#5026
Daif
Abu Sa’id al-Khudri reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying:When one of you yawns, he should hold his hand over his mouth, for the devil enters
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی جمائی لے تو اپنے منہ کو بند کر لے، اس لیے کہ شیطان ( منہ میں ) داخل ہو جاتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيُمْسِكْ عَلَى فِيهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ " .
#5027
Sahih
The tradition mentioned above has also been transmitted in a similar way by Suhail through a different chain of narrators. This version has; “during prayer, so he should hold as far as possible”
سہیل سے بھی اسی طرح مروی ہے اس میں یہ ہے ( جب جمائی ) نماز میں ہو تو جہاں تک ہو سکے منہ بند رکھے ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ الْعَلاَءِ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُهَيْلٍ، نَحْوَهُ قَالَ " فِي الصَّلاَةِ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ " .
#5028
Sahih
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying:Allah likes sneezing but dislikes yawning. So when one of you yawns, he should restrain it as much as possible, and should not say Ha, Ha, for that is from the devil who laughs at him
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند، لہٰذا جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے، تو جہاں تک ہو سکے اسے روکے رہے، اور ہاہ ہاہ نہ کہے، اس لیے کہ یہ شیطان کی طرف سے ہوتی ہے، وہ اس پر ہنستا ہے ۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرُدَّهُ مَا اسْتَطَاعَ وَلاَ يَقُلْ هَاهْ هَاهْ فَإِنَّمَا ذَلِكُمْ مِنَ الشَّيْطَانِ يَضْحَكُ مِنْهُ " .
#5029
Hasan Sahih
Narrated AbuHurayrah: When the Messenger of Allah (ﷺ) sneezed, he placed his hand or a garment on his mouth, and lessened the noise. The transmitter Yahya is doubtful about the exact words khafada or ghadda (lessened)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چھینک آتی تھی تو اپنا ہاتھ یا اپنا کپڑا منہ پر رکھ لیتے اور آہستہ آواز سے چھینکتے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ سُمَىٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا عَطَسَ وَضَعَ يَدَهُ أَوْ ثَوْبَهُ عَلَى فِيهِ وَخَفَضَ أَوْ غَضَّ بِهَا صَوْتَهُ . شَكَّ يَحْيَى .
#5030
Sahih
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying:There are five qualities which a Muslim should display to his brother : return of salutation, response to the one who sneezes, acceptance of the invitation, paying sick visit to a patient, and accompanying the funeral
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ چیزیں ہر مسلمان پر اپنے بھائی کے لیے واجب ہیں، سلام کا جواب دینا، چھینکنے والے کا جواب دینا، دعوت قبول کرنا، مریض کی عیادت کرنا اور جنازے کے ساتھ جانا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، وَخُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خَمْسٌ تَجِبُ لِلْمُسْلِمِ عَلَى أَخِيهِ رَدُّ السَّلاَمِ وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ وَاتِّبَاعُ الْجَنَازَةِ " .
#5031
Daif
Narrated Salim ibn Ubayd: Hilal ibn Yasar said: We were with Salim ibn Ubayd when a man from among the people sneezed and said: Peace be upon you. Salim said: And upon you and your mother. Later he said: Perhaps you found something (annoying) in what I said to you. He said: I wished you would not mention my mother with good or evil. He said: I have just said to you what the Messenger of Allah (ﷺ) said. We were in the presence of the Messenger of Allah (ﷺ) when a man from among the people sneezed, saying: Peace be upon you! The Messenger of Allah (ﷺ) said: And upon you and your mother. He then said: When one of you sneezes, he should praise Allah. He further mentioned some attributes (of Allah), saying: The one who is with him should say to him: Allah have mercy on you, and he should reply to them: Allah forgive us and you
ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ ہم سالم بن عبید کے ساتھ تھے کہ ایک شخص کو چھینک آئی تو اس نے کہا «السلام عليكم» ( تم پر سلامتی ہو ) تو سالم نے کہا: «عليك وعلى أمك» ( تم پر بھی اور تمہاری ماں پر بھی ) پھر تھوڑی دیر کے بعد بولے: شاید جو بات میں نے تم سے کہی تمہیں ناگوار لگی، اس نے کہا: میری خواہش تھی کہ آپ میری ماں کا ذکر نہ کرتے، نہ خیر کے ساتھ نہ شر کے ساتھ، وہ بولے، میں نے تم سے اسی طرح کہا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا، اسی دوران کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے اچانک لوگوں میں سے ایک شخص کو چھینک آئی تو اس نے کہا: «السلام عليكم» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «عليك وعلى أمك» ، پھر آپ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو «الحمد الله» کہے اللہ کی تعریف کرے پھر آپ نے حمد کے بعض کلمات کا تذکرہ کیا ( جو چھینک آنے والا کہے ) اور چاہیئے کہ وہ جو اس کے پاس ہو «يرحمك الله» ( اللہ تم پر رحم کرے ) کہے، اور چاہیئے کہ وہ ( چھینکنے والا ) ان کو پھر جواب دے، «يغفر الله لنا ولكم» ( اللہ ہماری اور آپ کی مغفرت فرمائے ) ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ فَعَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ . فَقَالَ سَالِمٌ وَعَلَيْكَ وَعَلَى أُمِّكَ . ثُمَّ قَالَ بَعْدُ لَعَلَّكَ وَجَدْتَ مِمَّا قُلْتُ لَكَ قَالَ لَوَدِدْتُ أَنَّكَ لَمْ تَذْكُرْ أُمِّي بِخَيْرٍ وَلاَ بِشَرٍّ قَالَ إِنَّمَا قُلْتُ لَكَ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّا بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَعَلَيْكَ وَعَلَى أُمِّكَ " . ثُمَّ قَالَ " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ " . قَالَ فَذَكَرَ بَعْضَ الْمَحَامِدِ " وَلْيَقُلْ لَهُ مَنْ عِنْدَهُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ وَلْيَرُدَّ - يَعْنِي عَلَيْهِمْ - يَغْفِرُ اللَّهُ لَنَا وَلَكُمْ " .
#5032
Daif
Narrated Salim ibn Ubayd al-Ashja'i: The tradition mentioned above (No. 5013) has also been mentioned by Salim ibn Ubayd al-Ashja'i to the same effect from the Prophet (ﷺ) through a different chain of narrators
اس سند سے سالم بن عبید اشجعی سے یہی حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً مروی ہے۔
حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، - يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ - عَنْ أَبِي بِشْرٍ، وَرْقَاءَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَرْفَجَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ الأَشْجَعِيِّ، بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
#5033
Sahih
Abu Hurairah reported the prophet (May peace be upon him) as saying:When one of you sneezes, he should say: "Praise be to Allah in every circumstance," and his brother or his companion should say: "May Allah have mercy on you!" And he should then reply: "May Allah guide you and set right your affairs
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو چاہیئے کہ وہ کہے: «الحمد لله على كل حال» ( ہر حالت میں تمام تعریفیں اللہ کے لیے سزاوار ہیں ) اور چاہیئے کہ اس کا بھائی یا اس کا ساتھی کہے: «يرحمك الله» ( اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے اب وہ پھر کہے: «يهديكم الله ويصلح بالكم» ( اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہیں ٹھیک رکھے، اور تمہاری حالت درست فرما دے ) ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ وَلْيَقُلْ أَخُوهُ أَوْ صَاحِبُهُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ وَيَقُولُ هُوَ يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ " .
#5034
Hasan
Narrated AbuHurayrah: Respond three times to your brother when he sneezes, and if he sneezes more often, he has a cold in his head
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں تین بار اپنے بھائی کی چھینک کا جواب دو اور جو اس سے زیادہ ہو تو وہ زکام ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ شَمِّتْ أَخَاكَ ثَلاَثًا فَمَا زَادَ فَهُوَ زُكَامٌ .
#5035
Hasan
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Hurairah through a different chain from the prophet (May peace be upon him). A transmitter Sa’id b. Sa’id said:I know him that he traced this tradition back to the prophet (May peace be upon him). Abu Dawud said: Abu Nu’aim transmitted it from Musa b. Qais, from Muhammad b. Ajlan, from Sa’id, on the authority of Abu Hurairah, from the prophet (May peace be upon him)
سعید بن ابی سعید ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث کو مرفوعاً روایت کرتے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابونعیم نے موسی بن قیس سے، موسیٰ نے محمد بن عجلان سے، ابن عجلان نے سعید سے، سعید نے ابوہریرہ سے، ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَقَالَ لاَ أَعْلَمُهُ إِلاَّ أَنَّهُ رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَاهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ أَبُو نُعَيْمٍ عَنْ مُوسَى بْنِ قَيْسٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
#5036
Daif
Narrated Ubayd ibn Rifa'ah az-Zuraqi: The Prophet (ﷺ) said: Invoke a blessing on one who sneezes three times; (and if he sneezes more often), then if you wish to invoke a blessing on him, you may invoke, and if you wish (to stop), then stop
عبید بن رفاعہ زرقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھینکنے والے کا جواب تین بار دو اس کے بعد اگر جواب دینا چاہو تو دو، اور نہ دینا چاہو تو نہ دو ۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أُمِّهِ، حُمَيْدَةَ أَوْ عُبَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ عَنْ أَبِيهَا، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " تُشَمِّتُ الْعَاطِسَ ثَلاَثًا فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُشَمِّتَهُ فَشَمِّتْهُ وَإِنْ شِئْتَ فَكُفَّ " .
#5037
Sahih
Salamah b. al-Akwa said :when a man sneezed beside the prophet (May peace be upon him), he said to him : Allah have mercy on you, but when he sneezed again, he said : The man has a cold in the head
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چھینک آئی تو آپ نے اس سے فرمایا:«يرحمك الله» اللہ تم پر رحم فرمائے اسے پھر چھینک آئی تو آپ نے فرمایا: آدمی کو زکام ہوا ہے ۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلاً، عَطَسَ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ " يَرْحَمُكَ اللَّهُ " . ثُمَّ عَطَسَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " الرَّجُلُ مَزْكُومٌ " .
#5038
Sahih
Narrated AbuBurdah: The Jews used to try to sneezes in the presence of the Prophet (ﷺ) hoping that he would say to them: "Allah have mercy on you!" but he would say: May Allah guide you and grant you well-being
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہود جان بوجھ کر اس امید میں چھینکا کرتے کہ آپ ان کے لئے «يرحمكم الله» تم پر اللہ کی رحمت ہو کہہ دیں، لیکن آپ فرماتے: «يهديكم الله ويصلح بالكم» اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارا حال درست کرے ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ الدَّيْلَمِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَتِ الْيَهُودُ تَعَاطَسُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رَجَاءَ أَنْ يَقُولَ لَهَا يَرْحَمُكُمُ اللَّهُ فَكَانَ يَقُولُ " يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ " .
#5039
Sahih
Anas said:Two men sneezed in the presence of the prophet (May peace be upon him). He said : Allah have mercy on you! To one and not to the other. He was asked: Messenger of Allah! Two persons sneezed. Ahmad’s version has: You invoked a blessing on one of them and left the other. He replied : This man praised Allah, and this man did not praise Allah
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو لوگوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چھینک آئی تو آپ نے ان میں سے ایک کی چھینک کا جواب دیا اور دوسرے کو نہ دیا، تو آپ سے پوچھا گیا: اللہ کے رسول! دو لوگوں کو چھینک آئی، تو آپ نے ان میں سے ایک کو جواب دیا؟ ۔ احمد کی روایت میں اس طرح ہے: کیا آپ نے ان دونوں میں سے ایک کو جواب دیا، دوسرے کو نہیں دیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: دراصل اس نے «الحمد الله» کہا تھا اور اس نے «الحمد الله» نہیں کہا تھا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ عَطَسَ رَجُلاَنِ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَتَرَكَ الآخَرَ قَالَ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَجُلاَنِ عَطَسَا فَشَمَّتَّ أَحَدَهُمَا - قَالَ أَحْمَدُ أَوْ فَشَمَّتَّ أَحَدَهُمَا - وَتَرَكْتَ الآخَرَ . فَقَالَ " إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ وَإِنَّ هَذَا لَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ " .
#5040
Daif
Narrated Tikhfat al-Ghifari: Ya'ish ibn Tikhfat al-Ghifari said: My father was one of the people in the Suffah. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Come with us to the house of Aisha. So we went and he said: Give us food, Aisha. She brought hashishah and we ate. He then said: Give us food, Aisha. She then brought haysah as small in quantity as a pigeon and we ate. He then said: Give us something to drink, Aisha. So she brought a bowl of milk, and we drank. Again he said: Give us something to drink, Aisha. She then brought a small cup and we drank. He then said: If you wish, you may spend the night (here), or if you wish, you may go to the mosque. He said: While I was lying on my stomach because of pain in the lung, a man began to shake me with his foot and then said: This is a method of lying which Allah hates. I looked and saw that he was the Messenger of Allah (ﷺ)
یعیش بن طخفہ بن قیس غفاری کہتے ہیں کہ میرے والد اصحاب صفہ میں سے تھے تو ( ایک بار ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے ساتھ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر چلو تو ہم گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! ہمیں کھانا کھلاؤ وہ دلیا لے کر آئیں تو ہم نے کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! ہمیں کھانا کھلاؤ تو وہ تھوڑا سا حیس ۱؎ لے کر آئیں، قطاۃ پرند کے برابر، تو ( اسے بھی ) ہم نے کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! ہم کو پلاؤ تو وہ دودھ کا ایک بڑا پیالہ لے کر آئیں، تو ہم نے پیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ہم لوگوں سے ) فرمایا: تم لوگ چاہو ( ادھر ہی ) سو جاؤ، اور چاہو تو مسجد چلے جاؤ وہ کہتے ہیں: تو میں ( مسجد میں ) صبح کے قریب اوندھا ( پیٹ کے بل ) لیٹا ہوا تھا کہ یکایک کوئی مجھے اپنے پیر سے ہلا کر جگانے لگا، اس نے کہا: اس طرح لیٹنے کو اللہ ناپسند کرتا ہے، میں نے ( آنکھ کھول کر ) دیکھا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَعِيشَ بْنِ طِخْفَةَ بْنِ قَيْسٍ الْغِفَارِيِّ، قَالَ كَانَ أَبِي مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى بَيْتِ عَائِشَةَ " . فَانْطَلَقْنَا فَقَالَ " يَا عَائِشَةُ أَطْعِمِينَا " . فَجَاءَتْ بِحَشِيشَةٍ فَأَكَلْنَا ثُمَّ قَالَ " يَا عَائِشَةُ أَطْعِمِينَا " . فَجَاءَتْ بِحَيْسَةٍ مِثْلِ الْقَطَاةِ فَأَكَلْنَا ثُمَّ قَالَ " يَا عَائِشَةُ اسْقِينَا " . فَجَاءَتْ بِعُسٍّ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبْنَا ثُمَّ قَالَ " يَا عَائِشَةُ اسْقِينَا " . فَجَاءَتْ بِقَدَحٍ صَغِيرٍ فَشَرِبْنَا ثُمَّ قَالَ " إِنْ شِئْتُمْ بِتُّمْ وَإِنْ شِئْتُمُ انْطَلَقْتُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ " . قَالَ فَبَيْنَمَا أَنَا مُضْطَجِعٌ فِي الْمَسْجِدِ مِنَ السَّحَرِ عَلَى بَطْنِي إِذَا رَجُلٌ يُحَرِّكُنِي بِرِجْلِهِ فَقَالَ " إِنَّ هَذِهِ ضِجْعَةٌ يُبْغِضُهَا اللَّهُ " . قَالَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#5041
Sahih
Narrated Ali ibn Shayban: The Prophet (ﷺ) said: If anyone spends the night on the roof of a house with no stone palisade, Allah's responsibility to guard him no longer applies
علی بن شیبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص گھر کی ایسی چھت پر سوئے جس پر پتھر ( کی مڈیر ) نہ ہو ( یعنی کوئی چہار دیواری نہ ہو تو اس سے ( حفاظت کا ) ذمہ اٹھ گی ( گرے یا بچے وہ جانے ) ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سَالِمٌ، - يَعْنِي ابْنَ نُوحٍ - عَنْ عُمَرَ بْنِ جَابِرٍ الْحَنَفِيِّ، عَنْ وَعْلَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَثَّابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلِيٍّ، - يَعْنِي ابْنَ شَيْبَانَ - عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ بَاتَ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ لَيْسَ لَهُ حِجَارٌ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ " .
#5042
Sahih
Narrated Mu'adh ibn Jabal: The Prophet (ﷺ) said: If a Muslim sleeps while remembering Allah, in the state of purification, is alarmed while asleep at night, and asks Allah for good in this world and in the Hereafter. He surely gives it to him. Thabit al-Bunani said: AbuZabyah came to visit us and he transmitted this tradition to us from Mu'adh ibn Jabal from the Prophet (ﷺ). Thabit said: So and so said: I tried my best to utter these (prayers) when I got up, but I could not do
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی مسلمان اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہوا باوضو سوتا ہے پھر رات میں ( کسی بھی وقت ) چونک کر اٹھتا ہے اور اللہ سے دنیا اور آخرت کی بھلائی کا سوال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور دیتا ہے ۔ ثابت بنانی کہتے ہیں: ہمارے پاس ابوظبیہ آئے تو انہوں نے ہم سے معاذ بن جبل کی یہ حدیث بیان کی، جسے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ ثابت بنانی کہتے ہیں: فلاں شخص نے کہا ۱؎ کہ میں نے اپنی نیند سے بیدار ہوتے وقت کئی بار اس کلمہ کے ۲؎ادا کرنے کی کوشش کی مگر کہہ نہ سکا ۳؎۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي ظَبْيَةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَبِيتُ عَلَى ذِكْرٍ طَاهِرًا فَيَتَعَارُّ مِنَ اللَّيْلِ فَيَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا مِنَ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ إِلاَّ أَعْطَاهُ إِيَّاهُ " . قَالَ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ قَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو ظَبْيَةَ فَحَدَّثَنَا بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ثَابِتٌ قَالَ فُلاَنٌ لَقَدْ جَهَدْتُ أَنْ أَقُولَهَا حِينَ أَنْبَعِثُ فَمَا قَدَرْتُ عَلَيْهَا .
#5043
Sahih
Ibn ‘Abbas said:The Messenger of Allah (May peace be upon him) got up at night, fulfilled his need and washed his face and hand and then slept. Abu Dawud said: that is to say, he urinated
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں بیدار ہوئے پھر اپنی ضرورت سے فارغ ہوئے، پھر اپنا ہاتھ منہ دھویا، پھر سو گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اپنی ضرورت سے فارغ ہونے کا مطلب ہے پیشاب کیا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَقَضَى حَاجَتَهُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ثُمَّ نَامَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي بَالَ .
#5044
Daif
Narrated Umm Salamah, Ummul Mu'minin: Some relative of Umm Salamah said: The bed of the Prophet (ﷺ) was set as a man is laid in his grave; the mosque was towards his head
ام سلمہ کی اولاد میں سے ایک شخص سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر اس طرح بچھایا جاتا جس طرح انسان اپنی قبر میں لٹایا جاتا ہے، اور مسجد ( نماز پڑھنے کی جگہ یا مسجد نبوی ) آپ کے سرہانے ہوتی۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ بَعْضِ، آلِ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ كَانَ فِرَاشُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوًا مِمَّا يُوضَعُ الإِنْسَانُ فِي قَبْرِهِ وَكَانَ الْمَسْجِدُ عِنْدَ رَأْسِهِ .
#5045
Sahih
Narrated Hafsah, Ummul Mu'minin: When the Messenger of Allah (ﷺ) wanted to go to sleep, he put his right hand under his cheek and would then say three times: O Allah, guard me from Thy punishment on the day when Thou raisest up Thy servants
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنا داہنا ہاتھ اپنے گال کے نیچے رکھتے، پھر تین مرتبہ «اللهم قني عذابك يوم تبعث عبادك» اے اللہ جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے اس دن مجھے اپنے عذاب سے بچا لے کہتے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ سَوَاءٍ، عَنْ حَفْصَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْقُدَ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ ثُمَّ يَقُولُ " اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ " . ثَلاَثَ مِرَارٍ .
#5046
Sahih
Al-Bara b. ‘Azib said :The Messenger of Allah (May peace be upon him) said to me: When you go to your bed, perform ablution like the ablution for prayer, and then lie on your right side and say: O Allah I have handed over my face to thee, entrusted my affairs to thee, and committed my back to thee out of desire for and fear to thee. There is no refuge and no place of safety from thee except by having recource to thee. I believe in Thy Book which Thou hast sent down and in Thy prophet whom thou hast sent down. He said : If you die (that night), you would die in the true religion, and utter these words in the last of that you utter (other prayers). Al-Bara said : I said: I memorise them, and then I repeated, saying “and in Thy Apostle whom Thou hast sent”. He said : No, say : “and in Thy Prophet whom Thou hast sent
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب تم اپنی خواب گاہ میں آؤ ( یعنی سونے چلو ) تو وضو کرو جیسے اپنے نماز کے لیے وضو کرتے ہو، پھر اپنی داہنی کروٹ پر لیٹو، اور کہو «اللهم أسلمت وجهي إليك وفوضت أمري إليك وألجأت ظهري إليك رهبة ورغبة إليك لا ملجأ ولا منجى منك إلا إليك آمنت بكتابك الذي أنزلت وبنبيك الذي أرسلت» اے اللہ میں نے اپنی ذات کو تیری تابعداری میں دے دیا، میں نے اپنا معاملہ تیرے سپرد کر دیا، میں نے امید وبیم کے ساتھ تیری ذات پر بھروسہ کیا، تجھ سے بھاگ کر تیرے سوا کہیں اور جائے پناہ نہیں، میں ایمان لایا اس کتاب پر جو تو نے نازل فرمائی ہے، اور میں ایمان لایا تیرے اس نبی پر جسے تو نے بھیجا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ( یہ دعا پڑھ کر ) انتقال کر گئے تو فطرت ( یعنی دین اسلام ) پر انتقال ہوا اور اس دعا کو اپنی دیگر دعاؤں کے آخر میں پڑھو براء کہتے ہیں: اس پر میں نے کہا کہ میں انہیں یاد کر لوں گا، تو میں نے ( یاد کرتے ہوئے ) کہا «وبرسولك الذي أرسلت» تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہیں بلکہ«وبنبيك الذي أرسلت» ( جیسا دعا میں ہے ویسے ہی کہو ) ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ سَمِعْتُ مَنْصُورًا، يُحَدِّثُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أَتَيْتَ مَضْجَعَكَ فَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلاَةِ ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الأَيْمَنِ وَقُلِ اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ رَهْبَةً وَرَغْبَةً إِلَيْكَ لاَ مَلْجَأَ وَلاَ مَنْجَى مِنْكَ إِلاَّ إِلَيْكَ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ " . قَالَ " فَإِنْ مِتَّ مِتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ وَاجْعَلْهُنَّ آخِرَ مَا تَقُولُ " . قَالَ الْبَرَاءُ فَقُلْتُ أَسْتَذْكِرُهُنَّ فَقُلْتُ وَبِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ . قَالَ " لاَ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ " .
#5047
Sahih
Al-Bara b. Azib said :The Messenger of Allah (May peace be upon him) said to me: when you go to bed while you are in the state of purification, lay your head on your right hand. He then mentioned the rest of the tradition in a similar manner as above
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب تم پاک و صاف ( باوضو ) ہو کر اپنے بستر پر ( سونے کے لیے ) آؤ تو اپنے داہنے ہاتھ کا تکیہ بناؤ پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ، قَالَ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ وَأَنْتَ طَاهِرٌ فَتَوَسَّدْ يَمِينَكَ " . ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ .
#5048
Sahih
The tradition mentioned above has also been transmitted by al-Bara b. Azil from the prophet (May peace be upon him) to the same effect through a different chain of narrators. One transmitter said:when you go to your bed while you are in the state of purification. The other said: Perform ablution like the ablution for prayer. He then transmitted the tradition to the effect as Mu’tamir transmitted
اس سند سے بھی براء رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً مروی ہے، سفیان ثوری کہتے ہیں: ایک راوی نے «إذا أتيت فراشك طاهرا» جب تم باوضو اپنے بستر پر آؤ کہا اور دوسرے نے «توضأ وضوءك للصلاة» تم جب نماز جیسا وضو کر لو کہا اور آگے راوی نے معتمر جیسی روایت بیان کی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْغَزَّالُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، وَمَنْصُورٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا قَالَ سُفْيَانُ قَالَ أَحَدُهُمَا " إِذَا أَتَيْتَ فِرَاشَكَ طَاهِرًا " . وَقَالَ الآخَرُ " تَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلاَةِ " . وَسَاقَ مَعْنَى مُعْتَمِرٍ .
#5049
Sahih
Hudhaifah said :when the prophet (May peace be upon him) lay down on his bed (at night), he would say: O Allah! In Thy name I die and live. When he awoke, he said: praise be to Allah who has given us life after causing us to die and to whom we shall be resurrected
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے کے وقت فرماتے: «اللهم باسمك أحيا وأموت» اے اللہ میں تیرے ہی نام پر جیتا اور مرتا ہوں اور جب بیدار ہوتے تو فرماتے «الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور» شکر ہے اللہ کا جس نے ہمیں زندگی بخشی ( ایک طرح سے ) موت طاری کر دینے کے بعد اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا نَامَ قَالَ " اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَحْيَا وَأَمُوتُ " . وَإِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ " .
#5050
Sahih
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying:when any of you goes to his bed, he should dust his bedding with the inner extremity of his lower garment, for he does not know what has come on it since he left it. He should then lie down on his right side and say: In Thy name, my mercy on it, but if Thou lettest it go, guard it with that which Thou guardest Thy upright servants
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بستر پر سونے کے لیے آئے تو اپنے ازار کے کونے سے اسے جھاڑے کیونکہ اسے نہیں معلوم کہ اس کی جگہ اس کی عدم موجودگی میں کون آ بسا ہے، پھر وہ اپنے داہنے پہلو پر لیٹے، پھر کہے «باسمك ربي وضعت جنبي وبك أرفعه إن أمسكت نفسي فارحمها وإن أرسلتها فاحفظها بما تحفظ به عبادك الصالحين» تیرے نام پر میں اپنا پہلو ڈال کر لیٹتا ہوں اور تیرے ہی نام سے اسے اٹھاتا ہوں، اگر تو میری جان کو روک لے تو تو اس پر رحم فرما اور اگر چھوڑ دے تو اس کی اسی طرح حفاظت فرما جس طرح تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أَوَى أَحَدُكُمْ إِلَى فِرَاشِهِ فَلْيَنْفُضْ فِرَاشَهُ بِدَاخِلَةِ إِزَارِهِ فَإِنَّهُ لاَ يَدْرِي مَا خَلَفَهُ عَلَيْهِ ثُمَّ لْيَضْطَجِعْ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنِ ثُمَّ لْيَقُلْ بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي وَبِكَ أَرْفَعُهُ إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ " .