#551
Sahih
Narrated Abdullah ibn Abbas: If anyone hears him who makes the call to prayer and is not prevented from joining the congregation by any excuse--he was asked what an excuse consisted of and replied that it was fear or illness--the prayer he offers will not be accepted from him
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اذان کی آواز سنے اور اس پر عمل پیرا ہونے سے اسے کوئی عذر مانع نہ ہو ( لوگوں نے عرض کیا: عذر کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: خوف یا بیماری ) تو اس کی نماز جو اس نے پڑھی قبول نہ ہو گی ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ، عَنْ مَغْرَاءٍ الْعَبْدِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ سَمِعَ الْمُنَادِيَ فَلَمْ يَمْنَعْهُ مِنَ اتِّبَاعِهِ عُذْرٌ " . قَالُوا وَمَا الْعُذْرُ قَالَ خَوْفٌ أَوْ مَرَضٌ " لَمْ تُقْبَلْ مِنْهُ الصَّلاَةُ الَّتِي صَلَّى " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَى عَنْ مَغْرَاءٍ أَبُو إِسْحَاقَ .
#552
Hasan Sahih
Narrated Amr ibn Za'dah, Ibn Umm Maktum: Ibn Umm Maktum asked the Prophet (ﷺ) saying: Messenger of Allah, I am a blind man, my house is far away (from the mosque), and I have a guide who does not follow me. Is it possible that permission be granted to me for saying prayer in my house? He asked: Do you hear summons (adhan)? He said: Yes. He said: I do not find any permission for you
عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں نابینا آدمی ہوں، میرا گھر بھی ( مسجد سے ) دور ہے اور میری رہنمائی کرنے والا ایسا شخص ہے جو میرے لیے موزوں و مناسب نہیں، کیا میرے لیے اپنے گھر میں نماز پڑھ لینے کی اجازت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اذان سنتے ہو؟ ، انہوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( پھر تو ) میں تمہارے لیے رخصت نہیں پاتا ۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، عَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ شَاسِعُ الدَّارِ وَلِي قَائِدٌ لاَ يُلاَئِمُنِي فَهَلْ لِي رُخْصَةٌ أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي قَالَ " هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " لاَ أَجِدُ لَكَ رُخْصَةً " .
#553
Sahih
Narrated Ibn Umm Maktum: Messenger of Allah, there are many venomous creatures and wild beasts in Medina (so allow me to pray in my house because I am blind). The Prophet (ﷺ) said: Do you hear the call, "Come to prayer," "Come to salvation"? (He said: Yes.) Then you must come. Abu Dawud said: Al-Qasim al-Jarmi has narrated this tradition from Sufyan in a similar manner. But his version does not contain the words "Then you must come
ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اللہ کے رسول! مدینے میں کیڑے مکوڑے اور درندے بہت ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم «حى على الصلاة» اور «حى على الفلاح» ( یعنی اذان ) سنتے ہو؟ تو ( مسجد ) آیا کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے قاسم جرمی نے سفیان سے روایت کیا ہے، ان کی روایت میں «حى هلا» ( آیا کرو ) کا ذکر نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْمَدِينَةَ كَثِيرَةُ الْهَوَامِّ وَالسِّبَاعِ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَتَسْمَعُ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ فَحَىَّ هَلاَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَا رَوَاهُ الْقَاسِمُ الْجَرْمِيُّ عَنْ سُفْيَانَ لَيْسَ فِي حَدِيثِهِ " حَىَّ هَلاَ " .
#554
Hasan
Narrated Ubayy ibn Ka'b: The Messenger of Allah (ﷺ) led us in the dawn prayer one day. And he said: Is so and so present? They said: No. He (again) asked: Is so and so present? They replied: No. He then said: These two prayers are the ones which are most burdensome to hypocrites. If you knew what they contain (i.e. blessings), you would come to them, even though you had to crawl on your knees. The first row is like that of the angels, and if you knew the nature of its excellence, you would race to join it. A man's prayer said along with another is purer than his prayer said alone, and his prayer with two men is purer than his prayer with one, but if there are more it is more pleasing to Allah, the Almighty, the Majestic
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر پڑھائی پھر فرمایا: کیا فلاں حاضر ہے؟ ، لوگوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا فلاں حاضر ہے؟ ، لوگوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دونوں ( عشاء و فجر ) منافقوں پر بقیہ نماز سے زیادہ گراں ہیں، اگر تم کو ان دونوں کی فضیلت کا علم ہوتا تو تم ان میں ضرور آتے چاہے تم کو گھٹنوں کے بل چل کر آنا پڑتا، اور پہلی صف ( اللہ سے قریب ہونے میں ) فرشتوں کی صف کی مانند ہے، اگر اس کی فضیلت کا علم تم کو ہوتا تو تم اس کی طرف ضرور سبقت کرتے، ایک شخص کا دوسرے شخص کے ساتھ مل کر جماعت سے نماز پڑھنا اس کے تنہا نماز پڑھنے سے زیادہ بہتر ہے، اور ایک شخص کا دو شخصوں کے ساتھ مل کر جماعت سے نماز پڑھنا ایک شخص کے ساتھ نماز پڑھنے سے زیادہ بہتر ہے، جتنی تعداد زیادہ ہو اتنی ہی وہ اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہو گی ۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا الصُّبْحَ فَقَالَ " أَشَاهِدٌ فُلاَنٌ " . قَالُوا لاَ . قَالَ " أَشَاهِدٌ فُلاَنٌ " . قَالُوا لاَ . قَالَ " إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلاَتَيْنِ أَثْقَلُ الصَّلَوَاتِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ وَلَوْ تَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لأَتَيْتُمُوهُمَا وَلَوْ حَبْوًا عَلَى الرُّكَبِ وَإِنَّ الصَّفَّ الأَوَّلَ عَلَى مِثْلِ صَفِّ الْمَلاَئِكَةِ وَلَوْ عَلِمْتُمْ مَا فَضِيلَتُهُ لاَبْتَدَرْتُمُوهُ وَإِنَّ صَلاَةَ الرَّجُلِ مَعَ الرَّجُلِ أَزْكَى مِنْ صَلاَتِهِ وَحْدَهُ وَصَلاَتُهُ مَعَ الرَّجُلَيْنِ أَزْكَى مِنْ صَلاَتِهِ مَعَ الرَّجُلِ وَمَا كَثُرَ فَهُوَ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى " .
#555
Sahih
‘Uthman b. ‘Affan reported the Messenger of Allah (may peace be him) as saying; if anyone says the night prayer in congregation, he is like one who keeps vigil (in prayer) till midnight; and he who says both the night and dawn prayer in congregation is like one who keeps vigil (in prayer) the whole night
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے عشاء جماعت سے پڑھی، گویا اس نے آدھی رات تک قیام کیا، اور جس نے عشاء اور فجر دونوں جماعت سے پڑھیں، اس نے گویا پوری رات قیام کیا ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي سَهْلٍ، - يَعْنِي عُثْمَانَ بْنَ حَكِيمٍ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ كَانَ كَقِيَامِ نِصْفِ لَيْلَةٍ وَمَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ وَالْفَجْرَ فِي جَمَاعَةٍ كَانَ كَقِيَامِ لَيْلَةٍ " .
#556
Sahih
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: The further one is from the mosque , the greater will be one's reward
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مسجد سے جتنا دور ہو گا اتنا ہی اس کا ثواب زیادہ ہو گا ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الأَبْعَدُ فَالأَبْعَدُ مِنَ الْمَسْجِدِ أَعْظَمُ أَجْرًا " .
#557
Sahih
Ubayy b. Ka’b said:There was a certain person, out of all people of Medina, who used to pray in the mosque. I do not know that any one of them lived at a farther distance than that man. Still he never missed the prayer in congregation in the mosque. I said: it would be better if you buy a donkey and ride it in heat and darkness. He said: I do not like that my house be by the side of the mosque. The discourse reached the Messenger of Allah (ﷺ). He said him about it. He said: I did it so that my walking to the mosque and return to my home when I return be recorded. He said: Allah has granted all this to you; Allah has granted all that you reckoned
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اہل مدینہ میں نمازیوں میں ایک صاحب تھے، میری نظر میں کسی کا مکان مسجد سے ان کے مکان سے زیادہ دور نہیں تھا، اس کے باوجود ان کی کوئی نماز جماعت سے ناغہ نہیں ہوتی تھی، میں نے ان سے کہا: اگر آپ ایک گدھا خرید لیتے اور گرمی اور تاریکی میں اس پر سوار ہو کر ( مسجد ) آیا کرتے ( تو زیادہ اچھا ہوتا ) تو انہوں نے کہا: میں نہیں چاہتا کہ میرا گھر مسجد کے بغل میں ہو، یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے ان سے اس کے متعلق پوچھا، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میری غرض یہ تھی کہ مجھے مسجد آنے کا اور پھر لوٹ کر اپنے گھر والوں کے پاس جانے کا ثواب ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں وہ سب عنایت فرما دیا، اور جو کچھ تم نے چاہا، اللہ نے وہ سب تمہیں دے دیا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، أَنَّ أَبَا عُثْمَانَ، حَدَّثَهُ عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ كَانَ رَجُلٌ لاَ أَعْلَمُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ مِمَّنْ يُصَلِّي الْقِبْلَةَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَبْعَدَ مَنْزِلاً مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ وَكَانَ لاَ تُخْطِئُهُ صَلاَةٌ فِي الْمَسْجِدِ فَقُلْتُ لَوِ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا تَرْكَبُهُ فِي الرَّمْضَاءِ وَالظُّلْمَةِ . فَقَالَ مَا أُحِبُّ أَنَّ مَنْزِلِي إِلَى جَنْبِ الْمَسْجِدِ فَنُمِيَ الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ عَنْ قَوْلِهِ ذَلِكَ فَقَالَ أَرَدْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يُكْتَبَ لِي إِقْبَالِي إِلَى الْمَسْجِدِ وَرُجُوعِي إِلَى أَهْلِي إِذَا رَجَعْتُ . فَقَالَ " أَعْطَاكَ اللَّهُ ذَلِكَ كُلَّهُ أَنْطَاكَ اللَّهُ جَلَّ وَعَزَّ مَا احْتَسَبْتَ كُلَّهُ أَجْمَعَ " .
#558
Hasan
Narrated AbuUmamah: The Messenger of Allah (ﷺ) said: If anyone goes out from his house after performing ablution for saying the prescribed prayer in congregation (in the mosque), his reward will be like that of one who goes for hajj pilgrimage after wearing ihram (robe worn by the hajj pilgrims). And he who goes out to say the mid-morning (duha) prayer, and takes the trouble for this purpose, will take the reward like that of a person who performs umrah. And a prayer followed by a prayer with no worldly talk during the gap between them will be recorded in Illiyyun
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے گھر سے وضو کر کے فرض نماز کے لیے نکلے، تو اس کا ثواب احرام باندھنے والے حاجی کے ثواب کی طرح ہے، اور جو چاشت کی نماز کے لیے نکلے اور اسی کی خاطر تکلیف برداشت کرتا ہو تو اس کا ثواب عمرہ کرنے والے کے ثواب کی طرح ہے، اور ایک نماز سے لے کر دوسری نماز کے بیچ میں کوئی لغو کام نہ ہو تو وہ علیین ۱؎میں لکھی جاتی ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ مُتَطَهِّرًا إِلَى صَلاَةٍ مَكْتُوبَةٍ فَأَجْرُهُ كَأَجْرِ الْحَاجِّ الْمُحْرِمِ وَمَنْ خَرَجَ إِلَى تَسْبِيحِ الضُّحَى لاَ يُنْصِبُهُ إِلاَّ إِيَّاهُ فَأَجْرُهُ كَأَجْرِ الْمُعْتَمِرِ وَصَلاَةٌ عَلَى أَثَرِ صَلاَةٍ لاَ لَغْوَ بَيْنَهُمَا كِتَابٌ فِي عِلِّيِّينَ " .
#559
Sahih
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:Prayer said by a man in congregation is twenty five degrees more excellent than prayer said by him alone in his house or in the market. This is because when any of you performs ablution and does it perfectly, and goes out to the mosque having no intention except praying, and nothing moves him except prayer, then at every step which he takes his rank is elevated by one degree on account of this (walking), and one sin is remitted from him for this (walking), till he enters the mosque. When he enters the mosque, he will be reckoned as praying as long as he will be detained by the prayer. The angels keep on invoking blessing on any of you so long as he remains seated in the place he prayer, saying: O Allah, forgive him; O Allah, have mercy on him; O Allah, accept his repentance so long as he does not harm anyone, or breaks his ablution
سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”باجماعت نماز گھر یا بازار میں اکیلے نماز (پڑھنے) کی بہ نسبت پچیس درجے زیادہ ہوتی ہے۔ وہ یوں کہ جب تم میں سے کوئی وضو کرے اور کامل اچھی طرح وضو کرے اور مسجد میں آئے اور اس کی نیت صرف نماز ہی ہو اور نماز ہی نے اسے اٹھایا ہو تو وہ جو قدم بھی اٹھائے گا اس سے اس کا ایک درجہ بلند ہو گا اور ایک غلطی معاف ہو گی حتیٰ کہ مسجد میں داخل ہو جائے۔ اور جب مسجد میں داخل ہو جائے تو وہ نماز میں شمار ہوتا ہے جب تک کہ نماز اسے روکے رکھے۔ اور جب تک کوئی اپنی اس جگہ پر بیٹھا رہے جہاں اس نے نماز پڑھی ہو تو فرشتے اس کے لیے دعائیں کرتے ہیں ”اے اللہ! اس کی مغفرت فرما۔ اے اللہ! اس پر رحم فرما، اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما۔“ اور ان کی یہ دعا (اس وقت تک) جاری رہتی ہے جب تک کہ وہ وہاں کسی کو ایذا نہ دے یا بے وضو نہ ہو جائے۔“
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " صَلاَةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَلَى صَلاَتِهِ فِي بَيْتِهِ وَصَلاَتِهِ فِي سُوقِهِ خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً وَذَلِكَ بِأَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ وَأَتَى الْمَسْجِدَ لاَ يُرِيدُ إِلاَّ الصَّلاَةَ وَلاَ يَنْهَزُهُ إِلاَّ الصَّلاَةُ لَمْ يَخْطُ خَطْوَةً إِلاَّ رُفِعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ وَحُطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ حَتَّى يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ كَانَ فِي صَلاَةٍ مَا كَانَتِ الصَّلاَةُ هِيَ تَحْبِسُهُ وَالْمَلاَئِكَةُ يُصَلُّونَ عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مَجْلِسِهِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ يَقُولُونَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ مَا لَمْ يُؤْذِ فِيهِ أَوْ يُحْدِثْ فِيهِ " .
#560
Sahih
Narrated AbuSa'id al-Khudri: Prayer in congregation is equivalent to twenty-five prayers (offered alone). If he prays in a jungle, and performs its bowing and prostrations perfectly, it becomes equivalent to fifty prayers (in respect of reward). Abu Dawud said: 'Abd al-Walid b. Ziyad narrated in his version of this tradition: "Prayer said by a single person in a jungle is more excellent by multiplied degrees than prayer said in congregation
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باجماعت نماز ( کا ثواب ) پچیس نمازوں کے برابر ہے، اور جب اسے چٹیل میدان میں پڑھے اور رکوع و سجدہ اچھی طرح سے کرے تو اس کا ثواب پچاس نمازوں تک پہنچ جاتا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالواحد بن زیاد کی روایت میں یوں ہے: آدمی کی نماز چٹیل میدان میں باجماعت نماز سے ثواب میں کئی گنا بڑھا دی جاتی ہے ، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الصَّلاَةُ فِي جَمَاعَةٍ تَعْدِلُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ صَلاَةً فَإِذَا صَلاَّهَا فِي فَلاَةٍ فَأَتَمَّ رُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا بَلَغَتْ خَمْسِينَ صَلاَةً " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ فِي الْحَدِيثِ " صَلاَةُ الرَّجُلِ فِي الْفَلاَةِ تُضَاعَفُ عَلَى صَلاَتِهِ فِي الْجَمَاعَةِ " . وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
#561
Sahih
Narrated Buraydah ibn al-Hasib: The Prophet (ﷺ) said: Give good tidings to those who walk to the mosques in darkness for having a perfect light on the Day of Judgment
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اندھیری راتوں میں مسجدوں کی طرف چل کر جانے والوں کو قیامت کے دن پوری روشنی کی خوشخبری دے دو ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَبُو سُلَيْمَانَ الْكَحَّالُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ بُرَيْدَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " بَشِّرِ الْمَشَّائِينَ فِي الظُّلَمِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
#562
Sahih
Narrated Ka'b ibn Ujrah: AbuThumamah al-Hannat said that Ka'b ibn Ujrah met him while he was going to the mosque; one of the two (companions) met his companion (on his way to the mosque) And he met crossing the fingers of my both hands. He prohibited me to do so, and said: The Messenger of Allah (ﷺ) has said: If any of you performs ablution, and performs his ablution perfectly, and then goes out intending for the mosque, he should not cross the fingers of his hand because he is already in prayer
سعد بن اسحاق کہتے ہیں کہ مجھ سے ابو ثمامہ حناط نے بیان کیا ہے کہ وہ مسجد جا رہے تھے کہ کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں راستہ میں پا لیا، تو دونوں ایک دوسرے سے ملے، وہ کہتے ہیں: انہوں نے مجھے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو باہم پیوست کئے ہوئے پایا تو اس سے منع کیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جب تم میں سے کوئی شخص اچھی طرح وضو کرے، پھر مسجد کا ارادہ کر کے نکلے تو اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست نہ کرے، کیونکہ وہ نماز میں ہوتا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ عَمْرٍو، حَدَّثَهُمْ عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو ثُمَامَةَ الْحَنَّاطُ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ، أَدْرَكَهُ وَهُوَ يُرِيدُ الْمَسْجِدَ أَدْرَكَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ قَالَ فَوَجَدَنِي وَأَنَا مُشَبِّكٌ بِيَدَىَّ فَنَهَانِي عَنْ ذَلِكَ وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ثُمَّ خَرَجَ عَامِدًا إِلَى الْمَسْجِدِ فَلاَ يُشَبِّكَنَّ يَدَيْهِ فَإِنَّهُ فِي صَلاَةٍ " .
#563
Sahih
Narrated A person from the Ansar: Sa'id ibn al-Musayyab said: An Ansari was breathing his last. He said: I narrate to you a tradition, and I narrate it with the intention of getting a reward from Allah. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: If any one of you performs ablution and performs it very well, and goes out for prayer, he does not take his right step but Allah records a good work (or blessing) for him, and he does not take his left step but Allah remits one sin from him. Any one of you may reside near the mosque or far from it; if he comes to the mosque and prays in congregation, he will be forgiven (by Allah). If he comes to the mosque while the people had prayed in part, and the prayer remained in part, and he prays in congregation the part he joined, and completed the part he had missed, he will enjoy similarly (i.e. he will be forgiven). If he comes to the mosque when the people had finished prayer, he will enjoy the same
سعید بن مسیب کہتے ہیں ایک انصاری کی وفات کا وقت قریب ہوا تو انہوں نے کہا: میں تم لوگوں کو ایک حدیث بیان کرتا ہوں اور اسے صرف ثواب کی نیت سے بیان کر رہا ہوں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جب تم میں سے کوئی وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے پھر نماز کے لیے نکلے تو وہ جب بھی اپنا داہنا قدم اٹھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک نیکی لکھتا ہے، اور جب بھی اپنا بایاں قدم رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی ایک برائی مٹا دیتا ہے لہٰذا تم میں سے جس کا جی چاہے مسجد سے قریب رہے اور جس کا جی چاہے مسجد سے دور رہے، اگر وہ مسجد میں آیا اور اس نے جماعت سے نماز پڑھی تو اسے بخش دیا جائے گا اور اگر وہ مسجد میں اس وقت آیا جب کہ ( جماعت شروع ہو چکی تھی اور ) کچھ رکعتیں لوگوں نے پڑھ لی تھیں اور کچھ باقی تھیں پھر اس نے جماعت کے ساتھ جتنی رکعتیں پائیں پڑھیں اور جو رہ گئی تھیں بعد میں پوری کیں تو وہ بھی اسی طرح ( اجر و ثواب کا مستحق ) ہو گا، اور اگر وہ مسجد میں اس وقت پہنچا جب کہ نماز ختم ہو چکی تھی اور اس نے اکیلے پوری نماز پڑھی تو وہ بھی اسی طرح ہو گا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ عَبَّادٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ حَضَرَ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ الْمَوْتُ فَقَالَ إِنِّي مُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا مَا أُحَدِّثُكُمُوهُ إِلاَّ احْتِسَابًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلاَةِ لَمْ يَرْفَعْ قَدَمَهُ الْيُمْنَى إِلاَّ كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ حَسَنَةً وَلَمْ يَضَعْ قَدَمَهُ الْيُسْرَى إِلاَّ حَطَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ سَيِّئَةً فَلْيُقَرِّبْ أَحَدُكُمْ أَوْ لِيُبَعِّدْ فَإِنْ أَتَى الْمَسْجِدَ فَصَلَّى فِي جَمَاعَةٍ غُفِرَ لَهُ فَإِنْ أَتَى الْمَسْجِدَ وَقَدْ صَلَّوْا بَعْضًا وَبَقِيَ بَعْضٌ صَلَّى مَا أَدْرَكَ وَأَتَمَّ مَا بَقِيَ كَانَ كَذَلِكَ فَإِنْ أَتَى الْمَسْجِدَ وَقَدْ صَلَّوْا فَأَتَمَّ الصَّلاَةَ كَانَ كَذَلِكَ " .
#564
Sahih
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: whoever performs ablution, and performs his ablution perfectly, and then goes to the mosque and finds that the people had finished the prayer (in congregation), Allah will give him a reward like one who prayed in congregation and attended it; The reward of those who prayed in congregation will not be curtailed
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا، پھر مسجد کی طرف چلا تو دیکھا کہ لوگ نماز پڑھ چکے ہیں تو اسے بھی اللہ تعالیٰ جماعت میں شریک ہونے والوں کی طرح ثواب دے گا، اس سے جماعت سے نماز ادا کرنے والوں کے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہو گی ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنْ مُحَمَّدٍ، - يَعْنِي ابْنَ طَحْلاَءَ - عَنْ مُحْصِنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ثُمَّ رَاحَ فَوَجَدَ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا أَعْطَاهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَزَّ مِثْلَ أَجْرِ مَنْ صَلاَّهَا وَحَضَرَهَا لاَ يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أَجْرِهِمْ شَيْئًا " .
#565
Hasan Sahih
Narrated AbuHurayrah: Do not prevent the female servants of Allah from visiting the mosques of Allah, but they may go out (to the mosque) having no perfumed themselves
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی باندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو، البتہ انہیں چاہیئے کہ وہ بغیر خوشبو لگائے نکلیں ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ وَلَكِنْ لِيَخْرُجْنَ وَهُنَّ تَفِلاَتٌ " .
#566
Daif
Ibn ‘Umar reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying; Do not prevent the female servant your women from visiting the mosques of Allah
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ کی باندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو ۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ " .
#567
Sahih
Ibn ‘Umar reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying; Do not prevent your women from visiting the mosque; but their houses are better for them (for praying)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی عورتوں کو مسجدوں سے نہ روکو، البتہ ان کے گھر ان کے لیے بہتر ہیں ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَمْنَعُوا نِسَاءَكُمُ الْمَسَاجِدَ وَبُيُوتُهُنَّ خَيْرٌ لَهُنَّ " .
#568
Sahih
‘Abd Allah b. ‘Umar reported the prophet (ﷺ) as saying; Allow women to visit the mosque at night. A son of his (Bilal) said; I swear by Allah, we shall certainly not allow them because they will defraud. I swear by Allah, we shall not allow them. He (Ibn ‘Umar) abused him and became angry at him and said :I tell you that the Messenger of Allah (May peace be upon him) said: Allow them; yet you say; we shall not allow them
مجاہد کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: تم عورتوں کو رات میں مسجد جانے کی اجازت دو ، اس پر ان کے ایک لڑکے ( بلال ) نے کہا: قسم اللہ کی! ہم انہیں اس کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ اسے فساد کا ذریعہ بنائیں، قسم اللہ کی، ہم انہیں اس کی اجازت نہیں دیں گے۔ مجاہد کہتے ہیں: اس پر انہوں نے ( اپنے بیٹے کو ) بہت سخت سست کہا اور غصہ ہوئے، پھر بولے: میں کہتا ہوں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: تم انہیں اجازت دو ، اور تم کہتے ہو: ہم انہیں اجازت نہیں دیں گے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " ائْذَنُوا لِلنِّسَاءِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِاللَّيْلِ " . فَقَالَ ابْنٌ لَهُ وَاللَّهِ لاَ نَأْذَنُ لَهُنَّ فَيَتَّخِذْنَهُ دَغَلاً وَاللَّهِ لاَ نَأْذَنُ لَهُنَّ . قَالَ فَسَبَّهُ وَغَضِبَ وَقَالَ أَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ائْذَنُوا لَهُنَّ " . وَتَقُولُ لاَ نَأْذَنُ لَهُنَّ
#569
Sahih
‘A’ishah (Allah be pleased with her), wife of the prophet (ﷺ), said ; if the Messenger of Allah (ﷺ) had seen what the women have invented, he would have prevented them from visiting the mosque (for praying), as the women of the children of the Israel were prevented. Yahya (the narrator) said; I asked ‘Umrah ; were the women of Israel prevented? She said:yes
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر وہ چیزیں دیکھتے جو عورتیں کرنے لگی ہیں تو انہیں مسجد میں آنے سے روک دیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتیں اس سے روک دی گئی تھیں۔ یحییٰ بن سعید کہتے ہیں: میں نے عمرہ سے پوچھا: کیا بنی اسرائیل کی عورتیں اس سے روک دی گئی تھیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ لَوْ أَدْرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا أَحْدَثَ النِّسَاءُ لَمَنَعَهُنَّ الْمَسْجِدَ كَمَا مُنِعَهُ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ . قَالَ يَحْيَى فَقُلْتُ لِعَمْرَةَ أَمُنِعَهُ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ قَالَتْ نَعَمْ .
#570
Sahih
‘Abd Allah (b. Mas’ud) reported the prophet (ﷺ) as saying; it is more excellent for a woman to pray in her house than in her courtyard, and more excellent for her to pray in her private chamber than in her house
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت کی اپنے گھر کی نماز اس کی اپنے صحن کی نماز سے افضل ہے، اور اس کی اپنی اس کوٹھری کی نماز اس کے اپنے گھر کی نماز سے افضل ہے ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَاصِمٍ، حَدَّثَهُمْ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُوَرِّقٍ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " صَلاَةُ الْمَرْأَةِ فِي بَيْتِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلاَتِهَا فِي حُجْرَتِهَا وَصَلاَتُهَا فِي مَخْدَعِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلاَتِهَا فِي بَيْتِهَا " .
#571
Sahih
Ibn ‘Umar reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying :if we reserve this door for women (it would be better). Nafi' said: Ibn ‘Umar did not enter through it( the door) till he died. Abu Dawud said: This tradition has been narrated though a different chain of transmitters by 'Umar. And this is more correct
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر ہم اس دروازے کو عورتوں کے لیے چھوڑ دیں ( تو زیادہ اچھا ہو ) ۔ نافع کہتے ہیں: چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما تاحیات اس دروازے سے مسجد میں کبھی داخل نہیں ہوئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث اسماعیل بن ابراہیم نے ایوب سے، انہوں نے نافع سے روایت کیا ہے، اس میں «قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم»کے بجائے «قال عمر» ( عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ) ہے، اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ تَرَكْنَا هَذَا الْبَابَ لِلنِّسَاءِ " . قَالَ نَافِعٌ فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ ابْنُ عُمَرَ حَتَّى مَاتَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ قَالَ عُمَرُ وَهَذَا أَصَحُّ .
#572
Hasan Sahih
Abu Hurairah said:I heard the Messenger of Allah( may peace be upon him) say: When the iqamah is pronounced for prayer, do not come to it running, but come walking(slowly). You should observe tranquility. The part of the prayer you get(along with the imam) offer it, and the part you miss complete it(afterwards). Abu Dawud said: The version narrated by al-Zubaidi, Ibn Abi Dhi’b, Ibrahim b. Sa’d, Ma’mar, Shu’aib b. Abi Hamzah on the authority of al-Zuhri has the words: “the part you miss then complete it”. Ibn ‘Uyainah alone narrated from al-Zuhri the words “then offer it afterwards”. And Muhammad b. ‘Amr narrated from Abu Salamah on the authority of Abu Hurairah, and Ja’far b. Rabi’ah narrated from al-A’raj on the authority of Abu Hurairah the words “then complete it”. And Ibn Mas’ud narrated from the Prophet(ﷺ) and Abu Qatadah and Anas reported from the Prophet( may peace be upon him) the words” then complete it”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب نماز کی تکبیر کہہ دی جائے تو نماز کے لیے دوڑتے ہوئے نہ آؤ، بلکہ اطمینان و سکون کے ساتھ چلتے ہوئے آؤ، تو اب جتنی پاؤ اسے پڑھ لو، اور جو چھوٹ جائے اسے پوری کر لو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: زبیدی، ابن ابی ذئب، ابراہیم بن سعد، معمر اور شعیب بن ابی حمزہ نے زہری سے اسی طرح: «وما فاتكم فأتموا» کے الفاظ روایت کئے ہیں، اور ابن عیینہ نے تنہا زہری سے لفظ: «فاقضوا» روایت کی ہے۔ محمد بن عمرو نے ابوسلمہ سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، اور جعفر بن ربیعہ نے اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے لفظ: «فأتموا» سے روایت کی ہے، اور اسے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اور انس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے اور ان سب نے: «فأتموا» کہا ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَلاَ تَأْتُوهَا تَسْعَوْنَ وَأْتُوهَا تَمْشُونَ وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ كَذَا قَالَ الزُّبَيْدِيُّ وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ وَمَعْمَرٌ وَشُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ " وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا " . وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَحْدَهُ " فَاقْضُوا " . وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَجَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ " فَأَتِمُّوا " . وَابْنُ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو قَتَادَةَ وَأَنَسٌ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كُلُّهُمْ قَالُوا " فَأَتِمُّوا " .
#573
Sahih
Abu Hurairah reported the Prophet(ﷺ) as saying:Come to prayer with calmness and tranquility. Then pray the part you get (long with the imam) and complete afterwards the part you miss. Abu Dawud said: Ibn Sirin narrated from Abu Hurairah the words: "he should complete it afterwards." Similarly, Abu Rafi' narrated from Abu Hurairah and Abu Dharr narrated from him the words "then complete it, and complete it afterwards." There is a variation of words in the narration from him
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نماز کے لیے اس حال میں آؤ کہ تمہیں اطمینان و سکون ہو، پھر جتنی رکعتیں جماعت سے ملیں انہیں پڑھ لو، اور جو چھوٹ جائیں وہ قضاء کر لو ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح ابن سیرین نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے لفظ «وليقض» سے روایت کی ہے۔ اور ابورافع نے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے اسی طرح کہا ہے۔ لیکن ابوذر نے ان سے: «فأتموا واقضوا» روایت کیا ہے، اور اس سند میں اختلاف کیا گیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " ائْتُوا الصَّلاَةَ وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ فَصَلُّوا مَا أَدْرَكْتُمْ وَاقْضُوا مَا سَبَقَكُمْ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَا قَالَ ابْنُ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ " وَلْيَقْضِ " . وَكَذَا أَبُو رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبُو ذَرٍّ رُوِيَ عَنْهُ " فَأَتِمُّوا وَاقْضُوا " . وَاخْتُلِفَ عَنْهُ .
#574
Sahih
Narrated Sa'id al-Khudri: The Messenger of Allah (ﷺ) saw a person praying alone. He said: Is there any man who may do good with this (man) and pray along with him
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اکیلے نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا: کیا کوئی نہیں ہے جو اس پر صدقہ کرے، یعنی اس کے ساتھ نماز پڑھے ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَسْوَدِ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبْصَرَ رَجُلاً يُصَلِّي وَحْدَهُ فَقَالَ " أَلاَ رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّيَ مَعَهُ " .
#575
Sahih
Narrated Yazid ibn al-Aswad: Yazid prayed along with the Messenger of Allah (ﷺ) when he was a young boy. When he (the Prophet) had prayed there were two persons (sitting) in the corner of the mosque; they did not pray (along with the Prophet). He called for them. They were brought trembling (before him). He asked: What prevented you from praying along with us? They replied: We have already prayed in our houses. He said: Do not do so. If any of you prays in his house and finds that the imam has not prayed, he should pray along with him; and that will be a supererogatory prayer for him
یزید بن الاسودخزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، وہ ایک جوان لڑکے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ مسجد کے کونے میں دو آدمی ہیں جنہوں نے نماز نہیں پڑھی ہے، تو آپ نے دونوں کو بلوایا، انہیں لایا گیا، خوف کی وجہ سے ان پر کپکپی طاری تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے پوچھا: تم نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟ ، تو ان دونوں نے کہا: ہم اپنے گھروں میں نماز پڑھ چکے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کرو، جب تم میں سے کوئی شخص اپنے گھر میں نماز پڑھ لے پھر امام کو اس حال میں پائے کہ اس نے نماز نہ پڑھی ہو تو اس کے ساتھ ( بھی ) نماز پڑھے، یہ اس کے لیے نفل ہو جائے گی ۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِأَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ غُلاَمٌ شَابٌّ فَلَمَّا صَلَّى إِذَا رَجُلاَنِ لَمْ يُصَلِّيَا فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَدَعَا بِهِمَا فَجِيءَ بِهِمَا تُرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا فَقَالَ " مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا " . قَالاَ قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا . فَقَالَ " لاَ تَفْعَلُوا إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي رَحْلِهِ ثُمَّ أَدْرَكَ الإِمَامَ وَلَمْ يُصَلِّ فَلْيُصَلِّ مَعَهُ فَإِنَّهَا لَهُ نَافِلَةٌ " .