#5126
Sahih Isnaad
‘Abd Allah b. al-samit told that Abu Dharr said :Messenger of Allah! A man loves some people, but he cannot do work like their work. He replied; Yes, Abu Dharr, will be with those whom you love. Abu Dharr then repeated it. The Messenger of Allah (May peace be upon him) also repeated it
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! ایک شخص ایک قوم سے محبت کرتا ہے لیکن ان جیسا عمل نہیں کر پاتا؟ آپ نے فرمایا: اے ابوذر! تو اسی کے ساتھ ہو گے جس سے تم محبت کرتے ہو تو انہوں نے کہا: میں تو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں، تو آپ نے فرمایا: تم اسی کے ساتھ ہو گے، جس سے تم محبت رکھتے ہو ابوذر نے پھر یہی کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی دہرایا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلاَ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَعْمَلَ كَعَمَلِهِمْ . قَالَ " أَنْتَ يَا أَبَا ذَرٍّ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " . قَالَ فَإِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ . قَالَ " فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " . قَالَ فَأَعَادَهَا أَبُو ذَرٍّ فَأَعَادَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#5127
Sahih
Anas b. Malik said :I never saw the Companions of the Messenger of Allah (May peace be upon him) so happy about anything as I saw them happy about this thing. A man said : Messenger of Allah! A man loves another man for the good work which he does, but he himself cannot do like it. The Messenger of Allah (May peace be upon him) said: A man will be with those whom he loves
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو کسی چیز سے اتنا خوش ہوتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا جتنا وہ اس بات سے خوش ہوئے کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! آدمی ایک آدمی سے اس کے بھلے اعمال کی وجہ سے محبت کرتا ہے اور وہ خود اس جیسا عمل نہیں کر پاتا، تو آپ نے فرمایا: آدمی اسی کے ساتھ ہو گا، جس سے اس نے محبت کی ہے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ رَأَيْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرِحُوا بِشَىْءٍ لَمْ أَرَهُمْ فَرِحُوا بِشَىْءٍ أَشَدَّ مِنْهُ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يُحِبُّ الرَّجُلَ عَلَى الْعَمَلِ مِنَ الْخَيْرِ يَعْمَلُ بِهِ وَلاَ يَعْمَلُ بِمِثْلِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ " .
#5128
Sahih
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: He who is consulted is trustworthy
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے مشورہ طلب کیا جائے اسے امانت دار ہونا چاہیئے ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ " .
#5129
Sahih
Abu Mas’ud al-Ansari said :A man came to the prophet (May peace be upon him) and said: Messenger of Allah! I have been left without a mount. So give me a mount. He replied: I have no mount to give, but go to so and so; he may perhaps give you a mount. He then went to him and he gave him a mount. He came to the Messenger of Allah (May peace be upon him) and informed him about it. Thereupon the Messenger of Allah (May peace be upon him) said: if anyone guides someone to a good (deed), he will get the reward like the reward of the one who does it
ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری سواری تھک گئی ہے مجھے کوئی سواری دے دیجئیے، آپ نے فرمایا: میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے جس پر تجھے سوار کرا سکوں لیکن تم فلاں شخص کے پاس جاؤ شاید وہ تمہیں سواری دیدے تو وہ شخص اس شخص کے پاس گیا، اس نے اسے سواری دے دی، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا: جس نے کسی بھلائی کی طرف کسی کی رہنمائی کی تو اس کو اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس کام کے کرنے والے کو ملے گا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُبْدِعَ بِي فَاحْمِلْنِي . قَالَ " لاَ أَجِدُ مَا أَحْمِلُكَ عَلَيْهِ وَلَكِنِ ائْتِ فُلاَنًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَحْمِلَكَ " . فَأَتَاهُ فَحَمَلَهُ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ " .
#5130
Daif
Narrated AbudDarda': The Prophet (ﷺ) said: Your love for a thing causes blindness and deafness
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کسی چیز سے محبت کرنا تمہیں اندھا بہرہ بنا دیتا ہے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ بِلاَلِ بْنِ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " حُبُّكَ الشَّىْءَ يُعْمِي وَيُصِمُّ " .
#5131
Sahih
Abu Musa reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying:Make intercession to me, you will be rewarded, for Allah decrees what he wishes by the tongue of his prophet
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے سفارش کرو تاکہ تم کو ( سفارش کا ) ثواب ملے، اور فیصلہ اللہ اپنے نبی کی زبان سے کرے گا جو اسے منظور ہو گا ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اشْفَعُوا إِلَىَّ لِتُؤْجَرُوا وَلْيَقْضِ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ مَا شَاءَ " .
#5132
Sahih
Narrated Mu'awiyah: Make intercession, you will be rewarded, for I purposely delay a matter so that you intercede and then you are rewarded. The Messenger of Allah (ﷺ) said: If you make intercession, you will be rewarded
معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سفارش کرو، اجر پاؤ گے، میں کسی معاملے کا فیصلہ کرنا چاہتا ہوں، تو اسے مؤخر کر دیتا ہوں، تاکہ تم سفارش کر کے اجر کے مستحق بن جاؤ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: سفارش کرو تم اجر پاؤ گے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، اشْفَعُوا تُؤْجَرُوا فَإِنِّي لأُرِيدُ الأَمْرَ فَأُؤَخِّرُهُ كَيْمَا تَشْفَعُوا فَتُؤْجَرُوا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " اشْفَعُوا تُؤْجَرُوا " .
#5133
Daif
A similar tradition has also been transmitted by Abu Musa from the prophet (May peace be upon him) through a different chain of narrators
ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ .
#5134
Daif Isnaad
Narrated al-Ala' ibn al-Hadrami: Some of the children of al-Ala' ibn al-Hadrami said: Al-Ala' ibn al-Hadrami was the governor of the Prophet (ﷺ) at al-Bahrayn, and when he wrote to him he began with his won name
علاء کے کسی بیٹے سے روایت ہے کہ علاء بن حضرمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بحرین ( علاقہ احساء ) کے گورنر تھے، وہ جب آپ کو کوئی تحریر لکھ کر بھیجتے تو اپنے نام سے شروع کرتے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، - قَالَ أَحْمَدُ قَالَ مَرَّةً يَعْنِي هُشَيْمًا - عَنْ بَعْضِ وَلَدِ الْعَلاَءِ أَنَّ الْعَلاَءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ كَانَ عَامِلَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْبَحْرَيْنِ فَكَانَ إِذَا كَتَبَ إِلَيْهِ بَدَأَ بِنَفْسِهِ .
#5135
Daif
Ibn al-Ala said :Al-Ala b. al-Hadrami wrote to the prophet (May peace be upon him), and he began with his name
علاء یعنی ابن حضرمی سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لکھا تو پہلے اپنا نام لکھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ الْعَلاَءِ، عَنِ الْعَلاَءِ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَضْرَمِيِّ - أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَبَدَأَ بِاسْمِهِ .
#5136
Sahih
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet (ﷺ) wrote a letter to Heraclius: "From Muhammad, the Messenger of Allah, to Hiraql (Heraclius), Chief of the Byzantines. Peace be to those who follow the guidance." Ibn Yahya reported on the authority of Ibn Abbas that AbuSufyan said to him: We then came to see Hiraql (Heraclius) who seated us before him. He then called for the letter from the Messenger of Allah (ﷺ). Its contents were: "In the name of Allah, the Compassionate, the Merciful, from Muhammad the Messenger of Allah, to Hiraql, chief of Byzantines. Peace be to those who follow the guidance. To proceed
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرقل کے نام خط لکھا: اللہ کے رسول محمد کی طرف سے روم کے بادشاہ ہرقل کے نام، سلام ہو اس شخص پر جو ہدایت کی پیروی کرے ۔ محمد بن یحییٰ کی روایت میں ہے، ابن عباس سے مروی ہے کہ ابوسفیان نے ان سے کہا کہ ہم ہرقل کے پاس گئے، اس نے ہمیں اپنے سامنے بٹھایا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط منگوایا تو اس میں لکھا تھا: «بسم الله الرحمن الرحيم، من محمد رسول الله إلى هرقل عظيم الروم سلام على من اتبع الهدى أما بعد»۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَتَبَ إِلَى هِرَقْلَ " مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ سَلاَمٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى " . قَالَ ابْنُ يَحْيَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ أَخْبَرَهُ قَالَ فَدَخَلْنَا عَلَى هِرَقْلَ فَأَجْلَسَنَا بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا فِيهِ " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ سَلاَمٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى أَمَّا بَعْدُ " .
#5137
Sahih
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying:A son does not repay what he owes to his father unless he buys him and emancipates him if he finds him in slavery
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹا اپنے والد کے احسانات کا بدلہ نہیں چکا سکتا سوائے اس کے کہ وہ اسے غلام پائے پھر اسے خرید کر آزاد کر دے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدَهُ إِلاَّ أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ " .
#5138
Sahih
Narrated Abdullah ibn Umar: A woman was my wife and I loved her, but Umar hated her. He said to me: Divorce her, but I refused. Umar then went to the Prophet (ﷺ) and mentioned that to him. The Prophet (ﷺ) said: Divorce her
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے نکاح میں ایک عورت تھی میں اس سے محبت کرتا تھا اور عمر رضی اللہ عنہ کو وہ ناپسند تھی، انہوں نے مجھ سے کہا کہ تم اسے طلاق دے دو، لیکن میں نے انکار کیا، تو عمر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے طلاق دے دو ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي خَالِي الْحَارِثُ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَتْ تَحْتِي امْرَأَةٌ وَكُنْتُ أُحِبُّهَا وَكَانَ عُمَرُ يَكْرَهُهَا فَقَالَ لِي طَلِّقْهَا فَأَبَيْتُ فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " طَلِّقْهَا " .
#5139
Hasan Sahih
Bahz b. Hakim on his father's authority said that his grandfather said:I said: Messenger of Allah! to whom should I show kindness? He replied: Your mother, next your mother, next your mother, and then comes your father, and then your relatives in order of relationship. The Messenger of Allah (ﷺ) said: If a man asks his slave whom he freed for giving him property which is surplus with him and he refuses to give it to him, the surplus property which he refused to give will be called on the Day of resurrection as a large bald snake. Abu Dawud said: Aqra' means a snake whose hair of the head were removed on account of poison
معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں کس کے ساتھ حسن سلوک کروں؟ آپ نے فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ، پھر اپنی ماں کے ساتھ، پھر اپنی ماں کے ساتھ، پھر اپنے باپ کے ساتھ، پھر جو قریبی رشتہ دار ہوں ان کے ساتھ، پھر جو اس کے بعد قریب ہوں ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے غلام سے وہ مال مانگے، جو اس کی حاجت سے زیادہ ہو اور وہ اسے نہ دے تو قیامت کے دن اس کا وہ فاضل مال جس کے دینے سے اس نے انکار کیا ایک گنجے سانپ کی صورت میں اس کے سامنے لایا جائے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «أقرع» سے وہ سانپ مراد ہے جس کے سر کے بال زہر کی تیزی کے سبب جھڑ گئے ہوں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَبَرُّ قَالَ " أُمَّكَ ثُمَّ أُمَّكَ ثُمَّ أُمَّكَ ثُمَّ أَبَاكَ ثُمَّ الأَقْرَبَ فَالأَقْرَبَ " . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَسْأَلُ رَجُلٌ مَوْلاَهُ مِنْ فَضْلٍ هُوَ عِنْدَهُ فَيَمْنَعُهُ إِيَّاهُ إِلاَّ دُعِيَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَضْلُهُ الَّذِي مَنَعَهُ شُجَاعًا أَقْرَعَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ الأَقْرَعُ الَّذِي ذَهَبَ شَعْرُ رَأْسِهِ مِنَ السُّمِّ .
#5140
Daif
Kulaib b. Manfa'ah said that his grandfather told then he went to the Prophet (ﷺ) and said:Messenger of Allah! to whom should I show kindness? He said: Your mother, your sister, your brother and the slave whom you set free and who is your relative, a due binding (on you), and a tie of relationship which should be joined
بکر بن حارث (کلیب کے دادا) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں کس کے ساتھ حسن سلوک کروں؟ آپ نے فرمایا: اپنی ماں، اور اپنے باپ، اور اپنی بہن اور اپنے بھائی کے ساتھ، اور ان کے بعد اپنے غلام کے ساتھ، یہ ایک واجب حق ہے، اور ایک جوڑنے والی ( رحم ) قرابت داری ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مُرَّةَ، حَدَّثَنَا كُلَيْبُ بْنُ مَنْفَعَةَ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَبَرُّ قَالَ " أُمَّكَ وَأَبَاكَ وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ وَمَوْلاَكَ الَّذِي يَلِي ذَاكَ حَقٌّ وَاجِبٌ وَرَحِمٌ مَوْصُولَةٌ " .
#5141
Sahih
‘Abd Allah b. ‘Amr (b. al-As) reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying:A man’s reviling of his parents is one of the grave sins. He was asked : Messenger of Allah! How does a man revile his parents? He replied: He reviles the father of a man who then reviles his father, and he reviles a man’s mother and he reviles his
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( بڑے گناہوں ) میں سے ایک بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنے والدین پر لعنت بھیجے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! آدمی اپنے والدین پر کیسے لعنت بھیج سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ایک شخص کسی شخص کے باپ پر لعنت بھیجتا ہے، تو وہ شخص ( جواب میں ) اس کے باپ پر لعنت بھیجتا ہے، یا ایک شخص کسی شخص کی ماں پر لعنت بھیجتا ہے تو وہ اس کے جواب میں اس کی ماں پر لعنت بھیجتا ہے ( اس طرح وہ گویا خود ہی اپنے ماں باپ پر لعنت بھیجتا ہے ) ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، وَقَالَ، أَخْبَرَنَا ح، وَحَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى، قَالاَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ أَنْ يَلْعَنَ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ " . قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ يَلْعَنُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ قَالَ " يَلْعَنُ أَبَا الرَّجُلِ فَيَلْعَنُ أَبَاهُ وَيَلْعَنُ أُمَّهُ فَيَلْعَنُ أُمَّهُ " .
#5142
Daif
Narrated AbuUsayd Malik ibn Rabi'ah as-Sa'idi: While we were with the Messenger of Allah! (ﷺ) a man of Banu Salmah came to Him and said: Messenger of Allah is there any kindness left that I can do to my parents after their death? He replied: Yes, you can invoke blessings on them, forgiveness for them, carry out their final instructions after their death, join ties of relationship which are dependent on them, and honour their friends
ابواسید مالک بن ربیعہ ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران بنو سلمہ کا ایک شخص آپ کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ کے مر جانے کے بعد بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کی کوئی صورت ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں ہے، ان کے لیے دعا اور استغفار کرنا، ان کے بعد ان کی وصیت و اقرار کو نافذ کرنا، جو رشتے انہیں کی وجہ سے جڑتے ہیں، انہیں جوڑے رکھنا، ان کے دوستوں کی خاطر مدارات کرنا ( ان حسن سلوک کی یہ مختلف صورتیں ہیں ) ۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، - الْمَعْنَى - قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عُبَيْدٍ، مَوْلَى بَنِي سَاعِدَةَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ، مَالِكِ بْنِ رَبِيعَةَ السَّاعِدِيِّ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ بَقِيَ مِنْ بِرِّ أَبَوَىَّ شَىْءٌ أَبَرُّهُمَا بِهِ بَعْدَ مَوْتِهِمَا قَالَ " نَعَمِ الصَّلاَةُ عَلَيْهِمَا وَالاِسْتِغْفَارُ لَهُمَا وَإِنْفَاذُ عَهْدِهِمَا مِنْ بَعْدِهِمَا وَصِلَةُ الرَّحِمِ الَّتِي لاَ تُوصَلُ إِلاَّ بِهِمَا وَإِكْرَامُ صَدِيقِهِمَا " .
#5143
Sahih
Ibn ‘Umar reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying:One of the finest acts of kindness is for a man to treat his father’s friends in a kindly way after he has departed
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے والد کے انتقال کے بعد ان کے دوستوں کے ساتھ صلہ رحمی کرے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ صِلَةُ الْمَرْءِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ بَعْدَ أَنْ يُوَلِّيَ " .
#5144
Daif Isnaad
Narrated AbutTufayl: I saw the Prophet (ﷺ) distributing flesh at Ji'irranah, and I was a boy in those days bearing the bone of the camel, and when a woman who came forward approach the Prophet (ﷺ), he spread out his cloak for her, and she sat on it. I asked: Who is she? The people said: She is his foster-mother
ابوالطفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جعرانہ میں گوشت تقسیم کرتے دیکھا، ان دنوں میں لڑکا تھا، اور اونٹ کی ہڈیاں ڈھو رہا تھا، کہ اتنے میں ایک عورت آئی، یہاں تک کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہو گئی، آپ نے اس کے لیے اپنی چادر بچھا دی، جس پر وہ بیٹھ گئی، ابوطفیل کہتے ہیں: میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ تو لوگوں نے کہا: یہ آپ کی رضاعی ماں ہیں، جنہوں نے آپ کو دودھ پلایا ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ بْنِ ثَوْبَانَ، أَخْبَرَنَا عُمَارَةُ بْنُ ثَوْبَانَ، أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ، أَخْبَرَهُ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْسِمُ لَحْمًا بِالْجِعِرَّانَةِ - قَالَ أَبُو الطُّفَيْلِ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ غُلاَمٌ أَحْمِلُ عَظْمَ الْجَزُورِ - إِذْ أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ حَتَّى دَنَتْ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَبَسَطَ لَهَا رِدَاءَهُ فَجَلَسَتْ عَلَيْهِ فَقُلْتُ مَنْ هِيَ فَقَالُوا هَذِهِ أُمُّهُ الَّتِي أَرْضَعَتْهُ .
#5145
Daif Isnaad
Narrated Umar ibn as-Sa'ib: One day when the Messenger of Allah (ﷺ) was sitting, his foster-father came forward. He spread out of a part of his garment and he sit on it. Then his mother came forward to him and he spread out the other side of his garment and she sat on it. Again , his foster-brother came forward. The Messenger of Allah (ﷺ) stood for him and seated him before himself
عمر بن سائب کا بیان ہے کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ ( ایک دن ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے کہ اتنے میں آپ کے رضاعی باپ آئے، آپ نے ان کے لیے اپنے کپڑے کا ایک کونہ بچھا دیا، وہ اس پر بیٹھ گئے، پھر آپ کی رضاعی ماں آئیں آپ نے ان کے لیے اپنے کپڑے کا دوسرا کنارہ بچھا دیا، وہ اس پر بیٹھ گئیں، پھر آپ کے رضاعی بھائی آئے تو آپ کھڑے ہو گئے اور انہیں اپنے سامنے بٹھایا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ السَّائِبِ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ جَالِسًا يَوْمًا فَأَقْبَلَ أَبُوهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ فَوَضَعَ لَهُ بَعْضَ ثَوْبِهِ فَقَعَدَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَقْبَلَتْ أُمُّهُ فَوَضَعَ لَهَا شِقَّ ثَوْبِهِ مِنْ جَانِبِهِ الآخَرِ فَجَلَسَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ أَقْبَلَ أَخُوهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ فَقَامَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَجْلَسَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ .
#5146
Daif
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet (ﷺ) said: If anyone has a female child, and does not bury her alive, or slight her, or prefer his children (i.e. the male ones) to her, Allah will bring him into Paradise. Uthman did not mention "male children
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس کوئی لڑکی ہو اور وہ اسے زندہ درگور نہ کرے، نہ اسے کمتر جانے، نہ لڑکے کو اس پر فوقیت دے تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا ۔ ابن عباس کہتے ہیں: «ولده» سے مراد جنس «ذکور» ہے، لیکن عثمان ( راوی ) نے «ذکور» کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، عَنِ ابْنِ حُدَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ كَانَتْ لَهُ أُنْثَى فَلَمْ يَئِدْهَا وَلَمْ يُهِنْهَا وَلَمْ يُؤْثِرْ وَلَدَهُ عَلَيْهَا - قَالَ يَعْنِي الذُّكُورَ - أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ " . وَلَمْ يَذْكُرْ عُثْمَانُ يَعْنِي الذُّكُورَ .
#5147
Daif
Narrated AbuSa'id al-Khudri: The Prophet (ﷺ) said: If anyone cares for three daughters, disciplines them, marries them, and does good to them, he will go to Paradise
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے تین بچیوں کی کفالت کی، انہیں ادب، تمیز و تہذیب سکھائی ( حسن معاشرت کی تعلیم دی ) ان کی شادیاں کر دیں، اور ان کے ساتھ حسن سلوک کیا، تو اس کے لیے جنت ہے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَالِحٍ - عَنْ سَعِيدٍ الأَعْشَى، - قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهُوَ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُكْمِلٍ الزُّهْرِيُّ - عَنْ أَيُّوبَ بْنِ بَشِيرٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ عَالَ ثَلاَثَ بَنَاتٍ فَأَدَّبَهُنَّ وَزَوَّجَهُنَّ وَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ فَلَهُ الْجَنَّةُ " .
#5148
Daif
The tradition mentioned above has also been transmitted by Suhail through a different chain of narrators to the same effect. This version has :“three sisters, or three daughter, or two daughter, or two sisters”
سہل سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ تین بہنیں ہوں، یا تین بیٹیاں، یا دو بہنیں ہوں یا دو بیٹیاں۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ بِمَعْنَاهُ قَالَ " ثَلاَثُ أَخَوَاتٍ أَوْ ثَلاَثُ بَنَاتٍ أَوْ بِنْتَانِ أَوْ أُخْتَانِ " .
#5149
Daif
Narrated Awf ibn Malik al-Ashja'i': The Prophet (ﷺ) said: I and a woman whose cheeks have become black shall on the Day of Resurrection be like these two (pointing to the middle and forefinger), i.e. a woman of rank and beauty who has been bereft of her husband and devotes herself to her fatherless children till they go their separate ways or die
عوف بن مالک اشجعی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اور بیوہ عورت جس کے چہرے کی رنگت زیب و زینت سے محرومی کے باعث بدل گئی ہو دونوں قیامت کے دن اس طرح ہوں گے ( یزید نے کلمے کی اور بیچ کی انگلی کی طرف اشارہ کیا ) عورت جو اپنے شوہر سے محروم ہو گئی ہو، منصب اور جمال والی ہو اور اپنے بچوں کی حفاظت و پرورش کی خاطر دوسری شادی نہ کرے یہاں تک کہ وہ بڑے ہو جائیں یا وفات پا جائیں ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ، قَالَ حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَنَا وَامْرَأَةٌ سَفْعَاءُ الْخَدَّيْنِ كَهَاتَيْنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . وَأَوْمَأَ يَزِيدُ بِالْوُسْطَى وَالسَّبَّابَةِ " امْرَأَةٌ آمَتْ مِنْ زَوْجِهَا ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ حَبَسَتْ نَفْسَهَا عَلَى يَتَامَاهَا حَتَّى بَانُوا أَوْ مَاتُوا " .
#5150
Sahih
Sahl (b. Sa’d) reported the prophet (May peace be upon him) as saying; I and the one who takes the responsibility of an orphan will be in Paradise thus, and he joined his middle finger and forefinger
سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا دونوں جنت میں اس طرح ( قریب قریب ) ہوں گے آپ نے بیچ کی، اور انگوٹھے سے قریب کی انگلی، کو ملا کر دکھایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ - قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ سَهْلٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ كَهَاتَيْنِ فِي الْجَنَّةِ " . وَقَرَنَ بَيْنَ أُصْبُعَيْهِ الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِي الإِبْهَامَ .