#4976
Sahih
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators. This version does not mention the Prophet (May peace be upon him) i.e, it does not go back to him. It has :He must say: “My master” (sayyidi) and “My patron” (mawlaya)
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے لیکن اس میں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا ہے اور اس میں یہ ہے فرمایا: اور چاہیئے کہ وہ «سيدي» ( میرے آقا ) اور «مولاى» ( میرے مولی ) کہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فِي هَذَا الْخَبَرِ وَلَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " وَلْيَقُلْ سَيِّدِي وَمَوْلاَىَ " .
#4977
Sahih
Narrated Buraydah ibn al-Hasib: The Prophet (ﷺ) said: Do not call a hypocrite sayyid (master), for if he is a sayyid, you will displease your Lord, Most High
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ منافق کو سید نہ کہو اس لیے کہ اگر وہ سید ہے ( یعنی قوم کا سردار ہے یا غلام و لونڈی اور مال والا ہے ) تو تم نے اپنے رب کو ناراض کیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَقُولُوا لِلْمُنَافِقِ سَيِّدٌ فَإِنَّهُ إِنْ يَكُ سَيِّدًا فَقَدْ أَسْخَطْتُمْ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ " .
#4978
Sahih
Abu Umamah b. Sahl b. Hunaif quoted his father as saying :None of you must say Khabuthat nafsi (My heart is heaving), but one should say Laqisat nafsi (My heart is being annoyed)
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی میرا نفس خبیث ہو گیا نہ کہے، بلکہ یوں کہے میرا جی پریشان ہو گیا ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ خَبُثَتْ نَفْسِي وَلْيَقُلْ لَقِسَتْ نَفْسِي " .
#4979
Sahih
‘A’ishah reported the Prophet (May peace be upon him) as saying:None of you should say Ja’shat nafsi (My heart is being agitated), but one should say Laqisat nafsi (My heart is being annoyed)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی یہ نہ کہے: میرے دل نے جوش مارا بلکہ یوں کہے: میرا جی پریشان ہو گیا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ جَاشَتْ نَفْسِي وَلَكِنْ لِيَقُلْ لَقِسَتْ نَفْسِي " .
#4980
Sahih
Narrated Hudhayfah: The Prophet (ﷺ) said: Do not say: "What Allah wills and so and so wills," but say: "What Allah wills and afterwards so and so wills
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یوں نہ کہو: جو اللہ چاہے اور فلاں چاہے ۱؎ بلکہ یوں کہو: جو اللہ چاہے پھر فلاں چاہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَقُولُوا مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ فُلاَنٌ وَلَكِنْ قُولُوا مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ شَاءَ فُلاَنٌ " .
#4981
Sahih
‘Adl b. Hatim said:A speaker gave sermon before the prophet (May peace be upon him). He said : he who obeys Allah and his Prophet will follow the right course, and he who disobeys them. He (The prophet) said: get up; he said: go away, a bad speaker you are
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک خطیب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خطبہ دیا، تو اس نے ( خطبہ میں ) کہا:«من يطع الله ورسوله فقد رشد ومن يعصهما» جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے، وہ راہ راست پر ہے اور جو ان دونوں کی نافرمانی کرتا ہے … ( ابھی اس نے اتنا ہی کہا تھا کہ ) آپ نے فرمایا: کھڑے ہو جاؤ یا یوں فرمایا: چلے جاؤ تم بہت برے خطیب ہو۱؎۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ، عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّ خَطِيبًا، خَطَبَ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ وَمَنْ يَعْصِهِمَا . فَقَالَ " قُمْ " . أَوْ قَالَ " اذْهَبْ فَبِئْسَ الْخَطِيبُ أَنْتَ " .
#4982
Sahih
Abu al-Malih reported on the authority of a man :I was riding on a mount behind the prophet (May peace be upon him). It stumbled. Thereupon I said: May the devil perish! He said: do not say; may the devil perish! For you say that, he will swell so much so that he will be like a house, and say: by my power. But say: in the name of Allah; for when you say that, he will diminish so much so that he will be like a fly
ابوالملیح ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے کہا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا، کہ آپ کی سواری پھسل گئی، میں نے کہا: شیطان مرے، تو آپ نے فرمایا: یوں نہ کہو کہ شیطان مرے اس لیے کہ جب تم ایسا کہو گے تو وہ پھول کر گھر کے برابر ہو جائے گا، اور کہے گا: میرے زور و قوت کا اس نے اعتراف کر لیا، بلکہ یوں کہو: اللہ کے نام سے اس لیے کہ جب تم یہ کہو گے تو وہ پچک کر اتنا چھوٹا ہو جائے گا جیسے مکھی۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ - عَنْ خَالِدٍ، - يَعْنِي الْحَذَّاءَ - عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ كُنْتُ رَدِيفَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَعَثَرَتْ دَابَّتُهُ فَقُلْتُ تَعِسَ الشَّيْطَانُ . فَقَالَ " لاَ تَقُلْ تَعِسَ الشَّيْطَانُ فَإِنَّكَ إِذَا قُلْتَ ذَلِكَ تَعَاظَمَ حَتَّى يَكُونَ مِثْلَ الْبَيْتِ وَيَقُولَ بِقُوَّتِي وَلَكِنْ قُلْ بِسْمِ اللَّهِ فَإِنَّكَ إِذَا قُلْتَ ذَلِكَ تَصَاغَرَ حَتَّى يَكُونَ مِثْلَ الذُّبَابِ " .
#4983
Sahih
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: When you hear....(Musa's version has): When a man says people have perished, he is the one who has suffered that fate most. Abu Dawud said: Malik said: If he says that out of sadness for the decadence of religion which he sees among the people, I do not think there is any harm in that. If he says that out of self-conceit and servility of the people, it is an abominable act which has been prohibited
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم سنو! ( اور موسیٰ کی روایت میں یوں ہے، کہ جب آدمی کہے ) کہ لوگ ہلاک ہو گئے تو وہی ان میں سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہے ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مالک نے کہا: جب وہ یہ بات دینی معاملات میں لوگوں کی روش دیکھ کر رنج سے کہے تو میں اس میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتا، اور جب یہ بات وہ خود پر ناز کر کے اور لوگوں کو حقیر سمجھ کر کہے تو یہی وہ مکروہ و ناپسندیدہ چیز ہے، جس سے روکا گیا ہے۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا سَمِعْتَ " . وَقَالَ مُوسَى " إِذَا قَالَ الرَّجُلُ هَلَكَ النَّاسُ فَهُوَ أَهْلَكُهُمْ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ مَالِكٌ إِذَا قَالَ ذَلِكَ تَحَزُّنًا لِمَا يَرَى فِي النَّاسِ - يَعْنِي فِي أَمْرِ دِينِهِمْ - فَلاَ أَرَى بِهِ بَأْسًا وَإِذَا قَالَ ذَلِكَ عُجْبًا بِنَفْسِهِ وَتَصَاغُرًا لِلنَّاسِ فَهُوَ الْمَكْرُوهُ الَّذِي نُهِيَ عَنْهُ .
#4984
Sahih
Ibn ‘Umar reported the prophet (May peace be upon him) as saying:The desert Arabs may not dominate you in respect of the name of your prayer. Beware! It is al-`Isha, but they milk their camels when it is fairly dark
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر «أعراب» ( دیہاتی لوگ ) تمہاری نماز کے نام کے سلسلے میں ہرگز غالب نہ آ جائیں، سنو! اس کا نام عشاء ہے ۱؎ اور وہ لوگ تو اونٹنیوں کے دودھ دوہنے کے لیے تاخیر اور اندھیرا کرتے ہیں۲؎ ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَغْلِبَنَّكُمُ الأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلاَتِكُمْ أَلاَ وَإِنَّهَا الْعِشَاءُ وَلَكِنَّهُمْ يُعْتِمُونَ بِالإِبِلِ " .
#4985
Sahih
Narrated A man: Salim ibn AbulJa'dah said: A man said: (Mis'ar said: I think he was from the tribe of Khuza'ah): would that I had prayed, and got comfort. The people objected to him for it. Thereupon he said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: O Bilal, call iqamah for prayer: give us comfort by it
سالم بن ابی الجعد کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا: کاش میں نماز پڑھ لیتا تو مجھے سکون مل جاتا، مسعر کہتے ہیں: میرا خیال ہے یہ بنو خزاعہ کا کوئی آدمی تھا، تو لوگوں نے اس پر نکیر کی کہ یہ نماز کو تکلیف کی چیز سمجھتا ہے تو اس نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے، آپ فرما رہے تھے: اے بلال نماز کے لیے اقامت کہو اور ہمیں اس سے آرام و سکون پہنچاؤ ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ قَالَ رَجُلٌ - قَالَ مِسْعَرٌ أُرَاهُ مِنْ خُزَاعَةَ - لَيْتَنِي صَلَّيْتُ فَاسْتَرَحْتُ فَكَأَنَّهُمْ عَابُوا عَلَيْهِ ذَلِكَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " يَا بِلاَلُ أَقِمِ الصَّلاَةَ أَرِحْنَا بِهَا " .
#4986
Sahih
Narrated Abdullah ibn Muhammad ibn al-Hanafiyyah: I and my father went to the house of my father-in-law from the Ansar to pay a sick visit to him. The time of prayer came. He said to someone of his relatives: O girl! bring me water for ablution so that I pray and get comfort. We objected to him for it. He said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Get up, Bilal, and give us comfort by the prayer
عبداللہ بن محمد بن حنفیہ کہتے ہیں میں اور میرے والد انصار میں سے اپنے ایک سسرالی رشتہ دار کے پاس اس کی ( عیادت ) بیمار پرسی کرنے کے لیے گئے، تو نماز کا وقت ہو گیا، تو اس نے اپنے گھر کی کسی لڑکی سے کہا: اے لڑکی! میرے لیے وضو کا پانی لے آتا کہ میں نماز پڑھ کر راحت پا لوں تو اس پر ہم نے ان کی نکیر کی، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے اے بلال اٹھو اور ہمیں نماز سے آرام پہنچاؤ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَأَبِي، إِلَى صِهْرٍ لَنَا مِنَ الأَنْصَارِ نَعُودُهُ فَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَقَالَ لِبَعْضِ أَهْلِهِ يَا جَارِيَةُ ائْتُونِي بِوَضُوءٍ لَعَلِّي أُصَلِّي فَأَسْتَرِيحَ - قَالَ - فَأَنْكَرْنَا ذَلِكَ عَلَيْهِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " قُمْ يَا بِلاَلُ أَقِمْ فَأَرِحْنَا بِالصَّلاَةِ " .
#4987
Daif Isnaad
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: I never heard the Messenger of Allah (ﷺ) attributing anyone to anything except to religion
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دین کے علاوہ کسی اور معاملے کی طرف کسی کی نسبت کرتے نہیں دیکھا ۱؎۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها، قَالَتْ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْسُبُ أَحَدًا إِلاَّ إِلَى الدِّينِ .
#4988
Sahih
Anas said:The people of Madina were started. The Messenger of Allah (May peace be upon him) rode on the horse belonging to Abu Talhah. He said: We did not see anything, or he said: we did not see (find) any fear. I found it (could run) like a river
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مدینہ میں ایک بار ( دشمن کا ) خوف ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوطلحہ کے گھوڑے پر سوار ہو کر نکلے، ( واپس آئے تو ) فرمایا: ہم نے تو کوئی چیز نہیں دیکھی، یا ہم نے کوئی خوف نہیں دیکھا اور ہم نے اسے ( گھوڑے کو ) سمندر ( سبک رفتار ) پایا ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَسًا لأَبِي طَلْحَةَ فَقَالَ " مَا رَأَيْنَا شَيْئًا " . أَوْ " مَا رَأَيْنَا مِنْ فَزَعٍ وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا " .
#4989
Sahih
‘Abd Allah (b. Mas’ud) reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying :Avoid falsehood, for falsehood leads to wickedness, and wickedness to hell; and if a man continues to speak falsehood and makes falsehood his object, he will be recorded in Allah’s presence as a great liar. And adhere to truth, for truth leads to good deeds, and good deeds lead to paradise. If a man continues to speak the truth and makes truth his object, he will be recorded in Allah’s presence as eminently truthful
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جھوٹ سے بچو، اس لیے کہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے، اور برائی جہنم میں لے جاتی ہے، آدمی جھوٹ بولتا ہے اور جھوٹ میں لگا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے نزدیک جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے اور سچ بولنے کو لازم کر لو اس لیے کہ سچ بھلائی اور نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور نیکی جنت میں لے جاتی ہے، آدمی سچ بولتا ہے اور سچ بولنے ہی میں لگا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے نزدیک سچا لکھ دیا جاتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، أَخْبَرَنَا الأَعْمَشُ، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَكْذِبُ وَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا وَعَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا " .
#4990
Hasan
Narrated Mu'awiyah ibn Jaydah al-Qushayri: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Woe to him who tells things, speaking falsely, to make people laugh thereby. Woe to him! Woe to him
معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: تباہی ہے اس کے لیے جو بولتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے تاکہ اس سے لوگوں کو ہنسائے، تباہی ہے اس کے لیے، تباہی ہے اس کے لیے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " وَيْلٌ لِلَّذِي يُحَدِّثُ فَيَكْذِبُ لِيُضْحِكَ بِهِ الْقَوْمَ وَيْلٌ لَهُ وَيْلٌ لَهُ " .
#4991
Hasan
Narrated Abdullah ibn Amir: My mother called me one day when the Messenger of Allah (ﷺ) was sitting in our house. She said: Come here and I shall give you something. The Messenger of Allah (ﷺ) asked her: What did you intend to give him? She replied: I intended to give him some dates. The Messenger of Allah (ﷺ) said: If you were not to give him anything, a lie would be recorded against you
عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن میری ماں نے مجھے بلایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر بیٹھے ہوئے تھے، وہ بولیں: سنو یہاں آؤ، میں تمہیں کچھ دوں گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: تم نے اسے کیا دینے کا ارادہ کیا ہے؟ وہ بولیں، میں اسے کھجور دوں گی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: سنو، اگر تم اسے کوئی چیز نہیں دیتی، تو تم پر ایک جھوٹ لکھ دیا جاتا ۱؎۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ مَوَالِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ الْعَدَوِيِّ حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ أَنَّهُ قَالَ دَعَتْنِي أُمِّي يَوْمًا وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَاعِدٌ فِي بَيْتِنَا فَقَالَتْ هَا تَعَالَ أُعْطِيكَ . فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَمَا أَرَدْتِ أَنْ تُعْطِيهِ " . قَالَتْ أُعْطِيهِ تَمْرًا . فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمَا إِنَّكِ لَوْ لَمْ تُعْطِيهِ شَيْئًا كُتِبَتْ عَلَيْكِ كِذْبَةٌ " .
#4992
Sahih
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: It is enough falsehood for a man to relate everything he hears. Abu Dawud said: Hafs did not mention Abu Hurairah (in his version). Abu Dawud said: No other transmitter except this old man, that is, 'Ali b. Hafs al-Mada'ini related the perfect chain of this tradition
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کے گنہگار ہونے کے لیے کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات ( بلا تحقیق ) بیان کرے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حفص نے ابوہریرہ کا ذکر نہیں کیا، ابوداؤد کہتے ہیں: اسے صرف اسی شیخ یعنی علی بن حفص المدائنی نے ہی مسند کیا ہے۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، - قَالَ ابْنُ حُسَيْنٍ فِي حَدِيثِهِ - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَلَمْ يَذْكُرْ حَفْصٌ أَبَا هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَلَمْ يُسْنِدْهُ إِلاَّ هَذَا الشَّيْخُ يَعْنِي عَلِيَّ بْنَ حَفْصٍ الْمَدَائِنِيَّ .
#4993
Daif
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: To harbour good thoughts is a part of well-conducted worship. (This is according to Nasr's version). Abu Dawud said: Mahna' is reliable and he is from Basrah
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حسن ظن حسن عبادت میں سے ہے ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ مُهَنَّا أَبِي شِبْلٍ، - قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَلَمْ أَفْهَمْهُ مِنْهُ جَيِّدًا - عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ، عَنْ شُتَيْرٍ، - قَالَ نَصْرٌ : ابْنِ نَهَّارٍ - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - قَالَ نَصْرٌ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " حُسْنُ الظَّنِّ مِنْ حُسْنِ الْعِبَادَةِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ مُهَنَّا ثِقَةٌ بَصْرِيٌّ .
#4994
Sahih
Safiyyah said :The Messenger of Allah (May peace be upon him) was in the I’TIKAF(seclusion in the mosque). I came to visit him at night . I talked to him, got up and turned my back. He got up with me to accompany me. He was living in the house of Usamah b. Zaid. Two men of the Ansar passed by him. When they saw the Messenger of Allah (May peace be upon him), they walked quickly. The prophet (May peace be upon him) said: Be at ease; she is Safiyyah daughter of Huyayy. They said: Glory be to Allah, Messenger of Allah! He said: The devil flows in man as the blood flows in him. I feared that he might inject something in your hearts, or he said “evil” (instead of something)
ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں تھے، میں ایک رات آپ کے پاس آپ سے ملنے آئی تو میں نے آپ سے گفتگو کی اور اٹھ کر جانے لگی، آپ مجھے پہنچانے کے لیے میرے ساتھ اٹھے اور اس وقت وہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے گھر میں رہتی تھیں، اتنے میں انصار کے دو آدمی گزرے انہوں نے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو تیزی سے چلنے لگے، آپ نے فرمایا: تم دونوں ٹھہرو، یہ صفیہ بنت حیی ہیں ان دونوں نے کہا: سبحان اللہ، اللہ کے رسول! ( یعنی کیا ہم آپ کے سلسلہ میں بدگمانی کر سکتے ہیں ) آپ نے فرمایا: شیطان آدمی میں اسی طرح پھرتا ہے، جیسے خون ( رگوں میں ) پھرتا ہے، تو مجھے اندیشہ ہوا کہ تمہارے دل میں کچھ ڈال نہ دے، یا یوں کہا: کوئی بری بات نہ ڈال دے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ صَفِيَّةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُعْتَكِفًا فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ لَيْلاً فَحَدَّثْتُهُ وَقُمْتُ فَانْقَلَبْتُ فَقَامَ مَعِي لِيَقْلِبَنِي - وَكَانَ مَسْكَنُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ - فَمَرَّ رَجُلاَنِ مِنَ الأَنْصَارِ فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَسْرَعَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " عَلَى رِسْلِكُمَا إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَىٍّ " . قَالاَ سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ فَخَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَيْئًا " . أَوْ قَالَ " شَرًّا " .
#4995
Daif
Narrated Zayd ibn Arqam: The Prophet (ﷺ) said: When a man makes a promise to his brother with the intention of fulfilling it and does not do so, and does not come at the appointed time, he is guilty of no sin
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنے بھائی سے وعدہ کرے اور اس کی نیت یہ ہو کہ وہ اسے پورا کرے گا، پھر وہ اسے پورا نہ کر سکے اور وعدے پر نہ آ سکے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ، عَنْ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا وَعَدَ الرَّجُلُ أَخَاهُ - وَمِنْ نِيَّتِهِ أَنْ يَفِيَ لَهُ - فَلَمْ يَفِ وَلَمْ يَجِئْ لِلْمِيعَادِ فَلاَ إِثْمَ عَلَيْهِ " .
#4996
Daif Isnaad
Narrated Abdullah ibn AbulHamsa': I bought something from the Prophet (ﷺ) before he received his Prophetic commission, and as there was something still due to him I promised him that I would bring it to him at his place, but I forgot. When I remembered three days later, I went to that place and found him there. He said: You have vexed me, young man. I have been here for three days waiting for you. Abu Dawud said: Muhammad b. Yahya said : This is, in our opinion, 'Abd al-Karim b. 'Abd Allah b. Shaqiq (instead of "from 'Abd al-Karim from 'Abd Allah b. Shaqiq"). Abu Dawud said: In a similar way I have been informed by 'Ali b. 'Abd Allah. Abu Dawud said: I have been told that Bishr b. al-Sarri transmitted it from 'Abd Allah b. Shaqiq
عبداللہ بن ابو حمساء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے بعثت سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک چیز خریدی اور اس کی کچھ قیمت میرے ذمے رہ گئی تو میں نے آپ سے وعدہ کیا کہ میں اسی جگہ اسے لا کر دوں گا، پھر میں بھول گیا، پھر مجھے تین ( دن ) کے بعد یاد آیا تو میں آیا، دیکھا کہ آپ اسی جگہ موجود ہیں، آپ نے فرمایا: اے جوان! تو نے مجھے زحمت میں ڈال دیا، اسی جگہ تین دن سے میں تیرا انتظار کر رہا ہوں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ بُدَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْحَمْسَاءِ، قَالَ بَايَعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِبَيْعٍ قَبْلَ أَنْ يُبْعَثَ وَبَقِيَتْ لَهُ بَقِيَّةٌ فَوَعَدْتُهُ أَنْ آتِيَهُ بِهَا فِي مَكَانِهِ فَنَسِيتُ ثُمَّ ذَكَرْتُ بَعْدَ ثَلاَثٍ فَجِئْتُ فَإِذَا هُوَ فِي مَكَانِهِ فَقَالَ " يَا فَتَى لَقَدْ شَقَقْتَ عَلَىَّ أَنَا هَا هُنَا مُنْذُ ثَلاَثٍ أَنْتَظِرُكَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى هَذَا عِنْدَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَكَذَا بَلَغَنِي عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ بَلَغَنِي أَنَّ بِشْرَ بْنَ السَّرِيِّ رَوَاهُ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ .
#4997
Sahih
Asma’, daughter of Abu Bakr, told of a woman who said :Messenger of Allah! I have a fellow-wife; will it be wrong for me to boast of receiving from my husband what he does not give me? He replied: the one who boasts of receiving what he has not been given is like him who has put on two garments of falsehood
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے کہا: اللہ کے رسول! میری ایک پڑوسن یعنی سوکن ہے، تو کیا مجھ پر گناہ ہو گا اگر میں اسے جلانے کے لیے کہوں کہ میرے شوہر نے مجھے یہ یہ چیزیں دی ہیں جو اس نے نہیں دی ہیں، آپ نے فرمایا: جلانے کے لیے ایسی چیزوں کا ذکر کرنے والا جو اسے نہیں دی گئیں اسی طرح ہے جیسے کسی نے جھوٹ کے دو لبادے پہن لیے ہوں ۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ امْرَأَةً، قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي جَارَةً - تَعْنِي ضَرَّةً - هَلْ عَلَىَّ جُنَاحٌ إِنْ تَشَبَّعْتُ لَهَا بِمَا لَمْ يُعْطِ زَوْجِي قَالَ " الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلاَبِسِ ثَوْبَىْ زُورٍ " .
#4998
Sahih
Narrated Anas ibn Malik: A man came to the Prophet (ﷺ) and said: Messenger of Allah! give me a mount. The Prophet (ﷺ) said: We shall give you a she-camel's child to ride on. He said: What shall I do with a she-camel's child? The Prophet (ﷺ) replied: Do any others than she-camels give birth to camels?
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے سواری عطا فرما دیجئیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم تو تمہیں اونٹنی کے بچے پر سوار کرائیں گے وہ بولا: میں اونٹنی کے بچے کا کیا کروں گا؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آخر ہر اونٹ اونٹنی ہی کا بچہ تو ہوتا ہے ۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ احْمِلْنِي . قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّا حَامِلُوكَ عَلَى وَلَدِ نَاقَةٍ " . قَالَ وَمَا أَصْنَعُ بِوَلَدِ النَّاقَةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وَهَلْ تَلِدُ الإِبِلَ إِلاَّ النُّوقُ " .
#4999
Daif Isnaad
Narrated An-Nu'man ibn Bashir: When AbuBakr asked the permission of the Prophet (ﷺ) to come in, he heard Aisha speaking in a loud voice. So when he entered, he caught hold of her in order to slap her, and said: Do I see you raising your voice to the Messenger of Allah? The Prophet (ﷺ) began to prevent him and AbuBakr went out angry. The Prophet (ﷺ) said when AbuBakr went out: You see I rescued you from the man. AbuBakr waited for some days, then asked permission of the Messenger of Allah (ﷺ) to enter, and found that they had made peace with each other. He said to them: Bring me into your peace as you brought me into your war. The Prophet (ﷺ) said: We have done so: we have done so
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو سنا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا اونچی آواز میں بول رہی ہیں، تو وہ جب اندر آئے تو انہوں نے انہیں طمانچہ مارنے کے لیے پکڑا اور بولے: سنو! میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنی آواز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بلند کرتی ہو، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں روکنے لگے اور ابوبکر غصے میں باہر نکل گئے، تو جب ابوبکر باہر چلے گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھا تو نے میں نے تجھے اس شخص سے کیسے بچایا پھر ابوبکر کچھ دنوں تک رکے رہے ( یعنی ان کے گھر نہیں گئے ) اس کے بعد ایک بار پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی تو ان دونوں کو پایا کہ دونوں میں صلح ہو گئی ہے، تو وہ دونوں سے بولے: آپ لوگ مجھے اپنی صلح میں بھی شامل کر لیجئے جس طرح مجھے اپنی لڑائی میں شامل کیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم نے شریک کیا، ہم نے شریک کیا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَمِعَ صَوْتَ عَائِشَةَ عَالِيًا فَلَمَّا دَخَلَ تَنَاوَلَهَا لِيَلْطِمَهَا وَقَالَ لاَ أَرَاكِ تَرْفَعِينَ صَوْتَكِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَحْجُزُهُ وَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ مُغْضَبًا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حِينَ خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ " كَيْفَ رَأَيْتِنِي أَنْقَذْتُكِ مِنَ الرَّجُلِ " . قَالَ فَمَكَثَ أَبُو بَكْرٍ أَيَّامًا ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَوَجَدَهُمَا قَدِ اصْطَلَحَا فَقَالَ لَهُمَا أَدْخِلاَنِي فِي سِلْمِكُمَا كَمَا أَدْخَلْتُمَانِي فِي حَرْبِكُمَا . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " قَدْ فَعَلْنَا قَدْ فَعَلْنَا " .
#5000
Sahih
‘Awf b. Malik al-Ashja’i said :I came to the Messenger of Allah (May peace be upon him) at the expedition to Tabuk when he was in a small skin tent. I gave him a salutation and he returned it, saying: come in. I asked : the whole of me Messenger of Allah? He replied : The whole of you. So I entered
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ چمڑے کے ایک خیمے میں قیام پذیر تھے، میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے جواب دیا، اور فرمایا: اندر آ جاؤ تو میں نے کہا کہ پورے طور سے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: پورے طور سے چنانچہ میں اندر چلا گیا۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَلاَءِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ فَسَلَّمْتُ فَرَدَّ وَقَالَ " ادْخُلْ " . فَقُلْتُ أَكُلِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " كُلُّكَ " . فَدَخَلْتُ .