#5176
Sahih
Narrated Kaladah ibn Hanbal: Safwan ibn Umayyah sent him with some milk, a young gazelle and some small cucumbers to the Messenger of Allah (ﷺ) when he was in the upper part of Mecca. I entered but I did not give a salutation. He said: Go back and say: "Peace be upon you"! This happened after Safwan ibn Umayyah and embraced Islam. Amr said: Ibn Safwan told me all this on the authority of Kaladah ibn Hanbal, and he did not say: I heard it from him. Abu Dawud said: Yahya b. Habib said: Umayyah b. Safwan. He did not say: I heard from Kaladah b. Hanbal. Yahya also said: 'Amr b. 'Abd Allah b. Safwan told him that Kaladah b. al-Hanbal told him
کلدہ بن حنبل سے روایت ہے کہ صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ نے انہیں دودھ، ہرن کا بچہ اور چھوٹی چھوٹی ککڑیاں دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، اس وقت آپ مکہ کے اونچائی والے حصہ میں تھے، میں آپ کے پاس گیا، اور آپ کو سلام نہیں کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوٹ کر ( باہر ) جاؤ اور ( پھر سے آ کر ) السلام علیکم کہو، یہ واقعہ صفوان بن امیہ کے اسلام قبول کر لینے کے بعد کا ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، أَخْبَرَهُ عَنْ كَلَدَةَ بْنِ حَنْبَلٍ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ، بَعَثَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِلَبَنٍ وَجِدَايَةٍ وَضَغَابِيسَ - وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِأَعْلَى مَكَّةَ - فَدَخَلْتُ وَلَمْ أُسَلِّمْ فَقَالَ " ارْجِعْ فَقُلِ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ " . وَذَاكَ بَعْدَ مَا أَسْلَمَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ . قَالَ عَمْرٌو وَأَخْبَرَنِي ابْنُ صَفْوَانَ بِهَذَا أَجْمَعَ عَنْ كَلَدَةَ بْنِ حَنْبَلٍ وَلَمْ يَقُلْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ أُمَيَّةُ بْنُ صَفْوَانَ وَلَمْ يَقُلْ سَمِعْتُهُ مِنْ كَلَدَةَ بْنِ حَنْبَلٍ وَقَالَ يَحْيَى أَيْضًا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ أَخْبَرَهُ أَنَّ كَلَدَةَ بْنَ الْحَنْبَلِ أَخْبَرَهُ .
#5177
Sahih
Narrated Rib'i: A man of Banu Amir told that he asked the Prophet (ﷺ) for permission (to enter the house) when he was in the house, saying: May I enter ? The Prophet (ﷺ) said to his servant: Go out to this (man) and teach him how to ask permission to enter the house, and say to him: "Say : Peace be upon you. May I enter?" The man heard it and said: Peace be upon you! May I enter ? The Prophet (ﷺ) permitted him and he entered
ربعی کہتے ہیں کہ بنو عامر کے ایک شخص نے ہم سے بیان کیا کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی آپ گھر میں تھے تو کہا: «ألج» ( کیا میں اندر آ جاؤں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خادم سے فرمایا: تم اس شخص کے پاس جاؤ اور اسے اجازت لینے کا طریقہ سکھاؤ اور اس سے کہو السلام علیکم کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ اس آدمی نے یہ بات سن لی اور کہا: السلام علیکم کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی، اور وہ اندر آ گیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا رَجُلٌ، مِنْ بَنِي عَامِرٍ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي بَيْتٍ فَقَالَ أَلِجُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِخَادِمِهِ " اخْرُجْ إِلَى هَذَا فَعَلِّمْهُ الاِسْتِئْذَانَ فَقُلْ لَهُ قُلِ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ أَأَدْخُلُ " . فَسَمِعَهُ الرَّجُلُ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ أَأَدْخُلُ فَأَذِنَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَدَخَلَ .
#5178
Daif
Rib’i b. Hirash said I was told that a man of Banu ‘Amir asked the prophet (May peace be upon him) for permission to enter the house. He then mentioned the rest of the tradition to the same effect. Abu Dawud said:Similarly, Musaddad transmitted it to us saying that Abu 'Awanah related it to us from Mansur. He did not say: "a man of Banu 'Amir
ربعی بن حراش کہتے ہیں کہ مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ بنی عامر کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح ہم سے مسدد نے بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ہے انہوں نے منصور سے اور منصور نے ربعی سے روایت کیا ہے، انہوں نے «عن رجل من بني عامر» نہیں کہا ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، قَالَ حُدِّثْتُ أَنَّ رَجُلاً مِنْ بَنِي عَامِرٍ اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَاهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَلِكَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيٍّ وَلَمْ يَقُلْ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ .
#5179
Daif
Rib’i said that a man of Banu Amir told him that he asked permission of the prophet (May peace be upon him) to enter the house. He related the tradition to the same effect, saying :I heard it and so I said: Peace be upon you. May I enter?
بنو عامر کے ایک شخص سے روایت ہے کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی، اس میں ہے: میں نے اسے سن لیا تو میں نے کہا: السلام علیکم کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي عَامِرٍ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَاهُ . قَالَ فَسَمِعْتُهُ فَقُلْتُ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ أَأَدْخُلُ
#5180
Sahih
Abu Sa’id al-Khudri said:I was sitting in one of the meeting of the Ansar. Abu Musa came terrified. We asked him; what makes you terrified? He replied: ‘Umar sent for me; so I went to him and asked his permission three times, but he did not permit me (to enter), so I came back. He asked; what has prevented you from coming to me? I replied: I came and asked permission three times, but it was not granted to me (so I returned). The Messenger of Allah (May peace be upon him) has said: When one of you asks permission three times and it is not granted to him, he should go away. He (‘Umar’) said; establish the proof of it. So Abu Sa’id said: the youngest of the people will accompany you. So Abu Sa’id got up with him and testified
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں انصار کی مجالس میں سے ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ گھبرائے ہوئے آئے، تو ہم نے ان سے کہا: کس چیز نے آپ کو گھبراہٹ میں ڈال دیا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے عمر رضی اللہ عنہ نے بلا بھیجا تھا، میں ان کے پاس آیا، اور تین بار ان سے اندر آنے کی اجازت طلب کی، مگر مجھے اجازت نہ ملی تو میں لوٹ گیا ( دوبارہ ملاقات پر ) انہوں نے کہا: تم میرے پاس کیوں نہیں آئے؟ میں نے کہا: میں تو آپ کے پاس گیا تھا، تین بار اجازت مانگی، پھر مجھے اجازت نہ دی گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب تم میں سے کوئی تین بار اندر آنے کی اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ ملے تو وہ لوٹ جائے ( یہ سن کر ) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم اس بات کے لیے گواہ پیش کرو، اس پر ابوسعید نے کہا: ( اس کی گواہی کے لیے تو ) تمہارے ساتھ قوم کا ایک معمولی شخص ہی جا سکتا ہے، پھر ابوسعید ہی اٹھ کر ابوموسیٰ کے ساتھ گئے اور گواہی دی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ كُنْتُ جَالِسًا فِي مَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ الأَنْصَارِ فَجَاءَ أَبُو مُوسَى فَزِعًا فَقُلْنَا لَهُ مَا أَفْزَعَكَ قَالَ أَمَرَنِي عُمَرُ أَنْ آتِيَهُ فَأَتَيْتُهُ فَاسْتَأْذَنْتُ ثَلاَثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي فَرَجَعْتُ فَقَالَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَنِي قُلْتُ قَدْ جِئْتُ فَاسْتَأْذَنْتُ ثَلاَثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلاَثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ " . قَالَ لَتَأْتِيَنِّي عَلَى هَذَا بِالْبَيِّنَةِ قَالَ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ لاَ يَقُومُ مَعَكَ إِلاَّ أَصْغَرُ الْقَوْمِ . قَالَ فَقَامَ أَبُو سَعِيدٍ مَعَهُ فَشَهِدَ لَهُ .
#5181
Hasan Isnaad
Abu Musa said that he came to ‘Umar and asked permission three times saying :Abu Musa asks permission, al-Ash’ari ask permission, and ‘Abd Allah b. Qais asks permission, but it was not granted to him. So he went away and ‘umar sent for him saying: what did you return? He replied: The Messenger of Allah (May peace be upon him) said: When one of you asks permission three times and it is not granted to him, he should go away. He said: Establish the proof of it. He went, came back, and said; This is Ubayy. Ubayy said: ‘Umar, do not be an agony for the Companions of the Messenger of Allah (peace be upon him). ‘Umar said : I shall not be an agony for the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ)
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور ان سے اندر آنے کی اجازت تین مرتبہ مانگی: ابوموسیٰ اجازت کا طلب گار ہے، اشعری اجازت مانگ رہا ہے، عبداللہ بن قیس اجازت مانگ رہا ہے ۱؎ انہیں اجازت نہیں دی گئی، تو وہ لوٹ گئے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے بلانے کے لیے بھیجا ( جب وہ آئے ) تو پوچھا: لوٹ کیوں گئے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: تم میں سے ہر کوئی تین بار اجازت مانگے، اگر اسے اجازت دے دی جائے ( تو اندر چلا جائے ) اور اگر اجازت نہ ملے تو لوٹ جائے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس بات کے لیے گواہ پیش کرو، وہ گئے اور ( ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو لے کر ) واپس آئے اور کہا یہ ابی ( گواہ ) ہیں ۲؎، ابی نے کہا: اے عمر! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے لیے باعث عذاب نہ بنو تو عمر نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے لیے باعث اذیت نہیں ہو سکتا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّهُ أَتَى عُمَرَ فَاسْتَأْذَنَ ثَلاَثًا فَقَالَ يَسْتَأْذِنُ أَبُو مُوسَى يَسْتَأْذِنُ الأَشْعَرِيُّ يَسْتَأْذِنُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَرَجَعَ فَبَعَثَ إِلَيْهِ عُمَرُ مَا رَدَّكَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَسْتَأْذِنُ أَحَدُكُمْ ثَلاَثًا فَإِنْ أُذِنَ لَهُ وَإِلاَّ فَلْيَرْجِعْ " . قَالَ ائْتِنِي بِبَيِّنَةٍ عَلَى هَذَا . فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ هَذَا أُبَىٌّ فَقَالَ أُبَىٌّ يَا عُمَرُ لاَ تَكُنْ عَذَابًا عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ عُمَرُ لاَ أَكُونُ عَذَابًا عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#5182
Sahih
’Ubaid b. ‘Umair said :Abu Musa asked ‘Umar for permission to enter the house. This version has: he went with Abu sa’ld who testified to it. He said Did this practice of the Messenger of Allah (May peace be upon him) remain hidden from me? My engagement in the transaction in the market made me oblivious of it. Now give me salutation as you wish; and do not ask permission
عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے اجازت مانگی، پھر راوی نے یہی قصہ بیان کیا، اس میں ہے یہاں تک کہ ابوموسیٰ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو لے کر آئے، اور انہوں نے گواہی دی، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث مجھ سے پوشیدہ رہ گئی، بازاروں کی خرید و فروخت اور تجارت کے معاملات نے اس حدیث کی آگاہی سے مجھے غافل و محروم کر دیا، ( اب تمہارے لیے اجازت ہے ) سلام جتنی بار چاہو کرو، اندر آنے کے لیے اجازت طلب کرنے کی حاجت نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَنَّ أَبَا مُوسَى، اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ . قَالَ فِيهِ فَانْطَلَقَ بِأَبِي سَعِيدٍ فَشَهِدَ لَهُ فَقَالَ أَخَفِيَ عَلَىَّ هَذَا مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَلْهَانِي السَّفْقُ بِالأَسْوَاقِ وَلَكِنْ سَلِّمْ مَا شِئْتَ وَلاَ تَسْتَأْذِنْ .
#5183
Sahih Isnaad
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Musa in a similar way through a different chain of narrators. This version has:‘Umar said to Abu Musa : I do not blame you, but the matter of transmitting a tradition from the Messenger of Allah (May peace be upon him) is serious
اس سند سے بھی ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے یہی قصہ مروی ہے، اس میں ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ابوموسیٰ سے کہا: میں تم پر ( جھوٹی حدیث بیان کرنے کا ) اتہام نہیں لگاتا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرنے کا معاملہ سخت ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ لأَبِي مُوسَى إِنِّي لَمْ أَتَّهِمْكَ وَلَكِنَّ الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَدِيدٌ .
#5184
Sahih Isnaad
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Musa through a different chain of narrators in a similar manner. This version has :‘Umar said to Abd Musa: I do not blame you, but I am afraid that the people may talk carelessly about the Messenger of Allah (May peace be upon him)
ربیعہ بن ابوعبدالرحمٰن اور دوسرے بہت سے علماء سے اس سلسلہ میں مروی ہے عمر رضی اللہ عنہ نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے تمہیں جھوٹا نہیں سمجھا لیکن میں ڈرا کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کر کے جھوٹی حدیثیں نہ بیان کرنے لگیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ غَيْرِ، وَاحِدٍ، مِنْ عُلَمَائِهِمْ فِي هَذَا فَقَالَ عُمَرُ لأَبِي مُوسَى أَمَا إِنِّي لَمْ أَتَّهِمْكَ وَلَكِنْ خَشِيتُ أَنْ يَتَقَوَّلَ النَّاسُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#5185
Daif Isnaad
Narrated Qays ibn Sa'd: The Messenger of Allah (ﷺ) came to visit us in our house, and said: Peace and Allah's mercy be upon you! Sa'd returned the greeting in a lower tone. Qays said: I said: Do you not grant permission to the Messenger of Allah (ﷺ) to enter? He said: Leave him, he will give us many greetings. The Messenger of Allah (ﷺ) then said: Peace and Allah's mercy be upon you! Sa'd again responded in a lower tone. The Messenger of Allah (ﷺ) again said: Peace and Allah's mercy be upon you! So the Messenger of Allah (ﷺ) went away. Sa'd went after him and said: Messenger of Allah! I heard your greetings and responded in a lower tone so that you might give us many greetings. The Messenger of Allah (ﷺ) returned with him. Sa'd then offered to prepare bath-water for him, and he took a bath. He then gave him a long wrapper dyed with saffron or wars and he wrapped himself in it. The Messenger of Allah (ﷺ) then raised his hands and said: O Allah, bestow Thy blessings and mercy on the family of Sa'd ibn Ubadah! The Messenger of Allah (ﷺ) then shared their meals. When he intended to return, Sa'd brought near him an ass which was covered with a blanket. The Messenger of Allah (ﷺ) mounted it. Sa'd said: O Qays, accompany the Messenger of Allah. Qays said: The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: Ride. But I refused. He again said: Either ride or go away. He said: So I went away. Hisham said: AbuMarwan (transmitted) from Muhammad ibn AbdurRahman ibn As'ad ibn Zurarah. Abu Dawud said: 'Umar b. 'Abd al-Wahid and Ibn Sama'ah transmitted it from al-Awzai' in mursal form (the ling of the Companion being missing), and they did not mention Qais b. Sa'd
قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر ملاقات کے لیے تشریف لائے ( باہر رک کر ) السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا، سعد رضی اللہ عنہ نے دھیرے سے سلام کا جواب دیا، قیس کہتے ہیں: میں نے ( سعد سے ) کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اندر تشریف لانے کی اجازت کیوں نہیں دیتے؟ سعد نے کہا چھوڑو ( جلدی نہ کرو ) ہمارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلامتی کی دعا زیادہ کر لینے دو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا، سعد نے پھر دھیرے سے سلام کا جواب دیا، پھر تیسری بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ ( اور جواب نہ سن کر ) لوٹ پڑے، تو سعد نے لپک کر آپ کا پیچھا کیا اور آپ کو پا لیا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم آپ کا سلام سنتے تھے، اور دھیرے سے آپ کے سلام کا جواب دیتے تھے، خواہش یہ تھی کہ اس طرح آپ کی سلامتی کی دعا ہمیں زیادہ حاصل ہو جائے تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سعد کے ساتھ لوٹ آئے، اور اپنے گھر والوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے لیے ( پانی وغیرہ کی فراہمی و تیاری ) کا حکم دیا، تو آپ نے غسل فرمایا، پھر سعد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زعفران یا ورس میں رنگی ہوئی ایک چادر دی جسے آپ نے لپیٹ لیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، آپ دعا فرما رہے تھے: اے اللہ! سعد بن عبادہ کی اولاد پر اپنی برکت و رحمت نازل فرما پھر آپ نے کھانا کھایا، اور جب آپ نے واپسی کا ارادہ کیا تو سعد نے ایک گدھا پیش کیا جس پر چادر ڈال دی گئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہو گئے، تو سعد نے کہا: اے قیس! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا، قیس کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم بھی سوار ہو جاؤ تو میں نے انکار کیا، آپ نے فرمایا: سوار ہو جاؤ ورنہ واپس جاؤ ۔ قیس کہتے ہیں: میں لوٹ آیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عمر بن عبدالواحد اور ابن سماعۃ نے اوزاعی سے مرسلاً روایت کیا ہے اور ان دونوں نے اس میں قیس بن سعد کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حَدَّثَنَا هِشَامٌ أَبُو مَرْوَانَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، - الْمَعْنَى - قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ، يَقُولُ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ زَارَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَنْزِلِنَا فَقَالَ " السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ " . فَرَدَّ سَعْدٌ رَدًّا خَفِيًّا . قَالَ قَيْسٌ فَقُلْتُ أَلاَ تَأْذَنُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ ذَرْهُ يُكْثِرْ عَلَيْنَا مِنَ السَّلاَمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ " . فَرَدَّ سَعْدٌ رَدًّا خَفِيًّا ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ " . ثُمَّ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاتَّبَعَهُ سَعْدٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ أَسْمَعُ تَسْلِيمَكَ وَأَرُدُّ عَلَيْكَ رَدًّا خَفِيًّا لِتُكْثِرَ عَلَيْنَا مِنَ السَّلاَمِ . قَالَ فَانْصَرَفَ مَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ لَهُ سَعْدٌ بِغِسْلٍ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ نَاوَلَهُ مِلْحَفَةً مَصْبُوغَةً بِزَعْفَرَانٍ أَوْ وَرْسٍ فَاشْتَمَلَ بِهَا ثُمَّ رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ " اللَّهُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَرَحْمَتَكَ عَلَى آلِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ " . قَالَ ثُمَّ أَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الطَّعَامِ فَلَمَّا أَرَادَ الاِنْصِرَافَ قَرَّبَ لَهُ سَعْدٌ حِمَارًا قَدْ وَطَّأَ عَلَيْهِ بِقَطِيفَةٍ فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ سَعْدٌ يَا قَيْسُ اصْحَبْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ قَيْسٌ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ارْكَبْ " . فَأَبَيْتُ ثُمَّ قَالَ " إِمَّا أَنْ تَرْكَبَ وَإِمَّا أَنْ تَنْصَرِفَ " . قَالَ فَانْصَرَفْتُ . قَالَ هِشَامٌ أَبُو مَرْوَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ وَابْنُ سَمَاعَةَ عَنِ الأَوْزَاعِيِّ مُرْسَلاً وَلَمْ يَذْكُرَا قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ .
#5186
Sahih
Narrated Abdullah ibn Busr: When the Messenger of Allah (ﷺ) came to some people's door, he did not face it squarely, but faced the right or left corner, and said: Peace be upon you! peace be upon you! That was because there were no curtains on the doors of the house at that time
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے دروازے پر آتے تو دروازہ کے سامنے منہ کر کے نہ کھڑے ہوتے بلکہ دروازے کے چوکھٹ کے دائیں یا بائیں جانب کھڑے ہوتے، اور کہتے: السلام علیکم، السلام علیکم یہ ان دنوں کی بات ہے جب گھروں میں دروازوں پر پردے نہیں تھے۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، - فِي آخَرِينَ - قَالُوا حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَتَى بَابَ قَوْمٍ لَمْ يَسْتَقْبِلِ الْبَابَ مِنْ تِلْقَاءِ وَجْهِهِ وَلَكِنْ مِنْ رُكْنِهِ الأَيْمَنِ أَوِ الأَيْسَرِ وَيَقُولُ " السَّلاَمُ عَلَيْكُمُ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ " . وَذَلِكَ أَنَّ الدُّورَ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا يَوْمَئِذٍ سُتُورٌ .
#5187
Sahih
Jabir said that he went to the prophet (ﷺ) about the debt of my father. He said :I knocked at the door. He asked : who is there? I replied: it is I. he said: I, as though he disapproved of it
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے والد کے قرضے کے سلسلے میں گفتگو کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، تو میں نے دروازہ کھٹکھٹایا، آپ نے پوچھا: کون ہے؟ میں نے کہا: میں ہوں آپ نے فرمایا: میں، میں ( کیا؟ ) گویا کہ آپ نے ( اس طرح غیر واضح جواب دینے ) کو برا جانا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي دَيْنِ أَبِيهِ فَدَقَقْتُ الْبَابَ فَقَالَ " مَنْ هَذَا " . قُلْتُ أَنَا . قَالَ " أَنَا أَنَا " . كَأَنَّهُ كَرِهَهُ .
#5188
Hasan Isnaad
Narrated Nafi' ibn AbdulHarith: I went out with the (Messenger of Allah (ﷺ) until I entered a garden, he said: Keep on closing the door. The door was then closed. I then said: Who is there ? He then narrated the rest of the tradition. Abu Dawud said: That is to say, the tradition of Abu Musa al-Ash'ari. In this version he said: "He then knocked at the door
نافع بن عبدالحارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ ایک ( باغ کی ) چہار دیواری میں داخل ہوا، آپ نے مجھ سے فرمایا: دروازہ بند کئے رہنا پھر کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا، میں نے پوچھا: کون ہے؟ اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یعنی ابوموسیٰ اشعری کی حدیث بیان کی ۱؎ اس میں «ضرب الباب» کے بجائے «فدق الباب» کے الفاظ ہیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، - يَعْنِي الْمَقَابِرِيَّ - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ، قَالَ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى دَخَلْتُ حَائِطًا فَقَالَ لِي " أَمْسِكِ الْبَابَ " . فَضُرِبَ الْبَابُ فَقُلْتُ " مَنْ هَذَا " . وَسَاقَ الْحَدِيثَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي حَدِيثَ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيَّ قَالَ فِيهِ فَدَقَّ الْبَابَ .
#5189
Sahih
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: A man's messenger sent to another indicates his permission to enter
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کو بلا بھیجنا، ہی اس کی جانب سے اس کے لیے اجازت ہے ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حَبِيبٍ، وَهِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " رَسُولُ الرَّجُلِ إِلَى الرَّجُلِ إِذْنُهُ " .
#5190
Sahih
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: When one of you is invited to take meals and comes along with the messenger, that serves as permission for him to enter. Abu 'Ali al-Lu'lu said: I heard Abu Dawud say: Qatadah did not hear anything from Abu Rafi
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی کھانے کے لیے بلایا جائے اور وہ بلانے والا آنے والے کے ساتھ ہی آ جائے تو یہ اس کے لیے اجازت ہے ( پھر اسے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ) ۔ ابوعلی لؤلؤی کہتے ہیں: میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا: کہ قتادہ نے ابورافع سے کچھ نہیں سنا ہے۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ فَجَاءَ مَعَ الرَّسُولِ فَإِنَّ ذَلِكَ لَهُ إِذْنٌ " . قَالَ أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ سَمِعْتُ أَبَا دَاوُدَ يَقُولُ قَتَادَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي رَافِعٍ شَيْئًا .
#5191
Sahih Isnaad Mauquf
Ibn ‘Abbas said :Most of the people did not act upon the verse about asking permission to enter the house. I have commanded this slave-girl of mine to ask my permission to enter. Abu Dawud said: 'Ata also transmitted it from Ibn 'Abbas in a similar way. He commanded to act upon this
عبیداللہ بن ابی یزید کہتے ہیں کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ آیت استیذان پر اکثر لوگوں نے عمل نہیں کیا، لیکن میں نے تو اپنی لونڈی کو بھی حکم دے رکھا ہے کہ اسے بھی میرے پاس آنا ہو تو مجھ سے اجازت طلب کرے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ وہ اس کا ( استیذان کا ) حکم دیتے تھے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، قَالَ حَدَّثَنَا ح، وَحَدَّثَنَا ابْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، وَابْنُ، عَبْدَةَ - وَهَذَا حَدِيثُهُ - قَالاَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ لَمْ يُؤْمَرْ بِهَا أَكْثَرُ النَّاسِ آيَةُ الإِذْنِ وَإِنِّي لآمُرُ جَارِيَتِي هَذِهِ تَسْتَأْذِنُ عَلَىَّ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَأْمُرُ بِهِ .
#5192
Hasan Isnaad
Narrated Abdullah Ibn Abbas: Ikrimah said: A group of people from Iraq said: Ibn Abbas, what is your opinion about the verse in which we have been commanded whatever we have been commanded, but no one acts upon it? The word of Allah, Most High, reads: "O ye who believe! Let those whom your right hands possess, and the (children) among you, who have not come of age, ask your permission (before) they enter your presence on three occasions: before morning prayer, while you are undressing for the noonday heat, and after late-night prayer. These are your three times of undress; outside those times it is not wrong for you or for them to move about." Al-Qa'nabi recited the verse up to "full of knowledge and wisdom". Ibn Abbas said: Allah is Most Clement and Most Merciful to the believers. He loves concealment. The people had neither curtains nor curtained canopies in their houses. Sometimes a servant, a child or a female orphan of a man entered while the man was having sexual intercourse with his wife. So Allah commanded them to ask permission in those times of undress. Then Allah brought them curtains and all good things. But I did not see anyone following it after that. Abu Dawud said: The tradition of 'Ubaid Allah and of 'Ata, weakens this tradition
عکرمہ سے روایت ہے کہ عراق کے کچھ لوگوں نے کہا: ابن عباس! اس آیت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جس میں ہمیں حکم دیا گیا جو حکم دیا گیا لیکن اس پر کسی نے عمل نہیں کیا، یعنی اللہ تعالیٰ کے قول «يا أيها الذين آمنوا ليستأذنكم الذين ملكت أيمانكم والذين لم يبلغوا الحلم منكم ثلاث مرات من قبل صلاة الفجر وحين تضعون ثيابكم من الظهيرة ومن بعد صلاة العشاء ثلاث عورات لكم ليس عليكم ولا عليهم جناح بعدهن طوافون عليكم» اے ایمان والو! تمہارے غلاموں اور لونڈیوں کو اور تمہارے سیانے لیکن نابالغ بچوں کو تین اوقات میں تمہارے پاس اجازت لے کر ہی آنا چاہیئے نماز فجر سے پہلے، دوپہر کے وقت جب تم کپڑے اتار کر آرام کے لیے لیٹتے ہو، بعد نماز عشاء یہ تینوں وقت پردہ پوشی کے ہیں ان تینوں اوقات کے علاوہ اوقات میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ تم ان کے پاس جاؤ، اور وہ تمہارے پاس آئیں۔ ( النور: ۵۸ ) قعنبی نے آیت «عليم حكيم» تک پڑھی۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ تعالیٰ حلیم ( بردبار ) ہے اور مسلمانوں پر رحیم ( مہربان ) ہے، وہ پردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے، ( یہ آیت جب نازل ہوئی ہے تو ) لوگوں کے گھروں پر نہ پردے تھے، اور نہ ہی چلمن ( سرکیاں ) ، کبھی کبھی ایسا ہوتا کہ کوئی خدمت گار کوئی لڑکا یا کوئی یتیم بچی ایسے وقت میں آ جاتی جب آدمی اپنی بیوی سے صحبت کرتا ہوتا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے پردے کے ان اوقات میں اجازت لینے کا حکم دیا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے پردے دیے اور خیر ( مال ) سے نوازا، اس وقت سے میں نے کسی کو اس آیت پر عمل کرتے نہیں دیکھا ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبیداللہ اور عطاء کی حدیث ( جن کا ذکر اس سے پہلے آ چکا ہے ) اس حدیث کی تضعیف کرتی ہے۔ ۳؎ یعنی یہ حدیث ان دونوں احادیث کی ضد ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ نَفَرًا، مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ قَالُوا يَا ابْنَ عَبَّاسٍ كَيْفَ تَرَى فِي هَذِهِ الآيَةِ الَّتِي أُمِرْنَا فِيهَا بِمَا أُمِرْنَا وَلاَ يَعْمَلُ بِهَا أَحَدٌ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِيَسْتَأْذِنْكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ وَالَّذِينَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ مِنْ قَبْلِ صَلاَةِ الْفَجْرِ وَحِينَ تَضَعُونَ ثِيَابَكُمْ مِنَ الظَّهِيرَةِ وَمِنْ بَعْدِ صَلاَةِ الْعِشَاءِ ثَلاَثُ عَوْرَاتٍ لَكُمْ لَيْسَ عَلَيْكُمْ وَلاَ عَلَيْهِمْ جُنَاحٌ بَعْدَهُنَّ طَوَّافُونَ عَلَيْكُمْ } قَرَأَ الْقَعْنَبِيُّ إِلَى { عَلِيمٌ حَكِيمٌ } قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ اللَّهَ حَلِيمٌ رَحِيمٌ بِالْمُؤْمِنِينَ يُحِبُّ السَّتْرَ وَكَانَ النَّاسُ لَيْسَ لِبُيُوتِهِمْ سُتُورٌ وَلاَ حِجَالٌ فَرُبَّمَا دَخَلَ الْخَادِمُ أَوِ الْوَلَدُ أَوْ يَتِيمَةُ الرَّجُلِ وَالرَّجُلُ عَلَى أَهْلِهِ فَأَمَرَهُمُ اللَّهُ بِالاِسْتِئْذَانِ فِي تِلْكَ الْعَوْرَاتِ فَجَاءَهُمُ اللَّهُ بِالسُّتُورِ وَالْخَيْرِ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا يَعْمَلُ بِذَلِكَ بَعْدُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ حَدِيثُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَعَطَاءٍ يُفْسِدُ هَذَا .
#5193
Sahih
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying:By him in whose hand my soul is, you will not enter Paradise until you believe, and you will not believe until you love one another: should I not guide you to something doing which you will love one another: spread out salutation among you
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے: تم جنت میں نہ جاؤ گے جب تک کہ ایمان نہ لے آؤ، اور تم ( کامل ) مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ رکھنے لگو۔ کیا میں تمہیں ایسا کام نہ بتاؤں کہ جب تم اسے کرنے لگو گے تو تم آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو: آپس میں سلام کو عام کرو ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا وَلاَ تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا أَفَلاَ أَدُلُّكُمْ عَلَى أَمْرٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ أَفْشُوا السَّلاَمَ بَيْنَكُمْ " .
#5194
Sahih
‘Abd Allah b. ‘Amr said :A man asked the Messenger of Allah (May peace be upon him): When aspect of Islam is best? He replied: that you should provide food and greet both those you know and those you do not know
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اسلام کا کون سا طریقہ بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: کھانا کھلانا اور ہر ایک کو سلام کرنا، تم چاہے اسے پہچانتے ہو یا نہ پہچانتے ہو ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَىُّ الإِسْلاَمِ خَيْرٌ قَالَ " تُطْعِمُ الطَّعَامَ وَتَقْرَأُ السَّلاَمَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ " .
#5195
Sahih
Narrated Imran ibn Husayn: A man came to the Prophet (ﷺ) and said: Peace be upon you! He responded to his salutation. He then sat down. The Prophet (ﷺ) said: Ten. Another man came and said: Peace and Allah's mercy be upon you! He responded to his salutation when he sat down. He said: Twenty. Another man came and said: Peace and Allah's mercy and blessings be upon you! He responded to him and said when he sat down: and blessings be upon you! He responded to him and said when he sat down: Thirty
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے السلام علیکم کہا، آپ نے اسے سلام کا جواب دیا، پھر وہ بیٹھ گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو دس نیکیاں ملیں پھر ایک اور شخص آیا، اس نے السلام علیکم ورحمتہ اﷲ کہا، آپ نے اسے جواب دیا، پھر وہ شخص بھی بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: اس کو بیس نیکیاں ملیں پھر ایک اور شخص آیا اس نے السلام علیکم ورحمتہ اﷲ وبرکاتہ کہا، آپ نے اسے بھی جواب دیا، پھر وہ بھی بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: اسے تیس نیکیاں ملیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ . فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلاَمَ ثُمَّ جَلَسَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " عَشْرٌ " . ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ . فَرَدَّ عَلَيْهِ فَجَلَسَ فَقَالَ " عِشْرُونَ " . ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ . فَرَدَّ عَلَيْهِ فَجَلَسَ فَقَالَ " ثَلاَثُونَ " .
#5196
Daif Isnaad
Narrated Mu'adh ibn Anas: (This version is same as previous No 5176 from the Prophet (ﷺ), adding that): Afterwards another man came and said: Peace and Allah's mercy, blessings and forgiveness be upon you! whereupon he said: Forty. adding: Thus are excellent qualities rewarded
معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے لیکن اس میں اتنا مزید ہے کہ پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے کہا السلام علیکم ورحمتہ اﷲ وبرکاتہ ومغفرتہ تو آپ نے فرمایا: اسے چالیس نیکیاں ملیں گی، اور اسی طرح ( اور کلمات کے اضافے پر ) نیکیاں بڑھتی جائیں گی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ أَظُنُّ أَنِّي سَمِعْتُ نَافِعَ بْنَ يَزِيدَ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو مَرْحُومٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَاهُ زَادَ ثُمَّ أَتَى آخَرُ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ وَمَغْفِرَتُهُ فَقَالَ " أَرْبَعُونَ " . قَالَ " هَكَذَا تَكُونُ الْفَضَائِلُ " .
#5197
Sahih
Narrated AbuUmamah: The Prophet (ﷺ) said: Those who are nearest to Allah are they who are first to give a salutation
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نزدیک سب سے بہتر شخص وہ ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ الذُّهْلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ، وَهْبٍ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ الْحِمْصِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِاللَّهِ مَنْ بَدَأَهُمْ بِالسَّلاَمِ " .
#5198
Sahih
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying :The young should salute the old, the one who is passing by should salute the one who is sitting, and a small company should salute a large one
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھوٹا بڑے کو سلام کرے گا، چلنے والا بیٹھے ہوئے کو، اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يُسَلِّمُ الصَّغِيرُ عَلَى الْكَبِيرِ وَالْمَارُّ عَلَى الْقَاعِدِ وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ " .
#5199
Sahih
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying:one who is riding should salute one who is walking. He then mentioned the rest of the tradition
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوار پیدل چلنے والے کو سلام کرے گا پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، أَخْبَرَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا زِيَادٌ، أَنَّ ثَابِتًا، مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي " . ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ .
#5200
Sahih Muquf
Narrated AbuHurayrah: When one of you meets his brother, he should salute him, then if he meets him again after a tree, wall or stone has come between them, he should also salute him. Mu'awiyah said: 'Abd al-Wahhab b. Bakht transmitted a similar tradition to me from Abu al-Zinad, from al-A'raj, from Abu Hurairah, from the Messenger of Allah (ﷺ)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے ملے تو اسے سلام کرے، پھر اگر ان دونوں کے درمیان درخت، دیوار یا پتھر حائل ہو جائے اور وہ اس سے ملے ( ان کا آمنا سامنا ہو ) تو وہ پھر اسے سلام کرے۔ معاویہ کہتے ہیں: مجھ سے عبدالوہاب بن بخت نے بیان کیا ہے انہوں نے ابوالزناد سے، ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو بہو اسی کے مثل روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ إِذَا لَقِيَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ فَإِنْ حَالَتْ بَيْنَهُمَا شَجَرَةٌ أَوْ جِدَارٌ أَوْ حَجَرٌ ثُمَّ لَقِيَهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ أَيْضًا . قَالَ مُعَاوِيَةُ وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ بُخْتٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ سَوَاءً .