#1051
Daif
Narrated Ali ibn AbuTalib: Ali said on the pulpit in the mosque of Kufah: When Friday comes, the devils go to the markets with their flags, and involve people in their needs and prevent them from the Friday prayer. The angels come early in the morning, sit at the door of the mosque, and record that so-and-so came at the first hour, and so-and-so came at the second hour until the imam comes out (for preaching). When a man sits in a place where he can listen (to the sermon) and look (at the imam), where he remains silent and does not interrupt, he will receive a double reward. If he stays away, sits in a place where he cannot listen (to the sermon), silent, and does not interrupt, he will receive the reward only once. If he sits in a place where he can listen (to the sermon) and look (at the imam), and he does not remain silent, he will have the burden of it. If anyone says to his companion sitting besides him to be silent (while the imam is preaching), he is guilty of idle talk. Anyone who interrupts (during the sermon) will receive nothing (no reward) on that Friday. Then he (the narrator) says in the end of this tradition: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say so. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by al-Walid b. Muslim from Ibn Jabir. This version adds: bi'l-raba'ith (instead of al-raba'ith, needs preventing the people from prayer). Further, this adds: Freed slave of his wife Umm 'Uthman b. 'Ata
عطاء خراسانی اپنی بیوی ام عثمان کے غلام سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں نے کوفہ کے منبر پر علی رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ جب جمعہ کا دن آتا ہے تو شیطان اپنے جھنڈے لے کر بازاروں میں جاتے ہیں اور لوگوں کو ضرورتوں و حاجتوں کی یاد دلا کر ان کو جمعہ میں آنے سے روکتے ہیں اور فرشتے صبح سویرے مسجد کے دروازے پر آ کر بیٹھتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ کون پہلی ساعت ( گھڑی ) میں آیا، اور کون دوسری ساعت ( گھڑی ) میں آیا، یہاں تک کہ امام ( خطبہ جمعہ کے لیے ) نکلتا ہے، پھر جب آدمی ایسی جگہ بیٹھتا ہے، جہاں سے وہ خطبہ سن سکتا ہے اور امام کو دیکھ سکتا ہے اور ( دوران خطبہ ) چپ رہتا ہے، کوئی لغو حرکت نہیں کرتا تو اس کو دوہرا ثواب ملتا ہے اور اگر کوئی شخص دور بیٹھتا ہے جہاں سے خطبہ سنائی نہیں دیتا، لیکن خاموش رہتا ہے اور کوئی بیہودہ بات نہیں کرتا تو ایسے شخص کو ثواب کا ایک حصہ ملتا ہے اور اگر کوئی ایسی جگہ بیٹھا، جہاں سے خطبہ سن سکتا ہے اور امام کو دیکھ سکتا ہے لیکن ( دوران خطبہ ) بیہودہ باتیں کرتا رہا اور خاموش نہ رہا تو اس پر گناہ کا ایک حصہ لاد دیا جاتا ہے اور جس شخص نے جمعہ کے دن اپنے ( بغل کے ) ساتھی سے کہا: چپ رہو، تو اس نے لغو حرکت کی اور جس شخص نے لغو حرکت کی تو اسے اس جمعہ کا ثواب کچھ نہ ملے گا، پھر وہ اس روایت کے اخیر میں کہتے ہیں: میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ولید بن مسلم نے ابن جابر سے روایت کیا ہے۔ اس میں بغیر شک کے «ربائث» ہے، نیز اس میں «مولى امرأته أم عثمان بن عطاء» ہے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ مَوْلَى، امْرَأَتِهِ أُمِّ عُثْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا، - رضى الله عنه - عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ يَقُولُ " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ غَدَتِ الشَّيَاطِينُ بِرَايَاتِهَا إِلَى الأَسْوَاقِ فَيَرْمُونَ النَّاسَ بِالتَّرَابِيثِ أَوِ الرَّبَائِثِ وَيُثَبِّطُونَهُمْ عَنِ الْجُمُعَةِ وَتَغْدُو الْمَلاَئِكَةُ فَيَجْلِسُونَ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ فَيَكْتُبُونَ الرَّجُلَ مِنْ سَاعَةٍ وَالرَّجُلَ مِنْ سَاعَتَيْنِ حَتَّى يَخْرُجَ الإِمَامُ فَإِذَا جَلَسَ الرَّجُلُ مَجْلِسًا يَسْتَمْكِنُ فِيهِ مِنَ الاِسْتِمَاعِ وَالنَّظَرِ فَأَنْصَتَ وَلَمْ يَلْغُ كَانَ لَهُ كِفْلاَنِ مِنْ أَجْرٍ فَإِنْ نَأَى وَجَلَسَ حَيْثُ لاَ يَسْمَعُ فَأَنْصَتَ وَلَمْ يَلْغُ كَانَ لَهُ كِفْلٌ مِنْ أَجْرٍ وَإِنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَسْتَمْكِنُ فِيهِ مِنَ الاِسْتِمَاعِ وَالنَّظَرِ فَلَغَا وَلَمْ يُنْصِتْ كَانَ لَهُ كِفْلٌ مِنْ وِزْرٍ وَمَنْ قَالَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِصَاحِبِهِ صَهْ . فَقَدْ لَغَا وَمَنْ لَغَا فَلَيْسَ لَهُ فِي جُمُعَتِهِ تِلْكَ شَىْءٌ " . ثُمَّ يَقُولُ فِي آخِرِ ذَلِكَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ذَلِكَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ ابْنِ جَابِرٍ قَالَ بِالرَّبَائِثِ وَقَالَ مَوْلَى امْرَأَتِهِ أُمِّ عُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍ .
#1052
Hasan Sahih
Narrated Al-Ja'd ad-Damri: The Prophet (ﷺ) said: He who leaves the Friday prayer (continuously) for three Friday on account of slackness, Allah will print a stamp on his heart
ابوجعد ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (انہیں شرف صحبت حاصل تھا) وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص سستی سے تین جمعہ چھوڑ دے تو اس کی وجہ سے اللہ اس کے دل پر مہر لگا دے گا ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدَةُ بْنُ سُفْيَانَ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ أَبِي الْجَعْدِ الضَّمْرِيِّ، - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ تَرَكَ ثَلاَثَ جُمَعٍ تَهَاوُنًا بِهَا طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قَلْبِهِ " .
#1053
Daif
Narrated Samurah ibn Jundub: The Prophet (ﷺ) said: If anyone omits the Friday prayer without excuse, he must give a dinar in alms, or if he does not have as much, then half a dinar. Abu Dawud said: Khalid b. Qais reported this tradition in this manner, but he disagreed in respect of chain (of transmitters) and agreed in respect of the text
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ کہ آپ نے فرمایا: جو شخص بغیر عذر کے جمعہ چھوڑ دے تو وہ ایک دینار صدقہ کرے، اگر اسے ایک دینار میسر نہ ہو تو نصف دینار کرے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے خالد بن قیس نے اسی طرح روایت کیا ہے، اور سند میں ان کی مخالفت کی ہے اور متن میں موافقت۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ وَبَرَةَ الْعُجَيْفِيِّ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِينَارٍ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَبِنِصْفِ دِينَارٍ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَكَذَا رَوَاهُ خَالِدُ بْنُ قَيْسٍ وَخَالَفَهُ فِي الإِسْنَادِ وَوَافَقَهُ فِي الْمَتْنِ .
#1054
Daif
Narrated Qudamah ibn Wabirah: The Prophet (ﷺ) said: If anyone omits the Friday prayer without excuse, he must give one dirham or half a dirham, or one sa' or half a sa' of wheat, in alms. Abu Dawud said: Sa'id b. Bashir reported this tradition in a like manner, except that he narrated "one mudd or half mudd" (instead of sa'). He narrated it from Samurah. Abu Dawud said: I heard Ahmad bin Hanbal being asked about the differences over the narration of this Hadith. He said: "Hammam has a stronger memory - in my opinion - than Ayyub
قدامہ بن وبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے بغیر عذر کے جمعہ چھوٹ جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ ایک درہم یا نصف درہم یا ایک صاع گیہوں یا نصف صاع گیہوں صدقہ دے ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سعید بن بشیر نے قتادہ سے اسی طرح روایت کیا ہے مگر انہوں نے اپنی روایت میں مد یا نصف مد کہا ہے نیز «عن سمرة» کہا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل سے سنا ان سے اس حدیث کے اختلاف کے متعلق پوچھا جا رہا تھا تو انہوں نے کہا: میرے نزدیک ہمام ایوب ابو العلاء سے زیادہ حفظ میں قوی ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ أَيُّوبَ أَبِي الْعَلاَءِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ وَبَرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ فَاتَتْهُ الْجُمُعَةُ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِرْهَمٍ أَوْ نِصْفِ دِرْهَمٍ أَوْ صَاعِ حِنْطَةٍ أَوْ نِصْفِ صَاعٍ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ عَنْ قَتَادَةَ هَكَذَا إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ " مُدًّا أَوْ نِصْفَ مُدٍّ " . وَقَالَ عَنْ سَمُرَةَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يُسْأَلُ عَنِ اخْتِلاَفِ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ هَمَّامٌ عِنْدِي أَحْفَظُ مِنْ أَيُّوبَ يَعْنِي أَبَا الْعَلاَءِ .
#1055
Sahih
‘A’ishah, the wife of prophet(ﷺ), said:The people used to attend the Friday prayer from their houses and from the suburbs of Medina
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ لوگ جمعہ کے لیے اپنے اپنے گھروں سے اور عوالی ۱؎ سے باربار آتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ، حَدَّثَهُ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ النَّاسُ يَنْتَابُونَ الْجُمُعَةَ مِنْ مَنَازِلِهِمْ وَمِنَ الْعَوَالِي .
#1056
Daif
Narrated Abdullah ibn Amr: The Prophet (ﷺ) said: The Friday prayer is obligatory on him who hears the call. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by a group of narrators from Sufyan. They did not narrate it as a statement of the Prophet (ﷺ); only Qabisah has transmitted it as saying of the Prophet (ﷺ)
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ ہر اس شخص پر ہے جس نے جمعہ کی اذان سنی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو ایک جماعت نے سفیان سے روایت کرتے ہوئے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما پر موقوف کیا ہے اور صرف قبیصہ نے اسے مسند ( یعنی مرفوع روایت ) کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ، - يَعْنِي الطَّائِفِيَّ - عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ نُبَيْهٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هَارُونَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْجُمُعَةُ عَلَى كُلِّ مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ جَمَاعَةٌ عَنْ سُفْيَانَ مَقْصُورًا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو لَمْ يَرْفَعُوهُ وَإِنَّمَا أَسْنَدَهُ قَبِيصَةُ .
#1057
Sahih
Narrated Usamah ibn Umayr al-Huzali: The rain was falling on the day when the Battle of Hunayn took place. The Prophet (ﷺ), therefore, commanded that the people should offer their prayer in their camps
ابوملیح کے والد اسامہ بن عمیر ھزلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ حنین کے روز بارش ہو رہی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منادی کو حکم دیا کہ ( وہ اعلان کر دے کہ ) لوگ اپنے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ يَوْمَ، حُنَيْنٍ كَانَ يَوْمَ مَطَرٍ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مُنَادِيَهُ أَنِ الصَّلاَةُ فِي الرِّحَالِ .
#1058
Sahih
Abu al-Malih said:That took place on a Friday
ابوملیح سے روایت ہے کہ یہ جمعہ کا دن تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ صَاحِبٍ، لَهُ عَنْ أَبِي مَلِيحٍ، أَنَّ ذَلِكَ، كَانَ يَوْمَ جُمُعَةٍ .
#1059
Sahih
Narrated Usamah ibn Umayr al-Huzali: Usamah attended the Prophet (ﷺ) on the occasion of the treaty of al-Hudaybiyyah on Friday. The rain fell as little as the soles of the shoes of the people were not set. He (the Prophet) commanded them to offer Friday prayer in their dwellings
ابوملیح اپنے والد اسامہ بن عمیر ہزلی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صلح حدیبیہ کے موقع پر جمعہ کے روز حاضر ہوئے وہاں ایسی بارش ہوئی تھی کہ ان کے جوتوں کے تلے بھی نہیں بھیگے تھے تو آپ نے انہیں اپنے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لینے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ خَبَّرَنَا عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ وَأَصَابَهُمْ مَطَرٌ لَمْ تَبْتَلَّ أَسْفَلُ نِعَالِهِمْ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يُصَلُّوا فِي رِحَالِهِمْ .
#1060
Sahih
Nafi said:Ibn ‘Umar stayed at Dajnan (a place between Mecca and Medina) on a cold night. He commanded an announcer (to announce). He announced that the people should offer prayer in their dwellings. Ayyub said: Nafi narrated on the authority of Ibn ‘Umar that whenever there was a cold or a rainy day night, the Messenger of Allah (ﷺ) commanded the announcer (to announce). He announced to offer prayer in the dwellings
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما وادی ضجنان میں ایک سرد رات میں اترے اور منادی کو حکم دیا اور اس نے آواز لگائی: لوگو! اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو، ایوب کہتے ہیں: اور ہم سے نافع نے عبداللہ بن عمر کے واسطے سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سردی یا بارش کی رات ہوتی تو منادی کو حکم دیتے تو وہ «الصلاة في الرحال» لوگو! اپنے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو کا اعلان کرتا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، نَزَلَ بِضَجْنَانَ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ فَأَمَرَ الْمُنَادِيَ فَنَادَى أَنِ الصَّلاَةُ فِي الرِّحَالِ . قَالَ أَيُّوبُ وَحَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ بَارِدَةٌ أَوْ مَطِيرَةٌ أَمَرَ الْمُنَادِيَ فَنَادَى الصَّلاَةُ فِي الرِّحَالِ .
#1061
Sahih
Narrated Abdullah ibn Umar: Nafi' reported: Ibn Umar made the call to prayer at Dajnan (a place between Mecca and Medina). Then he announced: "Offer prayer in your dwellings:" He then narrated a tradition from the Messenger of Allah (ﷺ). He used to command an announcer who made the call to prayer. He then announced: "Pray in your dwellings" on a cold or rainy night during journey. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Hammad b. Salamah from Ayyub and 'Ubaid Allah. In his version he added: During journey on a cold or a rainy night
نافع کہتے ہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے وادی ضجنان میں نماز کے لیے اذان دی، پھر اعلان کیا کہ لوگو! تم لوگ اپنے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو، اس میں ہے کہ پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نقل کی کہ آپ سفر میں سردی یا بارش کی رات میں منادی کو حکم فرماتے تو وہ نماز کے لیے اذان دیتا پھر وہ اعلان کرتا کہ لوگو! اپنے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حماد بن سلمہ نے ایوب اور عبیداللہ سے روایت کیا ہے اس میں «في الليلة الباردة وفي الليلة المطيرة في السفر» کے بجائے «في السفر في الليلة القرة أو المطيرة» کے الفاظ ہیں۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ نَادَى ابْنُ عُمَرَ بِالصَّلاَةِ بِضَجْنَانَ ثُمَّ نَادَى أَنْ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ قَالَ فِيهِ ثُمَّ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ الْمُنَادِيَ فَيُنَادِي بِالصَّلاَةِ ثُمَّ يُنَادِي " أَنْ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ " . فِي اللَّيْلَةِ الْبَارِدَةِ وَفِي اللَّيْلَةِ الْمَطِيرَةِ فِي السَّفَرِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ وَعُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ فِيهِ فِي السَّفَرِ فِي اللَّيْلَةِ الْقَرَّةِ أَوِ الْمَطِيرَةِ .
#1062
Sahih
Narrated Abdullah ibn Umar: Nafi' said: Ibn Umar made the call to prayer at Dajnan (a place between Mecca and Medina), on a cold and windy night. He added the words at the end of the call: "Lo! pray in your dwellings. Lo! pray in the dwellings." He then said: The Messenger of Allah (ﷺ) used to command the mu'adhdhin to announce, "Lo! pray in your dwellings." on a cold or rainy night during journey
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے مقام ضجنان میں سرد اور آندھی والی ایک رات میں اذان دی تو اپنی اذان کے آخر میں کہا: لوگو! اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو، لوگو! اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو، پھر انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر کے اندر سردی یا بارش کی رات میں مؤذن کو حکم فرماتے تھے کہ اعلان کر دو: لوگو! اپنے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ نَادَى بِالصَّلاَةِ بِضَجْنَانَ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَرِيحٍ فَقَالَ فِي آخِرِ نِدَائِهِ أَلاَ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ أَلاَ صَلُّوا فِي الرِّحَالِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَأْمُرُ الْمُؤَذِّنَ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ بَارِدَةٌ أَوْ ذَاتُ مَطَرٍ فِي سَفَرٍ يَقُولُ أَلاَ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ .
#1063
Sahih
Nafi said:Ibn ‘Umar made the call to prayer on a cold and windy night. He then said: “Lo! Pray in the dwellings. “Afterwards he said: Whenever there was a cold or rainy day night, the Messenger of Allah (ﷺ) used to command the mu’adhdin to announce: “Lo! Pray in the dwellings.”
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سرد اور آندھی والی ایک رات میں نماز کے لیے اذان دی تو کہا: لوگو! ڈیروں میں نماز پڑھ لو، پھر انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سردی یا بارش والی رات ہوتی تو مؤذن کو یہ اعلان کرنے کا حکم دیتے: لوگو! ڈیروں میں نماز پڑھ لو ۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، - يَعْنِي أَذَّنَ بِالصَّلاَةِ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَرِيحٍ - فَقَالَ أَلاَ صَلُّوا فِي الرِّحَالِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَأْمُرُ الْمُؤَذِّنَ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ بَارِدَةٌ أَوْ ذَاتُ مَطَرٍ يَقُولُ أَلاَ صَلُّوا فِي الرِّحَالِ .
#1064
Munkar
Ibn ‘Umar said:The announcer of the Messenger of Allah(ﷺ) announced for that (to pray at homes) at Medina on a rainy night or a cold morning. Abu Dawud said: This tradition has also been narrated by Yahya b. Sa’id al-Ansari from al-Qasim from Ibn ‘Umar from the Prophet (ﷺ). This version adds the words “During the journey.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے مدینہ کے اندر بارش کی رات یا سردی کی صبح میں ایسی ہی ندا کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو یحییٰ بن سعید انصاری نے قاسم سے، قاسم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، ابن عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے اور اس میں «في السفر» کے الفاظ بھی ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِذَلِكَ فِي الْمَدِينَةِ فِي اللَّيْلَةِ الْمَطِيرَةِ وَالْغَدَاةِ الْقَرَّةِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَى هَذَا الْخَبَرَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيُّ عَنِ الْقَاسِمِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ فِيهِ فِي السَّفَرِ .
#1065
Sahih
Jabir said:We were in the company of the Messenger of Allah (ﷺ) during a journey. The rain fell upon us. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Anyone who wants to pray in his dwelling may pray
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ بارش ہونے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو چاہے وہ اپنے ڈیرے میں نماز پڑھ لے ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَمُطِرْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لِيُصَلِّ مَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فِي رَحْلِهِ " .
#1066
Sahih
Ibn Sirin said:Ibn ‘Abbas said to his mu’adhdhin on a rainy day: “when you utter the words ‘ I testify that Muhammad is the Messenger of Allah,” do not say,” Come to prayer” but say “Pray at your homes,” By this (announcement) the people were surprised. He said: One who was better than me has done it. The Friday prayer is an obligatory duty. But I disliked to put you to hardship so that you might walk in mud and rain
محمد بن سیرین کے چچا زاد بھائی عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بارش کے دن اپنے مؤذن سے کہا: جب تم«أشهد أن محمدا رسول الله» کہنا تو اس کے بعد «حي على الصلاة» نہ کہنا بلکہ اس کی جگہ «صلوا في بيوتكم» لوگو! اپنے اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو کہنا، لوگوں نے اسے برا جانا تو انہوں نے کہا: ایسا اس ذات نے کیا ہے جو مجھ سے بہتر تھی ( یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) ، بیشک جمعہ واجب ہے، لیکن مجھے یہ بات گوارہ نہ ہوئی کہ میں تم کو کیچڑ اور پانی میں ( جمعہ کے لیے ) آنے کی زحمت دوں۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ، صَاحِبُ الزِّيَادِيِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ابْنُ عَمِّ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ لِمُؤَذِّنِهِ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ إِذَا قُلْتَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ . فَلاَ تَقُلْ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ . قُلْ صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ . فَكَأَنَّ النَّاسَ اسْتَنْكَرُوا ذَلِكَ فَقَالَ قَدْ فَعَلَ ذَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي إِنَّ الْجُمُعَةَ عَزْمَةٌ وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أُحْرِجَكُمْ فَتَمْشُونَ فِي الطِّينِ وَالْمَطَرِ .
#1067
Sahih
Narrated Tariq ibn Shihab: The Prophet (ﷺ) said: The Friday prayer in congregation is a necessary duty for every Muslim, with four exceptions; a slave, a woman, a boy, and a sick person. Abu Dawud said: Tariq b. Shihab had seen the Prophet (ﷺ) but not heard anything from him
طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کی نماز جماعت سے ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے سوائے چار لوگوں: غلام، عورت، نابالغ بچہ، اور بیمار کے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: طارق بن شہاب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے مگر انہوں نے آپ سے کچھ سنا نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا هُرَيْمٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْجُمُعَةُ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فِي جَمَاعَةٍ إِلاَّ أَرْبَعَةً عَبْدٌ مَمْلُوكٌ أَوِ امْرَأَةٌ أَوْ صَبِيٌّ أَوْ مَرِيضٌ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ طَارِقُ بْنُ شِهَابٍ قَدْ رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ شَيْئًا .
#1068
Sahih
Ibn ‘Abbas said:The Friday prayer first offered in Islam after the Friday prayer offered in the mosque of the Messenger of Allah (ﷺ) is Friday prayer offered at Juwatha, a village from the villages of al-Bahrain. The narrator ‘Uthman said: it is a village from the village of the tribe of ‘Abd al-Qais
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہتے ہیں اسلام میں مسجد نبوی میں جمعہ قائم کئے جانے کے بعد پہلا جمعہ قریہ جواثاء میں قائم کیا گیا، جو علاقہ بحرین ۱؎ کا ایک گاؤں ہے، عثمان کہتے ہیں: وہ قبیلہ عبدالقیس کا ایک گاؤں ہے ۲؎۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ، - لَفْظُهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ إِنَّ أَوَّلَ جُمُعَةٍ جُمِّعَتْ فِي الإِسْلاَمِ بَعْدَ جُمُعَةٍ جُمِّعَتْ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْمَدِينَةِ لَجُمُعَةٌ جُمِّعَتْ بِجُوَاثَاءَ قَرْيَةٍ مِنْ قُرَى الْبَحْرَيْنِ . قَالَ عُثْمَانُ قَرْيَةٌ مِنْ قُرَى عَبْدِ الْقَيْسِ .
#1069
Hasan
Narrated Ka'b ibn Malik: AbdurRahman ibn Ka'b ibn Malik said: When Ka'b ibn Malik heard the call to prayer on Friday, he prayed for As'ad ibn Zurarah. I asked him: What is the matter that when you hear the call to prayer, you pray for As'ad ibn Zurarah? He replied: This is because he held the Friday prayer for the first time for us at Hazm an-Nabit of Harrah belonging to Banu Bayadah in Naqi', called Naqi' al-Khadumat. I asked him: How many were you at that time ? He said: Forty
عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک اپنے والد کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کی بصارت چلی جانے کے بعد وہ ان کے راہبر تھے، وہ کہتے ہیں کہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ جب جمعہ کے دن اذان سنتے تو اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے رحمت کی دعا کرتے، عبدالرحمٰن بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ جب آپ اذان سنتے ہیں تو اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے رحمت کی دعا کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: میں ان کے لیے رحمت کی دعا اس لیے کرتا ہوں کہ یہی وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ہمیں قبیلہ بنو بیاضہ کے حرہ نقیع الخضمات میں واقع ( بستی، گاؤں ) ھزم النبیت ۱؎ میں جمعہ کی نماز پڑھائی، میں نے پوچھا: اس دن آپ لوگ کتنے تھے؟ کہا: ہم چالیس تھے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، - وَكَانَ قَائِدَ أَبِيهِ بَعْدَ مَا ذَهَبَ بَصَرُهُ عَنْ أَبِيهِ، كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ كَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ، يَوْمَ الْجُمُعَةِ تَرَحَّمَ لأَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ . فَقُلْتُ لَهُ إِذَا سَمِعْتَ النِّدَاءَ، تَرَحَّمْتَ لأَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ قَالَ لأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ جَمَّعَ بِنَا فِي هَزْمِ النَّبِيتِ مِنْ حَرَّةِ بَنِي بَيَاضَةَ فِي نَقِيعٍ يُقَالُ لَهُ نَقِيعُ الْخَضِمَاتِ . قُلْتُ كَمْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ قَالَ أَرْبَعُونَ .
#1070
Sahih
Narrated Zayd ibn Arqam: Ilyas ibn AbuRamlah ash-Shami said: I witnessed Mu'awiyah ibn AbuSufyan asking Zayd ibn Arqam: Did you offer along with the Messenger of Allah (ﷺ) the Friday and 'Id prayers synchronised on the same day? He said: Yes. He asked: How did he do? He replied: He offered the 'Id prayer, then granted concession to offer the Friday prayer, and said: If anyone wants to offer it, he may offer
ایاس بن ابی رملۃ شامی کہتے ہیں کہ میں معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا اور وہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھ رہے تھے کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو عیدوں میں جو ایک ہی دن آ پڑی ہوں حاضر رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، معاویہ نے پوچھا: پھر آپ نے کس طرح کیا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز پڑھی، پھر جمعہ کی رخصت دی اور فرمایا: جو جمعہ کی نماز پڑھنی چاہے پڑھے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ أَبِي رَمْلَةَ الشَّامِيِّ، قَالَ شَهِدْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَهُوَ يَسْأَلُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ قَالَ أَشَهِدْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِيدَيْنِ اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ قَالَ نَعَمْ . قَالَ فَكَيْفَ صَنَعَ قَالَ صَلَّى الْعِيدَ ثُمَّ رَخَّصَ فِي الْجُمُعَةِ فَقَالَ " مَنْ شَاءَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيُصَلِّ " .
#1071
Sahih
Narrated Abdullah ibn Abbas: Ata' ibn AbuRabah said: Ibn az-Zubayr led us in the 'Id prayer on Friday early in the morning. When we went to offer the Friday, he did not come out to us. So we prayed ourselves alone. At that time Ibn Abbas was present in at-Ta'if. When he came to us, we mentioned this (incident) to him. He said: He followed the sunnah
عطاء بن ابورباح کہتے ہیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ہمیں جمعہ کے دن صبح سویرے عید کی نماز پڑھائی، پھر جب ہم نماز جمعہ کے لیے چلے تو وہ ہماری طرف نکلے ہی نہیں، بالآخر ہم نے تنہا تنہا نماز پڑھی ۱؎ ابن عباس رضی اللہ عنہما اس وقت طائف میں تھے، جب وہ آئے تو ہم نے ان سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے کہا: انہوں ( ابن زبیر رضی اللہ عنہ ) نے سنت پر عمل کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْبَجَلِيُّ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ صَلَّى بِنَا ابْنُ الزُّبَيْرِ فِي يَوْمِ عِيدٍ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ أَوَّلَ النَّهَارِ ثُمَّ رُحْنَا إِلَى الْجُمُعَةِ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْنَا فَصَلَّيْنَا وُحْدَانًا وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ بِالطَّائِفِ فَلَمَّا قَدِمَ ذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ أَصَابَ السُّنَّةَ .
#1072
Sahih
‘Ata’ said:The Friday and the ‘id prayers synchronized during the time of Ibn al-Zubair. He said: Two festivals (‘id and Friday) synchronized on the same day. He combined them and offered two rak’ahs in the morning and did not add anything to them until he offered the afternoon prayer
عطاء کہتے ہیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں جمعہ اور عید دونوں ایک ہی دن اکٹھا ہو گئے تو آپ نے کہا: ایک ہی دن میں دونوں عیدیں اکٹھا ہو گئی ہیں، پھر آپ نے دونوں کو ملا کر صبح کے وقت صرف دو رکعت پڑھ لی، اس سے زیادہ نہیں پڑھی یہاں تک کہ عصر پڑھی ۱؎۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ قَالَ عَطَاءٌ اجْتَمَعَ يَوْمُ جُمُعَةٍ وَيَوْمُ فِطْرٍ عَلَى عَهْدِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَقَالَ عِيدَانِ اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ فَجَمَعَهُمَا جَمِيعًا فَصَلاَّهُمَا رَكْعَتَيْنِ بُكْرَةً لَمْ يَزِدْ عَلَيْهِمَا حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ .
#1073
Sahih
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: Two festivals ('Id and Friday) have synchronised on this day. If anyone does not want to offer the Friday prayer, the 'Id prayer is sufficient for him. But we shall offer the Friday prayer. This tradition has been narrated by 'Umar from Shu'bah
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے آج کے اس دن میں دو عیدیں اکٹھا ہو گئی ہیں، لہٰذا رخصت ہے، جو چاہے عید اسے جمعہ سے کافی ہو گی اور ہم تو جمعہ پڑھیں گے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، وَعُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الْوَصَّابِيُّ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْمُغِيرَةِ الضَّبِّيِّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " قَدِ اجْتَمَعَ فِي يَوْمِكُمْ هَذَا عِيدَانِ فَمَنْ شَاءَ أَجْزَأَهُ مِنَ الْجُمُعَةِ وَإِنَّا مُجَمِّعُونَ " . قَالَ عُمَرُ عَنْ شُعْبَةَ .
#1074
Sahih
Ibn ‘Abbas said:the Messenger of Allah (ﷺ) used to recite in the morning prayer on Friday Surah Tanzil al-Sajdah (xxxii.) and Surah al-Dahr(lxxi)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر میں سورۃ السجدة اور «هل أتى على الإنسان حين من الدهر» پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُخَوَّلِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ تَنْزِيلَ السَّجْدَةِ وَ { هَلْ أَتَى عَلَى الإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ } .
#1075
Sahih
This tradition has also been transmitted through a different chain of narrators. This version adds:In the Friday prayer he would recite Surah al-Jumu’ah (lxxi) and Surah al-Munafiqunn
اس طریق سے بھی مخول سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں انہوں نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ میں سورۃ الجمعہ اور «إذا جاءك المنافقون» پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُخَوَّلٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ وَزَادَ فِي صَلاَةِ الْجُمُعَةِ بِسُورَةِ الْجُمُعَةِ وَ { إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ } .