقُهَا ". وَقَالَ الثَّوْرِيُّ وَوُهَيْبٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامٍ " جَلْدَ الْعَبْدِ ".
#6043
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) said at Mina, "Do you know what day is today?" They (the people) replied, "Allah and His Apostle know better," He said "Today is 10th of Dhul-Hijja, the sacred (forbidden) day. Do you know what town is this town?" They (the people) replied, "Allah and His Apostle know better." He said, "This is the (forbidden) Sacred town (Mecca a sanctuary)." And do you know which month is this month?" They (the People) replied, "Allah and His Apostle know better." He said, ''This is the Sacred (forbidden) month ." He added, "Allah has made your blood, your properties and your honor Sacred to one another (i.e. Muslims) like the sanctity of this day of yours in this month of yours, in this town of yours." (See Hadith No. 797, Vol)
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عاصم بن محمد بن زید نے خبر دی، انہوں نے کہا مجھے میرے والد اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حجۃ الوداع ) کے موقع پر منیٰ میں فرمایا تم جانتے ہو یہ کون سا دن ہے؟ صحابہ بولے اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ فرمایا یہ حرمت والا دن ہے ( پھر فرمایا ) تم جانتے ہو یہ کون سا شہر ہے؟ صحابہ بولے اللہ اور اس رسول کو زیادہ علم ہے، فرمایا یہ حرمت والا شہر ہے۔ ( پھر فرمایا ) تم جانتے ہو یہ کون سا مہینہ ہے؟ صحابہ بولے اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے، فرمایا یہی حرمت والا مہینہ ہے۔ پھر فرمایا بلاشبہ اللہ نے تم پر تمہارا ( ایک دوسرے کا ) خون، مال اور عزت اسی طرح حرام کیا ہے جیسے اس دن کو اس نے تمہارے اس مہینہ میں اور تمہارے اس شہر میں حرمت والا بنایا ہے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رضى الله عنهما قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِمِنًى " أَتَدْرُونَ أَىُّ يَوْمٍ هَذَا ". قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ " فَإِنَّ هَذَا يَوْمٌ حَرَامٌ، أَفَتَدْرُونَ أَىُّ بَلَدٍ هَذَا ". قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ " بَلَدٌ حَرَامٌ، أَتَدْرُونَ أَىُّ شَهْرٍ هَذَا ". قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ " شَهْرٌ حَرَامٌ ". قَالَ " فَإِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا ".
#6044
Narrated `Abdullah:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Abusing a Muslim is Fusuq (i.e., an evil-doing), and killing him is Kufr (disbelief)
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے منصور نے بیان کیا، کہا میں نے ابووائل سے سنا اور وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مسلمان کو گالی دینا گناہ ہے اور اس کو قتل کرنا کفر ہے۔“ غندر نے شعبہ سے روایت کرنے میں سلیمان کی متابعت کی ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ ". تَابَعَهُ غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ.
#6045
Narrated Abu Dhar:That he heard the Prophet (ﷺ) saying, "If somebody accuses another of Fusuq (by calling him 'Fasiq' i.e. a wicked person) or accuses him of Kufr, such an accusation will revert to him (i.e. the accuser) if his companion (the accused) is innocent
ہم سے ابومعمر عبداللہ بن عمرو نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے حسین بن ذکوان معلم نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن بریدہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے یحییٰ بن یعمر نے بیان کیا، ان سے ابوالاسود دیلی نے بیان کیا اور ان سے ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص کسی شخص کو کافر یا فاسق کہے اور وہ درحقیقت کافر یا فاسق نہ ہو تو خود کہنے والا فاسق اور کافر ہو جائے گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَعْمَرَ، أَنَّ أَبَا الأَسْوَدِ الدِّيلِيَّ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ يَرْمِي رَجُلٌ رَجُلاً بِالْفُسُوقِ، وَلاَ يَرْمِيهِ بِالْكُفْرِ، إِلاَّ ارْتَدَّتْ عَلَيْهِ، إِنْ لَمْ يَكُنْ صَاحِبُهُ كَذَلِكَ ".
#6046
Narrated Anas:Allah's Messenger (ﷺ) was neither a Fahish (one who had a bad tongue) nor a Sabbaba (one who abuses others) and he used to say while admonishing somebody, "What is wrong with him? May dust be on his forehead
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا کہا ہم سے ہلال بن علی نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فحش گو نہیں تھے، نہ آپ لعنت ملامت کرنے والے تھے اور نہ گالی دیتے تھے، آپ کو بہت غصہ آتا تو صرف اتنا کہہ دیتے، اسے کیا ہو گیا ہے، اس کی پیشانی پہ خاک لگے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا هِلاَلُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاحِشًا وَلاَ لَعَّانًا وَلاَ سَبَّابًا، كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْمَعْتَبَةِ " مَا لَهُ، تَرِبَ جَبِينُهُ ".
#6047
Narrated Thabit bin Ad-Dahhak:(who was one of the companions who gave the pledge of allegiance to the Prophet (ﷺ) underneath the tree (Al-Hudaibiya)) Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whoever swears by a religion other than Islam (i.e. if somebody swears by saying that he is a non-Muslim e.g., a Jew or a Christian, etc.) in case he is telling a lie, he is really so if his oath is false, and a person is not bound to fulfill a vow about a thing which he does not possess. And if somebody commits suicide with anything in this world, he will be tortured with that very thing on the Day of Resurrection; And if somebody curses a believer, then his sin will be as if he murdered him; And whoever accuses a believer of Kufr (disbelief), then it is as if he killed him
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے عثمان بن عمر نے، کہا ہم سے علی بن مبارک نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے ابوقلابہ نے کہ ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ اصحاب شجر ( بیعت رضوان کرنے والوں ) میں سے تھے، انہوں نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اسلام کے سوا کسی اور مذہب پر قسم کھائے ( کہ اگر میں نے فلاں کام کیا تو میں نصرانی ہوں، یہودی ہوں ) تو وہ ایسا ہو جائے گا جیسے کہ اس نے کہا اور کسی انسان پر ان چیزوں کی نذر صحیح نہیں ہوتی جو اس کے اختیار میں نہ ہوں اور جس نے دنیا میں کسی چیز سے خودکشی کر لی اسے اسی چیز سے آخرت میں عذاب ہو گا اور جس نے کسی مسلمان پر لعنت بھیجی تو یہ اس کے خون کرنے کے برابر ہے اور جو شخص کسی مسلمان کو کافر کہے تو وہ ایسا ہے جیسے اس کا خون کیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، أَنَّ ثَابِتَ بْنَ الضَّحَّاكِ، وَكَانَ، مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ حَلَفَ عَلَى مِلَّةٍ غَيْرِ الإِسْلاَمِ فَهْوَ كَمَا قَالَ، وَلَيْسَ عَلَى ابْنِ آدَمَ نَذْرٌ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَىْءٍ فِي الدُّنْيَا عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ لَعَنَ مُؤْمِنًا فَهْوَ كَقَتْلِهِ، وَمَنْ قَذَفَ مُؤْمِنًا بِكُفْرٍ فَهْوَ كَقَتْلِهِ ".
#6048
Narrated Sulaiman bin Surad:A man from the companions of the Prophet (ﷺ) said, "Two men abused each other in front of the Prophet (ﷺ) and one of them became angry and his anger became so intense that his face became swollen and changed. The Prophet (ﷺ) said, "I know a word the saying of which will cause him to relax if he does say it." Then a man went to him and informed him of the statement of the Prophet (ﷺ) and said, "Seek refuge with Allah from Satan." On that, angry man said, 'Do you find anything wrong with me? Am I insane? Go away
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عدی بن ثابت نے بیان کیا کہ میں نے سلیمان بن صرد سے سنا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو آدمیوں نے آپس میں گالی گلوچ کی ایک صاحب کو غصہ آ گیا اور بہت زیادہ آیا، ان کا چہرہ پھول گیا اور رنگ بدل دیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمایا کہ مجھے ایک کلمہ معلوم ہے کہ اگر ( غصہ کرنے والا شخص ) اسے کہہ لے تو اس کا غصہ دور ہو جائے گا۔ چنانچہ ایک صاحب نے جا کر غصہ ہونے والے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سنایا اور کہا شیطان سے اللہ کی پناہ مانگ وہ کہنے لگا کیا تم مجھ کو روگی سمجھتے ہو یا دیوانہ؟ جا اپنا راستہ لے۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ صُرَدٍ، رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ اسْتَبَّ رَجُلاَنِ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَغَضِبَ أَحَدُهُمَا، فَاشْتَدَّ غَضَبُهُ حَتَّى انْتَفَخَ وَجْهُهُ وَتَغَيَّرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي لأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ عَنْهُ الَّذِي يَجِدُ ". فَانْطَلَقَ إِلَيْهِ الرَّجُلُ فَأَخْبَرَهُ بِقَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ تَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ. فَقَالَ أَتُرَى بِي بَأْسٌ أَمَجْنُونٌ أَنَا اذْهَبْ.
#6049
Narrated 'Ubada bin As-Samit:Allah's Messenger (ﷺ) went out to inform the people about the (date of the Night of decree (Al-Qadr). There happened a quarrel between two Muslim men. The Prophet (ﷺ) said, "I came out to inform you about the Night of Al-Qadr, but as so-and-so and so-and-so quarrelled, so the news about it had been taken away; and may be it was better for you. So look for it in the ninth, the seventh, or the fifth (of the last ten days of Ramadan)
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، ان سے حمید نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو لیلۃ القدر کی بشارت دینے کے لیے حجرے سے باہر تشریف لائے، لیکن مسلمانوں کے دو آدمی اس وقت آپس میں کسی بات پر لڑنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں ( لیلۃ القدر کے متعلق ) بتانے کے لیے نکلا تھا لیکن فلاں فلاں آپس میں لڑنے لگے اور ( میرے علم سے ) وہ اٹھا لی گئی۔ ممکن ہے کہ یہی تمہارے لیے اچھا ہو۔ اب تم اسے 29 رمضان اور 27 رمضان اور 25 رمضان کی راتوں میں تلاش کرو۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ قَالَ أَنَسٌ حَدَّثَنِي عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِيُخْبِرَ النَّاسَ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَتَلاَحَى رَجُلاَنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " خَرَجْتُ لأُخْبِرَكُمْ، فَتَلاَحَى فُلاَنٌ وَفُلاَنٌ وَإِنَّهَا رُفِعَتْ، وَعَسَى أَنْ يَكُونَ خَيْرًا لَكُمْ، فَالْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالْخَامِسَةِ ".
#6050
Narrated Ma'rur:I saw Abu Dhar wearing a Burd (garment) and his slave too was wearing a Burd, so I said (to Abu Dhar), "If you take this (Burda of your slave) and wear it (along with yours), you will have a nice suit (costume) and you may give him another garment." Abu Dhar said, "There was a quarrel between me and another man whose mother was a non-Arab and I called her bad names. The man mentioned (complained about) me to the Prophet. The Prophet (ﷺ) said, "Did you abuse so-and-so?" I said, "Yes" He said, "Did you call his mother bad names?" I said, "Yes". He said, "You still have the traits of (the Pre-Islamic period of) ignorance." I said. "(Do I still have ignorance) even now in my old age?" He said, "Yes, they (slaves or servants) are your brothers, and Allah has put them under your command. So the one under whose hand Allah has put his brother, should feed him of what he eats, and give him dresses of what he wears, and should not ask him to do a thing beyond his capacity. And if at all he asks him to do a hard task, he should help him therein
مجھ سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے معرور نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے، معرور نے بیان کیا کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ کے جسم پر ایک چادر دیکھی اور ان کے غلام کے جسم پر بھی ایک ویسی ہی چادر تھی، میں نے عرض کیا: اگر اپنے غلام کی چادر لے لیں اور اسے بھی پہن لیں تو ایک رنگ کا جوڑا ہو جائے غلام کو دوسرا کپڑا دے دیں۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ مجھ میں اور ایک صاحب ( بلال رضی اللہ عنہ ) میں تکرار ہو گئی تھی تو ان کی ماں عجمی تھیں، میں نے اس بارے میں ان کو طعنہ دے دیا انہوں نے جا کر یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کیا تم نے اس سے جھگڑا کیا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ دریافت کیا تم نے اسے اس کی ماں کی وجہ سے طعنہ دیا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے اندر ابھی جاہلیت کی بو باقی ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس بڑھاپے میں بھی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں یاد رکھو یہ ( غلام بھی ) تمہارے بھائی ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہاری ماتحتی میں دیا ہے، پس اللہ تعالیٰ جس کی ماتحتی میں بھی اس کے بھائی کو رکھے اسے چاہئے کہ جو وہ کھائے اسے بھی کھلائے اور جو وہ پہنے اسے بھی پہنائے اور اسے ایسا کام کرنے کے لیے نہ کہے، جو اس کے بس میں نہ ہو اگر اسے کوئی ایسا کام کرنے کے لیے کہنا ہی پڑے تو اس کام میں اس کی مدد کرے۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنِ الْمَعْرُورِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ رَأَيْتُ عَلَيْهِ بُرْدًا وَعَلَى غُلاَمِهِ بُرْدًا فَقُلْتُ لَوْ أَخَذْتَ هَذَا فَلَبِسْتَهُ كَانَتْ حُلَّةً، وَأَعْطَيْتَهُ ثَوْبًا آخَرَ. فَقَالَ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ كَلاَمٌ، وَكَانَتْ أُمُّهُ أَعْجَمِيَّةً، فَنِلْتُ مِنْهَا فَذَكَرَنِي إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لِي " أَسَابَبْتَ فُلاَنًا ". قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ " أَفَنِلْتَ مِنْ أُمِّهِ ". قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ " إِنَّكَ امْرُؤٌ فِيكَ جَاهِلِيَّةٌ ". قُلْتُ عَلَى حِينِ سَاعَتِي هَذِهِ مِنْ كِبَرِ السِّنِّ قَالَ " نَعَمْ، هُمْ إِخْوَانُكُمْ، جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ، فَمَنْ جَعَلَ اللَّهُ أَخَاهُ تَحْتَ يَدِهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ، وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ، وَلاَ يُكَلِّفُهُ مِنَ الْعَمَلِ مَا يَغْلِبُهُ، فَإِنْ كَلَّفَهُ مَا يَغْلِبُهُ فَلْيُعِنْهُ عَلَيْهِ ".