#1076
Sahih
‘Abd Allah b. ‘Umar said:‘Umar b. al-Khattab saw a silken suit sold at the gate of the mosque. He said: Messenger of Allah, would that you purchase this suit and wear it on Friday and on the occasion when a delegation (from the outside) comes to you. The Messenger of Allah (ﷺ) said: One who has no share in the afterlife will put on this (suit). Afterwards suits of similar nature were brought to the Messenger of Allah (ﷺ). He gave ‘Umar b. al-Khattab one of these suits. ‘Umar said: Messenger of Allah, you are giving it to me for use while you had told me such-and-such about the suit of ‘Utarid (I.e. sold by ‘Utarid). The Messenger of Allah (ﷺ) said: I did not give it to you that you should wear it. Hence ‘Umar gave it to his brother who was a disbeliever at Mecca for wearing
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مسجد کے دروازے کے پاس ایک ریشمی جوڑا بکتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش! آپ اس کو خرید لیں اور جمعہ کے دن اور جس دن آپ کے پاس باہر کے وفود آئیں، اسے پہنا کریں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے تو صرف وہی پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسی قسم کے کچھ جوڑے آئے تو آپ نے ان میں سے ایک جوڑا عمر رضی اللہ عنہ کو دیا تو عمر نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے یہ کپڑا مجھے پہننے کو دیا ہے؟ حالانکہ عطارد کے جوڑے کے سلسلہ میں آپ ایسا ایسا کہہ چکے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں یہ جوڑا اس لیے نہیں دیا ہے کہ اسے تم پہنو ، چنانچہ عمر نے اسے اپنے ایک مشرک بھائی کو جو مکہ میں رہتا تھا پہننے کے لیے دے دیا۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَأَى حُلَّةً سِيَرَاءَ - يَعْنِي تُبَاعُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ - فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ فِي الآخِرَةِ " . ثُمَّ جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْهَا حُلَلٌ فَأَعْطَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ مِنْهَا حُلَّةً فَقَالَ عُمَرُ كَسَوْتَنِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدَ مَا قُلْتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا " . فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مُشْرِكًا بِمَكَّةَ .
#1077
Sahih
Abd Allah b. 'Umar said:'Umar b. al-Khattab saw a suit of silken cloth being sold in the market. He took it to the Messenger of Allah (ﷺ), and said: Purchase it ad decorate with it on 'id on the occasion of the arrival of delegations. The narrator then narrated the tradition. The former version is complete
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بازار میں ایک موٹے ریشم کا جوڑا بکتا ہوا پایا تو اسے لے کر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: آپ اسے خرید لیجئیے اور عید میں یا وفود سے ملتے وقت آپ اسے پہنا کیجئے۔ پھر راوی نے پوری حدیث اخیر تک بیان کی اور پہلی حدیث زیادہ کامل ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ وَجَدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حُلَّةَ إِسْتَبْرَقٍ تُبَاعُ بِالسُّوقِ فَأَخَذَهَا فَأَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ابْتَعْ هَذِهِ تَجَمَّلْ بِهَا لِلْعِيدِ وَلِلْوَفْدِ . ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ وَالأَوَّلُ أَتَمُّ .
#1078
Sahih
Narrated Muhammad ibn Yahya ibn Habban: The Messenger of Allah (ﷺ) said: What is the harm if any of you has two garments, if he can provide them, for Friday (prayer) in addition to the two garments for his daily work? Amr reported from Ibn Habib from Musa ibn Sa'd from Ibn Habban from Ibn Salam who heard this (tradition) from the Messenger of Allah (ﷺ) on the pulpit. Abu Dawud said: This tradition has been reported by Yusuf b. 'Abd Allah b. Salam from the Prophet (ﷺ) through a different chain of narrators
محمد بن یحییٰ بن حبان نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میسر ہو سکے تو تمہارے لیے کوئی حرج کی بات نہیں کہ تم میں سے ہر ایک اپنے کام کاج کے کپڑوں کے علاوہ دو کپڑے جمعہ کے لیے بنا رکھے ۱؎ ۔ عمرو کہتے ہیں: مجھے ابن ابوحبیب نے خبر دی ہے، انہوں نے موسیٰ بن سعد سے، موسیٰ بن سعد نے ابن حبان سے، ابن حبان نے ابن سلام سے روایت کی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے منبر پر فرماتے سنا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے وہب بن جریر نے اپنے والد سے، انہوں نے یحییٰ بن ایوب سے، یحییٰ نے یزید بن ابوحبیب سے، انہوں نے موسیٰ بن سعد سے، موسیٰ بن سعد نے یوسف بن عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، وَعَمْرٌو، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا عَلَى أَحَدِكُمْ إِنْ وَجَدَ " . أَوْ " مَا عَلَى أَحَدِكُمْ إِنْ وَجَدْتُمْ أَنْ يَتَّخِذَ ثَوْبَيْنِ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ سِوَى ثَوْبَىْ مَهْنَتِهِ " . قَالَ عَمْرٌو وَأَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ مُوسَى بْنِ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ حَبَّانَ عَنِ ابْنِ سَلاَمٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ذَلِكَ عَلَى الْمِنْبَرِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ مُوسَى بْنِ سَعْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
#1079
Hasan
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited buying and selling in the mosque, announcing aloud about a lost thing, the recitation of a poem in it, and prohibited sitting in a circle (in the mosque) on Friday before the prayer
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں خرید و فروخت کرنے، کوئی گمشدہ چیز تلاش کرنے، شعر پڑھنے اور جمعہ کے دن نماز سے پہلے حلقہ بنا کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الشِّرَاءِ وَالْبَيْعِ فِي الْمَسْجِدِ وَأَنْ تُنْشَدَ فِيهِ ضَالَّةٌ وَأَنْ يُنْشَدَ فِيهِ شِعْرٌ وَنَهَى عَنِ التَّحَلُّقِ قَبْلَ الصَّلاَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ .
#1080
Sahih
Abu Hazim b. Dinar said:People came to Sahl b. Sa'd al-Sa'idi, when they were doubtful about the kind of wood of the pulpit (in the mosque of the Prophet). They asked him about it. He said: By Allah, I know (the wood) of which it was made; I saw it the first day when it was placed there, and the first day when the Messenger of Allah (ﷺ) sat on it. The Messenger of Allah (ﷺ) sent for a woman whom Sahl named and asked her: Order your boy, the carpenter, to construct for me a wooden pulpit so that I sit on it when I deliver a speech to the people. So she ordered him and he made a pulpit of a wood called tarfa taken from al-Ghabah (a place at a distance of nine miles from Medina). He brought it to her. She sent it to the Messenger of Allah (ﷺ). He ordered and that was placed here. I saw the Messenger of Allah (ﷺ) praying on it: he said: "Allah is most great"; he then bowed while he was on it; then he returned and prostrated in the root of the pulpit; he then returned (to the pulpit). When he finished (the prayer), he addressed himself to the people and said: O people, I did this so that you may follow me and know my prayer
ابوحازم بن دینار بیان کرتے ہیں کہ کہ کچھ لوگ سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، وہ لوگ منبر کے سلسلے میں جھگڑ رہے تھے کہ کس لکڑی کا تھا؟ تو انہوں نے سہل بن سعد سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ نے کہا: قسم اللہ کی! میں جانتا ہوں کہ وہ کس لکڑی کا تھا اور میں نے اسے پہلے ہی دن دیکھا جب وہ رکھا گیا اور جب اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کے پاس- جس کا سہل نے نام لیا- یہ پیغام بھیجا کہ تم اپنے نوجوان بڑھئی کو حکم دو کہ وہ میرے لیے چند لکڑیاں ایسی بنا دے جن پر بیٹھ کر میں لوگوں کو خطبہ دیا کروں، تو اس عورت نے اسے منبر کے بنانے کا حکم دیا، اس بڑھئی نے غابہ کے جھاؤ سے منبر بنایا پھر اسے لے کر وہ عورت کے پاس آیا تو اس عورت نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ( ایک جگہ ) رکھنے کا حکم دیا، چنانچہ وہ منبر اسی جگہ رکھا گیا، پھر میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی اور تکبیر کہی پھر اسی پر رکوع بھی کیا، پھر آپ الٹے پاؤں اترے اور منبر کی جڑ میں سجدہ کیا، پھر منبر پر واپس چلے گئے، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی جانب متوجہ ہو کر فرمایا: لوگو! میں نے یہ اس لیے کیا ہے تاکہ تم میری پیروی کرو اور میری نماز کو جان سکو۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيُّ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمِ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ رِجَالاً، أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ وَقَدِ امْتَرَوْا فِي الْمِنْبَرِ مِمَّ عُودُهُ فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لأَعْرِفُ مِمَّا هُوَ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ أَوَّلَ يَوْمٍ وُضِعَ وَأَوَّلَ يَوْمٍ جَلَسَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى فُلاَنَةَ امْرَأَةٍ قَدْ سَمَّاهَا سَهْلٌ " أَنْ مُرِي غُلاَمَكِ النَّجَّارَ أَنْ يَعْمَلَ لِي أَعْوَادًا أَجْلِسُ عَلَيْهِنَّ إِذَا كَلَّمْتُ النَّاسَ " . فَأَمَرَتْهُ فَعَمِلَهَا مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ ثُمَّ جَاءَ بِهَا فَأَرْسَلَتْهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ بِهَا فَوُضِعَتْ هَا هُنَا فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى عَلَيْهَا وَكَبَّرَ عَلَيْهَا ثُمَّ رَكَعَ وَهُوَ عَلَيْهَا ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَى فَسَجَدَ فِي أَصْلِ الْمِنْبَرِ ثُمَّ عَادَ فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا بِي وَلِتَعَلَّمُوا صَلاَتِي " .
#1081
Sahih
Ibn 'Umar said:When the Prophet (ﷺ) became fat, Tamim al-Dari said to him: Should I make for you pulpit, Messenger of Allah, that will bear the burden of your body ? He said: Yes. So he made a pulpit consisting of two steps
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم ( بڑھاپے کی وجہ سے ) جب بھاری ہو گیا تو تمیم داری رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں آپ کے لیے ایک منبر نہ تیار کر دوں جو آپ کی ہڈیوں کو مجتمع رکھے یا اٹھائے رکھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، کیوں نہیں! ، چنانچہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دو زینوں والا ایک منبر بنا دیا۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمَّا بَدُنَ قَالَ لَهُ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ أَلاَ أَتَّخِذُ لَكَ مِنْبَرًا يَا رَسُولَ اللَّهِ يَجْمَعُ - أَوْ يَحْمِلُ - عِظَامَكَ قَالَ " بَلَى " . فَاتَّخَذَ لَهُ مِنْبَرًا مِرْقَاتَيْنِ .
#1082
Sahih
Salamah b. al-Akwa' said:The space between the pulpit of the Messenger of Allah (ﷺ) and the wall (of the mosque) was such that a goat could pass
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر اور ( قبلہ والی ) دیوار کے درمیان ایک بکری کے گزرنے کے بقدر جگہ تھی۔
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، قَالَ كَانَ بَيْنَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَبَيْنَ الْحَائِطِ كَقَدْرِ مَمَرِّ الشَّاةِ .
#1083
Daif
Narrated AbuQatadah: The Prophet (ﷺ) disapproved of the offering of prayer at the meridian except on Friday. The Hell-fire is kindled except on Friday. Abu Dawud said: This is a mursal tradition (i.e. the successor is narrating it directly from the Prophet). Mujahid is older than Abu al-Khalil, and Abu al-Khalil did not hear (any tradition from) Abu Qatadah
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھیک دوپہر کے وقت نماز پڑھنے کو ناپسند کیا ہے سوائے جمعہ کے دن کے اور آپ نے فرمایا: جہنم سوائے جمعہ کے دن کے ہر روز بھڑکائی جاتی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث مرسل ( منقطع ) ہے، مجاہد عمر میں ابوالخلیل سے بڑے ہیں اور ابوالخلیل کا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَرِهَ الصَّلاَةَ نِصْفَ النَّهَارِ إِلاَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَقَالَ " إِنَّ جَهَنَّمَ تُسْجَرُ إِلاَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هُوَ مُرْسَلٌ مُجَاهِدٌ أَكْبَرُ مِنْ أَبِي الْخَلِيلِ وَأَبُو الْخَلِيلِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي قَتَادَةَ .
#1084
Sahih
Anas b. Malik said:The Messenger of Allah (ﷺ) used to offer the Friday prayer when the sun declined
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ سورج ڈھلنے کے بعد پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيُّ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الْجُمُعَةَ إِذَا مَالَتِ الشَّمْسُ .
#1085
Sahih
Salamah b. al-Akwa' reported on the authority of his father:We used to offer the Friday prayer along with the Messenger of Allah (ﷺ) and return (to our homes) while no shade of the walls was seen (at that time)
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ پڑھتے تھے پھر نماز سے فارغ ہو کر واپس آتے تھے اور دیواروں کا سایہ نہ ہوتا تھا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ الْحَارِثِ، سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْجُمُعَةَ ثُمَّ نَنْصَرِفُ وَلَيْسَ لِلْحِيطَانِ فَىْءٌ .
#1086
Sahih
Sahl b. Sa'd said:We had a siesta or lunch after the Friday prayer
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم جمعہ کے بعد قیلولہ کرتے تھے اور دوپہر کا کھانا کھاتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ كُنَّا نَقِيلُ وَنَتَغَدَّى بَعْدَ الْجُمُعَةِ .
#1087
Sahih
Al-Sa'ib b. Yazid said:During the time of the Prophet (ﷺ) and Abu Bakr and 'Umar the call to the Friday prayer was first made at the time when the imam was seated on the pulpit (for giving the sermon). When the time of 'Uthman came, and the people became abundant, 'Uthman ordered to make a third call to the Friday prayer. It was made on al-Zaura' (a house in Medina). The rule of action continued to the same effect
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں جمعہ کے دن پہلی اذان اس وقت ہوتی تھی جب امام منبر پر بیٹھ جاتا تھا، پھر جب عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت ہوئی، اور لوگوں کی تعداد بڑھ گئی تو جمعہ کے دن انہوں نے تیسری اذان کا حکم دیا، چنانچہ زوراء ۱؎ پر اذان دی گئی پھر معاملہ اسی پر قائم رہا ۲؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ الأَذَانَ، كَانَ أَوَّلُهُ حِينَ يَجْلِسُ الإِمَامُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ - رضى الله عنهما - فَلَمَّا كَانَ خِلاَفَةُ عُثْمَانَ وَكَثُرَ النَّاسُ أَمَرَ عُثْمَانُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِالأَذَانِ الثَّالِثِ فَأُذِّنَ بِهِ عَلَى الزَّوْرَاءِ فَثَبَتَ الأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ .
#1088
Munkar
Sa'id b. Yazid said:The call to the (Friday) prayer was made at the gate of the mosque in front of the Messenger of Allah (ﷺ) when he sat on the pulpit, and of Abu Bakr and 'Umar. The narrator then repeated the same tradition as reported by Yunus
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جمعہ کے روز جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھ جاتے تو آپ کے سامنے مسجد کے دروازے پر اذان دی جاتی تھی اسی طرح ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے دور میں بھی مسجد کے دروازے پر اذان دی جاتی۔ پھر راوی نے یونس کی حدیث کی طرح روایت بیان کی۔
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ كَانَ يُؤَذَّنُ بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ . ثُمَّ سَاقَ نَحْوَ حَدِيثِ يُونُسَ .
#1089
Sahih
Sa'ib said:There was no other mu'adhdhin (pronouncer) of the Messenger of Allah (ﷺ) except Bilal. The narrator then reported the tradition to the same effect
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سوائے ایک مؤذن بلال رضی اللہ عنہ کے کوئی اور مؤذن نہیں تھا ۱؎۔ پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، - يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ - عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ، قَالَ لَمْ يَكُنْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ مُؤَذِّنٌ وَاحِدٌ بِلاَلٌ ثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَاهُ .
#1090
Sahih
Sa'ib said:There was no other mu'adhdhin of the Messenger of Allah (ﷺ). He then narrated the tradition which is incomplete
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مؤذن کے علاوہ اور کوئی مؤذن نہیں تھا۔ اور راوی نے یہی حدیث بیان کی لیکن پوری نہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ابْنَ أُخْتِ، نَمِرٍ أَخْبَرَهُ قَالَ وَلَمْ يَكُنْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَيْرُ مُؤَذِّنٍ وَاحِدٍ . وَسَاقَ هَذَا الْحَدِيثَ وَلَيْسَ بِتَمَامِهِ .
#1091
Sahih
Jabir said:When the Messenger of Allah (ﷺ) seated himself on the pulpit on a Friday he said, Sit down. Ibn Mas'ud heard that and sat down at the door of mosque, and when the Messenger of Allah (ﷺ) saw him, he said: Come here, 'Abd Allah b. Mas'ud. Abu Dawud said: This tradition is known as mursal (the successor reports directly from the Prophet, omitting then name of the Companion). The people narrated it from the Prophet (ﷺ) on the authority of 'Ata'. Makhlad is his teacher
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن جب منبر پر اچھی طرح سے بیٹھ گئے تو آپ نے لوگوں سے فرمایا: بیٹھ جاؤ ، تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ( جو اس وقت مسجد کے دروازے پر تھے ) اسے سنا تو وہ مسجد کے دروازے ہی پر بیٹھ گئے، تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو فرمایا: عبداللہ بن مسعود! تم آ جاؤ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث مرسلاً معروف ہے کیونکہ اسے لوگوں نے عطاء سے، عطاء نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اور مخلد شیخ ہیں، ( یعنی مراتب تعدیل کے پانچویں درجہ پر ہیں جن کی روایتیں حسن سے نیچے ہی ہوتی ہیں، الا یہ کہ ان کا کوئی متابع موافق ہو)
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ الأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ لَمَّا اسْتَوَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَالَ " اجْلِسُوا " . فَسَمِعَ ذَلِكَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَجَلَسَ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " تَعَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا يُعْرَفُ مُرْسَلاً إِنَّمَا رَوَاهُ النَّاسُ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَخْلَدٌ هُوَ شَيْخٌ .
#1092
Sahih
Ibn 'Umar said:The Prophet (ﷺ) used to deliver two sermons. He would sit down when he ascended the pulpit till he (I think he meant the mu'adhdhin) finished. He would then stand up and preach, then sit down and say nothing, then stand up and preach
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( جمعہ کے دن ) دو خطبہ دیتے تھے وہ اس طرح کہ آپ منبر پر چڑھنے کے بعد بیٹھتے تھے یہاں تک کہ مؤذن فارغ ہو جاتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور خطبہ دیتے، پھر ( تھوڑی دیر ) خاموش بیٹھتے پھر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، - يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ - عَنِ الْعُمَرِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ خُطْبَتَيْنِ كَانَ يَجْلِسُ إِذَا صَعِدَ الْمِنْبَرَ حَتَّى يَفْرُغَ - أُرَاهُ قَالَ الْمُؤَذِّنُ - ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ ثُمَّ يَجْلِسُ فَلاَ يَتَكَلَّمُ ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ .
#1093
Hasan
Jabir b. Samurah said:The Messenger of Allah (ﷺ) used to deliver the sermon standing, then he would sit down, then stand and preach standing. If anyone tells you he preached sitting, he is lying. I swear by Allah that I offered along with more than two thousand prayers
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( جمعہ کے دن ) کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، پھر ( تھوڑی دیر ) بیٹھ جاتے، پھر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے، لہٰذا جو تم سے یہ بیان کرے کہ آپ بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے تو وہ غلط گو ہے، پھر انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں آپ کے ساتھ دو ہزار سے زیادہ نمازیں پڑھ چکا ہوں ۱؎۔
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَخْطُبُ قَائِمًا ثُمَّ يَجْلِسُ ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ قَائِمًا فَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ كَانَ يَخْطُبُ جَالِسًا فَقَدْ كَذَبَ فَقَالَ فَقَدْ وَاللَّهِ صَلَّيْتُ مَعَهُ أَكْثَرَ مِنْ أَلْفَىْ صَلاَةٍ .
#1094
Hasan
Jabir b. Samurah said:The Messenger of Allah (ﷺ) gave two sermons between which he sat, recited the Quran and gave the people an exhortation
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ( جمعہ کے دن ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو خطبے ہوتے تھے، ان دونوں خطبوں کے درمیان آپ ( تھوڑی دیر ) بیٹھتے تھے، ( خطبہ میں ) آپ قرآن پڑھتے اور لوگوں کو نصیحت کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - الْمَعْنَى - عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خُطْبَتَانِ كَانَ يَجْلِسُ بَيْنَهُمَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيُذَكِّرُ النَّاسَ .
#1095
Hasan
Jabir b. Samurah said:I saw the Prophet (ﷺ) would deliver the sermon standing, then sit down without saying anything. The narrator then reported the tradition in full
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے دیکھا پھر آپ تھوڑی دیر خاموش بیٹھتے تھے، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ قَائِمًا ثُمَّ يَقْعُدُ قَعْدَةً لاَ يَتَكَلَّمُ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
#1096
Hasan
Shu'ayb ibn Zurayq at-Ta'ifi said:I sat with a man who had been in the company of the Messenger of Allah (ﷺ). He was called al-Hakam ibn Hazn al-Kulafi. He began to narrate a tradition to us saying: I came to the Messenger of Allah (ﷺ) in a delegation consisting of seven or nine persons. We entered upon him and said: Messenger of Allah, we have visited you, so pray Allah what is good for us. He ordered to give us some dates. The Muslims in those days were weak. We stayed there for several days and offered the Friday prayer along with the Messenger of Allah (ﷺ). He stood leaning on a staff or a bow. He praised Allah and exalted Him in light, pure and blessed words. Then he said: O people, you have no power to obey or you cannot obey what you are ordered. But be straight and give good tidings. Abu 'Ali said: Did you hear Abu Dawud ? He said: Some of my companions reminded me of some words that were omitted from writing on the paper
شہاب بن خراش کہتے ہیں کہ شعیب بن زریق طائفی نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ میں ایک شخص کے پاس ( جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرف صحبت حاصل تھا، اور جسے حکم بن حزن کلفی کہا جاتا تھا ) بیٹھا تو وہ ہم سے بیان کرنے لگا کہ میں ایک وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں اس وفد کا ساتواں یا نواں آدمی تھا، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کی زیارت کی ہے تو آپ ہمارے لیے خیر و بہتری کی دعا فرما دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کھجوریں ہم کو دینے کا حکم دیا اور حالت اس وقت ناگفتہ بہ تھی، پھر ہم وہاں کچھ روز ٹھہرے رہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ میں بھی حاضر رہے، آپ ایک عصا یا کمان پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے چند ہلکے، پاکیزہ اور مبارک کلمات کے ذریعہ اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا: لوگو! تم سارے احکام کو جن کا تمہیں حکم دیا جائے بجا لانے کی ہرگز طاقت نہیں رکھتے یا تم نہیں بجا لا سکتے، لیکن درستی پر قائم رہو اور خوش ہو جاؤ ۔ ابوعلی کہتے ہیں کہ میں نے ابوداؤد کو کہتے ہوئے سنا کہ ہمارے بعض ساتھیوں نے کچھ کلمات مجھے ایسے لکھوائے جو کاغذ سے کٹ گئے تھے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ خِرَاشٍ، حَدَّثَنِي شُعَيْبُ بْنُ رُزَيْقٍ الطَّائِفِيُّ، قَالَ جَلَسْتُ إِلَى رَجُلٍ لَهُ صُحْبَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُقَالُ لَهُ الْحَكَمُ بْنُ حَزْنٍ الْكُلَفِيُّ فَأَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا قَالَ وَفَدْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَابِعَ سَبْعَةٍ أَوْ تَاسِعَ تِسْعَةٍ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ زُرْنَاكَ فَادْعُ اللَّهَ لَنَا بِخَيْرٍ فَأَمَرَ بِنَا أَوْ أَمَرَ لَنَا بِشَىْءٍ مِنَ التَّمْرِ وَالشَّأْنُ إِذْ ذَاكَ دُونٌ فَأَقَمْنَا بِهَا أَيَّامًا شَهِدْنَا فِيهَا الْجُمُعَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَى عَصًا أَوْ قَوْسٍ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ كَلِمَاتٍ خَفِيفَاتٍ طَيِّبَاتٍ مُبَارَكَاتٍ ثُمَّ قَالَ " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ لَنْ تُطِيقُوا أَوْ لَنْ تَفْعَلُوا كُلَّ مَا أُمِرْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ سَدِّدُوا وَأَبْشِرُوا " . قَالَ أَبُو عَلِيٍّ سَمِعْتُ أَبَا دَاوُدَ قَالَ ثَبَّتَنِي فِي شَىْءٍ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِنَا وَقَدْ كَانَ انْقَطَعَ مِنَ الْقِرْطَاسِ .
#1097
Daif
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: When the Messenger of Allah (ﷺ) addressed, he would say: Praise be to Allah, from Whom we seek help and pardon,and we seek refuge in Allah from the evils of our souls. He whom Allah guide has no one who can lead him astray, and he whom He leads astray has no one to guide him. And I bear witness that there is no god but Allah, and I bear witness that Muhammad is His servant and apostle. He sent him before the coming of the last hour with truth giving good tidings and warning. He who obeys Allah and His Apostle follows the right path; and he who disobeys them shall harm none except himself, and he will not harm Allah in the least
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ پڑھتے تو کہتے: «الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادي له، وأشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن محمدا عبده ورسوله، أرسله بالحق بشيرا ونذيرا بين يدي الساعة، من يطع الله ورسوله فقد رشد، ومن يعصهما فإنه لا يضر إلا نفسه ولا يضر الله شيئا» ہر قسم کی حمد و ثنا اللہ ہی کے لیے ہے، ہم اسی سے مدد ما نگتے ہیں اور اسی سے مغفرت چاہتے ہیں، ہم اپنے نفس کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، اللہ تعالیٰ جسے ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں برحق رسول بنا کر قیامت آنے سے پہلے خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے، جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ سیدھی راہ پر ہے، اور جو ان دونوں کی نافرمانی کرے گا وہ خود اپنے آپ کو نقصان پہنچائے گا، اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا تَشَهَّدَ قَالَ " الْحَمْدُ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلاَ هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ أَرْسَلَهُ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا بَيْنَ يَدَىِ السَّاعَةِ مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَإِنَّهُ لاَ يَضُرُّ إِلاَّ نَفْسَهُ وَلاَ يَضُرُّ اللَّهَ شَيْئًا " .
#1098
Daif
Narrated Ibn Shihab: Yunus asked Ibn Shihab about the address of the Messenger of Allah (ﷺ) on Friday. He mentioned it in like manner. He added: Anyone who disobeys them (Allah and His Apostle) goes astray. We beseech Allah, our Lord, to make us from those who obey Him and obey His Apostle, and follow what He likes, and abstain from His anger; we are due to Him and we belong to Him
یونس سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن شہاب ( زہری ) سے جمعہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی اور اس میں اتنا اضافہ کیا: «ومن يعصهما فقد غوى . ونسأل الله ربنا أن يجعلنا ممن يطيعه ويطيع رسوله ويتبع رضوانه ويجتنب سخطه فإنما نحن به وله» جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی وہ گمراہ ہو گیا، ہم اللہ تعالیٰ سے جو ہمارا رب ہے یہ چاہتے ہیں کہ ہم کو اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کرنے والوں اور اس کی رضا مندی ڈھونڈھنے والوں اور اس کے غصے سے پرہیز کرنے والوں میں سے بنا لے کیونکہ ہم اسی کی وجہ سے ہیں اور اسی کے لیے ہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنْ تَشَهُّدِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ قَالَ " وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَقَدْ غَوَى " . وَنَسْأَلُ اللَّهَ رَبَّنَا أَنْ يَجْعَلَنَا مِمَّنْ يُطِيعُهُ وَيُطِيعُ رَسُولَهُ وَيَتَّبِعُ رِضْوَانَهُ وَيَجْتَنِبُ سَخَطَهُ فَإِنَّمَا نَحْنُ بِهِ وَلَهُ .
#1099
Sahih
Adi b. Hatim said:A speaker delivered a speech in the presence of the Prophet (ﷺ). He said: Anyone who obeys Allah and His Apostle, and one who disobeys them. He said: Go away, you are a bad speaker
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ایک خطیب نے خطبہ دیا اور یوں کہا: «من يطع الله ورسوله ومن يعصهما» تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہاں سے اٹھ جاؤ یا چلے جاؤ تم برے خطیب ہو ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ، عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّ خَطِيبًا، خَطَبَ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَقَالَ " قُمْ - أَوِ اذْهَبْ - بِئْسَ الْخَطِيبُ أَنْتَ " .
#1100
Sahih
Bint al-Harith b. al-Nu'man said:I memorized Surah al-Qaf from the mouth of the Messenger of Allah (ﷺ); he would recite it in his speech on every friday. Our oven and his oven were same. Abu Dawud said: Rawh b. 'Ubadah reported on the authority of Shu'bah the name Bint Harithah b. al-Nu'man ; and Ibn Ishaq reported the name of Umm Hisham hint Harithah b. al-Nu'man
(ام ہشام) بنت حارث (حارثہ بن نعمان) بن نعمان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے سورۃ ق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان ( مبارک ) سے سنتے ہی سنتے یاد کی ہے، آپ اسے ہر جمعہ کو خطبہ میں پڑھا کرتے تھے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور ہمارا ایک ہی چولہا تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَعْنٍ، عَنْ بِنْتِ الْحَارِثِ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَتْ مَا حَفِظْتُ ق إِلاَّ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَخْطُبُ بِهَا كُلَّ جُمُعَةٍ قَالَتْ وَكَانَ تَنُّورُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَتَنُّورُنَا وَاحِدًا قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ بِنْتِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ أُمِّ هِشَامٍ بِنْتِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ .