#576
Sahih
Jabir b. Yazid reported on the authority of his father:I said the morning prayer along with the prophet (ﷺ) at Mina. He narrated the rest of the tradition to the same effect
یزید بن اسود خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز منیٰ میں پڑھی، پھر آگے راوی نے سابقہ معنی کی حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الصُّبْحَ بِمِنًى بِمَعْنَاهُ .
#577
Daif
Narrated Yazid ibn Amir: I came while the Prophet (ﷺ) was saying the prayer. I sat down and did not pray along with them. The Messenger of Allah (ﷺ) turned towards us and saw that Yazid was sitting there. He said: Did you not embrace Islam, Yazid? He replied: Why not, Messenger of Allah; I have embraced Islam. He said: What prevented you from saying prayer along with the people? He replied: I have already prayed in my house, and I thought that you had prayed (in congregation). He said: When you come to pray (in the mosque) and find the people praying, then you should pray along with them, though you have already prayed. This will be a supererogatory prayer for you and that will be counted as obligatory
یزید بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں ( مسجد ) آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں تھے، تو میں بیٹھ گیا اور لوگوں کے ساتھ نماز میں شریک نہیں ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر ہماری طرف مڑے تو مجھے ( یزید بن عامر کو ) بیٹھے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یزید! کیا تم مسلمان نہیں ہو؟ ، میں نے کہا: کیوں نہیں، اللہ کے رسول! میں اسلام لا چکا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر لوگوں کے ساتھ نماز میں شریک کیوں نہیں ہوئے؟ ، میں نے کہا: میں نے اپنے گھر پر نماز پڑھ لی ہے، میرا خیال تھا کہ آپ لوگ نماز پڑھ چکے ہوں گے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی ایسی جگہ آؤ جہاں نماز ہو رہی ہو، اور لوگوں کو نماز پڑھتے ہوئے پاؤ تو ان کے ساتھ شریک ہو کر جماعت سے نماز پڑھ لو، اگر تم نماز پڑھ چکے ہو تو وہ تمہارے لیے نفل ہو گی اور یہ فرض ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ نُوحِ بْنِ صَعْصَعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ جِئْتُ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي الصَّلاَةِ فَجَلَسْتُ وَلَمْ أَدْخُلْ مَعَهُمْ فِي الصَّلاَةِ - قَالَ - فَانْصَرَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَأَى يَزِيدَ جَالِسًا فَقَالَ " أَلَمْ تُسْلِمْ يَا يَزِيدُ " . قَالَ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ أَسْلَمْتُ . قَالَ " فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْخُلَ مَعَ النَّاسِ فِي صَلاَتِهِمْ " . قَالَ إِنِّي كُنْتُ قَدْ صَلَّيْتُ فِي مَنْزِلِي وَأَنَا أَحْسِبُ أَنْ قَدْ صَلَّيْتُمْ . فَقَالَ " إِذَا جِئْتَ إِلَى الصَّلاَةِ فَوَجَدْتَ النَّاسَ فَصَلِّ مَعَهُمْ وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ تَكُنْ لَكَ نَافِلَةً وَهَذِهِ مَكْتُوبَةً " .
#578
Daif
A man from Banu Asad b. Khuzaimah asked Abu Ayyub al-Ansari:if one of us prays in his house, then comes to the mosque and finds that the iqamah is being called, and if I pray along with them ( in congregation), I feel something inside about it. Abu Ayyub replied: We asked the Prophet (ﷺ) about it. He said: That is a share from the spoils received by the warriors (i.e. he will receive double the reward of the prayer)
عفیف بن عمرو بن مسیب کہتے ہیں کہ مجھ سے قبیلہ بنی اسد بن خزیمہ کے ایک شخص نے بیان کیا کہ انہوں نے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ ہم میں سے ایک شخص اپنے گھر پر نماز پڑھ لیتا ہے، پھر مسجد آتا ہے، وہاں نماز کھڑی ہوتی ہے، تو میں ان کے ساتھ بھی نماز پڑھ لیتا ہوں، پھر اس سے میں اپنے دل میں شبہ پاتا ہوں، اس پر ابوایوب انصاری نے کہا: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس کے لیے مال غنیمت کا ایک حصہ ہے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَفِيفَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ حَدَّثَنِي رَجُلٌ، مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ فَقَالَ يُصَلِّي أَحَدُنَا فِي مَنْزِلِهِ الصَّلاَةَ ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ وَتُقَامُ الصَّلاَةُ فَأُصَلِّي مَعَهُمْ فَأَجِدُ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا . فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " ذَلِكَ لَهُ سَهْمُ جَمْعٍ " .
#579
Hasan Sahih
Narrated Abdullah ibn Umar: Sulayman, the freed slave of Maymunah, said: I came to Ibn Umar at Bilat (a place in Medina) while the people were praying. I said: Do you not pray along with them? He said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Do not say a prayer twice in a day
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام سلیمان بن یسار کہتے ہیں : میں بلاط میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، لوگ نماز پڑھ رہے تھے تو میں نے کہا: آپ ان کے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نماز پڑھ چکا ہوں اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ تم کوئی نماز ایک دن میں دو بار نہ پڑھو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، - يَعْنِي مَوْلَى مَيْمُونَةَ - قَالَ أَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ عَلَى الْبَلاَطِ وَهُمْ يُصَلُّونَ فَقُلْتُ أَلاَ تُصَلِّي مَعَهُمْ قَالَ قَدْ صَلَّيْتُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ تُصَلُّوا صَلاَةً فِي يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ " .
#580
Hasan Sahih
Narrated Uqbah ibn Amir: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: He who leads the people in prayer, and he does so at the right time, will receive, as well as those who are led (in prayer) will get (the reward). He who delays (prayer) from the appointed time will be responsible (for this delay) and not those who are led in prayer
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے لوگوں کی امامت کی اور وقت پر اسے اچھی طرح ادا کیا تو اسے بھی اس کا ثواب ملے گا اور مقتدیوں کو بھی، اور جس نے اس میں کچھ کمی کی تو اس کا وبال صرف اسی پر ہو گا ان ( مقتدیوں ) پر نہیں ۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ أَمَّ النَّاسَ فَأَصَابَ الْوَقْتَ فَلَهُ وَلَهُمْ وَمَنِ انْتَقَصَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعَلَيْهِ وَلاَ عَلَيْهِمْ " .
#581
Daif
Narrated Sulamah daughter of al-Hurr: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: One of the signs of the Last Hour will be that people in a mosque will refuse to act as imam and will not find an imam to lead them in prayer
خرشہ بن حر فزاری کی بہن سلامہ بنت حر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ مسجد والے آپس میں ایک دوسرے کو امامت کے لیے دھکیلیں گے، انہیں کوئی امام نہ ملے گا جو ان کو نماز پڑھائے ۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ الأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، حَدَّثَتْنِي طَلْحَةُ أُمُّ غُرَابٍ، عَنْ عَقِيلَةَ، - امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ مَوْلاَةٌ لَهُمْ - عَنْ سَلاَمَةَ بِنْتِ الْحُرِّ، أُخْتِ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ الْفَزَارِيِّ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَتَدَافَعَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ لاَ يَجِدُونَ إِمَامًا يُصَلِّي بِهِمْ " .
#582
Sahih
Abu Mas’ud al-Badri reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:The one of you who is most versed in the Books of Allah should act as imam for the people; and the one who is the earliest of them in reciting (the Qur’an); if they are equally versed in reciting it, then the earliest of them to emigrate (to Medina); if they emigrated at the same time, then the oldest of them. No man must lead another in prayer in his house (i.e. in the house of a latter) or where the latter has authority, or sit in his place of honor without his permission. Shu’bah said: I asked Isma’il: what is the meaning of his place of honor? He replied: his throne
ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو کتاب اللہ کو سب سے زیادہ پڑھنے والا ہو، اگر لوگ قرأت میں برابر ہوں تو ان میں جس نے پہلے ہجرت کی ہو وہ امامت کرے، اگر ہجرت میں بھی برابر ہوں تو ان میں بڑی عمر والا امامت کرے، آدمی کی امامت اس کے گھر میں نہ کی جائے اور نہ اس کی حکومت میں، اور نہ ہی اس کی تکرمہ ( مسند وغیرہ ) پر اس کی اجازت کے بغیر بیٹھا جائے ۔ شعبہ کا بیان ہے: میں نے اسماعیل بن رجاء سے کہا: آدمی کا تکرمہ کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے کہا: اس کا فراش یعنی مسند وغیرہ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ، سَمِعْتُ أَوْسَ بْنَ ضَمْعَجٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ وَأَقْدَمُهُمْ قِرَاءَةً فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَكْبَرُهُمْ سِنًّا وَلاَ يُؤَمُّ الرَّجُلُ فِي بَيْتِهِ وَلاَ فِي سُلْطَانِهِ وَلاَ يُجْلَسُ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلاَّ بِإِذْنِهِ " . قَالَ شُعْبَةُ فَقُلْتُ لإِسْمَاعِيلَ مَا تَكْرِمَتُهُ قَالَ فِرَاشُهُ .
#583
Sahih
The version of this tradition narrated through a different chain by Shu’bah has the words:“A man should not lead the another man in prayer. Abu Dawud said: Yahya al-Qattan narrated from Shu’bah in a similar way, i.e. the earliest of them in recitation
اس سند سے بھی شعبہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: «ولا يؤم الرجل الرجل في سلطانه» کوئی شخص کسی کی سربراہی کی جگہ میں اس کی امامت نہ کرے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح یحییٰ قطان نے شعبہ سے «أقدمهم قرائة» ( لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو قرأت میں سب سے فائق ہو ) کی روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ فِيهِ " وَلاَ يَؤُمُّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي سُلْطَانِهِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ كَذَا قَالَ يَحْيَى الْقَطَّانُ عَنْ شُعْبَةَ " أَقْدَمُهُمْ قِرَاءَةً " .
#584
Sahih
This tradition has been transmitted through a different chain by Abu Mas’ud This version has words ; “If they are equally versed in recitation, then the one who has most knowledge of the Sunnah ; if they are equal with regard to (the knowledge of) the Sunnah, then the earliest of them to emigrate (to medina)”. He did not narrate the words; “ The earliest of them in recitation”. Abu Dawud said:Hajjaj b. Artata reported from Isma’il: Do not sit in the place of honour of anyone except with his permission
ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگ قرأت میں برابر ہوں تو وہ شخص امامت کرے جو سنت کا سب سے بڑا عالم ہو، ا گر اس میں بھی برابر ہوں تو وہ شخص امامت کرے جس نے پہلے ہجرت کی ہو ۔ اس روایت میں«فأقدمهم قرائة» کے الفاظ نہیں ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حجاج بن ارطاۃ نے اسماعیل سے روایت کیا ہے، اس میں ہے: تم کسی کے تکرمہ ( مسند وغیرہ ) پر اس کی اجازت کے بغیر نہ بیٹھو ۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ الْحَضْرَمِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ " فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً " . وَلَمْ يَقُلْ " فَأَقْدَمُهُمْ قِرَاءَةً " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ قَالَ " وَلاَ تَقْعُدْ عَلَى تَكْرِمَةِ أَحَدٍ إِلاَّ بِإِذْنِهِ " .
#585
Sahih
‘Amr b. Salamah said ; we lived at a place where the people would pass by us when they came to the prophet (ﷺ). When they returned they would again pass by us. And they used to inform us that the Messenger of Allah (ﷺ) said so –and-so. I was a boy with a good memory. From the( process) I memorized a large portion of the Qur’an. Then my father went to the Messenger of Allah(ﷺ) along with a group of his clan. He (the Prophet) taught them prayer. And he said:The one of you who knows most of the Qur’an should act as your imam. I knew the Qur’an better than most of them because I had memorized it. They, therefore, put me in front of them, and I would lead them in prayer. I wore a small yellow mantle which, when I prostrated myself, went up on me, and a woman of the clan said: Cover the back side of your leader from us. So they bought an ‘Ammani shirt for me, and I have never been so pleased about anything after embracing Islam as I was about that (shirt). I used to lead them in prayer and I was only seven or eight year old
عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم ایسے مقام پر ( آباد ) تھے جہاں سے لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے جاتے گزرتے تھے، تو جب وہ لوٹتے تو ہمارے پاس سے گزرتے اور ہمیں بتاتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ایسا فرمایا ہے، اور میں ایک اچھے حافظہ والا لڑکا تھا، اس طرح سے میں نے بہت سا قرآن یاد کر لیا تھا، چنانچہ میرے والد اپنی قوم کے کچھ لوگوں کے ساتھ وفد کی شکل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز سکھائی اور فرمایا: تم میں لوگوں کی امامت وہ کرے جو سب سے زیادہ قرآن پڑھنے والا ہو ، اور میں ان میں سب سے زیادہ قرآن پڑھنے والا تھا اس لیے کہ میں قرآن یاد کیا کرتا تھا، لہٰذا لوگوں نے مجھے آگے بڑھا دیا، چنانچہ میں ان کی امامت کرتا تھا اور میرے جسم پر ایک چھوٹی زرد رنگ کی چادر ہوتی، تو جب میں سجدہ میں جاتا تو میری شرمگاہ کھل جاتی، چنانچہ ایک عورت نے کہا: تم لوگ اپنے قاری ( امام ) کی شرمگاہ ہم سے چھپاؤ، تو لوگوں نے میرے لیے عمان کی بنی ہوئی ایک قمیص خرید دی، چنانچہ اسلام کے بعد مجھے جتنی خوشی اس سے ہوئی کسی اور چیز سے نہیں ہوئی، ان کی امامت کے وقت میں سات یا آٹھ برس کا تھا ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلِمَةَ، قَالَ كُنَّا بِحَاضِرٍ يَمُرُّ بِنَا النَّاسُ إِذَا أَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَكَانُوا إِذَا رَجَعُوا مَرُّوا بِنَا فَأَخْبَرُونَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ كَذَا وَكَذَا وَكُنْتُ غُلاَمًا حَافِظًا فَحَفِظْتُ مِنْ ذَلِكَ قُرْآنًا كَثِيرًا فَانْطَلَقَ أَبِي وَافِدًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي نَفَرٍ مِنْ قَوْمِهِ فَعَلَّمَهُمُ الصَّلاَةَ فَقَالَ " يَؤُمُّكُمْ أَقْرَؤُكُمْ " . وَكُنْتُ أَقْرَأَهُمْ لِمَا كُنْتُ أَحْفَظُ فَقَدَّمُونِي فَكُنْتُ أَؤُمُّهُمْ وَعَلَىَّ بُرْدَةٌ لِي صَغِيرَةٌ صَفْرَاءُ فَكُنْتُ إِذَا سَجَدْتُ تَكَشَّفَتْ عَنِّي فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ النِّسَاءِ وَارُوا عَنَّا عَوْرَةَ قَارِئِكُمْ . فَاشْتَرَوْا لِي قَمِيصًا عُمَانِيًّا فَمَا فَرِحْتُ بِشَىْءٍ بَعْدَ الإِسْلاَمِ فَرَحِي بِهِ فَكُنْتُ أَؤُمُّهُمْ وَأَنَا ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ أَوْ ثَمَانِ سِنِينَ .
#586
Sahih
This tradition has also been transmitted through a different chain by ‘Amr b. Salamah. This version says:“I used to lead them in prayer with a sheet of cloth on me that was patched and torn. When I prostrated myself, my buttocks were disclosed
اس سند سے بھی عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث مروی ہے، اس میں ہے میں ایک پیوند لگی ہوئی پھٹی چادر میں ان کی امامت کرتا تھا، تو جب میں سجدہ میں جاتا تو میری سرین کھل جاتی تھی۔
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلِمَةَ، بِهَذَا الْخَبَرِ قَالَ فَكُنْتُ أَؤُمُّهُمْ فِي بُرْدَةٍ مُوصَلَةٍ فِيهَا فَتْقٌ فَكُنْتُ إِذَا سَجَدْتُ خَرَجَتِ اسْتِي .
#587
Sahih
‘Amr b. Salamah reported on the authority of his father (Salamah) that they visited the Prophet (ﷺ). When they intended to return, they said:Messenger of Allah, who will lead us in prayer? He said: The one of you who knows most of the Qur’an, or memorizes most of the Qur’an, (should act as your imam). There was none in the clan who knew more of the Qur’an than I did. They, therefore, put me in front of them and I was only a boy. And I wore a mantle, Whenever I was present in the gathering of Jarm (name of his clan), I would act as their Imam, and lead them in their funeral prayer until today. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by ‘Amr b. Salamah through a different chain of transmitter. This version has: “When my clan visited the Prophet( may peace be upon him) ....” He did not report it on the authority of his father
عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کے والد سلمہ بن قیس اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ لوگ ایک وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور جب لوٹنے کا ارادہ کیا تو ان لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! ہماری امامت کون کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کو قرآن زیادہ یاد ہو ۔ راوی کو شک ہے «جمعا للقرآن» کہا، یا: «أخذا للقرآن» کہا، عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے برابر کسی کو قرآن یاد نہ تھا، تو لوگوں نے مجھ کو امامت کے لیے آگے بڑھا دیا، حالانکہ میں اس وقت لڑکا تھا، میرے جسم پر ایک چادر ہوتی تھی، اس کے بعد سے میں قبیلہ جرم کی جس مجلس میں بھی موجود رہا میں ہی ان کا امام رہا، اور آج تک میں ہی ان کے جنازوں کی نماز پڑھاتا رہا ہوں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے یزید بن ہارون نے مسعر بن حبیب جرمی سے اور مسعر نے عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ جب میری قوم کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور اس میں انہوں نے«عن أبيه» نہیں کہا ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ حَبِيبٍ الْجَرْمِيِّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَلِمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُمْ وَفَدُوا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا أَرَادُوا أَنْ يَنْصَرِفُوا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ يَؤُمُّنَا قَالَ " أَكْثَرُكُمْ جَمْعًا لِلْقُرْآنِ " . أَوْ " أَخْذًا لِلْقُرْآنِ " . قَالَ فَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ جَمَعَ مَا جَمَعْتُهُ - قَالَ - فَقَدَّمُونِي وَأَنَا غُلاَمٌ وَعَلَىَّ شَمْلَةٌ لِي فَمَا شَهِدْتُ مَجْمَعًا مِنْ جَرْمٍ إِلاَّ كُنْتُ إِمَامَهُمْ وَكُنْتُ أُصَلِّي عَلَى جَنَائِزِهِمْ إِلَى يَوْمِي هَذَا . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ مِسْعَرِ بْنِ حَبِيبٍ الْجَرْمِيِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلِمَةَ قَالَ لَمَّا وَفَدَ قَوْمِي إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَقُلْ عَنْ أَبِيهِ .
#588
Sahih
Ibn ‘Umar said:when the first emigrants came (to Madina), they stayed at al-‘Asbah (a place near Madina) before the advent of the Messenger of Allah (ﷺ). Salim, the client of Abu Hudhaifah, acted as their imam, as he knew the Qur’an better than all of them, al-Haitham(the narrator) added: and ‘Umar b. al-Khattab and Abu Salamah b. ‘Abd al-Asad were among them
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے جب مہاجرین اوّلین ( مدینہ ) آئے اور عصبہ ۱؎ میں قیام پذیر ہوئے تو ان کی امامت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سالم رضی اللہ عنہ کیا کرتے تھے، انہیں قرآن سب سے زیادہ یاد تھا۔ ہیثم نے اضافہ کیا ہے کہ ان میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور ابوسلمہ بن عبدالاسد رضی اللہ عنہ بھی موجود ہوتے۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ الْجُهَنِيُّ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الأَوَّلُونَ نَزَلُوا الْعَصْبَةَ قَبْلَ مَقْدَمِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَكَانَ يَؤُمُّهُمْ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ وَكَانَ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا . زَادَ الْهَيْثَمُ وَفِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الأَسَدِ .
#589
Sahih
Malik b. al-Huwairith said that the Prophet( may peace be upon him) told him or some of his companions:When the time of prayer comes, call the Adhan, then call the iqamah, then the one who is oldest of you should act as your imam. The version narrated by Maslamah goes : He said: On that day we were almost equal in knowledge. The version narrated by Isma’il says: Khalid said: I said to Abu Qilabah: where is the Qur’an(i.e. why did the Prophet(ﷺ) not say: The one who knows the Qur’an most should act as imam)? He replied: Both of them were equal in the knowledge of the Qur’an
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یا ان کے ایک ساتھی سے فرمایا: جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم اذان دو، پھر تکبیر کہو، پھر جو تم دونوں میں عمر میں بڑا ہو وہ امامت کرے ۔ مسلمہ کی روایت میں ہے: اور ہم دونوں علم میں قریب قریب تھے۔ اسماعیل کی روایت میں ہے: خالد کہتے ہیں کہ میں نے ابوقلابہ سے پوچھا: پھر قرآن کہاں رہا؟ انہوں نے کہا: اس میں بھی وہ دونوں قریب قریب تھے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ، - الْمَعْنَى وَاحِدٌ - عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ أَوْ لِصَاحِبٍ لَهُ " إِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَأَذِّنَا ثُمَّ أَقِيمَا ثُمَّ لْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا " . وَفِي حَدِيثِ مَسْلَمَةَ قَالَ وَكُنَّا يَوْمَئِذٍ مُتَقَارِبَيْنِ فِي الْعِلْمِ . وَقَالَ فِي حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ قَالَ خَالِدٌ قُلْتُ لأَبِي قِلاَبَةَ فَأَيْنَ الْقُرْآنُ قَالَ إِنَّهُمَا كَانَا مُتَقَارِبَيْنِ .
#590
Daif
Narrated Abdullah ibn Abbas: Let the best among you call the adhan for you, and the Qur'an-readers act as your imams
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے وہ لوگ اذان دیں جو تم میں بہتر ہوں، اور تمہاری امامت وہ لوگ کریں جو تم میں عالم و قاری ہوں ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لِيُؤَذِّنْ لَكُمْ خِيَارُكُمْ وَلْيَؤُمَّكُمْ قُرَّاؤُكُمْ " .
#591
Hasan
Narrated Umm Waraqah daughter of Nawfal: When the Prophet (ﷺ) proceeded for the Battle of Badr, I said to him: Messenger of Allah allow me to accompany you in the battle. I shall act as a nurse for patients. It is possible that Allah might bestow martyrdom upon me. He said: Stay at your home. Allah, the Almighty , will bestow martyrdom upon you. The narrator said: Hence she was called martyr. She read the Qur'an. She sought permission from the Prophet (ﷺ) to have a mu'adhdhin in her house. He, therefore, permitted her (to do so). She announced that her slave and slave-girl would be free after her death. One night they went to her and strangled her with a sheet of cloth until she died, and they ran away. Next day Umar announced among the people, "Anyone who has knowledge about them, or has seen them, should bring them (to him)." Umar (after their arrest) ordered (to crucify them) and they were crucified. This was the first crucifixion at Medina
ام ورقہ بنت عبداللہ بن نوفل انصاریہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ بدر میں جانے لگے تو میں نے آپ سے کہا: اللہ کے رسول! اپنے ساتھ مجھے بھی جہاد میں چلنے کی اجازت دیجئیے، میں آپ کے بیماروں کی خدمت کروں گی، شاید اللہ تعالیٰ مجھے بھی شہادت نصیب فرمائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے گھر میں بیٹھی رہو، اللہ تمہیں شہادت نصیب کرے گا ۔ راوی کہتے ہیں: چنانچہ انہیں شہیدہ کہا جاتا تھا، وہ کہتے ہیں: ام ورقہ رضی اللہ عنہا نے قرآن پڑھ رکھا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے گھر میں مؤذن مقرر کرنے کی اجازت چاہی، تو آپ نے انہیں اس کی اجازت دی، اپنے ایک غلام اور ایک لونڈی کو اپنے مر جانے کے بعد آزاد کر دینے کی وصیت کر دی تھی، چنانچہ وہ دونوں ( یعنی غلام اور لونڈی ) رات کو ام ورقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور انہی کی ایک چادر سے ان کا گلا گھونٹ دیا یہاں تک کہ وہ مر گئیں اور وہ دونوں بھاگ نکلے، صبح ہوئی تو عمر رضی اللہ عنہ لوگوں میں کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ ان دونوں کے متعلق جس کو بھی کچھ معلوم ہو، یا جس نے بھی ان دونوں کو دیکھا ہو وہ انہیں پکڑ کر لائے، ( چنانچہ وہ پکڑ کر لائے گئے ) تو آپ نے ان دونوں کے متعلق حکم دیا تو انہیں سولی دے دی گئی، یہی دونوں تھے جنہیں مدینہ منورہ میں سب سے پہلے سولی دی گئی۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ، قَالَ حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَلاَّدٍ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ بِنْتِ نَوْفَلٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمَّا غَزَا بَدْرًا قَالَتْ قُلْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فِي الْغَزْوِ مَعَكَ أُمَرِّضُ مَرْضَاكُمْ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَرْزُقَنِي شَهَادَةً . قَالَ " قِرِّي فِي بَيْتِكِ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَرْزُقُكِ الشَّهَادَةَ " . قَالَ فَكَانَتْ تُسَمَّى الشَّهِيدَةَ . قَالَ وَكَانَتْ قَدْ قَرَأَتِ الْقُرْآنَ فَاسْتَأْذَنَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَنْ تَتَّخِذَ فِي دَارِهَا مُؤَذِّنًا فَأَذِنَ لَهَا قَالَ وَكَانَتْ دَبَّرَتْ غُلاَمًا لَهَا وَجَارِيَةً فَقَامَا إِلَيْهَا بِاللَّيْلِ فَغَمَّاهَا بِقَطِيفَةٍ لَهَا حَتَّى مَاتَتْ وَذَهَبَا فَأَصْبَحَ عُمَرُ فَقَامَ فِي النَّاسِ فَقَالَ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْ هَذَيْنِ عِلْمٌ أَوْ مَنْ رَآهُمَا فَلْيَجِئْ بِهِمَا فَأَمَرَ بِهِمَا فَصُلِبَا فَكَانَا أَوَّلَ مَصْلُوبٍ بِالْمَدِينَةِ .
#592
Hasan
This tradition has also been narrated through a different chain of transmitters by Umm Waraqah daughter of ‘Abd Allah b. al-Harith. The first version is complete. This version goes:The Messenger of Allah(ﷺ) used to visit her at her house. He appointed a mu’adhdhin to call adhan for her; and he commanded her to lead the inmates of her house in prayer. ‘Abd al-Rahman said: I saw her mu’adhdhin who was an old man
اس سند سے بھی ام ورقہ بنت عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے، لیکن پہلی حدیث زیادہ کامل ہے، اس میں یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام ورقہ سے ملنے ان کے گھر تشریف لے جاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایک مؤذن مقرر کر دیا تھا، جو اذان دیتا تھا اور انہیں حکم دیا تھا کہ اپنے گھر والوں کی امامت کریں۔ عبدالرحمٰن کہتے ہیں: میں نے ان کے مؤذن کو دیکھا، وہ بہت بوڑھے تھے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَلاَّدٍ، عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، بِهَذَا الْحَدِيثِ وَالأَوَّلُ أَتَمُّ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَزُورُهَا فِي بَيْتِهَا وَجَعَلَ لَهَا مُؤَذِّنًا يُؤَذِّنُ لَهَا وَأَمَرَهَا أَنْ تَؤُمَّ أَهْلَ دَارِهَا . قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَأَنَا رَأَيْتُ مُؤَذِّنَهَا شَيْخًا كَبِيرًا .
#593
Daif
Narrated Abdullah ibn Umar: The Prophet (ﷺ) said: There are three types of people whose prayer is not accepted by Allah: One who goes in front of people when they do not like him; a man who comes dibaran, which means that he comes to it too late; and a man who takes into slavery an emancipated male or female slave
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: تین آدمیوں کی نماز اللہ قبول نہیں فرماتا: ایک تو وہ شخص جو لوگوں کی امامت کرے اور لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں، دوسرا وہ شخص جو نماز میں پیچھے آئے، پیچھے آنا یہ ہے کہ جماعت فوت ہو جانے یا وقت گزر جانے کے بعد آئے، اور تیسرا وہ شخص جو اپنے آزاد کئے ہوئے شخص کو دوبارہ غلام بنا لے ۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ غَانِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ عَبْدٍ الْمَعَافِرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ " ثَلاَثَةٌ لاَ يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُمْ صَلاَةً مَنْ تَقَدَّمَ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ وَرَجُلٌ أَتَى الصَّلاَةَ دِبَارًا " . وَالدِّبَارُ أَنْ يَأْتِيَهَا بَعْدَ أَنْ تَفُوتَهُ " وَرَجُلٌ اعْتَبَدَ مُحَرَّرَهُ " .
#594
Daif
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah(ﷺ) as saying:The obligatory prayer is essential behind every Muslim, pious or impious, even if he has committed a sins
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرض نماز ہر مسلمان کے پیچھے واجب ہے چاہے وہ نیک ہو یا بد اگرچہ وہ کبائر کا مرتکب ہو ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الصَّلاَةُ الْمَكْتُوبَةُ وَاجِبَةٌ خَلْفَ كُلِّ مُسْلِمٍ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ " .
#595
Hasan Sahih
Anas said that the Prophet (ﷺ) appointed Ibn Umm Maktum as substitute to lead the people in prayer, and he was blind
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین مقرر فرمایا، وہ لوگوں کی امامت کرتے تھے، حالانکہ وہ نابینا تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَنْبَرِيُّ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اسْتَخْلَفَ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ يَؤُمُّ النَّاسَ وَهُوَ أَعْمَى .
#596
Sahih
Abu ‘Atiyyah, a freed slave of us, said:Malik b. al-Huwairith came to this place of prayer of ours, and the iqamah for prayer was called. We said to him: Come forward and lead the prayer. He said to us: Put one of your own men forward to lead you in prayer. I heard the Messenger of Allah(ﷺ) say: If anyone visits people, he should not lead them in prayer, but some person of them should lead the prayer
بدیل کہتے ہیں کہ ہمارے ایک غلام ابوعطیہ نے ہم سے بیان کیا کہ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہماری اس مسجد میں آتے تھے، ( ایک بار ) نماز کے لیے تکبیر کہی گئی تو ہم نے ان سے کہا: آپ آگے بڑھئیے اور نماز پڑھائیے، انہوں نے ہم سے کہا: تم اپنے لوگوں میں سے کسی کو آگے بڑھاؤ تاکہ وہ تمہیں نماز پڑھائے، میں ابھی تم لوگوں بتاؤں گا کہ میں تمہیں نماز کیوں نہیں پڑھا رہا ہوں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جو شخص کسی قوم کی زیارت کے لیے جائے تو وہ ان کی امامت نہ کرے بلکہ انہیں لوگوں میں سے کوئی آدمی ان کی امامت کرے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ بُدَيْلٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عَطِيَّةَ، مَوْلًى مِنَّا قَالَ كَانَ مَالِكُ بْنُ حُوَيْرِثٍ يَأْتِينَا إِلَى مُصَلاَّنَا هَذَا فَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَقُلْنَا لَهُ تَقَدَّمْ فَصَلِّهْ . فَقَالَ لَنَا قَدِّمُوا رَجُلاً مِنْكُمْ يُصَلِّي بِكُمْ وَسَأُحَدِّثُكُمْ لِمَ لاَ أُصَلِّي بِكُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ زَارَ قَوْمًا فَلاَ يَؤُمَّهُمْ وَلْيَؤُمَّهُمْ رَجُلٌ مِنْهُمْ " .
#597
Sahih
Hammam said:Hudhaifah led the people in prayer in al-Mada’in standing on the shop(or a bench). Abu Mas’ud took him by his shirt, and brought him down. When he( Abu Mas’ud) finished his prayer, he said: Do you not know that they(the people) were prohibited to do so. He said: Yes, I remembered when you pulled me down
ہمام کہتے ہیں کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مدائن ( کوفہ کے پاس ایک شہر ہے ) میں ایک چبوترہ ( اونچی جگہ ) پر کھڑے ہو کر لوگوں کی امامت کی ( اور لوگ نیچے تھے ) ، ابومسعود رضی اللہ عنہ نے ان کا کرتا پکڑ کر انہیں ( نیچے ) گھسیٹ لیا، جب حذیفہ نماز سے فارغ ہوئے تو ابومسعود نے ان سے کہا: کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اس بات سے لوگوں کو منع کیا جاتا تھا، حذیفہ نے کہا: ہاں مجھے بھی اس وقت یاد آیا جب آپ نے مجھے پکڑ کر کھینچا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ أَبُو مَسْعُودٍ الرَّازِيُّ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، أَنَّ حُذَيْفَةَ أَمَّ النَّاسَ، بِالْمَدَائِنِ عَلَى دُكَّانٍ فَأَخَذَ أَبُو مَسْعُودٍ بِقَمِيصِهِ فَجَبَذَهُ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلاَتِهِ قَالَ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّهُمْ كَانُوا يُنْهَوْنَ عَنْ ذَلِكَ قَالَ بَلَى قَدْ ذَكَرْتُ حِينَ مَدَدْتَنِي .
#598
Hasan
‘Adi b. Thabit al-Ansari said; A man related to me that (once) he was in the company of ‘Ammar b. yasir in al-Mada’in (a city near Ku’fah). The IQAMAH was called for prayer:‘Ammar came forward and stood on a shop (or a beach) and prayed while the people stood on a lower place than he. Hudaifah came forward and took him by the hands and Ammar followed him till Hudaifah brought him down. When ‘Ammar finished his prayer. Hudaifah said to him: Did you not hear the Messenger of Allah (May peace be upon him) say: When a man leads the people in prayer, he must not stand in a position higher than theirs, or words to that effect? ‘Ammar replied : that is why I followed you when you took me by the hand
عدی بن ثابت انصاری کہتے ہیں کہ مجھ سے ایک شخص نے بیان کیا کہ وہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مدائن میں تھا کہ نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو عمار آگے بڑھے اور ایک چبوترے پر کھڑے ہو کر نماز پڑھانے لگے اور لوگ ان سے نیچے تھے، یہ دیکھ کر حذیفہ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور عمار بن یاسر کے دونوں ہاتھ پکڑ کر انہیں پیچھے لانے لگے، عمار بن یاسر بھی پیچھے ہٹتے گئے یہاں تک کہ حذیفہ نے انہیں نیچے اتار دیا، جب عمار اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو حذیفہ نے ان سے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے نہیں سنا کہ جب کوئی شخص کسی قوم کی امامت کرے تو ان سے اونچی جگہ پر کھڑا نہ ہو؟ عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: اسی لیے جب آپ نے میرا ہاتھ پکڑا تو میں آپ کے ساتھ پیچھے ہٹتا چلا گیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو خَالِدٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيِّ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ بِالْمَدَائِنِ فَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَتَقَدَّمَ عَمَّارٌ وَقَامَ عَلَى دُكَّانٍ يُصَلِّي وَالنَّاسُ أَسْفَلَ مِنْهُ فَتَقَدَّمَ حُذَيْفَةُ فَأَخَذَ عَلَى يَدَيْهِ فَاتَّبَعَهُ عَمَّارٌ حَتَّى أَنْزَلَهُ حُذَيْفَةُ فَلَمَّا فَرَغَ عَمَّارٌ مِنْ صَلاَتِهِ قَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِذَا أَمَّ الرَّجُلُ الْقَوْمَ فَلاَ يَقُمْ فِي مَكَانٍ أَرْفَعَ مِنْ مَقَامِهِمْ " . أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ قَالَ عَمَّارٌ لِذَلِكَ اتَّبَعْتُكَ حِينَ أَخَذْتَ عَلَى يَدَىَّ .
#599
Hasan Sahih
Jabir b. ‘Abd Allah said :Mu’adh b. Jabal would pray along with the Messenger of Allah (ﷺ)in the night prayer, then go and lead his people and lead them in the same prayer
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ عشاء کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتے پھر اپنی قوم میں آتے اور وہی نماز انہیں پڑھاتے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، كَانَ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعِشَاءَ ثُمَّ يَأْتِي قَوْمَهُ فَيُصَلِّي بِهِمْ تِلْكَ الصَّلاَةَ .
#600
Sahih
Jabir b. ‘Abd Allah said :Mu’adh b. Jabal would pray along the prophet (ﷺ), then go and lead his people in prayer
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے، پھر لوٹ کر جاتے اور اپنی قوم کی امامت کرتے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ إِنَّ مُعَاذًا كَانَ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّ قَوْمَهُ .