#1026
Sahih
Narrated Ata' ibn Yasar: The Prophet (ﷺ) said: When one of you is in doubt about his prayer, and does not know how much he has prayed, three or four rak'ahs, he should pray one (additional) rak'ah and make two prostrations while sitting before giving the salutation. If the (additional) rak'ah which he prayed is the fifth one, he will make it an even number by these two prostrations. If it is the fourth one, the two prostrations will be a disgrace for the devil
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے، پھر اسے یاد نہ رہے کہ میں نے تین پڑھی ہے یا چار تو ایک رکعت اور پڑھ لے اور سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے، اب اگر جو رکعت اس نے پڑھی ہے وہ پانچویں تھی تو ان دونوں ( سجدوں ) کے ذریعہ اسے جفت کرے گا یعنی وہ چھ رکعتیں ہو جائیں گی اور اگر چوتھی تھی تو یہ دونوں سجدے شیطان کے لیے ذلت و خواری کا ذریعہ ہوں گے ۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاَتِهِ فَلاَ يَدْرِي كَمْ صَلَّى ثَلاَثًا أَوْ أَرْبَعًا فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً وَيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ فَإِنْ كَانَتِ الرَّكْعَةُ الَّتِي صَلَّى خَامِسَةً شَفَعَهَا بِهَاتَيْنِ وَإِنْ كَانَتْ رَابِعَةً فَالسَّجْدَتَانِ تَرْغِيمٌ لِلشَّيْطَانِ " .
#1027
Daif
Zaid b. Aslam reported on the authority of the chain of Malik:The Prophet (ﷺ) said: If one of you is in doubt about his prayer, and if he is sure that he prayed three rak'ah, he should stand and complete one rak'ah along with its prostrations. Then he should sit and recite the tashahhud. When he finishes the prayer, and there remains nothing except salutation, he should make two prostrations while he is sitting and afterwards should give the salutation. The narrator then narrated the tradition similar to that of Malik. Abu Dawud said: Similarly, this tradition has been narrated by Ibn Wahb from Malik, Hafs b. Maisarah, Dawud b. Qais and Hisham b. Sa'd. But Hisham projected it to Abu Sa'id al-Khudri
اس طریق سے بھی زید بن اسلم سے مالک ہی کی سند سے مروی ہے، زید کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کو نماز میں شک ہو جائے تو اگر اسے یقین ہو کہ میں نے تین ہی رکعت پڑھی ہے تو کھڑا ہو اور ایک رکعت اس کے سجدوں کے ساتھ پڑھ کر اسے پوری کرے پھر بیٹھے اور تشہد پڑھے، پھر جب ان سب کاموں سے فارغ ہو جائے اور صرف سلام پھیرنا باقی رہے تو سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے پھر سلام پھیرے ۔ پھر راوی نے مالک کی روایت کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے ابن وہب نے مالک، حفص بن میسرہ، داود بن قیس اور ہشام بن سعد سے روایت کیا ہے، مگر ہشام نے اسے ابو سعید خدری تک پہنچایا ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، بِإِسْنَادِ مَالِكٍ قَالَ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاَتِهِ فَإِنِ اسْتَيْقَنَ أَنْ قَدْ صَلَّى ثَلاَثًا فَلْيَقُمْ فَلْيُتِمَّ رَكْعَةً بِسُجُودِهَا ثُمَّ يَجْلِسْ فَيَتَشَهَّدْ فَإِذَا فَرَغَ فَلَمْ يَبْقَ إِلاَّ أَنْ يُسَلِّمَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ثُمَّ لْيُسَلِّمْ " . ثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَى مَالِكٍ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ كَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ وَهْبٍ عَنْ مَالِكٍ وَحَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ وَدَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ وَهِشَامِ بْنِ سَعْدٍ إِلاَّ أَنَّ هِشَامًا بَلَغَ بِهِ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ .
#1028
Daif
AbuUbaydah reported, on the authority of his father Abdullah (ibn Mas'ud), the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:When you offer the prayer, and you are in doubt about the number of rak'ahs whether offered three or four, and you have prayed four rak'ahs in all probability in your opinion, you should recite tashahhud and make two prostrations while you are sitting before giving the salutation. afterwards you should recite the tashahhud and give the salutation again. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by 'Abd al-Wahid from Khusaif, but he did not report it as a statement of the Prophet (ﷺ). The version of 'Abd al-Wahid has been corroborated by Sufyan, Sharik, and Isra'il. They differed amongst themselves about the text of the tradition and they did not narrate it with the continuous chain up to the Prophet (ﷺ)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ک آپ نے فرمایا: جب تم نماز میں رہو اور تمہیں تین یا چار میں شک ہو جائے اور تمہارا غالب گمان یہ ہو کہ چار رکعت ہی پڑھی ہے تو تشہد پڑھو، پھر سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرو، پھر تشہد پڑھو اور پھر سلام پھیر دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عبدالواحد نے خصیف سے روایت کیا ہے اور مرفوع نہیں کیا ہے۔ نیز سفیان، شریک اور اسرائیل نے عبدالواحد کی موافقت کی ہے اور ان لوگوں نے متن حدیث میں اختلاف کیا ہے اور اسے مسند نہیں کیا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا كُنْتَ فِي صَلاَةٍ فَشَكَكْتَ فِي ثَلاَثٍ أَوْ أَرْبَعٍ وَأَكْبَرُ ظَنِّكَ عَلَى أَرْبَعٍ تَشَهَّدْتَ ثُمَّ سَجَدْتَ سَجْدَتَيْنِ وَأَنْتَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ تُسَلِّمَ ثُمَّ تَشَهَّدْتَ أَيْضًا ثُمَّ تُسَلِّمُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ عَبْدُ الْوَاحِدِ عَنْ خُصَيْفٍ وَلَمْ يَرْفَعْهُ وَوَافَقَ عَبْدَ الْوَاحِدِ أَيْضًا سُفْيَانُ وَشَرِيكٌ وَإِسْرَائِيلُ وَاخْتَلَفُوا فِي الْكَلاَمِ فِي مَتْنِ الْحَدِيثِ وَلَمْ يُسْنِدُوهُ .
#1029
Daif
Narrated AbuSa'id al-Khudri: The Prophet (ﷺ) said: When one of you prays, and he does not know whether he prayed more or less rak'ahs (than those prescribed by the Shari'ah), he should perform two prostrations while he is sitting. If the devil comes to him, and tells him (suggests him): "You have been defiled," he should say: "You have told a lie," except that he feels smell with his nose, or sound with his ears (then his ablution will break). These are the wording; of the tradition reported by Aban. Abu Dawud said: Ma'mar and 'Abi b. al-Mubarak mentioned the name "Iyad b. Hilal and al-Awza'i mentioned the name of Iyad b. Abi Zuhair
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے اور یہ نہ جان سکے کہ زیادہ پڑھی ہے یا کم تو بیٹھ کر دو سجدے کر لے ۱؎ پھر اگر اس کے پاس شیطان آئے اور اس سے کہے ( یعنی دل میں وسوسہ ڈالے ) کہ تو نے حدث کر لیا ہے تو اس سے کہے: تو جھوٹا ہے مگر یہ کہ وہ اپنی ناک سے بو سونگھ لے یا اپنے کان سے آواز سن لے۲؎ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا عِيَاضٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِلاَلِ بْنِ عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَدْرِ زَادَ أَمْ نَقَصَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ قَاعِدٌ فَإِذَا أَتَاهُ الشَّيْطَانُ فَقَالَ إِنَّكَ قَدْ أَحْدَثْتَ فَلْيَقُلْ كَذَبْتَ إِلاَّ مَا وَجَدَ رِيحًا بِأَنْفِهِ أَوْ صَوْتًا بِأُذُنِهِ " . وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبَانَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ مَعْمَرٌ وَعَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ عِيَاضُ بْنُ هِلاَلٍ وَقَالَ الأَوْزَاعِيُّ عِيَاضُ بْنُ أَبِي زُهَيْرٍ .
#1030
Sahih
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying; When one of you stands up to pray, the devil comes to him and confuses him so that he does not know how much he has prayed. If any of you has such an experience, he should perform two prostrations while he is sitting. Abu Dawud said; This tradition has been narrated in a similar manner by Ibn ‘Uyainab, Ma’mar and al-Laith
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے اور اسے شبہے میں ڈال دیتا ہے، یہاں تک کہ اسے یاد نہیں رہ جاتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟ لہٰذا جب تم میں سے کسی کو ایسا محسوس ہو تو وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے ابن عیینہ، معمر اور لیث نے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي جَاءَهُ الشَّيْطَانُ فَلَبَسَ عَلَيْهِ حَتَّى لاَ يَدْرِي كَمْ صَلَّى فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ وَمَعْمَرٌ وَاللَّيْثُ .
#1031
Hasan Sahih
This tradition has also been transmitted by Muhammad b. Muslim through a different chain of narrators. This version adds; “While he is sitting before he gives the salutation.”
اس طریق سے بھی محمد بن مسلم سے اسی سند سے یہی حدیث مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے کہ وہ سلام سے پہلے بیٹھے ( دو سجدے کرے ) ۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ بِإِسْنَادِهِ زَادَ " وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ " .
#1032
Hasan Sahih
This traditions has also been narrated by Muhammad b. Muslim al-Zuhr through a different chain of transmitters and to the same effect. This version adds; He should perform two prostrations before giving the salutation
اس طریق سے بھی محمد بن مسلم زہری سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ پھر وہ سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کرے پھر سلام پھیرے۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، أَخْبَرَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ قَالَ " فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ثُمَّ لْيُسَلِّمْ " .
#1033
Daif
Narrated Abdullah ibn Ja'far: The Prophet (ﷺ) said: Anyone who is in doubt in his prayer should make two prostrations after giving the salutation
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو اپنی نماز میں شک ہو جائے تو وہ سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسَافِعٍ، أَنَّ مُصْعَبَ بْنَ شَيْبَةَ، أَخْبَرَهُ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ شَكَّ فِي صَلاَتِهِ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ " .
#1034
Sahih
Narrated Abdullah ibn Buhaynah: The Messenger of Allah (ﷺ) led us in prayer praying two rak'ahs. When he stood up and did not sit (at the end of two rak'ahs) the people stood up along with him. When he finished the prayer and we expect him to give the salutation, he said: "Allah is most great." While sitting and made two prostrations before giving the salutation. Then he gave it
عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو دو رکعت پڑھائی، پھر کھڑے ہو گئے اور قعدہ ( تشھد ) نہیں کیا تو لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے، پھر جب آپ نے اپنی نماز پوری کر لی اور ہم سلام پھیرنے کے انتظار میں رہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے الله أكبر کہہ کر دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، أَنَّهُ قَالَ صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَجْلِسْ فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ وَانْتَظَرْنَا التَّسْلِيمَ كَبَّرَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ ثُمَّ سَلَّمَ صلى الله عليه وسلم .
#1035
Sahih
This tradition (mentioned above) has also been transmitted by al-Zuhri through a different chain of narrators to the same effect. This version adds:Some of us recited the Tashahhud while they were standing. Abu Dawud said: Ibn-Zubair made two prostrations before giving the salutation in a similar way when he stood up at the end of two rak’ahs. This is the opinion of al-Zuhrl
اس طریق سے بھی زہری سے اسی سند سے اسی کے ہم معنی حدیث مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے کہ ہم میں سے بعض نے کھڑے کھڑے تشہد پڑھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے بھی جب وہ دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہو گئے تھے، سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کئے اور یہی زہری کا بھی قول ہے۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبِي وَبَقِيَّةُ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِمَعْنَى إِسْنَادِهِ وَحَدِيثِهِ زَادَ وَكَانَ مِنَّا الْمُتَشَهِّدُ فِي قِيَامِهِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَلِكَ سَجَدَهُمَا ابْنُ الزُّبَيْرِ قَامَ مِنْ ثِنْتَيْنِ قَبْلَ التَّسْلِيمِ وَهُوَ قَوْلُ الزُّهْرِيِّ .
#1036
Sahih
Narrated Al-Mughirah ibn Shu'bah: The Prophet (ﷺ) said: When an imam stands up at the end of two rak'ahs , if he remembers before standing straight up, he should sit down, but if he stands straight up, he must not sit down, but perform the two prostrations of forgetfulness. Abu Dawud said: I have not narrated in this book of mine any hadith from Jabir Al-Ju'fi (one of the narrators) except this one
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام دو رکعت پڑھ کر کھڑا ہو جائے پھر اگر اس کو سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے یاد آ جائے تو بیٹھ جائے، اگر سیدھا کھڑا ہو جائے تو نہ بیٹھے اور سہو کے دو سجدے کرے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میری کتاب میں جابر جعفی سے صرف یہی ایک حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، - يَعْنِي الْجُعْفِيَّ - قَالَ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُبَيْلٍ الأَحْمَسِيُّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا قَامَ الإِمَامُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ فَإِنْ ذَكَرَ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوِيَ قَائِمًا فَلْيَجْلِسْ فَإِنِ اسْتَوَى قَائِمًا فَلاَ يَجْلِسْ وَيَسْجُدُ سَجْدَتَىِ السَّهْوِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَلَيْسَ فِي كِتَابِي عَنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ إِلاَّ هَذَا الْحَدِيثُ .
#1037
Daif
Narrated Al-Mughirah ibn Shu'bah: Ziyad ibn Ilaqah said: Al-Mughirah ibn Shu'bah led us in prayer and he stood up at the end of two rak'ahs. We said: Glory be to Allah; he also said: Glory be to Allah, and he proceeded. When he finished the prayer and gave the salutation, he made two prostrations of forgetfulness. When he turned (to us) he said: I saw the Messenger of Allah (ﷺ) doing so as I did. Abu Dawud said: Ibn Abi Laila narrated this tradition in a similar manner from al-Shaibi from al-Mughirah b. Shu'bah. Abu 'Umais narrated it from Thabit b. 'Ubaid saying: "Al-Mughirah b. Shu'bah led us in prayer, like the tradition reported by Ziyad b. 'Illaqah. Abu Dawud said: Abu 'Umais is the brother of al-Mas'udi. And Sa'd b. Abi Waqqas did the same as done by al-Mughirah, 'Imran b. Husain, Dahhak b. Qais and Mu'awiyah b. Abi Sufyan. Ibn 'Abbas and 'Umar b. 'Abd al-'Aziz issued legel verdict to the same effect. Abu Dawud said: This applies to a person who stands up at the end of two rak'ahs and males prostration after giving the salutation
زیاد بن علاقہ کہتے ہیں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی، وہ دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہو گئے، ہم نے سبحان الله کہا، انہوں نے بھی سبحان الله کہا اور ( واپس نہیں ہوئے ) نماز پڑھتے رہے، پھر جب انہوں نے اپنی نماز پوری کر لی اور سلام پھیر دیا تو سہو کے دو سجدے کئے، پھر جب نماز سے فارغ ہو کر پلٹے تو کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے، جیسے میں نے کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے ابن ابی لیلیٰ نے شعبی سے، شعبی نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور اسے مرفوع قرار دیا ہے، نیز اسے ابو عمیس نے ثابت بن عبید سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر راوی نے زیاد بن علاقہ کی حدیث کے مثل روایت ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابو عمیس مسعودی کے بھائی ہیں اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے ویسے ہی کیا جیسے مغیرہ، عمران بن حصین، ضحاک بن قیس اور معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہم نے کیا، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عمر بن عبدالعزیز نے اسی کا فتوی دیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کا حکم ان لوگوں کے لیے ہے جو دو رکعتیں پڑھ کر بغیر قعدہ اور تشہد کے اٹھ کھڑے ہوں، انہیں چاہیئے کہ سلام پھیرنے کے بعد سہو کے دو سجدے کریں۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْجُشَمِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاَقَةَ، قَالَ صَلَّى بِنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَنَهَضَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قُلْنَا سُبْحَانَ اللَّهِ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَمَضَى فَلَمَّا أَتَمَّ صَلاَتَهُ وَسَلَّمَ سَجَدَ سَجْدَتَىِ السَّهْوِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُ كَمَا صَنَعْتُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ أَبِي لَيْلَى عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ وَرَفَعَهُ وَرَوَاهُ أَبُو عُمَيْسٍ عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ صَلَّى بِنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ مِثْلَ حَدِيثِ زِيَادِ بْنِ عِلاَقَةَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَبُو عُمَيْسٍ أَخُو الْمَسْعُودِيِّ وَفَعَلَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ مِثْلَ مَا فَعَلَ الْمُغِيرَةُ وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ وَالضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ وَمُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ وَابْنُ عَبَّاسٍ أَفْتَى بِذَلِكَ وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا فِيمَنْ قَامَ مِنْ ثِنْتَيْنِ ثُمَّ سَجَدُوا بَعْدَ مَا سَلَّمُوا .
#1038
Hasan
Narrated Thawban: The Prophet (ﷺ) said: For each forgetfulness there are two prostrations after giving the salutation. No one except Amr (ibn Uthman) mentioned the words "from his father" (in the chain AbdurRahman ibn Jubayr ibn Nufayr from Thawban)
ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ہر سہو کے لیے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے ہیں ، عمرو کے سوا کسی نے بھی ( اس سند میں ) «عن أبيه» کا لفظ ذکر نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، وَالرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَشُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ، - بِمَعْنَى الإِسْنَادِ - أَنَّ ابْنَ عَيَّاشٍ، حَدَّثَهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ الْكَلاَعِيِّ، عَنْ زُهَيْرٍ، - يَعْنِي ابْنَ سَالِمٍ الْعَنْسِيِّ - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، قَالَ عَمْرٌو وَحْدَهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لِكُلِّ سَهْوٍ سَجْدَتَانِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ " . لَمْ يَذْكُرْ عَنْ أَبِيهِ . غَيْرُ عَمْرٍو .
#1039
Daif
Narrated Imran ibn Husayn: The Prophet (ﷺ) led them in prayer and forgot something, so he made prostrations and uttered the tashahhud, then gave the salutation
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور آپ بھول گئے تو آپ نے دو سجدے کئے پھر تشہد پڑھا پھر سلام پھیرا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي أَشْعَثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ خَالِدٍ، - يَعْنِي الْحَذَّاءَ - عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى بِهِمْ فَسَهَا فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ تَشَهَّدَ ثُمَّ سَلَّمَ .
#1040
Sahih
Umm Salamah said; When the Messenger of Allah (ﷺ) gave the salutation, he stayed for a while. By this people thought that women should return earlier than men
ام المؤمنین ام سلمی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ( نماز سے ) سلام پھیرتے تو تھوڑی دیر ٹھہر جاتے، لوگ سمجھتے تھے کہ یہ اس وجہ سے ہے تاکہ عورتیں مردوں سے پہلے چلی جائیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ هِنْدَ بِنْتِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا سَلَّمَ مَكَثَ قَلِيلاً وَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ ذَلِكَ كَيْمَا يَنْفُذَ النِّسَاءُ قَبْلَ الرِّجَالِ .
#1041
Hasan Sahih
Narrated Hulb (Yazid) at-Ta'i: Hulb prayed along with the Prophet (ﷺ). He used to turn to both his sides (sometimes to the left and sometimes to the right)
ہلب طائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( نماز سے فارغ ہو کر ) اپنے دونوں جانب سے پلٹتے تھے ( کبھی دائیں طرف سے اور کبھی بائیں طرف سے ) ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ، - رَجُلٍ مِنْ طَيِّئٍ - عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ يَنْصَرِفُ عَنْ شِقَّيْهِ .
#1042
Sahih
‘Abd Allah (b. Mas’ud) said; One of you should not give a share from his prayer to the devil, that he does not turn away expect to his right side. I saw the Messenger of Allah (ﷺ) often turning away to his left side. the narrator ‘Umarah said:I came to medina afterwards and saw that the houses of the prophet (ﷺ) were (built) in the left
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز کا کچھ حصہ شیطان کے لیے نہ بنائے کہ وہ صرف دائیں طرف ہی سے پلٹے، حال یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ اکثر بائیں طرف سے پلٹتے تھے، عمارہ کہتے ہیں: اس کے بعد میں مدینہ آیا تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں کو ( بحالت نماز ) آپ کے بائیں جانب دیکھا ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لاَ يَجْعَلْ أَحَدُكُمْ نَصِيبًا لِلشَّيْطَانِ مِنْ صَلاَتِهِ أَنْ لاَ يَنْصَرِفَ إِلاَّ عَنْ يَمِينِهِ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَكْثَرَ مَا يَنْصَرِفُ عَنْ شِمَالِهِ . قَالَ عُمَارَةُ أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ بَعْدُ فَرَأَيْتُ مَنَازِلَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنْ يَسَارِهِ .
#1043
Sahih
Ibn ‘Umar reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:Offer some of your prayers in your houses, and do not make them graves
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنی بعض نمازیں اپنے گھروں میں پڑھا کرو اور انہیں قبرستان نہ بناؤ ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اجْعَلُوا فِي بُيُوتِكُمْ مِنْ صَلاَتِكُمْ وَلاَ تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا " .
#1044
Sahih
Narrated Zayd ibn Thabit: The Prophet (ﷺ) said: The prayer a man offers in his house is more excellent than his prayer in this mosque of mine except obligatory prayer
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی نماز اس کے اپنے گھر میں اس کی میری اس مسجد میں نماز سے افضل ہے سوائے فرض نماز کے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " صَلاَةُ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ أَفْضَلُ مِنْ صَلاَتِهِ فِي مَسْجِدِي هَذَا إِلاَّ الْمَكْتُوبَةَ " .
#1045
Sahih
Anas said:The Prophet (ﷺ) and his Companions used to pray in the direction of Jerusalem. When the following verse was revealed: “ So turn thy face towards the inviolable mosque”; and Ye (O Muslims), wheresoever ye may be, turn your face towards it”(ii. 144), a man passed by the people of Banu Salamah. He called them while they were bowing in the morning prayer facing Jerusalem: Lo, the qiblah (direction of prayer) has been changed towards the ka’bah. He called them twice. So they turned their faces towards the Ka’bah while they were bowing
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ رہے تھے، جب آیت کریمہ: «فول وجهك شطر المسجدالحرام وحيث ما كنتم فولوا وجوهكم شطره» یعنی اپنا منہ مسجد الحرام کی طرف پھیر لیں اور آپ جہاں کہیں ہوں اپنا منہ اسی طرف پھیرا کریں ( سورۃ البقرہ: ۱۵۰ ) نازل ہوئی تو قبیلہ بنو سلمہ کا ایک شخص لوگوں کے پاس سے ہو کر گزرا اس حال میں کہ وہ لوگ نماز فجر میں رکوع میں تھے اور بیت المقدس کی طرف رخ کئے ہوئے تھے تو اس نے انہیں دو بار آواز دی: لوگو! آگاہ ہو جاؤ، قبلہ کعبہ کی طرف بدل دیا گیا ہے ( یہ حکم سنتے ہی ) لوگ حالت رکوع ہی میں کعبہ کی طرف پھر گئے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، وَحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابَهُ كَانُوا يُصَلُّونَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ } فَمَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ فَنَادَاهُمْ وَهُمْ رُكُوعٌ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ أَلاَ إِنَّ الْقِبْلَةَ قَدْ حُوِّلَتْ إِلَى الْكَعْبَةِ مَرَّتَيْنِ فَمَالُوا كَمَا هُمْ رُكُوعٌ إِلَى الْكَعْبَةِ .
#1046
Sahih
Narrated AbuHurayrah: The Messenger of Allah (ﷺ) said: The best day on which the sun has risen is Friday; on it Adam was created, on it he was expelled (from Paradise), on it his contrition was accepted, on it he died, and on it the Last Hour will take place. On Friday every beast is on the lookout from dawn to sunrise in fear of the Last Hour, but not jinn and men, and it contains a time at which no Muslim prays and asks anything from Allah but He will give it to him. Ka'b said: That is one day every year. So I said: It is on every Friday. Ka'b read the Torah and said: The Messenger of Allah (ﷺ) has spoken the truth. AbuHurayrah said: I met Abdullah ibn Salam and told him of my meeting with Ka'b. Abdullah ibn Salam said: I know what time it is. AbuHurayrah said: I asked him to tell me about it. Abdullah ibn Salam said: It is at the very end of Friday. I asked: How can it be when the Messenger of Allah (ﷺ) has said: "No Muslim finds it while he is praying...." and this is the moment when no prayer is offered. Abdullah ibn Salam said: Has the Messenger of Allah (ﷺ) not said: "If anyone is seated waiting for the prayer, he is engaged in the prayer until he observes it." I said: Yes, it is so
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہتر دن جس میں سورج طلوع ہوا جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم پیدا لیے گئے، اسی دن وہ زمین پر اتارے گئے، اسی دن ان کی توبہ قبول کی گئی، اسی دن ان کا انتقال ہوا، اور اسی دن قیامت برپا ہو گی، انس و جن کے علاوہ سبھی جاندار جمعہ کے دن قیامت برپا ہونے کے ڈر سے صبح سے سورج نکلنے تک کان لگائے رہتے ہیں، اس میں ایک ساعت ( گھڑی ) ایسی ہے کہ اگر کوئی مسلمان بندہ نماز پڑھتے ہوئے اس گھڑی کو پا لے، پھر اللہ تعالیٰ سے اپنی کسی ضرورت کا سوال کرے تو اللہ اس کو ( ضرور ) دے گا ۔ کعب الاحبار نے کہا: یہ ساعت ( گھڑی ) ہر سال میں کسی ایک دن ہوتی ہے تو میں نے کہا: نہیں بلکہ ہر جمعہ میں ہوتی ہے پھر کعب نے تورات پڑھی اور کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ملا، اور کعب کے ساتھ اپنی اس مجلس کے متعلق انہیں بتایا تو آپ نے کہا: وہ کون سی ساعت ہے؟ مجھے معلوم ہے، میں نے ان سے کہا: اسے مجھے بھی بتائیے تو عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت ( گھڑی ) ہے، میں نے عرض کیا: وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت ( گھڑی ) کیسے ہو سکتی ہے؟ جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: کوئی مسلمان بندہ اس وقت کو اس حال میں پائے کہ وہ نماز پڑھ رہا ہو ، اور اس وقت میں نماز تو نہیں پڑھی جاتی ہے تو اس پر عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا: جو شخص نماز کے انتظار میں بیٹھا رہے، وہ حکماً نماز ہی میں رہتا ہے جب تک کہ وہ نماز نہ پڑھ لے ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: کیوں نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا ہے، انہوں نے کہا: تو اس سے مراد یہی ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ أُهْبِطَ وَفِيهِ تِيبَ عَلَيْهِ وَفِيهِ مَاتَ وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلاَّ وَهِيَ مُسِيخَةٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ حِينَ تُصْبِحُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ شَفَقًا مِنَ السَّاعَةِ إِلاَّ الْجِنَّ وَالإِنْسَ وَفِيهِ سَاعَةٌ لاَ يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ حَاجَةً إِلاَّ أَعْطَاهُ إِيَّاهَا " . قَالَ كَعْبٌ ذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ . فَقُلْتُ بَلْ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ . قَالَ فَقَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ فَقَالَ صَدَقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلاَمٍ فَحَدَّثْتُهُ بِمَجْلِسِي مَعَ كَعْبٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ قَدْ عَلِمْتُ أَيَّةَ سَاعَةٍ هِيَ . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ لَهُ فَأَخْبِرْنِي بِهَا . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ . فَقُلْتُ كَيْفَ هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي " . وَتِلْكَ السَّاعَةُ لاَ يُصَلَّى فِيهَا . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَنْتَظِرُ الصَّلاَةَ فَهُوَ فِي صَلاَةٍ حَتَّى يُصَلِّيَ " . قَالَ فَقُلْتُ بَلَى . قَالَ هُوَ ذَاكَ .
#1047
Sahih
Narrated Aws ibn Aws: The Prophet (ﷺ) said: Among the most excellent of your days is Friday; on it Adam was created, on it he died, on it the last trumpet will be blown, and on it the shout will be made, so invoke more blessings on me that day, for your blessings will be submitted to me. The people asked: Messenger of Allah, how can it be that our blessings will be submitted to you while your body is decayed? He replied: Allah, the Exalted, has prohibited the earth from consuming the bodies of Prophets
اوس بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے سب سے بہتر دنوں میں سے جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم پیدا کئے گئے، اسی دن ان کی روح قبض کی گئی، اسی دن صور پھونکا جائے گا اسی دن چیخ ہو گی ۱؎ اس لیے تم لوگ اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو، کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے ۔ اوس بن اوس کہتے ہیں: لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا جب کہ آپ ( مر کر ) بوسیدہ ہو چکے ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زمین پر پیغمبروں کے بدن کو حرام کر دیا ہے ۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ قُبِضَ وَفِيهِ النَّفْخَةُ وَفِيهِ الصَّعْقَةُ فَأَكْثِرُوا عَلَىَّ مِنَ الصَّلاَةِ فِيهِ فَإِنَّ صَلاَتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَىَّ " . قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ تُعْرَضُ صَلاَتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرِمْتَ يَقُولُونَ بَلِيتَ . فَقَالَ " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ عَلَى الأَرْضِ أَجْسَادَ الأَنْبِيَاءِ " .
#1048
Sahih
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet (ﷺ) said: Friday is divided into twelve hours. Amongst them there is an hour in which a Muslim does not ask Allah for anything but He gives it to him. So seek it in the last hour after the afternoon prayer
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کا دن بارہ ساعت ( گھڑی ) کا ہے، اس میں ایک ساعت ( گھڑی ) ایسی ہے کہ کوئی مسلمان اس ساعت کو پا کر اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہے تو اللہ اسے ضرور دیتا ہے، لہٰذا تم اسے عصر کے بعد آخری ساعت ( گھڑی ) میں تلاش کرو ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - أَنَّ الْجُلاَحَ، مَوْلَى عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - حَدَّثَهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " يَوْمُ الْجُمُعَةِ ثِنْتَا عَشْرَةَ " . يُرِيدُ سَاعَةً " لاَ يُوجَدُ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ شَيْئًا إِلاَّ آتَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَالْتَمِسُوهَا آخِرَ سَاعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ " .
#1049
Daif
Abu Burdah b. Abl Musa al-Asha’ri said:‘Abd Allah b. ‘Umar said to me: Did you hear your father narrating a tradition from the Messenger of Allah (ﷺ) about an hour on Friday (when supplication is accepted by Allah)? I said: Yes, I heard it. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: This hour is found during the period when the imam is seated (for giving Friday sermon) until the prayer is finished. Abu Dawud said: By sitting is meant sitting on the pulpit
ابوبردہ بن ابی موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے پوچھا: کیا تم نے اپنے والد سے جمعہ کے معاملہ میں یعنی قبولیت دعا والی گھڑی کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہوئے کچھ سنا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، میں نے سنا ہے، وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ وہ ( ساعت ) امام کے بیٹھنے سے لے کر نماز کے ختم ہونے کے درمیان ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یعنی منبر پر ( بیٹھنے سے لے کر ) ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ، - يَعْنِي ابْنَ بُكَيْرٍ - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَسَمِعْتَ أَبَاكَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي شَأْنِ الْجُمُعَةِ يَعْنِي السَّاعَةَ . قَالَ قُلْتُ نَعَمْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " هِيَ مَا بَيْنَ أَنْ يَجْلِسَ الإِمَامُ إِلَى أَنْ تُقْضَى الصَّلاَةُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي عَلَى الْمِنْبَرِ .
#1050
Sahih
If anyone performs ablution, doing it well, then come to the Friday prayer, listens and keeps silence, his sins between that time and the next Friday will be forgiven, with three days extra; but he who touches pebbles has caused an interruption
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اچھی طرح وضو کرے پھر جمعہ کے لیے آئے اور غور سے خطبہ سنے اور خاموش رہے تو اس کے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے اور مزید تین دن کے گناہ ۱؎ بخش دئیے جائیں گے اور جس نے کنکریاں ہٹائیں تو اس نے لغو حرکت کی ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ وَزِيَادَةُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ وَمَنْ مَسَّ الْحَصَى فَقَدْ لَغَا " .