#526
Sahih
‘A’ishah said that when the Messenger of Allah (ﷺ) heard the MU’ADHDHIN uttering the testimony, he would say:“And I too, and I too”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مؤذن کو: «أشهد أن لا إله إلا الله، أشهد أن محمدًا رسول الله» کہتے ہوئے سنتے تو فرماتے: اور میں بھی ( اس کا گواہ ہوں ) اور میں بھی ( اس کا گواہ ہوں ) ۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ يَتَشَهَّدُ قَالَ " وَأَنَا وَأَنَا " .
#527
Sahih
‘Umar b. al-khattab reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying; When the MU’ADHDHIN says:“Allah is most great, Allah is most great”, and one of you says in response: “Allah is most great”, Allah is most great; then says: “ I testify tht there is no god but Allah”, and he says in response: “I testify that there is no god but Allah”, then say:” I testify that Muhammad is the Messenger of Allah”, and he makes the response: “ I testify that Muhammad is the Messenger of Allah”, then says: “Come to prayer”, and he makes the response: “There is no might and no power except in Allah”: then says: “ Allah is most great, Allah is most great”, and he makes the response: “Allah is most great”, then says: “There is no god but Allah”, if he says this from his heart, he enter Paradise
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مؤذن: «الله أكبر الله أكبر» کہے تو تم میں سے جو ( اخلاص کے ساتھ ) «الله أكبر الله أكبر» کہے، پھر جب وہ «أشهد أن لا إله إلا الله» کہے تو یہ بھی «أشهد أن لا إله إلا الله»کہے، اور جب وہ «أشهد أن محمدا رسول الله» کہے تو یہ بھی «أشهد أن محمدا رسول الله» کہے، جب وہ «حى على الصلاة» کہے تو یہ «لا حول ولا قوة إلا بالله» کہے، جب وہ «حى على الفلاح» کہے تو یہ «لا حول ولا قوة إلا بالله» کہے، پھر جب وہ «الله أكبر الله أكبر» کہے تو یہ بھی «الله أكبر الله أكبر» کہے، اور جب وہ «لا إله إلا الله» کہے تو یہ بھی «لا إله إلا الله» کہے تو وہ جنت میں جائے گا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسَافٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ فَقَالَ أَحَدُكُمُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ فَإِذَا قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ . قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ . فَإِذَا قَالَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ قَالَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ قَالَ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ ثُمَّ قَالَ حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ قَالَ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ثُمَّ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مِنْ قَلْبِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
#528
Daif
Narrated AbuUmamah, or one of the Companion of the Prophet: Bilal began the Iqamah, and when he said: "The time for prayer has come," the Prophet (ﷺ) said: "May Allah establish it and cause it to continue
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے یا بعض صحابہ کرام سے روایت ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت شروع کی، جب انہوں نے «قد قامت الصلاة» کہا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أقامها الله وأدامها» اللہ اسے قائم رکھے اور اس کو دوام عطا فرمائے اور باقی اقامت کے جواب میں وہی کہا جو اذان کے سلسلے میں عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ، مِنْ أَهْلِ الشَّامِ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَوْ عَنْ بَعْضِ، أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ بِلاَلاً أَخَذَ فِي الإِقَامَةِ فَلَمَّا أَنْ قَالَ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَةُ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَقَامَهَا اللَّهُ وَأَدَامَهَا " . وَقَالَ فِي سَائِرِ الإِقَامَةِ كَنَحْوِ حَدِيثِ عُمَرَ - رضى الله عنه - فِي الأَذَانِ .
#529
Sahih
Jabir b. ‘Abd Allah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:if anyone says when he hears the call to prayer : “O Allah, Lord of this perfect call and of the prayer which is established for all time, grant Muhammad the wasilah and excellency, and raise him up in a praiseworthy position which Thou hast promised, he will be assured of my intercession
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اذان سن کر یہ دعا پڑھی: «اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة آت محمدا الوسيلة والفضيلة وابعثه مقاما محمودا الذي وعدته» اے اللہ! اس کامل دعا اور ہمیشہ قائم رہنے والی نماز کے رب! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ ۱؎ اور فضیلہ ۲؎ عطا فرما اور آپ کو مقام محمود ۳؎ پر فائز فرما جس کا تو نے وعدہ فرمایا ہے تو قیامت کے دن اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو جائے گی ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلاَةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ إِلاَّ حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
#530
Daif
Narrated Umm Salamah, Ummul Mu'minin: The Messenger of Allah (ﷺ) taught me to say when the adhan for the sunset prayer was called; "O Allah, this is the time when Thy night comes on, Thy day retires, and the voices of Thy summoners are heard, so forgive me
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا کہ میں مغرب کی اذان کے وقت کہوں:«اللهم إن هذا إقبال ليلك وإدبار نهارك وأصوات دعاتك فاغفر لي» اے اللہ! یہ تیری رات کی آمد اور تیرے دن کی رخصت کا وقت ہے، اور تیری طرف بلانے والوں کی آوازیں ہیں تو تو میری مغفرت فرما ۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِهَابٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَعْنٍ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ أَقُولَ عِنْدَ أَذَانِ الْمَغْرِبِ " اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا إِقْبَالُ لَيْلِكَ وَإِدْبَارُ نَهَارِكَ وَأَصْوَاتُ دُعَاتِكَ فَاغْفِرْ لِي " .
#531
Sahih
Narrated Uthman ibn Abul'As: Messenger of Allah, appoint me the leader of the tribe in prayer. He said: You are their leader, but you should follow on who is the weakest of them: and appoint a mu'adhdhin who does not charge for the calling of adhan
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے میری قوم کا امام مقرر فرما دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان کے امام ہو تو تم ان کے کمزور ترین لوگوں کی رعایت کرنا، اور ایسا مؤذن مقرر کرنا جو اذان پر اجرت نہ لے ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلاَءِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ قُلْتُ وَقَالَ مُوسَى فِي مَوْضِعٍ آخَرَ إِنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اجْعَلْنِي إِمَامَ قَوْمِي . قَالَ " أَنْتَ إِمَامُهُمْ وَاقْتَدِ بِأَضْعَفِهِمْ وَاتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لاَ يَأْخُذُ عَلَى أَذَانِهِ أَجْرًا " .
#532
Sahih
Narrated Abdullah ibn Umar: Bilal made a call to prayer before the break of dawn; the Prophet (ﷺ), therefore, commanded him to return and make a call: Lo! the servant of Allah (i.e. I) had slept (hence this mistake). The version of Musa has the addition: He returned and made a call: Lo! the servant of Allah had slept. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by al-Darawardi from 'Ubaid Allah on the authority of Ibn 'Umar saying: There was a mu'adhdhin of 'Umar, named Mas'ud. He then narrated the rest of the tradition. This version is more correct than that one
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ نے فجر کا وقت ہونے سے پہلے اذان دے دی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ دوبارہ اذان دیں اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہیں: سنو، بندہ سو گیا تھا، سنو، بندہ سو گیا تھا۔ موسیٰ بن اسماعیل کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ نے دوبارہ اذان دی اور بلند آواز سے کہا: سنو، بندہ سو گیا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ایوب سے حماد بن سلمہ کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کی ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَدَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ بِلاَلاً، أَذَّنَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَرْجِعَ فَيُنَادِيَ " أَلاَ إِنَّ الْعَبْدَ قَدْ نَامَ أَلاَ إِنَّ الْعَبْدَ قَدْ نَامَ " . زَادَ مُوسَى فَرَجَعَ فَنَادَى أَلاَ إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا الْحَدِيثُ لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَيُّوبَ إِلاَّ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ .
#533
Sahih
Nafi' reported :A mu'adhdhin of ‘Umar, named Masruh, called the Adhan for the morning prayer before the break of dawn; ‘Umar commanded him (to repeat). The narrator reported the tradition in a similar way. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by al-Darawardi from ‘Ubaid Allah on the authority of Ibn ‘Umar, saying: there was a mu'adhdhin of ‘Umar, named Mas’ud. He then narrated the rest of the tradition. This version is more correct than one
عمر رضی اللہ عنہ کے مسروح نامی مؤذن سے روایت ہے کہ انہوں نے صبح صادق سے پہلے اذان دے دی تو عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا، پھر انہوں نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حماد بن زید نے عبیداللہ بن عمر سے، عبیداللہ نے نافع سے یا کسی اور سے روایت کیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کا ایک مؤذن تھا ( جس کا نام مسروح یا کچھ اور تھا ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے دراوردی نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے نافع سے، نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کا مسعود نامی ایک مؤذن تھا، اور دراوردی نے اسی طرح کی روایت ذکر کی اور یہ پہلی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنْ مُؤَذِّنٍ، لِعُمَرَ يُقَالُ لَهُ مَسْرُوحٌ أَذَّنَ قَبْلَ الصُّبْحِ فَأَمَرَهُ عُمَرُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَقَدْ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ أَوْ غَيْرِهِ أَنَّ مُؤَذِّنًا لِعُمَرَ يُقَالُ لَهُ مَسْرُوحٌ أَوْ غَيْرُهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ الدَّرَاوَرْدِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ لِعُمَرَ مُؤَذِّنٌ يُقَالُ لَهُ مَسْعُودٌ وَذَكَرَ نَحْوَهُ وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ ذَلِكَ .
#534
Hasan
Narrated Bilal: The Messenger of Allah (ﷺ) said to Bilal: Do not call adhan until the dawn appears clearly to you in this way, stretching his hand in latitude. Abu Dawud said: Shaddad did not see Bilal
بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم اذان نہ دیا کرو جب تک کہ فجر تمہارے لیے اس طرح واضح نہ ہو جائے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ چوڑائی میں پھیلائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عیاض کے آزاد کردہ غلام شداد نے بلال رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا ہے۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ شَدَّادٍ، مَوْلَى عِيَاضِ بْنِ عَامِرٍ عَنْ بِلاَلٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ " لاَ تُؤَذِّنْ حَتَّى يَسْتَبِينَ لَكَ الْفَجْرُ هَكَذَا " . وَمَدَّ يَدَيْهِ عَرْضًا قَالَ أَبُو دَاوُدَ شَدَّادٌ مَوْلَى عِيَاضٍ لَمْ يُدْرِكْ بِلاَلاً .
#535
Sahih
‘A’ishah reported:Ibn Umm Maktum was the mu'adhdhin of the Messenger of Allah (May peace be upon him) and he was blind
ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن ام مکتوم ؓ رسول اللہ ﷺ کے مؤذن تھے اور نابینا تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَسَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ، كَانَ مُؤَذِّنًا لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ أَعْمَى .
#536
Sahih
Abu al-Sha’tha said :we were sitting with Abu Hurairah in the mosque. A man went out of the mosque after the ADHAN for the afternoon prayer had been called. Abu Hurairah said: As regards this (man), he disobeyed Abu al-Qasim, the prophet (ﷺ)
ابوالشعثاء کہتے ہیں کہ ہم ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد میں تھے کہ ایک شخص مؤذن کے عصر کی اذان دینے کے بعد نکل کر ( مسجد سے باہر ) گیا تو آپ نے کہا: اس نے ابوالقاسم ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت ہے ) کی نافرمانی کی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، قَالَ كُنَّا مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الْمَسْجِدِ فَخَرَجَ رَجُلٌ حِينَ أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ لِلْعَصْرِ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ .
#537
Sahih
Jabir b. Samurah said:Bilal would call the Adhan, then he used come to wait. When he would see that the prophet (ﷺ) had come out (of his house), he would pronounce the iqama
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ اذان دیتے تھے پھر رکے رہتے تھے، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیتے کہ آپ نکل چکے ہیں تو نماز کی اقامت کہتے تھے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ كَانَ بِلاَلٌ يُؤَذِّنُ ثُمَّ يُمْهِلُ فَإِذَا رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَدْ خَرَجَ أَقَامَ الصَّلاَةَ .
#538
Hasan
Narrated Abdullah ibn Umar: Mujahid reported: I was in the company of Ibn Umar. A person invited the people for the noon or afternoon prayer (after the adhan had been called). He said: Go out with us (from this mosque) because this is an innovation (in religion)
مجاہد کہتے ہیں کہ کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا کہ ایک شخص نے ظہر یا عصر میں تثویب ۱؎ کی، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ہمیں یہاں سے لے چلو، اس لیے کہ یہ بدعت ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْقَتَّاتُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَثَوَّبَ رَجُلٌ فِي الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ قَالَ اخْرُجْ بِنَا فَإِنَّ هَذِهِ بِدْعَةٌ .
#539
Sahih
Abu Qatadah reported on the authority of his father :the prophet (ﷺ) said; When the Iqamah for prayer is pronounced, do not stand until you see me. Abu Dawud said: this has been narrated by Ayyub and Hajjaj al-Sawwaf from Yahya and Hisham al-Duatawa’i in a similar way, saying : Yahya wrote to me (in this way). And this has been narrated by Mu’awiyah b. Sallam and ‘Ali b. al-Mubarak from Yahya: “Until you see me and show tranquility”
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے تکبیر کہی جائے تو جب تک تم مجھے نکلتے ہوئے نہ دیکھ لو کھڑے نہ ہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے ایوب اور حجاج الصواف نے یحییٰ سے روایت کیا ہے۔ اور ہشام دستوائی کا بیان ہے کہ مجھے یحییٰ نے یہ حدیث لکھ کر بھیجی، نیز اسے معاویہ بن سلام اور علی بن مبارک نے بھی یحییٰ سے روایت کیا ہے، ان دونوں کی روایت میں ہے: یہاں تک کہ تم مجھے دیکھ لو، اور سکون اور وقار کو ہاتھ سے نہ جانے دو ۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَلاَ تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَكَذَا رَوَاهُ أَيُّوبُ وَحَجَّاجٌ الصَّوَّافُ عَنْ يَحْيَى . وَهِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ قَالَ كَتَبَ إِلَىَّ يَحْيَى . وَرَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلاَّمٍ وَعَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يَحْيَى وَقَالاَ فِيهِ " حَتَّى تَرَوْنِي وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ " .
#540
Sahih
This tradition has also been reported through a different chain of narrators in a similar way. This version says:“Until you see me that I have come out”. Abu dawud said: No one except Ma’mar has narrated the words “that I have come out”. And the version transmitted by Ibn ‘Uyainah from Ma’mar does not mention the words “that I have come out”
یحییٰ سے اسی سند سے گذشتہ حدیث کے ہم مثل حدیث مروی ہے، اس میں ہے یہاں تک کہ تم مجھے دیکھ لو کہ میں نکل چکا ہوں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: معمر کے علاوہ کسی نے «قد خرجت» کا لفظ ذکر نہیں کیا۔ ابن عیینہ نے بھی اسے معمر سے روایت کیا ہے، اس میں بھی انہوں نے «قد خرجت» نہیں کہا ہے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَحْيَى، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ قَالَ " حَتَّى تَرَوْنِي قَدْ خَرَجْتُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ لَمْ يَذْكُرْ " قَدْ خَرَجْتُ " . إِلاَّ مَعْمَرٌ . وَرَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مَعْمَرٍ لَمْ يَقُلْ فِيهِ " قَدْ خَرَجْتُ " .
#541
Sahih
Abu Hurairah reported:when the Iqamah was pronounced for prayer during the time of the Messenger of Allah (ﷺ), the people would take their seats before the prophet (ﷺ) came to his seat
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جب نماز کی تکبیر کہی جاتی تھی تو لوگ اپنی اپنی جگہیں لے لیتے قبل اس کے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ لیں۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ قَالَ أَبُو عَمْرٍو ح وَحَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، - وَهَذَا لَفْظُهُ - عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ الصَّلاَةَ، كَانَتْ تُقَامُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَأْخُذُ النَّاسُ مَقَامَهُمْ قَبْلَ أَنْ يَأْخُذَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم .
#542
Sahih
Humaid reported :I asked Thabit al-Bunani whether it was permissible for a man to talk after the qamah had been pronounced. He narrated a tradition on the authority of Anas: (once) the Iqamah was pronounced, and a person came to the apostle of Allah (ﷺ) and detained him after the Iqamah had been pronounced
حمید کہتے ہیں میں نے ثابت بنانی سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو نماز کی تکبیر ہو جانے کے بعد بات کرتا ہو، تو انہوں نے مجھ سے انس رضی اللہ عنہ کے واسطے سے حدیث بیان کی کہ نماز کی تکبیر کہہ دی گئی تھی کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا اور اس نے آپ کو تکبیر ہو جانے کے بعد ( باتوں کے ذریعے ) روکے رکھا۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ سَأَلْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ عَنِ الرَّجُلِ، يَتَكَلَّمُ بَعْدَ مَا تُقَامُ الصَّلاَةُ فَحَدَّثَنِي عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَعَرَضَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ فَحَبَسَهُ بَعْدَ مَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ .
#543
Daif
‘Awn b. Kahmas reported on the authority of his father Kahmas :we stood for praying at Mina when the Imam had not come out. Some of us sat down (and I too). An old man from Kufah said to me: Why did you down? I said : Ibn Buraidah, this is Sumud (i.e., waiting for the Imam in the standing condition). The old man then narrated a tradition from ‘Abd al-Rahman b. ‘Awaajah on the authority of al-Bara’ b. ‘Azib: We would stand in rows during the time of the Messenger of Allah (ﷺ) for a long time before he pronounced Takbir. He further said; Allah, the Exalted and Mighty, sends blessings and the angles invoke blessings for those who are nearer to the front rows. No step is more liking to Allah than a step which one takes to join the row (of the prayer)
کہمس کہتے ہیں کہ ہم منیٰ میں نماز کے لیے کھڑے ہوئے، امام ابھی نماز کے لیے نہیں نکلا تھا کہ ہم میں سے کچھ لوگ بیٹھ گئے، تو کوفہ کے ایک شیخ نے مجھ سے کہا: تمہیں کون سی چیز بٹھا رہی ہے؟ میں نے ان سے کہا: ابن بریدہ کہتے ہیں: یہی «سمود» ۱؎ ہے، یہ سن کر مذکورہ شیخ نے مجھ سے کہا: مجھ سے عبدالرحمٰن بن عوسجہ نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے بیان کیا ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آپ کے تکبیر کہنے سے پہلے صفوں میں دیر تک کھڑے رہتے تھے ۲؎۔ براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ ان لوگوں پر رحمت نازل کرتا ہے اور اس کے فرشتے دعا کرتے ہیں، جو پہلی صفوں میں کھڑے ہوتے ہیں اور صف میں شامل ہونے کے لیے جو قدم اٹھایا جائے اس سے بہتر اللہ کے نزدیک کوئی قدم نہیں ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مَنْجُوفٍ السَّدُوسِيُّ، حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ كَهْمَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، كَهْمَسٍ قَالَ قُمْنَا إِلَى الصَّلاَةِ بِمِنًى وَالإِمَامُ لَمْ يَخْرُجْ فَقَعَدَ بَعْضُنَا فَقَالَ لِي شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ مَا يُقْعِدُكَ قُلْتُ ابْنُ بُرَيْدَةَ . قَالَ هَذَا السُّمُودُ . فَقَالَ لِي الشَّيْخُ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْسَجَةَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ كُنَّا نَقُومُ فِي الصُّفُوفِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَوِيلاً قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ قَالَ وَقَالَ " إِنَّ اللَّهَ وَمَلاَئِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الَّذِينَ يَلُونَ الصُّفُوفَ الأُوَلَ وَمَا مِنْ خَطْوَةٍ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْ خَطْوَةٍ يَمْشِيهَا يَصِلُ بِهَا صَفًّا " .
#544
Sahih
Anas reported :the Iqamah was pronounced (for the night prayer) and the Messenger of Allah (ﷺ) remained engaged in talking (to a person) in the corner of the mosque. He did not begin prayer until the people slept
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نماز ( عشاء ) کی تکبیر کہی گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک کونے میں ایک شخص سے باتیں کر رہے تھے، تو آپ نماز کے لیے کھڑے نہیں ہوئے یہاں تک کہ لوگ سونے لگے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَجِيٌّ فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ فَمَا قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ .
#545
Daif
Abu al-Nadr said:when the Iqamah was pronounced and the Messenger of Allah (ﷺ) saw that they (the people) were small in number, he would sit down, nd would not pray; but when he saw them (the people) large in number, he would pray
سالم ابوالنضر کہتے ہیں جب نماز کی تکبیر کہہ دی جاتی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے کہ ( مسجد میں ) لوگ کم آئے ہیں تو آپ بیٹھ جاتے، نماز شروع نہیں کرتے اور جب دیکھتے کہ جماعت پوری ہے تو نماز پڑھاتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْجَوْهَرِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ تُقَامُ الصَّلاَةُ فِي الْمَسْجِدِ إِذَا رَآهُمْ قَلِيلاً جَلَسَ لَمْ يُصَلِّ وَإِذَا رَآهُمْ جَمَاعَةً صَلَّى .
#546
Daif
This tradition has been transmitted through a different chain of narrators in a similar way by ‘Ali b. Abi Talib
اس سند سے ابومسعود زرقی بھی علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے گذشتہ روایت کے ہم مثل روایت کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، - رضى الله عنه - مِثْلَ ذَلِكَ .
#547
Hasan
Narrated AbudDarda': I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: If there are three men in a village or in the desert among whom prayer is not offered (in congregation), the devil has got the mastery over them. So observe (prayer) in congregation), for the wolf eats only the straggling animal. Sa'ib said: By the word Jama'ah he meant saying prayer in company or in congregation
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: تین آدمی کسی بستی یا جنگل میں ہوں اور وہ جماعت سے نماز نہ پڑھیں تو ان پر شیطان مسلط ہو جاتا ہے، لہٰذا تم جماعت کو لازم پکڑو، اس لیے کہ بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہوتی ہے ۔ زائدہ کا بیان ہے: سائب نے کہا: جماعت سے مراد نماز باجماعت ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، حَدَّثَنَا السَّائِبُ بْنُ حُبَيْشٍ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَا مِنْ ثَلاَثَةٍ فِي قَرْيَةٍ وَلاَ بَدْوٍ لاَ تُقَامُ فِيهِمُ الصَّلاَةُ إِلاَّ قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَةَ " . قَالَ زَائِدَةُ قَالَ السَّائِبُ يَعْنِي بِالْجَمَاعَةِ الصَّلاَةَ فِي الْجَمَاعَةِ .
#548
Sahih
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying; I thought to give orders for arranging prayer in congregation, and then to have the Iqamah called for it, then to order a man to lead the people in prayer, then to go off in company of the people who have bundles of firewood to those people who are not present at the prayer and then to burn down their houses with fire
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے سوچا کہ نماز کھڑی کرنے کا حکم دوں، پھر ایک شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، اور میں چند آدمیوں کو لے کر جن کے ساتھ لکڑیوں کے گٹھر ہوں، ان لوگوں کے پاس جاؤں، جو نماز باجماعت میں حاضر نہیں ہوتے اور ان کے گھروں میں آگ لگا دوں ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلاَةِ فَتُقَامَ ثُمَّ آمُرَ رَجُلاً فَيُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ثُمَّ أَنْطَلِقَ مَعِي بِرِجَالٍ مَعَهُمْ حُزَمٌ مِنْ حَطَبٍ إِلَى قَوْمٍ لاَ يَشْهَدُونَ الصَّلاَةَ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِالنَّارِ " .
#549
Sahih
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:I thought about giving orders to some youths for gathering a bundle of firewood, then going off to some people who their prayers in their homes without any excuse, and burning down their houses over them. I (Yazid b. Yazid) said: I asked Yazid b. al-Asamm: Abu ‘Awf did he mean Friday (prayer) or any other? He replied: may my ears become deaf if I have not heard Abu Hurairah narrating it from the Messenger of Allah (May peace be upon him); He did not mention Friday (prayer) or any other
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے ارادہ کیا کہ اپنے جوانوں کو لکڑیوں کے گٹھر جمع کرنے کا حکم دوں، پھر میں ان لوگوں کے پاس جو بغیر کسی عذر کے اپنے گھروں میں نماز پڑھ لیا کرتے ہیں، جاؤں اور ان کے گھروں کو ان کے سمیت آگ لگا دوں ۔ یزید بن یزید کہتے ہیں: میں نے یزید بن اصم سے پوچھا: ابوعوف! کیا اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد جمعہ ہے، یا اور وقتوں کی نماز؟ فرمایا: میرے کان بہرے ہو جائیں اگر میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے نہ سنا ہو، انہوں نے نہ جمعہ کا ذکر کیا، نہ کسی اور دن کا۔
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ فِتْيَتِي فَيَجْمَعُوا حُزَمًا مِنْ حَطَبٍ ثُمَّ آتِيَ قَوْمًا يُصَلُّونَ فِي بُيُوتِهِمْ لَيْسَتْ بِهِمْ عِلَّةٌ فَأُحَرِّقُهَا عَلَيْهِمْ " . قُلْتُ لِيَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ يَا أَبَا عَوْفٍ الْجُمُعَةَ عَنَى أَوْ غَيْرَهَا قَالَ صُمَّتَا أُذُنَاىَ إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَأْثِرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا ذَكَرَ جُمُعَةً وَلاَ غَيْرَهَا .
#550
Sahih
Abd Allah b. Mas’ud said:Persevere in observing these five times of prayer where the announcement for them is made, because they are from the paths of right guidance. And Allah, the Might, the Majestic, has laid down for his prophet (ﷺ) the paths of right guidance. I have seen the time when no one stayed away from prayer except a hypocrite whose hypocrite was well known. I witnessed the time when a man would be brought swaying between two men till he was set up in the row (of the prayer). Every one of us has a mosque of his in his house. If you were to pray in your houses and stay from your mosques. You would abandon the Sunnah (practice) of your prophet, and if you were Abandon the Sunnah (Practice) of your Prophet, you would become an unbeliever
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں تم لوگ ان پانچوں نمازوں کی پابندی کرو جہاں ان کی اذان دی جائے، کیونکہ یہ ہدایت کی راہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہدایت کے طریقے اور راستے مقرر کر دئیے ہیں، اور ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ نماز باجماعت سے وہی غیر حاضر رہتا تھا جو کھلا ہوا منافق ہوتا تھا، اور ہم یہ بھی دیکھتے تھے کہ آدمی دو شخصوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر چلایا جاتا، یہاں تک کہ اس آدمی کو صف میں لا کر کھڑا کر دیا جاتا تھا، تم میں سے ایسا کوئی شخص نہیں ہے، جس کی مسجد اس کے گھر میں نہ ہو، لیکن اگر تم اپنے گھروں میں نماز پڑھتے رہے اور مسجدوں میں نماز پڑھنا چھوڑ دیا، تو تم نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ترک کر دیا اور اگر تم نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ترک کر دیا تو کافروں جیسا کام کیا۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ الأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ حَافِظُوا عَلَى هَؤُلاَءِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ فَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى وَإِنَّ اللَّهَ شَرَعَ لِنَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم سُنَنَ الْهُدَى وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلاَّ مُنَافِقٌ بَيِّنُ النِّفَاقِ وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يُقَامَ فِي الصَّفِّ وَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ وَلَهُ مَسْجِدٌ فِي بَيْتِهِ وَلَوْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ وَتَرَكْتُمْ مَسَاجِدَكُمْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صلى الله عليه وسلم وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صلى الله عليه وسلم لَكَفَرْتُمْ .