#5001
Daif Isnaad Maqtu
‘Uthman b. Abu 'Atikah said :The only reason why he asked whether the whole of him should come in was because of the smallness of the tent
عثمان بن ابی العاتکہ کہتے ہیں کہ انہوں نے جو یہ پوچھا کہ کیا پورے طور پر اندر آ جاؤں تو اس وجہ سے کہ خیمہ چھوٹا تھا۔
حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِكَةِ، قَالَ إِنَّمَا قَالَ أَدْخُلُ كُلِّي . مِنْ صِغَرِ الْقُبَّةِ .
#5002
Sahih
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet (ﷺ) addressed me as: O you with the two ears
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے دو کانوں والے! ۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا ذَا الأُذُنَيْنِ " .
#5003
Hasan
Narrated Abdullah ibn as-Sa'ib ibn Yazid: The Messenger of Allah (ﷺ) said: None of you should take the property of his brother in amusement (i.e. jest), nor in earnest. The narrator Sulayman said: Out of amusement and out of earnest. If anyone takes the staff of his brother, he should return it. The transmitter Ibn Bashshar did not say "Ibn Yazid, and he said: The Messenger of Allah (ﷺ) said
یزید بن سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: تم میں سے کوئی اپنے بھائی کا سامان ( بلا اجازت ) نہ لے نہ ہنسی میں اور نہ ہی حقیقت میں ۱؎ ۔ سلیمان کی روایت میں ( «لاعبا ولا جادا » کے بجائے ) «لعبا ولا جدا» ہے، اور جو کوئی اپنے بھائی کی لاٹھی لے تو چاہیئے کہ ( ضرورت پوری کر کے ) اسے لوٹا دے۔ ابن بشار نے صرف عبداللہ بن سائب کہا ہے ابن یزید کا اضافہ نہیں کیا ہے اور ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا، کہنے کے بجائے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، ح وَحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ يَأْخُذَنَّ أَحَدُكُمْ مَتَاعَ أَخِيهِ لاَعِبًا وَلاَ جَادًّا " . وَقَالَ سُلَيْمَانُ " لَعِبًا وَلاَ جِدًّا " . " وَمَنْ أَخَذَ عَصَا أَخِيهِ فَلْيَرُدَّهَا " . لَمْ يَقُلِ ابْنُ بَشَّارٍ ابْنِ يَزِيدَ وَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#5004
Sahih
Narrated AbdurRahman ibn AbuLayla: The Companions of the Prophet (ﷺ) told us that they were travelling with the Prophet (ﷺ). A man of them slept, and one of them went to the rope which he had with him. He took it, by which he was frightened. The Prophet (ﷺ) said: It is not lawful for a Muslim that he frightens a Muslim
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ ہم سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بیان کیا کہ وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے، ان میں سے ایک صاحب سو گئے، کچھ لوگ اس رسی کے پاس گئے، جو اس کے پاس تھی اور اسے لے لیا تو وہ ڈر گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کے لیے درست نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو ڈرائے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا أَصْحَابُ، مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُمْ كَانُوا يَسِيرُونَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَنَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَانْطَلَقَ بَعْضُهُمْ إِلَى حَبْلٍ مَعَهُ فَأَخَذَهُ فَفَزِعَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُرَوِّعَ مُسْلِمًا " .
#5005
Sahih
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Allah , the Exalted, hates the eloquent one among men who moves his tongue round (among his teeth), as cattle do
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ دشمنی رکھتا ہے تڑتڑ بولنے والے ایسے لوگوں سے جو اپنی زبان کو ایسے پھراتے ہیں جیسے گائے ( گھاس کھانے میں ) چپڑ چپڑ کرتی ہے، یعنی بے سوچے سمجھے جو جی میں آتا ہے بکے جاتا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْبَاهِلِيُّ، - وَكَانَ يَنْزِلُ الْعَوَقَةَ - حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، - قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبْغِضُ الْبَلِيغَ مِنَ الرِّجَالِ الَّذِي يَتَخَلَّلُ بِلِسَانِهِ تَخَلُّلَ الْبَاقِرَةِ بِلِسَانِهَا " .
#5006
Daif
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: On the Day of resurrection Allah will not accept repentance or ransom from him who learns excellence of speech to captivate thereby the hearts of men, or of people
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی باتوں کو گھمانا اس لیے سیکھے کہ اس سے آدمیوں یا لوگوں کے دلوں کو حق بات سے پھیر کر اپنی طرف مائل کر لے، تو اللہ قیامت کے دن اس کی نہ نفل ( عبادت ) قبول کرے گا اور نہ فرض ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ تَعَلَّمَ صَرْفَ الْكَلاَمِ لِيَسْبِيَ بِهِ قُلُوبَ الرِّجَالِ أَوِ النَّاسِ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلاَ عَدْلاً " .
#5007
Sahih
‘Abd Allah b. ‘Umar said :When two men who came from the east made a speech and the people were charmed with their eloquence, the Messenger of Allah (May peace be upon him) said: In some eloquent speech there is magic
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ دو آدمی ۱؎ پورب سے آئے تو ان دونوں نے خطبہ دیا، لوگ حیرت میں پڑ گئے، یعنی ان کے عمدہ بیان سے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بعض تقریریں جادو ہوتی ہیں ۲؎ یعنی سحر کی سی تاثیر رکھتی ہیں راوی کو شک ہے کہ «إن من البيان لسحرا» کہا یا «إن بعض البيان لسحر» کہا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ قَدِمَ رَجُلاَنِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَخَطَبَا فَعَجِبَ النَّاسُ - يَعْنِي لِبَيَانِهِمَا - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا " . أَوْ " إِنَّ بَعْضَ الْبَيَانِ لَسِحْرٌ " .
#5008
Hasan Isnaad
One day when a man got up and spoke at length Amr ibn al-'As said If he had been moderate in what he said:It would have been better for him. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: I think (or, I have been commanded) that I should be brief in what I say, for brevity is better
ابوظبیہ کا بیان ہے کہ عمرو بن العاص نے ایک دن کہا اور ( اس سے پہلے ) ایک شخص کھڑے ہو کر بے تحاشہ بولے جا رہا تھا، اس پر عمرو نے کہا: اگر وہ بات میں درمیانی روش اپناتا تو اس کے لیے بہتر ہوتا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: مجھے مناسب معلوم ہوتا ہے یا مجھے حکم ہوا ہے کہ میں گفتگو میں اختصار سے کام یعنی جتنی بات کافی ہو اسی پر اکتفا کروں اس لیے کہ اختصار ہی بہتر روش ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْبَهْرَانِيُّ، أَنَّهُ قَرَأَ فِي أَصْلِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ وَحَدَّثَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ابْنُهُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَنِي ضَمْضَمٌ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو ظَبْيَةَ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ قَالَ يَوْمًا وَقَامَ رَجُلٌ فَأَكْثَرَ الْقَوْلَ فَقَالَ عَمْرٌو لَوْ قَصَدَ فِي قَوْلِهِ لَكَانَ خَيْرًا لَهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لَقَدْ رَأَيْتُ أَوْ أُمِرْتُ أَنْ أَتَجَوَّزَ فِي الْقَوْلِ فَإِنَّ الْجَوَازَ هُوَ خَيْرٌ " .
#5009
Sahih
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying :it is better for a man’s belly to be full of pus than to be full of poetry. Abu ‘Ali said : I have been told that Abu ‘Ubaid said : It means that his heart is full of poetry so much so that it makes him neglectful of the Quran and remembrance of Allah. If the Quran and the knowledge (of religion) are dominant, the belly will not be full of poetry in our opinion. Some eloquent speech is magic. It means that a man expresses his eloquence by praising another man, and he speaks the truth about him so much so that he attracts the hearts to his speech. He then condemns him and speaks the truth about him so much so that he attracts the hearts to another of his speech, as if he spelled the audience by it
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کے لیے اپنا پیٹ پیپ سے بھر لینا بہتر ہے اس بات سے کہ وہ شعر سے بھرے، ابوعلی کہتے ہیں: مجھے ابو عبید سے یہ بات پہنچی کہ انہوں نے کہا: اس کی شکل ( شعر سے پیٹ بھرنے کی ) یہ ہے کہ اس کا دل بھر جائے یہاں تک کہ وہ اسے قرآن، اور اللہ کے ذکر سے غافل کر دے اور جب قرآن اور علم اس پر چھایا ہوا ہو تو اس کا پیٹ ہمارے نزدیک شعر سے بھرا ہوا نہیں ہے ( اور آپ نے فرمایا ) بعض تقریریں جادو ہوتی ہیں یعنی ان میں سحر کی سی تاثیر ہوتی ہے، وہ کہتے ہیں: اس کے معنی گویا یہ ہیں کہ وہ اپنی تقریر میں اس مقام کو پہنچ جائے کہ وہ انسان کی تعریف کرے اور سچی بات ( تعریف میں ) کہے یہاں تک کہ دلوں کو اپنی بات کی طرف موڑ لے پھر اس کی مذمت کرے اور اس میں بھی سچی بات کہے، یہاں تک کہ دلوں کو اپنی دوسری بات جو پہلی بات کے مخالف ہو کی طرف موڑ دے، تو گویا اس نے سامعین کو اس کے ذریعہ سے مسحور کر دیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا " . قَالَ أَبُو عَلِيٍّ بَلَغَنِي عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهُ قَالَ وَجْهُهُ أَنْ يَمْتَلِئَ قَلْبُهُ حَتَّى يَشْغَلَهُ عَنِ الْقُرْآنِ وَذِكْرِ اللَّهِ فَإِذَا كَانَ الْقُرْآنُ وَالْعِلْمُ الْغَالِبُ فَلَيْسَ جَوْفُ هَذَا عِنْدَنَا مُمْتَلِئًا مِنَ الشِّعْرِ وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا . قَالَ كَأَنَّ الْمَعْنَى أَنْ يَبْلُغَ مِنْ بَيَانِهِ أَنْ يَمْدَحَ الإِنْسَانَ فَيَصْدُقَ فِيهِ حَتَّى يَصْرِفَ الْقُلُوبَ إِلَى قَوْلِهِ ثُمَّ يَذُمَّهُ فَيَصْدُقَ فِيهِ حَتَّى يَصْرِفَ الْقُلُوبَ إِلَى قَوْلِهِ الآخَرِ فَكَأَنَّهُ سَحَرَ السَّامِعِينَ بِذَلِكَ .
#5010
Sahih
Ubayy b. Ka’b reported the Prophet (May peace be upon him) as saying :In poetry there is wisdom
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بعض اشعار دانائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً " .
#5011
Sahih
Narrated Abdullah ibn Abbas: A desert Arab came to the Prophet (ﷺ) and began to speak. Thereupon the Messenger of Allah (ﷺ) said: In eloquence there is magic and in poetry there is wisdom
ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور باتیں کرنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بعض بیان جادو ہوتے ہیں اور بعض اشعار «حكم» ۱؎ ( یعنی حکمت ) پر مبنی ہوتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَجَعَلَ يَتَكَلَّمُ بِكَلاَمٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا وَإِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا " .
#5012
Daif
Narrated Buraydah ibn al-Hasib: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: In eloquence there is magic, in knowledge ignorance, in poetry wisdom, and in speech heaviness. Sa'sa'ah ibn Suhan said: The Prophet of Allah (ﷺ) spoke the truth. His statement "In eloquence there is magic" means: (For example), there is a right due from a man who is more eloquent in reasoning than the man who is demanding his right. He (the defendant) charms the people by his speech and takes away his right. His statement "In knowledge there is ignorance" means: A scholar brings to his knowledge what he does not know, and thus he becomes ignorant of that. His statement "In poetry there is wisdom" means: These are the sermons and examples by which people receive admonition. His statement "In speech there is heaviness" means: That you present your speech and your talk to a man who is not capable of understanding it, and who does not want it
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بعض بیان یعنی گفتگو، خطبہ اور تقریر جادو ہوتی ہیں ( یعنی ان میں جادو جیسی تاثیر ہوتی ہے ) ، بعض علم جہالت ہوتے ہیں، بعض اشعار حکمت ہوتے ہیں، اور بعض باتیں بوجھ ہوتی ہیں ۔ تو صعصہ بن صوحان بولے: اللہ کے نبی نے سچ کہا، رہا آپ کا فرمانا بعض بیان جادو ہوتے ہیں، تو وہ یہ کہ آدمی پر دوسرے کا حق ہوتا ہے، لیکن وہ دلائل ( پیش کرنے ) میں صاحب حق سے زیادہ سمجھ دار ہوتا ہے، چنانچہ وہ اپنی دلیل بہتر طور سے پیش کر کے اس کے حق کو مار لے جاتا ہے۔ اور رہا آپ کا قول بعض علم جہل ہوتا ہے تو وہ اس طرح کہ عالم بعض ایسی باتیں بھی اپنے علم میں ملانے کی کوشش کرتا ہے، جو اس کے علم میں نہیں چنانچہ یہ چیز اسے جاہل بنا دیتی ہے۔ اور رہا آپ کا قول بعض اشعار حکمت ہوتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں کچھ ایسی نصیحتیں اور مثالیں ہوتی ہیں، جن سے لوگ نصیحت حاصل کرتے ہیں، رہا آپ کا قول کہ بعض باتیں بوجھ ہوتی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنی بات یا اپنی گفتگو ایسے شخص پر پیش کرو جو اس کا اہل نہ ہو یا وہ اس کا خواہاں نہ ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ النَّحْوِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ حَدَّثَنِي صَخْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا وَإِنَّ مِنَ الْعِلْمِ جَهْلاً وَإِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا وَإِنَّ مِنَ الْقَوْلِ عِيَالاً " . فَقَالَ صَعْصَعَةُ بْنُ صُوحَانَ صَدَقَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَّا قَوْلُهُ " إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا " . فَالرَّجُلُ يَكُونُ عَلَيْهِ الْحَقُّ وَهُوَ أَلْحَنُ بِالْحُجَجِ مِنْ صَاحِبِ الْحَقِّ فَيَسْحَرُ الْقَوْمَ بِبَيَانِهِ فَيَذْهَبُ بِالْحَقِّ وَأَمَّا قَوْلُهُ " إِنَّ مِنَ الْعِلْمِ جَهْلاً " . فَيَتَكَلَّفُ الْعَالِمُ إِلَى عِلْمِهِ مَا لاَ يَعْلَمُ فَيُجَهِّلُهُ ذَلِكَ وَأَمَّا قَوْلُهُ " إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا " . فَهِيَ هَذِهِ الْمَوَاعِظُ وَالأَمْثَالُ الَّتِي يَتَّعِظُ بِهَا النَّاسُ وَأَمَّا قَوْلُهُ " إِنَّ مِنَ الْقَوْلِ عِيَالاً " . فَعَرْضُكَ كَلاَمَكَ وَحَدِيثَكَ عَلَى مَنْ لَيْسَ مِنْ شَأْنِهِ وَلاَ يُرِيدُهُ .
#5013
Sahih
Sa'id said:Umar passed by Hassan when he was reciting verses in the mosque. He looked at him. Thereupon he said: I used to recite verses when there was present in it the one who was better than you (i.e. the Prophet)
سعید بن المسیب کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ حسان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، وہ مسجد میں شعر پڑھ رہے تھے تو عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں گھور کر دیکھا، تو انہوں نے کہا: میں شعر پڑھتا تھا حالانکہ اس ( مسجد ) میں آپ سے بہتر شخص ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) موجود ہوتے تھے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَلَفٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، قَالَ مَرَّ عُمَرُ بِحَسَّانَ وَهُوَ يُنْشِدُ فِي الْمَسْجِدِ فَلَحَظَ إِلَيْهِ فَقَالَ قَدْ كُنْتُ أُنْشِدُ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ .
#5014
Sahih
The tradition mention above has also been transmitted by Sa’id b. al-Musayyab through a different chain of narrators to the same effect. This version adds:so he (‘Umar’) feared that he would refer to the Messenger of Allah (May peace be upon him); therefore he allowed him
اس سند سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے تو وہ ( عمر رضی اللہ عنہ ) ڈرے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کو بطور دلیل پیش نہ کر دیں چنانچہ انہوں نے انہیں ( مسجد میں شعر پڑھنے کی ) اجازت دے دی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، بِمَعْنَاهُ زَادَ فَخَشِيَ أَنْ يَرْمِيَهُ، بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَجَازَهُ .
#5015
Hasan
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The Messenger of Allah (ﷺ) used to setup a pulpit in the mosque for Hassan who would stand on it and satirise those who spoke against the Messenger of Allah (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) would say: The spirit of holiness (i.e. Gabriel) is with Hassan so long as he speaks in defence of the Messenger of Allah (ﷺ)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسان رضی اللہ عنہ کے لیے مسجد میں منبر رکھتے، وہ اس پر کھڑے ہو کر ان لوگوں کی ہجو کرتے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بے ادبی کرتے تھے، تو ( ایک بار ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً روح القدس ( جبرائیل ) حسان کے ساتھ ہوتے ہیں جب تک وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دفاع کرتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمِصِّيصِيُّ، لُوَيْنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، وَهِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَضَعُ لِحَسَّانَ مِنْبَرًا فِي الْمَسْجِدِ فَيَقُومُ عَلَيْهِ يَهْجُو مَنْ قَالَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ مَعَ حَسَّانَ مَا نَافَحَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " .
#5016
Hasan Isnaad
Ibn ‘Abbas said :The verse “And the poets it is those straying in evil who follow them. He (Allah) then abrogated it and made an exception saying: Except those who believe and work righteousness, engage much in the remembrance of Allah
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ «والشعراء يتبعهم الغاوون» شاعروں کی پیروی وہ کرتے ہیں جو بھٹکے ہوئے ہوں ( الشعراء: ۲۲۴ ) میں سے وہ لوگ مخصوص و مستثنیٰ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے «إلا الذين آمنوا وعملوا الصالحات وذكروا الله كثيرا» سوائے ان کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا ( الشعراء: ۲۲۷ ) میں بیان کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ { وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ } فَنَسَخَ مِنْ ذَلِكَ وَاسْتَثْنَى فَقَالَ { إِلاَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَكَرُوا اللَّهَ كَثِيرًا } .
#5017
Sahih Isnaad
Narrated AbuHurayrah: When the Messenger of Allah (ﷺ) finished the dawn prayer, he would ask: Did any of you have a dream last night? And he said: All that is left of Prophecy after me is a good vision
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر سے ( سلام پھیر کر ) پلٹتے تو پوچھتے: کیا تم میں سے کسی نے آج رات کوئی خواب دیکھا ہے؟ اور فرماتے: میرے بعد نیک خواب کے سوا نبوت کا کوئی حصہ باقی نہیں رہے گا ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ زُفَرَ بْنِ صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنَ صَلاَةِ الْغَدَاةِ يَقُولُ " هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمُ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا وَيَقُولُ " إِنَّهُ لَيْسَ يَبْقَى بَعْدِي مِنَ النُّبُوَّةِ إِلاَّ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ " .
#5018
Sahih
‘Ubadah b. al-Samit reported the Prophet (May peace be upon him) as saying :A believer’s vision is the forty-sixth part of Prophecy
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " .
#5019
Sahih
Abu Hurairah reported the Prophet (May peace be upon him) as saying:When the time draws near, a believer’s vision can hardly be false. The truer one of them is in his speech, the truer he is in his vision. Visions are of three types: Good visions are glad tidings from Allah, a terrifying vision caused by the devil, and the ideas which come from within a man. So when one sees anything he dislikes, he should get up and pray, and should not tell it to the people. He said : I like a fetter and dislike a shackle on the neck; a fetter indicates being firmly established in religion. Abu Dawud said : “when the time draws near” means that when the day and night are equal
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب زمانہ قریب ہو جائے گا، تو مومن کا خواب جھوٹا نہ ہو گا، اور ان میں سب سے زیادہ سچا خواب اسی کا ہو گا، جو ان میں گفتگو میں سب سے سچا ہو گا، خواب تین طرح کے ہوتے ہیں: بہتر اور اچھے خواب اللہ کی جانب سے خوشخبری ہوتے ہیں اور کچھ خواب شیطان کی طرف سے تکلیف و رنج کا باعث ہوتے ہیں، اور کچھ خواب آدمی کے دل کے خیالات ہوتے ہیں لہٰذا جب تم میں سے کوئی ( خواب میں ) ناپسندیدہ بات دیکھے تو چاہیئے کہ اٹھ کر نماز پڑھ لے اور اسے لوگوں سے بیان نہ کرے، فرمایا: میں قید ( پیر میں بیڑی پہننے ) کو ( خواب میں ) پسند کرتا ہوں اور غل ( گردن میں طوق ) کو ناپسند کرتا ہوں ۱؎ اور قید ( پیر میں بیڑی ہونے ) کا مطلب دین میں ثابت قدم ہونا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جب زمانہ قریب ہو جائے گا کا مطلب یہ ہے کہ جب رات اور دن قریب قریب یعنی برابر ہو جائیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ لَمْ تَكَدْ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ أَنْ تَكْذِبَ وَأَصْدَقُهُمْ رُؤْيَا أَصْدَقُهُمْ حَدِيثًا وَالرُّؤْيَا ثَلاَثٌ فَالرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ بُشْرَى مِنَ اللَّهِ وَالرُّؤْيَا تَحْزِينٌ مِنَ الشَّيْطَانِ وَرُؤْيَا مِمَّا يُحَدِّثُ بِهِ الْمَرْءُ نَفْسَهُ فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ فَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ وَلاَ يُحَدِّثْ بِهَا النَّاسَ " . قَالَ " وَأُحِبُّ الْقَيْدَ وَأَكْرَهُ الْغُلَّ وَالْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ " إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ " . يَعْنِي إِذَا اقْتَرَبَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ يَعْنِي يَسْتَوِيَانِ .
#5020
Sahih
Narrated AbuRazin: The Prophet (ﷺ) said: The vision flutters over a man as long as it is not interpreted , but when it is interpreted, it settles. And I think he said: Tell it only to one who loves (i.e. friend) or one who has judgment
ابورزین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خواب پرندے کے پیر پر ہوتا ہے ۱؎ جب تک اس کی تعبیر نہ بیان کر دی جائے، اور جب اس کی تعبیر بیان کر دی جاتی ہے تو وہ واقع ہو جاتا ہے ۔ میرا خیال ہے آپ نے فرمایا اور اسے اپنے دوست یا کسی صاحب عقل کے سوا کسی اور سے بیان نہ کرے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الرُّؤْيَا عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ تُعَبَّرْ فَإِذَا عُبِّرَتْ وَقَعَتْ " . قَالَ وَأَحْسِبُهُ قَالَ " وَلاَ يَقُصُّهَا إِلاَّ عَلَى وَادٍّ أَوْ ذِي رَأْىٍ " .
#5021
Sahih
Abu Qatadah said:I heard the Messenger of Allah (May peace be upon him) say: A good vision comes from Allah and a dream (hulm) from the devil, so when one of you sees what he dislikes, he must spit on his left (three times), and seek refuge in Allah from its evil. It will then not harm him
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے خیالات شیطان کی طرف سے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی ( خواب میں ) ایسی چیز دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہے، تو اپنے بائیں جانب تین بار تھوکے، پھر اس کے شر سے پناہ طلب کرے تو یہ اسے نقصان نہیں پہنچائے گا ۔
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ زُهَيْرًا، يَقُولُ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الرُّؤْيَا مِنَ اللَّهِ وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ لْيَتَعَوَّذْ مِنْ شَرِّهَا فَإِنَّهَا لاَ تَضُرُّهُ " .
#5022
Sahih
Jabir reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying :When one of you sees a vision which he dislikes, he must spit on his left (three times), seek refuge in Allah from the devil three times, and turn from the side on which he was lying
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی خواب دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہو تو اپنی بائیں جانب تین بار تھوکے تین بار شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کرے، اور اپنے اس پہلو کو بدل دے جس پر وہ تھا ۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الْهَمْدَانِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الرُّؤْيَا يَكْرَهُهَا فَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ ثَلاَثًا وَيَتَحَوَّلْ عَنْ جَنْبِهِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ " .
#5023
Sahih
Abu Hurairah said :I heard the Messenger of Allah (May peace be upon him) say : He who sees me in a dream will see me when awake or as if he will see me when awake, for the devil does not take my likeness
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو وہ مجھے جاگتے ہوئے بھی عنقریب دیکھے گا، یا یوں کہا کہ گویا اس نے مجھے جاگتے ہوئے دیکھا، اور شیطان میری شکل میں نہیں آ سکتا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَسَيَرَانِي فِي الْيَقَظَةِ " . أَوْ " لَكَأَنَّمَا رَآنِي فِي الْيَقَظَةِ وَلاَ يَتَمَثَّلُ الشَّيْطَانُ بِي " .
#5024
Sahih
Ibn ‘Abbas reported the Prophet (ﷺ) as saying :If anyone makes a representation of anything, Allah will punish him on the Day of Resurrection for it until he breathes into it, but he will be unable to do so. If anyone pretends to have had a dream which he did not see, he will be ordered to tie a knot in a grain of barley. If anyone listens to other people’s talk when they try to avoid him, lead will be poured into his ears on the Day of Resurrection
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی تصویر بنائے گا، اس کی وجہ سے اسے ( اللہ ) قیامت کے دن عذاب دے گا یہاں تک کہ وہ اس میں جان ڈال دے، اور وہ اس میں جان نہیں ڈال سکتا، اور جو جھوٹا خواب بنا کر بیان کرے گا اسے قیامت کے دن مکلف کیا جائے گا کہ وہ جَو میں گرہ لگائے ۱؎ اور جو ایسے لوگوں کی بات سنے گا جو اسے سنانا نہیں چاہتے ہیں، تو اس کے کان میں قیامت کے دن سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ صَوَّرَ صُورَةً عَذَّبَهُ اللَّهُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا وَلَيْسَ بِنَافِخٍ وَمَنْ تَحَلَّمَ كُلِّفَ أَنْ يَعْقِدَ شَعِيرَةً وَمَنِ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ يَفِرُّونَ بِهِ مِنْهُ صُبَّ فِي أُذُنِهِ الآنُكُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
#5025
Sahih
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet (ﷺ) said: One night it seemed to me in a dream that we were in the house of Uqbah ibn Rafi' and were brought some of the fresh dates of Ibn tab. I interpreted it as meaning that to us is granted eminence (rif'ah) in this world, a blessed hereafter ('aqibah), and that our religion has been good (tabah)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے آج رات دیکھا جیسے ہم عقبہ بن رافع کے گھر میں ہوں، اور ہمارے پاس ابن طاب ۱؎ کی رطب تازہ ( کھجوریں ) لائی گئیں، تو میں نے یہ تعبیر کی کہ دنیا میں بلندی ہمارے واسطے ہے اور آخرت کی عاقبت ۲؎ بھی اور ہمارا دین سب سے عمدہ اور اچھا ہو گیا ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ كَأَنَّا فِي دَارِ عُقْبَةَ بْنِ رَافِعٍ وَأُتِينَا بِرُطَبٍ مِنْ رُطَبِ ابْنِ طَابٍ فَأَوَّلْتُ أَنَّ الرِّفْعَةَ لَنَا فِي الدُّنْيَا وَالْعَاقِبَةَ فِي الآخِرَةِ وَأَنَّ دِينَنَا قَدْ طَابَ " .