#5151
Sahih
‘A’ishah reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying:Gabriel kept on commending the neighbor to me so that I thought he would make him an heir
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرائیل مجھے برابر پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین اور وصیت کرتے رہے، یہاں تک کہ میں ( دل میں ) کہنے لگا کہ وہ ضرور اسے وارث بنا دیں گے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى قُلْتُ لَيُوَرِّثَنَّهُ " .
#5152
Sahih
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: Mujahid said that Abdullah ibn Amr slaughtered a sheep and said: Have you presented a gift from it to my neighbour, the Jew, for I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Gabriel kept on commending the neighbour to me so that I thought he would make an heir?
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک بکری ذبح کی تو ( گھر والوں ) سے کہا: کیا تم لوگوں نے میرے یہودی پڑوسی کو ہدیہ بھیجا ( نہ بھیجا ہو تو بھیج دو ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرماتے تھے: جبرائیل مجھے برابر پڑوسی، کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت فرماتے رہے یہاں تک کہ مجھے گمان گزرا کہ وہ اسے وارث بنا دیں گے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ بَشِيرٍ أَبِي إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ ذَبَحَ شَاةً فَقَالَ أَهْدَيْتُمْ لِجَارِي الْيَهُودِيِّ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ " .
#5153
Hasan Sahih
Abu Hurairah said :A man came to the prophet (May peace be upon him) complaining against his neighbor. He said: go and have patience. He again came to him twice or thrice. He then said : Go and throw your property in the way. So he threw his property in the way and the people began to ask him and he would tell them about him. The people then began to curse him; may Allah do with him so and so! Then his neighbor came to him and said: Return, you will not see from me anything which you dislike
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اپنے پڑوسی کی شکایت کر رہا تھا، آپ نے فرمایا: جاؤ صبر کرو پھر وہ آپ کے پاس دوسری یا تیسری دفعہ آیا، تو آپ نے فرمایا: جاؤ اپنا سامان نکال کر راستے میں ڈھیر کر دو تو اس نے اپنا سامان نکال کر راستہ میں ڈال دیا، لوگ اس سے وجہ پوچھنے لگے اور وہ پڑوسی کے متعلق لوگوں کو بتانے لگا، لوگ ( سن کر ) اس پر لعنت کرنے اور اسے بد دعا دینے لگے کہ اللہ اس کے ساتھ ایسا کرے، ایسا کرے، اس پر اس کا پڑوسی آیا اور کہنے لگا: اب آپ ( گھر میں ) واپس آ جائے آئندہ مجھ سے کوئی ایسی بات نہ دیکھیں گے جو آپ کو ناپسند ہو۔
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَشْكُو جَارَهُ فَقَالَ " اذْهَبْ فَاصْبِرْ " . فَأَتَاهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا فَقَالَ " اذْهَبْ فَاطْرَحْ مَتَاعَكَ فِي الطَّرِيقِ " . فَطَرَحَ مَتَاعَهُ فِي الطَّرِيقِ فَجَعَلَ النَّاسُ يَسْأَلُونَهُ فَيُخْبِرُهُمْ خَبَرَهُ فَجَعَلَ النَّاسُ يَلْعَنُونَهُ فَعَلَ اللَّهُ بِهِ وَفَعَلَ وَفَعَلَ فَجَاءَ إِلَيْهِ جَارُهُ فَقَالَ لَهُ ارْجِعْ لاَ تَرَى مِنِّي شَيْئًا تَكْرَهُهُ .
#5154
Sahih
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying:He who believes in Allah and in the last day should honour his guest; he who believes in Allah and in the last day should not harm his neighbor; he who believes in Allah and in the last day should speak good or keep silence
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ اور یوم آخرت ( قیامت ) پر ایمان رکھتا ہو تو اسے چاہیئے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔ اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے، اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ اچھی بات کہے یا چپ رہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلاَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلاَ يُؤْذِ جَارَهُ - وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ " .
#5155
Sahih
‘A’ishah said:I asked : apostle of Allah! I have two neighbors. With which of them should I begin? He replied: Begin with the one whose door is nearer to you. Abu Dawud said: Shu’bah said this tradition : Talhah is a man of the Quraish
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے دو پڑوسی ہیں، میں ان دونوں میں سے پہلے کس کے ساتھ احسان کروں؟ آپ نے فرمایا: ان دونوں میں سے جس کا دروازہ قریب ہو اس کے ساتھ ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ عُبَيْدٍ، حَدَّثَهُمْ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي جَارَيْنِ بِأَيِّهِمَا أَبْدَأُ قَالَ " بِأَدْنَاهُمَا بَابًا " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ شُعْبَةُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ طَلْحَةُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ .
#5156
Sahih
Narrated Ali ibn AbuTalib: The last words which the Messenger of Allah (ﷺ) spoke were: Prayer, prayer; fear Allah about those whom your right hands possess
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری بات ( انتقال کے موقع پر ) یہ تھی کہ نماز کا خیال رکھنا، نماز کا خیال رکھنا، اور جو تمہاری ملکیت میں ( غلام اور لونڈی ) ہیں ان کے معاملات میں اللہ سے ڈرتے رہنا۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ أُمِّ مُوسَى، عَنْ عَلِيٍّ، عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَالَ كَانَ آخِرُ كَلاَمِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الصَّلاَةَ الصَّلاَةَ اتَّقُوا اللَّهَ فِيمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ " .
#5157
Sahih
Ma’rur b. Suwaid said :I saw Abu Dharr at Rabadhah. He was wearing a thick cloak, and his slave also wore a similar one. He said : the people said: Abu Dharr! (it would be better) if you could take the cloak which your slave wore, and you combined that with, and it would be a pair of garments (hullah) and you would clothe him with another garment. He said: Abu Dharr said : I abused a man whose mother was a non-Arab and I reviled him for his mother. He complained against me to the apostle of allah (May peace be upon him). He said: Abu Dharr! You are a man who has a characteristic of pre-Islamic days. He said: they are your brethren; Allah has given you superiority over them; sell those who do not please you and do not punish Allah’s creatures
معرور بن سوید کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر کو ربذہ ( مدینہ کے قریب ایک گاؤں ) میں دیکھا وہ ایک موٹی چادر اوڑھے ہوئے تھے اور ان کے غلام کے بھی ( جسم پر ) اسی جیسی چادر تھی، معرور بن سوید کہتے ہیں: تو لوگوں نے کہا: ابوذر! اگر تم وہ ( چادر ) لے لیتے جو غلام کے جسم پر ہے اور اپنی چادر سے ملا لیتے تو پورا جوڑا بن جاتا اور غلام کو اس چادر کے بدلے کوئی اور کپڑا پہننے کو دے دیتے ( تو زیادہ اچھا ہوتا ) اس پر ابوذر نے کہا: میں نے ایک شخص کو گالی دی تھی، اس کی ماں عجمی تھی، میں نے اس کی ماں کے غیر عربی ہونے کا اسے طعنہ دیا، اس نے میری شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دی، تو آپ نے فرمایا: ابوذر! تم میں ابھی جاہلیت ( کی بو باقی ) ہے وہ ( غلام، لونڈی ) تمہارے بھائی بہن، ہیں ( کیونکہ سب آدم کی اولاد ہیں ) ، اللہ نے تم کو ان پر فضیلت دی ہے، ( تم کو حاکم اور ان کو محکوم بنا دیا ہے ) تو جو تمہارے موافق نہ ہو اسے بیچ دو، اور اللہ کی مخلوق کو تکلیف نہ دو ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ رَأَيْتُ أَبَا ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ غَلِيظٌ وَعَلَى غُلاَمِهِ مِثْلُهُ قَالَ فَقَالَ الْقَوْمُ يَا أَبَا ذَرٍّ لَوْ كُنْتَ أَخَذْتَ الَّذِي عَلَى غُلاَمِكَ فَجَعَلْتَهُ مَعَ هَذَا فَكَانَتْ حُلَّةً وَكَسَوْتَ غُلاَمَكَ ثَوْبًا غَيْرَهُ . قَالَ فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ إِنِّي كُنْتُ سَابَبْتُ رَجُلاً وَكَانَتْ أُمُّهُ أَعْجَمِيَّةً فَعَيَّرْتُهُ بِأُمِّهِ فَشَكَانِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّكَ امْرُؤٌ فِيكَ جَاهِلِيَّةٌ " . قَالَ " إِنَّهُمْ إِخْوَانُكُمْ فَضَّلَكُمُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ فَمَنْ لَمْ يُلاَئِمْكُمْ فَبِيعُوهُ وَلاَ تُعَذِّبُوا خَلْقَ اللَّهِ " .
#5158
Sahih
Ma’rur b. Suwaid said :We called on Abu Dharr at al-Rabadhah. He wore a cloak and his slave also wore a similar one. We said; Abu Dharr! If you took the cloak of your slave and combined it with your cloak, so that it could be a part of garments (hullah) and clothed him in another garment, (it would be better). He said; I heard the Messenger of Allah (May peace be upon him) say; They are your brethren. Allah has put them under your authority; so he who has his brother under his authority must feed him from what he eats and clothe him with what he wears, and not impose on him work which is too much for him, but if he does so, he must help him. Abu Dawud said: Ibn Numair transmitted it from al-A'mash in a similar way
معرور بن سوید کہتے ہیں کہ ہم ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس ربذہ میں آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کے جسم پر ایک چادر ہے اور ان کے غلام پر بھی اسی جیسی چادر ہے، تو ہم نے کہا: ابوذر! اگر آپ اپنے غلام کی چادر لے لیتے، تو آپ کا پورا جوڑا ہو جاتا، اور آپ اسے کوئی اور کپڑا دے دیتے۔ تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: یہ ( غلام اور لونڈی ) تمہارے بھائی ( اور بہن ) ہیں انہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارا ماتحت کیا ہے، تو جس کے ماتحت اس کا بھائی ہو تو اس کو وہی کھلائے جو خود کھائے اور وہی پہنائے جو خود پہنے، اور اسے ایسے کام کرنے کے لیے نہ کہے جسے وہ انجام نہ دے سکے، اگر اسے کسی ایسے کام کا مکلف بنائے جو اس کے بس کا نہ ہو تو خود بھی اس کام میں لگ کر اس کا ہاتھ بٹائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن نمیر نے اعمش سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ دَخَلْنَا عَلَى أَبِي ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ فَإِذَا عَلَيْهِ بُرْدٌ وَعَلَى غُلاَمِهِ مِثْلُهُ فَقُلْنَا يَا أَبَا ذَرٍّ لَوْ أَخَذْتَ بُرْدَ غُلاَمِكَ إِلَى بُرْدِكَ فَكَانَتْ حُلَّةً وَكَسَوْتَهُ ثَوْبًا غَيْرَهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِخْوَانُكُمْ جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدَيْهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ وَلْيَكْسُهُ مِمَّا يَلْبَسُ وَلاَ يُكَلِّفْهُ مَا يَغْلِبُهُ فَإِنْ كَلَّفَهُ مَا يَغْلِبُهُ فَلْيُعِنْهُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ ابْنُ نُمَيْرٍ عَنِ الأَعْمَشِ نَحْوَهُ .
#5159
Sahih
Abu Mas’ud al-Ansari said:when I was beating a servant of mine, I heard a voice behind me saying: know, Abu Mas’ud-Ibn al-Muthanna said: “twice”-that Allah has more power over you than you have over him. I turned round and saw that it was that it was the prophet (May peace be upon him). I said : Messenger of Allah! He is free for Allah’s sake. He said : If you had not done it, fire would have burned you or the fire would have touched you
ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے ایک غلام کو مار رہا تھا اتنے میں میں نے اپنے پیچھے سے ایک آواز سنی: اے ابومسعود! جان لو، اللہ تعالیٰ تم پر اس سے زیادہ قدرت و اختیار رکھتا ہے جتنا تم اس ( غلام ) پر رکھتے ہو، یہ آواز دو مرتبہ سنائی پڑی، میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ اللہ کی رضا کے لیے آزاد ہے، آپ نے فرمایا: اگر تم اسے ( آزاد ) نہ کرتے تو آگ تمہیں لپٹ جاتی یا آگ تمہیں چھو لیتی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ كُنْتُ أَضْرِبُ غُلاَمًا لِي فَسَمِعْتُ مِنْ خَلْفِي صَوْتًا " اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ " . قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى مَرَّتَيْنِ " لَلَّهُ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَيْهِ " . فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللَّهِ . قَالَ " أَمَا إِنَّكَ لَوْ لَمْ تَفْعَلْ لَلَفَعَتْكَ النَّارُ أَوْ " لَمَسَّتْكَ النَّارُ " .
#5160
Sahih
The tradition mentioned above has also been transmitted by al-A’mash in a similar way to same way to the same effect through a different chain of narrators
اس سند سے بھی اعمش سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث اسی طرح مروی ہے، اس میں یہ ہے کہ میں اپنے ایک کالے غلام کو کوڑے سے مار رہا تھا، اور انہوں نے آزاد کرنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ نَحْوَهُ قَالَ كُنْتُ أَضْرِبُ غُلاَمًا لِي أَسْوَدَ بِالسَّوْطِ وَلَمْ يَذْكُرْ أَمْرَ الْعِتْقِ .
#5161
Sahih
Narrated AbuDharr: The Prophet (ﷺ) said: Feed those of your slaves who please you from what you eat and clothe them with what you clothe yourselves, but sell those who do not please you and do not punish Allah's creatures
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے غلاموں اور لونڈیوں میں سے جو تمہارے موافق ہوں تو انہیں وہی کھلاؤ جو تم کھاتے ہو اور وہی پہناؤ جو تم پہنتے ہو، اور جو تمہارے موافق نہ ہوں، انہیں بیچ دو، اللہ کی مخلوق کو ستاؤ نہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ مُوَرِّقٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ لاَءَمَكُمْ مِنْ مَمْلُوكِيكُمْ فَأَطْعِمُوهُ مِمَّا تَأْكُلُونَ وَاكْسُوهُ مِمَّا تَكْتَسُونَ وَمَنْ لَمْ يُلاَئِمْكُمْ مِنْهُمْ فَبِيعُوهُ وَلاَ تُعَذِّبُوا خَلْقَ اللَّهِ " .
#5162
Daif
Narrated Rafi' ibn Makith: The Prophet (ﷺ) said: Treating those under one's authority will produce prosperity, but an evil nature produces evil fortune
رافع بن مکیث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (یہ ان صحابہ میں سے تھے جو صلح حدیبیہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے) وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غلام و لونڈی کے ساتھ اچھے ڈھنگ سے پیش آنا برکت ہے اور بدخلقی، نحوست ہے ۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ بَعْضِ بَنِي رَافِعِ بْنِ مَكِيثٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ مَكِيثٍ، وَكَانَ، مِمَّنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " حُسْنُ الْمَلَكَةِ نَمَاءٌ وَسُوءُ الْخُلُقِ شُؤْمٌ " .
#5163
Daif
Narrated Rafi' ibn Makith: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Treating those under one's authority well produces prosperity, but an evil nature produces evil fortune
رافع بن مکیث سے روایت ہے، اور رافع قبیلہ جہنیہ سے تعلق رکھتے تھے اور صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غلام و لونڈی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا برکت اور بدخلقی نحوست ہے ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ زُفَرَ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ رَافِعِ بْنِ مَكِيثٍ، عَنْ عَمِّهِ الْحَارِثِ بْنِ رَافِعِ بْنِ مَكِيثٍ، وَكَانَ، رَافِعٌ مِنْ جُهَيْنَةَ قَدْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " حُسْنُ الْمَلَكَةِ نَمَاءٌ وَسُوءُ الْخُلُقِ شُؤْمٌ " .
#5164
Sahih
Narrated Abdullah ibn Umar: A man came to the Prophet (ﷺ) and asked: Messenger of Allah! how often shall I forgive a servant? He gave no reply, so the man repeated what he had said, but he still kept silence. When he asked a third time, he replied: Forgive him seventy times daily
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم خادم کو کتنی بار معاف کریں، آپ ( سن کر ) چپ رہے، پھر اس نے اپنی بات دھرائی، آپ پھر خاموش رہے، تیسری بار جب اس نے اپنی بات دھرائی تو آپ نے فرمایا: ہر دن ستر بار اسے معاف کرو ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، - وَهَذَا حَدِيثُ الْهَمْدَانِيِّ وَهُوَ أَتَمُّ - قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلاَنِيُّ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ جُلَيْدٍ الْحَجْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَمْ نَعْفُو عَنِ الْخَادِمِ فَصَمَتَ ثُمَّ أَعَادَ عَلَيْهِ الْكَلاَمَ فَصَمَتَ فَلَمَّا كَانَ فِي الثَّالِثَةِ قَالَ " اعْفُوا عَنْهُ فِي كُلِّ يَوْمٍ سَبْعِينَ مَرَّةً " .
#5165
Sahih
Abu Hurairah said:Abu al-Qasim, the Prophet of Atonement (ﷺ) said to me: If anyone reviles his slave when he is innocent of what he said, he will be beaten on the Day of Resurrection. The transmitter Mu'ammal said: 'Isa narrated it to us from al-Fudial, that is, Ibn Ghazwan
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی توبہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے غلام یا لونڈی پر زنا کی تہمت لگائی اور وہ اس الزام سے بری ہے، تو قیامت کے دن اس پر حد قذف لگائی جائے گی ۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنَا ح، وَحَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ، - يَعْنِي ابْنَ غَزْوَانَ - عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الْقَاسِمِ، نَبِيُّ التَّوْبَةِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ وَهُوَ بَرِيءٌ مِمَّا قَالَ جُلِدَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَدًّا " . قَالَ مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا عِيسَى عَنِ الْفُضَيْلِ يَعْنِي ابْنَ غَزْوَانَ .
#5166
Sahih
Hilal b. Yasaf said :We were staying in the house of Suwaid b. Muqarrin. There was among us an old man who was hot-tempered. He had a slave-girl with him. He gave a slap on her face. I never saw Suwaid more angry than on that day. He said: there is no alternative for you except to free her. I was the seventh child in order of Muqarrin and we had only a female servant. The youngest of us gave a slap on her face. The prophet (May peace be upon him) commanded us to set her free
ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ ہم سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ کے گھر اترے، ہمارے ساتھ ایک تیز مزاج بوڑھا تھا اور اس کے ساتھ اس کی ایک لونڈی تھی، اس نے اس کے چہرے پر طمانچہ مارا تو میں نے سوید کو جتنا سخت غصہ ہوتے ہوئے دیکھا اتنا کبھی نہیں دیکھا تھا، انہوں نے کہا: تیرے پاس اسے آزاد کر دینے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں، تو نے ہمیں دیکھا ہے کہ ہم مقرن کے سات بیٹوں میں سے ساتویں ہیں، ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا، سب سے چھوٹے بھائی نے ( ایک بار ) اس کے منہ پر طمانچہ مار دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کے آزاد کر دینے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ، قَالَ كُنَّا نُزُولاً فِي دَارِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ وَفِينَا شَيْخٌ فِيهِ حِدَّةٌ وَمَعَهُ جَارِيَةٌ فَلَطَمَ وَجْهَهَا فَمَا رَأَيْتُ سُوَيْدًا أَشَدَّ غَضَبًا مِنْهُ ذَاكَ الْيَوْمَ قَالَ عَجَزَ عَلَيْكَ إِلاَّ حُرُّ وَجْهِهَا لَقَدْ رَأَيْتُنَا سَابِعَ سَبْعَةٍ مِنْ وَلَدِ مُقَرِّنٍ وَمَا لَنَا إِلاَّ خَادِمٌ فَلَطَمَ أَصْغَرُنَا وَجْهَهَا فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِعِتْقِهَا .
#5167
Sahih
Narrated Mu'awiyah ibn Suwayd ibn Muqarrin: I slapped a freed slave of ours. My father called him and me and said: Take retaliation on him. We, the people of Banu Muqarrin, were seven during the time of the Prophet (ﷺ),and we had only a female servant. A man of us slapped her. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Set her free. They said: We have no other servant than her. He said: She must serve them till they become well off. When they become well off, they should set her free
معاویہ بن سوید بن مقرن کہتے ہیں میں نے اپنے ایک غلام کو طمانچہ مار دیا تو ہمارے والد نے ہم دونوں کو بلایا اور اس سے کہا کہ اس سے قصاص ( بدلہ ) لو، ہم مقرن کی اولاد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سات نفر تھے اور ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا، ہم میں سے ایک نے اسے طمانچہ مار دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے آزاد کر دو لوگوں نے عرض کیا: اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی خادم نہیں ہے، آپ نے فرمایا: اچھا جب تک یہ لوگ غنی نہ ہو جائیں تم ان کی خدمت کرتے رہو، اور جب یہ لوگ غنی ہو جائیں تو وہ لوگ اسے آزاد کر دیں ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، قَالَ لَطَمْتُ مَوْلًى لَنَا فَدَعَاهُ أَبِي وَدَعَانِي فَقَالَ اقْتَصَّ مِنْهُ فَإِنَّا مَعْشَرَ بَنِي مُقَرِّنٍ كُنَّا سَبْعَةً عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَلَيْسَ لَنَا إِلاَّ خَادِمٌ . فَلَطَمَهَا رَجُلٌ مِنَّا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَعْتِقُوهَا " . قَالُوا إِنَّهُ لَيْسَ لَنَا خَادِمٌ غَيْرَهَا . قَالَ " فَلْتَخْدُمْهُمْ حَتَّى يَسْتَغْنُوا فَإِذَا اسْتَغْنَوْا فَلْيُعْتِقُوهَا " .
#5168
Sahih
Zadhan said:I came to Ibn ‘Umar when he set his slave free. He took a stick or something else from the earth and said; for me there is no reward even equivalent to this. I heard the Messenger of Allah (May peace be upon him) say: If anyone slaps or beats his slave the atonement due from him is to set him free
زاذان کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، آپ نے اپنا ایک غلام آزاد کیا تھا، آپ نے زمین سے ایک لکڑی یا کوئی ( معمولی ) چیز لی اور کہا: اس میں مجھے اس لکڑی بھر بھی ثواب نہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اپنے غلام کو تھپڑ لگائے یا اسے مارے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اس کو آزاد کر دے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، ذَكْوَانَ عَنْ زَاذَانَ، قَالَ أَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ وَقَدْ أَعْتَقَ مَمْلُوكًا لَهُ فَأَخَذَ مِنَ الأَرْضِ عُودًا أَوْ شَيْئًا فَقَالَ مَا لِي فِيهِ مِنَ الأَجْرِ مَا يَسْوَى هَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ لَطَمَ مَمْلُوكَهُ أَوْ ضَرَبَهُ فَكَفَّارَتُهُ أَنْ يُعْتِقَهُ " .
#5169
Sahih
‘Abd Allah b. ‘Umar reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying:when a slave acts sincerely towards his master and worship Allah well, he will have a double reward
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب غلام اپنے آقا کی خیر خواہی کرے اور اللہ کی عبادت اچھے ڈھنگ سے کرے تو اسے دہرا ثواب ملے گا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا نَصَحَ لِسَيِّدِهِ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ اللَّهِ فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ " .
#5170
Sahih
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: If anyone corrupts (instigates) the wife of a man or his slave (against him), he is not from us
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی کی بیوی یا غلام و لونڈی کو ( اس کے شوہر یا مالک کے خلاف ) ورغلائے تو وہ ہم میں سے نہیں ۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ خَبَّبَ زَوْجَةَ امْرِئٍ أَوْ مَمْلُوكَهُ فَلَيْسَ مِنَّا " .
#5171
Sahih
Anas b. malik said :A man peeped into some of the apartment of the prophet (May peace be upon him). The prophet (May peace be upon him) got up taking an arrowhead or arrowheads. He said: I can still picture myself looking at the Messenger of Allah (May peace be upon him) when he was exploring to pierce him
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی ایک کمرے سے جھانکا تو آپ تیر کا ایک یا کئی پھل لے کر اس کی طرف بڑھے، گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کی آپ اس کی طرف اس طرح بڑھ رہے ہیں کہ وہ جان نہ پائے تاکہ اسے گھونپ دیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلاً، اطَّلَعَ مِنْ بَعْضِ حُجَرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَامَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِشْقَصٍ أَوْ مَشَاقِصَ - قَالَ - فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْتِلُهُ لِيَطْعُنَهُ .
#5172
Sahih
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: If anyone peeps into the house of a people without their permission and he knocks out his eye, no responsibility is incurred for his eye
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو کسی قوم کے گھر میں ان کی اجازت کے بغیر جھانکے اور وہ لوگ اس کی آنکھ پھوڑ دیں تو اس کی آنکھ رائیگاں گئی ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنِ اطَّلَعَ فِي دَارِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَفَقَأُوا عَيْنَهُ فَقَدْ هَدَرَتْ عَيْنُهُ " .
#5173
Daif
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: When one has a look into the house, then there is no (need of) permission
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نگاہ اندر پہنچ گئی تو پھر اجازت کا کوئی مطلب ہی نہیں ۔
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، - يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ - عَنْ كَثِيرٍ، عَنْ وَلِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا دَخَلَ الْبَصَرُ فَلاَ إِذْنَ " .
#5174
Sahih
Narrated Huzayl: A man came. Uthman's version has: Sa'd ibn AbuWaqqas came. He stood at the door. Uthman's version has: (He stood) facing the door. The Prophet (ﷺ) said to him: Away from it, (stand) this side or that side. Asking permission is meant to escape from the look of an eye
ہزیل کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، ( عثمان کی روایت میں ہے کہ وہ سعد بن ابی وقاص تھے ) تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر اجازت طلب کرنے کے لیے رکے اور دروازے پر یا دروازے کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تمہیں اس طرح کھڑا ہونا چاہیئے یا اس طرح؟ ( یعنی دروازہ سے ہٹ کر ) کیونکہ اجازت کا مقصود نظر ہی کی اجازت ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ هُزَيْلٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ - قَالَ عُثْمَانُ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ - فَوَقَفَ عَلَى بَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَسْتَأْذِنُ فَقَامَ عَلَى الْبَابِ - قَالَ عُثْمَانُ مُسْتَقْبِلَ الْبَابِ - فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " هَكَذَا عَنْكَ أَوْ هَكَذَا فَإِنَّمَا الاِسْتِئْذَانُ مِنَ النَّظَرِ " .
#5175
Daif
A similar tradition has also been transmitted by Talhah b. Musarrif from a man from Sa’d from the prophet (May peace be upon him) through a different chain of narrators
سعد رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ سَعْدٍ، نَحْوَهُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .