#4951
Sahih
Anas said; I took ‘Abd Allah b. Abi Talhah, when he was born, to the Prophet (May peace be upon him), and the prophet (May peace be upon him) was wearing a wool;en cloak and rubbing tar on his camel. He asked:Have you some dates? I said : Yes. I then gave him some dates which he put in his mouth, chewed them, opened his mouth and them in it. The baby began to lick them. The prophet (May peace be upon him) said: ANSAR’s favourite (fruit) is dates. And he gave him the name of ‘Abd al-Rahman
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی طلحہ کی پیدائش پر میں ان کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ اس وقت عبا پہنے ہوئے تھے، اور اپنے ایک اونٹ کو دوا لگا رہے تھے، آپ نے پوچھا: کیا تمہارے پاس کھجور ہے؟ میں نے کہا: ہاں، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کئی کھجوریں پکڑائیں، آپ نے ان کو اپنے منہ میں ڈالا اور چبا کر بچے کا منہ کھولا اور اس کے منہ میں ڈال دیا تو بچہ منہ چلا کر چوسنے لگا، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انصار کی پسندیدہ چیز کھجور ہے اور آپ نے اس لڑکے کا نام عبداللہ رکھا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ ذَهَبْتُ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ وُلِدَ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي عَبَاءَةٍ يَهْنَأُ بَعِيرًا لَهُ قَالَ " هَلْ مَعَكَ تَمْرٌ " . قُلْتُ نَعَمْ - قَالَ - فَنَاوَلْتُهُ تَمَرَاتٍ فَأَلْقَاهُنَّ فِي فِيهِ فَلاَكَهُنَّ ثُمَّ فَغَرَ فَاهُ فَأَوْجَرَهُنَّ إِيَّاهُ فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " حِبُّ الأَنْصَارِ التَّمْرُ " . وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ .
#4952
Sahih
Ibn ‘Umar said :The Messenger of Allah (May peace be upon him) changed the name of ‘Asiyah and called her Jamilah
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصیہ کا نام بدل دیا ۱؎، اور فرمایا: تو جمیلہ ہے ۲؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَيَّرَ اسْمَ عَاصِيَةَ وَقَالَ " أَنْتِ جَمِيلَةُ " .
#4953
Hasan Sahih
Muhammad b. ‘Amr b. ‘Ata said :Zainab daughter of Abu Salamah asked him: Which name did you give to your daughter? He replied : Barrah. She said: The Messenger of Allah (May peace be upon him) forbade giving this name. I was called Barrah but the Prophet (May peace be upon him) said: Do not declare yourselves pure, for Allah knows best those of you who are obedient. He said: we asked; which name should we give her? He replied: Call her Zainab
محمد بن عمرو بن عطا سے روایت ہے کہ زینب بنت ابوسلمہ نے ان سے پوچھا: تم نے اپنی بیٹی کا نام کیا رکھا ہے؟ کہا: میں نے اس کا نام برہ رکھا ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نام سے منع کیا ہے، میرا نام پہلے برہ رکھا گیا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خود سے پاکباز نہ بنو، اللہ خوب جانتا ہے، تم میں پاکباز کون ہے، پھر ( میرے گھر والوں میں سے ) کسی نے پوچھا: تو ہم اس کا کیا نام رکھیں؟ آپ نے فرمایا: زینب رکھ دو۔
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، سَأَلَتْهُ مَا سَمَّيْتَ ابْنَتَكَ قَالَ سَمَّيْتُهَا بَرَّةَ فَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ هَذَا الاِسْمِ سُمِّيتُ بَرَّةَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمُ اللَّهُ أَعْلَمُ بِأَهْلِ الْبِرِّ مِنْكُمْ " . فَقَالَ مَا نُسَمِّيهَا قَالَ " سَمُّوهَا زَيْنَبَ " .
#4954
Sahih
Narrated Usamah ibn Akhdari: A man called Asram was among those who came to the Messenger of Allah (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) said: What is your name? He replied: Asram. He said: No, you are Zur'ah
اسامہ بن اخدری تمیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی جسے اصرم ( بہت زیادہ کاٹنے والا ) کہا جاتا تھا، اس گروہ میں تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا تو آپ نے اس سے پوچھا: تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے کہا: میں اصرم ہوں، آپ نے فرمایا: نہیں تم اصرم نہیں بلکہ زرعہ ( کھیتی لگانے والے ) ہو، ( یعنی آج سے تمہارا نام زرعہ ہے ) ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ - قَالَ حَدَّثَنِي بَشِيرُ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ عَمِّهِ، أُسَامَةَ بْنِ أَخْدَرِيٍّ أَنَّ رَجُلاً، يُقَالُ لَهُ أَصْرَمُ كَانَ فِي النَّفَرِ الَّذِينَ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا اسْمُكَ " . قَالَ أَنَا أَصْرَمُ . قَالَ " بَلْ أَنْتَ زُرْعَةُ " .
#4955
Sahih
Narrated Hani ibn Yazid: When Hani went with his people in a deputation to the Messenger of Allah (ﷺ), he heard them calling him by his kunyah (surname), AbulHakam. So the Messenger of Allah (ﷺ) called him and said: Allah is the judge (al-Hakam), and to Him judgment belongs. Why are you given the kunyah AbulHakam? He replied: When my people disagree about a matter, they come to me, and I decide between them, and both parties are satisfied with my decision. He said: How good this is! What children have you? He replied: I have Shurayh, Muslim and Abdullah. He asked; Who is the oldest of them? I replied: Shurayh. He said: Then you are AbuShurayh. Abu Dawud said: This is Shuraib who broke the chain, and who entered Tustar. Abu Dawud said: I have been told that Shuraib broke the gate of Tustar, and he entered it through tunnel
ابوشریح ہانی کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی قوم کے ساتھ وفد میں آئے، تو آپ نے ان لوگوں کو سنا کہ وہ انہیں ابوالحکم کی کنیت سے پکار رہے تھے، آپ نے انہیں بلایا، اور فرمایا: حکم تو اللہ ہے، اور حکم اسی کا ہے تو تمہاری کنیت ابوالحکم کیوں ہے؟ انہوں نے کہا: میری قوم کے لوگوں کا جب کسی معاملے میں اختلاف ہوتا ہے تو وہ میرے پاس آتے ہیں اور میں ہی ان کے درمیان فیصلہ کرتا ہوں اور دونوں فریق اس پر راضی ہو جاتے ہیں، آپ نے فرمایا: یہ تو اچھی بات ہے، تو کیا تمہارے کچھ لڑکے بھی ہیں؟ انہوں نے کہا: شریح، مسلم اور عبداللہ میرے بیٹے ہیں آپ نے پوچھا: ان میں بڑا کون ہے؟ میں نے عرض کیا: شریح آپ نے فرمایا: تو تم ابوشریح ہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: شریح ہی وہ شخص ہیں جس نے زنجیر توڑی تھی اور یہ ان لوگوں میں سے تھے جو تستر میں فاتحانہ داخل ہوئے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کی شریح نے ہی تستر کا دروازہ توڑا تھا اور وہی نالے کے راستے سے اس میں داخل ہوئے تھے۔
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ يَزِيدَ، - يَعْنِي ابْنَ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ، هَانِئٍ أَنَّهُ لَمَّا وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَ قَوْمِهِ سَمِعَهُمْ يَكْنُونَهُ بِأَبِي الْحَكَمِ فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَكَمُ وَإِلَيْهِ الْحُكْمُ فَلِمَ تُكْنَى أَبَا الْحَكَمِ " . فَقَالَ إِنَّ قَوْمِي إِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَىْءٍ أَتَوْنِي فَحَكَمْتُ بَيْنَهُمْ فَرَضِيَ كِلاَ الْفَرِيقَيْنِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا أَحْسَنَ هَذَا فَمَا لَكَ مِنَ الْوَلَدِ " . قَالَ لِي شُرَيْحٌ وَمُسْلِمٌ وَعَبْدُ اللَّهِ . قَالَ " فَمَنْ أَكْبَرُهُمْ " . قُلْتُ شُرَيْحٌ قَالَ " فَأَنْتَ أَبُو شُرَيْحٍ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ شُرَيْحٌ هَذَا هُوَ الَّذِي كَسَرَ السِّلْسِلَةَ وَهُوَ مِمَّنْ دَخَلَ تُسْتَرَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَبَلَغَنِي أَنَّ شُرَيْحًا كَسَرَ بَابَ تُسْتَرَ وَذَلِكَ أَنَّهُ دَخَلَ مِنْ سِرْبٍ .
#4956
Sahih
Sa'id b. Musayyab told that his father said on the authority of his grandfather (Hazn):The Prophet (ﷺ) asked: What is your name? He replied: Hazn (rugged). He said: You are Sahl (smooth). He said: No, smooth is trodden upon and disgraced. Sa'id said: I then thought that ruggedness would remain among us after it. AbuDawud said: The Prophet (ﷺ) changed the names al-'As, Aziz, Atalah, Shaytan, al-Hakam, Ghurab, Hubab, and Shihab and called him Hisham. He changed the name Harb (war) and called him Silm (peace). He changed the name al-Munba'ith (one who lies) and called him al-Mudtaji' (one who stands up). He changed the name of a land Afrah (barren) and called it Khadrah (green). He changed the name Shi'b ad-Dalalah (the mountain path of a stray), the name of a mountain path and called it Shi'b al-Huda (mountain path of guidance). He changed the name Banu az-Zinyah (children of fornication) and called them Banu ar-Rushdah (children of those who are on the right path), and changed the name Banu Mughwiyah (children of a woman who allures and goes astray), and called them Banu Rushdah (children of a woman who is on the right path). AbuDawud said: I omitted the chains of these for the sake of brevity
سعید بن مسیب کے دادا (حزن رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: تمہارا نام کیا ہے؟ کہا: حزن ۱؎ آپ نے فرمایا: تم سہل ہو، انہوں نے کہا: نہیں، سہل روندا جانا اور ذلیل کیا جانا ہے، سعید کہتے ہیں: تو میں نے جانا کہ اس کے بعد ہم لوگوں کو دشواری پیش آئے گی ( اس لیے کہ میرے دادا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بتایا ہوا نام ناپسند کیا تھا ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاص ( گنہگار ) عزیز ( اللہ کا نام ہے ) ، عتلہ ( سختی ) شیطان، حکم ( اللہ کی صفت ہے ) ، غراب ( کوے کو کہتے ہیں اور اس کے معنی دوری اور غربت کے ہیں ) ، حباب ( شیطان کا نام ) اور شہاب ( شیطان کو بھگانے والا ایک شعلہ ہے ) کے نام بدل دیئے اور شہاب کا نام ہشام رکھ دیا، اور حرب ( جنگ ) کے بدلے سلم ( امن ) رکھا، مضطجع ( لیٹنے والا ) کے بدلے منبعث ( اٹھنے والا ) رکھا، اور جس زمین کا نام عفرۃ ( بنجر اور غیر آباد ) تھا، اس کا خضرہ ( سرسبز و شاداب ) رکھا، شعب الضلالۃ ( گمراہی کی گھاٹی ) کا نام شعب الہدی ( ہدایت کی گھاٹی ) رکھا، اور بنو زنیہ کا نام بنو رشدہ اور بنو مغویہ کا نام بنو رشدہ رکھ دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے اختصار کی غرض سے ان سب کی سندیں چھوڑ دی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ " مَا اسْمُكَ " . قَالَ حَزْنٌ . قَالَ " أَنْتَ سَهْلٌ " . قَالَ لاَ السَّهْلُ يُوطَأُ وَيُمْتَهَنُ . قَالَ سَعِيدٌ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُصِيبُنَا بَعْدَهُ حُزُونَةٌ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَغَيَّرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم اسْمَ الْعَاصِ وَعَزِيزٍ وَعَتَلَةَ وَشَيْطَانٍ وَالْحَكَمِ وَغُرَابٍ وَحُبَابٍ وَشِهَابٍ فَسَمَّاهُ هِشَامًا وَسَمَّى حَرْبًا سَلْمًا وَسَمَّى الْمُضْطَجِعَ الْمُنْبَعِثَ وَأَرْضًا تُسَمَّى عَفِرَةَ سَمَّاهَا خَضِرَةَ وَشِعْبَ الضَّلاَلَةِ سَمَّاهُ شِعْبَ الْهُدَى وَبَنُو الزِّنْيَةِ سَمَّاهُمْ بَنِي الرِّشْدَةِ وَسَمَّى بَنِي مُغْوِيَةَ بَنِي رِشْدَةَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ تَرَكْتُ أَسَانِيدَهَا لِلاِخْتِصَارِ .
#4957
Daif
Narrated Umar ibn al-Khattab: Masruq said: I met Umar ibn al-Khattab (Allah be pleased with him) who said: Who are you? I replied: Masruq ibn al-Ajda'. Umar then said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: al-Ajda' (mutilated) is a devil
مسروق کہتے ہیں کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملا تو انہوں نے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: مسروق بن اجدع، تو آپ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اجدع تو شیطان ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ، حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ لَقِيتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ مَنْ أَنْتَ قُلْتُ مَسْرُوقُ بْنُ الأَجْدَعِ . فَقَالَ عُمَرُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الأَجْدَعُ شَيْطَانٌ " .
#4958
Sahih
Samurah b. Jundub reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying:Do not call your servant Yasar (wealth), Rabah (profit), Nijih(prosperous) and Aflah (successful), for you may ask; Is he there? And someone says: No. Samurah said: These are four (names), so do not attribute more to me
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے بچے یا اپنے غلام کا نام یسار، رباح، نجیح اور افلح ہرگز نہ رکھو، اس لیے کہ تم پوچھو گے: کیا وہاں ہے وہ؟ تو جواب دینے والا کہے گا: نہیں ( تو تم اسے بدفالی سمجھ کر اچھا نہ سمجھو گے ) ( سمرہ نے کہا ) یہ تو بس چار ہیں اور تم اس سے زیادہ مجھ سے نہ نقل کرنا۔
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُسَمِّيَنَّ غُلاَمَكَ يَسَارًا وَلاَ رَبَاحًا وَلاَ نَجِيحًا وَلاَ أَفْلَحَ فَإِنَّكَ تَقُولُ أَثَمَّ هُوَ فَيَقُولُ لاَ إِنَّمَا هُنَّ أَرْبَعٌ فَلاَ تَزِيدَنَّ عَلَىَّ " .
#4959
Sahih
Samurah said:The Aposlte of Allah (May peace be upon him) forbade giving four names to our slaves : Aflah (successful), Yasar (wealth), Naf(beneficial) and Rabah (profit)
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ ہم افلح، یسار، نافع اور رباح ان چار ناموں میں سے کوئی اپنے غلاموں یا بچوں کا رکھیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ سَمِعْتُ الرُّكَيْنَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نُسَمِّيَ رَقِيقَنَا أَرْبَعَةَ أَسْمَاءٍ أَفْلَحَ وَيَسَارًا وَنَافِعًا وَرَبَاحًا .
#4960
Sahih
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet (ﷺ) said: If I survive (God willing), I shall forbid my people to give the names Nafi' (beneficial), Aflah (successful) and Barakah (blessing). Al-A'mash said: I do not know whether he mentioned Nafi' or not. When a man comes and asks: Is there Barakah (blessing)? The people say: No. Abu Dawud said: A similar tradition has been transmitted by Abu al-Zubair on the authority of Jabir from the Prophet (ﷺ) through a different chain of narrators. This version has no mention of Barakah
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ نے چاہا اور میں زندہ رہا تو میں اپنی امت کو نافع، افلح اور برکت نام رکھنے سے منع کر دوں گا، ( اعمش کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم انہوں ( سفیان ) نے نافع کا ذکر کیا یا نہیں ) اس لیے کہ آدمی جب آئے گا تو پوچھے گا: کیا برکت ہے؟ تو لوگ کہیں گے: نہیں، ( تو لوگ اسے بدفالی سمجھ کر اچھا نہ سمجھیں گے ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوزبیر نے جابر سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے البتہ اس میں برکت کا ذکر نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْهَى أُمَّتِي أَنْ يُسَمُّوا نَافِعًا وَأَفْلَحَ وَبَرَكَةَ " . قَالَ الأَعْمَشُ وَلاَ أَدْرِي ذَكَرَ نَافِعًا أَمْ لاَ " فَإِنَّ الرَّجُلَ يَقُولُ إِذَا جَاءَ أَثَمَّ بَرَكَةٌ فَيَقُولُونَ لاَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَى أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ لَمْ يَذْكُرْ بَرَكَةَ .
#4961
Sahih
Abu Hurairah reported the prophet (May peace be upon him) as saying :The vilest names in Allah’s sight on the Day of resurrection will be that of a man called Malik al-Amlak. Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by Shu'aib b. Abi Hamzah from Abi al-Zinad through different chain of narrators. This version has the words "akhna' ismin" (most obscene name) instead of "akhna ismin" (the vilest name)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے ذلیل نام والا اللہ کے نزدیک قیامت کے دن وہ شخص ہو گا جسے لوگ شہنشاہ کہتے ہوں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: شعیب بن ابی حمزہ نے اسے ابوالزناد سے، اسی سند سے روایت کیا ہے، اور اس میں انہوں نے «أخنع اسم» کے بجائے «أخنى اسم» کہا ہے، ( جس کے معنیٰ سب سے فحش اور قبیح نام کے ہیں ) ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَخْنَعُ اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ تَسَمَّى مَلِكَ الأَمْلاَكِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ بِإِسْنَادِهِ قَالَ " أَخْنَى اسْمٍ " .
#4962
Sahih
Narrated AbuJubayrah ibn ad-Dahhak: This verse was revealed about us, the Banu Salimah: "Nor call each other by (offensive) nicknames: ill-seeming is a name connoting wickedness (to be used of one) after he has believed." He said: When the apostle of Allah (ﷺ) came to us, every one of us had two or three names. The Messenger of Allah (ﷺ) began to say: O so and so! But they would say: Keep silence, Messenger of Allah! He becomes angry by this name. So this verse was revealed: "Nor call each other by (offensive) nicknames
ابوجبیرہ بن ضحاک کہتے ہیں کہ ہمارے یعنی بنو سلمہ کے سلسلے میں یہ آیت نازل ہوئی «ولا تنابزوا بالألقاب بئس الاسم الفسوق بعد الإيمان» ایک دوسرے کو برے ناموں سے نہ پکارو، ایمان کے بعد برے نام سے پکارنا برا ہے ( الحجرات: ۱۱ ) ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور ہم میں کوئی شخص ایسا نہیں تھا جس کے دو یا تین نام نہ ہوں، تو آپ نے پکارنا شروع کیا: اے فلاں، تو لوگ کہتے: اللہ کے رسول! اس نام سے نہ پکاریئے، وہ اس نام سے چڑھتا ہے، تو یہ آیت نازل ہوئی «ولا تنابزوا بالألقاب» ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو جُبَيْرَةَ بْنُ الضَّحَّاكِ، قَالَ فِينَا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِي بَنِي سَلِمَةَ { وَلاَ تَنَابَزُوا بِالأَلْقَابِ بِئْسَ الاِسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الإِيمَانِ } قَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَيْسَ مِنَّا رَجُلٌ إِلاَّ وَلَهُ اسْمَانِ أَوْ ثَلاَثَةٌ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " يَا فُلاَنُ " . فَيَقُولُونَ مَهْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ يَغْضَبُ مِنْ هَذَا الاِسْمِ فَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { وَلاَ تَنَابَزُوا بِالأَلْقَابِ } .
#4963
Hasan Sahih
Narrated Umar ibn al-Khattab: Zayd ibn Aslam quoted his father as saying: Umar ibn al-Khattab (Allah be pleased with him) struck one of his sons who was given the kunyah AbuIsa, and al-Mughirah ibn Shu'bah had the kunyah AbuIsa. Umar said to him: Is it not sufficient for you that you are called by the kunyah AbuAbdullah? He replied: The Messenger of Allah (ﷺ) gave me this kunyah. Thereupon he said: The Messenger of Allah (ﷺ) was forgiven all his sins, past and those followed. But we are among the people similar to us. Henceforth he was called by the kunyah AbuAbdullah until he died
اسلم کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک بیٹے کو مارا جس نے اپنی کنیت ابوعیسیٰ رکھی تھی اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بھی ابوعیسیٰ کنیت رکھی تھی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں کہ تم ابوعبداللہ کنیت اختیار کرو؟ ۱؎وہ بولے: میری یہ کنیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی رکھی ہے، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تو اگلے پچھلے سب گناہ بخش دئیے گئے تھے، اور ہم تو اپنی ہی طرح کے چند لوگوں میں سے ایک ہیں ۲؎ چنانچہ وہ ہمیشہ ابوعبداللہ کی کنیت سے پکارے جاتے رہے، یہاں تک کہ انتقال فرما گئے۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رضى الله عنه ضَرَبَ ابْنًا لَهُ تَكَنَّى أَبَا عِيسَى وَأَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ تَكَنَّى بِأَبِي عِيسَى فَقَالَ لَهُ عُمَرُ أَمَا يَكْفِيكَ أَنْ تُكَنَّى بِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَنَّانِي فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ وَإِنَّا فِي جَلْجَلَتِنَا فَلَمْ يَزَلْ يُكْنَى بِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ حَتَّى هَلَكَ .
#4964
Sahih
Narrated Anas bin Malik: The Prophet (ﷺ) said to him: My sonny. Abu Dawud said: I heard Yahya b. Ma'in praising the transmitter Muhammad b. Mahbub, and he said: He transmitted a large number of traditions
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے میرے بیٹے! ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا ح، وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، - وَسَمَّاهُ ابْنُ مَحْبُوبٍ الْجَعْدَ - عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ " يَا بُنَىَّ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يُثْنِي عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ مَحْبُوبٍ وَيَقُولُ كَثِيرُ الْحَدِيثِ .
#4965
Sahih
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying:Call yourselves by my name, but do not use my KUNYAH (surname). Abu Dawud said : Abu Salih has transmitted it in a similar way from Abu Hurairah, and similar are the traditions of Abu Sufyan from Jabir, of Salim b. Abl al-Ja’d from Jabir, of Sulaiman al-Yashkuri from Jabir, and of Ibn al-Munkadir from Jabir and similar others and Anas b. Malik
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت نہ رکھو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابوصالح نے ابوہریرہ سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور اسی طرح ابوسفیان، سالم بن ابی الجعد، سلیمان یشکری اور ابن منکدر وغیرہ کی روایتیں بھی ہیں جو جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں، اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت بھی اسی طرح ہے ( یعنی اس میں بھی یہی ہے کہ میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر کنیت نہ رکھو ) ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلاَ تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَكَذَلِكَ رِوَايَةُ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ وَسَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرٍ وَسُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ عَنْ جَابِرٍ وَابْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ نَحْوَهُمْ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ .
#4966
Munkar
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet (ﷺ) said: If anyone is called by my name, he must not be given my kunyah (surname), and if anyone uses my kunyah (surname), he must not be called by my name. Abu Dawud said: Ibn 'Ajlan transmitted it to the same effect from his father on the authority if Abu Hurairah. It has also been transmitted by Abu Zar'ah from Abu Hurairah in two different versions. And similar is the version of 'Abd al-Rahman b. Abi 'Amrah from Abu Hurairah. This version is disputed: Al-Thawri and Ibn Juraij transmitted it according to the version of Abu al-Zubair; and Ma'qil b. 'Ubaid Allah transmitted it according to the version of Ibn Sirin. It is again dispted on Musa b. Yasar from Abu Hurariah, transmitting it in two versions: Hammad b. Khalid and Ibn Abi Fudaik varied in their versions
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو میرا نام رکھے، وہ میری کنیت نہ رکھے، اور جو میری کنیت رکھے، وہ میرا نام نہ رکھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی مفہوم کی حدیث ابن عجلان نے اپنے والد سے، اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، اور ابوزرعہ کی روایت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان دونوں روایتوں سے مختلف روایت کی گئی ہے، اور اسی طرح عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ کی روایت جسے انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اس میں بھی کچھ اختلاف ہے، اسے ثوری اور ابن جریج نے ابو الزبیر کی طرح روایت کیا ہے، اور اسے معقل بن عبیداللہ نے ابن سیرین کی طرح روایت کیا ہے، اور جسے موسیٰ بن یسار نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اس میں بھی اختلاف کیا گیا ہے، حماد بن خالد اور ابن ابی فدیک کے دو مختلف قول ہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ تَسَمَّى بِاسْمِي فَلاَ يَكْتَنِي بِكُنْيَتِي وَمَنْ تَكَنَّى بِكُنْيَتِي فَلاَ يَتَسَمَّى بِاسْمِي " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَى بِهَذَا الْمَعْنَى ابْنُ عَجْلاَنَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَرُوِيَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مُخْتَلِفًا عَلَى الرِّوَايَتَيْنِ وَكَذَلِكَ رِوَايَةُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ اخْتُلِفَ فِيهِ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ جُرَيْجٍ عَلَى مَا قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ وَرَوَاهُ مَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَلَى مَا قَالَ ابْنُ سِيرِينَ وَاخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى مُوسَى بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَيْضًا عَلَى الْقَوْلَيْنِ اخْتَلَفَ فِيهِ حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ وَابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ .
#4967
Sahih
Muhammad b. al-Hanafiyyah quoted 'Ali as saying:I said: Messenger of Allah! tell me if a son is born to me after your death, may I give him your name and your kunyah? He replied: Yes. The transmitter Abu Bakr did not mention the words "I said". Instead, he said: 'Ali said to the Prophet (ﷺ)
محمد بن حنفیہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ کے بعد میرے بیٹا پیدا ہو تو میں اس کا نام اور اس کی کنیت آپ کے نام اور آپ کی کنیت پر رکھوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ فِطْرٍ، عَنْ مُنْذِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَحِمَهُ اللَّهُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ وُلِدَ لِي مِنْ بَعْدِكَ وَلَدٌ أُسَمِّيهِ بِاسْمِكَ وَأُكْنِيهِ بِكُنْيَتِكَ قَالَ " نَعَمْ " . وَلَمْ يَقُلْ أَبُو بَكْرٍ قُلْتُ قَالَ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
#4968
Daif
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: A woman came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: Messenger of Allah! I have given birth to a boy, and call him Muhammad and AbulQasim as kunyah (surname), but I have been told that you disapproved of that. He replied: What is it which has made my name lawful and my kunyah unlawful, or what is it which has made my kunyah unlawful and my name lawful?
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: اللہ کے رسول! میرے ایک لڑکا پیدا ہوا ہے، میں نے اس کا نام محمد اور اس کی کنیت ابوالقاسم رکھ دی ہے، تو مجھے بتایا گیا کہ آپ اسے ناپسند کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: کیا سبب ہے کہ میرا نام رکھنا درست ہے اور کنیت رکھنا نا درست یا یوں فرمایا: کیا سبب ہے کہ میری کنیت رکھنا نا درست ہے اور نام رکھنا درست؟ ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ الْحَجَبِيُّ، عَنْ جَدَّتِهِ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ وَلَدْتُ غُلاَمًا فَسَمَّيْتُهُ مُحَمَّدًا وَكَنَّيْتُهُ أَبَا الْقَاسِمِ فَذُكِرَ لِي أَنَّكَ تَكْرَهُ ذَلِكَ فَقَالَ " مَا الَّذِي أَحَلَّ اسْمِي وَحَرَّمَ كُنْيَتِي " . أَوْ " مَا الَّذِي حَرَّمَ كُنْيَتِي وَأَحَلَّ اسْمِي " .
#4969
Sahih
Anas b. Malik said :The Messenger of Allah (May peace be upon him) used to come to visit us. I had a younger brother who was called Abu ‘Umair by Kunyah (surname). He had a sparrow with which he played, but it died. So one day the prophet (May peace be upon him) came to see him and saw him grieved. He asked: What is the matter with him? The people replied: His sparrow has died. He then said: Abu ‘Umair! What has happened to the little sparrow?
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں آتے تھے، اور میرا ایک چھوٹا بھائی تھا جس کی کنیت ابوعمیر تھی، اس کے پاس ایک چڑیا تھی، وہ اس سے کھیلتا تھا، وہ مر گئی، پھر ایک دن اچانک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے تو اسے رنجیدہ و غمگین دیکھ کر فرمایا: کیا بات ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: اس کی چڑیا مر گئی، تو آپ نے فرمایا: اے ابوعمیر! کیا ہوا نغیر ( چڑیا ) کو؟ ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدْخُلُ عَلَيْنَا وَلِي أَخٌ صَغِيرٌ يُكْنَى أَبَا عُمَيْرٍ وَكَانَ لَهُ نُغَرٌ يَلْعَبُ بِهِ فَمَاتَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ فَرَآهُ حَزِينًا فَقَالَ " مَا شَأْنُهُ " . قَالُوا مَاتَ نُغَرُهُ فَقَالَ " يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ " .
#4970
Sahih
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: Aisha said: Messenger of Allah! All my fellow-wives have kunyahs? He said: Give yourself the kunyah by Abdullah, your son - that is to say, her nephew (her sister's son). Musaddad said: Abdullah ibn az-Zubayr. She was called by the kunyah Umm Abdullah. Abu Dawud said: Qurran b. Tammam and Ma'mar all have transmitted it from Hisham in a similar manner. It has also been transmitted by Abu Usamah from Hisham, from 'Abbad b. Hamzah. Similarly, Hammad b. Salamah and Maslamah b. Qa'nab have narrated it from Hisham, like the tradition transmitted by Abu Usamah
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری تمام سہیلیوں کی کنیتیں ہیں، آپ نے فرمایا: تو تم اپنے بیٹے یعنی اپنے بھانجے عبداللہ کے ساتھ کنیت رکھ لو مسدد کی روایت میں ( عبداللہ کے بجائے ) عبداللہ بن زبیر ہے، عروہ کہتے ہیں: چنانچہ ان کی کنیت ام عبداللہ تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: قران بن تمام اور معمر دونوں نے ہشام سے اسی طرح روایت کی ہے، اور ابواسامہ نے ہشام سے اور ہشام نے عباد بن حمزہ سے اسے روایت کیا ہے، اور اسی طرح اسے حماد بن سلمہ اور مسلمہ بن قعنب نے ہشام سے روایت کیا ہے جیسا کہ ابواسامہ نے کہا ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّ صَوَاحِبِي لَهُنَّ كُنًى . قَالَ " فَاكْتَنِي بِابْنِكِ عَبْدِ اللَّهِ " . يَعْنِي ابْنَ أُخْتِهَا قَالَ مُسَدَّدٌ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ فَكَانَتْ تُكَنَّى بِأُمِّ عَبْدِ اللَّهِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَكَذَا قَالَ قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ وَمَعْمَرٌ جَمِيعًا عَنْ هِشَامٍ نَحْوَهُ وَرَوَاهُ أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ عَبَّادِ بْنِ حَمْزَةَ وَكَذَلِكَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَمَسْلَمَةُ بْنُ قَعْنَبٍ عَنْ هِشَامٍ كَمَا قَالَ أَبُو أُسَامَةَ .
#4971
Daif
Narrated Sufyan ibn Asid al-Hadrami: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: It is great treachery that you should tell your brother something and have him believe you when you are lying
سفیان بن اسید حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: یہ بہت بڑی خیانت ہے کہ تم اپنے بھائی سے ایسی بات بیان کرو جسے وہ تو سچ جانے اور تم خود اس سے جھوٹ کہو۔
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيُّ، - إِمَامُ مَسْجِدِ حِمْصٍ - حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ ضُبَارَةَ بْنِ مَالِكٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَسِيدٍ الْحَضْرَمِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " كَبُرَتْ خِيَانَةً أَنْ تُحَدِّثَ أَخَاكَ حَدِيثًا هُوَ لَكَ بِهِ مُصَدِّقٌ وَأَنْتَ لَهُ بِهِ كَاذِبٌ " .
#4972
Sahih
Abu Mas’ud asked Abu ‘Abu Allah, or Abu Abd Allah asked Abu Mas’ud; what did you hear the Messenger of Allah (May peace be upon him) say about za’ama (they alleged, asserted, or it is said). He replied :I heard the Messenger of Allah (May peace be upon him) say: it is a bad riding-beast for a man (to say) za’ama (they asserted). Abu DAwud said : This Abu ‘Abd Allah is Hudhaifah
ابومسعود رضی اللہ عنہ نے ابوعبداللہ (حذیفہ) رضی اللہ عنہ سے یا ابوعبداللہ نے ابومسعود سے کہا نے «زعموا» کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا فرماتے سنا؟ وہ بولے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: «زعموا» ( لوگوں نے گمان کیا ) آدمی کی بہت بری سواری ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ لأَبِي عَبْدِ اللَّهِ أَوْ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ لأَبِي مَسْعُودٍ مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ فِي " زَعَمُوا " . قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " بِئْسَ مَطِيَّةُ الرَّجُلِ زَعَمُوا " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ هَذَا حُذَيْفَةُ .
#4973
Sahih
Zaid b. Arqam said that the Prophet (May peace be upon him) addressed them, saying :To proceed (amma ba’d)
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خطبہ دیا تو «أما بعد» کہا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَطَبَهُمْ فَقَالَ " أَمَّا بَعْدُ " .
#4974
Sahih
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying :None of you should Call (grapes) karm, for the karm is a Muslim man, but call (grapes) garden of grapes (hada’iq al-a’nab)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ( انگور اور اس کے باغ کو ) «كرم» نہ کہے ۱؎، اس لیے کہ «كرم» مسلمان مرد کو کہتے ہیں ۲؎، بلکہ اسے انگور کے باغ کہو۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَقُولَنَّ أَحَدُكُمُ الْكَرْمَ فَإِنَّ الْكَرْمَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ وَلَكِنْ قُولُوا حَدَائِقَ الأَعْنَابِ " .
#4975
Sahih
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: None of you must say: "My slave" (abdi) and "My slave-woman" (amati), and a slave must not say: "My lord" (rabbi or rabbati). The master (of a slave) should say: "My young man" (fataya) and "My young woman" (fatati), and a slave should say "My master" (sayyidi) and "My mistress" (sayyidati), for you are all (Allah's slave and the Lord is Allah, Most High)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ( اپنے غلام یا لونڈی کو ) «عبدي» ( میرا بندہ ) اور «أمتي» ( میری بندی ) نہ کہے اور نہ کوئی غلام یا لونڈی ( اپنے آقا کو ) «ربي» ( میرے مالک ) اور «ربتي» ( میری مالکن ) کہے بلکہ مالک یوں کہے: میرے جوان! یا میری جوان! اور غلام اور لونڈی یوں کہیں: «سيدي» ( میرے آقا ) اور «سيدتي» ( میری مالکن ) اس لیے کہ تم سب مملوک ہو اور رب صرف اللہ ہے ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَحَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، وَهِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ عَبْدِي وَأَمَتِي وَلاَ يَقُولَنَّ الْمَمْلُوكُ رَبِّي وَرَبَّتِي وَلْيَقُلِ الْمَالِكُ فَتَاىَ وَفَتَاتِي وَلْيَقُلِ الْمَمْلُوكُ سَيِّدِي وَسَيِّدَتِي فَإِنَّكُمُ الْمَمْلُوكُونَ وَالرَّبُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .